دوران سفر کتا اور گھنٹی رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھنٹی شیطان کا باجہ ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The bell is the musical instrument of the Satan.
اونٹ کی گردن میں تانت کے قلادہ ڈالنے کی کراہت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَالَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ قَالَ مَالِکٌ أُرَی ذَلِکَ مِنْ الْعَيْنِ
یحییٰ بن یحیی، مالک عبداللہ بن ابوبکر عباد بن تمیم حضرت ابوبشیر انصاری (رض) خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بعض سفروں میں سے کسی سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ تھے راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا نمائندہ بھیجا حضرت عبداللہ بن ابوبکر (رض) کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ لوگ اپنی اپنی سونے کی جگہوں پر تھے آپ ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ یا ہار نہ ڈالے سوائے اس کے کہ اسے کاٹ دیا جائے امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ ہے کہ وہ اس طرح نظر لگنے کی وجہ سے کرتے تھے۔
Abu Bashir Ansari reported that he had had (the opportunity of accompanying Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in some of his journeys. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent one of his messengers Abdullah b Abi Bakr said: I think he said (these words) when the people were at the places of rest: No necklace of strings be left on the necks of the camels or the necklace kept unbroken. Imam Malik said: To my mind (this practice) of wearing necklace round the necks of camels or animals was because of the fact that they (wanted to save them) from the influence of the evil eye.
جانوروں کے چہروں پر مارنے اور ان کے چہروں کو نشان زردہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ وَعَنْ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چہرے پر مارنے اور چہرے پر داغ لگانے سے منع کیا ہے۔
Jabir reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade (the animals to be beaten) on the face or cauterisation on the face.
جانوروں کے چہروں پر مارنے اور ان کے چہروں کو نشان زردہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ہارون بن عبداللہ حجاج بن محمد عبد بن حمید، محمد بن بکر، ابن جریج، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا پھر مذکورہ حدیث کی طرح ذکر کی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Jabir bin Abdullah through another chain of transmitters.
جانوروں کے چہروں پر مارنے اور ان کے چہروں کو نشان زردہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ
سلمہ بن شبیب حسن بن اعین معقل ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرے میں داغ دیا گیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ ایسے آدمی پر لعنت کرے کہ جس نے اس گدھے کے چہرے کو داغا ہے۔
Jabir reported that there happened to pass before Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) an ass the face of which had been cauterised, whereupon he said: Allah has cursed one who has cauterised it (on the face).
جانوروں کے چہروں پر مارنے اور ان کے چہروں کو نشان زردہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا وَرَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ قَالَ فَوَاللَّهِ لَا أَسِمُهُ إِلَّا فِي أَقْصَی شَيْئٍ مِنْ الْوَجْهِ فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ فَکُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ کَوَی الْجَاعِرَتَيْنِ
احمد بن عیسیٰ ابن وہب، عمرو بن حارث، یزید بن ابی حبیب، ابوعبداللہ مولیٰ سلمہ (رض) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گدھا دیکھا کہ جس کے چہرے کو داغا ہوا تھا تو آپ ﷺ نے اسے برا کہا اور فرمایا اللہ کی قسم میں تو نہیں داغ دیتا سوائے اس حصے کے جو چہرے سے بہت دور ہے آپ ﷺ نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم فرمایا تو اس گدھے کی پیٹھوں پر داغ دیا گیا اور سب سے پہلے آپ ﷺ نے ہی پیٹھوں پر داغا۔
Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw an ass which had been cauterised on the face. He disapproved of it saying: By Allah, I do not cauterise (the animal) but on a part at a distance from the face, and commanded (for the cauterisation) of his ass and it was cauterised on the buttocks and he was the first to cauterise on the buttocks.
جانور کے چہرے کے علاوہ اس کے جسم کے کسی اور حصے پر داغ دینے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ لِي يَا أَنَسُ انْظُرْ هَذَا الْغُلَامَ فَلَا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّی تَغْدُوَ بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّکُهُ قَالَ فَغَدَوْتُ فَإِذَا هُوَ فِي الْحَائِطِ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ حُوَيْتِيَّةٌ وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ
محمد بن مثنی، محمد بن ابی عدی ابن عون، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ جب ام سلمہ (رض) ( کے ہاں بچے) کی ولادت ہوئی تو حضرت ام سلیم (رض) نے مجھ سے کہا اے انس اس بچے کا دھیان رکھ یہ بچہ کوئی چیز اس وقت تک نہ کھائے جب تک کہ اس بچے کو نبی ﷺ کی خدمت میں نہ لے جایا جائے اور آپ ﷺ اپنے منہ میں کوئی چیز چبا کر اس بچے کے منہ میں نہ ڈالیں حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ میں پھر صبح جب آپ ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ ﷺ باغ میں تھے اور قبیلہ جو نیہ کی چادر آپ ﷺ نے اوڑھی ہوئی تھی اور آپ ﷺ ان اونٹوں کو داغ دے رہے تھے جو کہ آپ ﷺ کو فتح میں حاصل ہوئے تھے۔
Anas reported that Umm Sulaim gave birth to a child. She said to him: Anas, see that nothing is given to this child until he is brought to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the morning, so that he should chew some dates and touch his palate with it. I went to him in the morning and he was in the garden at that time having the mantle of Jauniyya over him and he was busy in cauterising (the camels) which had been brought to him (as spoils of war) in victory (over the enemy).
جانور کے چہرے کے علاوہ اس کے جسم کے کسی اور حصے پر داغ دینے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهُ حِينَ وَلَدَتْ انْطَلَقُوا بِالصَّبِيِّ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّکُهُ قَالَ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا قَالَ شُعْبَةُ وَأَکْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ فِي آذَانِهَا
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ہشام بن زید انس، بن مالک حضرت انس (رض) بیان فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ کے ہاں جس وقت بچے کی پیدائش ہوئی (تو انہوں نے مجھ سے فرمایا) کہ اس بچے کو نبی ﷺ کی خدمت میں لے جاؤں تاکہ آپ ﷺ اس کی تحنیک فرمایا دیں (یعنی آپ ﷺ اپنے منہ کوئی چیز چبا کر اس بچے کے منہ میں ڈالیں) آپ ﷺ بکریوں کے ریوڑ میں ہیں اور بکریوں کو داغ دے رہے ہیں۔ حضرت شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ ﷺ بکریوں کے کانوں پر داغ لگا رہے تھے۔
Anas reported that when his mother gave birth to a child they brought that child to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) so that he might chew some dates and touch his palate with them and Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was at that time in the fold busy in cauterising the animals Shubah said: So far as I know (he was cauterising) their ears.
جانور کے چہرے کے علاوہ اس کے جسم کے کسی اور حصے پر داغ دینے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا دَخَلْنَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرْبَدًا وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ فِي آذَانِهَا
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید شعبہ، ہشام بن زید حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بکریوں کے ریوڑ میں نکلے اور اس حال میں کہ آپ ﷺ بکریوں کو داغ دے رہے تھے راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ بکریوں کے کانوں میں داغ لگا رہے تھے۔
Anas reported: We went to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as he was in the fold and he was cauterising the animals of the flock and I think (he was cauterising them) on their ears.
جانور کے چہرے کے علاوہ اس کے جسم کے کسی اور حصے پر داغ دینے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَيَحْيَی وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
یحییٰ بن حبیب خالد بن حارث، محمد بن بشار، محمد بن یحییٰ عبدالرحمن حضرت شعبہ (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah through another chain of transmitters.
جانور کے چہرے کے علاوہ اس کے جسم کے کسی اور حصے پر داغ دینے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ رَأَيْتُ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيسَمَ وَهُوَ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ
ہارون بن معروف، ولید بن مسلم، اوزاعی اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں داغ لگانے کا آلہ دیکھا اور آپ ﷺ صدقہ کے اونٹوں کو داغ رہے تھے۔
Anas bin Malik (RA) reported: I saw in the hand of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) an instrument for cauterisation and he was cauterising the caracia collected as Zakat.
سر کے کچھ حصہ پر بال رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْقَزَعِ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ وَمَا الْقَزَعُ قَالَ يُحْلَقُ بَعْضُ رَأْسِ الصَّبِيِّ وَيُتْرَکُ بَعْضٌ
زہیر بن حرب، یحییٰ ابن سیعد عبیداللہ عمر بن نافع ابن عمر (رض) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع سے منع فرمایا ہے راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے عرض کیا قزع کیا ہے انہوں نے فرمایا بچے کے سر کا کچھ حصہ مونڈ دینا اور کچھ حصہ چھوڑ دینا۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade Qaza. I said to Nafi (RA) : What is Qaza? He said: This means having a part of a boys head shaved and leaving a part unshaven.
سر کے کچھ حصہ پر بال رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَجَعَلَ التَّفْسِيرَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ مِنْ قَوْلِ عُبَيْدِ اللَّهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ ابن نمیر، ابی عبیداللہ حضرت عبیداللہ (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور حضرت ابواسامہ (رض) کی روایت میں ہے کہ قزع کی تفسیر حضرت عبیداللہ (رض) کے فرمان سے کی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Ubaidullah with the same chain of transmitters. and the exposition of Qaza is the same as that of Abu Usama.
سر کے کچھ حصہ پر بال رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْغَطَفَانِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ح و حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ بِإِسْنَادِ عُبَيْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ وَأَلْحَقَا التَّفْسِيرَ فِي الْحَدِيثِ
محمد بن مثنی، عثمان بن عثمان غطفانی عمرابن نافع امیہ بن بسطام ابن زریع روح عمر بن نافع عبیداللہ حضرت عمر بن نافع (رض) سے حضرت عبیداللہ (رض) کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور ان دونوں نے حدیث میں اسی تقسیم کو بیان کیا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Umar bin Nafi with the same chain of transmitters and Muhammad bin Muthanna as well as Umar bin Nafi have given the same exposition (of the word Qaza) in their narration.
سر کے کچھ حصہ پر بال رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِکَ
محمد بن رافع حجاج بن شاعر، عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، ایوب ابوجعفر دارمی ابونعمان حماد ابن زید عبدالرحمن سراج نافع ابن عمر (رض) ان سندوں کے ساتھ حضرت ابن عمر (رض) نے نبی ﷺ سے اس طرح روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters.
راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت اور راستوں کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاکُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ قَالُوا وَمَا حَقُّهُ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الْأَذَی وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْکَرِ
سوید بن سعید، حفص بن میسر، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابوسعیدخدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہمارے لئے تو بیٹھنے کے بغیر کوئی چارہ کار ہی نہیں ہم وہاں باتیں کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہیں بیٹھنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں تو پھر راستے کا حق ادا کرو صحابہ (رض) نے عرض کیا راستے کا حق کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا نظریں نیچی رکھنا اور کسی کو تکلیف دینے سے باز رہنا اور سلام کا جواب دینا اور نیکی کا حکم دینا اور بری باتوں سے منع کرنا۔
Abu Said Kbudri reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Avoid sitting on the paths. They (his Companions) said: Allahs Messenger. there is no other help to it (but to sit here as we) hold our meetings and discuss matters there. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If you have to sit at all, theg fulfil the rights, of the path. They said: What are their rights? Thereupon he said: Keeping the eye downward (so that you may not stare at the women), refraining from doing some harm to the other and exchanging mutual greetings (saying as-Salamu Alaikum to one another) and commanding the good and forbidding the evil.
راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت اور راستوں کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ح و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن محمد مدنی، محمد بن رافع، ابن فدیک، ہشام ابن سعد حضرت زید بن اسلم (رض) سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters.
اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيِّسًا أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، فاطمہ بنت منذر، اسماء بنت ابوبکر (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میری بیٹی دلہن بنی ہے اسے چچک نکلی ہے جس کے وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں تو کیا میں اس کو بالوں کا جوڑا لگا سکتی ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
Asma, daughter of Abu Bakr, reported that a woman came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: I have a daughter who has been newly wedded. She had an attack of smallpox and thus her hair had fallen; should I add false hair to her head? Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Allah has cursed the woman who adds some false hair and the woman who asks for it.
اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَعَبْدَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ وَکِيعًا وَشُعْبَةَ فِي حَدِيثِهِمَا فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ ابن نمیر، ابی عبدہ، ابوکریب، وکیع، عمر وناقد، اسود بن عامر، شعبہ، ہشام ابن عروہ ابومعاویہ حضرت ہشام بن عروہ (رض) سے اس سند کے ساتھ حضرت ابومعاویہ (رض) کی حدیث کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے صرف لفظی فرق ہے ترجمہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Shubah with a slight variation of wording.
اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعَرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَهَاهَا
احمد بن سعید دارمی، حبان، وہیب، منصور، امہ، حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے ہیں حالانکہ اس کا خاوند بالوں کو پسند کرتا ہے اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میں اس کے بالوں میں جوڑا لگا دوں ؟ تو آپ ﷺ نے منع فرما دیا۔
Asma, daughter of Abu Bakr, reported that a woman came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: I have married my daughter (whose) hair of head have fallen. Her spouse likes them (the long hair). Allahs Messenger (may add false hair to her head? He forbade her to do this.