زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَی عَطَائً فَقَالَ أَحَدَّثَکَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا يُکْرِهَا قَالَ نَعَمْ
شیبان بن فروخ، ہمام، سلیمان بن موسی، عطاء، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے پوچھا کیا تجھ سے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کی زمین ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی سے کاشت کروائے اور اسے کرایہ پر نہ دے حضرت جابر ؓ نے کہا جی ہاں۔
Sulaiman bin Musa asked Ata: Did Jabir bin Abdullah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying:" He who has land should cultivate it himself, or let his brother cultivate it, and should not give on rent"? He said: Yes.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُخَابَرَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان، عمرو، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مخابرہ سے منع فرمایا۔
Jabir (RA) reported Allahs Apostle ﷺ having forbidden Mukhabara.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَائَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا تَبِيعُوهَا فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ مَا قَوْلُهُ وَلَا تَبِيعُوهَا يَعْنِي الْکِرَائَ قَالَ نَعَمْ
حجاج بن شاعر، عبیداللہ بن عبدالمجید، سلیم بن حیان، سعید بن میناء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کے پاس زائد زمین ہو تو اسے چاہئے کہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی سے کاشت کروائے اور اسے فروخت مت کرے راوی کہتے ہیں میں نے سعید سے پوچھا زمین نہ بیچنے سے کیا کرایہ پر دینا مراد ہے انہوں نے کہا جی ہاں۔
Jabir binAbdullah (RA) heard Allahs Messenger ﷺ say: He who has surplus of land should either cultivate it himself, or let his brother cultivate it, an should not sell it. I (the narrator) said to Said: What does his statement" do not sell it" mean? Does it imply" rent"? He said: Yes.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا نُخَابِرُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصِيبُ مِنْ الْقِصْرِيِّ وَمِنْ کَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ فَلْيُحْرِثْهَا أَخَاهُ وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا
احمد بن یونس، زہیر، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں زمین بٹائی پر دیتے تھے ہم اس اناج سے حصہ لیتے جو کوٹنے کے بعد بالیوں میں رہ جاتا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کی زمین ہو تو چاہئے کہ وہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشت کرنے دے ورنہ اسے چھوڑ دے۔
Jabir bin Abdullah reported: We used to cultivate land on rent during the lifetime of Allahs Apostle ﷺ and we got a share out of the grain left in the ears after threshing them and something unspecified. Allahs Messenger ﷺ said: He who has land should cultivate it or let his brother till it, otherwise he should leave it.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی جَمِيعًا عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ ابْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَکِّيَّ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ الْأَرْضَ بِالثُّلُثِ أَوْ الرُّبُعِ بِالْمَاذِيَانَاتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ فَقَالَ مَنْ کَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ لَمْ يَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَلْيُمْسِکْهَا
ابوطاہر، احمد بن عیسی، ابن وہب، ابن عیسی، عبداللہ بن وہب، ہشام بن سعد، ابازبیر مکی، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نہروں کے کناروں والی زمین سے تہائی یا چوتھائی وصول کرتے تھے رسول اللہ ﷺ اس بارے میں گفتگو کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے اور فرمایا جس کی زمین ہو تو چاہئے کہ وہ اسے کاشت کرے اور اگر وہ اسے کاشت نہ کرے تو اپنے بھائی کو مفت دیدے پس اگر بھائی کو مفت میں نہ دے تو اس کو روک لے۔
Jabir binAbdullah (RA) reported: We used to get land (on rent) during the lifetime of Allahs Messeuge, ﷺ with a share of one-third or one-fourth (of the produce from the land irrigated) with the help of canals. Thereupon Allahs Messenger ﷺ stood up (to address) and said: HRe who has land should cultivate it, and if he does not cultivate it, he should lend it to his brother, and if he does not lend it to his brother, he should then retain it.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ کَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَهَبْهَا أَوْ لِيُعِرْهَا
محمد بن مثنی، یحییٰ بن حماد، ابوعوانہ، سلیمان، ابوسفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جس کی زمین ہو اسے چاہیے کہ وہ ہبہ کر دے یا عاریت وادھار پردے دے۔
Jabir (Allah he pleased with him) reported: I heard Allahs Apostle ﷺ as saying: He who has (surplus) land should donate it (to others), or lend it.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا رَجُلًا
حجاج بن شاعر، ابوالجواب، عمار ابن رزیق، حضرت اعمش سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ وہ اس میں کھیتی کرے یا کسی شخص کو کاشت کرا دے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters, but with a slight change of words.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَهُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ قَالَ بُکَيْرٌ وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا کُنَّا نُکْرِي أَرْضَنَا ثُمَّ تَرَکْنَا ذَلِکَ حِينَ سَمِعْنَا حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، عبداللہ بن ابی سلمہ، نعمان بن ابی عیاش، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا حضرت بکیر نے کہا کہ مجھے حضرت نافع ؓ نے بیان کیا کہ اس نے ابن عمر ؓ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ہم اپنی زمینوں کو کرایہ پر دیتے تھے پھر ہم نے جب رافع بن خدیج ؓ کی حدیث سنی تو اسے چھوڑ دیا۔
Jabir bin `Abdullah (RA) reportedthat Allahs Messenger ﷺ had forbidden renting of land. Bukair (one of the narrators) said: Nafi` reported to me that he heard Ibn `Umar (RA) saying: We usedto give land on rent; we then abandoned this practice when we heard the hadith of Rafi` bin Khadij.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَائِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خالی زمین کو دو یا تین سال کے لئے بیچنے سے منع فرمایا یعنی کرایہ پر دینے سے۔
Jabir (RA) reported Allahs Messenger ﷺ forbidding the selling (renting of) uncultivated land for two years or three.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ
سعید بن منصور، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، حمید اعرج، سلیمان بن عتیق، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چند سالوں کی بیع سے منع فرمایا اور ابن ابی شیبہ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے پھلوں کی چند سال کے لئے بیع کرنے سے منع فرمایا۔
Jabir (RA) reported Allahs Apostle ﷺ forbidding selling of (produce) in advance for two years, and in the narmtion of Ibu Abd Shaiba (the words are):" Selling of the fruits (on the tree) in advance for two years."
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَی فَلْيُمْسِکْ أَرْضَهُ
حسن حلوانی، ابوتوبہ، معاویہ، یحییٰ بن ابی کثیر، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کی زمین ہو تو چاہئے کہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی کو عطا کر دے اگر وہ انکار کر دے تو اپنی زمین کو روک لے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who has land should cultivate it or lend it to his brother, but if he refuses, he should retain his land.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ نُعَيْمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْحُقُولِ فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَابَنَةُ الثَّمَرُ بِالتَّمْرِ وَالْحُقُولُ کِرَائُ الْأَرْضِ
حسن حلوانی، ابوتوبہ، معاویہ، یحییٰ بن ابی کثیر، یزید بن نعیم، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ اور حقول سے منع فرمایا تو جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا مزابنہ تازہ کھجور کو خشک کھجور کے بدلے دینے اور حقول زمین کو کرایہ پر دینے کو کہتے ہیں۔
Jabir binAbdullah (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ forbidding Muzabana, and Huqul. Jabir binAbdullah (RA) said: Muzabana means the selling of fruits for dry dates and Huqul is the renting of land.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ forbidding Muhaqala and Muzabana.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ مَوْلَی ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَائُ الثَّمَرِ فِي رُئُوسِ النَّخْلِ وَالْمُحَاقَلَةُ کِرَائُ الْأَرْضِ
ابوطاہر، ابن وہب، مالک بن انس، داؤد بن حصین، سفیان مولیٰ ابن ابی احمد، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا اور مزابنہ درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کو فروخت کرنے کو اور محاقلہ زمین کو کرایہ پر دینے کو کہتے ہیں۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having forbidden Mazabana and Muhaqala. Muzibana means the buying of fruits on the trees and Muhaqala is the renting of land.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا و قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا کُنَّا لَا نَرَی بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّی کَانَ عَامُ أَوَّلَ فَزَعَمَ رَافِعٌ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهُ
یحییٰ بن یحیی، ابوربیع عتکی و ابوربیع، یحیی، حماد بن زید، عمرو، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ہم زمین کو حصہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں خیال کرتے تھے یہاں تک کہ جب پہلا سال آیا تو رافع ؓ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
Zaid bin Amr reported: I heard Ibn Umar (RA) say: We did not see any harm in renting of the land, but as the first year was over Rafi alleged Allahs Apostle ﷺ having forbidden that.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ فَتَرَکْنَاهُ مِنْ أَجْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان، علی بن حجر، ابراہیم بن دینار، اسماعیل، ابن علیہ، ایوب، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، سفیان، عمر بن دینار، ابن عیینہ اسی حدیث کی دیگر اسناد ذکر کی ہیں لیکن ابن عیینہ کی حدیث میں ہے کہ ہم نے اس وجہ سے زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Amr bin Dinar with the same chain of transmitters but (in) the hadith transmitted on the authority of Uyainah (the words are):" We abandoned it (renting) on account of that."
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَقَدْ مَنَعَنَا رَافِعٌ نَفْعَ أَرْضِنَا
علی بن حجر، اسماعیل، ایوب، ابی الخلیل، مجاہد، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں حضرت رافع ؓ نے ہماری زمین کے نفع سے روک دیا۔
Ibn Umar (RA) reported: Rafi forbade us from benefitting from our land (in the form of rent).
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ يُکْرِي مَزَارِعَهُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِمَارَةِ أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ حَتَّی بَلَغَهُ فِي آخِرِ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ فِيهَا بِنَهْيٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْ کِرَائِ الْمَزَارِعِ فَتَرَکَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدُ وَکَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا بَعْدُ قَالَ زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهَا
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، ایوب، حضرت نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں اور حضرت ابوبکر و عمر و عثمان ؓ کی خلافت میں اور معاویہ ؓ کی خلافت کے ابتدائی ایام تک اپنی زمین کا کرایہ لیتے تھے یہاں تک کہ امیر معاویہ کی خلافت کے آخر میں انہیں یہ حدیث پہنچی کہ رافع بن خدیج ؓ نبی کریم ﷺ سے اس میں نہی بیان کرتے ہیں ابن عمر ؓ ان کے پاس آئے اور میں ان کے ساتھ تھا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو رافع نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ زمین کے کرایہ سے منع کرتے تھے تو ابن عمر ؓ نے اس کے بعد اسے چھوڑ دیا پھر جب اس کے بعد ان سے اس بارے میں پوچھا جاتا تو وہ فرماتے کہ ابن خدیج ؓ نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے۔
Nafi reported that Ibn Umar (RA) rented his land during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ and during the caliphate of Abu Bakr (RA) and that of Umar and that of Uthman (RA) and during the early period of Muawiyas caliphate until at the end of Muawiyas reign, it reached him (Ibn Umar) that Rafi bin Khadij (RA) narratted (a hadith) in which (there was a decree) of prohibition by Allahs Apostle ﷺ . He (Ibn Umar) went to him (Rafi bin Khadij) and I was with him and he asked him, whereupon he said: Allahs Messenger ﷺ used to forbid the renting of land. So Ibn Umar (RA) abandoned it, and subsequently whenever he was asked about it, he said: Rafi bin Khadij (RA) alleged that Allahs Messenger ﷺ forbade it.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ فَتَرَکَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِکَ فَکَانَ لَا يُکْرِيهَا
ابوربیع، ابوکامل، حماد بن زید، علی بن حجر، اسماعیل، ایوب، ابن علیہ، ابن عمر اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے ابن علیہ کی حدیث مبارکہ میں یہ اضافہ ہے کہ اس کے بعد ابن عمر ؓ نے اسے چھوڑ دیا اور وہ زمین کرایہ پر نہ دیتے تھے مزارعوں کو۔
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub and he made an addition in the hadith narrated by Ibn Ulayya in which he said: Ibn Umar (RA) abandoned it afterwards and he did not rent it (the land).
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ ذَهَبْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَی رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَتَّی أَتَاهُ بِالْبَلَاطِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ کِرَائِ الْمَزَارِعِ
ابن نمیر، عبیداللہ، حضرت نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں ابن عمر کے ساتھ رافع بن خدیج ؓ کی طرف گیا یہاں تک کہ وہ ان کے پاس مقام بلاط میں آئے اور انہیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے مزارعوں کو زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
Nafi reported: I went to Rafi bin Khadij in the company of Ibn Umar (All be pleased with them) until he (Ibn Umar) came to him at Balat (a place near Prophets Mosque at Madinah) and he (Rafi bin Khadij) informed him that Allahs Messenger ﷺ had forbidden the renting of land.