حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُولُوا لِيَتَهَجَّدَ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابن نمیر، ابومعاویہ، اعمش، حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے اور اس میں تہجد کی نماز کا ذکر نہیں کیا۔
This hadith is reported from Hudaifa by another chain of transmitters. Whenever he (the Holy Prophet) got up in the night, they (the transmitters) have not mentioned the words: for offering Tahajjud prayer.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَحُصَيْنٌ وَالْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاکِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، عبدالرحمن، سفیان، منصور، حصین، اعمش، ابو وائل، حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے۔
Hudaifa reported: Whenever he (the Holy Prophet) got up for prayer during the night, he cleansed his mouth with the tooth-stick.
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَکِّلِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَائِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ فِي آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ حَتَّی بَلَغَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الْبَيْتِ فَتَسَوَّکَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَی السَّمَائِ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّکَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی
عبد بن حمید، ابونعیم، اسماعیل بن مسلم، ابومتوکل، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات نبی کریم ﷺ کے پاس گزاری پس نبی کریم ﷺ رات کے آخری حصہ میں اٹھے باہر نکلے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر سورت آل عمران کی یہ آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ ) 3۔ آل عمران: 190) سے (فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ) تک تلاوت فرمائی پھر گھر تشریف لائے پس مسواک کی اور وضو فرمایا پھر کھڑے ہوئے اور نماز ادا فرمائی پھر آپ ﷺ لیٹ گئے پھر اٹھے اور باہر نکلے آسمان کی طرف دیکھا اور یہی آیت تلاوت فرمائی پھر واپس آئے مسواک کی اور وضو فرمایا پھر کھڑے ہوئے اور نماز ادا کی۔
Ibn Abbas reported that he spent a night at the house of the Apostle of Allah ﷺ . The Apostle of Allah ﷺ got up for prayer in the latter part of the night. He went out and looked towards the sky and then recited this verse (190th) of AI-i-Imran: "Verily in the creation of the heavens and the earth and the alternation of night and day." up to the (words) "save us from the torment of Hell." He then returned to his house, used the tooth-stick, performed the ablution, and then got up and offered the prayer. He than lay down on the bed. and again got up and went out and looked towards the sky and recited this verse (mentioned above), then returned, used the tooth-stick, performed ablution and again offered the prayer.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنْ الْفِطْرَةِ الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَقَصُّ الشَّارِبِ
ابوبکر بن ابی شیبہ و عمرو ناقد و زہیر بن حرب، سفیان، ابوبکر، ابن عیینہ، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں ختنہ کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا، ناخن کاٹنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا اور مونچھیں کتروانا۔
Abu Hurairah (RA) reported: Five are the acts quite akin to the Fitra, or five are the acts of Fitra: circumcision, shaving the pubes, cutting the nails, plucking the hair under the armpits and clipping the moustache.
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْفِطْرَةُ خَمْسٌ الِاخْتِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں ختنہ کرانا، زیر ناف بال صاف کرنا، مونچھیں کتروانا، ناخنوں کو کاٹنا اور بغلوں کے بالوں کو اکھیڑنا۔
Abu Hurairah (RA) reported: Five are the acts of fitra: circumcision, removing the pubes, clipping the moustache, cutting the nails, plucking the hair under the armpits.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ جَعْفَرٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَنَتْفِ الْإِبِطِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَنْ لَا نَتْرُکَ أَکْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً
یحییٰ بن یحییٰ، قتیبہ بن سعید، جعفر، یحییٰ، جعفر بن سلیمان، ابوعمران جونی، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ ہمارے لئے مونچھیں کتروانے، ناخن کاٹنے، بغلوں کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے میں مدت مقرر کی گئی ہے کہ ہم چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں یعنی یہ زیادہ سے زیادہ مدت ہے وگر نہ بہتر اس عرصہ سے پہلے ہی ہے۔
Anas reported: A time limit has been prescribed for us for clipping the moustache, cutting the nails, plucking hair under the armpits, shaving the pubes, that it should not be neglected for more than forty nights.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَی
محمد بن مثنی، یحییٰ ابن سعید، ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہمیں حکم دیا گیا ہے مونچھوں کو جڑ سے کانٹے اور داڑھی کو بڑھانے کا۔
Ibn Umar (RA) said: The Apostle of Allah ﷺ said: Trim closely the moustache, and let the beard grow.
حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ بِإِحْفَائِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَائِ اللِّحْيَةِ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابوبکر بن نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہمیں حکم دیا گیا ہے مونچھوں کو جڑ سے کاٹنے اور داڑھی کو بڑھانے کا۔
Ibn Umar (RA) said: The Apostle of Allah ﷺ ordered us to trim the moustache closely and spare the beard.
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِفُوا الْمُشْرِکِينَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَوْفُوا اللِّحَی
سہل بن عثمان، یزید بن زریع، عمر بن محمد، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مشرکوں کی مخالفت کیا کرو مونچھیں کتروا کر اور داڑھی کو بڑھا کر۔
Ibn Umar (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ (may peace be opon him) said: Act against the polytheists, trim closely the moustache and grow beard.
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَی الْحُرَقَةِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا اللِّحَی خَالِفُوا الْمَجُوسَ
ابوبکر بن اسحاق، ابن ابی مریم، محمد بن جعفر، علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب مولیٰ حرقہ، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مونچھوں کو کتراؤ اور ڈاڑھیوں کو بڑھاؤ اور مجوس یعنی آتش پرستوں کی مخالفت کیا کرو۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Trim closely the moustache, and grow beard, and thus act against the fire-worshippers.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرٌ مِنْ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَائُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاکُ وَاسْتِنْشَاقُ الْمَائِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَائِ قَالَ زَکَرِيَّائُ قَالَ مُصْعَبٌ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَکُونَ الْمَضْمَضَةَ زَادَ قُتَيْبَةُ قَالَ وَکِيعٌ انْتِقَاصُ الْمَائِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَائَ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، زکریا بن ابی زائدہ، مصعب بن شیبہ، طلق بن حبیب، عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دس چیزیں سنت ہیں مونچھیں کتروانا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخنوں کا کاٹنا، جوڑ دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال صاف کرنا، پانی سے استنجا کرنا مصعب راوی بیان کرتے ہیں کہ دسویں چیز میں بھول گیا شاید وہ کلی کرنا ہو۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace be npon him) said: Ten are the acts according to fitra: clipping the moustache, letting the beard grow, using the tooth-stick, snuffing water in the nose, cutting the nails, washing the finger joints, plucking the hair under the armpits, shaving the pubes and cleaning ones private parts with water. The narrator said: I have forgotten the tenth, but it may have been rinsing the mouth.
حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَبُوهُ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ
ابوکریب، ابن ابی زائدہ، مصعب بن شیبہ، ایک دوسری سند سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں (نَسِيتُ الْعَاشِرَةَ ) کا لفظ نہیں۔
This hadith has been narrated by Musab bin Shaiba with the same chain of transmitters except for these words: "His father said: I forgot the tenth one."
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قِيلَ لَهُ قَدْ عَلَّمَکُمْ نَبِيُّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلَّ شَيْئٍ حَتَّی الْخِرَائَةَ قَالَ فَقَالَ أَجَلْ لَقَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید، حضرت سلمان سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ان سے کہا گیا کہ تمہارے نبی ﷺ تم کو ہر بات کی تعلیم دیتے ہیں یہاں تک کہ رفع حاجت کے لئے بیٹھنے کا طریقہ بھی بتادیا ہے حضرت سلمان نے فرمایا ہاں ہم کو آپ ﷺ نے پیشاب و پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے یا ہم استنجا کریں تین سے کم پتھروں کے ساتھ یا گوبر یا ہڈی سے استنجاء کرنے کو منع فرمایا۔
Salman reported that it was said to him: Your Apostle ﷺ teaches you about everything, even about excrement. He replied: Yes, he has forbidden us to face the Qibla at the time of excretion or urination, or cleansing with right hand or with less than three pebbles, or with dung or bone.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ لَنَا الْمُشْرِکُونَ إِنِّي أَرَی صَاحِبَکُمْ يُعَلِّمُکُمْ حَتَّی يُعَلِّمَکُمْ الْخِرَائَةَ فَقَالَ أَجَلْ إِنَّهُ نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَنَهَی عَنْ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ وَقَالَ لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُکُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان، اعمش، منصور، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید، سلمان سے روایت ہے کہ ہم کو بعض مشرکین نے کہا میں نے دیکھا کہ تمہارے صاحب یعنی نبی ﷺ تم کو ہر بات سکھاتے ہیں یہاں تک کہ رفع حاجت کا طریقہ بھی تو حضرت سلمان ؓ نے فرمایا بیشک آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے یا قبلہ کی طرف رخ کرے اور ہم کو گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے کو منع فرمایا اور آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجاء نہ کرے۔
Salman said that (one among) the polytheists remarked: I see that your friend even teaches you about the excrement. He replied; Yes, he has in fact forbidden us that anyone amongst us should cleanse himself with his right hand, or face the Qibla. He has forbidden the use of dung or bone for it, and he has also instructed us not to use less than three pebbles (for this purpose).
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بِبَعْرٍ
زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، زکریا، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہڈی یا مینگنی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا۔
Jabir reported: The Messenger of Allah ﷺ forbade the use of bone or the droppings of camels for wiping (after excretion).
پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قُلْتُ لِسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ سَمِعْتَ الزُّهْرِيَّ يَذْکُرُ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَيْتُمْ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا بِبَوْلٍ وَلَا غَائِطٍ وَلَکِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ قَالَ نَعَمْ
زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن یحیی، سفیان بن عیینہ، زہری، عطاء بن یزید لیثی، ابوایوب سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم رفع حاجت کے لئے جاؤ پیشاب یا پاخانہ کے لئے تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ پیٹھ البتہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرو حضرت ابوایوب ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ملک شام گئے تو ہم نے وہاں بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے پائے ہم قبلہ سے پھرجاتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگتے تھے۔
Abu Ayyub reported: The Apostle of Allah ﷺ said: Whenever you go to the desert, neither turn your face nor turn your back towards the Qibla while answering the call of nature, but face towards the east or the west. Abu Ayyub said: When we came to Syria we found that the latrines already built there were facing towards the Qibla. We turned our faces away from them and begged forgiveness of the Lord. He said: Yes.
پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَلَسَ أَحَدُکُمْ عَلَی حَاجَتِهِ فَلَا يَسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا
احمد بن حسن بن خراش، عمر بن عبدالوہاب، یزید ابن زریع، روح، سہیل، قعقاع، ابی صالح، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لئے بیٹھے تو قبلہ کی طرف نہ تو منہ کرے اور نہ پیٹھ۔
Abu Hurairah (RA) said: When any one amongst you squats for answering the call of nature, he should neither turn his face towards the Qibla nor turn his back towards it.
عمارات میں اس امر کی رخصت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ قَالَ کُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَی الْقِبْلَةِ فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلَاتِي انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ مِنْ شِقِّي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ نَاسٌ إِذَا قَعَدْتَ لِلْحَاجَةِ تَکُونُ لَکَ فَلَا تَقْعُدْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَلَا بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَلَقَدْ رَقِيتُ عَلَی ظَهْرِ بَيْتٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا عَلَی لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلًا بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان ابن بلال، یحییٰ بن سعید، محمد بن یحیی، حضرت واسع بن حبان سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اور حضرت عبداللہ بن عمر قبلہ کی طرف اپنی پیٹھ کی ٹیک لگائے بیٹھے تھے جب میں نماز ادا کرچکا تو میں آپ کی طرف اپنی ایک جانب سے پھرا تو حضرت ابن عمر نے فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ جب تو قضائے حاجت کو بیٹھے تو قبلہ اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھ حالانکہ میں گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دو اینٹوں پر قضائے حاجت کے لئے بیت المقدس کی طرف منہ کئے بیٹھے ہوئے دیکھا۔
Wasi bin Habban reported: I was offering my prayer in the mosque and Abdullah bin Umar (RA) was sitting there reclining with his back towards the Qibla. After completing my prayer. I went to him from one side. Abdullah said: People say when you go to the latrine, you should neither turn your face towards the Qibla nor towards Bait-ul-Maqdis. Abdullah said (farther): I went up to the roof of the house and saw the Messenger of Allah ﷺ squatting on two bricks for relieving himself with his face towards Bait-al-Maqdis.
عمارات میں اس امر کی رخصت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَقِيتُ عَلَی بَيْتِ أُخْتِي حَفْصَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا لِحَاجَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر عبدی، عبیداللہ بن عمر، محمد بن یحییٰ بن حبان، واسع بن حبان، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت حفصہ ؓ کے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو قضائے حاجت کے لئے ملک شام کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہوئے دیکھا۔
Abdullah bin Umar (RA) said: I went up to the roof of the house of my sister Hafsa and saw the Messenger of Allah ﷺ relieving himself facing Syria with his back to the Qibla.
دائیں ہاتھ کے ساتھ استنجاء کرنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُمْسِکَنَّ أَحَدُکُمْ ذَکَرَهُ بِيَمِينِهِ وَهُوَ يَبُولُ وَلَا يَتَمَسَّحْ مِنْ الْخَلَائِ بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَائِ
یحییٰ بن یحیی، عبدالرحمن ابن مہدی، ہمام، یحییٰ بن ابی کثیر، عبداللہ بن ابی قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی حالت پیشاب میں اپنے عضو خاص کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے اور برتن میں سانس نہ لے۔
Abu Qatadah (RA) reported it from his father: The Messenger of Allah ﷺ said: None of you should hold penis with his right hand while urinating, or wipe himself with his right hand in privy and should not breathe into the vessel (from which he drinks).