Musnad Imam Ahmad 2297

عبداللہ بن عباس کی مرویات

2297Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ سَمِعْتُ جَدِّي هِشَامَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ الْوَلِيدُ يَسْأَلُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا فَأَتَى الْمُصَلَّى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى

ایک مرتبہ ولید نے ایک آدمی کو حضرت ابن عباس ؓ کے پاس نماز استسقاء کے موقع پر نبی ﷺ کا معمول مبارک پوچھنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اس طرح (نماز استسقاء پڑھانے کے لئے) باہر نکلے کہ آپ ﷺ پر خشوع و خضوع اور عاجزی وزاری کرتے ہوئے، (کسی قسم کی زیب وزینت کے بغیر، آہستگی اور وقار کے ساتھ چل رہے تھے) آپ ﷺ نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔