فتنوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 55 · 182 hadiths · Page 4 of 10

7295Sahih Muslim

مشرق کی طرف سے شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی جگہ سے فتنہ کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ فَقَالَ رَأْسُ الْکُفْرِ مِنْ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ يَعْنِي الْمَشْرِقَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، عکرمہ بن عمار سالم حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ سیدہ عائشہ ؓ سے گھر سے نکلے تو فرمایا کفر کی چوٹی اس جگہ سے ہوگی جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے یعنی مشرق سے۔

Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ came out from the house of Aisha and said: It would be from this side that there would appear the height of unbelief, viz. where appear the horns of Satan. i. e. cast.

7296Sahih Muslim

مشرق کی طرف سے شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی جگہ سے فتنہ کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَيَقُولُ هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ثَلَاثًا حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ

ابن نمیر، اسحاق ابن سلیمان حنظلہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرماتے ہوئے سنا کہ فتنہ یہاں ہوگا، فتنہ یہاں ہوگا، فتنہ یہاں ہوگا تین مرتبہ فرمایا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔

Ibn Umar (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying while pointing his hands towards the east: The turmoil would appear from this side; verily, the turmoil would appear from this side (he repeated it thrice) where appear the horns of Satan.

7297Sahih Muslim

مشرق کی طرف سے شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی جگہ سے فتنہ کے ظاہر ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَکِيعِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبَانَ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَقُولُا يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ مَا أَسْأَلَکُمْ عَنْ الصَّغِيرَةِ وَأَرْکَبَکُمْ لِلْکَبِيرَةِ سَمِعْتُ أَبِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْفِتْنَةَ تَجِيئُ مِنْ هَاهُنَا وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ وَأَنْتُمْ يَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ وَإِنَّمَا قَتَلَ مُوسَی الَّذِي قَتَلَ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ خَطَأً فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاکَ مِنْ الْغَمِّ وَفَتَنَّاکَ فُتُونًا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ سَالِمٍ لَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ

ابن عمر ابن ابان واصل عبدالاعلی احمد بن عمر وکیع بن ابان حضرت ابن فضیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ بن عمرو ؓ سے سنا انہوں نے کہا اے اہل عراق میں تم سے چھوٹے گناہوں کے بارے میں نہیں پوچھتا اور نہ یہ پوچھتا ہوں کہ تم کو کبائر پر کس چیز نے برانگیختہ کیا میں نے اپنے والد عبداللہ بن عرم سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے بیشک فتنہ اس طرف سے آئے گا اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا جہاں سے شیطان کے دو سینگ طلوع ہوتے ہیں تم ایک دوسرے کی گردنوں کو مارو گے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے آل فرعون میں سے جس آدمی کو خطاءً قتل کیا تھا تو اللہ رب العزت نے ان سے فرمایا اور تو نے ایک جان کو قتل کیا تو ہم نے تجھے غم سے نجات عطا کی اور تجھے آزمایا جیسے آزمایا جاتا ہے۔

Ibn Fudail reported on the authority of his father that he heard Salim bin Abdullah bin Umar as saying: O people of Iraq, how strange it is that you ask about the minor sins but commit major sins? I heard from my father Abdullah bin Umar, narrating that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying while pointing his hand towards the east: Verily the turmoil would come from this side, from where appear the horns of Satan and you would strike the necks of one another; and Moses (علیہ السلام) killed a person from among the people of Pharaoh unintentionally and Allah, the Exalted and Glorious, said: "You killed a person but We relieved you from the grief and tried you with (many a) trial" (xx. 40). Ahmad bin Umar reported this hadith from Salim, but he did not make a mention of the words: "I heard".

7298Sahih Muslim

دوس ذوالخلصہ بت کی عبادت نہ کئے جانے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَائِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ وَکَانَتْ صَنَمًا تَعْبُدُهَا دَوْسٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِتَبَالَةَ

محمد بن رافع حمید عبد ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، ابن مسیب حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دوس کی عورتوں کی سرین ذوالخلصہ (بت) کے گرد ہلے گی اور یہ ایک بت تھا جس کی قبیلہ دوس زمانہ جاہلیت میں تبالہ مقام پر عبادت کیا کرتے تھے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would not come until the women of the tribe of Daus would be seen going round Dhi al-Khalasa (for worship) and Dhi al-Khalasa is a place in Tabala, where there was a temple in which the people of the tribe of Daus used to worship the idol.

7299Sahih Muslim

دوس ذوالخلصہ بت کی عبادت نہ کئے جانے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَأَبُو مَعْنٍ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ الرَّقَاشِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي مَعْنٍ قَالَا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَائِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّی تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزَّی فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ کُنْتُ لَأَظُنُّ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَی وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَی الدِّينِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُونَ أَنَّ ذَلِکَ تَامًّا قَالَ إِنَّهُ سَيَکُونُ مِنْ ذَلِکَ مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَوَفَّی کُلَّ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَيَبْقَی مَنْ لَا خَيْرَ فِيهِ فَيَرْجِعُونَ إِلَی دِينِ آبَائِهِمْ

ابوکامل جحدری ابومعن زید بن یزید رقاشی ابی معن خالد بن حارث، عبدالحمید بن جعفر اسود علاء، ابوسلمہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے رات اور دن نہیں گزریں گے یہاں تک کہ لات اور عزی کی عبادت کی جائے گی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرا تو یہ گمان تھا کہ جب اللہ نے یہ آیت (هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَه بِالْهُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَه عَلَي الدِّيْنِ كُلِّه وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ ) 9۔ التوبہ: 33) وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سارے دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرکوں کو یہ بات ناگوار ہو نازل فرما دی ہے تو یہ دین مکمل ہوچکا ہے آپ ﷺ نے فرمایا عنقریب ایسا ہی ہوگا جو اللہ کی مشیت میں ہے پھر اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہوا بھیجے گا جس سے ہر وہ آدمی فوت ہوجائے گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا اور وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں بالکل خیر و بھلائی نہ ہوگی پھر وہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔

Aisha reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: The (system) of night and day would not end until the people have taken to the worship of Lat and Uzza. I said: Allahs Messenger, I think when Allah has revealed this verse: "He it is Who has sent His Messenger with right guidance, and true religion, so that He may cause it to prevail upon all religions, though the polytheists are averse (to it)" (ix. 33), it implies that (this promise) is going to be fulfilled. Thereupon he (Allahs Apostle) ﷺ said: It would happen as Allah would like. Then Allah would send the sweet fragrant air by which everyone who has even a mustard grain of faith in Him would die and those only would survive who would have no goodness in them. And they would revert to the religion of their forefathers.

7300Sahih Muslim

دوس ذوالخلصہ بت کی عبادت نہ کئے جانے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ وَهُوَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

محمد بن مثنی، ابوبکر حنفی عبدالحمید بن جعفر اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Jafar with the same chain of transmitters.

7301Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي مَکَانَهُ

قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابوزناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر کہے گا اے کاش میں اس کی جگہ ہوتا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would not come until a person would pass by a grave of another person and he would say: I wish it had been my abode.

7302Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبَانَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِي إِسْمَعِيلَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّی يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَی الْقَبْرِ فَيَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي کُنْتُ مَکَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ وَلَيْسَ بِهِ الدِّينُ إِلَّا الْبَلَائُ

ابن عمر ابن محمد بن ابان بن صالح محمد بن یزید ابن ابان ابن فضیل ابی اسماعیل ابوحازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے دنیا ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی قبر کے قریب سے گزرے گا تو اس پر لیٹے گا اور کہے گا اے کاش اس قبر کی جگہ میں ہوتا اور اس کے ساتھ سوائے آزمائشوں کے دین نہ ہوگا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The world would not come to an end until a day would come to the people on which the murderer would not know as to why he has killed and the slain would not know as to why he has been murdered. It would be said: Why would It happen? To which he replied: It would be because of general massacre and bloodshed. And the slaughterers and the slain would be in Fire, and in the narration of Ibn Aban, the name of Abu Ismail has been mentioned.

7303Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِي أَيِّ شَيْئٍ قَتَلَ وَلَا يَدْرِي الْمَقْتُولُ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ قُتِلَ

ابن ابی عمر مکی، مروان، بدر، یزید ابن کیسان ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ قاتل نہیں جان سکے گا کہ اس نے کس وجہ سے قتل کیا اور نہ ہی مقتول جان سکے گا کہ اسے کس وجہ سے قتل کیا گیا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: By Him in Whose Hand is my life, a time would come when the murderer would not know why he has committed the murder, and the victim would not know why he has been killed.

7304Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِي إِسْمَعِيلَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّی يَأْتِيَ عَلَی النَّاسِ يَوْمٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِيمَ قَتَلَ وَلَا الْمَقْتُولُ فِيمَ قُتِلَ فَقِيلَ کَيْفَ يَکُونُ ذَلِکَ قَالَ الْهَرْجُ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبَانَ قَالَ هُوَ يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي إِسْمَعِيلَ لَمْ يَذْکُرْ الْأَسْلَمِيَّ

ابن عمر بن ابان واصل، عبدالاعلی، محمد بن فضیل، ابی سہل اسلمی ابی حازم حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے دنیا ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ لوگوں پر ایسا دن آئے گا کہ قاتل نہ جان سکے گا کہ اس نے کس وجہ سے قتل کیا اور مقتول کو کس وجہ سے قتل کیا گیا آپ ﷺ سے عرض کیا گیا ایسا کیسے ہوگا آپ نے فرمایا بکثرت خونریزی ہوگی قاتل و مقتول دونوں آگ میں ہوں گے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The world would not come to an end until a day would come to the people on which the murderer would not know as to why he has killed and the slain would not know as to why he has been murdered. It would be said: Why would It happen? To which he replied: It would be because of general massacre and bloodshed. And the slaughterers and the slain would be in Fire, and in the narration of Ibn Aban, the name of Abu Ismail has been mentioned.

7305Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَرِّبُ الْکَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی عمر ابی بکر سفیان بن عیینہ، زیاد سعد زہری سعید حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کعبہ کو حبشہ کا چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا گروہ گرادے گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Ka’bah would be destroyed by an Abyssinian having two small shanks.

7306Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَرِّبُ الْکَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ

حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابن مسیب ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کعبہ کو حبشہ کا چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا گروہ گرا دے گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It would be an Abyssinian having two small shanks who would destroy the House of Allah, the Exalted and Glorious.

7307Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ يُخَرِّبُ بَيْتَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ثور بن زید ابی غیث حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی گروہ اللہ رب العزت کے گھر کو گرا دے گا۔

Abu Huraira reported Allahs Messenger (ﷺ) as saying: It would be an Abyssinian having two small shanks who would destroy the House ol Allah, the Exalted and Glorious.

7308Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ

قتیبہ بن سعید عبدالعزیز بن محمد بن ثور بن زید ابی غیث حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آیک آدمی قحطان سے نکلے گا جو لوگوں اپنی لاٹھی سے ہنکائے گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messengar ﷺ as saying: The Last Hour would not come before a person of Qahtan comes forth driving people with his stick.

7309Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْحَکَمِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّی يَمْلِکَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْجَهْجَاهُ قَالَ مُسْلِم هُمْ أَرْبَعَةُ إِخْوَةٍ شَرِيکٌ وَعُبَيْدُ اللَّهِ وَعُمَيْرٌ وَعَبْدُ الْکَبِيرِ بَنُو عَبْدِ الْمَجِيدِ

محمد بن بشار، عبدی عبد الکبیر بن عبدالمجید ابوبکر حنفی عبد حمید بن جعفر عمر بن حکم حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دنوں اور راتوں کا سلسلہ اس وقت تک ختم نہ ہوگا یہاں تک کہ ایک آدمی بادشاہ بن جائے گا جسے بہجاہ کہا جائے گا۔ امام مسلم نے کہا راوی کے متعلق کہ یہ چار بھائی ہیں شریک، عبیداللہ، عمیر اور عبدالکبیر جو کہ عبدالمجید کے بیٹے ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The day and the night would not come to an end before a man called al-Jahjah would occupy the throne.

7310Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تُقَاتِلُوا قَوْمًا کَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعَرُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی عمر ابن ابی عمر سفیان، زہری، سعید حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم ایک قوم سے جہاد کرو گے جن کے چہرے کو ٹی ہوئی ڈھال کی طرح ہوں گے اور قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو گے جن کی جوتیاں بالوں کی ہوں گی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would not come unless you fight with people whose faces are like hammered shields and the Last Hour would not come until you would fight against those wearing the shoes of hair.

7311Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تُقَاتِلَکُمْ أُمَّةٌ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ وُجُوهُهُمْ مِثْلُ الْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ

حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم سے ایسی قوم جنگ کرے گی جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور ان کے چہرے کو ٹی ہوئی ڈھال کی طرح تہ بتہ ہوں گے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would not come until a people wearing shoes of hair fight against you having their faces like hammered shields.

7312Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعَرُ وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ ذُلْفَ الْآنُفِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان، ابن عیینہ ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ تک اس حدیث کو پہنچاتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم چھوٹی آنکھوں والی اور چپٹی ہوئی ناک والوں سے جنگ نہ کرلو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would not come until you fight with a people wearing shoes of hair and the Last Hour would not come until you fight with a people having small eyes and broad snub noses.

7313Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْکَ قَوْمًا وُجُوهُهُمْ کَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ يَلْبَسُونَ الشَّعَرَ وَيَمْشُونَ فِي الشَّعَرِ

قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان ایسے ترکوں سے جہاد کریں جن کے چہرے کو ٹی ہوئی ڈھال کی طرح ہوں گے وہ بالوں کا لباس پہنیں گے اور بالوں میں ہی چلیں گے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would not come until the Muslims fight with the Turks-a people whose faces would be like hammered shields wearing clothes of hair and walking (with shoes) of hair.

7314Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُقَاتِلُونَ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعَرُ کَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ حُمْرُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ

ابوکریب وکیع، ابواسامہ اسماعیل بن ابی خالد، قیس بن ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے قریب ہی تمہاری ایک ایسی قوم سے جنگ ہوگی جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے ان کے چہرے ایسے ہوں گے گویا کہ وہ کو ٹی ہوئی ڈھال ہیں ان کے چہرے سرخ اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: You shall fight in the hours to come against a nation wearing shoes made of hair and faces like hammered shields, with red complexion and small eyes.