Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 283 of 379

5648Sahih Muslimصحیح

راستہ پر بیٹھنے کا حق سلام کو جواب دینا ہے۔

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاکُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ قَالُوا وَمَا حَقُّهُ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الْأَذَی وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْکَرِ

سوید بن سعید حفص بن میسرہ زید بن اسلم عطاء بن یسار حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سرراہ بیٹھنے سے پرہیز کرو صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہمارے لئے راستوں میں بیٹھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ ہم وہاں گفتگو کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم راستہ میں ہی بیٹھنا پسند کرتے ہو تو راستہ کا حق ادا کرو۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا اس کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا نگاہ نیچی رکھنا تکلیف دہ چیز کو دور کرنا سلام کا جواب دینا نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا۔

Abu Said Khudri reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Avoid sitting on the paths. They (the Companions) said: Allahs Messenger, we cannot help but holding our meetings (in these paths) and discuss matters (there). Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If you insist on holding meetings, then give the path its due right. They said: What are its due rights? Upon this he said: Lowering the gaze, refraining from doing harm, exchanging of greetings, commanding of good and forbidding from evil.

5649Sahih Muslimصحیح

راستہ پر بیٹھنے کا حق سلام کو جواب دینا ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز محمد مدنی محمد بن رافع ابن ابی فدیک ہشام ابن سعد ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters.

5650Sahih Muslimصحیح

مسلمان کا سلام کا جواب دنیا مسلمانوں کے حقوق میں سے ہے۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ خَمْسٌ و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَی أَخِيهِ رَدُّ السَّلَامِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ کَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَأَسْنَدَهُ مَرَّةً عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کے پانچ حق ایسے ہیں جو اس کے بھائی پر واجب ہیں سلام کا جواب دینا، چھینکنے والے کے جواب میں یَرحَمُکَ اللہ کہنا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جانا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Five are the rights of a Muslim over his brother: responding to salutation, saying Yarhamuk Allah when anybody sneezes and says al-Hamdulillah, visiting the sick, following the bier. Abdul Razzaq said that this hadith has been transmitted as mursal hadith from Zuhri and he then substantiated it on the authority of Ibn Musayyib.

5651Sahih Muslimصحیح

مسلمان کا سلام کا جواب دنیا مسلمانوں کے حقوق میں سے ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ سِتٌّ قِيلَ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاکَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَکَ فَانْصَحْ لَهُ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں آپ ﷺ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول وہ کیا ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو اس سے ملے تو اسے سلام کر جب وہ تجھے دعوت دے تو قبول کر اور جب وہ تجھ سے خیر خواہی طلب کرے تو تو اس کی خیر خواہی کر جب وہ چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہے تو تم دعا دو یعنی یَرحَمُکَ اللہ کہو جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہوجائے تو اس کے جنازہ میں شرکت کرو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Six are the rights of a Muslim over another Muslim. It was said to him: Allahs Messenger, what are these? Thereupon he said: When you meet him, offer him greetings; when he invites you to a feast accept it, when he seeks your council give him, and when he sneezes and says: "All praise is due to Allah," you say Yarhamuk Allah (may Allah show mercy to you); and when he falls ill visit him; and when he dies follow his bier.

5652Sahih Muslimصحیح

اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْکُمْ أَهْلُ الْکِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْکُمْ

یحییٰ بن یحیی، ہشیم عبیداللہ بن ابوبکر انس، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تمہیں اہل کتاب السَّلَامُ عَلَيْکُمْ کہیں تو تم وَعَلَيْکُمْ کہو۔

Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When the People of the Book offer you salutations, you should say: The same to you.

5653Sahih Muslimصحیح

اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الْکِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَکَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْکُمْ

عبیداللہ بن معاذ ابویحیی بن حبیب، خالد ابن حارث شعبہ، محمد بن مثنی بن بشار حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے صحابہ نے نبی ﷺ سے عرض کیا اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ہم انہیں کیسے جواب دیں آپ نے فرمایا تم وَعَلَيْکُمْ کہو۔

Anas reported that the Companions of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: The People of the Book offer us salutations (by saying as-Salamu-Alaikum). How should we reciprocate them? Thereupon he said: Say: Wa Alaikum (and upon you too).

5654Sahih Muslimصحیح

اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی بْنِ يَحْيَی قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْکُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ السَّامُ عَلَيْکُمْ فَقُلْ عَلَيْکَ

یحییٰ بن یحییٰ ابن ایوب قتیبہ بن حجر، اسماعیل ابن جعفر عبداللہ بن دینار ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودیوں میں جب کوئی سلام کرے اور اَلسَّامُ عَلَيْکُمْ کہے تو تم عَلَيْکَ کہہ دو ۔

Ibn Umar reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When the Jews offer you salutations, some of them say as-Sam-u-Alaikum (death be upon you). You should say (in response to it): Let it be upon you.

5655Sahih Muslimصحیح

اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقُولُوا وَعَلَيْکَ

زہیر بن حرب، عبدالرحمن سفیان، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے اور اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا تم وَعَلَيْکَ کہہ دو ۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters with a slight variation of wording.

5656Sahih Muslimصحیح

اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْکُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ بَلْ عَلَيْکُمْ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ کُلِّهِ قَالَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْکُمْ

عمرو ناقد زہیر بن حرب، زہیر سفیان بن عیینہ، زہری، عروہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ یہودیوں کے ایک گروہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے اَلسَّامُ عَلَيْکُمْ (یعنی تم پر موت ہو) کہا۔ تو سیدہ عائشہ (رض) نے کہا بلکہ تم پر موت اور لعنت ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتے ہیں عائشہ (رض) نے عرض کیا : آپ نے نہیں سنا۔ انہوں نے کیا کہا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں وَعَلَيْکُمْ کہہ چکا ہوں۔

Aisha reported that a group of Jews came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and sought his audience and said: As-Sam-u-Alaikum. Aisha said in response: As-Sam-u-Alaikum (death be upon you) and curse also, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Aisha, verily Allah loves kindness in every matter. She said: Did you hear what they said? Thereupon he said: Did you not hear that I said (to them): Wa Alaikum.

5657Sahih Muslimصحیح

اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قُلْتُ عَلَيْکُمْ وَلَمْ يَذْکُرُوا الْوَاوَ

حسن بن علی حلوانی عبد حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد ابوصالح عبدحمید عبدالرزاق، معمر، زہری، ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں عَلَيْکُمْ کہہ چکا ہوں اور واؤ مذکور نہیں۔

This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I said Alaikam, and the transmitter did not make mention of the word "and".

5658Sahih Muslimصحیح

اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْکَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ وَعَلَيْکُمْ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ بَلْ عَلَيْکُمْ السَّامُ وَالذَّامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَا تَکُونِي فَاحِشَةً فَقَالَتْ مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا فَقَالَ أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ وَعَلَيْکُمْ

ابوکریب ابومعاویہ اعمش، مسلم، مسروق، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس یہودیوں میں سے کچھ آدمیوں نے آکر کہا السَّامُ عَلَيْکَ اے ابوالقاسم ! آپ نے فرمایا وَعَلَيْکُمْ ۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے کہا بلکہ تم پر موت اور ذلت ہو (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ تم بد زبان نہ بنو تو انہوں نے کہا کیا آپ ﷺ نے نہیں سنا جو انہوں نے کہا آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں نے ان کے قول کو ان پر واپس نہیں کردیا جو انہوں نے کہا، میں نے کہا وَعَلَيْکُمْ ۔

Aisha reported that some Jews came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and they said: Abul-Qasim (the Kunya of the Holy Prophet), as-Sam-u-Alaikum, whereupon he (the Holy Prophet) said: Wa Alaikum. Aisha reported: In response to these words of theirs, I said: But let there be death upon you and disgrace also, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Aisha, do not use harsh words. She said: Did you hear what they said? Thereupon he (the Holy Prophet) said: Did I not respond to them when they said that; I said to them: WaAlaikum (let it be upon you).

5659Sahih Muslimصحیح

اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَعْلَی بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ فَسَبَّتْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِذَا جَائُوکَ حَيَّوْکَ بِمَا لَمْ يُحَيِّکَ بِهِ اللَّهُ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ

اسحاق بن ابراہیم، یعلی بن عبید اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں بھی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے ان کی بددعا کو جان لیا جو سلام کے ضمن میں تھی پھر عائشہ (رض) نے ان کو برا بھلا کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ رک جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ بد زبانی اور بد گوئی کو پسند نہیں کرتا اور مزید اضافہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت اس کے بعد نازل کی (وَإِذَا جَائُوکَ ) اور جب یہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ ﷺ کو اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ ﷺ کو سلام نہیں کیا۔

This hadith has been reported on the authority of Aznash with a slight variation of wording. Aisha understood their meaning and cursed them and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Aisha. (do not do that) for Allah does not like the use of harsh words, and it was at this stage that this verse of Allah, the Exalted and Glorious was revealed: "And when they come to thee, they greet thee with a greeting with which Allah greets thee not" (Iviii. 8) to the end of the verse.

5660Sahih Muslimصحیح

اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْکَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْکُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ بَلَی قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا

ہارون بن عبداللہ حجاج بن شاعر، حجاج بن محمد ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ کو سلام کیا کہا السَّامُ عَلَيْکَ اے ابوالقاسم تو آپ ﷺ نے فرمایا وَعَلَیکُم سیدہ عائشہ (رض) نے غصہ میں آکر عرض کیا کہا ہے ؟ آپ ﷺ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں بلکہ میں نے سنا پھر ان کو جواب دے دیا اور ہماری بد دعا ان کے خلاف مقبول ہوگی اور ان کی بددعا ہمارے خلاف قبول نہ کی جائے گی۔

Jabir binAbdullah (RA) reported that some people from amongst the Jews said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Abul-Qasim as-Sam-u-Alaikum, whereupon he said: Wa Alaikum. Aisha was enraged and asked him (Allahs Apostle) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) whether he had not heard what they had said. He said, I did hear and I retorted to them (and the curse that I invoked upon them would receive response from Allah), but (the curse that they invoked upon us) would not be responded.

5661Sahih Muslimصحیح

اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبْدَئُوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَی بِالسَّلَامِ فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَی أَضْيَقِهِ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہود اور نصاری کو سلام کرنے میں ابتداء نہ کرو اور جب تمہیں ان میں سے کوئی راستہ میں ملے تو اسے تنگ راستہ کی طرف مجبور کردو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Do not greet the Jews and the Christians before they greet you and when you meet any one of them on the roads force him to go to the narrowest part of it.

5662Sahih Muslimصحیح

اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ کُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ وَکِيعٍ إِذَا لَقِيتُمْ الْيَهُودَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ فِي أَهْلِ الْکِتَابِ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنْ الْمُشْرِکِينَ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، سفیان، زہیر بن حرب، جریر، سہیل وکیع، ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن وکیع کی روایت میں ہے جب تمہاری یہود سے ملاقات ہو اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اہل کتاب کے بارے میں فرمایا اور جریر کی حدیث میں ہے جب تم ان سے ملو اور مشرکین میں سے کسی کا نام نہیں ذکر فرمایا۔

This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording. The hadith transmitted on the authority of Waki, the words are When you meet the Jews." And in the hadith transmitted on the authority of Shubah, the words are: When you meet the People of the Book." And in the hadith transmitted on the authority of Jarir the words are: "When you meet them," but none amongst the polytheists has been mentioned explicitly by name.

5663Sahih Muslimصحیح

بچوں کے سلام کرنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ

یحییٰ بن یحیی، ہشیم سیار ثابت بن انس بن مالک، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لڑکوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام کرتے۔

Anas bin Malik (RA) reported that when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) happened to pass by young boys he would great them.

5664Sahih Muslimصحیح

بچوں کے سلام کرنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

اسمعیل بن سالم ہشیم سیار اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے

This hadith has been narrated on the authority of Sayyar with the same chain of transmitters.

5665Sahih Muslimصحیح

بچوں کے سلام کرنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارٍ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ ثَابِتٌ أَنَّهُ کَانَ يَمْشِي مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ کَانَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ

عمرو بن علی محمد بن ولید محمد بن جعفر، شعبہ، ثابت بنانی حضرت یسار (رض) سے روایت ہے کہ میں ثابت بنانی کے ساتھ تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا اور ثابت کی روایت میں ہے میں حضرت انس (رض) کے ساتھ چل رہا تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان بچوں کو سلام کیا اور حدیث روایت کی حضرت انس (رض) نے کہا وہ رسول اللہ کے ساتھ چل رہے تھے آپ ﷺ بچوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں سلام کیا۔

Sayyar reported: I was walking with Thibit al-Bunani that he happened to pass by children and he greeted them. And Thabit reported that he walked with Anas and he happened to pass by children and he greeted them. and Anas reported that he walked with Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he happened to pass by children and he greeted them.

5666Sahih Muslimصحیح

پردہ اٹھانے وغیرہ کو یا کسی اور علامت کو اجازت ملنے کی علامت مقرر کرنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْنُکَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّی أَنْهَاکَ

ابوکامل جحدری قتیبہ بن سعید، عبدالواحد، ابن زیاد حسن بن عبیداللہ ابراہیم بن سوید عبدالرحمن بن یزید ابن مسعود حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا تیرے لئے میرے پاس آنے کی اجازت یہ ہے کہ پردہ اٹھا دیا جائے اور یہ کہ تم میری راز کی باتیں سن لو یہاں تک کہ میں تمہیں منع کر دوں۔

Ibn Masud reported: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to me: The sign that you have been permitted to come in is that the curtain is raised or that you hear me speaking quietly until I forbid you.

5667Sahih Muslimصحیح

پردہ اٹھانے وغیرہ کو یا کسی اور علامت کو اجازت ملنے کی علامت مقرر کرنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق عبداللہ بن ادریس حسن بن عبیداللہ اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ubaidullah with the same chain of transmitters.