نبی کریم ﷺ کا ہرقل کی طرف اسلام کی دعوت کے لئے مکتوب کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَکَانَ قَيْصَرُ لَمَّا کَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ مَشَی مِنْ حِمْصَ إِلَی إِيلِيَائَ شُکْرًا لِمَا أَبْلَاهُ اللَّهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَقَالَ إِثْمَ الْيَرِيسِيِّينَ وَقَالَ بِدَاعِيَةِ الْإِسْلَامِ
حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب ابن ابراہیم، ابن سعد، ابوصالح، ابن شہاب سے ان سندوں کے ساتھ روایت ہے اور اس حدیث میں یہ زائد ہے کہ قیصر نے جب فارس کے لشکر کو شکست دی تو وہ حمص سے ایلیاء کی طرف چلا تاکہ وہ اس آزمائش میں کامیاب ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters but with the addition: "When Allah inflicted defeat on the armies of Persia, Caesar moved from Hims to Aelia (Bait al-Maqdis) for thanking Allah as He granted him victory." In this hadith these words occur: "From Muhammad, servant of Allah and His Messenger," and said: "The sin of your followers," and also said the words: "to the call of Islam".
نبی ﷺ کے لکھے گئے کافر بادشاہوں کی طرف اور ان ہیں اسلام کی طرف بلانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَتَبَ إِلَی کِسْرَی وَإِلَی قَيْصَرَ وَإِلَی النَّجَاشِيِّ وَإِلَی کُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّی عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و
یوسف بن حماد، عبدالاعلی، سعید بن قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے کسری اور قیصر کی طرف اور نجاشی اور ہر (کافر) حاکم کی طرف خط لکھے جن میں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی گئی اور نجاشی یہ وہ نہیں ہے کہ جس پر نبی ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
It has been narrated on the authority of Anas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) wrote to Chosroes (King of Persia), Caesar (Emperor of Rome), Negus (King of Abyssinia) and every (other) despot inviting them to Allah, the Exalted. And this Negus was not the one for whom the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said the funeral prayers.
نبی ﷺ کے لکھے گئے کافر بادشاہوں کی طرف اور ان ہیں اسلام کی طرف بلانے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَائٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّی عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن عبداللہ، عبدالوہاب بن عطاء، سعید، قتادہ، حضرت انس (رض) نے نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح حدیث نقل کی اس حدیث میں یہ نہیں کہا کہ یہ نجاشی وہ نہیں ہے کہ جس پر نبی ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
The tradition has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) (the same narrator) through a different chain of transmitters, but this version does not mention: "And he was not the Negus for whom the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said the funeral prayers."
نبی ﷺ کے لکھے گئے کافر بادشاہوں کی طرف اور ان ہیں اسلام کی طرف بلانے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ أَخْبَرَنِي أَبِي حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَذْکُرْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّی عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
نصر بن علی جہضمی، خالد بن قیس، قتادہ، انس، اسی طرح دوسری سند سے جو روایت ہے اس میں بھی یہ الفاظ مذکور نہیں کہ یہ نجاشی وہ نہیں کہ جس پر نبی ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
It has been narrated on the authority of the same narrator through another chain of transmitters with the same difference in the wording.
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي کَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قَالَ عَبَّاسٌ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَزِمْتُ أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَائَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُفَاثَةَ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا الْتَقَی الْمُسْلِمُونَ وَالْکُفَّارُ وَلَّی الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْکُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْکُفَّارِ قَالَ عَبَّاسٌ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لَا تُسْرِعَ وَأَبُو سُفْيَانَ آخِذٌ بِرِکَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ فَقَالَ عَبَّاسٌ وَکَانَ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَی صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ لَکَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَی أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْکَ يَا لَبَّيْکَ قَالَ فَاقْتَتَلُوا وَالْکُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الْأَنْصَارِ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ قُصِرَتْ الدَّعْوَةُ عَلَی بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَقَالُوا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی بَغْلَتِهِ کَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَی قِتَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَی بِهِنَّ وُجُوهَ الْکُفَّارِ ثُمَّ قَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَی هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَی قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَی حَدَّهُمْ کَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت کثیر بن عباس بن عبدالمطلب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کے دن موجود تھا میں اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب ساتھ ساتھ رہے اور رسول اللہ ﷺ بالکل علیحدہ نہیں ہوئے اور رسول اللہ ﷺ سفید رنگ کے خچر پر سوار تھے وہ خچر آپ ﷺ کو فروہ بن نفاثہ جذامی نے ہدیہ کیا تھا تو جب مسلمانوں اور کافروں کا مقابلہ ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگے اور رسول اللہ ﷺ کافروں کی طرف اپنے خچر کو دوڑا رہے تھے حضرت عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام کو پکڑ کر اسے تیز بھاگنے سے روک رہا تھا اور ابوسفیان رسول اللہ ﷺ کی رکاب پکڑے ہوئے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عباس اصحاب سمرہ کو بلاؤ۔ حضرت عباس بلند آواز آدمی تھے۔ (حضرت عباس (رض) کہتے ہیں کہ) میں نے اپنی پوری آواز سے پکارا کہ اصحاب سمرہ کہاں ہیں ؟ حضرت عباس (رض) کہتے ہیں اللہ کی قسم جس وقت انہوں نے یہ آواز سنی تو وہ اس طرح پلٹے جس طرح کہ گائے اپنے بچوں کی طرف پلٹتی ہے وہ لوگ يَا لَبَّيْکَ يَا لَبَّيْکَ کہتے ہوئے آئے اور انہوں نے کافروں سے جنگ شروع کردی اور انہوں نے انصار کو بھی بلایا اور کہنے لگے اے انصار کی جماعت پھر انہوں نے بنو حارث بن خزرج کو بلایا اور کہا اے بنو حارث بن خزرج ! اے بنو حارث بن خزرج ! تو رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار ان کی طرف ان کی جنگ کا منظر دیکھ رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس وقت تنور گرم ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے چند کنکریاں اٹھائیں اور انہیں کافروں کے چہروں کی طرف پھینکا پھر فرمایا محمد ﷺ کے رب کی قسم یہ شکست کھا گئے حضرت عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ جنگ بڑی تیزی کے ساتھ جاری تھی میں اس طرح دیکھ رہا تھا کہ آپ ﷺ نے اچانک کنکریاں پھینکیں۔ حضرت عباس (رض) کہتے ہیں اللہ کی قسم میں نے دیکھا کہ ان کا زور ٹوٹ گیا اور وہ پشت پھیر کر بھاگنے لگے۔
It has been narrated on the authority of Abbas who said: I was in the company of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on the Day of Hunain. I and Abd Sufyan bin Harith bin Abdul Muttalib stuck to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and we did not separate from him. And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was riding on his white mule which had been presented to him by Farwa bin Nufitha al-Judhami. When the Muslims had an encounter with the disbelievers, the Muslims fled, falling back, but the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) began to spur his mule towards the disbelievers. I was holding the bridle of the mule of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) checking it from going very fast, and Abu Sufyan (RA) was holding the stirrup of the (mule of the) Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , who said: Abbas, call out to the people of al-ahadeeth. Abbas (who was a man with a loud voice) called out at the top of the voice: Where are the people of ahadeeth? (Abbas said:) And by God, when they heard my voice, they came back (to us) as cows come back to their calves, and said: We are present, we are present! Abbas said: They began to fight the infidels. Then there was a call to The Ansar. Those (who called out to them) shouted: O ye party of the Ansar! O party of the Ansar! Banu al-Harith bin al-Khazraj were the last to be called. Those (who called out to them) shouted: O Banu Al-Harith bin al-Khazraj! O Banu Harith bin al-Khazraj! And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who was riding on his mule looked at their fight with his neck stretched forward and he said: This is the time when the fight is raging hot. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took (some) pebbles and threw them in the face of the infidels. Then he said: By the Lord of Muhammad, the infidels are defeated. Abbas said: I went round and saw that the battle was in the same condition in which I had seen it. By Allah, it remained in the same condition until he threw the pebbles. I continued to watch until I found that their force had been spent out and they began to retreat.
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَرْوَةُ بْنُ نُعَامَةَ الْجُذَامِيُّ وَقَالَ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْکَعْبَةِ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْکَعْبَةِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ حَتَّی هَزَمَهُمْ اللَّهُ قَالَ وَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْکُضُ خَلْفَهُمْ عَلَی بَغْلَتِهِ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری (رض) سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے فروہ بن نعامہ جذامی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا رب کعبہ کی قسم یہ شکست کھا گئے رب کعبہ کی قسم یہ شکست کھا گئے اور حدیث میں یہ زائد ہے کہ یہاں تک کہ اللہ نے ان کو شکست دے دی اور گویا کہ میں نبی ﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ ان کے پیچھے اپنے خچر کو بھگا رہے ہیں۔
A version of the tradition has been transmitted through another chain of narrators. In this version the words uttered by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (after he had thrown the pebbles in the face of the enemy) are reported as: "By the Lord of the Ka’bah, they have been defeated." And there is at the end the addition of the words: "Until Allah defeated them" (and I imagine) as if I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) chasing them on his mule.
و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي کَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ يُونُسَ وَحَدِيثَ مَعْمَرٍ أَکْثَرُ مِنْهُ وَأَتَمُّ
ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت کثیر بن عباس (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے خبر دیتے ہیں کہ میں حنین کے دن نبی ﷺ کے ساتھ تھا پھر آگے مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی۔
Abbas reported: I was with Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on the Day of Hunain. The rest of the hadith is the same but with this variation that the hadith transmitted by Yonus and Mamar is more detailed and complete.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَائِ يَا أَبَا عُمَارَةَ أَفَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا وَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَکِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ سِلَاحٌ أَوْ کَثِيرُ سِلَاحٍ فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاةً لَا يَکَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِي نَصْرٍ فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَکَادُونَ يُخْطِئُونَ فَأَقْبَلُوا هُنَاکَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَغْلَتِهِ الْبَيْضَائِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ فَنَزَلَ فَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ثُمَّ صَفَّهُمْ
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، حضرت ابواسحاق (رض) سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت براء (رض) سے کہا اے ابوعمارہ کیا تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے پیٹھ نہیں پھیری بلکہ آپ ﷺ کے صحابہ میں سے چند نوجوان جلد باز اور بغیر ہتھیار میدان میں نکل آئے اور انہوں نے ایسے تیراندازوں سے مقابلہ کیا جو ہوازن اور بنو نضیر کے ایسے نوجوان تھے جن کا تیر خطا نہ ہوتا تھا انہوں نے اس انداز میں تیراندازی کی کہ ان کا کوئی تیر خطا نہ گیا پھر یہ نوجوان رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور رسول اللہ اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب اس کی لگام تھامے ہوئے تھے آپ ﷺ اترے اور اللہ سے مدد طلب کی اور ارشاد فرمایا میں نبی ﷺ ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں پھر آپ ﷺ نے صف بندی کی۔
It has been narratedon the authority of Abu Ishaq who said: A man asked Bara (b. Azib): Did you run away on the Day of Hunain. O, Abu Umira? He said: No, by Allah, The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not turn his back; (what actually happened was that) some young men from among his companions, who were hasty and who were either without any arms or did not have abundant arms, advanced and met a party of archers (who were so good shots) that their arrows never missed the mark. This party (of archers) belonged to Banu Hawazin and Banu Nadir. They shot at the advancing young men and their arrows were not likely to miss their targets. So these young men turned to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) while he was riding on his white mule and Abu Sufyan (RA) bin al-Harith bin Abdul Muttalib was leading him. (At this) he got down from his mule, invoked Gods help, and called out: I am the Prophet. This is no untruth. I am the son of Abdul Muttalib. Then he deployed his men into battle array.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی الْبَرَائِ فَقَالَ أَکُنْتُمْ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا وَلَّی وَلَکِنَّهُ انْطَلَقَ أَخِفَّائُ مِنْ النَّاسِ وَحُسَّرٌ إِلَی هَذَا الْحَيِّ مِنْ هَوَازِنَ وَهُمْ قَوْمٌ رُمَاةٌ فَرَمَوْهُمْ بِرِشْقٍ مِنْ نَبْلٍ کَأَنَّهَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَانْکَشَفُوا فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ يَقُودُ بِهِ بَغْلَتَهُ فَنَزَلَ وَدَعَا وَاسْتَنْصَرَ وَهُوَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ اللَّهُمَّ نَزِّلْ نَصْرَکَ قَالَ الْبَرَائُ کُنَّا وَاللَّهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِهِ وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي يُحَاذِي بِهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
احمد بن جناب مصیصی، عیسیٰ بن یونس، زکریا، حضرت ابواسحاق (رض) سے روایت ہے کہ حضرت براء کے پاس ایک آدمی نے آ کر کہا اے ابوعمارہ کیا تم غزوہ حنین کے دن بھاگ گئے تھے انہوں نے کہا میں نبی ﷺ کی اس بات پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ نے پیٹھ نہ پھیری بلکہ لوگوں میں سے چند کمزور اور نہتے نوجوان بنو ہوازن کے اس قبیلہ کی طرف بڑھے اور وہ تیر انداز قوم تھی پس انہوں نے تیروں کی اس طرح بوچھاڑ کردی جیسے ٹڈی دل ہو صحابہ (رض) منتشر ہوگئے تو یہ قوم رسول اللہ ﷺ کی طرف بڑھنے لگی اس وقت ابوسفیان بن حارث آپ ﷺ کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے آپ ﷺ اترے دعا مانگی اور مدد طلب کی اور آپ ﷺ فرماتے تھے میں نبی ﷺ ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں اے اللہ اپنی مدد نازل فرما براء نے کہا ہم جنگ کی شدت میں اپنے آپ کو آپ ﷺ کی پناہ میں بچاتے تھے اور ہم میں سے بہادر آپ ﷺ کے ساتھ یعنی نبی ﷺ کے ساتھ رہتا۔
It has been narrated (through a different chain of transmitters) by Abu Ishiq that a person said to Bara (b. Azib): Abu Umara, did you flee on the Day of Hunain? He replied: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not retreat. (What actually happened was that some hasty young men who were either inadequately armed or were unarmed met a group of men from Banu Hawazin and Banu Nadir who happened to be (excellent) archers. The latter shot at them a volley of arrows that did not miss. The people turned to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Abu Sufyan (RA) bin Harith was leading his mule. So he got down, prayed and invoked Gods help. He said: I am the Prophet. This is no untruth. I am the son of Abdul Muttalib. O God, descend Thy help. Bara continued: When the battle grew fierce, we, by God. would seek protection by his side, and the bravest among us was he who confronted the onslaught and it was the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ الْبَرَائُ وَلَکِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ وَکَانَتْ هَوَازِنُ يَوْمَئِذٍ رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ انْکَشَفُوا فَأَکْبَبْنَا عَلَی الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَغْلَتِهِ الْبَيْضَائِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق سے روایت ہے کہ میں نے براء سے سنا اور ان سے قیس کے ایک آدمی نے پوچھا کیا تم غزوہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس سے بھاگ گئے تھے براء (رض) نے کہا لیکن رسول اللہ ﷺ نہیں بھاگے اور ان دنوں ہوازن تیرانداز تھے جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ گئے ہم مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے تیروں سے ہمارا مقابلہ کیا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے سفید خچر پر سوار دیکھا اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور آپ ﷺ فرما رہے تھے میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔
It has been narrated through a still different chain of transmitters by the same narrator (i. e. Abu Ishaq) who said: I heard from Bara who was asked by a man from the Qais tribe: Did you run away from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on the Day of Hunain? Bara said: But the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not run away. On that day Banu Hawzzin took part in the battle as archers (on the side of the disbelievers). When we attacked them, they retreated and we fell upon the booty; (they rallied) and advanced towards us with arrows. (At that time) I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) riding on his white mule and Abu Sufyan (RA) bin al-Harith was holding its bridle. He (the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was saying: I am the Prophet. This is no untruth. I am a descendant of Abdul Muttalib.
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ أَقَلُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَهَؤُلَائِ أَتَمُّ حَدِيثًا
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، ابوبکر بن خلاد، یحییٰ بن سعید، سفیان، ابواسحاق حضرت براء (رض) سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے کہا اے ابوعمارہ باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Bara with another chain of transmitters, but this hadith is short as compared with other ahadith which are more detailed.
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِيَّةً فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنْ الْعَدُوِّ فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ فَتَوَارَی عَنِّي فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ وَنَظَرْتُ إِلَی الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَی فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَلَّی صَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا وَعَلَيَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا مُرْتَدِيًا بِالْأُخْرَی فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِي فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيعًا وَمَرَرْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَی بَغْلَتِهِ الشَّهْبَائِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَی ابْنُ الْأَکْوَعِ فَزَعًا فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنْ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنْ الْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَقَالَ شَاهَتْ الْوُجُوهُ فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْکَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ
زہیر بن حرب، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، ایاس بن سلمہ، حضرت ایاس بن سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کی جب ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوا تو میں آگے بڑھ کر ایک گھاٹی پر چڑھ گیا سامنے سے دشمن کا ایک آدمی آیا میں نے اسے تیر مارا تو وہ مجھ سے چھپ گیا اور میں نہ جان سکا کہ اس نے کیا کیا ہے میں نے (دشمن) قوم کو دیکھا تو وہ دوسری گھاٹی سے چڑھ رہے تھے ان کا اور نبی ﷺ کا مقابلہ ہوا تو نبی ﷺ کے صحابہ (رض) نے پشت پھیری اور میں بھی شکست کھا کر لوٹا اور مجھ پر دو چادریں تھیں ایک کو میں نے باندھا ہوا تھا اور دوسری کو اوڑھا ہوا تھا میری تہ بند کھل گئی تو میں نے دونوں چادروں کو اکٹھا کرلیا اور میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے شکست خوردہ لوٹا اور آپ ﷺ اپنے شہباء خچر پر سوار تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابن اکوع نے گھبرائے ہوئے دیکھا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو (دشمنوں نے) گھیر لیا تو آپ ﷺ خچر سے اترے پھر زمین سے ایک مٹھی مٹی کی بھری اور دشمن کے چہروں کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا چہرے برے ہوگئے اللہ نے ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کو اس مٹھی کی مٹی سے بھر دیا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے پس اللہ رب العزت نے انہیں شکست سے دوچار کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کا مال غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔
This tradition has been narrated on the authority of Salama who said: We fought by the side of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at Hunain. When we encountered the enemy, I advanced and ascended a hillock. A man from the enemy side turned towards me and I shot him with an arrow. He (ducked and) hid himself from me. I could not understand what he did, but (all of a sudden) I saw that a group of people appeared from the other hillock. They and the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) met in combat, but the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) turned back and I too turned back defeated. I had two mantles, one of which I was wrapping round the waist (covering the lower part of my body) and the other I was putting around my shoulders. My waist-wrapper got loose and I held the two mantles together. (In this downcast condition) I passed by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who was riding on his white mule. He said: The son of Akwa finds himself to be utterly perplexed. Where the Companions gathered round him from all sides. the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) got down from his mule, picked up a handful of dust from the ground, threw it into their (enemy) faces and said: May these faces be deformed. There was no one among the enemy whose eyes were not filled with the dust from this handful. So they turned back fleeing and Allah the Exalted and Glorious defeated them, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) distributed their booty among the Muslims.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَقَالَ إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَائَ اللَّهُ قَالَ أَصْحَابُهُ نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْدُوا عَلَی الْقِتَالِ فَغَدَوْا عَلَيْهِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا قَالَ فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِکَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
س ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان، زہیر، سفیان بن عیینہ، عمرو، ابن عباس، شاعر اسعمی، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طائف والوں کا محاصرہ کیا لیکن کامیابی حاصل نہ ہوسکی تو فرمایا ہم انشاء اللہ لوٹ جائیں گے آپ ﷺ کے صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا ہم بغیر فتح کے لوٹیں گے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا تم کل صبح جنگ کرنا چناچہ صبح ان پر حملہ کردیا اور زخمی ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ہم کل صبح واپس چلے جائیں گے صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے اس بات کو پسند کیا تو رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے۔
It has been narrated on the authority of Ibn Amr who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) besieged the people of Taif, but did get victory over them. He said: God willing, we shall return. His Companions said: Shall we depart without having conquered it? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: (All right) make a raid in the morning. They did so and were wounded (with the arrows showered upon them). So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: We shall depart tomorrow. (The narrator says): (Now) this (announcement) pleased them, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) laughed at (their waywardness).
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ حِينَ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ تَکَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ إِيَّانَا تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَکْبَادَهَا إِلَی بَرْکِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا قَالَ فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَانْطَلَقُوا حَتَّی نَزَلُوا بَدْرًا وَوَرَدَتْ عَلَيْهِمْ رَوَايَا قُرَيْشٍ وَفِيهِمْ غُلَامٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ فَأَخَذُوهُ فَکَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ فَيَقُولُ مَا لِي عِلْمٌ بِأَبِي سُفْيَانَ وَلَکِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ فَإِذَا قَالَ ذَلِکَ ضَرَبُوهُ فَقَالَ نَعَمْ أَنَا أُخْبِرُکُمْ هَذَا أَبُو سُفْيَانَ فَإِذَا تَرَکُوهُ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ وَلَکِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ فِي النَّاسِ فَإِذَا قَالَ هَذَا أَيْضًا ضَرَبُوهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ انْصَرَفَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَضْرِبُوهُ إِذَا صَدَقَکُمْ وَتَتْرُکُوهُ إِذَا کَذَبَکُمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ قَالَ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَی الْأَرْضِ هَاهُنَا هَاهُنَا قَالَ فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مشورہ فرمایا جب ابوسفیان کے آنے کی خبر آپ ﷺ کو پہنچی حضرت ابوبکر (رض) نے گفتگو کی تو اس سے اعراض کیا پھر عمر نے گفتگو کی تو اس سے اعراض کیا پھر حضرت سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا آپ ﷺ کی مراد ہم سے ہے اے اللہ کے رسول ﷺ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ﷺ ہمیں سمندر میں گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں تو ہم انہیں ڈال دیں گے اگر آپ ﷺ ہمیں ان کے سینے برک الغماد سے ٹکرا دینے کا حکم دیں تو ہم کر گزریں گے پس رسول اللہ ﷺ نے صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو بلایا اور چلے یہاں تک کہ مقام بدر پر جا کر اترے اور ان پر قریش کے پانی پلانے والے گزرے اور ان میں بنو حجاج کا سیاہ فام غلام بھی تھا صحابہ نے اسے پکڑ لیا اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھنے لگے تو اس نے کہا مجھے ابوسفیان کے بارے میں معلوم نہیں لیکن ابوجہل، عتبہ، شیبہ، امیہ بن خلف یہ سامنے ہیں جب اس نے یہ کہا تو صحابہ نے اسے مارا تو اس نے کہا ہاں میں تمہیں ابوسفیان کی خبر دیتا ہوں کہ ابوسفیان یہ ہے صحابہ نے اسے چھوڑ دیا پھر پوچھا تو اس نے کہا مجھے ابوسفیان کے بارے میں معلوم نہیں بلکہ ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف یہاں لوگوں میں ہیں اس نے جب یہ کہا تو صحابہ (رض) نے اسے پھر مارا اور رسول اللہ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے جب نبی ﷺ نے یہ کیفیت دیکھی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جب یہ سچ کہتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب تم سے جھوٹ کہتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ فلاں (کافر) کی قتل گاہ ہے اور رسول اللہ ﷺ زمین پر اس، اس جگہ اپنا ہاتھ مبارک رکھتے تھے انس کہتے ہیں ان میں سے کوئی بھی (کافر) رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ رکھنے کی جگہ سے ادھر ادھر متجاوز نہ ہوا۔ (عین اسی جگہ جہنم رسید ہوا)
It has been narrated on the authority of Anas that when (the news of) the advance of Abu Sufyan (RA) (at the head of a force) reached him, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) held consultations with his Companions. The narrator said: Abu Bakr (RA) spoke (expressing his own views), but he (the Holy Prophet) did not pay heed to him. Then spoke Umar (expressing his views), but he (the Holy Prophet) did not pay heed to him (too). Then Sad bin Ubadah stood up and said: Messenger of Allah, you want us (to speak). By God in Whose control is my life, if you order us to plunge our horses into the sea, we would do so. If you order us to goad our horses to the most distant place like Bark al-Ghimad, we would do so. The narrator said: Now the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called upon the people (for the encounter). So they set out and encamped at Badr. (Soon) the water-carriers of the Quraish arrived. Among them was a black slave belonging to Banu al-Hajjaj. The Companions of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) caught him and interrogated him about Abu Sufyan (RA) and his companions. He said: I know nothing about Abu Sufyan (RA) , but Abu Jahl, Utba, Shaiba and Umayya bin Khalaf are there. When he said this, they beat him. Then he said: All right, I will tell you about Abu Sufyan (RA) . They would stop beating him and then ask him (again) about Abu Sufyan (RA) . He would again say, I know nothing about Abu Sufyan (RA) , but Abu Jahl, Utba, Shaiba and Umayya bin Khalaf are there. When he said this, they beat him likewise. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was standing in prayer. When he saw this he finished his prayer and said: By Allah in Whose control is my life, you beat him when he is telling you the truth, and you let him go when he tells you a lie. The narrator said: Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: This is the place where so and so would be killed. He placed his hand on the earth (saying) here and here; (and) none of them fell away from the place which the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had indicated by placing his hand on the earth.
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَی مُعَاوِيَةَ وَذَلِکَ فِي رَمَضَانَ فَکَانَ يَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ فَکَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّا يُکْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَی رَحْلِهِ فَقُلْتُ أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَی رَحْلِي فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنْ الْعَشِيِّ فَقُلْتُ الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ فَقَالَ سَبَقْتَنِي قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَلَا أُعْلِمُکُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِکُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ ذَکَرَ فَتْحَ مَکَّةَ فَقَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی قَدِمَ مَکَّةَ فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَی إِحْدَی الْمُجَنِّبَتَيْنِ وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَی الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَی وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَی الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کَتِيبَةٍ قَالَ فَنَظَرَ فَرَآنِي فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ زَادَ غَيْرُ شَيْبَانَ فَقَالَ اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ قَالَ فَأَطَافُوا بِهِ وَوَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا وَأَتْبَاعًا فَقَالُوا نُقَدِّمُ هَؤُلَائِ فَإِنْ کَانَ لَهُمْ شَيْئٌ کُنَّا مَعَهُمْ وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَوْنَ إِلَی أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی ثُمَّ قَالَ حَتَّی تُوَافُونِي بِالصَّفَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَمَا شَائَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ وَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا قَالَ فَجَائَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيحَتْ خَضْرَائُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ثُمَّ قَالَ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَجَائَ الْوَحْيُ وَکَانَ إِذَا جَائَ الْوَحْيُ لَا يَخْفَی عَلَيْنَا فَإِذَا جَائَ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ فَلَمَّا انْقَضَی الْوَحْيُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ قَالُوا قَدْ کَانَ ذَاکَ قَالَ کَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَيْکُمْ وَالْمَحْيَا مَحْيَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْکُونَ وَيَقُولُونَ وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِکُمْ وَيَعْذِرَانِکُمْ قَالَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَی دَارِ أَبِي سُفْيَانَ وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ قَالَ وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَقْبَلَ إِلَی الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ قَالَ فَأَتَی عَلَی صَنَمٍ إِلَی جَنْبِ الْبَيْتِ کَانُوا يَعْبُدُونَهُ قَالَ وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ وَهُوَ آخِذٌ بِسِيَةِ الْقَوْسِ فَلَمَّا أَتَی عَلَی الصَّنَمِ جَعَلَ يَطْعُنُهُ فِي عَيْنِهِ وَيَقُولُ جَائَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَی الصَّفَا فَعَلَا عَلَيْهِ حَتَّی نَظَرَ إِلَی الْبَيْتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو بِمَا شَائَ أَنْ يَدْعُوَ
شیبان بن فروخ، سلیمان بن مغیرہ، ثابت بنانی، عبداللہ بن رباح، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رمضان المبارک میں کئی وفد حضرت معاویہ (رض) کے پاس پہنچے اور ہم ایک دوسرے کے لئے کھانا تیار کرتے تھے اور ابوہریرہ (رض) ہمیں اکثر اپنے ٹھکانے پر بلاتے تھے میں نے کہا کیا میں کھانا نہ پکاؤں اور پھر انہیں اپنے مکان پر آنے کی دعوت دوں تو میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا پھر شام کے وقت میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے ملا تو میں نے کہا آج رات میرے ہاں دعوت ہے انہوں نے کہا تم نے مجھ پر سبقت حاصل کرلی ہے میں نے کہا جی ہاں میں نے انہیں دعوت دی ہے حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا اے انصار کی جماعت کیا میں تمہیں تمہارے بارے میں حدیث کی خبر نہ دوں۔ پھر فتح مکہ کا ذکر کیا تو کہا رسول اللہ ﷺ (مدینہ سے) چل کر مکہ پہنچے اور دو اطراف میں سے ایک جانب آپ ﷺ نے زبیر کو اور دوسری جانب خالد کو بھیجا اور ابوعبیدہ کو بےزرہ لوگوں پر امیر بنا کر بھیجا۔ وہ وادی کے اندر سے گزرے اور رسول اللہ ﷺ الگ ایک فوجی دستہ میں رہ گئے۔ آپ ﷺ نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا تو فرمایا ابوہریرہ ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس انصار کے علاوہ کوئی نہ آئے۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا انصار کو میرے پاس (آنے کی) آواز دو ۔ پس وہ سب آپ ﷺ کے اردگرد جمع ہوگئے اور قریش نے بھی اپنے حماتیی اور متبعین کو اکٹھا کرلیا اور کہا : ہم ان کو آگے بھیج دیتے ہیں اگر انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوا تو ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوجائیں گے اور اگر انہیں کچھ ہوگیا تو ہم سے جو کچھ مانگا جائے گا دے دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم قریش کے حمایتیوں اور متبعین کو دیکھ رہے ہو، تو اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا اور تم مجھ سے کوہ صفا پر ملاقات کرنا ہم چل دیئے اور ہم میں سے جو کسی کو قتل کرنا چاہتا تو کردیتا اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہ کرسکتا پس ابوسفیان نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ قریش کی سرداری ختم ہوگئی آج کے بعد کوئی قریشی نہ رہے گا پھر آپ ﷺ نے فرمایا جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں رہے گا انصار نے ایک دوسرے سے کہا آپ ﷺ کو اپنے شہر کی محبت اور اپنے قرابت داروں کے ساتھ نرمی غالب آگئی ہے ابوہریرہ (رض) نے کہا آپ ﷺ پر وحی آئی اور جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی تو کوئی بھی رسول اللہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ سکتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہوجاتی پس جب وحی پوری ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے انصار کی جماعت انہوں نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا تم نے کہا ہے کہ اس شخص کو اپنے شہر کی محبت غالب آگئی ہے انہوں نے عرض کیا واقعہ تو یہی ہوا تھا آپ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے اب میری زندگی تمہاری زندگی کے ساتھ اور موت تمہاری موت کے ساتھ ہے پس (انصار) روتے ہوئے آپ ﷺ کی طرف بڑھے اور عرض کرنے لگے اللہ کی قسم ہم نے جو کچھ کہا وہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کی حرص میں کہا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں پس لوگ ابوسفیان کے گھر کی طرف جانے لگے اور کچھ لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لئے رسول اللہ ﷺ روانہ ہو کر حجر اسود تک پہنچے اور اسے بوسہ دیا پھر بیت اللہ کا طواف کیا کعبہ کے ایک کونے میں موجود ایک بت کے پاس آئے جس کی وہ پرستش کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ایک کمان تھی جس کا کونا آپ ﷺ پکڑے ہوئے تھے جب بت کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے اس کی آنکھوں میں اس کمان کا کونا چبھونا شروع کردیا اور فرماتے تھے حق آگیا اور باطل چلا گیا جب آپ ﷺ اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو کوہ صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھ کر بیت اللہ کی طرف نظر دوڑائی اور آپ نے ہاتھوں کو بلند کیا اور اللہ کی حمد وثناء شروع کردی اور پھر جو چاہا اللہ سے مانگتے رہے۔
It has been narrated by Abdullah bin Rabah from Abu Hurairah (RA) , who said: Many deputations came to Muawiyah. This was in the month of Ramadan. We would prepare food for one another. Abu Hurairah (RA) was one of those who frequently invited us to his house. I said: Should I not prepare food and invite them to my place? So I ordered meals to be prepared Then I met Abu Hurairah (RA) in the evening and said: (You will have) your meals with me tonight. He said: You have forestalled me. I said: Yes, and invited them. (When they had finished with the meals) Abu Hurairah (RA) said: Should I not tell yon a tradition from your traditions, O ye assembly of the Ansar? He then gave an account of the Conquest of Makkah and said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) advanced until he reached Makkah. He deputed Zubair on his right flank and Khalid on the left, and he despatched Abu Ubaida with the force that had no armour. They advanced to the interior of the valley. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was in the midst of a large contingent of fighters. He saw me and said: Abu Hurairah (RA) . I said: I am here at your call, Messenger of Allah. He said: Let no one come to me except the Ansar, so call to me the Ansar (only). Abu Hurairah (RA) continued: So they gathered round him. The Quraish also gathered their ruffians and their (lowly) followers, and said: We send these forward. If they get anything, we shall be with them (to share it), and if misfortune befalls them, we shall pay (as compensation) whatever we are asked for. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said (to the Ansar): You see the ruffians and the (lowly) followers of the Quraish. And he indicated by (striking) one of his hands over the other that they should be killed and said: Meet me at as-Safa. Then we went on (and) if any one of us wanted that a certain person should be killed, he was killed, and none could offer any resistance. Abu Hurairah (RA) continued: Then came Abu Sufyan (RA) and said: Messenger of Allah, the blood of the Quraish has become very cheap. There will be no Quraish from this day on.
Then he (the Holy Prophet) said: Who enters the house of Abu Sufyan (RA) , he will be safe. Some of the Ansar whispered among themselves: (After all), love for his city and tenderness towards his relations have overpowered him. Abu Hurairah (RA) said: (At this moment) revelation came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and when he was going to receive the Revelation, we understood it, and when he was (actually) receiving it, none of us would dare raise his eyes to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) until the revelation came to an end. When the revelation came to an end, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: O ye Assembly of the Ansar! They said: Here we are at your disposal, Messenger of Allah. He said: You were saying that love for his city and tenderness towards his people have overpowered this man. They said: So it was. He said: No, never. I am a bondman of God and His Messenger. I migrated towards God and towards you. I will live with you and will die with you. So, they (the Ansar) turned towards him in tears and they were saying: By Allah, we said what we said because of our tenacious attachment to Allah and His Messenger. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Surely, Allah and His Messenger testify to your assertions and accept your apology. The narrator continued: People turned to the house of Abu Sufyan (RA) and people locked their doors. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) proceeded until he approached the (Black) Stone. He kissed it and circumambulated the Ka’bah. He reached near an idol by the side of the Ka’bah which was worshipped by the people. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had a bow in his hand, and he was holding it from a corner. When he came near the idol, he began to pierce its eyes with the bow and (while doing so) was saying: Truth has been established and falsehood has perished. When he had finished the circumambulation, he came to Safa, ascended it to a height from where he could see the Ka’bah, raised his hands (in prayer) and began to praise Allah and prayed what he wanted to pray.
و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی احْصُدُوهُمْ حَصْدًا وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالُوا قُلْنَا ذَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَا اسْمِي إِذًا کَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
عبداللہ بن ہاشم، بہز، سلیمان بن مغیرہ اس سند بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں مزید اضافہ یہ ہے کہ پھر آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا انصار نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم نے اسی طرح کہا آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت میرا نام کیا ہوگا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ﷺ ہوں۔
The tradition has been narrated by a different chain of transmitters with the following additions: Then he (the Messenger of Allah) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said with his hands one upon the other: Kill them (who stand in your way).... (ii) They (the Ansar) replied: We said so, Messenger of Allah! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) He said: What is my name? I am but Allahs bondman and His Messenger.
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ وَفَدْنَا إِلَی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَکَانَ کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَصْنَعُ طَعَامًا يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ فَکَانَتْ نَوْبَتِي فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ الْيَوْمُ نَوْبَتِي فَجَائُوا إِلَی الْمَنْزِلِ وَلَمْ يُدْرِکْ طَعَامُنَا فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَوْ حَدَّثْتَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يُدْرِکَ طَعَامُنَا فَقَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَی الْمُجَنِّبَةِ الْيُمْنَی وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَی الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَی وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَی الْبَيَاذِقَةِ وَبَطْنِ الْوَادِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ فَجَائُوا يُهَرْوِلُونَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ هَلْ تَرَوْنَ أَوْبَاشَ قُرَيْشٍ قَالُوا نَعَمْ قَالَ انْظُرُوا إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا أَنْ تَحْصُدُوهُمْ حَصْدًا وَأَخْفَی بِيَدِهِ وَوَضَعَ يَمِينَهُ عَلَی شِمَالِهِ وَقَالَ مَوْعِدُکُمْ الصَّفَا قَالَ فَمَا أَشْرَفَ يَوْمَئِذٍ لَهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَنَامُوهُ قَالَ وَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا وَجَائَتْ الْأَنْصَارُ فَأَطَافُوا بِالصَّفَا فَجَائَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيدَتْ خَضْرَائُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَی السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ أَلَا فَمَا اسْمِي إِذًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ هَاجَرْتُ إِلَی اللَّهِ وَإِلَيْکُمْ فَالْمَحْيَا مَحْيَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ قَالُوا وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلَّا ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِکُمْ وَيَعْذِرَانِکُمْ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، حماد بن سلمہ، ثابت بن عبداللہ بن رباح، حضرت عبدالرحمن بن رباح (رض) سے روایت ہے کہ ہم حضرت معاویہ بن ابوسفیان کے پاس گئے اور ہم میں حضرت ابوہریرہ (رض) بھی تھے اور ہم میں سے ایک آدمی ایک دن اپنے ساتھیوں کے لئے کھانا پکاتا تھا میری باری تھی تو میں نے کہا اے ابوہریرہ ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) آج میری باری ہے۔ پس وہ (سب ساتھی) گھر آگئے لیکن کھانا ابھی تک تیار نہ ہوا تھا۔ تو میں نے کہا اے ابوہریرہ ! کاش آپ ہمیں کھانا تیار ہونے تک رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان کردیتے۔ تو انہوں نے کہا فتح مکہ کے دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے خالد بن ولید کو دائیں طرف لشکر پر اور زبیر کو بائیں طرف کے لشکر پر اور ابوعبیدہ کو پیدل لشکر پر امیر مقرر کر کے وادی کے اندر روانہ فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوہریرہ میرے پاس انصار کو بلاؤ میں نے انہیں بلایا تو وہ دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا اے انصار کی جماعت کیا تم قریش کے کمینے لوگوں کو دیکھ رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا انہیں دیکھ لو جب کل تم ان سے مقابلہ کرو تو انہیں کھیتی کی طرح کاٹ دینا۔ آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھ کر اشارہ فرمایا اور فرمایا تمہارے ملنے کی جگہ صفا ہے اس دن ان کا جو شخص بھی انصار کو ملا اسے انصار نے سلا دیا اور رسول اللہ ﷺ کوہ صفا پر چڑھے اور انصار نے حاضر ہو کر صفا کو گھیر لیا۔ پس ابوسفیان نے حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول قریش کی تمام جماعتیں ختم ہوگئیں آج کے بعد کوئی قریشی نہ ہوگا ابوسفیان نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اسے امن ہوگا اور جو ہتھیار ڈال دے وہ بھی مامون ہوگا اور جو اپنا دروازہ بند کرلے وہ بھی بحفاظت رہے گا۔ انصار نے کہا (آپ ﷺ ایسے آدمی ہیں جنہیں اپنے خاندان کے ساتھ نرمی اور اپنے وطن کی محبت پیدا ہوگئی ہے اور اللہ کے رسول پر وحی نازل ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم نے یہ کہا تھا کہ اس آدمی ﷺ کو اپنے خاندان کے ساتھ نرمی کرنے اور اپنے وطن کی محبت پیدا ہوگئی ہے۔ کیا تم جانتے ہو اس وقت میرا نام کیا ہوگا ؟ آپ ﷺ نے تین بار یہ فرمایا کہ میں محمد ﷺ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔ میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ میرا جینا تمہارے ساتھ اور میرا مرنا بھی تمہارے ساتھ ہوگا۔ انصار نے عرض کیا اللہ کی قسم ہم نے یہ بات صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت کی حرص میں ہی کی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔
It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Rabah who said: We came to Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) as a deputation and Abu Hurairah (RA) was among us. Each of us would prepare food for his companions turn by turn for a day. (Accordingly) when it was my turn I said: Abu Hurairah (RA) , it is my turn today. So they came to my place. The food was not yet ready, so I said to Abu Hurairah (RA) : I wish you could narrate to us a tradition from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) until the food was ready. (Complying with my request) Abu Hurairah (RA) said: We were with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on the day of the Conquest of Makkah. He appointed Khalid bin Walid as commander of the right flank, Zubair as commander of the left flank, and Abu Ubaida as commander of the foot-soldiers (who were to advance) to the interior of the valley. He (then) said: Abu Hurairah (RA) , call the Ansar to me. So I called out to them and they came hurriedly. He said: O ye Assembly of the Ansaar, do you see the ruffians of the Quraish? They said: Yes. He said: See, when you meet them tomorrow, wipe them out. He hinted at this with his hand, placing his right hand on his left and said: You will meet us at as-Safa. ( Abu Hurairah (RA) continued): Whoever was seen by them that day was put to death. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ascended the mount of as-Safa. The Ansar also came there and surrounded the mount. Then came Abu Sufyan (RA) and said: Messenger ot Allah, the Quraish have perished. No member of the Quraish tribe will survive this day. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who enters the house of Abu Safyan will be safe, who lays down arms will be safe, who locks his door will be safe. (Some of) the Ansar said: (After all) the man has been swayed by tenderness towards his family and love for his city. At this, Divine inspiration descended upon the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He said: You were saying that the man has been swayed by tenderness towards his family and love for his city. Do you know what my name is? I am Muhammad, the bondman of God and His Messenger. (He repeated this thrice.) I left my native place for the sake of Allah and joined you. So I will live with you and die with you. Now the Ansar said: By God, we said (that) only out of our greed for Allah and His Messenger. He said: Allah and His Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) testify to you and accept your apology.
کعبہ کے ارد گرد سے بتوں کو ہٹانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ وَحَوْلَ الْکَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ کَانَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ جَائَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوقًا جَائَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ يَوْمَ الْفَتْحِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابن ابی عمر، ابن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، ابن ابی نجیح، مجاہد ابومعمر، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ میں موجود لکڑی انہیں چبھونا شروع کردی اور فرما رہے تھے حق آگیا اور باطل چلا گیا بیشک باطل جانے ہی والا ہے حق آگیا اور باطل کسی چیز کو پیدا کرتا ہے اور نہ لوٹاتا ہے ابن ابی عمر (رض) نے فتح مکہ کے دن اضافہ کیا ہے۔
It has been narrated by IbnAbdullah who said: The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) entered Makkah. There were three hundred and sixty idols around the Ka’bah. He began to thrust them with the stick that was in his hand saying: "Truth has come and falsehood has vanished. Lo! falsehood was destined to vanish" (xvii. 8). Truth has arrived, and falsehood can neither create anything from the beginning nor can it restore to life
کعبہ کے ارد گرد سے بتوں کو ہٹانے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ زَهُوقًا وَلَمْ يَذْکُرْ الْآيَةَ الْأُخْرَی وَقَالَ بَدَلَ نُصُبًا صَنَمًا
حسن بن علی حلوانی، عبد بن حمید، عبدالرزاق، ثوری، ابن ابی نجیح، اس سند سے بھی یہ حدیث آپ ﷺ کے قول مبارک زَهُوقًا تک مروی ہے اور اس میں دوسری آیت مبارکہ مذکور نہیں اور انہوں نے نصب کی جگہ ضم کہا ہے۔
This tradition has been narrated by Ibn Abu Najah through a different chain of transmitters up to the word: Zahaqa, (This version) does not contain the second verse and substitutes Sanam for Nusub (both the words mean "idol" or "image" that is worshipped).
فتح کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کئے جانے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَوَکِيعٌ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَکَّةَ لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، وکیع، زکریا، شعبی، حضرت عبداللہ بن مطیع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا آج کے بعد قیامت تک کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کیا جائے گا۔
It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Muti who heard from his father and said: I heard the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say on the day of the Conquest of Makkah: No Quraishite will be killed hound hand and foot from this day until the Day of Judgment.