اہل کتاب کو ابتداء سلام کرنے کی ممانعت اور ان کے سلام کے جواب کیسے دیا جائے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی بْنِ يَحْيَی قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْکُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ السَّامُ عَلَيْکُمْ فَقُلْ عَلَيْکَ
یحییٰ بن یحییٰ ابن ایوب قتیبہ بن حجر، اسماعیل ابن جعفر عبداللہ بن دینار ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودیوں میں جب کوئی سلام کرے اور اَلسَّامُ عَلَيْکُمْ کہے تو تم عَلَيْکَ کہہ دو۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When the Jews offer you salutations, some of them say as-Sam-u-Alaikum (death be upon you). You should say (in response to it): Let it be upon you.