فتنوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 55 · 182 hadiths · Page 3 of 10

7275Sahih Muslim

دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خالِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِکُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا

سہل بن عثمان عقبہ بن خالد عبیداللہ ابی زناد عبدالرحمن اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک پہاڑ نکلے گا پس جو بھی اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Euphrates would soon uncover a mountain of gold but he who is present there should not take anything from that.

7276Sahih Muslim

دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي مَعْنٍ قَالَا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ کُنْتُ وَاقِفًا مَعَ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ فَقَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ مُخْتَلِفَةً أَعْنَاقُهُمْ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا قُلْتُ أَجَلْ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُوشِکُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَإِذَا سَمِعَ بِهِ النَّاسُ سَارُوا إِلَيْهِ فَيَقُولُ مَنْ عِنْدَهُ لَئِنْ تَرَکْنَا النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ لَيُذْهَبَنَّ بِهِ کُلِّهِ قَالَ فَيَقْتَتِلُونَ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ کُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ قَالَ أَبُو کَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَفْتُ أَنَا وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ فِي ظِلِّ أُجُمِ حَسَّانَ

ابوکامل فضیل بن حسین ابومعن رقاشی ابی معن خالد بن حارث، عبدالحمید بن جعفر ابی سلیمان بن یسار حضرت عبداللہ بن حارث ؓ بن نوفل سے روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب کے ساتھ کھڑا ہوا تھا تو انہوں نے کہا ہمیشہ لوگوں کی گردنیں دنیا کے طلب کرنے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتی رہیں گی میں نے کہا جی ہاں انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف روانہ ہوں گے پس جو لوگ اس کے پاس ہوں گے وہ کہیں گے اگر ہم نے لوگوں کو چھوڑ دیا تو وہ اس سے سارے کا سارا (سونا) لے جائیں گے پھر وہ اس پر قتل و قتال کریں گے پس ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل کئے جائیں گے ابوکامل نے اس حدیث کے بارے میں کہا کہ میں اور ابی بن کعب حسان کے قلعہ کے سایہ میں کھڑے ہوئے تھے۔

Abdullah bin Harith bin Naufal reported: I was standing along with Ubayy bin Kab and he said: The opinions of the people differ in regard to the achievement of worldly ends. I said: Yes, of course. Thereupon he said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: The Euphrates would soon uncover a mountain of gold and when the people would hear of it they would flock towards it but the people who would possess that (treasure) (would say): If we allow these persons to take out of it they would take away the whole of it. So they would fight and ninety-nine out of one hundred would be killed. Abu Kamil in his narration said: I and Abu Kab stood under the shade of the battlement of Hassan.

7277Sahih Muslim

دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَی خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَعَتْ الْعِرَاقُ دِرْهَمَهَا وَقَفِيزَهَا وَمَنَعَتْ الشَّأْمُ مُدْيَهَا وَدِينَارَهَا وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ شَهِدَ عَلَی ذَلِکَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ

عبید بن یعیش اسحاق بن ابراہیم، عبید یحییٰ بن آدم بن سلی ام خالد بن خالد زہیر سہیل بن ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عراق اپنے درہم اور قفیز کو روک لے گا اور شام اپنے مد اور دینار روک لے گا اور مصر اپنے اردب اور دینار روک لے گا اور تم جہاں سے چلے تھے وہیں لوٹ آؤ گے اور تم جہاں سے چلے تھے وہیں لوٹ آؤ گے اور اس بات پر ابوہریرہ ؓ کا گوشت اور خون گواہ ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Iraq would withhold its dirhams and qafiz; Syria would withhold its mudd and dinar and Egypt would withhold its irdab and dinar and you would recoil to that position from where you started and you would recoil to that position from where you started and you would recoil to that position from where you started, the bones and the flesh of Abu Hurairah (RA) would bear testimony to it.

7278Sahih Muslim

قسطنطنیہ کی فتح اور خروج دجال اور سیدنا عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنْ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ فَإِذَا تَصَافُّوا قَالَتْ الرُّومُ خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ لَا وَاللَّهِ لَا نُخَلِّي بَيْنَکُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا فَيُقَاتِلُونَهُمْ فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَائِ عِنْدَ اللَّهِ وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لَا يُفْتَنُونَ أَبَدًا فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطَنْطِينِيَّةَ فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ إِذْ صَاحَ فِيهِمْ الشَّيْطَانُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَکُمْ فِي أَهْلِيکُمْ فَيَخْرُجُونَ وَذَلِکَ بَاطِلٌ فَإِذَا جَائُوا الشَّأْمَ خَرَجَ فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ إِذْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَيَنْزِلُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّهُمْ فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ کَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ فَلَوْ تَرَکَهُ لَانْذَابَ حَتَّی يَهْلِکَ وَلَکِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ فَيُرِيهِمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ

زہیر بن حرب، معلی بن منصور سلیمان بن بلال سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی اعماق یا دابق میں اتریں ان کی طرف ان سے لڑنے کے لئے ایک لشکر مدینہ روانہ ہوگا اور وہ ان دنوں زمین والوں میں سے نیک لوگ ہوں گے جب وہ صف بندی کریں گے تو رومی کہیں گے کہ تم ہمارے اور ان کے درمیان دخل اندازی نہ کرو جنہوں نے ہم میں سے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے ہم ان سے لڑیں گے مسلمان کہیں گے نہیں اللہ کی قسم ہم اپنے بھائیوں کو تنہا نہ چھوڑیں گے کہ تم ان سے لڑتے رہو بالآخر وہ ان سے لڑائی کریں گے بالآخر ایک تہائی مسلمان بھاگ جائیں گے جن کی اللہ کبھی بھی توبہ قبول نہ کرے گا اور ایک تہائی قتل کئے جائیں گے جو اللہ کے نزدیک افضل الشہداء ہوں گے اور تہائی فتح حاصل کرلیں گے انہیں کبھی آزمائش میں نہ ڈالا جائے گا پس وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے جس وقت وہ آپس میں مال غنیمت میں سے تقسیم کر رہے ہوں اور ان کی تلواریں زیتون کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہوں گی تو اچانک شیطان چیخ کر کہے گا تحقیق مسیح دجال تمہارے بال بچوں تک پہنچ چکا ہے وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے لیکن یہ خبر باطل ہوگی جب وہ شام پہنچیں گے تو اس وقت دجال نکلے گا اسی دوران کہ وہ جہاد کے لئے تیاری کر رہے ہوں گے اور صفوں کو سیدھا کررہے ہوں گے کہ نماز کے لئے اقامت کہی جائے گی اور عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے اور مسلمانوں کی نماز کی امامت کریں گے پس جب اللہ کا دشمن انہیں دیکھے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے اگرچہ عیسیٰ اسے چھوڑ دیں گے تب بھی وہ پگھل جائے گا یہاں تک کہ ہلاک ہوجائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اسے عیسیٰ کے ہاتھوں سے قتل کرائیں گے پھر وہ لوگوں کو اس کا خون اپنے نیزے پر دکھائیں گے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would not come until the Romans would land at al-Amaq or in Dabiq. An army consisting of the best (soldiers) of the people of the earth at that time will come from Madinah (to counteract them). When they will arrange themselves in ranks, the Romans would say: Do not stand between us and those (Muslims) who took prisoners from amongst us. Let us fight with them; and the Muslims would say: Nay, by Allah, we would never get aside from you and from our brethren that you may fight them. They will then fight and a third (part) of the army would run away, whom Allah will never forgive. A third (part of the army) which would be constituted of excellent martyrs in Allahs eye, would be killed and the third who would never be put to trial would win and they would be conquerors of Constantinople. And as they would be busy in distributing the spoils of war (amongst themselves) after hanging their swords by the olive trees, the Satan would cry: The Dajjal has taken your place among your family. They would then come out, but it would be of no avail. And when they would come to Syria, he would come out while they would be still preparing themselves for battle drawing up the ranks. Certainly, the time of prayer shall come and then Jesus (peace be upon him) son of Mary would descend and would lead them in prayer. When the enemy of Allah would see him, it would (disappear) just as the salt dissolves itself in water and if he (Jesus) were not to confront them at all, even then it would dissolve completely, but Allah would kill them by his hand and he would show them their blood on his lance (the lance of Jesus Christ).

7279Sahih Muslim

قیام قیامت کے وقت رومیوں کی تمام لوگوں سے کثرت ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ الْقُرَشِيُّ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَکْثَرُ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو أَبْصِرْ مَا تَقُولُ قَالَ أَقُولُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَئِنْ قُلْتَ ذَلِکَ إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعًا إِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ وَأَسْرَعُهُمْ إِفَاقَةً بَعْدَ مُصِيبَةٍ وَأَوْشَکُهُمْ کَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ وَخَيْرُهُمْ لِمِسْکِينٍ وَيَتِيمٍ وَضَعِيفٍ وَخَامِسَةٌ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ وَأَمْنَعُهُمْ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوکِ

عبدالملک بن شعیب بن لیث، عبداللہ بن وہب، لیث بن سعد حضرت موسیٰ بن علی ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ مستورد قرشی نے حضرت عمرو بن عاص کی موجودگی میں کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت اس وقت قائم ہوگی جب نصاری تمام لوگوں سے زیادہ ہوں گے تو حضرت عمرو نے ان سے کہا غور کرو کیا کہہ رہے ہو انہوں نے کہا میں وہی کہتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا حضرت عمرو نے کہا اگر تو یہی کہتا ہے تو ان میں چار خصلتیں ہوں گی وہ آزمائش کے وقت لوگوں میں سب سے زیادہ بردبار ہوں گے اور مصیبت کے بعد لوگوں میں سب سے زیادہ جلدی اس کا ازالہ کرنے والے ہوں گے اور لوگوں میں سے مسکین یتیم اور کمزور ہوں گے اور پانچویں خصلت نہایت عمدہ یہ ہے کہ وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ باشاہوں کو ظلم سے روکنے والے ہوں گے۔

Mustaurid al-Qurashi reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would come (when) the Romans would form a majority amongst people. Amr said to him (Mustaurid Qurashi): See what you are saying? He said: I say what I heard from Allahs Messenger ﷺ . Thereupon he said: If you say that, it is a fact for they have four qualities. They have the patience to undergo a trial and immediately restore themselves to sanity after trouble and attack again after flight. They (have the quality) of being good to the destitute and the orphans, to the weak and, fifthly, the good quality in them is that they put resistance against the oppression of kings.

7280Sahih Muslim

قیام قیامت کے وقت رومیوں کی تمام لوگوں سے کثرت ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ أَنَّ عَبْدَ الْکَرِيمِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ الْقُرَشِيَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَکْثَرُ النَّاسِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِکَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فَقَالَ مَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تُذْکَرُ عَنْکَ أَنَّکَ تَقُولُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ قُلْتُ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ عَمْرٌو لَئِنْ قُلْتَ ذَلِکَ إِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ وَأَجْبَرُ النَّاسِ عِنْدَ مُصِيبَةٍ وَخَيْرُ النَّاسِ لِمَسَاکِينِهِمْ وَضُعَفَائِهِمْ

حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، ابوشریح عبدالکریم بن حارث حضرت مستورد قرشی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قیامت اس وقت قائم ہوگی جب نصاری سب لوگوں سے زیادہ ہوں گے یہ خبر جب حضرت عمرو بن عاص کو پہنچی تو انہوں نے کہا یہ کیا احادیث ہیں جنہیں تجھ سے ذکر کیا جاتا ہے اور تم ان احادیث کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہو تو مستورد نے ان سے کہا میں نے وہی کہا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے سنا تو عمرو نے کہا اگر تو نے یہ کہا ہے تو سنو وہ آزمائش کے وقت لوگوں میں سے زیادہ بردبار ہوں گے اور مصیبت کے بعد لوگوں میں سے جلد درست ہونے والے ہوں گے اور اپنے مساکین اور کمزوروں کے لئے لوگوں میں سے بہتر ہوں گے۔

Mustaurid Qurashi reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would come when the Romans would form a majority amongst people. This reached Amr bin al-As and he said: What are these ahadith which are being transmitted from you and which you claim to have heard from Allahs Messenger ﷺ ? Mustaurid said to him: I stated only that which I heard from Allahs Messenger ﷺ . Thereupon Amr said: If you state this (it is true), for they have the power of tolerance amongst people at the time of turmoil and restore themselves to sanity after trouble, and are good amongst people so far as the destitute and the weak are concerned.

7281Sahih Muslim

خروج دجال کے وقت رومیوں کے قتل کی کثرت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْعَدَوِيِّ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرَى إِلَّا يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ جَاءَتْ السَّاعَةُ قَالَ فَقَعَدَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَنَحَّاهَا نَحْوَ الشَّأْمِ فَقَالَ عَدُوٌّ يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ قُلْتُ الرُّومَ تَعْنِي قَالَ نَعَمْ وَتَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمْ الْقِتَالِ رَدَّةٌ شَدِيدَةٌ فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمْ اللَّيْلُ فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمْ اللَّيْلُ فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابِعِ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَيَجْعَلُ اللَّهُ الدَّبْرَةَ عَلَيْهِمْ فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً إِمَّا قَالَ لَا يُرَى مِثْلُهَا وَإِمَّا قَالَ لَمْ يُرَ مِثْلُهَا حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيْتًا فَيَتَعَادُّ بَنُو الْأَبِ كَانُوا مِائَةً فَلَا يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ فَجَاءَهُمْ الصَّرِيخُ إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي ذَرَارِيِّهِمْ فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ علی بن حجر ابن علیہ، ابن حجر اسماعیل بن ابراہیم، ایوب حمید بن ہلال ابوقتادہ، عدوی یسیر بن جابر سے روایت ہے کہ ایک دفعہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی ایک آدمی آیا جس کا تکیہ کلام یہ تھا اے عبداللہ بن مسعود قیامت آگئی تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے حالانکہ ٹیک لگائے ہوئے تھے اور کہا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ترکہ تقسیم نہ کیا جائے اور غنیمت سے خوشی نہ ہوگی پھر اپنے ہاتھ سے ملک شام کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس طرف دشمن اہل اسلام سے لڑنے کے لئے جمع ہوں گے اور اہل اسلام ان سے لڑنے کے لئے جمع ہوجائیں گے میں نے کہا آپ کی مراد رومی ہیں انہوں نے کہا ہاں اور اس وقت سخت شدت کی جنگ ہوگی اور مسلمان موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ کے بغیر واپس نہ لوٹیں گے پھر وہ خوب جہاد کریں گے یہاں تک کہ ان کے درمیان رات کا پردہ حائل ہوجائے گا پھر یہ بھی لوٹ آئیں گے اور وہ بھی واپس آجائیں گے اور کوئی ایک گروہ غالب نہ ہوگا اور جو لشکر لڑائی کے لئے آگے بڑھا تھا وہ بالکل ہلاک اور فنا ہوجائے گا پھر (اگلے دن) مسلمان ایک اور لشکر آگے بھیجیں گے جو موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ کے بغیر واپس نہ آئیں گے پس وہ بھی جنگ کریں گے یہاں تک کہ شام ہوجائے پھر یہ بھی واپس آجائیں گے اور وہ بھی لوٹ جائیں گے اور کوئی غالب نہ ہوگا اور جو لشکر لڑائی کے لئے آگے بڑھا تھا وہ ہلاک اور فنا ہوجائے گا پھر (اگلے دن) مسلمان ایک اور لشکر روانہ کریں گے جو موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ حاصل کئے بغیر واپس نہ لوٹیں گے پس وہ بھی جنگ کریں گے یہاں تک کہ شام ہوجائے گی پھر یہ بھی واپس آجائیں گے اور وہ بھی لوٹ جائیں گے لیکن کوئی بھی غالب نہ ہوگا اور وہ لشکر ہلاک وفنا ہوجائے گا پس جب چوتھا دن ہوگا تو باقی اہل اسلام ان پر حملہ کردیں گے تو اللہ کافروں پر شکست مسلط کر دے گا اور ایسی لڑائی ہوگی کہ ویسی کوئی نہ دیکھے گا یا کہا کہ ویسی کسی نے دیکھی نہ ہوگی یہاں تک کہ پرندے بھی ان کے پہلوؤں کے پاس سے گزریں گے تو وہ بھی آگے نہ بڑھ سکیں گے یہاں تک کہ مردہ ہو کر گرپڑیں گے اور ایک باپ کی اولاد کو شمار کیا جائے گا تو وہ سو ہوں گے اور ان میں سے سوائے ایک کے کوئی بھی باقی نہ رہے گا پس اس حال میں کس غنیمت پر خوشی ہوگی یا کون سی میراث کو تقسیم کیا جائے گا پھر اسی دوران مسلمان ایک اور بڑی آفت کی خبر سنیں گے جو اس سے بھی بڑی ہوگی پس ان کے پاس ایک چیخنے والا آئے گا کہ دجال ان کے بعد ان کے بال بچوں میں آگیا ہے یہ سنتے ہی اپنے ہاتھوں میں موجود چیزوں کو پھینک دیں گے اور اس کی طرف متوجہ ہوں جائیں گے پھر دس سواروں کا ہر اول دستہ روانہ کریں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ان کے نام اور آباؤ اجداد کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں کو پہچانتا ہوں اور وہ اس دن اہل زمین سے بہترین شہسوار ہوں گے یا اس دن وہ زمین والوں میں سے بہترین شہسوار ہوں گے ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اسیر بن جابر سے روایت کی ہے۔

Yusair bin Jabir reported: Once there blew a red storm in Kufah that there came a person who had nothing to say but (these words): Abdullah bin Masud, the Last Hour has come. He (Abdullah bin Masud) was sitting reclining against something, and he said: The Last Hour would not come until the people divide inheritance and rejoice over booty, and then said pointing towards Syria, with the gesture of his hand like this: The enemy shall muster strength against Muslims and the Muslims will muster strength against them (Syrians). I said: You mean Rome? And he said: Yes, and there would be a terrible fight and the Muslims would prepare a detachment (for fighting unto death) which would not return but victorious. They will fight until night will intervene them; both the sides will return without being victorious and both will be wiped out. The Muslims will again prepare a detachment for fighting unto death so that they may not return but victorious. When it would be the fourth day, a new detachment out of the remnant of the Muslims would be prepared and Allah will decree that the enemy should be routed. And they would fight such a fight the like of which would not be seen, so much so that even if a bird were to pass their flanks, it would fall down dead before reaching the end of them. (There would be such a largescale massacre) that when counting would be done, (only) one out of a hundred men related to one another would be found alive. So what can be the joy at the spoils of such war and what inheritance would be divided! They would be in this very state that they would hear of a calamity more horrible than this. And a cry would reach them: The Dajjil has taken your place among your off- spring. They will, therefore, throw away what would be in their hands and go forward sending ten horsemen, as a scouting party. Allahs Messenger ﷺ said: I know their names and the names of their forefathers and the colour of their horses. They will be best horsemen on the surface of the earth on that day or amongst the best horsemen on the surface of the earth on that day.

7282Sahih Muslim

خروج دجال کے وقت رومیوں کے قتل کی کثرت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَهَبَّتْ رِيحٌ حَمْرَائُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَحَدِيثُ ابْنِ عُلَيَّةَ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ

محمد بن عبیدالغبری حماد بن زید ایوب حمید بن ہلال ابوقتادہ، حضرت یسیر بن جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ابن مسعود کے پاس حاضر تھا کہ سرخ ہوا ڈرانے والی چلی باقی حدیث گزر چکی ہے۔

Jabir reported: I was in the company of Ibn Masud that there blew a red storm. The rest of the hadith is the same.

7283Sahih Muslim

خروج دجال کے وقت رومیوں کے قتل کی کثرت کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ کُنْتُ فِي بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَالْبَيْتُ مَلْآنُ قَالَ فَهَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَائُ بِالْکُوفَةِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ

شیبان بن فروخ سلیمان بن مغیرہ حمید ابن ہلال ابوقتادہ، حضرت اسیر بن جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے گھر میں تھا کہ گھر بھرا ہوا تھا اتنے میں کوفہ میں سرخ ہوا چلی باقی حدیث ابن علیہ کی حدیث کی طرح ہے۔

Jabir reported: I was in the house of Abdullah bin Masud and the house was fully packed that a red storm blew in Kufah.

7284Sahih Muslim

خروج دجال سے پہلے مسلمانوں کو فتوحات ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَالَ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ فَوَافَقُوهُ عِنْدَ أَکَمَةٍ فَإِنَّهُمْ لَقِيَامٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ قَالَ فَقَالَتْ لِي نَفْسِي ائْتِهِمْ فَقُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ لَا يَغْتَالُونَهُ قَالَ ثُمَّ قُلْتُ لَعَلَّهُ نَجِيٌّ مَعَهُمْ فَأَتَيْتُهُمْ فَقُمْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ قَالَ فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَرْبَعَ کَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ فِي يَدِي قَالَ تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ قَالَ فَقَالَ نَافِعٌ يَا جَابِرُ لَا نَرَی الدَّجَّالَ يَخْرُجُ حَتَّی تُفْتَحَ الرُّومُ

قتیبہ بن سعید، جریر، عبدالملک بن عمیر جابر بن سمرہ حضرت نافع بن عتبہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک غزوہ میں شریک تھے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں مغرب کی طرف سے ایک قوم آئی جن پر سفید اونی کپڑے تھے اور وہ آپ ﷺ سے ایک ٹیلے کے پاس ملے وہ کھڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ تشریف فرما تھے مجھے میرے دل نے کہا کہ تو بھی ان کے اور آپ ﷺ کے درمیان جا کر کھڑا ہو کہ کہیں وہ دھوکہ سے آپ ﷺ پر حملہ ہی نہ کردیں پھر میں نے کہا شاید آپ ﷺ ان سے کوئی راز کی بات کر رہے ہوں بہر حال پھر میں ان کے پاس آیا اور آپ ﷺ کے اور ان کے درمیان کھڑا ہوگیا اور اسی دوران میں نے آپ ﷺ سے چار کلمات یاد کئے جنہیں میں نے اپنے ہاتھوں پر شمار کرلیا آپ نے فرمایا تم جزیرہ عرب میں جہاد کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں فتح عطا فرمائے گا پھر تم اہل فارس سے جنگ کرو گے ان پر بھی اللہ تمہیں فتح عطا فرمائیں گے پھر تم روم سے جہاد کرو گے اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی تمہیں فتح عطا فرمائیں گے پھر تم دجال سے جنگ کرو گے اس پر بھی اللہ تمہیں فتح عطا کریں گے تو نافع نے کہا اے جابر پھر ہم روم کی فتح سے پہلے تو دجال کو نہ دیکھیں گے۔

Nafi bin Utba reported: We were with Allahs Messenger ﷺ in an expedition that there came a people to Allahs Apostle ﷺ from the direction of the west. They were dressed in woollen clothes and they stood near a hillock and they met him as Allahs Messenger ﷺ was sitting. I said to myself: Better go to them and stand between him and them that they may not attack him. Then I thought that perhaps there had been going on secret negotiation amongst them. I however, went to them and stood between them and him and I remember four of the words (on that occasion) which I repeat (on the fingers of my hand) that he (Allahs Messenger) said: You will attack Arabia and Allah will enable you to conquer it, then you would attack Persia and He would make you to Conquer it. Then you would attack Rome and Allah will enable you to conquer it, then you would attack the Dajjal and Allah will enable you to conquer him. Nafi said: Jabir, we thought that the Dajjal would appear after Rome (Syrian territory) would be conquered.

7285Sahih Muslim

قیامت سے پہلے کی علامات کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ فَقَالَ مَا تَذَاکَرُونَ قَالُوا نَذْکُرُ السَّاعَةَ قَالَ إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّی تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ فَذَکَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّةَ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنُزُولَ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَأَجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِکَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَی مَحْشَرِهِمْ

ابوخیثمہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر مکی زہیر اسحاق سفیان بن عیینہ، ابوطفیل حضرت حذیفہ بن اسید غفاری ؓ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس نبی ﷺ تشریف لائے اور ہم باہم گفتگو کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم کس بات کا تذکرہ کر رہے ہو انہوں نے عرض کیا ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ ہرگز قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس علامات دیکھ لوگے پھر دھوئیں، دجال، دابہ الارض، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے اور سیدنا عیسیٰ بن مریم کے نازل ہونے اور یاجوج وماجوج اور تین جہگوں کے دھنسنے، ایک دھنسنا مشرق میں اور ایک دھنسنا مغرب میں، ایک دھنسنا جزیرہ العرب میں ہونے اور آخر میں یمن سے آگ نکلنے کا ذکر فرمایا جو لوگوں کو جمع ہونے کی جگہ کی طرف لے جائے گی۔

Hudhaifa bin Usaid Ghifari reported: Allahs Messenger ﷺ came to us all of a sudden as we were (busy in a discussion). He said: What do you discuss about? They (the Companions) said. We are discussing about the Last Hour. Thereupon he said: It will not come until you see ten signs before and (in this connection) he made a mention of the smoke, Dajjal, the beast, the rising of the sun from the west, the descent of Jesus, son of Mary (RA) , the Gog and Magog, and land-slidings in three places, one in the east, one in the west and one in Arabia at the end of which fire would burn forth from the Yemen, and would drive people to the place of their assembly.

7286Sahih Muslim

قیامت سے پہلے کی علامات کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ أَسْفَلَ مِنْهُ فَاطَّلَعَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا تَذْکُرُونَ قُلْنَا السَّاعَةَ قَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَکُونُ حَتَّی تَکُونَ عَشْرُ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قُعْرَةِ عَدَنٍ تَرْحَلُ النَّاسَ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ مِثْلَ ذَلِکَ لَا يَذْکُرُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ أَحَدُهُمَا فِي الْعَاشِرَةِ نُزُولُ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ الْآخَرُ وَرِيحٌ تُلْقِي النَّاسَ فِي الْبَحْرِ

عبیداللہ بن معاذ عنبری ابوشعبہ، ابی طفیل حضرت ابوسریحہ ؓ حذیفہ بن اسید سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک کمرہ میں تھے اور ہم آپ سے نیچے تھے پس آپ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے تو فرمایا تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو ہم نے عرض کیا قیامت کا آپ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک دس علامات پوری نہ ہوجائیں گی مشرق میں دھنسنا اور مغرب میں دھنسنا اور ایک دھنسنا جزیرہ العرب میں ہوگا اور دھواں، دجال، دابہ الارض، یاجوج ماجوج، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور آگ جو عدن کے کنارے سے نکلے گی جو لوگوں کو ہانک کرلے جائے گی دوسری سند ذکر کی ہے اس میں یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں نبی ﷺ کا ذکر نہیں اور ان میں سے ایک نے دسویں علامت کے بارے میں کہا کہ وہ عیسیٰ بن مریم کا نزول ہے اور دوسرے نے کہا وہ آندھی ہے جو لوگوں کو سمندر میں ڈال دے گی۔

Hudhaifa bin Usaid reported: Allahs Apostle ﷺ was in an apartment and we were beneath that that he peeped in and said to us: What are you discussing about? We said: We are discussing about the Last Hour. Thereupon he said: The Last Hour would not come until the ten signs appear: land-sliding in the east, and land-sliding in the west, and land-sliding in the peninsula of Arabia, the smoke, the Dajjal, the beast of the earth, Gog and Magog, the rising of the sun from the west and the fire which would emit from the lower part of Adan. Shubah said that Abdul Aziz bin Rufai (RA) reported on the authority of Abu Tufail who reported on the authority of Abu Sariha a hadith like this that Allahs Apostle ﷺ did not make a mention of (the tenth sign) but he said that out of the ten one was the descent of Jesus Christ, son of Mary (peace be upon him), and in another version it is the blowing of the violent gale which would drive the people to the ocean.

7287Sahih Muslim

قیامت سے پہلے کی علامات کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ تَنْزِلُ مَعَهُمْ إِذَا نَزَلُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ قَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ نُزُولُ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ و قَالَ الْآخَرُ رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر شعبہ، ابوطفیل حضرت ابوسریحہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک کمرہ میں تھے اور ہم اس کے نیچے گفتگو کر رہے تھے باقی حدیث اسی طرح ہے جیسے گزر چکی شعبہ نے کہا میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا آگ لوگوں کے ساتھ ساتھ رہے گی جہاں وہ اتریں گے آگ بھی وہیں اتر جائے گیا اور جب وہ (دوپہر کو) قیلولہ کریں گے تو آگ بھی وہیں ہوگی جہاں وہ قیلولہ کریں گے شعبہ نے کہا ایک آدمی نے مجھ سے یہ حدیث ابوطفیل کے واسطہ سے ابوسریحہ سے نقل کی لیکن مرفوع ہونا روایت نہیں کیا ان میں سے ایک آدمی نے حضرت عیسیٰ بن مریم کا نزول اور دوسرے نے آندھی کا ذکر کیا جو انہیں سمندر میں ڈال دے گی۔

Abu Sariha reported: Allahs Messenger ﷺ was in an (upper) apartment and we were standing lower to him and discussing (about the Last Hour). The rest of the hadith is the same, and Shubah said: I think he also said these words: The fire would descend along with them where they would land and where they would take rest (during midday (it would also cool down for a while). Shubah said: This hadith has been transmitted to me through Abu Tufail and Abu Sariha and none could trace it back directly to Allahs Apostle ﷺ . However, there is a mention of the descent of Jesus Christ son of Mary in one version and in the other there is a mention of the blowing of a violent wind that would drive them to the ocean.

7288Sahih Muslim

قیامت سے پہلے کی علامات کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ کُنَّا نَتَحَدَّثُ فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ بِنَحْوِهِ قَالَ وَالْعَاشِرَةُ نُزُولُ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ قَالَ شُعْبَةُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ

محمد بن مثنی، ابونعمان حکم بن عبداللہ عجلی شعبہ، فراب ابوطفیل حضرت ابوسریحہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جھانک کر دیکھا باقی حدیث گزر چکی البتہ دسویں علامت اس میں عیسیٰ بن مریم کا نزول مذکور ہے اور بقول شعبہ عبدالعزیز نیا سے مرفوع روایت نہیں کیا۔

Abu Sariha reported: We were discussing the Last Hour) that Allahs Apostle ﷺ looked towards us. The rest of the hadith is the same and the tenth (sign) was the descent of Jesus Christ son of Mary, and Shubah said: Abdul Aziz (RA) did not trace it directly to Allahs Apostle ﷺ .

7289Sahih Muslim

زمین حجاز سے آگ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِيئُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَی

حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابن مسیب ان دونوں اسناد سے بھی حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا زمین حجاز سے آگ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہوگی جو کہ بصری کے اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger may peace be upon him) said: The Last Hour would not come until fire emits from the earth of Hijaz which would illuminate the necks of the camels of the Busra.

7290Sahih Muslim

قیامت سے پہلے مدینہ میں سکونت اور اس کی عمارتوں کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْلُغُ الْمَسَاکِنُ إِهَابَ أَوْ يَهَابَ قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لِسُهَيْلٍ فَکَمْ ذَلِکَ مِنْ الْمَدِينَةِ قَالَ کَذَا وَکَذَا مِيلًا

عمرو ناقد اسود بن عامر زہیر سہیل ابن ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے قریب گھر اہاب یا یھاب تک پہنچ جائینگے زہیر نے کہا میں نے اسماعیل سے کہا کہ یہ علاقہ مدینہ سے کتنے فاصلہ پر ہے انہوں نے کہا اتنے اتنے میل کے فاصلہ پر ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: (The Last Hour would not come) until the habitations of Madinah would extend to Ihab or Yahab. Zubair said: I said to Suhail how far these were from Madinah. He said: So and so miles.

7291Sahih Muslim

قیامت سے پہلے مدینہ میں سکونت اور اس کی عمارتوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَتْ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا وَلَکِنْ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا

قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قحط یہ نہیں ہے کہ بارش نہ برسائی جائے بلکہ قحط سالی یہ ہے کہ بارش بر سے اور خوب بر سے لیکن زمین کوئی چیز بھی نہ اگائے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The famine would not break out because of drought, but there would be famine despite heavy rainfall as nothing would grow from the earth.

7292Sahih Muslim

مشرق کی طرف سے شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی جگہ سے فتنہ کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمَشْرِقِ يَقُولُ أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ

قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، نافع حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس حال میں سنا کہ آپ ﷺ مشرق کی طرف منہ کئے ہوئے تھے آپ ﷺ نے فرمایا آگاہ رہو فتنہ اس جگہ ہوگا آگاہ رہو فتنہ اس جگہ ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔

Ibn Umar reported that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying (in a state) that he had turned his face towards the east: Behold, turmoil would appear from this side, from where the horns of Satan would appear.

7293Sahih Muslim

مشرق کی طرف سے شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی جگہ سے فتنہ کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی الْقَطَّانِ قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عِنْدَ بَابِ حَفْصَةَ فَقَالَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ الْفِتْنَةُ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا و قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَابِ عَائِشَةَ

عبیداللہ بن عمر قواریری محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید یحییٰ قطان یحییٰ بن سعید عبیداللہ بن عمر نافع حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حفصہ ؓ کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے تھے تو آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا فتنہ یہاں ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے اسے آپ نے دو یا تین مرتبہ فرمایا اور عبیداللہ بن سعید نے اپنی روایات میں فرمایا کہ آپ ﷺ سیدہ عائشہ ؓ کے دروازے کے پاس کھڑے تھے۔

Ibn Umar reported that Allahs Messenger ﷺ stood by the door (of the apartment of) Hafsa and, pointing towards the east, he said: The turmoil would appear from this side, viz. where the horns of Satan would appear, and he uttered these words twice or thrice and Ubaidullah bin Sald in his narration said. The Messenger of Allah ﷺ had been standing by the door of Aisha.

7294Sahih Muslim

مشرق کی طرف سے شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی جگہ سے فتنہ کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمَشْرِقِ هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ

حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس حال میں کہ آپ ﷺ مشرق کی طرف منہ کئے ہوئے تھے کہ بیشک فتنہ یہاں ہوگا، فتنہ اس جگہ ہوگا، فتنہ اس جگہ ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔

Salim bin Abdullah reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ , while turning his face towards the east, said: The turmoil would appear from this side; verily, the turmoil would appear from this side; verily, the turmoil would appear from this side-the side where appear the horns of Satan.