عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ الَّذِي يُحْدِثُ التَّفْسِيرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلْفِهِ فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَهُوَ مُجَخٍّ قَدْ فَرَّجَ يَدَيْهِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، اس وقت نبی ﷺ نے اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی ﷺ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يُعِدْ الْوُضُوءَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِهِ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُمْ الظِّلُّ قَالَ فَقَالَ إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ إِنْسَانٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ فَإِذَا أَتَاكُمْ فَلَا تُكَلِّمُوهُ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ قَالَ عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ نَفَرٌ دَعَاهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَدَعَاهُمْ فَحَلَفُوا بِاللَّهِ وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ الْآيَةَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُ الظِّلُّ فَذَكَرَهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے کسی حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے، کچھ مسلمان بھی وہاں موجود تھے، نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے، تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! ﷺ تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ جھوٹ پر قسم کھالیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ قَابُوسَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا فَوَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِخْلَافًا فَقَالَ لَهُ أَلَا تَسْتَاكُ فَقَالَ إِنِّي لَأَفْعَلُ وَلَكِنِّي لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا فَآوَاهُ وَقَضَى لَهُ حَاجَتَهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس دو آدمی آئے، ان دونوں کی ضرورت ایک جیسی تھی، ان میں سے ایک نے جب اپنی بات شروع کی تو نبی ﷺ کو اس کے منہ سے بدبو محسوس ہوئی، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تم مسواک نہیں کرتے؟ اس نے کہا کرتا ہوں، لیکن مجھے تین دن سے کچھ کھانے کو نہیں ملا (اس کی وجہ سے منہ سے بدبو آرہی ہے) نبی ﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا جس نے اسے ٹھکانہ مہیا کردیا اور نبی ﷺ نے اس کی ضرورت پوری کردی۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ مَا عَنَى بِذَلِكَ قَالَ قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُصَلِّي قَالَ فَخَطَرَ خَطْرَةً فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ أَلَا تَرَوْنَ لَهُ قَلْبَيْنِ قَالَ قَلْبٌ مَعَكُمْ وَقَلَبٌ مَعَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ
ابو ظبیان (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ اللہ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں بنائے، اس ارشادباری تعالیٰ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے، دوران نماز آپ ﷺ کو کوئی خیال آیا، تو وہ منافق جو نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، کہنے لگے کیا تم دیکھتے نہیں کہ ان کے دو دل ہیں، ایک دل تمہارے ساتھ اور ایک دل ان کے ساتھ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ثُمَّ يَدْعُو
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور برد بار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔ اس کے بعد دعاء فرماتے تھے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعْضِ بَنَاتِهِ وَهِيَ فِي السَّوْقِ فَأَخَذَهَا وَوَضَعَهَا فِي حِجْرِهِ حَتَّى قُبِضَتْ فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَقِيلَ لَهَا أَتَبْكِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَلَا أَبْكِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي قَالَ إِنِّي لَمْ أَبْكِ وَهَذِهِ رَحْمَةٌ إِنَّ الْمُؤْمِنَ تَخْرُجُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی ﷺ نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہوگئی اور نبی ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، ام ایمن ؓ بھی رونے لگیں، کسی نے ان سے کہا کیا تم نبی ﷺ کی موجودگی میں رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جب نبی ﷺ بھی رو رہے ہیں تو میں کیوں نہ روؤں؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں رو نہیں رہا، یہ تو رحمت مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُمْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ بِيَدِهِ مِنْ وَرَائِهِ حَتَّى أَخَذَ بِعَضُدِي أَوْ بِيَدِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ رات کے کسی حصے میں نماز پڑھنے لگے میں نے بھی اسی طرح کیا اور آکر نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر گھما کر اپنی دائیں طرف کرلیا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ ثَوْبَانَ عَنْ عَامِرِ بْنِ يَحْيَى الْمَعَافِرِيِّ حَدَّثَنِي حَنَشٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فِي أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ إِذَا كَانَ فِي الْفَرْجِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت تمہاری بیویاں تمہارے لئے بمنزلہ کھیتی کے ہیں، کچھ انصاری لوگوں کے بارے نازل ہوئی تھی جنہوں نے نبی ﷺ کے پاس آکر اس کے متعلق سوال کیا تھا، نبی ﷺ نے انہیں جواب میں فرمایا تھا تم اپنی بیوی کے پاس ہر طرح آسکتے ہو بشرطیکہ فرج میں ہو۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا قَزَعَةُ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى مَا أَتَيْتُكُمْ بِهِ مِنْ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى أَجْرًا إِلَّا أَنْ تَوَدُّوا اللَّهَ وَأَنْ تَقَرَّبُوا إِلَيْهِ بِطَاعَتِهِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں تمہارے پاس جو واضح آیات اور ہدایت لے کر آیا ہو، اس پر میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، البتہ اتنا ضرور کہتا ہوں کہ اللہ سے محبت کرو اور اس کی اطاعت کر کے اس کا قرب حاصل کرو۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ بِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ بِهَا وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً فَجَعَلَ بِهَا هَكَذَا يَعْنِي أَضَافَهَا إِلَى يَدِهِ الْأُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا وَجْهَهُ ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ ثُمَّ رَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى حَتَّى غَسَلَهَا ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ الْيُسْرَى ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَ هَذَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ نے وضو کیا، اس میں اپنا چہرہ دھویا، ایک چلو بانی لے کر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، پھر ایک اور چلو پانی لیا اور دوسرے ہاتھ کو اس کے ساتھ ملا کر چہرہ دھویا، پھر ایک چلو پانی لے کر داہنا ہاتھ دھویا، پھر ایک چلو پانی لے کر بایاں ہاتھ دھویا، سر کا مسح کیا پھر ایک چلو پانی لے کر دائیں پاؤں پر ڈالا اور اسے دھویا، پھر ایک اور چلو لے کر بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ إِنَّ ابْنِي هَذَا بِهِ جُنُونٌ يَأْخُذُهُ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا فَيَخْبُثُ عَلَيْنَا فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا فَثَعَّ ثَعَّةً يَعْنِي سَعَلَ فَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اسے کوئی تکلیف ہے، کھانے کے دوران جب اسے وہ تکلیف ہوتی ہے تو یہ ہمارا سارا کھانا خراب کردیتا ہے، نبی ﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا فرمائی، اچانک اس بچے کو قئی ہوئی اور اس کے منہ سے ایک کالے بلے جیسی کوئی چیز نکلی اور بھاگ گئی۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَاجِبٌ هُوَ قَالَ لَا وَمَنْ شَاءَ اغْتَسَلَ وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ بَدْءِ الْغُسْلِ كَانَ النَّاسُ مُحْتَاجِينَ وَكَانُوا يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَكَانُوا يَسْقُونَ النَّخْلَ عَلَى ظُهُورِهِمْ وَكَانَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَيِّقًا مُتَقَارِبَ السَّقْفِ فَرَاحَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَعَرِقُوا وَكَانَ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصِيرًا إِنَّمَا هُوَ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ فَعَرِقَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَثَارَتْ أَرْوَاحُهُمْ أَرْوَاحُ الصُّوفِ فَتَأَذَّى بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ حَتَّى بَلَغَتْ أَرْوَاحُهُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا جِئْتُمْ الْجُمُعَةَ فَاغْتَسِلُوا وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ مِنْ أَطْيَبِ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا غسل جمعہ واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، جو چاہے غسل کرلے ( اور نہ چاہے تو نہ کرے) میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جمعہ کے دن غسل کا آغاز کس طریقے سے ہوا تھا؟ لوگ غریب ہوا کرتے تھے اون کا لباس پہنا کرتے تھے، باغات کو سیراب کرنے کے لئے اپنی کمر پر پانی لاد کر لایا کرتے تھے اور مسجد نبوی تنگ تھی اس کی چھت بھی نیچی تھی، لوگ جب اون کے کپڑے پہن کر کام کرتے تو انہیں پسینہ آتا تھا، نبی ﷺ کا منبر بھی چھوٹا تھا اور اس میں صرف تین سیڑھیاں تھیں ایک مرتبہ جمعہ کے دن لوگوں کو اپنے اونی کپڑوں میں پسینہ آیا ہوا تھا، جس کی بو پھیل رہی تھی اور کچھ لوگ اس کی وجہ سے تنگ ہو رہے تھے، نبی ﷺ کو بھی جبکہ وہ منبر پر تھے اس کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا لوگو! جب تم جمعہ کے لئے آیا کرو تو غسل کر کے آیا کرو اور جس کے پاس جو خوشبو سب سے بہترین ہو، وہ لگا کر آیا کرے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی جانور سے بدفعلی کرے، اس شخص کو بھی قتل کرو دو اور اس جانور کو بھی قتل کردو۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فِي الرَّمْيِ وَالذَّبْحِ وَالْحَلْقِ لَا حَرَجَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے قربانی، رمی اور حلق یا تربیت میں کوئی اور تبدیلی ہوجائے تو نبی ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ أَعْطِ ابْنَ عَبَّاسٍ الْحِكْمَةَ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا اے اللہ! ابن عباس کو دین کی سمجھ عطاء فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ سَمِعْتُ جَدِّي هِشَامَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ الْوَلِيدُ يَسْأَلُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا فَأَتَى الْمُصَلَّى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى
ایک مرتبہ ولید نے ایک آدمی کو حضرت ابن عباس ؓ کے پاس نماز استسقاء کے موقع پر نبی ﷺ کا معمول مبارک پوچھنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اس طرح (نماز استسقاء پڑھانے کے لئے) باہر نکلے کہ آپ ﷺ پر خشوع و خضوع اور عاجزی وزاری کرتے ہوئے، (کسی قسم کی زیب وزینت کے بغیر، آہستگی اور وقار کے ساتھ چل رہے تھے) آپ ﷺ نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا وَمِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَ فَذَكَرَ سِمَاكٌ أَنَّ الصَّفَرَ دَابَّةٌ تَكُونُ فِي بَطْنِ الْإِنْسَانِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكُونُ فِي الْإِبِلِ الْجَرِبَةُ فِي الْمِائَةِ فَتُجْرِبُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں، بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، صفر کا مہینہ یا الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں، (سماک کہتے ہیں کہ صفر انسان کے پیٹ میں ایک کیڑا ہوتا ہے) ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کردیتا ہے (اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی؟ ) نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ! اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا؟
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔