عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، نافع ایک اور سند اسی حدیث کی ذکر کی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Nafi with the same chain of transmitters.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَالْعَرِيَّةُ النَّخْلَةُ تُجْعَلُ لِلْقَوْمِ فَيَبِيعُونَهَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، یحییٰ بن سعید اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ عریہ وہ کھجور کا درخت ہے جو کسی قوم کو دے دیا جائے پھر وہ اندازے کے ساتھ اس کے پھلوں کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کر دے۔
Yahya bin Said reported this hadith with the same chain of transmitters but with this change: Ariyya implies that date-palm trees should be donated to the people and then they sell it with a measure of dry dates.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا قَالَ يَحْيَی الْعَرِيَّةُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخَلَاتِ لِطَعَامِ أَهْلِهِ رُطَبًا بِخَرْصِهَا تَمْرًا
محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، یحییٰ بن سعید، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عریہ کی بیع میں رخصت دی اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے تر کھجور۔ یحییٰ نے کہا عریہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اہل عیال کے کھانے کے لئے اندازے کے ساتھ کھجور کے درختوں کا تازہ پھل خشک کھجوروں کے بدلے خریدے۔
Zaid b Thabit (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ gave concession in case of al-ariyya transactions (for exchanging dates) for dates with measure. Yahya said: Ariyya implies that a person should buy fresh dates on the tree for his family to eat against a measure of dry dates.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا کَيْلًا
ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، ابن عمر، حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرایا میں رخصت دی۔ اندازے کے بدلے وزن کو فروخت کرنے کی۔
Zaid bin Thabit (RA) reported Allahs Messenger ﷺ granting concession in case of ariyya transactions and that implies selling of (dry dates for fresh dates) according to a measure.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ أَنْ تُؤْخَذَ بِخَرْصِهَا
ابن مثنی، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور فرمایا اس کے اندازے کے ساتھ لیا جائے۔
Ubaidullah reported this hadith with a slight change of words on the same authority (as quoted above).
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا
ابوربیع، ابوکامل، حماد، علی بن حجر، اسماعیل، ایوب، حضرت نافع سے بھی یہ حدیث مبارکہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عرایا میں اندازے کے ساتھ بیع کی رخصت دی۔
Nafi, reported this hadith with the same chain of transmitters stating that Allahs Messengtr ﷺ granted concession in case of ariyya transactions (for exchange of the same commodity) with measure.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ دَارِهِمْ مِنْهُمْ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَقَالَ ذَلِکَ الرِّبَا تِلْکَ الْمُزَابَنَةُ إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْکُلُونَهَا رُطَبًا
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، سلیمان ابن بلال، یحیی، ابن سعید، حضرت بشیر بن یسار نے بعض اصحاب رسول سے جو ان کے گھر رہتے تھے روایت کی ہے۔ ان میں سے حضرت سہل بن ابی حثمہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کی کھجور کے بدلے بیع سے منع فرمایا اور فرمایا یہی تو ربو اور مزابنہ ہے۔ سوائے اس کے کہ آپ نے عریہ کی ایک اور دو کھجور کے درختوں کی بیع کی رخصت دی۔ جو اندازے کے ساتھ گھر والے خشک کھجوروں سے تر کھجوروں کو کھانے کے لئے لیتے ہیں۔
Bashair bin Yasir reported on the authority of some of the Companions of Allahs Messenger ﷺ among the members of his family among whom one was Sahl bin Abu Hathma that Allahs Messenger ﷺ forbade buying of fresh dates against dry dates and that it is Riba and this is Muzabana, but he made an exemption of ariyya (donations) of a tree or two in which case the members of a family sell dry dates and buy fresh dates for eating them.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَالُوا رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، یحییٰ بن سعید، حضرت بشیربن یسار نے اصحاب رسول ﷺ سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عریہ کی رخصت دی کہ ان کے اندازے کے بدلے خشک کھجوریں دی جائیں۔
Bushair bin Yasar reported on the authority of some of the Companions of Allahs Messenger (may peace be upon hinn) from among the members of his family that he forbade (the direct exchange of a commodity having different qualities) but with the change that Ishaq and Ibn al-Muthanna used the word Zabn in place ot Riba and Ibn Abu Umar used the word Riba (interest).
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی غَيْرَ أَنَّ إِسْحَقَ وَابْنَ الْمُثَنَّی جَعَلَا مَکَانَ الرِّبَا الزَّبْنَ و قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ الرِّبَا
محمد بن مثنی، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، ثقفی، یحییٰ بن سعید، بشیر بن یسار اصحاب رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا باقی حدیث پہلی کی طرح ہے ابن ابی عمر نے فرمایا کہ یہ سود ہی ہے۔
Bushair bin Yasir reported on the authority of some of the Companions of Allahs Messenger (may peace be upon hinn) from among the members of his family that he forbade (the direct exchange of a commodity having different qualities) but with the change that Ishaq and Ibn al-Muthanna used the word Zabn in place ot Riba and Ibn Abu Umar used the word Riba (interest).
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
عمرو ناقد، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن سعید، بشیر بن یسار، حضرت سہل بن ابی حثمہ ؓ نے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Sahl bin Abu Hathma.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَی بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن، حلوانی، ابواسامہ، ولید بن کثیر، بشیربن یسار، مولیٰ بنی حارثہ، حضرت رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اصحاب عرایا کے علاوہ بیع مزابنہ (کھجور کے بدلے کھجور کی بیع) سے منع فرمایا کیونکہ عریہ میں ان کو اجازت دے دی گئی۔
Sahl bin Abu Hathma reported Allahs Messenger ﷺ having forbidden Muzabana, i. e. exchange of fresh dates with dry dates. except in case of those to whom donations of some trees have been made. It is for them that concession has been given.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَی ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ يَشُکُّ دَاوُدُ قَالَ خَمْسَةٌ أَوْ دُونَ خَمْسَةٍ قَالَ نَعَمْ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، مالک، یحییٰ بن یحیی، داؤد بن حصین، ابی سفیان، مولیٰ ابن ابی احمد، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عرایہ کی اندازے کے ساتھ پانچ اوسق کی بیع کی اجازت دی داؤد راوی کو شک ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having given exemption of ariyya transactions measuring less than five wasqs or up to five wasqs (the narrator Dawud is in doubt whether it was five or less than five).
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ کَيْلًا وَبَيْعُ الْکَرْمِ بِالزَّبِيبِ کَيْلًا
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے پھل کے بدلے خشک کھجور وزن کر کے اور کشمش انگور کے ساتھ وزن کرکے بیع کرنا۔
Ibn Umar (RA) (Allah be pleased them) reported Allahs Messenger ﷺ having forbidden Muzabana, and Muzabana implies the selling of fresh dates for dry dates by measuring them out and the selling of raisins by measure for grapes.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ کَيْلًا وَبَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ کَيْلًا وَبَيْعِ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ کَيْلًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر، عبیداللہ، نافع، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کو خشک وزن کر کے کھجور کے بدلے وزن کر کے اور کشمش کو انگور کے ساتھ اور کھڑی فضل کو گندم کے بدلے وزن کر کے بیع کرنا۔
Abdullah (b. Umar) reported that Allahs Apostle ﷺ forbade Muzabana, i. e. buying of fresh dates (on) the trees for dry dates by measure, and the buying of grapes for raisins by measure and the selling of field of corn for corn by measure.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی زائدہ، عبیداللہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Ubaidullah with the same chain of transmitters.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ مَعِينٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ کَيْلًا وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْعِنَبِ کَيْلًا وَعَنْ کُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ
یحییٰ بن معین، ہارون بن عبداللہ، حسین بن عیسی، ابواسامہ، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ کھجور کے پھل کو خشک کھجور کے ساتھ وزن کر کے بیع کرنے اور کشمش کی انگور کے ساتھ وزن کر کے بیع کرنے کو کہتے ہیں اور اسی طرح ہر پھل کو اندازے کے ساتھ بیع کرنے سے منع فرمایا۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having forbidden Muzabana, and Muzabana is the selling of dry dates by measure for fresh dates and the selling of raisins by measure for grapes and selling of all Ports of fruits on the basis of calculation.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُئُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِکَيْلٍ مُسَمَّی إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ
علی بن حجر، زہیر بن حرب، اسماعیل، ابن ابراہیم، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع کیا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے درختوں پر لگی کھجوروں کے بدلے خشک کھجور کے متعین وزن کو فروخت کیا جائے اور اگر یہ زیادہ ہو تو میرا نفع اور اگر کم ہوگئیں تو نقصان مجھ پر ہوگا۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having forbidden Muzabana, and Muzabana implies the selling of dry dates for fresh dates on the tree with a definite measure (making it clear) that in case it increases, it belongs to me and if it is less, it is my responsibility.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوربیع، ابوکامل، حماد، ایوب اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Ayyub.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ کَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ کَيْلًا وَإِنْ کَانَ کَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ کَيْلًا وَإِنْ کَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِکَيْلِ طَعَامٍ نَهَی عَنْ ذَلِکَ کُلِّهِ وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ أَوْ کَانَ زَرْعًا
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، نافع، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا کہ اپنے باغ کے پھل اگر وہ کھجور کے درخت ہوں تو خشک کھجور کے ساتھ وزن کر کے اور اگر انگور ہوں تو کشمش کے ساتھ وزن کر کے بیچے اور اگر کھیتی ہو تو اس کو اناج کے ساتھ وزن کر کے بیچے آپ ﷺ نے ان سب سے منع فرمایا اور قتیبہ کی روایت میں (أَوْ کَانَ زَرْعًا) ہے۔
Abdullah (b. Umar) (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having forbidden Mazabana, and it implies that one should sell the fresh fruits of his orchard (for dry fruits) or, if it is fresh dates, for dry dates with a measure, or if it is grapes for raisins or if it is corn in the field for dry corn with a measure He (the Holy Prophet) in fact forbade all such transactions. Qutaiba has narrated it with a slight variation of words.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنِي الضَّحَّاکُ ح و حَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ابن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، سوید بن سعید، حفص بن میسرہ، موسیٰ بن عقبہ، نافع اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Nafi with another chain of transmitters.