Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 232 of 379

4628Sahih Muslimصحیح

فتح کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کئے جانے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ وَلَمْ يَکُنْ أَسْلَمَ أَحَدٌ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ کَانَ اسْمُهُ الْعَاصِي فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا

ابن نمیر، ابوزکریا، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اضافہ یہ ہے کہ قریش کے عاصی نام والوں میں سے کوئی بھی مسلمان نہ ہوا سوائے مطیع کے اور اس کا نام بھی عاصی تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام مطیع رکھا۔

The same tradition has been narrated on the authority of Zakriyya through the same chain of transmitters with the following addition: "No rebellious Quraishite with al-Asi as his name embraced Islam that day except Muti. His name-was al-Asi, but the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) changed his name to Muti.

4629Sahih Muslimصحیح

صلح حدیبیہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا کَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الصُّلْحَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِکِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ فَکَتَبَ هَذَا مَا کَاتَبَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالُوا لَا تَکْتُبْ رَسُولُ اللَّهِ فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ نُقَاتِلْکَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ امْحُهُ فَقَالَ مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ قَالَ وَکَانَ فِيمَا اشْتَرَطُوا أَنْ يَدْخُلُوا مَکَّةَ فَيُقِيمُوا بِهَا ثَلَاثًا وَلَا يَدْخُلُهَا بِسِلَاحٍ إِلَّا جُلُبَّانَ السِّلَاحِ قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَقَ وَمَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ قَالَ الْقِرَابُ وَمَا فِيهِ

عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابوشعبہ، ابواسحاق، حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب (رض) نے صلح حدیبیہ کے دن نبی ﷺ اور مشرکین کے درمیان ہونے والا معاہدہ صلح لکھا تو اس میں یہ لکھا کہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ نے لکھا ہے تو مشرکین نے کہا آپ رسول اللہ ﷺ نہ لکھیں کیونکہ اگر ہم جانتے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو آپ ﷺ سے جنگ نہ کرتے۔ نبی ﷺ نے علی (رض) سے فرمایا اسے مٹا دو انہوں نے عرض کیا میں تو نہیں مٹاؤں گا پس نبی ﷺ نے خود اپنے ہاتھ مبارک سے مٹا دیا اس معاہدہ کی ایک شرط یہ تھی کہ مسلمان مکہ میں داخل ہوں تو صرف تین دن قیام کرسکیں گے اور مکہ میں اسلحہ کے بغیر آئیں گے ہاں اگر اسلحہ نیام میں ہو تو کوئی حرج نہیں۔

It has been narrated on the authority of al-Bara bin Azib (RA) who said: Ali bin Abu Talib penned the treaty between the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the polytheists on the Day of Hudaibiya. He wrote: This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has settled. They (the polytheists) said: Do not write words "the Messenger of Allah". If we knew that you were the Messenger of Allah, we would not fight against you. The Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to Ali (RA) : Strike out these words. He (Ali) said: I am not going to strike them out. So the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) struck them out with his own hand. The narrator said that the conditions upon which the two sides had agreed included that the Muslims would enter Makkah (next year) and would stay there for three days, and that they would not enter bearing arms except in their sheaths or bolsters

4630Sahih Muslimصحیح

صلح حدیبیہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ کَتَبَ عَلِيٌّ کِتَابًا بَيْنَهُمْ قَالَ فَکَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ ذَکَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ هَذَا مَا کَاتَبَ عَلَيْهِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والوں سے مصالحت کی تو علی (رض) نے ان کے درمیان ہونے والے معاہدہ کو تحریر کیا اور محمد رسول اللہ ﷺ لکھا باقی حدیث معاذ کی طرح ہے۔

It has been narrated on the authority of Abu Ishaq, who heard Bars bin Azib (RA) say: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) made peace with the people of Hudaibiya, Ali drew up the agreement between them, and so he wrote: Muhammad, the Messenger of Allah. (This is followed by the same wording as we have in the previous tradition except the omission of the words: This is what he has settled.)

4631Sahih Muslimصحیح

صلح حدیبیہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ جَمِيعًا عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ أَخْبَرَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ لَمَّا أُحْصِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْتِ صَالَحَهُ أَهْلُ مَکَّةَ عَلَی أَنْ يَدْخُلَهَا فَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثًا وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ السَّيْفِ وَقِرَابِهِ وَلَا يَخْرُجَ بِأَحَدٍ مَعَهُ مِنْ أَهْلِهَا وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا يَمْکُثُ بِهَا مِمَّنْ کَانَ مَعَهُ قَالَ لِعَلِيٍّ اکْتُبْ الشَّرْطَ بَيْنَنَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا قَاضَی عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ الْمُشْرِکُونَ لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ تَابَعْنَاکَ وَلَکِنْ اکْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَمْحَاهَا فَقَالَ عَلِيٌّ لَا وَاللَّهِ لَا أَمْحَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرِنِي مَکَانَهَا فَأَرَاهُ مَکَانَهَا فَمَحَاهَا وَکَتَبَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا أَنْ کَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ قَالُوا لِعَلِيٍّ هَذَا آخِرُ يَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِکَ فَأْمُرْهُ فَلْيَخْرُجْ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِکَ فَقَالَ نَعَمْ فَخَرَجَ و قَالَ ابْنُ جَنَابٍ فِي رِوَايَتِهِ مَکَانَ تَابَعْنَاکَ بَايَعْنَاکَ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، احمد بن جناب مصیصی، عیسیٰ بن یونس، اسحاق، زکریا، ابواسحاق، حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو بیت اللہ کے نزدیک گھیر لیا گیا تو اہل مکہ نے آپ ﷺ سے ان باتوں پر صلح کرلی کہ آپ ﷺ مکہ میں داخل ہو کر صرف تین دن قیام کریں گے اور مکہ میں تلواریں نیاموں میں ہوں اور اہل مکہ میں سے کسی کو بھی آپ ﷺ لے کر نہ جائیں گے اور جو مکہ میں ٹھہرنا چاہے اسے منع بھی نہ کریں گے جو آپ ﷺ کے ساتھ آئے ہوں آپ ﷺ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا ان شرائط کو ہمارے درمیان تحریر کردو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ یہ وہ شرائط ہیں جن کا فیصلہ محمد رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔ آپ سے مشرکین نے کہا اگر ہم آپ ﷺ کو رسول اللہ جانتے ہوتے تو آپ ﷺ کی اتباع کرلیتے بلکہ محمد بن عبداللہ لکھو۔ آپ ﷺ نے علی (رض) کو اسے مٹانے کا حکم دیا تو حضرت علی (رض) نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم میں تو اسے نہ مٹاؤں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس (لفظ) کی جگہ مجھے دکھاؤ۔ حضرت علی (رض) نے آپ ﷺ کو اس لفظ کی جگہ دکھائی تو آپ ﷺ نے خود اسے مٹا دیا اور ابن عبداللہ لکھ دیا گیا۔

It has been narrated on the authority of Bara who said: When the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was checked from going to the Ka’bah, the people of Makkah made peace with him on the condition that he would (be allowed to) enter Makkah (next year) and stay there for three days, that he would not enter (the city) except with swords in their sheaths and arms encased in their covers, that he would not take away with him anyone from its dwellers, nor would he prevent anyone from those with him to stay on in Makkah (if he so desired). He said to Ali (RA) : Write down the terms settled between us. (So Ali wrote): In the name of Allah, most Gracious and most Merciful. This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has settled (with the Makkahns), The polytheists said to him: If we knew that thou art the Messenger of Allah, we would follow you. But write: Muhammad bin Abdullah. So he told Ali to strike out these words. Ali said: No, by Allah, I will not strike them out. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may Peace be upon him) said: Show me their place (on the parchment). So he (Ali) showed him their place and he (the Holy Prophet) struck them out; and Ali wrote: Ibn Abdullah. (According to the terms of the treaty, next year) the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stayed there for three days. When it was the third day, they said to Ali (RA) : This is the last day according to the terms of your companion, so tell him to leave. Ali informed the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) accordingly. He said: Yes, and left (the city). Ibn Janab in his version of the tradition used: "we would swear allegiance to you" instead of "we would follow you".

4632Sahih Muslimصحیح

صلح حدیبیہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ اکْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا بِاسْمِ اللَّهِ فَمَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَکِنْ اکْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِکَ اللَّهُمَّ فَقَالَ اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ قَالُوا لَوْ عَلِمْنَا أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاکَ وَلَکِنْ اکْتُبْ اسْمَکَ وَاسْمَ أَبِيکَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَاشْتَرَطُوا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَنْ جَائَ مِنْکُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْکُمْ وَمَنْ جَائَکُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَکْتُبُ هَذَا قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَمَنْ جَائَنَا مِنْهُمْ سَيَجْعَلُ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ جن قریشیوں نے نبی کریم ﷺ سے صلح کی ان میں سہیل بن عمرو بھی تھا نبی ﷺ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا لکھو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سہیل نے کہا کہ بسم اللہ تو ہم نہیں جانتے بسم اللہ الرحمن الرحیم کیا ہے البتہ بِاسْمِکَ اللَّهُمَّ لکھو جسے ہم جانتے ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے۔ (کفار) نے کہا اگر ہم آپ ﷺ کو اللہ کا رسول جانتے تو آپ ﷺ کی پیروی کرتے بلکہ آپ ﷺ اپنا اور اپنے باپ کا نام لکھیں نبی ﷺ نے فرمایا محمد بن عبداللہ کی طرف سے لکھو انہوں نے نبی ﷺ سے یہ شرط باندھی کہ تم میں سے جو ہمارے پاس آجائے گا ہم اسے واپس نہ کریں گے اور اگر تمہارے پاس ہم میں سے کوئی آئے گا تو تم اسے ہمارے پاس واپس کردو گے۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا ہم یہ بھی لکھ دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں لیکن ہم میں سے جو ان کی طرف جائے گا اللہ اسے (اسلام سے) دور کر دے گا اور جو ان میں سے ہمارے پاس آئے گا اللہ عنقریب اس کے لئے کوئی راستہ اور کشائش پیدا فرما دیں گے۔

It has been narrated on the authority of Anas that the Quraish made peace with the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Among them was Suhail bin Amr. The Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to Ali (RA) : Write "In the name of Allah, most Gracious and most Merciful." Suhail said: As for "Bismillah," we do not know what is meant by "Bismillah-ir-Rahman-ir-Rahim" (In the name of Allah most Gracious and most Merciful). But write what we understand, i. e. Bi ismika allahumma (in thy name. O Allah). Then, the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Write: "From Muhammad, the Messenger of Allah." They said: If we knew that thou were the Messenger of Allah, we would follow you. Therefore, write your name and the name of your father. So the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Write "From Muhammad bin Abdullah." They laid the condition on the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that anyone who joined them from the Muslims, the Makkahns would not return him, and anyone who joined you (the Muslims) from them, you would send him back to them. The Companions said: Messenger of Allah, should we write this? He said: Yes. One who goes away from us to join them-may Allah keep him away! and one who comes to join us from them (and is sent back) Allah will provide him relief and a way of escape.

4633Sahih Muslimصحیح

صلح حدیبیہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَوْمَ صِفِّينَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَکُمْ لَقَدْ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَی قِتَالًا لَقَاتَلْنَا وَذَلِکَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي کَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِکِينَ فَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا عَلَی حَقٍّ وَهُمْ عَلَی بَاطِلٍ قَالَ بَلَی قَالَ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَی قَالَ فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْکُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا قَالَ فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا فَأَتَی أَبَا بَکْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ أَلَسْنَا عَلَی حَقٍّ وَهُمْ عَلَی بَاطِلٍ قَالَ بَلَی قَالَ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَی قَالَ فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْکُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا قَالَ فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَتْحِ فَأَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ فَتْحٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عبدالعزیز بن سیاہ، حبیب بن ابی ثابت حضرت ابو وائل سے روایت ہے کہ صفین کے دن حضرت سہل بن حنیف کھڑے ہوئے اور کہا اے لوگو ! اپنے آپ کو غلط تصور کرو تحقیق ! ہم حدیبیہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے اگر ہم جنگ کرنا چاہتے تو ضرور کرتے اور یہ اس صلح کا واقعہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور مشرکین کے درمیان ہوئی حضرت عمر بن خطاب (رض) نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں عمر (رض) نے عرض کیا کیا ہمارے شہداء جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں عمر (رض) نے عرض کیا پھر ہم اپنے دین میں جھکاؤ اور ذلت کیوں قبول کریں اور حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کا حکم نہیں دیا آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابن خطاب میں اللہ کا رسول ہوں اللہ مجھے کبھی بھی ضائع نہیں فرمائے گا حضرت عمر (رض) سے صبر نہ ہوسکا اور غصہ ہی کی حالت میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور کہا اے ابوبکر ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ کہنے لگے کیا ہمارے شہداء جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں ہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، عمر (رضی اللہ عنہ) کہنے لگے پھر ہم کس وجہ سے اپنے دین میں کمزوری قبول کریں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا اور ان کے درمیان فیصلہ کا حکم نہیں دیا ابوبکر (رض) نے کہا اے ابن خطاب ! آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اللہ انہیں کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا۔ پس رسول اللہ ﷺ پر سورت فتح نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے عمر (رض) کو بلوایا اور انہیں سے وہ آیات پڑھوائیں تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا یہ فتح ہے آپ نے فرمایا جی ہاں حضرت عمر (رض) دلی طور پر خوش ہو کر لوٹ گئے۔

It has been narrated on the authority of Abu Wail who said: Sahal bin Hunaif stood up on the Day of Siffin and said: O ye people, blame yourselves (for want of discretion); we were with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on the Day of Hudaibiya. If we had thought it fit to fight, we could fight. This was in the truce between the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the polytheists. Umar bin Khattab came, approached the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Messenger of Allah, arent we fighting for truth and they for falsehood? He replied: By all means. He asked: Are not those killed from our side in Paradise and those killed from their side in the Fire? He replied: Yes. He said: Then why should we put a blot upon our religion and return, while Allah has not decided the issue between them and ourselves? He said: Son of Khattab, I am the Messenger of Allah. Allah will never ruin me. (The narrator said): Umar went away, but he could not contain himself with rage. So he approached Abu Bakr (RA) and said: Abu Bakr, arent we fighting for truth and they for falsehood? He replied: Yes. He asked: Arent those killed from our side in Paradise and those killed from their side in the Fire? He replied: Why not? He (then) said: Why should we then disgrace our religion and return while God has not yet decided the issue between them and ourselves? Abu Bakr (RA) said: Son of Khattab, verily, he is the Messenger of Allah, and Allah will never ruin him. (The narrator continued): At this (a Sura of) the Quran (giving glad tidings of the victory) was revealed to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He sent for Umar and made him read it. He asked: Is (this truce) a victory? He (the Messenger of Allah) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) replied: Yes. At this Umar was pleased, and returned.

4634Sahih Muslimصحیح

صلح حدیبیہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُا بِصِفِّينَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَکُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَنِّي أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَی عَوَاتِقِنَا إِلَی أَمْرٍ قَطُّ إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَی أَمْرٍ نَعْرِفُهُ إِلَّا أَمْرَکُمْ هَذَا لَمْ يَذْکُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ إِلَی أَمْرٍ قَطُّ

ابوکریب، محمد بن علاء، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ، اعمش، حضرت شقیق (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سہل بن حنیف سے جنگ صفین میں سنا انہوں نے کہا اے لوگو ! اپنی رائے کو غلط سمجھو اللہ کی قسم ابوجندل کے دن (صلح حدیبیہ) کا واقعہ میرے سامنے ہے اگر مجھ میں رسول اللہ ﷺ کو اس امر سے لوٹا دینے کی طاقت ہوتی تو میں آپ ﷺ کو لوٹا دیتا اللہ کی قسم ہم نے اپنی تلواریں کسی کام کے لئے اپنے کندھوں پر کبھی نہیں رکھیں مگر یہ کہ ان تلواروں نے ہمارے کام کو ہمارے لئے آسان بنادیا البتہ یہ معاملہ (آسان) نہیں ہوتا۔

It has been narrated on the authority of Shaqiq who said: I heard Sahl bin Hunaif say at Siffin: O ye people, find fault with your (own) discretion. By Allah, on the Day of Abu Jandal (i. e. the day of Hudaibiya), I thought to myself that, if I could, I would reverse the order of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (the terms of the truce being unpalatable). By Allah, we have never hung our swords on our shoulders in any situation whatsoever except when they made easy for us to realise the goal envisaged by us, but this battle of yours (seems to be an exception). Ibn Numair (in his version) did not mention the words: "In any situation whatsoever".

4635Sahih Muslimصحیح

صلح حدیبیہ کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا إِلَی أَمْرٍ يُفْظِعُنَا

عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق، جریر، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، یہی حدیث مبارکہ اس سند سے بھی مروی ہے اس میں اضافہ یہ ہے کہ کوئی دشوار کام بھی اس طرح نہیں ہوا۔

The same tradition has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Amash. This version contains the words: Ila amrin yofziuna instead of Ila amrin narifuhu.

4636Sahih Muslimصحیح

صلح حدیبیہ کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ بِصِفِّينَ يَقُولُا اتَّهِمُوا رَأْيَکُمْ عَلَی دِينِکُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَتَحْنَا مِنْهُ فِي خُصْمٍ إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا مِنْهُ خُصْمٌ

ابراہیم بن سعید جوہری، ابواسامہ، مالک بن مغول، ابی حصین حضرت ابو وائل (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سہل بن حنیف سے جنگ میں سنا اپنی رائے کو اپنے دین کے معاملہ میں غلط تسلیم کرو تحقیق ! میں نے ابوجندل کے دن دیکھا اگر میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کو رد کرنے کی طاقت رکھتا تو ضرور رد کردیتا ہم اس کی ایک گرہ کھول نہیں پاتے کہ دوسری گرہ ہم پر خود بخود کھل جاتی ہے۔

It has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Abu Wail who said: I heard Sahl bin Hunaif say at Siffin: Blame (the hollowness) of your views about your religion. I thought to myself on the day of Abu Jandal that if I could turn down the order of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , I would. The situation was so difficult that if we mended it at one place, it was rent at another.

4637Sahih Muslimصحیح

صلح حدیبیہ کے بیان میں

و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَهُمْ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَکَ اللَّهُ إِلَی قَوْلِهِ فَوْزًا عَظِيمًا مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُمْ يُخَالِطُهُمْ الْحُزْنُ وَالْکَآبَةُ وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا

نصر بن علی جہضمی، خلاد بن حارث، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ جب (اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْ بِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَه عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَ قِيْمًا۔ وَّيَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَ صْرًا عَزِيْزًا۔ هُوَ الَّذِيْ اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ لِيَزْدَادُوْ ا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ وَلِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِ يْمًا حَكِ يْمًا۔ لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَكَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًا) 48 ۔ الفتح) تک نازل ہوئی تو آپ ﷺ واپس آرہے تھے اور صحابہ غم اور دکھ سے پریشان ہو رہے تھے اور تحقیق آپ ﷺ نے حدیبیہ میں ایک اونٹ ذبح کیا پھر ارشاد فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت نازل کی گئی ہے جو مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔

It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) who said: When they (Companions of the Holy Prophet) were overwhelmed with grief and distress on his return from Hudaibiya where he had slaughtered his sacrificial beasts (not being allowed to proceed to Makkah), the Quranic verse: Inna fatahna... laka fathan mobinan to fauzan aziman, was revealed to him. (At this) he said: On me has descended a verse that is dearer to me than the whole world.

4638Sahih Muslimصحیح

صلح حدیبیہ کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ

عاصم بن نضر تیمی، معتمر، ابوقتادہ، انس بن مالک، ابن مثنی، ابوداؤد، ہمام، عبد بن حمید، یونس، ابن محمد، شیبان، قتادہ، انس، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

This tradition has been narrated through a different chain of transmitters.

4639Sahih Muslimصحیح

وعدوں کو پورا کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ قَالَ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلٌ قَالَ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَيْشٍ قَالُوا إِنَّکُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا مَا نُرِيدُهُ مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِينَةِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ انْصَرِفَا نَفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ولید بن جمیع، ابوطفیل، حضرت حذیفہ بن یمان (رض) سے روایت ہے کہ مجھے جنگ بدر میں حاضر ہونے سے کسی بات نے نہیں روکا سوائے اس کے کہ میں اور میرا باپ حسیل باہر نکلے ہوئے تھے کہتے ہیں ہمیں کفار قریش نے گرفتار کرلیا انہوں نے کہا کہ تم محمد کے پاس جانا چاہتے ہو ہم نے کہا ہم آپ ﷺ کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ ہم تو مدینہ جانا چاہتے تھے تو انہوں نے ہم سے اللہ کا یہ وعدہ اور میثاق لیا کہ ہم مدینہ واپس چلے جائیں گے اور آپ کے ساتھ مل کر جنگ نہ کریں پھر ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو اس واقعہ و وعدہ کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا تم دونوں واپس چلے جاؤ ہم ان کے معاہدہ کو پورا کریں گے اور اللہ سے ان کے خلاف مدد مانگیں گے۔

It has been reported on the authority of Hudbaifa bin al-Yaman who said: Nothing prevented me from being present at the Battle of Badr except this incident. I came out with my father Husail (to participate in the Battle), but we were caught by the disbelievers of Quraish. They said: (Do) you intend to go to Muhammad? We said: We do not intend to go to him, but we wish to go (back) to Madinah. So they took from us a covenant in the name of God that we would turn back to Madinah and would not fight on the side of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . So, we came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and related the incident to him. He said: Both, of you proceed (to Madinah); we will fulfil the covenant made with them and seek Gods help against them.

4640Sahih Muslimصحیح

غزوئہ خندق کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَقَالَ رَجُلٌ لَوْ أَدْرَکْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُ مَعَهُ وَأَبْلَيْتُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنْتَ کُنْتَ تَفْعَلُ ذَلِکَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ وَأَخَذَتْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ وَقُرٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَکَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَکَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَسَکَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ فَقَالَ قُمْ يَا حُذَيْفَةُ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ قَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ فَلَمَّا وَلَّيْتُ مِنْ عِنْدِهِ جَعَلْتُ کَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ حَتَّی أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُ أَبَا سُفْيَانَ يَصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ فَوَضَعْتُ سَهْمًا فِي کَبِدِ الْقَوْسِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ فَذَکَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ وَلَوْ رَمَيْتُهُ لَأَصَبْتُهُ فَرَجَعْتُ وَأَنَا أَمْشِي فِي مِثْلِ الْحَمَّامِ فَلَمَّا أَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَفَرَغْتُ قُرِرْتُ فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ عَبَائَةٍ کَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّی أَصْبَحْتُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قَالَ قُمْ يَا نَوْمَانُ

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، زہیر، جریر، اعمش، حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ کے پاس تھے ایک آدمی نے کہا اگر میں رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پا لیتا تو میں آپ ﷺ کے ساتھ جہاد کرتا اور بہت کوشش کرتا حضرت حذیفہ (رض) نے کہا تم ایسے کرتے تحقیق ! ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ احزاب کی رات سخت ہوا اور سردی دیکھ چکے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جو اس قوم کی خبر میرے پاس لائے اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ ﷺ کو جواب نہ دیا پھر فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں جو قوم کی ہمارے پاس خبر لائے اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ ﷺ کو جواب نہ دیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں کوئی ایسا آدمی نہیں جو ان کافروں کی ہمارے پاس خبر لائے اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھ نصیب فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ ﷺ کو جواب نہ دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے حذیفہ کھڑے ہوجاؤ اور ہمارے پاس قوم کی خبر لے آؤ جب آپ ﷺ نے میرا نام لے کر پکارا تو میرے لئے سوائے اٹھنے کے کوئی چارہ نہ تھا آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور قوم کی میرے پاس خبر لے کر آؤ مگر انہیں میرے خلاف بھڑکانا نہیں جب میں آپ ﷺ سے پشت پھیر کر چلنے لگا تو مجھے یوں محسوس ہونے لگا گویا کہ میں حمام میں چل رہا ہوں یہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچ گیا میں نے ابوسفیان کو اپنی پیٹھ آگ سے سینکتے دیکھا پس میں نے فورا کمان کے درمیان میں تیر رکھا اور اسے مارنے کا ارادہ کیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کا قول یاد آگیا کہ انہیں میرے خلاف بھڑکانا نہیں اگر میں تیر مار دیتا تو صحیح نشانہ پر ہی لگتا میں واپس لوٹا اور میں حمام ہی کی طرح میں چل رہا تھا جب میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا آپ ﷺ کو قوم کی خبر دے کر فارغ ہوا تو مجھے سردی محسوس ہونے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی بقیہ چادر اوڑھا دی جسے آپ ﷺ اوڑھ کر نماز ادا کر رہے تھے اور میں صبح تک نیند کرتا رہا۔ پس جب صبح ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے بہت سونے والے اٹھ جا۔

It has been narrated by Ibrahim al-Taimi on the authority of his father who said: We were sitting in the company of Hudhaifa. A man said: If I were in the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , I would have fought by his side and would have striven hard for his causes. Hudhaifa said: You might have done that, (but you should not make a flourish of your enthusiasm). I was with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on the night of the Battle of Abzab and we were gripped by a violent wind and severe cold. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace be him) said: Hark, the man who (goes reconnoitring and) brings me the news of the enemy shall be ranked with me on the Day of Judgment by Allah (the Glorious and Exalted). We all kept quiet and none of us responded to him. (Again) he said: Hark, a man who (goes reconnoitring and) brings me the news of the enemy shall be ranked with me on the Day of Judgment by Allah (the Glorious and Exalted). We kept quiet and none of us responded to him. He again said: Hark, a man who (goes reconnoitring and) brings me the news of the enemy shall be ranked with me on the Day of Judgtuent by Allah (the Glorious and Exalted) Then he said: Get up Hudhaifa, bring me the news of the enemy. When he called me by name I had no alternative but to get up. He said: Go and bring me information about the enemy, and do nothing that may provoke them against me. When I left him, I felt warm as if I were walking in a heated bath until I reached them. I saw Abu Sufyan (RA) warming his back against fire I put an arrow in the middle of the bow intending to shoot at him, when I recalled the words of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) "Do not provoke them against me." Had I shot at him, I would have hit him. But I returned and (felt warm as if) I were walking in a heated bath (hammam). Presenting myself before him, I gave him information about the enemy. When I had done so, I began to feel cold, so the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) wrapped me in a blanket that he had in excess to his own requirement and with which he used to cover himself while saying his prayers. So I continued to sleep until it was morning. When it was morning he said: Get up, O heavy sleeper.

4641Sahih Muslimصحیح

غزوہ احد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُفْرِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي سَبْعَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ثُمَّ رَهِقُوهُ أَيْضًا فَقَالَ مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ فَلَمْ يَزَلْ کَذَلِکَ حَتَّی قُتِلَ السَّبْعَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا

ہداب بن خالد ازدی، حماد بن سلمہ، علی بن زید، ثابت بنانی، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ سات انصاریوں اور قریش کے دو آدمیوں کے ہمراہ اکیلے رہ گئے جب آپ ﷺ کو گھیر لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جو انہیں ہم سے ہٹائے گا اس کے لئے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا تو انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھا اور جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہوگیا پھر بھی کافروں نے آپ ﷺ کو گھیرے رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا جو انہیں ہم سے دور کرے گا اس کے لئے جنت ہوگی یا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا پس انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھ کر لڑا یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا یہ سلسلہ برابر اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے (قریشی) ساتھیوں سے فرمایا ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔

It has been reported on the authority of Anas bin Malik (RA) that (when the enemy got the upper hand) on the day of the Battle of Uhud, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was left with only seven men from the Ansar and two men from the Quraish. When the enemy advanced towards him and overwhelmed him, he said: Whoso turns them away from us will attain Paradise or will be my Companion in Paradise. A man from the Ansar came forward and fought (the enemy) until he was killed. The enemy advanced and overwhelmed him again and he repeated the words: Whoso turns them away, from us will attain Paradise or will be my Companion in Paradise. A man from the Ansar came forward and fought until he was killed. This state continued until the seven Ansar were killed (one after the other). Now, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to his two Companions: We have not done justice to our Companions.

4642Sahih Muslimصحیح

غزوہ احد کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ جُرِحَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتْ الْبَيْضَةُ عَلَی رَأْسِهِ فَکَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ وَکَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَسْکُبُ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَائَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا کَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّی صَارَ رَمَادًا ثُمَّ أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ فَاسْتَمْسَکَ الدَّمُ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت عبدالعزیز بن ابوحازم (رض) کی اپنے باپ سے روایت ہے کہ سہل بن سعد (رض) سے رسول اللہ ﷺ کے غزوہ احد کے دن زخمی ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ کا چہرہ اقدس زخمی کیا گیا اور آگے سے ایک دانت ٹوٹ گیا اور خود آپ ﷺ کے سر مبارک میں ٹوٹ گئی تھی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) بنت رسول اللہ ﷺ خون دھوتی تھیں اور حضرت علی (رض) بن ابوطالب ڈھال میں پانی لا کر ڈال رہے تھے جب حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے دیکھا کہ پانی سے خون میں کمی نہیں بلکہ زیادتی ہو رہی ہے انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا یہاں تک کہ راکھ بن گئی پھر اسے زخم پر لگا دیا جس سے خون رک گیا۔

It has been narrated on the authority of Abd-ul-Aziz bin Abu Hazim, who learnt from his father (Abu Hazim). The latter heard it from Sahl bin Sad who was asked about the injury which the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) got on the day of the Battle of Uhud. He said: The face of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was injured, his front teeth were damaged and his helmet was crushed. Fatima, the daughter of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , was washing the blood (from his head), and Ali bin Abu Talib was pouring water on it from a shield. When Fatima saw that the bleeding had increased on account of (pouring) water (on the wound), she took a piece of mat and burnt it until it was reduced to ashes. She put the ashes on the wound and the bleeding stopped.

4643Sahih Muslimصحیح

غزوہ احد کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ وَهُوَ يَسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مَنْ کَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ کَانَ يَسْکُبُ الْمَائَ وَبِمَاذَا دُووِيَ جُرْحُهُ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ وَجُرِحَ وَجْهُهُ وَقَالَ مَکَانَ هُشِمَتْ کُسِرَتْ

قتیبہ بن سعید، یعقوب، ابن عبدالرحمن قاری، حضرت ابوحازم سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعد (رض) سے رسول اللہ ﷺ کے زخم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا سنو اللہ کی قسم ! مجھے معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زخم کو کس نے دھویا اور کس نے پانی ڈالا اور کس چیز سے آپ ﷺ کے زخم کا علاج کیا گیا باقی حدیث اسی طرح ذکر کی اس میں اضافہ ہے کہ آپ ﷺ کا چہرہ اقدس زخمی کیا گیا اور هُشِمَتْ کی جگہ کُسِرَتْ بیان کیا۔

It has been reported on the authority of Abu Hazim who heard from Sahl bin Sad. The latter was asked about the injury of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He said: By God, I know the person who washed the wound of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , who poured water on it and with what the wound was treated. Then Sahl narrated the same tradition as has been narrated by Abdul Aziz except that he added the words: "And his face was injured" and replaced the word "Hushimat" by "Kusirat" (i. e. it was broken).

4644Sahih Muslimصحیح

غزوہ احد کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مُطَرِّفٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ أُصِيبَ وَجْهُهُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُطَرِّفٍ جُرِحَ وَجْهُهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، عمرو بن سواد عامری، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، محمد بن سہل تمیمی، ابن ابی مریم، محمد یعنی ابن مطرف، ابی حازم، سہل بن سعد، ان اسناد سے بھی یہ حدیث معمولی فرق سے اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

The same tradition has been narrated on the authority of Sahl bin Sad through a different chain of transmitters with a slight difference in the wording.

4645Sahih Muslimصحیح

غزوہ احد کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ فِي رَأْسِهِ فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ وَيَقُولُ کَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ وَکَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَی اللَّهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَکَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، حماد بن سلمہ، ثابت بن انس، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے کا دانت ٹوٹ گیا اور سر مبارک میں زخم ہوگیا اور آپ ﷺ اس زخم سے خون پونچھتے ہوئے فرما رہے تھے وہ قوم کیسے کامیابی حاصل کرسکتی ہے جو اپنے نبی ﷺ کو زخمی کرتی ہے اور انہوں نے اس کے سامنے کے دانت کو توڑا ہے اور وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے تو اللہ رب العزت نے ( لَيْسَ لَکَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ) نازل فرمائی۔

It has been narrated on the authority of Anas that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had his front teeth damaged on the day of the Battle of Uhud, and got a wound on his head. He was wiping the blood (from his face) and was saying: How will these people attain salvation who have wounded their Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and broken his tooth while he called them towards God? At this time, God, the Exalted and Glorious, revealed the Verse: "Thou hast no authority" (iii. 127).

4646Sahih Muslimصحیح

غزوہ احد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْکِي نَبِيًّا مِنْ الْأَنْبِيَائِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، شقیق، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی نبی کا قصہ بیان فرما رہے تھے کہ انہیں ان کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرہ سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور فرماتے تھے اے میرے پروردگار میری قوم کی بخشش فرمانا وہ جانتے نہیں۔

It has been narrated on the authority of Abdullah who said: It appeared to me as if I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (and heard him) relate the story of a Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who had been beaten by his people, was wiping the blood from his face and was saying. My Lord, forgive my people, for they do not know.

4647Sahih Muslimصحیح

غزوہ احد کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَهُوَ يَنْضِحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، محمد بن بشر، اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اپنی پیشانی مبارک سے خون پونچھتے جاتے تھے۔

A version of the tradition with a slightly different wording has been narrated by another chain of transmitters.