دائیں ہاتھ کے ساتھ استنجاء کرنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمْ الْخَلَائَ فَلَا يَمَسَّ ذَکَرَهُ بِيَمِينِهِ
یحییٰ بن یحیی، وکیع، ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، عبداللہ بن ابی قتادہ، ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی بیت الخلا میں داخل ہو تو اپنے ذکر کو اپنے دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے۔
Abu Qatadah (RA) reported it from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: When anyone amongst you enters the privy he should not touch his penis with his right hand.
دائیں ہاتھ کے ساتھ استنجاء کرنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يَتَنَفَّسَ فِي الْإِنَائِ وَأَنْ يَمَسَّ ذَکَرَهُ بِيَمِينِهِ وَأَنْ يَسْتَطِيبَ بِيَمِينِهِ
ابن ابی عمر ثقفی، ایوب، یحییٰ بن ابی کثیر، عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے برتن میں سانس لینے اور آلہ تناسل کو دائیں ہاتھ سے چھونے اور دائیں ہاتھ کے ساتھ استنجاء کرنے سے منع فرمایا۔
Aba Qatada reported: The Messenger of Allah ﷺ forbade (us) to breathe into the vessel, to touch the penis with the right hand and to wipe after relieving with right hand.
طہارت وغیرہ میں دائیں طرف سے شروع کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي طُهُورِهِ إِذَا تَطَهَّرَ وَفِي تَرَجُّلِهِ إِذَا تَرَجَّلَ وَفِي انْتِعَالِهِ إِذَا انْتَعَلَ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابواحوص، اشعث، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب طہارت فرماتے تو صفائی میں داہنی طرف سے ابتداء کرتے اور کنگھی کرنے اور جوتا پہننے میں (بھی) دائیں ہی طرف سے ابتداء کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ loved to start from the right-hand side for performing ablution, for combing (the hair) and wearing the shoes.
طہارت وغیرہ میں دائیں طرف سے شروع کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَشْعَثِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ کُلِّهِ فِي نَعْلَيْهِ وَتَرَجُّلِهِ وَطُهُورِهِ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، اشعث، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر کام میں دائیں جانب سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے مثلا جوتا پہننا اور کنگھی کرنا اور طہارت حاصل کرنا۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ loved to start from the right-hand side in his every act i. e. in wearing shoes, in combing (his hair) and in performing ablution.
راستہ اور سایہ میں پاخانہ وغیرہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ قَالُوا وَمَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يَتَخَلَّی فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ فِي ظِلِّهِمْ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، اسماعیل، علاء ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لعنت کے دو کاموں سے بچو صحابہ کرام نے عرض کیا وہ لعنت کے کام کرنے والے کون ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جو لوگوں کے راستہ میں یا ان کے سایہ (کی جگہ) میں قضائے حاجت کرے یعنی اس کا یہ عمل موجب لعنت ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Be on your guard against two things which provoke cursing. They (the companions present there) said: Messenger of Allah, what are those things which provoke cursing? He said: Easing on the thoroughfares or under the shades (where they take shelter and rest).
قضائے حاجت کے بعد پانی کے ساتھ استنجا کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَتَبِعَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ هُوَ أَصْغَرُنَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ سِدْرَةٍ فَقَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدْ اسْتَنْجَی بِالْمَائِ
یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، خالد، عطاء بن ابی میمونہ، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے پیچھے ایک لڑکا تھا جو پانی کا ایک لوٹا اٹھائے ہوئے تھا اور وہ ہم میں سب سے چھوٹا تھا اس نے اس برتن کو ایک بیری کے درخت کے پاس رکھ دیا پھر رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کی اور آپ ﷺ پانی سے استنجا کرکے ہمارے پاس تشریف لائے۔
Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ entered an enclosure while a servant was following him with a jar of water and he was the youngest amongst us and he placed it by the side of a lote-tree. When the Messenger of Allah, ﷺ relieved himself, he came out and had cleansed himself with water.
قضائے حاجت کے بعد پانی کے ساتھ استنجا کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَغُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلَائَ فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَائٍ وَعَنَزَةً فَيَسْتَنْجِي بِالْمَائِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، غندر، شعبہ، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عطاء بن ابی میمونہ، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور نوجوان پانی کا برتن اور نیزہ اٹھاتے پس آپ ﷺ پانی کے ساتھ استنجاء فرماتے۔
Anas bin Malik (RA) reported: When the Messenger of Allah ﷺ entered the privy, a servant and I used to carry a skin of water, and a pointed staff, and he would cleanse himself with water.
قضائے حاجت کے بعد پانی کے ساتھ استنجا کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِهِ فَآتِيهِ بِالْمَائِ فَيَتَغَسَّلُ بِهِ
زہیر بن حرب، ابوکریب، زہیر، اسماعیل، ابن علیہ، روح بن قاسم، عطاء بن ابی میمونہ، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رفع حاجت کے لئے دور تشریف لے جاتے تھے پھر میں آپ ﷺ کے پاس پانی لاتا اور آپ ﷺ اس پانی کے ساتھ استنجاء فرماتے۔
Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ went to a far-off place in the desert (hidden from the sight of human beings) for relieving himself. Then I brought water for him and he cleansed himself.
مو زوں پر مسح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامٍ قَالَ بَالَ جَرِيرٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّيْهِ فَقِيلَ تَفْعَلُ هَذَا فَقَالَ نَعَمْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّيْهِ قَالَ الْأَعْمَشُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ کَانَ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ لِأَنَّ إِسْلَامَ جَرِيرٍ کَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، اسحاق بن ابراہیم، ابوکریب، ابومعاویہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، یحیی، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، ہمام سے روایت ہے کہ حضرت جریر ؓ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا ان سے کہا گیا تم ایسا کرتے ہو؟ آپ نے فرمایا جی ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نے پیشاب کیا پھر وضو فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا ابراہیم کہتے ہیں کہ لوگوں کو یہ حدیث بھلی لگتی تھی کیونکہ حضرت جریر سورت مائدہ کے نزول کے بعد جس میں آیت وضو ہے مسلمان ہوئے یعنی آیت وضو میں پاؤں دھونے کا حکم ہے ان کی یہ حدیث آیت وضو سے منسوخ نہیں ہے۔
Hummam reported: Jarir urinated, then performed ablution and wiped over the socks. It was said to him: Do you do like this? He said: Yes, I saw that the Messenger of Allah ﷺ urinated, then performed ablution and then wiped over his shoes. Amash said: Ibrahim had observed that this hadith was a surprise for them (the people) because Jarir had embraced Islam after the revelation of Surat al-Maida.
مو زوں پر مسح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيسَی وَسُفْيَانَ قَالَ فَکَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ لِأَنَّ إِسْلَامَ جَرِيرٍ کَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ
اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، محمد بن ابی عمر ایک دوسری سند سے بھی یہی روایت منقول ہے اس میں یہ بھی ہے کہ عبداللہ کے اصحاب کو یہ حدیث بھلی معلوم ہوتی تھی کیونکہ جریر نزول مائدہ کے بعد مسلمان ہوئے۔
This hadith is narrated on the same authority from Amash by another chain of transmitters like one transmitted by Abu Muawyia. The hadith reported by Isa and Sufyan has these words also: "This hadith surprised the friends of Abdullah" for Jarir had embraced Islam after the revelation of al-Maida.
مو زوں پر مسح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَی إِلَی سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا فَتَنَحَّيْتُ فَقَالَ ادْنُهْ فَدَنَوْتُ حَتَّی قُمْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ فَتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَی خُفَّيْهِ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوخیثمہ، اعمش، شفیق، حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ ایک قوم کے کوڑے کی جگہ پر پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا میں علیحدہ ہوگیا آپ ﷺ نے مجھے قریب بلایا میں قریب ہوگیا یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہوگیا پھر آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔
Hudhaifa reported: I was with the Apostle of Allah ﷺ when he came to the dumping ground of filth belonging to a particular tribe. He urinated while standing, and I went aside. He (the Holy Prophet) asked me to come near him and I went so near to him that I stood behind his heels. He then performed ablution and wiped over his socks.
مو زوں پر مسح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ کَانَ أَبُو مُوسَی يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ وَيَبُولُ فِي قَارُورَةٍ وَيَقُولُ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ کَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَکُمْ لَا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَی فَأَتَی سُبَاطَةً خَلْفَ حَائِطٍ فَقَامَ کَمَا يَقُومُ أَحَدُکُمْ فَبَالَ فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّی فَرَغَ
یحییٰ بن یحیی، جریر منصور، ابو وائل سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسی اشعری ؓ پیشاب کے بارے میں بہت سختی کے ساتھ احتیاط فرماتے تھے اور ایک بو تل میں پیشاب کرتے اور فرماتے تھے بنی اسرائیل میں سے اگر کسی کی جلد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس کھال کو حکما قینچیوں سے کاٹتا حذیفہ نے کہا کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ تمہارے ساتھی اس معاملہ میں اس قدر سختی نہ کرتے کیونکہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیدل چل رہا تھا تو آپ ﷺ قوم کے کوڑے کی جگہ پر آئے جو ایک دیوار کے پیچھے تھا آپ ﷺ کھڑے ہوئے جیسا کہ تمہارا کوئی کھڑا ہوتا اور پیشاب کیا میں آپ ﷺ سے دور ہوگیا پس آپ ﷺ نے مجھے اپنی طرف اشارہ کیا میں آیا اور آپ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہوگیا یہاں تک کہ آپ ﷺ پیشاب سے فارغ ہوئے۔
Abu Wail reported: Abu Musa inflicted extreme rigour upon himself in the matter of urination and urinated in a bottle and said: When the skin of anyone amongst the people of Israel was besmeared with urine, he cut that portion with a cutter. Hudhaifa said: I wish that your friend should not inflict such an extreme rigour. I and the Messenger of Allah ﷺ were going together till we reached the dumping ground of filth behind an enclosure. He stood up as one among you would stand up and he urinated, I tried to turn away from him, but he beckoned to me, so I went to him and I stood behind him, till he had relieved himself.
مو زوں پر مسح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَائٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی الْخُفَّيْنِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ مَکَانَ حِينَ حَتَّی
قتیبہ بن سعید، لیث بن سعد، محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، یحییٰ بن سعید، سعد بن ابراہیم، نافع بن جبیر، عروہ بن زبیر، حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رفع حاجت کے لئے باہر تشریف لے گئے آپ ﷺ کے پیچھے حضرت مغیرہ بن شعبہ ڈول لائے اور اس میں پانی تھا پس انہوں نے آپ ﷺ پر پانی ڈالا جب آپ ﷺ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے پس آپ ﷺ نے اس کے بعد وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا۔
The son of Mughira bin Shubah reported: The Messenger of Allah ﷺ went out for relieving himself. Mughira went with him carrying a jug full of water. When he (the Holy Prophet) came back after relieving himself, he poured water over him and he performed ablution and wiped over his socks; and in the narration of Ibn Rumh there is "till" instead of "when".
مو زوں پر مسح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ مَسَحَ عَلَی الْخُفَّيْنِ
محمد بن مثنی عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید سے یہی حدیث دوسری اسناد کے ساتھ مروی ہے لیکن اس میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے اور سر پر مسح کیا پھر موزوں پر مسح کیا۔
This hadith has been transmitted with the same chain of transmitters by Yahya bin Said with the addition of these words: "He washed his face and hands, and wiped his head and then wiped his socks."
مو زوں پر مسح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ نَزَلَ فَقَضَی حَاجَتَهُ ثُمَّ جَائَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ کَانَتْ مَعِي فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّيْهِ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابواحوص، اشعث، اسود بن ہلال، مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ اچانک اترے اور اپنی حاجت سے فارغ ہوئے پھر واپس آئے تو میں نے اپنے پاس موجود برتن میں سے پانی ڈالا آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور موزوں پر مسح کیا۔
Mughira bin Shubah reported: I was with the Messenger of Allah ﷺ one night. He came down (from the ride) and relieved himself. He then came and I poured water upon him from the jar that I carried with me. He performed ablution and wiped over his socks
مو زوں پر مسح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَالَ يَا مُغِيرَةُ خُذْ الْإِدَاوَةَ فَأَخَذْتُهَا ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی تَوَارَی عَنِّي فَقَضَی حَاجَتَهُ ثُمَّ جَائَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْکُمَّيْنِ فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَهُ مِنْ کُمِّهَا فَضَاقَتْ عَلَيْهِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وُضُوئَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ مَسَحَ عَلَی خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّی
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابوبکر، ابومعاویہ، اعمش، مسلم، مسروق، مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں ایک روز میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ نے فرمایا اے مغیرہ برتن لے آ میں لے کر آیا پھر میں آپ ﷺ کے ساتھ نکل پڑا رسول اللہ ﷺ چلے یہاں تک کہ مجھ سے غائب ہوگئے آپ اپنی حاجت سے فارغ ہو کر واپس آئے آپ ﷺ نے ایک تنگ آستینوں والا شامی جبہ پہنا ہوا تھا آپ نے اپنا ہاتھ اس کی آستین سے نکالنا چاہا لیکن وہ بہت تنگ تھی تو آپ ﷺ نے اس کے نیچے سے اپنا ہاتھ مبارک نکالا پھر میں نے آپ ﷺ پر پانی ڈالا اور آپ ﷺ نے وضو فرمایا جیسے آپ ﷺ نماز کے لئے وضو کرتے پھر اپنے موزوں پر مسح فرمایا پھر نماز ادا کی۔
Mughira bin Shubah reported: I was in the company of the Messenger of Allah ﷺ on a journey when he said: Mughira take hold of this jar (of water). I took hold of it and I went out with him. (I stopped but) the Messenger of Allah ﷺ proceeded on till he was out of my sight. He relieved himself and then came back and he was wearing a tight-sleeved Syrian gown. He tried to get his forearms out, but the sleeve of the gown was very narrow, so he brought his hands out from under the gown. I poured water over (his hands) and he performed ablution for prayer, then wiped over his socks and prayed.
مو زوں پر مسح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جَمِيعًا عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عِيسَی حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَتْ الْجُبَّةُ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّی بِنَا
اسحاق بن ابرہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اسحاق، عیسی، اعمش، مسلم، مسروق، حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی حاجت کو پورا کرنے کے لئے باہر نکلے پس جب آپ ﷺ واپس آئے تو میں پانی کے برتن کے ساتھ آپ ﷺ کو ملا میں نے پانی ڈالا آپ ﷺ نے ہاتھوں کو دھویا پھر اپنے چہرے کو دھویا پھر آپ ﷺ نے اپنی کلائیاں دھونی چاہیں، جبہ تنگ تھا تو آپ ﷺ نے اپنی کلائیوں کو جبہ کے نیچے سے نکالا اور ان کو دھویا اور سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا پھر ہم کو نماز پڑھائی۔
Mughira bin Shubah reported: The Messenger of Allah ﷺ went out for relieving himself. When he came back I brought for him a jar (of water) and poured water upon his hands and he washed his face. He tried to wash his forearms, but as the (sleeves of the) gown were tight. He, therefore, brought them out from under the gown. He then washed them, wiped his head, and wiped his socks and then prayed.
مو زوں پر مسح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍ فَقَالَ لِي أَمَعَکَ مَائٌ قُلْتُ نَعَمْ فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَمَشَی حَتَّی تَوَارَی فِي سَوَادِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَائَ فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنْ الْإِدَاوَةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا حَتَّی أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ فَقَالَ دَعْهُمَا فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا
محمد بن عبداللہ بن نمیر، زکریا، عامر، عروہ بن مغیرہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ نے مجھے فرمایا کیا تیرے پاس پانی ہے میں نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ اپنی سواری سے اترے آپ ﷺ چلے یہاں تک کہ رات کی سیاہی میں چھپ گئے پھر واپس آئے میں نے آپ ﷺ پر برتن سے پانی ڈالا آپ ﷺ نے اپنے چہرے کو دھویا اور آپ ﷺ اونی جبہ پہنے ہوئے تھے آپ ﷺ اس سے اپنی کلائیوں کو نہ نکال سکے تو جبہ کے نیچے سے ان کو نکالا اور اپنی کلائیوں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا پھر میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ان کو چھوڑ دے میں نے ان دونوں کو پاکی کی حالت میں پہنا ہے اور ان دونوں پر مسح فرمایا۔
Urwa bin Mughira reported his father having said: I was one night with the Apostle of Allah ﷺ on a journey. He said to me: Have you any water with you? I said: Yes. He (the Holy Prophet) came down from his ride and went on till he disappeared in the darkness of night. He then came back and I poured water for him from the jar. He washed his face. He had a woollen gown on him and he could not bring out his forearms from it (i. e. from its sleeves) and consequently he brought them out from under his gown. He washed his forearms, wiped over his head. I then bent down to take off his socks. But he said: Leave them, for my feet were clean when I put them in, and he only wiped over them.
مو زوں پر مسح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ وَضَّأَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّيْهِ فَقَالَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ
محمد بن حاتم، اسحاق بن منصور، عمر بن ابی زائدہ، شعبی، عروہ بن مغیرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو وضو کرایا آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا پھر حضرت مغیرہ ؓ سے فرمایا میں نے ان دونوں کو پاک ہونے کی حالت پر داخل کیا ہے۔
Urwah al Mughira reported it from his father: He (Mughira) helped the Apostle ﷺ in performing the ablution, and he performed it and wiped over his shoes. He (Mughira) said to him (about the washing of the feet after putting them off), but he (the Holy Prophet) said: I put them (feet) in when these were clean.
پیشانی اور عمامہ پر مسح کرنے کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَی حَاجَتَهُ قَالَ أَمَعَکَ مَائٌ فَأَتَيْتُهُ بِمِطْهَرَةٍ فَغَسَلَ کَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ کُمُّ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ وَأَلْقَی الْجُبَّةَ عَلَی مَنْکِبَيْهِ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَی الْعِمَامَةِ وَعَلَی خُفَّيْهِ ثُمَّ رَکِبَ وَرَکِبْتُ فَانْتَهَيْنَا إِلَی الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلَاةِ يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ رَکَعَ بِهِمْ رَکْعَةً فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ فَصَلَّی بِهِمْ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ فَرَکَعْنَا الرَّکْعَةَ الَّتِي سَبَقَتْنَا
محمد بن عبداللہ بن بزیع، یزید بن زریع، حمید طویل، بکر بن عبداللہ مزنی، عروہ بن مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور میں ایک سفر میں پیچھے رہ گئے جب آپ ﷺ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا تیرے پاس پانی ہے تو میں پانی کا برتن لایا پس آپ ﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں اور اپنے چہرہ مبارک کو دھویا پھر آپ ﷺ نے کلائیوں کو دھونے کا ارادہ فرمایا جبہ کی آستین تنگ ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کو جبہ کے نیچے سے نکالا اور جبہ کو اپنے کندھوں پر ڈال دیا اور دونوں کلائیوں کو دھویا اور اپنی پیشانی اور عمامہ اور موزوں پر مسح فرمایا پھر آپ ﷺ سوار ہوئے اور میں بھی سوار ہوا اور اپنے ساتھیوں تک پہنچ گئے اور وہ نماز میں کھڑے ہوچکے تھے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ان کو نماز کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے پس جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنا شروع ہوئے تو آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا انہوں نے صحابہ ؓ کو نماز پڑھائی جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور میں بھی کھڑا ہوا اور ہم نے اپنی فوت شدہ رکعت ادا کی۔
Urwa bin al Mughira bin Shubah reported it on the authority of his father that he said: The Messenger of Allah ﷺ lagged behind (in a journey) and I also lagged behind along with him. After having relieved himself he said: Have you any water with you? I brought to him a jar of water; he washed his palms, and face, and when he tried to get his forearms out (he could not) for the sleeve of the gown was tight. He, therefore, brought them out from under the gown and, throwing it over his shoulders, he washed his forearm. He then wiped his forelock and his turban and his socks. He then mounted and I also mounted (the ride) and came to the people. They had begun the prayer with Abd ar-Rabmin bin Auf leading them and had completed a raka. When he perceived the presence of the Apostle of Allah ﷺ he began to retire. He (the Holy Prophet) signed to him to continue and offered prayer along with them. Then when he had pronounced the salutation, the Apostle ﷺ got up and I also got up with him, and we offered the raka which had been finished before we came.