لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ مُوسَی الْجُهَنِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُوسَی الْجُهَنِيُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ يَکْسِبَ کُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ کَيْفَ يَکْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ قَالَ يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَيُکْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، مروان، علی بن مسہر، موسیٰ جہنی، محمد بن عبداللہ بن نمیر، مصعب بن سعد اپنے والد حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی ہر دن ہزار نیکیاں کرنے سے عاجز ہے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر صحابہ کرام میں سے کسی پوچھنے والے نے پوچھا ہم میں کوئی آدمی ہزار نیکیاں کیسے کرسکتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو آدمی سُبْحَانَ اللَّهِ سو مرتبہ پڑھتا ہے اس کے لئے ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا اس کی ہزار خطائیں مٹا دی جاتی ہیں۔
Musab bin Sad reported that his father told him that he had been in the company of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he said: Is one amongst you powerless to get one thousand virtues every day. Amongst those who had been sitting there, one asked: How one amongst us can get one thousand virtues every day? He said: Recite: "Hallowed be Allah" one hundred times for (by reciting them) one thousand virtues are recorded (to your credit) and one tbousand vices are blotted out.
تلاوت قرآن اور ذکر کے لئے اجتماع کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ کُرْبَةً مِنْ کُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ کُرْبَةً مِنْ کُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَی مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ وَمَنْ سَلَکَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَی الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ کِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّکِينَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِکَةُ وَذَکَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوبکر بن ابی شبیہ محمد بن علاء ہمدانی یحییٰ بن یحییٰ ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے کسی مومن سے دنیا میں مصیبتوں کو دور کیا اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں کو دور کرے گا اور جس نے تنگ دست پر آسانی کی اللہ اس پر دنیا میں اور آخرت میں آسانی کرے گا اور اللہ اس بندے کی مدد میں ہوتے ہیں جو اپنے بھائی کی مدد میں لگا ہوتا ہے اور جو ایسے راستے پر چلا جس میں علم کی تلاش کرتا ہو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ذریعہ جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور اس کی تعلیم میں مصروف ہوتے ہیں ان پر سکینہ نازل ہوتی ہے اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ ان کا ذکر اپنے پاس موجود فرشتوں میں کرتے ہیں اور جس شخص کو اس کے اپنے اعمال نے پیچھے کردیا تو اسے اس کا نسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who alleviates the suffering of a brother out of the sufferings of the world, Allah would alleviate his suffering from the sufferings of the Day of Resurrection, and he who finds relief for one who is hard pressed, Allah would make things easy for him in the Hereafter, and he who conceals (the faults) of a Muslim, Allah would conceal his faults in the world and in the Hereafter. Allah is at the back of a servant so long as the servant is at the back of his brother, and he who treads the path in search of knowledge, Allah would make that path easy, leading to Paradise for him and those persons who assemble in the house among the houses of Allah (mosques) and recite the Book of Allah and they learn and teach the Quran (among themselves) there would descend upon them the tranquillity and mercy would cover them and the angels would surround them and Allah makes a mention of them in the presence of those near Him, and he who is slow-paced in doing good deeds, his (high) descent does not make him go ahead.
تلاوت قرآن اور ذکر کے لئے اجتماع کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَاه نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَخَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ أَبِي أُسَامَةَ لَيْسَ فِيهِ ذِکْرُ التَّيْسِيرِ عَلَی الْمُعْسِرِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، نصر بن علی جہضمی ابواسامہ اعمش، ابی اوفیٰ ابی اسامہ ابوصالح اس سند سے بھی یہ حدیث حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لیکن ابواسامہ کی حدیث میں تنگ دست پر آسانی کرنے کا ذکر موجود نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.
تلاوت قرآن اور ذکر کے لئے اجتماع کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَی أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْکُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا حَفَّتْهُمْ الْمَلَائِکَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّکِينَةُ وَذَکَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق ابی مسلم حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ ان دونوں نے نبی ﷺ پر گواہی دیتے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو قوم بھی بیٹھ کر اللہ رب العزت کے ذکر میں مشغول ہوتی ہے فرشتے انہیں گھیر لتے ہیں اور رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور سکینہ ان پر نازل ہوتی ہے اور اللہ اپنے پاس والوں میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔
Agharr Abi Muslim reported: I bear witness to the fact that both Abu Hurairah (RA) and Abu Said Khudri were present when Allahs Messenger may peace be upon him) said: The people do not sit but they are surrounded by angels and covered by Mercy, and there descends upon them tranquillity as they remember Allah, and Allah makes a mention of them to those who are near Him.
تلاوت قرآن اور ذکر کے لئے اجتماع کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
زہیر بن حرب، عبدالرحمن شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.
تلاوت قرآن اور ذکر کے لئے اجتماع کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَی حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَکُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْکُرُ اللَّهَ قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَکُمْ إِلَّا ذَاکَ قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاکَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْکُمْ تُهْمَةً لَکُمْ وَمَا کَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَی حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَکُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْکُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَی مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَکُمْ إِلَّا ذَاکَ قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاکَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْکُمْ تُهْمَةً لَکُمْ وَلَکِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِکُمْ الْمَلَائِکَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، مرحوم بن عبدالعزیز ابی نعامہ سعدی ابی عثمان حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ (رض) کا مسجد میں موجود ایک حلقہ کے پاس سے گزر ہوا تو کہا تم کو کس چیز نے بٹھایا ہے انہوں نے کہا ہم اللہ کے ذکر کے لئے بیٹھے ہیں انہوں نے کہا کیا تمہیں اللہ کی قسم صرف اسی بات نے بٹھایا ہوا ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم صرف اسی لئے بیٹھے ہوئے ہیں حضرت معاویہ نے کہا میں نے تم سے قسم کسی بدگمانی کی وجہ سے نہیں لی اور میرے مقام و مرتبہ والا کوئی بھی آدمی رسول اللہ ﷺ سے مجھ سے کم حدیثوں کو بیان کرنے والا نہیں اور بیشک ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کرام کے ایک حلقے کی طرف تشریف لے گئے تو فرمایا تمہیں کس بات نے بٹھلایا ہوا ہے صحابہ نے عرض کیا ہم اللہ کا ذکر کرنے اور اس کی اس بات پر حمد کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور ہم پر اس کے ذریعہ احسان فرمایا آپ ﷺ نے فرمایا کیا اللہ کی قسم تمہیں اس بات کے علاوہ کسی بات نے نہیں بٹھایا صحابہ نے عرض کیا اللہ کی قسم ہم صرف اسی لئے بیٹھے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں تم سے قسم کسی بدگمانی کی وجہ سے نہیں اٹھوئی بلکہ میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ اللہ رب العزت تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کر رہا ہے۔
Abu Said Khudri reported that Muawiyah went to a circle in the mosque and said: What makes you sit here? They said: We are sitting here in order to remember Allah. He said: I adjure you by Allah (to tell me whether you are sitting here for this very purpose)? They said: By Allah, we are sitting here for this very purpose. Thereupon, he said: I have not demanded you to take an oath, because of any allegation against you and none of my rank in the eye of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is the narrator of so few ahadith as I am. The fact is that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went out to the circle of his Companions and said: What makes you sit? They said: We are sitting here in order to remember Allah and to praise Him for He guided us to the path of Islam and He conferred favours upon us. Thereupon he adjured by Allah and asked if that only was the purpose of their sitting there. They said: By Allah, we are not sitting here but for this very purpose, whereupon he (the Messenger) said: I am not asking you to take an oath because of any allegation against you but for the fact that Gabriel (علیہ السلام) came to me and he informed me that Allah, the Exalted and Glorious, was talking to the angels about your magnificence.
استغناء کی کثرت کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ وَکَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَی قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، ابوربیع عتکی حماد یحییٰ حماد بن زید ثابت حضرت اغر مزنی صحابی رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے دل پر (کبھی کبھی) غفلت آجاتی ہے اسی وجہ سے میں دن میں سو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔
Al-Agharr al-Muzani, who was one amongst the Companions (of the Holy Prophet) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There is (at times) some sort of shade upon my heart, and I seek forgiveness from Allah a hundred times a day.
استغناء کی کثرت کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَغَرَّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَی اللَّهِ فَإِنِّي أَتُوبُ فِي الْيَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، عمرو بن مرہ نبی ﷺ کے صحابہ کرام میں سے حضرت اغر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو اللہ سے توبہ کرو کیونکہ میں دن میں سو مرتبہ اس (اللہ عزَّوجَلّ ) سے توبہ کرتا ہوں۔
Al-Agharr al-Muzani who was from amongst the Companions of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) reported that Ibn Umar stated to him that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: O people, seek repentance from Allah. Verily, I seek repentance from Him a hundred times a day.
استغناء کی کثرت کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ
عبیداللہ بن معاذ ابن مثنی ابوداؤد عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.
استغناء کی کثرت کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد سلیمان بن حیان ابن نمیر، اشج حفص ابن غیاث ہشام ابوخیثمہ زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام بن حسان محمد بن سیرین حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے سورج کی مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے پہلے توبہ کرلی تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who seeks repentance (from the Lord) before the rising of the sun from the west (before the Day of Resurrection), Allah turns to him with Mercy.
آہستہ آواز سے ذکر کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّکْبِيرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ إِنَّکُمْ لَيْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّکُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَکُمْ قَالَ وَأَنَا خَلْفَهُ وَأَنَا أَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی کَنْزٍ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل ابومعاویہ عاصم، ابی عثمان حضرت ابوموسی سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے صحابہ نے بلند آواز سے اَللّٰهُ أَکْبَرُ کہنا شروع کردیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اے لوگوں اپنی جانوں پر ترس کرو تم کسی غائب یا بہرے کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ تم سننے والے اور قریب والے کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے اور میں اس وقت آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ پڑھ رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ بن قیس کیا تمہیں جنت کے خزانوں میں سے خزانہ نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہو۔
Abu Musa reported: We were along with Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on a journey when the people began to pronounce Allah-o-Akbar in a loud voice. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: O people, show mercy to yourselves for you are not calling One Who is deaf or absent. Verily, you are calling One Who is All-Hearing (and) Near to you and is with you. Abu Musa told that he had been behind him (the Holy Prophet) and reciting: "There is neither might nor power but that of Allah." He (the Holy Prophet), while addressing Abdullah bin Qais (RA) , said: Should I not direct you to a treasure from amongst the treasurers of Paradise? I (Abdullah bin Qais (RA) ) said: Allahs Messenger, do it, of course. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Then recite: "There is no might and no power but that of Allah."
آہستہ آواز سے ذکر کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، ابو سعید اشج حفص بن غیاث عاصم، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Asim with the same chain of transmitters.
آہستہ آواز سے ذکر کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَی أَنَّهُمْ کَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَصْعَدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ فَجَعَلَ رَجُلٌ کُلَّمَا عَلَا ثَنِيَّةً نَادَی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ قَالَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا قَالَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَی أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی کَلِمَةٍ مِنْ کَنْزِ الْجَنَّةِ قُلْتُ مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ابوکامل فضیل بن حسین یزید بن زریع تیمی ابی عثمان حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک گھاٹی پر چڑھ رہے تھے ایک شخص نے ہر گھاٹی پر چڑھتے ہوئے بلند آواز سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ کہنا شروع کردیا تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا تم بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو پھر اے ابوموسی یا اے عبداللہ بن قیس فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں جنت کے خزانے کی خبر نہ دوں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کونسا ہے آپ ﷺ نے فرمایا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ۔
Abu Musa reported that he (and his other companions) were climbing upon the hillock along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and when any person climbed up, he pronounced (loudly): "There is no god but Allah, Allah is the Greatest." Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Verily, you are not supplicating One Who is deaf or absent. He said: Abu Musa or Abdullah b Qais, should I not direct you to the words (which form) the treasure of Paradise? I said: Allahs Messenger, what are these? He said: "There is no might and no power but that of Allah."
آہستہ آواز سے ذکر کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ نَحْوَهُ
محمد بن عبدالاعلی معتمر ابوعثمان حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے باقی حدیث مبارکہ اسی طرح مذکور ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Musa with a slight variation of wording.
آہستہ آواز سے ذکر کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَاصِمٍ
خلف بن ہشام ابوربیع حماد بن زید ایوب ابی عثمان حضرت ابوموسی سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے باقی حدیث مبارکہ عاصم کی طرح ذکر کی۔
Abu Musa reported: We were along with Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on a journey; the rest of the hadith is the same as transmitted by Asim.
آہستہ آواز سے ذکر کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ إِلَی أَحَدِکُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَةِ أَحَدِکُمْ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِکْرُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
اسحاق بن ابراہیم ثقفی خالد حذاء ابی عثمان حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے پھر اسی طرح حدیث روایت کی اس میں یہ بھی فرمایا جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہاری سواری کی گردن سے بھی تمہارے زیادہ نزدیک ہے اور ان کی حدیث میں (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ) کا ذکر نہیں ہے۔
Abu Musa, reported. We were along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in an expedition. The rest of the hadith is the same (and there is an addition of these words in that): "He (the Holy Prophet) said: He Whom you are supplicating is nearer to every one of you than the neck of his camel." And there is no mention of these words: "There is no might and no power but that of Allah."
آہستہ آواز سے ذکر کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی کَلِمَةٍ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّةِ أَوْ قَالَ عَلَی کَنْزٍ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ بَلَی فَقَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل عثمان ابن غیاث ابوعثمان حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ کی خبر نہ دوں یا فرمایا جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کی میں نے عرض کیا کیوں نہیں آپ نے فرمایا وہ (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ) ہے۔
Abu Musa Ashari reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Should I not direct you to the words from the treasures of Paradise, or he said: Like a treasure from the treasures of Paradise? I said: Of course, do that. Thereupon he said: "There is no might and no power but that of Allah."
دعاؤں اور پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنِي دُعَائً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا کَبِيرًا وَقَالَ قُتَيْبَةُ کَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِي إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، یزید بن ابی حبیر حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا مجھے ایسی دعا تعلیم دیں جسے میں اپنی نماز میں مانگا کروں آپ ﷺ نے فرمایا ( اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا کَثِيرًا) پڑھا کرو اے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت بڑا ظلم کیا اور قتیبہ نے کہا بہت زیادہ ظلم کیا اور تیرے سوا گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں پس اپنے پاس سے میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما بیشک تو ہی معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
Abu Bakr (RA) reported that he said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : Teach me a supplication which I should recite in my prayer. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Recite: "O Allah, I have done great wrong to myself." According to Qutaiba the words were: (much wrong) there is none to forgive the sins but Thou only, say: "Grant me pardon from Thyself, have mercy upon me for Thou art much Forgiving and Compassionate."
دعاؤں اور پناہ مانگنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ سَمَّاهُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقَولُ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ دُعَائً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي وَفِي بَيْتِي ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ظُلْمًا کَثِيرًا
ابوطاہر عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، یزید بن ابی حبیب، ابی جبیر حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے ایسی دعا سکھائیں جسے میں اپنی نماز میں اور اپنے گھر میں مانگا کروں پھر اسی طرح حدیث مبارکہ روایت کی لیکن اس میں ظُلْمًا کَثِيرًا (بہت زیادہ ظلم کیا) ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Amr bin al-As that Abu Bakr Siddiq (RA) said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : Allahs Messenger, teach me a supplication which I should make in my prayer and in my house. The rest of the hadith is the same except with this variation that he said: Much wrong (Zulman Kathira).
دعاؤں اور پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَائِ الدَّعَوَاتِ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَی وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَائِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنْ الْخَطَايَا کَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ کَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْکَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ
ابوبکر بن ابی شیبہ ابوکریب ابی بکر ابن نمیر، ہشام حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان دعاؤں سے دعا مانگا کرتے تھے اے اللہ میں تجھ سے جہنم کے فتنہ اور جہنم کے عذاب اور قبر کے فتنہ اور قبر کے عذاب اور مال و دولت کے فتنہ کے شر سے اور تنگ دستی کے فتنہ کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ میری خطاؤں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو ڈال اور میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جیسا کہ تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کردیا ہے میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری فرما دے جتنی دوری تو نے مشرق ومغرب کے درمیان فرمائی ہے اے اللہ میں تجھ سے سستی اور بڑھاپے اور گناہ اور قرض سے پناہ مانگتا ہوں۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to make these supplications: "O Allah, I seek refuge in Thee from the trial of Hell-Fire; and from the torment of Hell-Fire; and from the trial of the grave and torment of the grave; and from the evil of the trial of the affluence and from the evil of the trial of poverty and I seek refuge in Thee from the evil of the turmoil of the Dajjal. O Allah, wash away my sins with snow and hail water, purify my heart from the sins as is purified the white garment from the dirt, and keep away at a distance the sins from me as yawns the distance between the East and the West; O Allah, I seek refuge in Thee from sloth, from senility, from sin, and from debt."