نبی ﷺ کی وفات کے دن عمر مبارک کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً و قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بِمِثْلِ ذَلِکَ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جدی عقیل بن خالد ابن شہاب عروہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تریسٹھ سال کی عمر مبارک میں وفات پائی ابن شہاب (رض) کہتے ہیں کہ مجھے حضرت سعید بن مسیب (رض) نے بھی اسی طرح خبر دی ہے۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died when he had attained the age of sixty-three. And a hadith like this had been transmitted on the authority of Said bin Musayyib.
نبی ﷺ کی وفات کے دن عمر مبارک کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَی قَالَا حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَی عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَ حَدِيثِ عُقَيْلٍ
عثمان بن ابی شیبہ، عباد بن موسی، طلحہ بن یحیی، یونس بن یزید، حضرت ابن شہاب (رض) سے ان دونوں اسناد کے ساتھ عقیل کی روایت کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab through the same chain of transmitters.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ قُلْتُ لِعُرْوَةَ کَمْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ قَالَ عَشْرًا قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ
ابومعمر، اسماعیل بن ابراہیم، ہذلی سفیان، حضرت عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے مکہ مکرمہ میں کتنا عرصہ قیام کیا انہوں نے فرمایا دس سال میں نے کہا حضرت ابن عباس (رض) نے تو تیرہ سال فرمائے ہیں۔
Amr reported: I said to Urwa (RA) : How long did Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stay in Makkah? He said: For ten years. I said: Ibn Abbas says (that he stayed in Makkah) for thirteen years.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ قُلْتُ لِعُرْوَةَ کَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ قَالَ عَشْرًا قُلْتُ فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ بِضْعَ عَشْرَةَ قَالَ فَغَفَّرَهُ وَقَالَ إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ
ابن ابی عمر، سفیان، عمرو حضرت عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے مکہ مکرمہ میں کنتا عرصہ قیام فرمایا انہوں نے فرمایا دس سال میں نے کہا کہ حضرت ابن عباس (رض) تو دس سال سے کچھ اوپر کہتے تھے تو حضرت عروہ نے ان کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی اور کہنے لگے کہ ان کو شاعر کے قول سے وہم ہوگیا ہے
Amr reported: I said to Urwa (RA) : How long did Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stay in Makkah? He said: For ten years. I said: Ibn Abbas (RA) says it is some years above ten. He (Urwa) sought forgiveness for him and said: His statement is based on the verse of a poet.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَثَ بِمَکَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
اسحاق بن ابراہیم، ہارون بن عبداللہ روح بن عبادہ، زکریا، بن اسحاق، عمرو بن دینار، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں تیرہ سال قیام فرمایا اور آپ نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
Ibn Abbas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stayed in Makkah for thirteen years and he died when he had attained the age of sixty three years.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَی إِلَيْهِ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً
ابن ابی عمر، بشر بن سری، حماد، ابوحمزہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں تیرہ سال قیام فرمایا اور اس عرصہ میں آپ ﷺ کی طرف وحی آتی رہی اور مدینہ منورہ میں آپ ﷺ نے دس سال قیام فرمایا اور آپ نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
Ibn Abbas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stayed in Makkah for thirteen years (after he had received revelation) and stayed in Madinah for ten years, and he was sixty-three when he died.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ فَذَکَرُوا سِنِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ کَانَ أَبُو بَکْرٍ أَکْبَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَمَاتَ أَبُو بَکْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يُقَالُ لَهُ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ کُنَّا قُعُودًا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَذَکَرُوا سِنِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً وَمَاتَ أَبُو بَکْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
ابن عمر بن محمد بن ابان جعفی سلام ابوالاحوص حضرت ابواسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عتبہ (رض) کے پاس بیٹھا تھا کہ وہاں موجود لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک کا ذکر کیا تو کچھ لوگوں نے کہا حضرت ابوبکر (رض) رسول اللہ ﷺ سے بڑے تھے حضرت عبداللہ (رض) فرمانے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی اور حضرت عمر فاروق (رض) تریسٹھ سال کی عمر میں شہید کئے گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے ایک آدمی جسے عامر بن سعد کہا جاتا ہے کہنے لگا ہم سے حضرت جریر (رض) نے بیان کیا کہ ہم حضرت امیر معاویہ (رض) کے پاس بیٹھے تھے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک کا تذکرہ کیا تو حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی اور حضرت ابوبکر (رض) نے بھی تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی ہے اور حضرت عمر (رض) نے بھی تریسٹھ سال کی عمر میں شہادت پائی۔
Abu Ishaq reported: I was sitting with Abdullah bin Utba and there was a discussion about the age of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Some of the persons said: Abu Bakr (RA) was older than Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Abdullah said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died when he was sixty-three, and Abu Bakr (RA) died when he was sixty-three and so Umar fell as a martyr when he was sixty-three. A person from the people who was called Amir bin Sad reported that Jabir had said: We were sitting with Muawiyah that there was a discussion about the age of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Thereupon Muawiyah said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died when he had attained the age of sixty-three, and Abu Bakr (RA) died when he had attained the age of sixty-three, and Umar fell as a martyr when he had attained the age of sixty-three.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ عَنْ جَرِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ فَقَالَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
ابن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق عامر بن سعد بجلی حضرت جریر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت امیر معاویہ (رض) سے سنا انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی ہے اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) نے بھی تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی اور میں بھی اب تریسٹھ سال کا ہوں۔
Jabir reported that he heard Muawiyah say in his address that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died at the age of sixty-three, so was the case with Abu Bakr (RA) and Umar, and I (am now) sixty-three.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي ابْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ کَمْ أَتَی لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ فَقَالَ مَا کُنْتُ أَحْسِبُ مِثْلَکَ مِنْ قَوْمِهِ يَخْفَی عَلَيْهِ ذَاکَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ النَّاسَ فَاخْتَلَفُوا عَلَيَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَکَ فِيهِ قَالَ أَتَحْسُبُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَمْسِکْ أَرْبَعِينَ بُعِثَ لَهَا خَمْسَ عَشْرَةَ بِمَکَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ وَعَشْرَ مِنْ مُهَاجَرِهِ إِلَی الْمَدِينَةِ
ابن منہال ضریر یزید بن زریع یونس بن عبیداللہ حضرت عمار (رض) (بنی ہاشم کے مولا) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ کی عمر مبارک آپ کی وفات کے دن کتنی تھی تو انہوں نے فرمایا میرا خیال نہیں تھا کہ آپ ﷺ کی قوم میں سے ہوتے ہوئے بھی اتنی سی بات تم سے پوشیدہ ہوگی میں نے کہا کہ میں نے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اختلاف کیا اس لئے میں نے پسند کیا کہ میں اس سلسلے میں آپ کا قول جان لوں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا تم حساب جانتے ہو میں نے کہا جی ہاں انہوں نے فرمایا تم چالیس کو یاد رکھو اس وقت آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا پندرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے کبھی امن اور کبھی خوف کے ساتھ رہے اور پھر آپ ﷺ نے ہجرت کے بعد دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا۔
Ammar, the freed slave of Banu Hashim, reported: I asked Ibn Abbas how old was he when death overtook the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He said: I little know that such a thing is not known to a man like you who belong to his people. He said: I asked people about it but they differed with me, and I liked to know your opinion about it. He said: Do you know counting? He said: Yes. He then said: Bear this in mind very well that he was commissioned (as a Prophet) at the age of forty, and he stayed in Makkah for fifteen years; sometime in peace and sometime in dread, and (lived) for ten years after his migration to Madinah.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ
محمد بن رافع شبابہ بن سوار شعبہ، یونس حضرت یونس سے اس سند کے ساتھ یزید بن زریع کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Yunus with the same chain of transmitters.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ
نصر بن علی بشر بن مفضل خالد خذا عمار مولیٰ بنی ہاسم حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی وفات پینسٹھ سال کی عمر میں ہوئی۔
Ammar, the freed slave of Banu Hashim, reported that Ibn Abbas said that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died when he had attained the age of sixty-five.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، حضرت خالد سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Khalid with the same chain of transmitters.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَی الضَّوْئَ سَبْعَ سِنِينَ وَلَا يَرَی شَيْئًا وَثَمَانَ سِنِينَ يُوحَی إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا
اسحاق بن ابراہیم، حنظلی روح حماد بن سلمہ عمار بن ابی عمار حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں پندرہ سال قیام پذیر رہے آپ آواز سنتے (یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کی) اور روشنی دیکھتے (یعنی راتوں کی تاریکی میں عظیم نور دیکھتے اور یہ سلسلہ) سات سال تک رہا لیکن آپ ﷺ کوئی صورت نہ دیکھتے اور پھر آٹھ سال تک وحی آنے لگی اور آپ ﷺ نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا۔
Ibn Abbas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stayed in Makkah for fifteen years (after his advent as a Prophet) and he heard the voice of Gabriel (علیہ السلام) and saw his radiance for seven years but did not see any visible form, and then received revelation for ten years, and he stayed in Madinah for ten years.
نبی ﷺ کے اسماء مبارک کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَی بِيَ الْکُفْرُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی عَقِبِي وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمرو زہیر اسحاق سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت محمد بن جبیر (رض) بن مطعم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں محمد ہوں اور میں احمد بھی ہوں اور میں ماحی بھی ہوں یعنی اللہ میری وجہ سے کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں (قیامت کے دن) سب لوگوں کو میرے پاؤں پر جمع کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے کہ جس کے بعد کوئی اور نبی نہیں (یعنی میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں، اس وجہ سے میرا ایک عاقب بھی ہے) ۔
Jubair bin Mutim reported on the authority of his father that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I am Muhammad and I am Ahmad, and I am al-Mahi (the obliterator) by whom unbelief would be obliterated, and I am Hashir (the gatherer) at whose feet mankind will be gathered, and I am Aqib (the last to come) after whom there will be no Prophet.
نبی ﷺ کے اسماء مبارک کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِي أَسْمَائً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْکُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمَيَّ وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ وَقَدْ سَمَّاهُ اللَّهُ رَئُوفًا رَحِيمًا
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب حضرت محمد بن جبیر (رض) بن مطعم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بہت سے نام ہیں میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور ماحی ہوں اور میں حاشر ہوں (حاشر کا معنی یہ کہ قیامت کے دن) اللہ سب لوگوں کو میرے پاؤں پر جمع فرمائے گا اور میں عاقب ہوں (عاقب کا معنی یہ ہے کہ) جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا نام رؤف اور رحیم رکھا ہے۔
Jubair bin Mutim reported on the authority of his father that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I have many names: I am Muhammad, I am Ahmad, I am al-Mahi through whom Allah obliterates unbelief, and I am Hashir (the gatherer) at whose feet people will be gathered, and I am Aqib (after whom there would be none), and Allah has named him as compassionate and merciful.
نبی ﷺ کے اسماء مبارک کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ وَمَعْمَرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ وَمَا الْعَاقِبُ قَالَ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَعُقَيْلٍ الْکَفَرَةَ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ الْکُفْرَ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جدی عقیل عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوسمان شعیب حضرت زہری (رض) سے ان سندوں کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور شعبہ اور معمر کی حدیث میں سمعت رسول اللہ ﷺ کے الفاظ ہیں اور عقیل کی روایت میں ہے کہ میں نے حضرت زہری سے پوچھا کہ عاقب کے کیا معنی ہیں انہوں نے فرمایا جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو اور عقیل نے اپنے روایت میں " کفر " کا لفظ کہا ہے اور شعیب نے اپنی روایت میں " کفر " کا لفظ کہا ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Mamar (and the words are): I said to Zuhri: What does (the word) al-Aqib imply? He said: One after whom there is no Prophet, and in the hadith transmitted on the authority of Mamar and Uqail there is a slight variation of wording.
نبی ﷺ کے اسماء مبارک کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَائً فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، اعمش، عمرو بن مرہ ابی عبیدہ حضرت ابوموسی اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے اپنے کئی نام بیان فرمائے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں محمد اور احمد اور مُقَفِّي اور حاشر، نبی التوبہ اور نبی الرحمت ہوں۔
Abu Musa Ashari reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) mentioned many names of his and said: I am Muhammad, Ahmad, Muqaffi (the last in succession), Hashir, the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of repentance, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Mercy.
اس بات کے بیان مٰن کہ جناب نبی ﷺ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جاننے والے اور اللہ سے ڈرنے والے تھے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ فَبَلَغَ ذَلِکَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَکَأَنَّهُمْ کَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ فَبَلَغَهُ ذَلِکَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ فَکَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابن ضحی مسروق، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کام کیا اور اس میں رخصت رکھی تو یہ بات آپ ﷺ کے صحابہ کرام (رض) میں سے کچھ لوگوں تک پہنچی تو ان لوگوں نے اسے ناپسند سمجھا اور اس سے پرہیز کیا آپ ﷺ کو اس بات کا پتہ چلا تو پھر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کیا حال ہے ان لوگوں کا کہ جن کو یہ بات پہنچی ہے کہ میں نے ایک کام کرنے کی اجازت دے دی ہے اور وہ اسے ناپسند سمجھ رہے ہیں اور اس سے پرہیز کر رہے ہیں اللہ کی قسم میں ہی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور میں ہی اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔
Abu Musa Ashari reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) mentioned many names of his and said: I am Muhammad, Ahmad, Muqaffi (the last in succession), Hashir, the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of repentance, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Mercy.
اس بات کے بیان مٰن کہ جناب نبی ﷺ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جاننے والے اور اللہ سے ڈرنے والے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ
ابوسعید اشج حفص ابن عیاث اسحاق بن ابراہیم، علی بن حشرم عیسیٰ بن یونس، اعمش حضرت اعمش (رض) سے جریر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash through a different chain of transmitters.
اس بات کے بیان مٰن کہ جناب نبی ﷺ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جاننے والے اور اللہ سے ڈرنے والے تھے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ حَتَّی بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
ابوکریب ابومعاویہ اعمش، مسلم مسروق، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کام کے کرنے کے بارے میں اجازت عطا فرمائی تو لوگوں میں سے کچھ لوگ اس سے بچنے لگے جب یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ غصہ میں آگئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر غصہ کے اثرات نمایاں ہوگئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام کے کرنے کی میں اجازت دی ہے اور وہ لوگ اس سے اعراض کرتے ہیں اللہ کی قسم میں سب سے زیادہ اللہ کو جانتا ہوں اور میں ہی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) granted permission for doing a thing, but some persons amongst the people avoided it. This was conveyed to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and he was so much annoyed that the sign of his anger appeared on his face. He then said: What has happened to the people that they avoid that for which permission has been granted to me? By Allah, I have the best knowledge of Allah amongst them, and fear Him most amongst them.