خرید وفروخت کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 23 · 161 hadiths · Page 6 of 9

3901Sahih Muslim

جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ

یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کھجور کا پیوند لگا درخت فروخت کیا تو اس کے پھل بائع (بچنے والا) کے لئے ہیں سوائے اس کے کہ خریدار ان کی شرط لگالے۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If anyone buys palm-trees after they have been fecundated the fruit belongs to the seller unless the buyer makes a proviso.

3902Sahih Muslim

جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا نَخْلٍ اشْتُرِيَ أُصُولُهَا وَقَدْ أُبِّرَتْ فَإِنَّ ثَمَرَهَا لِلَّذِي أَبَّرَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الَّذِي اشْتَرَاهَا

محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، ابن نمیر، عبیداللہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو کھجور کا درخت جڑوں سے خریدا گیا حالانکہ اس کو پیوند کیا گیا تو اس کا پھل اسی کے لئے ہے جس نے پیوند کیا سوائے اس کے کہ خریدنے والا اس کی شرط لگا لے۔

Nafi reported on the authority of Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Whichever tree is bought with its roots, and if it is fecundatedits fruit would belong to one who has grafted it except when the provision is laid down by the buyer.

3903Sahih Muslim

جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلًا ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا فَلِلَّذِي أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ

قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے کھجور کو پیوند لگایا پھر اس کی جڑیں بیچ دیں تو کھجور کا پھل اسی کے لئے ہے جس نے پیوند لگایا سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط لگالے۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Whosoever grafts the tree and then sells its roots, its fruit will belong to one who grafts it except when provision is laid down by the buyer.

3904Sahih Muslim

جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوربیع، ابوکامل، حماد، زہیر بن حرب، اسماعیل، ایوب، نافع اسی حدیث کی اور سند ذکر کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Nafi, with the same chain of transmitters.

3905Sahih Muslim

جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنْ ابْتَاعَ عَبْدًا فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ

یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ بن عمر، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے پیوند لگانے کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل اسی کے لئے ہے جس نے اس کو بیچا سوائے اس کے کہ خریدار شرط باندھ لے اور جس نے کوئی غلام خریدا تو اس کا مال بائع (بچنے والا) کے لئے ہے سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا لے۔

Abdullah bin Umar (RA) reported Allahs Massenger ﷺ as saying: He who buys a tree after it has been fecundated, its fruit belongs to one who sells it except when the provision has been laid down by the buyer (that it will belong to him), and he who buys a slave, his property belongs to one who sells him except when a provision has been laid down by the buyer (that it will be transferred to him with the slave).

3906Sahih Muslim

جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، یحیی، سفیان بن عیینہ، زہری اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

A hadith like this has been narrated on the authority of al Zuhri.

3907Sahih Muslim

جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ بن عمر، حضرت ابن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سنا جو اس سے پہلے بیان ہوا۔

Ibn Umar (RA) reported on the authority of his father as Allahs Apostle ﷺ saying so.

3908Sahih Muslim

بیع محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ اور پھلوں کی صلاحیت سے پہلے اور معاومہ یعنی چند سالوں کی بیع سے روکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّی يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَلَا يُبَاعُ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ اور پھلوں کی صلاحیت سے پہلے بیع کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ پھلوں کو دینار و درہم کے علاوہ کے بدلے فروخت نہ کیا جائے سوائے عرایا کے۔

Jabir binAbdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ had forbidden Muhaqala. and Muzabana, Mukhibara and the sale of fruits until their good condition becomes clear, and (he commanded) that (commodities) should not be sold but for the dinar and dirham except in case of araya.

3909Sahih Muslim

بیع محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ اور پھلوں کی صلاحیت سے پہلے اور معاومہ یعنی چند سالوں کی بیع سے روکنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ

عبد بن حمید، ابوعاصم، ابن جریج، عطاء، ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی دوسری سند کے ساتھ یہی حدیث مروی ہے۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade the types of sales as described before.

3910Sahih Muslim

بیع محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ اور پھلوں کی صلاحیت سے پہلے اور معاومہ یعنی چند سالوں کی بیع سے روکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْجَزَرِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّی تُطْعِمَ وَلَا تُبَاعُ إِلَّا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ إِلَّا الْعَرَايَا قَالَ عَطَائٌ فَسَّرَ لَنَا جَابِرٌ قَالَ أَمَّا الْمُخَابَرَةُ فَالْأَرْضُ الْبَيْضَائُ يَدْفَعُهَا الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ فَيُنْفِقُ فِيهَا ثُمَّ يَأْخُذُ مِنْ الثَّمَرِ وَزَعَمَ أَنَّ الْمُزَابَنَةَ بَيْعُ الرُّطَبِ فِي النَّخْلِ بِالتَّمْرِ کَيْلًا وَالْمُحَاقَلَةُ فِي الزَّرْعِ عَلَی نَحْوِ ذَلِکَ يَبِيعُ الزَّرْعَ الْقَائِمَ بِالْحَبِّ کَيْلًا

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، مخلد بن یزید جزری، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مخابرہ اور محاقلہ اور مزابنہ اور پھلوں کی بیع سے یہاں تک کہ وہ کھائے جائیں منع فرمایا اور پھلوں کو دینار اور درہم کے علاوہ میں فروخت نہ کیا جائے سوائے عرایا کے عطاء کہتے ہیں کہ جابر ؓ نے ہمارے لئے اس کی وضاحت کی کہ مخابرہ یہ ہے کہ بنجر زمین ایک آدمی دوسرے آدمی کو دے وہ اس میں خرچ کرے اور قابل کاشت بنائے پھر یہ اس کے پھل میں سے حصہ لے مزابنہ یہ ہے کہ کھجور میں تر کھجور کی بیع خشک کھجور کے ساتھ وزن کر کے ہو اور محاقلہ کھیتی میں اس طرح ہے کہ کھڑی فصل کو وزن شدہ اناج کے ساتھ بیچنا۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade Mukhabara and Muhaqala, and Muzabana, and the sale of the fruit until it is fit for eating, and its sale but with dirham and dinar. Exception is made in case of araya. Ata said: Jabir explained (these terms) for us. As for Mukhabara it is this that a wasteland is given by a person to another and he makes an investment in it and then gets a share in the produce. According to him (Jabir), Muzabana is the sell of fresh dates on the tree for dry dates with a measure, and Muhaqala in agriculture implies that one should sell the standing crop for grains with a measure.

3911Sahih Muslim

بیع محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ اور پھلوں کی صلاحیت سے پہلے اور معاومہ یعنی چند سالوں کی بیع سے روکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ کِلَاهُمَا عَنْ زَکَرِيَّائَ قَالَ ابْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْمَکِّيُّ وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَأَنْ تُشْتَرَی النَّخْلُ حَتَّی تُشْقِهَ وَالْإِشْقَاهُ أَنْ يَحْمَرَّ أَوْ يَصْفَرَّ أَوْ يُؤْکَلَ مِنْهُ شَيْئٌ وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يُبَاعَ الْحَقْلُ بِکَيْلٍ مِنْ الطَّعَامِ مَعْلُومٍ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ النَّخْلُ بِأَوْسَاقٍ مِنْ التَّمْرِ وَالْمُخَابَرَةُ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ وَأَشْبَاهُ ذَلِکَ قَالَ زَيْدٌ قُلْتُ لِعَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَذْکُرُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن احمد بن ابی خلف، زکریا، ابن ابی خلف، زکریا بن عدی، عبیداللہ، زید بن ابی انیسہ، ابوالولید المکی، عطاء بن ابی رباح، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ اور مخابرہ سے منع فرمایا اور یہ کہ کھجور کا درخت خریدا جائے یہاں تک کہ گدر ہوجائے اور گدر یہ ہے کہ سرخ یا زرد ہوجائے یا وہ کھانے کے لائق ہوجائے اور محاقلہ یہ ہے کہ کھڑی فصل کو اناج کے بدلے وزن کر کے بیچا جائے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت کھجور، کھجور کے اوساق کے ساتھ بیچا جائے اور مخابرہ یہ ہے کہ پیداوار سے تہائی یا چوتھائی یا اسی طرح کا حصہ لینا زید کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کہ تم نے حضرت جابر ؓ سے سنا کہ وہ اس کو رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے تھے تو انہوں نے کہا جی ہاں۔

Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ forbidding Muhaqala, and Muzabana, and Mukhabara, and the buying of date-palm until its fruit is ripened (ripening means that its colour becomes red or yellow, or it is fit for being eaten). And Muhaqala implies that crops in the field are bought for grains according to a customary measure. Muzabana implies that date-palm should be sold for dry dates by measuring them with wisqs, and al-Mukhabara is (a share), maybe one-third or one-fourth (in produce) or something like it. Zaid (one of the narrators) said to Ata bin Abu Rabah (the other narrator): Did You bear Jabir binAbdullah (RA) making a mention of it that he had heard it directly from Allahs Messenger ﷺ ? He said: Yes.

3912Sahih Muslim

بیع محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ اور پھلوں کی صلاحیت سے پہلے اور معاومہ یعنی چند سالوں کی بیع سے روکنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَائَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّی تُشْقِحَ قَالَ قُلْتُ لِسَعِيدٍ مَا تُشْقِحُ قَالَ تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْکَلُ مِنْهَا

عبداللہ بن ہاشم، بہز، سلیم بن حیان، سعید بن میناء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ، محاقلہ اور مخابرہ اور پھلوں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ سرخ زرد یا کھانے کے قابل ہوجائیں۔

Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ forbidding Muzabana and Muhaqala, and Mukhabara, and the sale of fruits until they are ripe. I (the narrator) said to Said (the other narrator): What does ripening imply? He said: It meant that they become red or become yellow and are fit for eating.

3913Sahih Muslim

بیع محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ اور پھلوں کی صلاحیت سے پہلے اور معاومہ یعنی چند سالوں کی بیع سے روکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَسَعِيدِ بْنِ مِينَائَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَالْمُخَابَرَةِ قَالَ أَحَدُهُمَا بَيْعُ السِّنِينَ هِيَ الْمُعَاوَمَةُ وَعَنْ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا

عبیداللہ بن عمر قواریری، محمد بن عبیدالغبری، حماد بن زید، ایوب، ابی زبیر، سعید بن میناء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ، مزابنہ اور معاومہ اور مخابرہ سے منع فرمایا ان میں سے ایک نے کہا کہ معاومہ چند سالوں کی بیع کو کہتے ہیں اور اسی طرح آپ ﷺ نے استثناء کرنے سے بھی منع فرمایا اور عرایا میں رخصت دی۔

Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ forbidding Muhaqala and Muzabana and Muawama and Mukhabara. (One of the narrators) said: Sale years ahead is Muawama, and making exceptional but he made an exemption of araya.

3914Sahih Muslim

بیع محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ اور پھلوں کی صلاحیت سے پہلے اور معاومہ یعنی چند سالوں کی بیع سے روکنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْکُرُ بَيْعُ السِّنِينَ هِيَ الْمُعَاوَمَةُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن حجر، اسماعیل، ابن علیہ، ایوب، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسی طرح فرمایا لیکن اس میں معاویہ کی بیع کی تعریف ذکر نہیں۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Jabir (RA) from Allahs Apostle ﷺ . but he made no mention of transactions years (ahead) implying Muawama.

3915Sahih Muslim

زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ وَعَنْ بَيْعِهَا السِّنِينَ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّی يَطِيبَ

اسحاق بن منصور، عبیداللہ بن عبدالمجید، رباح بن ابی معروف، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کو کرایہ پر دینے اور اس کو کئی سالوں کے لئے بیچنے اور پھلوں کو مٹھاس آنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔

Jabir binAbdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade leasing of land, and selling ahead for years and selling of fruits before they become ripe.

3916Sahih Muslim

زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ

ابوکامل جحدری، حماد ابن زید، مطر الوراق، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔

Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having forbidden the renting of land.

3917Sahih Muslim

زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ لَقَبُهُ عَارِمٌ وَهُوَ أَبُو النُّعْمَانِ السَّدُوسِيُّ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ

عبد بن حمید، محمد بن فضل، ابونعمان، مہدی بن میمون، مطرالوراق، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کی زمین ہو اسے چاہیے کہ وہ اس میں کھیتی باڑی کرے اگر وہ کھیتی باڑی نہ کرے تو چاہیے کہ اپنے بھائی کو اس میں کھیتی کروائے۔

Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who has land should cultivate it himself, but if he does not cultivate it himself, then he should let his brother cultivate it.

3918Sahih Muslim

زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ لِرِجَالٍ فُضُولُ أَرَضِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَتْ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَی فَلْيُمْسِکْ أَرْضَهُ

حکم بن موسی، ہقل ابن زیاد، اوزاعی، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ کے پاس زائد زمینیں تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس زائد زمین ہو چاہئے کہ وہ اس میں کاشت کرے یا اپنے بھائی کو عطا کر دے پس اگر وہ لینے سے انکار کرے تو اپنی زمین اپنے پاس ہی روک لے۔

Jabir binAbdullah (RA) reported some of the Companions of Allahs Messenger ﷺ had surplus of land. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: He, who has surplus land (in his possession) should cultivate it, or he should lend it to his brother for benefit, but if he refuses to accept it, he should retain it.

3919Sahih Muslim

زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْخَذَ لِلْأَرْضِ أَجْرٌ أَوْ حَظٌّ

محمد بن حاتم، معلی بن منصور رازی، خالد، شیبانی، بکیربن اخنس، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کو کرایہ پر دینے یا اس کی پیداوار سے حصہ لینے سے منع فرمایا۔

Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having forbidden taking of rent or share of land.

3920Sahih Muslim

زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا وَعَجَزَ عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ

ابن نمیر، عبدالملک، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے لئے زمین ہو تو چاہیے کہ اسے کاشت کرے اور اگر اسے کاشت کی طاقت نہ ہو اور اس سے عاجز آگیا ہو تو اپنے بھائی کو عطا کر دے اور اس سے کرایہ نہ لے۔

Jabir (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who has land should cultivate it, but if he does not find it possible to cultivate it, or finds himself helpless to do so, he should lend it to his Muslim brother, but he should not accept rent from him.