Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 342 of 379

6832Sahih Muslimصحیح

ذکر دعا اور اللہ کے تقرب کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْکُرُنِي فَإِنْ ذَکَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَکَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَکَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَکَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُ وَإِنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابی کریب ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ رب العزت فرماتا ہے میں اپنے بندے سے اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اور اگر وہ مجھ دل میں یاد کرے میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے گروہ میں یاد کرے میں اسے اس سے بہتر گروہ میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں چار ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس آتا ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, thus stated: I live in the thought of My servant as he thinks about Me, and I am with him, as he remembers Me And if he remembers Me in his heart, I also remember him in My Heart, and if he remembers Me in assembly I remember him in the assembly, better than he (does that), and if he draws near Me by the span of a palm I draw near him by the cubit, and if he draws near Me by the cubit I draw near him by the space (covered by) two hands. And it he walks towards Me, I rush towards him.

6833Sahih Muslimصحیح

ذکر دعا اور اللہ کے تقرب کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ جَائَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ وَمَنْ جَائَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاؤُهُ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِکُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ

ابوبکر بن ابی شبیہ وکیع، اعمش، معرور بن سوید حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ جو ایک نیکی لائے گا اسے اس کی دس مثل ثواب ہوگا اور میں اور زیادہ اجر عطا کروں گا اور جو برائی لائے گا تو اس کا بدلہ اسی کی مثل ہوگا یا میں اسے معاف کر دوں گا اور جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوگا میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوں گا اور جو مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوگا میں چار ہاتھ اس کے قریب ہوں گا جو میرے پاس چل کر آئے گا میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں اور جس نے تمام زمین کے برابر گناہ لے کر مجھ سے ملاقات کی بشرطیکہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو تو میں اس سے اسی کی مثل مغفرت کے ساتھ ملاقات کرتا ہوں۔

Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, stated: "He who comes with goodness, there are in store for him ten like those and even more than those: And he who comes with vice, it is only for that that he is called to account. I even forgive him (as I like) and he who draws close to Me by the span of a palm I draw close to him by the cubit, and he who draws close to Me by the cubit I draw close to him by the space (covered) by two hands, and he who walks towards Me I rush towards him, and he who meets Me in the state that his sins fill the earth, but not associating anything with Me, I would meet Him with the same (vastness) of pardon (on My behalf). "This hadith has been transmitted on the authority of Waki.

6834Sahih Muslimصحیح

ذکر دعا اور اللہ کے تقرب کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ

ابو کریب، ابومعاویہ، اعمش (رض) اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے فرق صرف یہ ہے کہ فرمایا اس کے لئے اس کی دس مثل ثواب ہوتا ہے اور میں زیادہ بھی عطا کرتا ہوں۔

A hadith like this has been transmitted on the authority of Amash with the same chain of transmitters and he (further) said: There is for him ten like that (the good he performed) or more than that.

6835Sahih Muslimصحیح

دنیا میں ہی عذاب مانگنے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی الْحَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَدْ خَفَتَ فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ کُنْتَ تَدْعُو بِشَيْئٍ أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ قَالَ نَعَمْ کُنْتُ أَقُولُ اللَّهُمَّ مَا کُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ لَا تُطِيقُهُ أَوْ لَا تَسْتَطِيعُهُ أَفَلَا قُلْتَ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ

ابوخطاب زیاد بن یحییٰ حسانی محمد بن ابی عدی حمید ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کی عیادت کی جو مرغ کے چوزہ کی طرح کمزور ہوچکا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو کسی چیز کی دعا مانگتا تھا یا اس سے کسی چیز کا سوال کرتا تھا اس نے عرض کیا جی ہاں میں کہتا تھا اے اللہ جو تو آخرت میں مجھے سزا دینے والا ہے اسے فورا دنیا میں ہی مجھے دے دے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ پاک ہے، نہ تو اس کی طاقت رکھتا ہے اور نہ استطاعت تو نے یہ کیوں نہ کہا اے اللہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا پھر آپ ﷺ اللہ نے اس کے لئے دعا مانگی پس اللہ نے شفاعت عطا فرما دی۔

Anas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited a person from amongst the Muslims in order to inquire (about his health) who had grown feeble like the chicken. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Did you supplicate for anything or beg of Him about that? He said: Yes. I used to utter (these words): Impose punishment upon me earlier in this world, what Thou art going to impose upon me in the Hereafter. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Hallowed be Allah, you have neither the power nor forbearance to take upon yourself (the burden of His Punishment). Why did you not say this: O Allah, grant us good in the world and good in the Hereafter, and save us from the torment of Fire. He (the Holy Prophet) made this supplication (for him) and he was all right.

6836Sahih Muslimصحیح

دنیا میں ہی عذاب مانگنے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَاه عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ وَلَمْ يَذْکُرْ الزِّيَادَةَ

عاصم، بن نضر تیمی خالد بن حارث، حمید اس سند سے بھی یہ حدیث وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ مروی ہے اور زیادتی مذکور نہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Humaid with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording.

6837Sahih Muslimصحیح

دنیا میں ہی عذاب مانگنے کی کراہت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَی رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُهُ وَقَدْ صَارَ کَالْفَرْخِ بِمَعْنَی حَدِيثِ حُمَيْدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ لَا طَاقَةَ لَکَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَذْکُرْ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ

زہیر بن حرب، عفان حماد ثابت حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اصحاب میں سے ایک صحابی کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو کہ چوزہ کی طرح کمزور ہوچکا تھا باقی حدیث حمید کی طرح ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے اللہ کے عذاب برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہے اور یہ مذکور نہیں کہ پھر آپ نے اس کے لئے اللہ سے دعا مانگی تو اللہ نے اسے شفاء عطا فرما دی۔

Anas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited a person from amongst his Companions who had grown as feeble as the chicken. The rest of the hadith is the same, but with this variation that he (the Holy Prophet) said: You have not power enough to undergo the torment imposed by Allah. And there is no mention of: He supplicated Allah for him and He cured him.

6838Sahih Muslimصحیح

دنیا میں ہی عذاب مانگنے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

محمد بن مثنی، ابن بشار سالم بن نوح عطاء، سعید بن ابی عروبہ قتادہ، حضرت انس (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث مبارکہ روایت کی ہے۔

This hadith had been transmitted on the authority of Anas through another chain of narrators.

6839Sahih Muslimصحیح

ذکر کی مجلسوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی مَلَائِکَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَتَتَبَّعُونَ مَجَالِسَ الذِّکْرِ فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِکْرٌ قَعَدُوا مَعَهُمْ وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّی يَمْلَئُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَائِ الدُّنْيَا فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَی السَّمَائِ قَالَ فَيَسْأَلُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ فَيَقُولُونَ جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَکَ فِي الْأَرْضِ يُسَبِّحُونَکَ وَيُکَبِّرُونَکَ وَيُهَلِّلُونَکَ وَيَحْمَدُونَکَ وَيَسْأَلُونَکَ قَالَ وَمَاذَا يَسْأَلُونِي قَالُوا يَسْأَلُونَکَ جَنَّتَکَ قَالَ وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي قَالُوا لَا أَيْ رَبِّ قَالَ فَکَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي قَالُوا وَيَسْتَجِيرُونَکَ قَالَ وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونَنِي قَالُوا مِنْ نَارِکَ يَا رَبِّ قَالَ وَهَلْ رَأَوْا نَارِي قَالُوا لَا قَالَ فَکَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي قَالُوا وَيَسْتَغْفِرُونَکَ قَالَ فَيَقُولُ قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا قَالَ فَيَقُولُونَ رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّائٌ إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ قَالَ فَيَقُولُ وَلَهُ غَفَرْتُ هُمْ الْقَوْمُ لَا يَشْقَی بِهِمْ جَلِيسُهُمْ

محمد بن حاتم بن میمون بہز وہیب سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کچھ زائد فرشتے ایسے بھی ہیں جو پھرتے رہتے ہیں اور ذکر کی مجالس کو تلاش کرتے ہیں کہ جب وہ ایسی مجلس پالیتے ہیں جس میں ذکر ہو تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں یہاں تک کہ ان سے لے کر آسمان دنیا کے درمیان کا خلا بھر جاتا ہے پس جب وہ (اہل مجلس) متفرق ہوجاتے ہیں تو (یہ فرشتے آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں) اللہ رب العزت ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ بخوبی جانتا ہے کہ تم کہاں سے آئے ہو وہ عرض کرتے ہیں کہ ہم زمین میں تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح تکبیر تہلیل اور تعریف اور تجھ سے سوال کرنے میں مشغول تھے اللہ فرماتا ہے وہ مجھ سے کیا سوال کر رہے تھے وہ عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے تیری جنت کا سوال کر رہے تھے اللہ فرماتا ہے کیا انہوں نے میری جنت کو دیکھا ہے وہ عرض کرتے ہیں نہیں اے میرے پروردگار، اللہ فرماتا ہے اگر وہ اس کو دیکھ لیتے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی وہ عرض کرتے ہیں اور وہ تجھ سے پناہ بھی مانگ رہے تھے اللہ فرماتا ہے وہ مجھ سے کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے فرشتے عرض کرتے ہیں اے رب تیری جہنم سے اللہ فرماتا ہے کیا انہوں نے میری جہنم کو دیکھا ہے وہ عرض کرتے ہیں نہیں اللہ فرماتا ہے اگر وہ میری جہنم کو دیکھ لیتے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اور وہ تجھ سے مغفرت بھی مانگ رہے تھے تو اللہ فرماتا ہے کہ تحقیق میں نے معاف کردیا اور انہوں نے جو مانگا میں نے انہیں عطا کردیا اور میں نے انہیں پناہ دے دی جس سے انہوں نے پناہ مانگی فرشتے عرض کرتے ہیں اے رب ان میں فلاں بندہ گناہ گار ہے وہ وہاں سے گزرا تو ان کے ساتھ بیٹھ گیا تو اللہ فرماتا ہے میں نے اسے بھی معاف کردیا اور یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والے کو بھی محروم نہیں کیا جاتا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying Allah has mobile (squads) of angels, who have no other work (to attend to) but to follow the assemblies of Dhikr and when they find such assemblies in which there is Dhikr (of Allah) they sit in them and some of them surround the others with their wings till the space between them and the sky of the world is fully covered, and when they disperse (after the assembly of Dhikr is adjourned) they go upward to the heaven and Allah, the Exalted and Glorious, asks them although He is best informed about them: Where have you come from? They say: We come from Thine servants upon the earth who had been glorifying Thee (reciting Subhan Allah), uttering Thine Greatness (saying Allah o-Akbar) and uttering Thine Oneness (La ilaha ill Allah) and praising Thee (uttering al-Hamdu Lillah) and begging of Thee. Be would say: What do they beg of Me? They would say: They beg of Thee the Paradise of Thine. He (God) would say: Have they seen My Paradise? They said: No, our Lord. He would say: (What it would be then) if they were to see Mine Paradise? They (the angels) said: They seek Thine protection. He (the Lord) would say: Against what do they seek protection of Mine? They (the angels) would say: Our Lord, from the Hell-Fire. He (the Lord) would say: Have they seen My Fire? They would say: No. He (the Lord) would say: What it would be if they were to see My Fire? They would say: They beg of Thee forgiveness. He would say: I grant pardon to them, and confer upon them what they ask for and grant them protection against which they seek protection. They (the angels) would again say: Our Lord, there is one amongst them such and such simple servant who happened to pass by (that assembly) and sat there along with them (who had been participating in that assembly). He (the Lord) would say: I also grant him pardon, for they are a people the seat-fellows of whom are in no way unfortunate.

6840Sahih Muslimصحیح

آپ ﷺ اکثر اوقات کون سی دعا مانگتے تھے ؟

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا أَيُّ دَعْوَةٍ کَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکْثَرَ قَالَ کَانَ أَکْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا يَقُولُ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالَ وَکَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَائٍ دَعَا بِهَا فِيهِ

زہیر بن حرب، اسماعیل ابن علیہ، حضرت عبدالعزیز (رض) سے روایت ہے کہ قتادہ نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ اکثر اوقات کونسی دعا مانگا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا آپ ﷺ کی اکثر دعا جو آپ ﷺ مانگتے تھے وہ یہ تھی کہ اے اللہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرمایا اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا اور حضرت انس (رض) جب بھی کوئی دعا مانگتے تو ان الفاظ سے دعا کرتے اور جب کوئی اور دعا مانگنے کا ارادہ کرتے تو اس میں یہ دعا بھی مانگتے تھے۔

Qatada asked Anas which Supplication Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) frequently made. He said: The supplication that he (the Holy Prophet) made very frequently is this: "O Allah, grant us the good in this world and the good in the Hereafter and save us from the torment of Hell-Fire." He (Qatada) said that whenever Anas had to supplicate he made this very supplication, and whenever he (intended) to make another supplication he (inserted) this very supplication in that.

6841Sahih Muslimصحیح

آپ ﷺ اکثر اوقات کون سی دعا مانگتے تھے ؟

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، ثابت حضرت انس (رض) سے رایت ہے کہ رسول اللہ یہ دعا مانگتے تھے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اے ہمارے پروردگار ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔

Anas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to supplicate (in these words): "Our Lord, grant us the good in this world and the good in the Hereafter and save us from the torment of Hell Fire."

6842Sahih Muslimصحیح

لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ کَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَکُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَکَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنْ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِکَ حَتَّی يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِمَّا جَائَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ وَمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَلَوْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ

یحییٰ بن یحیی، مالک ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دن میں سو مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ پڑھا اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے اور اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کی سو برائیاں مٹائی جاتی ہیں اور اس دن شیطان سے حفاظت کا ذریعہ بن جاتا ہے یہاں تک کہ شام کرتا ہے اس حال میں کہ کوئی آدمی بھی اسے افضل عمل نہیں کرتا سوائے اس آدمی کے جس نے ان کلمات کو اس سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہو اور جس نے سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ دن میں سو دفعہ پڑھا تو اس کی تمام خطائیں مٹا دی جاتی ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who uttered these words: "There is no god but Allah, the One, having no partner with Him. Sovereignty belongs to Him and all the praise is due to Him, and He is Potent over everything" one hundred times every day there is a reward of emancipating ten slaves for him, and there are recorded hundred virtues to his credit, and hundred vices are blotted out from his scroll, and that is a safeguard for him against the Satan on that day till evening and no one brings anything more excellent than this, except one who has done more than this (who utters these words more than one hundred times and does more good acts) and he who utters: "Hallowed be Allah, and all praise is due to Him," one hundred times a day, his sins are obliterated even if they are equal to the extent of the foam of the ocean.

6843Sahih Muslimصحیح

لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَائَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ

محمد بن عبدالملک اموی عبدالعزیز بن مختار سہیل بن سمی ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی صبح و شام سو مرتبہ ( یہ دعا) پڑھتا ہے قیامت کے دن کوئی اس سے زیادہ افضل عمل نہیں لاسکتا سوائے اس کے جس نے اس کے برابر یا اس سے زیادہ پڑھا ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who recites in the morning and in the evening (these words): "Hallowed be Allah and all praise is due to Him" one hundred times, he would not bring on the Day of Resurrection anything excellent than this except one who utters these words or utters more than these words.

6844Sahih Muslimصحیح

لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ حَدَّثَنَا عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مِرَارٍ کَانَ کَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبَعَةَ أَنْفُسٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَعِيلَ

سلیمان بن عبیداللہ ابوایوب غیلانی ابوعامر عقدی عمر ابن ابی زائدہ ابواسحاق حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ جس نے دس مرتبہ (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ) پڑھا وہ ایسا ہے جیسا کہ اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے والا۔

Amr bin Maimun reported: He who uttered: "There is no god but Allah, the One, having no partner with Him, His is the Sovereignty and all praise is due to Him and He is Potent over everything" ten times, he is like one who emancipated four slaves from the progeny of Ismail. Rabi bin Khuthaim narrated a hadith like this. Shabi reported: I said to Rabi: From whom did you hear it? He said: From Amr bin Maimun. I came to Amr bin Maimun and said to him: From whom did you hear this hadith? He said: from Ibn Abi Laila. I came to Ibn Abi Laila and said to him: From whom did you hear this hadith? He said: From Abu Ayyub Ansari, who narrated from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

6845Sahih Muslimصحیح

لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں

و قَالَ سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ بِمِثْلِ ذَلِکَ قَالَ فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ مِمَّنْ سَمِعْتَهُ قَالَ مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ فَقُلْتُ مِمَّنْ سَمِعْتُهُ قَالَ مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَی فَقُلْتُ مِمَّنْ سَمِعْتُهُ قَالَ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سلیمان بن ابوعامر عمر عبداللہ بن ابی سفر شعبی، حضرت ربیع بن خثیم (رض) سے بھی اسی طرح حدیث مروی ہے کہ ربیع نے کہا میں نے یہ حدیث حضرت عمر بن میمون سے سنی راوی کہتے ہیں کہ میں عمرو بن میمون کے پاس آیا اور ان سے پوچھا آپ نے کس سے یہ حدیث سنی انہوں نے کہا ابن ابی لیلی سے پھر میں ابن ابی لیلی کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ آپ نے کس سے سنا انہوں نے کہا میں نے حضرت ابوایوب انصاری سے سنا وہ اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Two are the expressions which are light on the tongue, but heavy in scale, dear to the Compassionate One: "Hallowed be Allah and praise is due to Him"; "Hallowed be Allah, the Great."

6846Sahih Muslimصحیح

لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَی الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر بن حرب، ابوکریب، محمد بن طریف بجلی ابن فضیل عمارہ بن قعقاع ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن وزن میں بھاری ہیں اور رحمن کو محبوب ہیں (سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ) ۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The uttering of (these words): "Hallowed be Allah; all praise is due to Allah, there is no god but Allah and Allah is the Greatest," is dearer to me than anything over which the sun rises.

6847Sahih Muslimصحیح

لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ أَقُولَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ کہنا میرے نزدیک ہر اس چیز سے محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The uttering of (these words): "Hallowed be Allah; all praise is due to Allah, there is no god but Allah and Allah is the Greatest," is dearer to me than anything over which the sun rises.

6848Sahih Muslimصحیح

لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ مُوسَی الْجُهَنِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُوسَی الْجُهَنِيُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَائَ أَعْرَابِيٌّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِّمْنِي کَلَامًا أَقُولُهُ قَالَ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ اللَّهُ أَکْبَرُ کَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ کَثِيرًا سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَکِيمِ قَالَ فَهَؤُلَائِ لِرَبِّي فَمَا لِي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي قَالَ مُوسَی أَمَّا عَافِنِي فَأَنَا أَتَوَهَّمُ وَمَا أَدْرِي وَلَمْ يَذْکُرْ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَ مُوسَی

ابوبکر بن ابی شبیہ، علی بن مسہر، ابن نمیر، موسیٰ جہنی، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی موسیٰ جہنی، مصعب بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا مجھے ایسا کلام سکھائیں جسے میں پڑھتا رہوں آپ نے فرمایا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ اللَّهُ أَکْبَرُ کَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ کَثِيرًا سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَکِيمِ پڑھا کر اس نے عرض کیا یہ سارے کلمات تو میرے رب کے لئے ہیں میرے لئے کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا (اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي) اے اللہ مجھے معاف فرما اور رحم فرما اور ہدایت عطا فرما اور رزق عطا فرما کہہ اور راوی کہتے ہیں عَافِنِی کے بارے میں مجھے وہم ہے کہ وہ ابن ابی شبیہ نے کہا تھا یا نہیں۔

Musab bin Sad reported on the authority of his father that a desert Arab came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said to him: Teach me the words which I should (often) utter. He said: Utter, "There is no god but Allah, the One, having no partner with Him. Allah is the Greatest of the great and all praise is due to Him. Hallowed be Allah, the Lord of the worlds, there is no Might and Power but that of Allah, the All-Powerful and the Wise." He (that desert Arab) said: These all (glorify) my Lord. But what about me? Thereupon he (the Holy Prophet) said: You should say: "O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to righteousness and provide me sustenance." Musa (one of the narrators) said: I think he also said: "Grant me safety." But I cannot say for certain whether he said this or not. Ibn Abi Shaiba has not made a mention of the words of Musa in his narration.

6849Sahih Muslimصحیح

لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ مَنْ أَسْلَمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي

ابوکامل جحدری عبدالواحد ابن زیاد حضرت ابومالک اشجعی (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ہر مسلمان ہونے والے آدمی کو (اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي) سکھاتے تھے۔

Abu Malik Ashajai reported on the authority of his father that whenever a person embraced Islam, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) instructed him to recite: "O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to the path of righteousness and provide me sustenance."

6850Sahih Muslimصحیح

لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي

سعید بن ازہر واسطی ابومعاویہ حضرت ابومالک اشجعی (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں جب کوئی مسلمان ہوتا تو نبی ﷺ اسے نماز سکھاتے پھر اسے حکم کرتے کہ وہ ان کلمات سے دعا مانگے (اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي) ۔

Abu Malik reported on the authority of his father that when a person embraced Islam, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to teach him how to observe prayer and then commanded him to supplicate in these words: "O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to the path of righteousness, grant me protection and provide me sustenance."

6851Sahih Muslimصحیح

لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي وَيَجْمَعُ أَصَابِعَهُ إِلَّا الْإِبْهَامَ فَإِنَّ هَؤُلَائِ تَجْمَعُ لَکَ دُنْيَاکَ وَآخِرَتَکَ

زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، حضرت ابومالک اشجعی (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا اور ایک آدمی نے آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول جب میں اپنے رب سے دعا کروں تو کیسے کہوں آپ ﷺ نے فرمایا (اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي) کہہ اور آپ نے اپنے انگوٹھے کے سوا باقی انگلیاں جمع کیں کیونکہ یہ کلمات تیری دنیا اور آخرت کے لئے جامع ہیں۔

Abu Malik reported on the authority Of his father that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying to the person who bad come to him and asked him as to how he should beg his Lord, that he should utter these words: "O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, protect me, provide me sustenance," and he collected his fingers together except his thumb and said: It is in these words (that there is supplication) which sums up for you (the good) of this world and that of the Hereafter.