وضو کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 3 · 144 hadiths · Page 3 of 8

574Sahih Muslim

وضو میں دونوں پاؤں کو کامل طور پر دھونے کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ رَأَی قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ مِنْ الْمَطْهَرَةِ فَقَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوئَ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنْ النَّارِ

قتیبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ انہوں نے بعض لوگوں کو دیکھا جو برتن سے وضو کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ وضو پورا کرو کیونکہ میں نے ابوالقاسم سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے (خشک) ایڑیوں کے لئے جہنم سے عذاب ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported: He saw people perform ablution with the help of a water jar and he said: Complete the Wudu for i heard Abu al-Qasim ﷺ say: Woe to the hamstrings because of hell-fire.

575Sahih Muslim

وضو میں دونوں پاؤں کو کامل طور پر دھونے کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ

زہیر بن حرب، جریر، سہیل، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایڑیوں کے لئے جہنم سے ویل یعنی عذاب ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Woe to the heels because of hell-fire.

576Sahih Muslim

اعضاء کے تمام اجزا کو پورا دھونے کے وجوب کے بیان میں

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّ رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَکَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَی قَدَمِهِ فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَکَ فَرَجَعَ ثُمَّ صَلَّی

سلمہ بن شبیب، حسن بن محمد بن اعین، معقل، ابوزبیر، جابر، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے وضو کیا اور اس کے پاؤں پر ایک ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی نبی کریم ﷺ نے اس کو دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ واپس جاؤ پس اپنا وضو اچھی طرح کرو پس وہ لوٹ گیا پھر نماز پڑھی۔

Jabir reported: Umar bin Khattab said that a person performed ablution and left a small part equal to the space of a nail (unwashed). The Apostle of Allah ﷺ saw that and said: Go back and perform ablution well. He then went back (performed ablution well) and offered the prayer.

577Sahih Muslim

وضو کے پانی کے ساتھ گناہوں کے نکلنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوْ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ کُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ کُلُّ خَطِيئَةٍ کَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ کُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ حَتَّی يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنْ الذُّنُوبِ

سوید بن سعید، مالک بن انس، ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، سہیل بن ابی صالح، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ مسلمان یا مومن وضو کرتا ہے اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس نے آنکھوں سے کئے پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ جو انہوں نے کسی چیز کو پکڑ کر کئے جھڑ جاتے ہیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، جب وہ اپنے پاؤں کو دھوتا ہے تو پاؤں جن گناہوں کی طرف چل کر گئے وہ تمام گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک وصاف ہو کر نکلتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ said: When a bondsman-a Muslim or a believer-washes his face (in course of ablution), every sin he contemplated with his eyes, will be washed away from his face along with water, or with the last drop of water; when he washes his hands, every sin they wrought will be effaced from his hands with the water, or with the last drop of water; and when he washes his feet, every sin towards which his feet have walked will be washed away with the water or with the last drop of water with the result that he comes out pure from all sins.

578Sahih Muslim

وضو کے پانی کے ساتھ گناہوں کے نکلنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ حُمْرَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ

محمد بن معمر بن ربعی قیسی، ابوہشام مخزومی، عبدالواحد، ابن زیاد، عثمان بن حکیم، محمد بن منکدر، حمران، عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اچھی طرح پورا پورا وضو کیا تو اس کے تمام بدن کے گناہ جھڑ جاتے ہیں یہاں تک کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔

Uthman bin Affan reported: The Messenger of Allah ﷺ said: He who performed ablution well, his sins would come out from his body, even coming out from under his nails.

579Sahih Muslim

اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ بْنِ دِينَارٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَی حَتَّی أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ ثُمَّ يَدَهُ الْيُسْرَی حَتَّی أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَی حَتَّی أَشْرَعَ فِي السَّاقِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَی حَتَّی أَشْرَعَ فِي السَّاقِ ثُمَّ قَالَ هَکَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُمْ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ إِسْبَاغِ الْوُضُوئِ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ فَلْيُطِلْ غُرَّتَهُ وَتَحْجِيلَهُ

ابوکریب، محمد بن علاء، قاسم بن زکریا بن دینار، عبد بن حمید، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال عمارہ بن غزیہ انصاری نعیم بن عبداللہ مجمر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو وضو فرماتے ہوئے دیکھا پس انہوں نے اپنا چہرہ دھویا تو اس کو پورا پورا دھویا پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ دھویا یہاں تک کہ بازو کا ایک حصہ دھو ڈالا پھر بایاں ہاتھ بھی بازو تک دھویا پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر دایاں پاؤں پنڈلی تک دھویا پھر بایاں پاؤں پنڈلی تک دھویا پھر فرمایا میں نے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پورا اور کامل وضو کرنے کی وجہ سے تم لوگ قیامت کے دن روشن پیشانی اور ہاتھ پاؤں والے ہو کر اٹھو گے پس تم میں سے جو طاقت رکھتا ہے تو وہ اپنی پیشانی اور ہاتھ پاؤں کی نورانیت کو لمبا اور زیادہ کرے۔

Nuaim bin Abdullah al-Mujmir reported: I saw Abu Hurairah (RA) perform ablution. He washed his face and washed it well. He then washed his right hand including a portion of his arm. He then washed his left hand including a portion of his arm. He then wiped his head. He then washed his right foot including his shank, and then washed his left foot including shank, and then said: This is how I saw Allahs Messenger ﷺ perform his ablution. And ( Abu Hurairah (RA) ) added that the Messenger of Allah ﷺ had observed: You shall have your faces hands and feet bright on the Day of Resurrection because of your perfect ablution. He who can afford among you, let him increase the brightness of his forehead and that of hands and legs.

580Sahih Muslim

اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ رَأَی أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ حَتَّی کَادَ يَبْلُغُ الْمَنْکِبَيْنِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّی رَفَعَ إِلَی السَّاقَيْنِ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوئِ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، نعیم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا انہوں نے اپنے چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا یہاں تک قریب تھا کہ وہ اپنے کندھوں کو بھی دھو ڈالیں گے پھر انہوں نے اپنے پاؤں کو دھویا یہاں تک کہ پنڈلیوں تک پہنچ گئے پھر کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کے لوگ قیامت کے دن چمکدار چہرہ اور روشن ہاتھ پاؤں والے ہو کر آئیں گے وضو کے اثر کی وجہ سے لہذا تم میں سے جو اس چمک اور روشنی کو لمبا کرسکتا ہو تو اس کو زیادہ لمبا کرے۔

Nuaim bin Abdallah reported: He saw Abu Hurairah (RA) perform ablution. He washed his face and washed his hands up to the arms. He then washed his feet and reached up to the shanks and then said: I heard Allahs Messenger ﷺ say: My people would come with bright faces and bright hands and feet on account of the marks of ablution, so he who can increase the lustre of his forehead (and that of his hands and legs) should do so.

581Sahih Muslim

اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ الثَّلْجِ وَأَحْلَی مِنْ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ وَلَآنِيَتُهُ أَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ وَإِنِّي لَأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ کَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ قَالَ نَعَمْ لَکُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنْ الْأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوئِ

سوید بن سعید، ابن ابی عمر، مروان، ابن ابی عمر، ابومالک اشجعی، سعد بن طارق، ابوحازم، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرا حوض مقام عدن سے لے کر ایلہ تک کے فاصلہ سے بھی زیادہ بڑا ہوگا اور اس کا پانی برف سے زیادہ سفید، شہد ملے دودھ سے زیادہ میٹھا ہوگا اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں سے زیادہ ہوگی اور میں اس حوض سے دوسری امت کے لوگوں کو اس طرح روکوں گا جس طرح کوئی آدمی اپنے حوض سے دوسرے کے اونٹوں کو پانی پینے سے روکتا ہے صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ اس دن ہمیں پہچان لیں گے فرمایا ہاں تمہارے لئے ایسا نشان ہوگا جو باقی امتوں میں سے کسی کے لئے نہ ہوگا تم میرے سامنے آؤ گے اس حال میں کہ وضو کے اثر کی وجہ سے (تمہارے چہرے، ہاتھ اور پاؤں) روشن اور چمکدار ہوں گے۔

Abu Hurairah (RA) reported: Verily Allahs Messenger ﷺ said: My Cistern has its dimensions wider than the distance between Aila and Aden, and its water is whiter than ice and sweeter than the honey diluted with milk, and its cups are more numerous than the numbers of the stars. Verily I shall prevent the (faithless) people therefrom just as a man prevents the camels of the people from his fountain. They said: Messenger of Allah, will you recognise us on that day? He said: Yes, you will have distinctive marks which nobody among the peoples (except you) will have; you would come to me with blazing forehead and bright hands and feet on account of the traces of ablution.

582Sahih Muslim

اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرِدُ عَلَيَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ کَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا قَالَ نَعَمْ لَکُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِکُمْ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوئِ وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْکُمْ فَلَا يَصِلُونَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ هَؤُلَائِ مِنْ أَصْحَابِي فَيُجِيبُنِي مَلَکٌ فَيَقُولُ وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ

ابوکریب، واصل بن عبدالاعلی، واصل، ابن فضیل، ابومالک اشجعی، ابوحازم، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے لوگ میرے پاس حوض پر آئیں گے اور میں اس سے لوگوں کو اس طرح دور کروں گے جس طرح کوئی آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو دور کرتا ہے صحابہ کرام ؓ نے عرض کی اے اللہ کے نبی آپ ﷺ ہم کو پہچان لیں گے فرمایا ہاں تمہارے لئے ایک ایسی علامت و نشانی ہوگی جو تمہارے علاوہ کسی کے لئے نہ ہوگی تم جس وقت میرے پاس آؤ گے تو وضو کے آثار کی وجہ سے تمہارے چہرے ہاتھ اور پاؤں چمکدار اور روشن ہوں گے اور تم میں سے ایک جماعت کو میرے پاس آنے سے روکا جائے گا وہ میرے تک نہ پہنچ سکیں گے تو میں کہوں گا اے میرے رب یہ میری امت میں سے ہیں ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا کہ آپ ﷺ کو معلوم بھی ہے کہ آپ ﷺ کے بعد انہوں نے دین میں کیا کیا نئی باتیں (بدعات) نکال لی تھیں۔

Abu Hurairah (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ said: My people would come to me on the Cistern and I would drive away persons (from it) just as a person drives away other peoples camels from his camels. They (the hearers) said: Apostle of Allah ﷺ , would you recognize us? He replied: Yea, you would have a mark which other people will not have. You would come to me with a white blaze on your foreheads and white marks on your feet because of the traces of ablution. A group among you would be prevented from coming to me, and they would not meet me, and I would say: O my Lord, they are my companions. Upon this an angel would reply to me saying: Do you know what these people did after you.

583Sahih Muslim

اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ کَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الْإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَعْرِفُنَا قَالَ نَعَمْ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوئِ لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِکُمْ

عثمان بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، سعد بن طارق، ربعی بن خراش، حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرا حوض مقام عدن سے لے کر ایلہ کے فاصلہ سے بھی زیادہ بڑا ہوگا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں اس حوض سے لوگوں کو اس طرح دور کروں گا جس طرح کوئی آدمی اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے دور کرتا ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ ہم کو پہچان لیں گے فرمایا ہاں تم میرے پاس چمک دار روشن چہرے اور ہاتھ پاؤں والے ہو کر آؤ گے وضو کے آثار کی وجہ سے اور یہ علامت تمہارے علاوہ کسی میں نہ ہوگی۔

Hudhaifa reported: The Messenger of Allah ﷺ said: My Cistern is bigger than the space between Aila and Aden. By Him in Whose Hand is my life, I will drive away persons (from it) just as a person drives away unknown camels from his cistern. They (the companions) said: Messenger of Allah, would you recognise us? He said: Yes, you would come to me with white faces, and white hands and feet on account of the traces of ablution. None but you would have (this mark).

584Sahih Muslim

اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی الْمَقْبُرَةَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّهُ بِکُمْ لَاحِقُونَ وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا قَالُوا أَوَلَسْنَا إِخْوَانَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ فَقَالُوا کَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ الْوُضُوئِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَی الْحَوْضِ أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي کَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا

یحییٰ بن ایوب، سریج بن یونس، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، علاء، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان تشریف لائے اور فرمایا سلامتی ہو تم پر مومنوں کے گھر، ہم بھی انشاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں میں پسند کرتا ہوں کہ ہم اپنے دینی بھائیوں کو دیکھیں، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم آپ ﷺ کے بھائی نہیں ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم تو میرے صحابہ ہو اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے صحابہ ؓ نے عرض کیا آپ ﷺ اپنی امت کے ان لوگوں کو اے اللہ کے رسول! کیسے پہچانیں گے جو ابھی تک نہیں آئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا بھلا تم دیکھو اگر کسی شخص کی سفید پیشانی والے سفید پاؤں والے گھوڑے سیاہ گھوڑوں میں مل جائیں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو ان میں سے پہچان نہ لے گا صحابہ کرام نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ لوگ جب آئیں گے تو وضو کے اثر کی وجہ سے ان کے چہرے ہاتھ اور پاؤں چمکدار اور روشن ہوں گے اور میں ان سے پہلے حوض پر موجود ہوں گا اور سنو بعض لوگ میرے حوض سے اس طرح دور کئے جائیں گے جس طرح بھٹکا ہوا اونٹ دور کردیا جاتا ہے میں ان کو پکاروں گا ادھر آؤ تو حکم ہوگا کہ انہوں نے آپ ﷺ کے وصال کے بعد دین کو بدل دیا تھا تب میں کہوں گا دور ہوجاؤ دور ہوجاؤ۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ came to the graveyard and said: Peace be upon you! the abode of the believing people and we, if God so wills, are about to join you. I love to see my brothers. They (the hearers) said: Arent we your brothers- Messenger of Allah? ﷺ He said: You are my companions, and our brothers are those who have, so far, not come into the world. They said: Messenger of Allah, how would you recognise those persons of your Ummah who have not yet been born? He said: Supposing a man had horses with white blazes on fore-heads and legs among horses which were all black, tell me, would he not recognise his own horses? They said: Certainly, Messenger of Allah. He said: They would come with white faces and arms and legs owing to ablution, and I would arrive at the Cistern before them. Some people would be driven away from my Cistern as the stray camel is driven away. I would call out. Come. come. Then it would be said (to me): These people changed themselves after you, and I would say: Be off, be off.

585Sahih Muslim

اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ جَمِيعًا عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَی الْمَقْبُرَةِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّهُ بِکُمْ لَاحِقُونَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِکٍ فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز درارودی، اسحاق بن موسیٰ انصاری، معن مالک، علاء بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان کی طرف نکلے اور ارشاد فرمایا (السَّلَامُ عَلَيْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَاحِقُونَ ) باقی حدیث مبارکہ پہلی حدیث کی طرح ہے اور آدمیوں کے روکے جانے کا اس میں ذکر نہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace The upon him) went out to the graveyard and said: Peace be upon you, the abode of the believing people. and If Allah so wills we shall join you.... (and so on and so forth) like the hadith narrated by Ismail bin Jafar except the words of Malik: Then some persons would be driven away from my Cistern.

586Sahih Muslim

وضو میں پانی کے پہنچے کی جگہ تک زیور ڈالے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ کُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ فَکَانَ يَمُدُّ يَدَهُ حَتَّی تَبْلُغَ إِبْطَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا الْوُضُوئُ فَقَالَ يَا بَنِي فَرُّوخَ أَنْتُمْ هَاهُنَا لَوْ عَلِمْتُ أَنَّکُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوئَ سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنْ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوئُ

قتیبہ بن سعید، خلف بن خلیفہ، ابی مالک اشجعی، حضرت ابوحازم سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کے پیچھے کھڑا تھا اور وہ نماز کے لئے وضو کر رہے تھے وہ اپنے ہاتھ دھونے کو بڑھاتے تھے یہاں تک کہ بغل تک دھویا میں نے عرض کیا اے ابوہریرہ یہ کیسا وضو ہے حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا اے بنی فروخ یعنی اے عجمی تم یہاں ہو اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم یہاں ہو تو میں اس طرح وضو نہ کرتا میں نے اپنے خلیل ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے قیامت کے دن مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا اثر پہنچے گا۔

Abu Hazim reported: I was (standing) behind Abu Hurairah (RA) and he was performing the ablution for prayer. He extended the (washing) of his hand that it went up to his armpit. I said to him: O Abu Hurairah (RA) , what is this ablution? He said: O of the tribe of Faruukh, you are here; if I knew that you were here, I would have never performed ablution like this; I have heard my Friend ﷺ say: In a believer, adornment would reach the places where ablution reaches.

587Sahih Muslim

حالت تکلیف میں پورا وضو کرنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِسْبَاغُ الْوُضُوئِ عَلَی الْمَکَارِهِ وَکَثْرَةُ الْخُطَا إِلَی الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، اسماعیل، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتلاؤں جس سے گناہ مٹ جاتے ہیں اور اس سے درجات بلند ہوتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا سختی اور تکلیف میں وضو کامل طور پر کرنا اور مسجد کی طرف زیادہ قدم چل کر جانا اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا پس تمہارے لئے یہی رباط ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Should I not suggest to you that by which Allah obliterates the sins and elevates the ranks (of a man). They (the hearers) said: Yes, Messenger of Allah. He said: Performing the ablution thoroughly despite odds, tranverside of more paces towards the mosque, and waiting for the next prayer after observing a prayer, and that is mindfulness.

588Sahih Muslim

حالت تکلیف میں پورا وضو کرنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ذِکْرُ الرِّبَاطِ وَفِي حَدِيثِ مَالِکٍ ثِنْتَيْنِ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ

اسحاق بن موسیٰ انصاری، معن، مالک، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ سے یہی روایت مروی ہے لیکن اس میں رباط کا لفظ نہیں ہے اور مالک کی روایت میں (فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ ) دو مرتبہ ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ali bin Abdul Rahman with the same chain of transmitters and there is no mention of the word of al-Ribat in the hadith transmitted by Shubah and in the hadith narrated by Malik "Ribat" has been mentioned twice. This is the "Ribat" for you, this is the "Ribat" for you.

589Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِينَ وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَلَی أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاةٍ

قتیبہ بن سعید و عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر مومنین پر دشوار نہ ہوتا اور زہیر کی حدیث میں ہے اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ معلوم ہوتا تو ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Apostle ﷺ said: Were it not that I might over-burden the believers -and in the hadith transmitted by Zuhair "people"- I would have ordered them to use toothstick at every time of prayer.

590Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ بِأَيِّ شَيْئٍ کَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ قَالَتْ بِالسِّوَاکِ

ابوکریب، محمد بن علاء، ابن بشر، مسعر، مقدام بن شریح، حضرت شریح سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے سوال کیا جب نبی کریم ﷺ گھر میں داخل ہوتے تو کون سے کام سے ابتداء فرماتے تو انہوں نے فرمایا مسواک سے۔

Miqdam bin Shuraih narrated it from his father who said: I asked Aisha what Allahs Apostle ﷺ did first when he entered his house, and she replied: He used tooth-stick (first of all).

591Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ بَدَأَ بِالسِّوَاکِ

ابوبکر بن نافع عبدی، عبدالرحمن، سفیان، مقدام بن شریح، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔

Aisha reported: Whenever Allahs Messenger ﷺ entered his house, he used tooth-stick first of all.

592Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ الْمَعْوَلِيُّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَرَفُ السِّوَاکِ عَلَی لِسَانِهِ

یحییٰ بن حبیب حارثی، حماد بن زید، غیلان، ابن جریر معولی، بردہ، حضرت ابوموسی اشعری سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کی زبان مبارک پر مسواک کا ایک سرا تھا۔

Abu Musa reported: I went to the Apostle ﷺ and found one end of the tooth-stick upon his tongue (i. e. he was rinsing his mouth).

593Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِيَتَهَجَّدَ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاکِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ہشیم، حصین، وائل، حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تہجد کے لئے اٹھتے تو منہ مبارک کو مسواک سے صاف کرتے تھے۔

Huddaifa reported: Whenever the Messenger of Allah ﷺ got up for Tahajjud prayer, he cleansed his mouth with the tooth-stick.