زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدٍ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَتَی رَافِعًا فَذَکَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابن ابی خلف، حجاج بن شاعر، زکریا بن عدی، عبیداللہ بن عمرو، زید بن حکم، حضرت نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ ابن عمر ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے ذکر کی۔
Nafi, reported from Ibn Umar (RA) (Allah be pleated with them) that he came to Rafi and he narrated this hadith from Allahs Apostle ﷺ .
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ يَأْجُرُ الْأَرْضَ قَالَ فَنُبِّئَ حَدِيثًا عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ فَانْطَلَقَ بِي مَعَهُ إِلَيْهِ قَالَ فَذَکَرَ عَنْ بَعْضُ عُمُومَتِهِ ذَکَرَ فِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ قَالَ فَتَرَکَهُ ابْنُ عُمَرَ فَلَمْ يَأْجُرْهُ
محمد بن مثنی، حسین ابن حسن بن یسار، ابن عون، حضرت نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ زمین کی اجرت لیتے تھے انہیں رافع کی حدیث کے بارے میں خبر دی گئی چناچہ وہ مجھے ساتھ لے کر اس کی طرف چلے اور رافع نے اپنے چچاؤں سے حدیث ذکر کی اور اس میں ذکر کیا کہ نبی کریم ﷺ نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے ابن عمر ؓ سے کرایہ چھوڑ دیا اور وہ زمین کا کرایہ نہ لیتے تھے۔
Nafi, reported that Ibn Umar (RA) used to rent the land, and that he was conveyed the hadith transmitted on the authority of Rafi bin Khadij. He (the narrator) said: He then went to him along with me. He (Rafi) narrated from some of his uncles in which it was mentioned that Allahs Apostle ﷺ forbade the renting of land. Ibn Umar (RA) then abandoned this practice of renting.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَحَدَّثَهُ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن حاتم، یزید بن ہارون، ابن عون اسی حدیث کی دوسری سند ہے کہ حضرت رافع ؓ نے اپنے چچاؤں سے نبی کریم ﷺ کی حدیث بیان کی۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters.
زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُکْرِي أَرَضِيهِ حَتَّی بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ کَانَ يَنْهَی عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کِرَائِ الْأَرْضِ قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ لِعَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَکَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ کُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُکْرَی ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَکُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِکَ شَيْئًا لَمْ يَکُنْ عَلِمَهُ فَتَرَکَ کِرَائَ الْأَرْضِ
عبدالملک بن شعیب بن لیث بن سعد، عقیل بن خالد، ابن شہاب، حضرت سالم بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ اپنی زمین کو کرایہ پر دیتے تھے یہاں تک کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری ؓ زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کرتے ہیں چناچہ عبداللہ ؓ ان سے ملے اور ان سے کہا اے ابن خدیج! آپ رسول اللہ ﷺ سے زمین کے کرایہ کے بارے میں کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ تو رافع بن خدیج ؓ نے عبداللہ ؓ سے کہا کہ میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا اور وہ بدر کی جنگ میں شریک ہوئے وہ دونوں گھر والوں سے حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے منع کیا حضرت عبداللہ ؓ نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں زمین کرایہ پر دی جاتی تھی پھر حضرت عبداللہ ؓ اس خوف سے کہ ہوسکتا ہے رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں کوئی حکم دیا ہو جو ان کے علم میں نہ ہو زمین کو کرایہ پر دینا چھوڑ دیا۔
Salim binAbdullah reported that AbduUah bin Umar (RA) used to give land on rent until (this news) reached him that Rafi bin Khadij Ansari used to forbid the renting of land.Abdullah met him and said: Ibn Khadij, what is this that you narrate from Allahs Messenger ﷺ pertaining to renting of land? Rafi bin Khadij said toAbdullah (RA) : I heard it from two uncles of mine and they had participated in the Battle of Badr who narrated to the members of the family that Allahs Messenger ﷺ forbade the renting of land.Abdullah said: I knew it that the land was rented during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ .Abdullah then apprehended that Allahs Messenger ﷺ might have said something new in this connection (in regard to prohibition of renting) which I failed to know. So he abandoned the renting of land.
معین اناج پر زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ يَعْلَی بْنِ حَکِيمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ کُنَّا نُحَاقِلُ الْأَرْضَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُکْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّی فَجَائَنَا ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مَنْ عُمُومَتِي فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ فَنُکْرِيَهَا عَلَی الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّی وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا أَوْ يُزْرِعَهَا وَکَرِهَ کِرَائَهَا وَمَا سِوَی ذَلِکَ
علی بن حجرسعدی، یعقوب بن ابراہیم، اسماعیل، ابن علیہ، ایوب، یعلی بن حکیم، سلیمان بن یسار، حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں زمین کرایہ پر دیتے تھے اور ہم اس کا کرایہ تہائی اور چوتھائی اور معین اناج وصول کرتے کہ ایک دن میرے چچاؤں میں سے ایک آدمی ہمارے پاس آئے انہوں نے کہا ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ہمارے نفع کے کام سے منع فرمایا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں ہمارے لئے زیادہ نفع ہے اور ہمیں زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا جبکہ ہم تہائی اور چوتھائی اور معین اناج کے بدلہ کرایہ پر دیتے تھے اور آپ ﷺ نے زمین کے مالک کو حکم دیا کہ وہ اسے کاشت کرے یا کسی سے کاشت کروائے اور زمین کو کرایہ پر دینے اور کسی دوسری طرح اس کے علاوہ دینے سے بھی منع فرمایا۔
Rafi bin Khadij (RA) reported: We used to give on rent land during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ . We rented it on the share of one-third or one-fourth of the (produce) along with a definite quantity of corn. One day a person from among my uncles came to us and said: Allahs Messenger ﷺ forbade us this act which was a source of benefit to us, but the obedience to Allah and to His Messenger ﷺ is more beneficial to us. He forbade us that we should rent land with one-third or one-fourth of (the produce) and the corn of a measure, and he commanded the owner of land that he should cultivate it or let it be cultivated by other (persons) but he showed disapproval of renting it or anything besides it.
معین اناج پر زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ کَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَی بْنُ حَکِيمٍ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ کُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ فَنُکْرِيهَا عَلَی الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ
یحییٰ بن یحیی، حماد بن زید، ایوب، سلیمان بن یسار، حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ ہم زمین کو کرایہ پر دیتے تو تہائی اور چوتھائی حصہ کرایہ وصول کرتے باقی حدیث ابن علیہ کی حدیث کی طرح ذکر کی۔
Rafi bin Khadij (RA) reported: We used to give land on rent, and we rented it on one-third or one-fourth share. The rest of the hadith is the same.
معین اناج پر زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ يَعْلَی بْنِ حَکِيمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
یحییٰ بن حبیب، خالد بن حارث، عمرو بن علی، عبدالاعلی، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عروبہ، حضرت یعلی بن حکیم سے بھی ان اسناد کے ساتھ یہی حدیث مروی ہے۔
Another chain narrated the same as the above hadith.
معین اناج پر زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ يَعْلَی بْنِ حَکِيمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ
ابوطاہر، ابن وہب، جریر بن حازم، حضرت یعلی بن حکیم سے بھی ان اسناد کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں حضرت رافع ؓ نے اپنے چچاؤں کا واسطہ بیان نہیں کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Rafi bin Khadij with the same chain of transmitters, but in it no mention is made of some of his uncles.
معین اناج پر زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَی رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ رَافِعٍ أَنَّ ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ وَهُوَ عَمُّهُ قَالَ أَتَانِي ظُهَيْرٌ فَقَالَ لَقَدْ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ کَانَ بِنَا رَافِقًا فَقُلْتُ وَمَا ذَاکَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ قَالَ سَأَلَنِي کَيْفَ تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِکُمْ فَقُلْتُ نُؤَاجِرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَی الرَّبِيعِ أَوْ الْأَوْسُقِ مِنْ التَّمْرِ أَوْ الشَّعِيرِ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا أَوْ أَمْسِکُوهَا
اسحاق بن منصور، ابومسہر، یحییٰ بن حمزہ، ابوعمرو اوزاعی، ابی النجاشی مولیٰ رافع بن خدیج، حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ میرے چچا ظہیر بن رافع میرے پاس آئے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے کام سے منع کردیا جو ہمارے لئے نفع مند تھا تو میں نے کہا وہ کیا ہے؟ اور رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا وہ حق ہے انہوں نے کہا کہ مجھ سے آپ ﷺ نے پوچھا کہ تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم اس کو کرایہ پر دیتے ہیں چوتھائی پیداوار یا کھجور یا جو کے معین وسق کے بدلے تو آپ ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرو اسے خود کاشت کرو یا دوسرے سے کاشت کراؤ یا اسے اپنے پاس روکے رکھو۔
Rafi (RA) reported that Zuhair bin Rafi (who was his uncle) came to me and said: Allahs Messenger ﷺ forbade a practice which was useful for us. I said: What is this? (I believe) that whatrver Allahs Messenger ﷺ says is absolutely true. He (Zuhair) said that he (the Holy Prophet) asked me: What do you do with your cultivable lands? I said: Allahs Messenger, we rent those irrigated by canals for dry dates or barley. He said: Dont do that. Cultivate them or let them be cultivated (by others) or retain them yourself.
معین اناج پر زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ عَنْ رَافِعٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا وَلَمْ يَذْکُرْ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرٍ
محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی، عکرمہ بن عمار، ابی النجاشی، حضرت رافع ؓ نے نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث روایت کی اور اپنے چچا ظہیر کا درمیان میں واسطہ ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Rafi from the Prophet ﷺ about this, but he did not make mention of his uncle Zuhair.
سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ فَقَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ قَالَ فَقُلْتُ أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ
یحییٰ بن یحیی، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، حضرت حنظلہ بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت رافع بن خدیج ؓ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا میں نے عرض کیا کیا سونے اور چاندی کے عوض بھی کرایہ پر دینے سے منع ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔
Hanzala bin Qais reported that he asked Rafi bin Khadij (RA) about renting of land, whereupon he said: Allahs Messenger ﷺ forbade the renting of land. I said: Is it forbidden (even if it is paid) in gold (dinar) and silver (dirham)? Thereupon he said: If it is paid in gold and silver, there is no harm in it.
سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ إِنَّمَا کَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَائَ مِنْ الزَّرْعِ فَيَهْلِکُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِکُ هَذَا فَلَمْ يَکُنْ لِلنَّاسِ کِرَائٌ إِلَّا هَذَا فَلِذَلِکَ زُجِرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَيْئٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ
اسحاق، عیسیٰ بن یونس، اوزاعی، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، حضرت حنظلہ بن قیس انصاری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رافع بن خدیج ؓ سے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نہر کے کناروں اور نالیوں کے سروں پر زمین کرایہ پر دیتے تھے تو بعض اوقات اس زمین کی تباہی ہوتی اور دوسری سلامت رہتی اور بعض دفعہ یہ سلامت رہتی اور وہ ہلاک ہوجاتی اور لوگوں میں سے بعض کو بچے ہوئے کے علاوہ کچھ کرایہ وصول نہ ہوتا اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہاں اگر کرایہ کے بدلے کوئی معین اور ضمانت شدہ چیز ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔
Hanzala bin Qais al-Ansri reported: I asked Rafi bin Khadij about the renting of land for gold and silver, whereupon he said: There is no harm in it for the people let out land situated near canals and at the ends of the streamlets or portion of fields. (But it so happened) that at times this was destroyed and that was saved. whereas (on other occasions) this portion was saved and the other was destroyed and thus no rent was payable to the people (who let out lands) but for this one (which was saved). It was due to this that he (the Holy Prophet) prohibited it. But if there is something definite and reliable (e. g. money). there is no harm in it.
سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُا کُنَّا أَکْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا قَالَ کُنَّا نُکْرِي الْأَرْضَ عَلَی أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِکَ وَأَمَّا الْوَرِقُ فَلَمْ يَنْهَنَا
عمرو ناقد، سفیان بن عتبہ، یحیی، ابن سعید، حضرت حنظلہ زرقی سے روایت ہے کہ رافع بن خدیج ؓ فرماتے تھے ہم انصار میں سے زیادہ محاقلہ والے تھے اور زمین اس شرط سے کرایہ پر دیتے تھے کہ یہاں کی پیداوار ہمارے لئے اور یہ ان کے لئے کبھی یہاں پیداوار ہوتی اور وہاں نہ ہوتی تو آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع کردیا بہرحال چاندی کے بدلے دینے سے ہمیں منع نہیں کیا۔
Hanzala reported that he heard Rafi bin Khadij (RA) say: We were the major agriculturists of the Ansar and so we let out land (saying): The produce of this (part of land) would be ours and (the produce) of that would be theirs. But it so happened that at times this (land) gave harvest, but the other one produced nothing. So he (the Holy Prophet) forbade this. But so far as the payment in silver (dirham, a coin) is concerned, he did not forbid.
سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوربیع، حماد، ابن مثنی، یزید بن ہارون، حضرت یحییٰ بن سعید نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Yahya bin Said with the same chain of transmitters.
مزارعت اور مواجرہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ کِلَاهُمَا عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ عَنْ الْمُزَارَعَةِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاکِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَارَعَةِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ نَهَی عَنْهَا وَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ مَعْقِلٍ وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ
یحییٰ بن یحیی، عبدالواحد بن زیاد، ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، حضرت عبداللہ بن سائب ؓ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن معقل ؓ سے مزارعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے ثابت بن ضحاک ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے مزارعت سے منع فرمایا ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس سے منع کیا اور کہتے ہیں کہ ابن معقل سے میں نے پوچھا عبداللہ کا نام نہیں لیا۔
Abdullah bin al Saib reported: I askedAbdullah bin Maqil about Muzaraa (cultivating land on share basis in the produce). He said: Thabit bin Dahhak informed me that Allahs Messenger ﷺ forbade Muzaraa as Ibn Abu Shaiba forbade it with a slight change of words. He (the narrator) said: I asked Ibn Maqil but he did not name Abdullah.
مزارعت اور مواجرہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ الْمُزَارَعَةِ فَقَالَ زَعَمَ ثَابِتٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَارَعَةِ وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ وَقَالَ لَا بَأْسَ بِهَا
اسحاق بن منصور، یحییٰ بن حماد، ابوعوانہ، سلیمان شیبانی، حضرت عبداللہ بن سائب ؓ سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ بن معقل ؓ کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے مزارعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ حضرت ثابت ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مزارعت سے منع فرمایا ہے اور اجرت پر دینے کا حکم دیا ہے اور فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
Abdullah bin al-Saib reported: We visited Abdullah bin Maqil and asked him about sharing of crops, whereupon he said: Thabit alleged that Allahs Messenger ﷺ forbade Muzaraa and commanded leasing it out on rent (for money) and said: There is no harm in it.
زمین ہبہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو أَنَّ مُجَاهِدًا قَالَ لِطَاوُسٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَاسْمَعْ مِنْهُ الْحَدِيثَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَانْتَهَرَهُ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهُ مَا فَعَلْتُهُ وَلَکِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا
یحییٰ بن یحیی، حماد بن زید، عمرو، مجاہد، طاؤس، رافع بن خدیج، حضرت عمرو (رح) سے روایت ہے کہ مجاہد (رح) نے طاؤس (رح) سے کہا کہ ہمیں رافع بن خد یج ؓ کے لڑکے کے پاس لے چلو اور ان سے حدیث سنو جو وہ اپنے باپ کے واسطے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں طاؤس سے روایت کرتے ہیں طاؤس نے مجاہد کو جھڑکا اور کہا اللہ کی قسم! اگر میں جانتا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے تو میں نہ کرتا لیکن مجھے حدیث بیان کی اس نے جو صحابہ ؓ میں سے زیادہ جاننے والے ہیں یعنی ابن عباس ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کو اپنی زمین ہبہ کر دے تو یہ اس سے معین کرایہ و خراج وصول کرنے سے بہتر ہے
Mujahid said to Tawus: Come along with me to Ibn Rafi bin Khadij in order to listen from him the hadith transmitted on the authority of his father (pertaining to the renting of land) from Allahs Apostle ﷺ . He (Tawus) scolded him and said: By Allah, it I were to know that Allahs Messenger ﷺ had forbidden it, I would have never done it. But it has been narrated to me by one who has better knowledge of it amongst them (and he meant Ibn Abbas) that Allahs Messenger ﷺ said: It is better if a person lends, his land to his brother (for cultivation) than that he gets recognised rent on it.
زمین ہبہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو وَابْنُ طَاوُسٍ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ کَانَ يُخَابِرُ قَالَ عَمْرٌو فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوْ تَرَکْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُخَابَرَةِ فَقَالَ أَيْ عَمْرُو أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَلِکَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا إِنَّمَا قَالَ يَمْنَحُ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا
ابن ابی عمر، سفیان، عمرو، حضرت عمر بن طاؤس سے روایت ہے کہ طاؤس اپنی زمین مخابرہ پر دیتا تھا عمرو کہتے ہیں میں نے انہیں کہا اے ابوعبدالرحمن کاش تم مخابرہ چھوڑ دو کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مخابرہ سے منع کیا تو انہوں نے کہا اے عمرو! مجھے ان سے زیادہ جاننے والے یعنی ابن عباس ؓ نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع نہیں کیا آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اگر اپنے بھائی کو زمین ہبہ کر دے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے معین خراج و کرایہ وصول کرے۔
Tawus reported that he let out his land on rent, whereupon Amr said: I said to him: Abu Abdul Rahrman, I wish if you abandon this renting of land, for they alleged that Allahs Apostle ﷺ forbade Mukhabara. He siad: Amr, one who has informed me has the best knowledge of it among them (he meant Ibn Abbas (RA) ). (He said) that Allahs Apostle ﷺ did not prohibit it altogether, but said: Lending of land by one among you to his brother is better for him than getting a specified amount of produce from it.
زمین ہبہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی عَنْ شَرِيکٍ عَنْ شُعْبَةَ کُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
ابن ابی عمر، ثقفی، ایوب، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، سفیان، محمد بن رمح، لیث، ابن جریج، علی بن حجر، فضل بن موسی، شریک، شعبہ، حضرت عمرو (رح) بن دینار، طاؤس (رح)، ابن عباس ؓ کی روایت کی طرح دوسری سندات بیان کی ہیں ان اسناد سے بھی اسی طرح حدیث مروی ہے۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Ibn Abbas (RA) .
زمین ہبہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا کَذَا وَکَذَا لِشَيْئٍ مَعْلُومٍ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ الْحَقْلُ وَهُوَ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَةُ
عبد بن حمید، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن طاو س، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین ہبہ کر دے یہ اس سے اتنی اتنی معلوم چیز وصول کرنے سے بہتر ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا یہی حقل ہے جسے انصار محاقلہ کہتے ہیں۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: If one among you lets out land to his brother, that is better for him than if he receives such and such (the definite thing). Ibn Abbas (RA) said: It is Haql, and in the parlance of the Ansar it is Muhaqala.