فتنوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 55 · 182 hadiths · Page 2 of 10

7255Sahih Muslim

دو مسلمانوں کی تلواروں کے ساتھ باہم لڑائی کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَی أَخِيهِ السِّلَاحَ فَهُمَا عَلَی جُرْفِ جَهَنَّمَ فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلَاهَا جَمِيعًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، منصور ربعی بن جراش حضرت ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا پس مسلمانوں میں سے ایک اپنے بھائی پر اسلحہ اٹھائے پس وہ دونوں جہنم کنارے پر ہوتے ہیں جب ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی کو قتل کردیا تو وہ دونوں اکٹھے جہنم میں داخل ہوگئے۔

Abu Bakr (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When two Muslims (confront each other) and the one amongst them attacks his brother with a weapon, both of them are at the brink of Hell-Fire. And when one of them kills his companion, both of them get into Hell-Fire.

7256Sahih Muslim

دو مسلمانوں کی تلواروں کے ساتھ باہم لڑائی کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ وَتَکُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ وَدَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دو عظیم جماعتوں کے مابین جنگ وجدل نہ ہوجائے اور ان کے درمیان ایک بہت بڑی لڑائی ہوگی اور دونوں کا دعوی ایک ہوگا (کہ ہم رضائے الٰہی اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے جہاد کر رہے ہیں)۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ many ahadith and one of them was this: The last Hour will not come until the two parties (of Muslims) confront each other and there is a large-scale massacre amongst them and the claim of both of them is the same.

7257Sahih Muslim

دو مسلمانوں کی تلواروں کے ساتھ باہم لڑائی کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَکْثُرَ الْهَرْجُ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ

قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ھرج کی کثرت ہوجائے صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ھرج کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا قتل قتل (یعنی خونریزی کی کثرت)۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The last Hour will not come unless there is much bloodshed. They said: What is harj? Thereupon he said: Bloodshed. Bloodshed.

7258Sahih Muslim

اس امت کا ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيَّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ زَوَی لِي الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْکُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْکَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِکَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَی أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَائً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُکَ لِأُمَّتِکَ أَنْ لَا أُهْلِکَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَی أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ وَلَوْ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا أَوْ قَالَ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا حَتَّی يَکُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِکُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا

ابوربیع عتکی قتیبہ بن سعید، حماد بن زید قتیبہ حماد ایوب ابی قلابہ ابی اسماء حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لئے سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور جہاں تک کی زمین میرے لئے سمیٹ دی گئی تھی وہاں تک، عنقریب میری امت کی سلطنت و حکومت پہنچ جائے گی اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کئے گئے اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے دعا مانگی کہ وہ انہیں عام قحط سالی میں ہلاک نہ کرے اور اپنے علاوہ ان پر کوئی ایسا دشمن بھی مسلط نہ کرے جو ان سب کی جانوں کی ہلاکت کو مباح جائز سمجھے اور میرے رب نے فرمایا اے محمد جب میں کسی بات کا فیصلہ کرلیتا ہوں تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا اور بیشک میں نے آپ ﷺ کی امت کے لئے فیصلہ کرلیا ہے کہ انہیں عام قحط سالی کے ذریعہ ہلاک نہ کروں گا اور نہ ہی ان کے علاوہ ان پر ایسا کوئی دشمن مسلط کروں گا جو ان سب کی جانوں کو مباح و جائز سمجھ کر ہلاک کر دے اگرچہ ان کے خلاف زمین کے چاروں اطراف سے لوگ جمع ہوجائیں یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو خود ہی قیدی بنائیں گے۔

Thauban reported that Allahs Messenger ﷺ said: Allah drew the ends of the world near one another for my sake. And I have seen its eastern and western ends. And the dominion of my Ummah would reach those ends which have been drawn near me and I have been granted the red and the white treasure and I begged my Lord for my Ummah that it should not be destroyed because of famine, nor be dominated by an enemy who is not amongst them to take their lives and destroy them root and branch, and my Lord said: Muhammad, whenever I make a decision, there is none to change it. Well, I grant you for your Ummah that it would not be destroyed by famine and it would not be dominated by an enemy who would not be amongst it and would take their lives and destroy them root and branch even if all the people from the different parts of the world join hands together (for this purpose), but it would be from amongst them, viz. your Ummah, that some people would kill the others or imprison the others.

7259Sahih Muslim

اس امت کا ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی زَوَی لِي الْأَرْضَ حَتَّی رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَأَعْطَانِي الْکَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، ابن بشار اسحاق معاذ بن ہشام ابوقتادہ، ابی قلابہ ابی اسماء رجی حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ اللہ نے نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو سمیٹ دیا یہاں تک کہ میں نے اس کے مشرق ومغرب کو دیکھا اور مجھے سرخ اور سفید خزانے عطا کئے گئے باقی حدیث گزر چکی۔

Thauban reported that Allahs Messenger ﷺ said. Verily, Allah drew the ends of the world near me until I saw its east and west and He bestowed upon me two treasures, the red and the white. The rest of the hadith is the same.

7260Sahih Muslim

اس امت کا ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ الْعَالِيَةِ حَتَّی إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ فَرَکَعَ فِيهِ رَکْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلًا ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَقَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُهْلِکَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِکَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابی عثمان بن حکیم عامر بن حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مقام عالیہ سے تشریف لائے یہاں تک کہ بنو معاویہ کی مسجد کے پاس سے گزرے تو اس میں تشریف لے گئے اور اس میں دو رکعتیں ادا کیں اور ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی اور آپ ﷺ نے اپنے رب سے لمبی دعا مانگی پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں پس دو چیزیں مجھ کو عطا کردیں گئیں اور ایک چیز سے مجھے روک دیا میں نے اپنے رب سے مانگا کہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعہ ہلاک نہ کرے پس یہ مجھے عطا کردیا گیا اور میں نے اللہ عزوجل سے مانگا کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کر پس اللہ عزوجل نے یہ چیز بھی مجھے عطا کردی اور میں نے اللہ عزوجل سے سوال کیا کہ ان کی آپس میں ایک دوسرے سے لڑائی نہ ہو تو مجھے اس سوال سے منع کردیا گیا۔

Amir bin Sad reported on the authority of his father that one day Allahs Messenger ﷺ came from a high land. He passed by the mosque of Banu Muawiyah, went in and observed two rakahs there and we also observed prayer along with him and he made a long supplication to his Lord. He then came to us and said: I asked my Lord three things and He has granted me two but has withheld one. I begged my Lord that my Ummah should not be destroyed because of famine and He granted me this. And I begged my Lord that my Ummah should not be destroyed by drowning (by deluge) and He granted me this. And I begged my Lord that there should be no bloodshed among the people of my Ummah, but He did not grant it.

7261Sahih Muslim

اس امت کا ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَمَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ

ابن ابی عمر مروان بن معاویہ عثمان بن حکیم انصاری عامر بن سعد حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ آپ ﷺ کے صحابہ کی جماعت کے ساتھ آئے تو آپ ﷺ بنو معاویہ کی مسند کے پاس سے گزرے باقی حدیث گزر چکی۔

Amir bin Sad reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ came with a group of his Companions and he passed by the mosque of Banu Muawiyah. The rest of the hadith is the same.

7262Sahih Muslim

قیام قیامت تم پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی ﷺ کا خبر دینے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ کَانَ يَقُولُا قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِکُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ کَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ وَمَا بِي إِلَّا أَنْ يَکُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَّ إِلَيَّ فِي ذَلِکَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْهُ غَيْرِي وَلَکِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ عَنْ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعُدُّ الْفِتَنَ مِنْهُنَّ ثَلَاثٌ لَا يَکَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ کَرِيَاحِ الصَّيْفِ مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا کِبَارٌ قَالَ حُذَيْفَةُ فَذَهَبَ أُولَئِکَ الرَّهْطُ کُلُّهُمْ غَيْرِي

حرملہ بن یحییٰ تجیبی ابن وہب، یونس ابن شہاب حضرت ابوادریس خولانی سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ بن یمان نے کہا اللہ کی قسم میں لوگوں میں سے سب زیادہ جانتا ہوں کہ کون کون سے واقعات میرے اور قیامت کے درمیان پیش آنے والے ہیں اور مجھے ان فتنوں کے بتانے سے صرف یہی بات مانع ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض راز کی باتیں مجھے بتائیں جنہیں میرے علاوہ کسی سے بھی ذکر نہیں کیا لیکن رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کے بارے میں فرمایا اس حال میں کہ آپ ﷺ ایک مجلس میں تھے جس میں میں بھی موجود تھا رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کو شمار کرتے ہوئے فرمایا ان میں تین ایسے ہیں جو کسی بھی چیز کو نہ چھوڑیں گے ان میں سے کچھ فتنے گرمی کی ہواؤں کی طرح ہوں گے ان میں سے بعض چھوٹے اور بعض بڑے ہوں گے حذیفہ نے کہا میرے علاوہ باقی سب قوم مجلس اب اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔

Hudhaifa bin al-Yaman reported: By Allah, I have the best knowledge amongst people about every turmoil which is going to appear in the period intervening me and the Last Hour; and it is not for the fact that Allahs Messenger ﷺ told me something confidentially pertaining to it and he did not tell anybody else about it, but it is because of the fact that I was present in the assembly in which he had been describing the turmoil. And he especially made a mention of three turmoils which would not spare anything and amongst these there would be turmoils like storms in the hot season. Some of them would be violent and some of them would be comparatively mild. Hudhaifa said: All (who were present) except I, have gone (to the next world).

7263Sahih Muslim

قیام قیامت تم پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی ﷺ کا خبر دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا مَا تَرَکَ شَيْئًا يَکُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِکَ إِلَی قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا حَدَّثَ بِهِ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلَائِ وَإِنَّهُ لَيَکُونُ مِنْهُ الشَّيْئُ قَدْ نَسِيتُهُ فَأَرَاهُ فَأَذْکُرُهُ کَمَا يَذْکُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، عثمان اسحاق جریر، اعمش، شقیق حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ہمارے درمیان کھڑے ہو کر اس کھڑے ہونے کے وقت سے لے کر قیام قیامت تک کے تمام حالات کو بیان کردیا پس جس نے انہیں یاد رکھا اس نے انہیں یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا اور اس واقعہ کو میرے یہ ساتھی بھی جانتے ہیں اور ان میں سے بعض باتوں کو میں بھول گیا لیکن جب وہ چیزیں سامنے آجاتی ہیں تو یاد آجاتی ہیں جیسے کوئی آدمی کسی کے سامنے سے غائب ہوجائے تو اسے بھول جاتا ہے اور جب سامنے آتا ہے تو وہ اسے پہچان لیتا ہے۔

Hudhaifa reported that Allahs Messenger ﷺ stood before us one day and he did not leave anything unsaid (that he had to say) at that very spot which would happen (in the shape of turmoil) up to the Last Hour. Those who had to remember them preserved them in their minds and those who could not remember them forgot them. My friends knew them and there are certain things which slipped from my mind, but I recapitulate them when anyone makes a mention of them just as a person is lost from ones mind but is recalled to him on seeing his face.

7264Sahih Muslim

قیام قیامت تم پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی ﷺ کا خبر دینے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ وکیع، سفیان، اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں جو بھول گیا وہ بھول گیا کے بعد مذکور نہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters up to the words: And he forgot who had to forget that and he did not make a mention of what follows after this.

7265Sahih Muslim

قیام قیامت تم پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی ﷺ کا خبر دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا هُوَ کَائِنٌ إِلَی أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فَمَا مِنْهُ شَيْئٌ إِلَّا قَدْ سَأَلْتُهُ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ مَا يُخْرِجُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبکر بن نافع، غندر، شعبہ، عدی بن ثابت، عبداللہ بن یزید حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ہر اس بات کی خبر دے دی جو قیام قیامت تک پیش آنے والا ہے اور ہر چیز کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کیا گیا سوائے اس کے کہ میں نے آپ ﷺ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو کونسی چیز مدینہ سے نکالے گی؟

Hudhaifa reported: Allahs Messenger ﷺ informed me of what is going to happen before the approach of the Last Hour. And there is nothing that I did not ask him in this connection except this that I did not ask him as to what would turn the people of Madinah out from Madinah.

7266Sahih Muslim

قیام قیامت تم پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی ﷺ کا خبر دینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

محمد بن مثنی، وہب بن جریر، شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.

7267Sahih Muslim

قیام قیامت تم پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی ﷺ کا خبر دینے کے بیان میں

حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنَا عِلْبَائُ بْنُ أَحْمَرَ حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّی حَضَرَتْ الظُّهْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّی حَضَرَتْ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّی غَرَبَتْ الشَّمْسُ فَأَخْبَرَنَا بِمَا کَانَ وَبِمَا هُوَ کَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا

یعقوب بن ابراہیم، دورقی حجاج بن شاعر، ابوعاصم، حجاج، ابوعاصم، عروہ بن ثابت حضرت ابوزید عمر بن اخطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز فجر پڑھائی اور منبر پر چڑھے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا آپ ﷺ اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا پھر اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو ہمیں آپ ﷺ نے ان تمام باتوں کی خبر دی جو پہلے ہوچکی ہیں اور جو آئندہ پیش آنے والی تھیں پس ہم میں سے سب بڑا عالم وہی ہے جس نے ہم میں سے ان باتوں کو زیادہ یاد رکھا۔

Abu Zaid (viz. Amr bin Akhtab) reported: Allahs Messenger ﷺ led us in the dawn prayer and then mounted the pulpit and addressed us until it was time for the noon prayer. He then came down the pulpit and observed prayer and then again mounted the pulpit and again addressed us until it was time for the Asr prayer. He then again came down and observed the prayer and again mounted the pulpit and addressed us until the sun was set and he informed (about) everything (pertaining to turmoil) that lay hidden in the past and what lies in (the womb) of) the future and the most learned amongst us is one who remembers them well

7268Sahih Muslim

سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ ابْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ أَيُّکُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ کَمَا قَالَ قَالَ فَقُلْتُ أَنَا قَالَ إِنَّکَ لَجَرِيئٌ وَکَيْفَ قَالَ قَالَ قُلْتُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُکَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْکَرِ فَقَالَ عُمَرُ لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ کَمَوْجِ الْبَحْرِ قَالَ فَقُلْتُ مَا لَکَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَيْنَکَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا قَالَ أَفَيُکْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ يُکْسَرُ قَالَ ذَلِکَ أَحْرَی أَنْ لَا يُغْلَقَ أَبَدًا قَالَ فَقُلْنَا لِحُذَيْفَةَ هَلْ کَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنْ الْبَابُ قَالَ نَعَمْ کَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ قَالَ فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنْ الْبَابُ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن علاء ابوکریب ابی معاویہ، ابن علاء، ابومعاویہ اعمش، شقیق عمر حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمر ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا تم میں سے کون ہے جسے رسول اللہ ﷺ کی فتنوں کے بارے میں حدیث زیادہ یاد ہے میں نے کہا میں ہوں کہا تو بہت جرأت مند ہے اور وہ حدیث کیسی ہے میں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے آدمی کے گھر والوں اور اس کے مال اور اس کی جان اور اولاد اور پڑوسی میں فتنہ ہے اور ان کا کفارہ روزے نماز صدقہ نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا ہیں تو حضرت عمر ؓ نے کہا میں نے ان کا ارادہ نہیں کیا بلکہ میرا ارادہ وہ فتنے ہیں جو سمندر کی موجوں کی طرح آئیں گے میں نے کہا اے امیر المومنین آپ کو اس سے کیا غرض ہے بیشک آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان ایک بند دروازہ ہے حضرت عمر ؓ نے کہا اس دروزاے کو توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا میں نے کہ نہیں بلکہ اسے توڑا جائے گا عمر ؓ نے کہا اگر ایسا ہے تو پھر کبھی بند نہ کیا جاسکے گا راوی کہتا ہیں ہم نے حضرت حذیفہ ؓ سے کہا کیا حضرت عمر ؓ اس دروازے کے بارے میں جانتے تھے انہوں نے کہا جی ہاں وہ اسی طرح جانتے تھے جیسا کہ وہ کل کے آنے سے پہلے رات کو جانتے تھے اور میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی جو غلط الروایات سے نہ تھی پھر ہم حضرت حذیفہ ؓ سے دروازے کے بارے میں پوچھنے سے خوفزدہ ہوئے تو ہم نے مسروق سے کہا تم ان سے پوچھو انہوں نے پوچھا تو حضرت حذیفہ ؓ نے کہا: (دروازہ) عمر ؓ ہیں۔

Hudhaifa repotted: We were one day in the company of Umar that he said: Who amongst you has preserved in his mind most perfectly the hadith of Allahs Messenger ﷺ in regard to the turmoil as he told about it? I said: It is I. Thereupon he said: You are bold (enough to make this claim). And he further said: How? I said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: There would (first) be turmoil for a person in regard to his family, his property, his own self, his children, his neighbours (and the sins committed in their connection) would be expiated by fasting, prayer, charity, enjoining good and prohibiting evil. Thereupon Umar said: I do not mean (that turmoil on a small scale) but that one which would emerge like the mounting waves of the ocean. I said: Commander of the Faithful, you have nothing to do with it, for the door is closed between you and that. He said: Would that door be broken or opened? I said: No, it would be broken. Thereupon he said: Then it would not be closed despite best efforts. We said to Hudhaifa (RA) : Did Umar know the door? Thereupon he said: Yes, he knew it (for certain) just as one knows that night precedes the next day. And I narrated to him something in which there was nothing fabricated. Shaqiq (one of the narrators) said: We dared not ask Hudhaifa about that door. So we requested Masrdq to ask him. So he asked him and he said: (By that door, he meant Umar).

7269Sahih Muslim

سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ عِيسَی کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَی عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج وکیع، عثمان بن ابی شیبہ جریر، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ابن ابی عمر یحییٰ بن عیسیٰ، ابومعاویہ اعمش، شقیق ان اسناد سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Hudhaifa through other chains of transmitters also.

7270Sahih Muslim

سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ وَالْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنْ الْفِتْنَةِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ

ابن ابی عمر سفیان، جامع بن ابی راشد اعمش، ابو وائل عمر حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے کہا ہمیں فتنوں کے بارے میں حدیث کون بیان کرے گا باقی حدیث گزر چکی ہے۔

Hudhaifa reported that Umar said: Who would narrate to us (the ahadith pertaining to turmoil) and he reported a hadith similar to these ahadith.

7271Sahih Muslim

سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ جُنْدُبٌ جِئْتُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فَقُلْتُ لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ هَاهُنَا دِمَائٌ فَقَالَ ذَاکَ الرَّجُلُ کَلَّا وَاللَّهِ قُلْتُ بَلَی وَاللَّهِ قَالَ کَلَّا وَاللَّهِ قُلْتُ بَلَی وَاللَّهِ قَالَ کَلَّا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ قُلْتُ بِئْسَ الْجَلِيسُ لِي أَنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أُخَالِفُکَ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَنْهَانِي ثُمَّ قُلْتُ مَا هَذَا الْغَضَبُ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ وَأَسْأَلُهُ فَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ

محمد بن مثنی، محمد بن حاتم، معاذ بن معاذ ابن عون محمد حضرت جندب سے روایت ہے کہ جرعہ واقعہ کے دن آیا تھا جرعہ کوفہ میں ایک جگہ ہے جہاں کوفہ والے حضرت سعید بن عاص ؓ سے لڑنے کے لئے جمع ہوئے تھے جب انہیں حضرت عثمان نے کوفہ کا حاکم بنا کر بھیجا تھا وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا تو میں نے کہا آج کے دن تو یہاں بہت خونریزی ہوگی تو اس آدمی نے کہا اللہ کی قسم نہیں میں نے کہا اللہ کی قسم کیوں نہ ہوگی اس نے کہا اللہ کی قسم ہرگز نہیں میں نے کہا اللہ کی قسم نہ ہوگی اس نے کہا اللہ کی قسم ہرگز نہیں کیونکہ رسول اللہ کی حدیث ہے جو آپ ﷺ نے مجھے بیان کی تھی میں نے کہا تو میرے لئے برا ہم نشین ہے آج سے اس لئے کہ تو سنتا ہے میں تیری مخالفت کر رہا ہوں حالانکہ تو بھی رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں حدیث سن چکا ہے مگر مخالفت کرنے سے تو نے مجھے منع کیوں نہیں کیا پھر میں نے کہا یہ کیا غضب ہے الغرض میں نے اس کی طرف متوجہ ہو کر اس سے حدیث معلوم کرنا چاہی تو وہ آدمی حضرت حذیفہ ؓ تھے۔

Jundub reported: I came on the day of Jaraa that a person was (found) sitting. I said: They would shed their blood today. That person said: By Allah, not at all. I said: By Allah, of course, they would do it. He said: By Allah, they would not do it. I said: By Allah, of course, they would do it. He said: By Allah, they would not do it, and I have heard a hadith of Allahs Messenger ﷺ which I am narrating to you in this connection. I said: You are a bad seat fellow. I have been opposing you since morning and you are listening to me in spite of the fact that you have heard a hadith from Allahs Apostle ﷺ (contrary to my statement). I myself felt that there was no use of this annoyance. (He could tell me earlier that it was a hadith of the Holy Prophet ﷺ (may peace be upon him], and I would not have opposed him at all.) I turned my face toward him and asked him and he was Hadrat Hudhaifa.

7272Sahih Muslim

دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ کُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَيَقُولُ کُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ لَعَلِّي أَکُونُ أَنَا الَّذِي أَنْجُو

قتیبہ بن سعید، یعقوب عبدالرحمن قاری سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑے نکل آئے جس پر لوگوں کا قتل و قتال ہوگا اور ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل کئے جائیں گے اور ان میں سے ہر آدمی کہے گا شاید میں ہی وہ ہوں جسے نجات حاصل ہوگی اور یہ خزانہ میرے قبضہ میں رہ جائے گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would not come before the Euphrates uncovers a mountain of gold, for which people would fight. Ninety-nine out of each one hundred would die but every man amongst them would say that perhaps he would be the one who would be saved (and thus possess this gold).

7273Sahih Muslim

دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ فَقَالَ أَبِي إِنْ رَأَيْتَهُ فَلَا تَقْرَبَنَّهُ

امیہ بن بسطام یزید بن زریع روح سہیل اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ سہیل کی اس سند میں یہ اضافہ ہے کہ میرے والد نے کہا اگر تو اسے دیکھ لے تو اس کے قریب نہ جانا۔

This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters but with this addition: "My father said: If you see that, do not even go near it."

7274Sahih Muslim

دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّکُونِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِکُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ کَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا

ابومسعود سہل بن عثمان عقبہ بن خالد سکونی عبیداللہ بن خبیب بن عبدالرحمن حفص بن عاصم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک خزانہ نکلے گا پس جو اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would not come unless the Euphrates would uncover a treasure of gold, so he who finds it should not take anything out of that.