Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 226 of 379

4508Sahih Muslimصحیح

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ إِلَّا حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ عَامَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَزَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ فَإِنْ جَائَ أَحَدٌ يُخْبِرُکَ بِعَدَدِهَا وَوِعَائِهَا وَوِکَائِهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ وَزَادَ سُفْيَانُ فِي رِوَايَةِ وَکِيعٍ وَإِلَّا فَهِيَ کَسَبِيلِ مَالِکَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا

قتیبہ بن سعید، جریر، اعمش، ابوبکر ابن ابی شیبہ، وکیع، ابن نمیر، ابی جمیعا، سفیان، محمد بن حاتم، عبداللہ بن جعفر رقی، صاحب مسلم (رض) نے اسی حدیث کی مختلف سندیں بیان کی ہیں حماد بن سلمہ کی روایت ہے کہ دو سال یا تین سال تک اعلان کا ذکر ہے اور اس کے علاوہ باقی روایات میں تین سال تک اعلان کرنے کا ذکر ہے باقی حدیث مبارکہ اسی طرح سے ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Salama bin Kuhail through different chains of transmitters. In their ahadith, it is three years, except in the hadith of Hammid bin Salama it is two years or three years. In the hadith transmitted on the authority of Sufyan and Zaid bin Abu Unaisa and Hammid bin Salama (the words are): "If someone comes and informs you about the number (of articles) of the bag and the straps, then give that to him." Sufyan has made this addition in the narration of Waki: "Otherwise it is like your property." And in the narration of Ibn Numair the words are: "Otherwise make use of that."

4509Sahih Muslimصحیح

حاجیوں کی گمشدہ چیزوں کا بیان

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ

ابوالطاہر، یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن عبداللہ بن اشج، یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب، عبدالرحمن بن عثمان التیمی حضرت عبدالرحمن بن عثمانی تیمی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حاجیوں کی گمشدہ چیز اٹھانے سے منع فرمایا۔

Abdul Rahman bin Uthman al-Taimi reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade taking into custody the stray thing of the pilgrims.

4510Sahih Muslimصحیح

حاجیوں کی گمشدہ چیزوں کا بیان

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بَکْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ آوَی ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا

ابوطاہر یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکع ابن سوادہ ابی سالم جیستانی، زید بن خالد الجہنی حضرت زیدہ بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے گمشدہ چیز کو اٹھایا تو وہ گمراہ ہے جب تک کہ اس گمشدہ چیز کا اعلان نہ کرے۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as sayin.: He who found a stray article is himself led astray if he does not advertise it.

4511Sahih Muslimصحیح

جانور کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کا دودھ دوہنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ تُؤْتَی مَشْرُبَتُهُ فَتُکْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ إِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ فَلَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ

یحییٰ بن یحیی، مالک بن انس، نافع، ابن عمر حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی کسی جانور کا دودھ اس کے مالک کی اجازت کے بغیر نہ دوہے (آپ ﷺ نے فرمایا) کیا تم سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کی کوٹھڑی میں گھسا جائے اس کے خزانہ کو توڑا جائے اور اس کا کھانا (غلہ وغیرہ) نکال لیا جائے کیونکہ جانوروں کے تھنوں میں (ان کے مالکوں کے لئے) ان کا کھانا جمع کیا جاتا ہے تو کوئی آدمی کسی جانور کا دودھ (اس کے مالک) کی اجازت کے بغیر نہ دوہے۔

Ibn Umar reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said this: None (of you) should milk the animal of another, but with his permission. Does any one of you like that his chamber be raided, and his vaults be broken, and his foodstuff be removed? Verily the treasures for them (those who keep animals) are the udders of the animals which feed them. So none of you should milk the animal of another but with his permission.

4512Sahih Muslimصحیح

جانور کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کا دودھ دوہنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ مُوسَی کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا فَيُنْتَثَلَ إِلَّا اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ کَرِوَايَةِ مَالِکٍ

قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعد، ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابن نمیر عبیداللہ، ابوالربیع، ابوکامل، زہیر بن اس حدیث کی سات سندیں ذکر کی گئی ہیں لیث بن سعد کی حدیث کے علاوہ باقی روایتوں میں فَيُنْتَقَلَ کا لفظ مذکور ہے اور اس لیث بن سعد کی حدیث میں فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ کے الفاظ مذکور ہیں۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of words.

4513Sahih Muslimصحیح

مہمان نوازی کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِينَ تَکَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ قَالُوا وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا کَانَ وَرَائَ ذَلِکَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ وَقَالَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ

قتیبہ، سعید، لیث، سعید، ابی سعید، حضرت ابوشریح عدوی (رض) سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا جس وقت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور اس کی خاطر تواضع کرے۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مہمان کی خاطر تواضع کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایک دن اور ایک رات اور تین دنوں تک اس کی مہمان نوازی کرے اس کے بعد وہ اس پر صدقہ ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اللہ پر آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ خیر کی بات کہے یا وہ خاموش رہے۔

Abd Shuraib al-Adawi reported: My ear listened and my eye saw when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) spoke and said: He who believes In Allah and the Hereafter should show respect to the guest even with utmost kindness and courtesy. They said: Messenger of Allah, what is this utmost kindness and courtesy? He replied: It is for a day and a night. Hospitality extends for three days, and what is beyond that is a Sadaqa for him; and he who believes in Allah and the Hereafter should say something good or keep quiet.

4514Sahih Muslimصحیح

مہمان نوازی کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّی يُؤْثِمَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَکَيْفَ يُؤْثِمُهُ قَالَ يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَا شَيْئَ لَهُ يَقْرِيهِ بِهِ

ابوکریب، محمد بن علاء، وکیع، عبدالحمید بن جعفر، سعید بن ابی سعید مقبری، حضرت ابوشریں خزاعی (رض) نے فرمایا مہمان نوازی تین دنوں تک ہے اور اس کی خاطر تواضع ایک دن اور ایک رات تک اور کسی مسلمان کے لئے آدمی کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پاس اتنی دیر قیام کرے کہ وہ اسے گناہ گار کر دے صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ اسے کیسے گناہ گار کر دے گا آپ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی اس کے پاس ٹھہرے کہ اس کے پاس اس کی مہمان نوازی کے لئے کچھ نہ بچے۔

Abu Shuriah al-Khuzai reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: (The period of the entertainment of a guest is three days, and utmost kindness and courtesy is for a day and a night). It is not permissible for a Muslim to stay with his brother until he makes him sinful. They said: Messenger of Allah, how he would make him sinful? He (the Holy Prophet) said: He stays with him (so long) that nothing is left with him to entertain him.

4515Sahih Muslimصحیح

مہمان نوازی کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَبَصُرَ عَيْنِي وَوَعَاهُ قَلْبِي حِينَ تَکَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَذَکَرَ فِيهِ وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدِکُمْ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّی يُؤْثِمَهُ بِمِثْلِ مَا فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ

محمد بن مثنی، ابوبکر حنفی، عبدالحمید بن جعفر، سعید مقبری حضرت ابوشریح خزاعی (رض) فرماتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے دل نے یاد رکھا جس وقت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر لیث کی حدیث کی طرح ذکر کیا اور اس میں ذکر ہے کہ تم میں سے کسی کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پاس اتنی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ اسے گناہ گار کرے جیسا کہ وکیع کی حدیث میں ہے۔

Said al-Maqburi reported: I heard Abu Shuraih al-Khuzill saying: My ears heard and my eyes saw and my mind retained it, when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) spoke this, and he then narrated the hadith and made mention of this: "It is not permissible for any one of you to stay with his brother until he makes him sinful."

4516Sahih Muslimصحیح

مہمان نوازی کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلَا يَقْرُونَنَا فَمَا تَرَی فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَکُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ

قتبیہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، یزید بن ابی حبیب، ابی خیر، حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ بیشک آپ ﷺ ہمیں بھیجتے ہیں تو ہم ایک ایسی قوم کے پاس جا کر اترتے ہیں جو کہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے تو اس کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا حکم ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم کسی ایسی قوم کے پاس اترو تو اگر وہ تمہاری (اس طرح خدمت کریں) جس طرح کہ ایک مسلمان کی ضیافت کی جاتی ہے تو تم اسے قبول کرلو اور اگر وہ اس طرح نہ کریں تو پھر ان سے ضیافت کا اس قدر حق لے لو جتنا کہ ان پر ایک مہمان کا حق ہوتا ہے۔

Uqba bin Amir reported: We said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : You send us out and we come to the people who do not give us hospitality, so what is your opinion? Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If you come to the people who order for you what is befitting a guest, accept it; but if they do not, take from them what befits them to give to a guest.

4517Sahih Muslimصحیح

بچا ہوا مال مسلمانوں کی خیر خواہی میں لگانے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَ رَجُلٌ عَلَی رَاحِلَةٍ لَهُ قَالَ فَجَعَلَ يَصْرِفُ بَصَرَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَی مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ کَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَی مَنْ لَا زَادَ لَهُ قَالَ فَذَکَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَکَرَ حَتَّی رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ

شیبان بن فروح، ابوالاشہب، ابی نضرہ، ابی سعید خدری حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو ایک شخص اپنی سواری پر آیا اور دائیں بائیں گھورنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس زائد سواری ہو تو وہ اسے دے دے اور جس کے پاس بچا ہوا زادراہ ہو تو وہ اس آدمی کو دے دے کہ جس کے پاس زادراہ نہ ہو پھر آپ ﷺ نے مال کی قسموں کو ذکر فرمایا یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ ہم میں سے کسی کو اپنے زائد مال میں حق نہیں ہے۔

Abu Said al-Khudri reported: While we were with the Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on a journey, a person came upon his mount and began to stare on the right and on the left, (it was at this moment) that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who has an extra mount should give that to one who has no mount for him, and he who has surplus of provisions should give them to him who has no provisions, and he made mention of so many kinds of wealth until we were of the opinion that none of us has any right over the surplus.

4518Sahih Muslimصحیح

جب کمی ہو تو سب کے زاد راہ آپس میں ملانے اور آپس میں مواسات کرنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيَّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَأَصَابَنَا جَهْدٌ حَتَّی هَمَمْنَا أَنْ نَنْحَرَ بَعْضَ ظَهْرِنَا فَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعْنَا مَزَاوِدَنَا فَبَسَطْنَا لَهُ نِطَعًا فَاجْتَمَعَ زَادُ الْقَوْمِ عَلَی النِّطَعِ قَالَ فَتَطَاوَلْتُ لِأَحْزِرَهُ کَمْ هُوَ فَحَزَرْتُهُ کَرَبْضَةِ الْعَنْزِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ فَأَکَلْنَا حَتَّی شَبِعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ حَشَوْنَا جُرُبَنَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلْ مِنْ وَضُوئٍ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ بِإِدَاوَةٍ لَهُ فِيهَا نُطْفَةٌ فَأَفْرَغَهَا فِي قَدَحٍ فَتَوَضَّأْنَا کُلُّنَا نُدَغْفِقُهُ دَغْفَقَةً أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ ثُمَّ جَائَ بَعْدَ ذَلِکَ ثَمَانِيَةٌ فَقَالُوا هَلْ مِنْ طَهُورٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرِغَ الْوَضُوئُ

احمد بن یوسف ازدی، نضر، ابن محمد یمامی، عکرمہ، ابن عمار، حضرت ایاس بن سلمہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے تو ہمیں وہاں بہت مشقت ہوئی یہاں تک کہ ہم نے اپنی کچھ سواریوں کو ذبح کرنے کا ارادہ کرلیا تو اللہ کے نبی ﷺ نے حکم فرمایا کہ ہم اپنے اپنے زادراہ کو اکٹھا کریں پھر ہم نے اس کے لئے چمڑے کا ایک دستر خوان بچھایا جس پر سب لوگوں کے زادراہ کو اکٹھا کیا گیا راوی نے کہا کہ میں نے اس چمڑے کے ٹکڑے کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھا کہ وہ کتنا بڑا ہے تو وہ تقریبا ایک بکری کے بیٹھنے کی جگہ کے برابر تھا اور ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے راوی کہتے ہیں کہ ہم نے کھایا یہاں تک کہ ہم سب سیر ہوگئے پھر ہم نے اپنے کھانے کے تھیلوں کو بھر لیا تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کیا وضو کا پانی ہے تو ایک آدمی لوٹے میں تھوڑا سا پانی لے کر آیا آپ ﷺ نے اس میں سے پانی ایک پیالے میں ڈالا تو ہم سب نے اس سے وضو کیا اور چودہ سو افراد نے خوب پانی بہایا راوی کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعد آٹھ آدمی آئے تو وہ کہنے لگے کیا وضو کا پانی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم وضو سے فارغ ہوچکے ہیں۔

Iyas bin Salama reported on the authority of his father: We set out on an expedition with, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . We faced hardship (in getting provisions) until we decided to slaughter some of our riding animals. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , commanded us to pool our provisions of food. So we spread a sheet of leather and the provisions of the people were collected on it. I stretched myself to measure how much that was (the length and breadth of the sheet on which the provisions were laid). I measured it and (found) that it was (in length and breadth) of (so much size) on which a goat could sit. We were fourteen hundred persons. We (all) ate until we were fully satisfied and then filled our bags with provisions. Then Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Is there any water for performing ablution. Then there came a man with a small bucket containing some water. He threw it in a basin. We all fourteen hundred persons performed ablution using the water in plenty. Then there came after that eight persons and they said: Is there any water to perform ablution? Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The ablution has already been performed.

4519Sahih Muslimصحیح

جن کافروں کو پہلے اسلام دیا جا چکا ہو ایسے کافروں کو دوبارہ اسلام کی دعوت دیے بغیر ان سے جنگ کرنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنْ الدُّعَائِ قَبْلَ الْقِتَالِ قَالَ فَکَتَبَ إِلَيَّ إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَی سَبْيَهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ قَالَ يَحْيَی أَحْسِبُهُ قَالَ جُوَيْرِيَةَ أَوْ قَالَ الْبَتَّةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ وَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِي ذَاکَ الْجَيْشِ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، سلیم بن احضر، حضرت ابن عون (رض) سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع (رض) کو لکھا اور ان سے قتال سے قبل کافروں کو اسلام کی دعوت دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے لکھا کہ یہ بات ابتداء اسلام میں تھی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بنی مصطلق پر حملہ کیا اس حال میں کہ وہ بیخبر تھے اور ان کے جانور پانی پی رہے تھے تو آپ ﷺ نے ان کے جنگجو مردوں کو قتل کیا اور باقیوں کو قید کرلیا اور اس دن حضرت جویریہ (رض) آپ ﷺ کو ملیں راوی کہتا ہے کہ میرا گمان ہے کہ حضرت جویریہ (رض) حارث کی بیٹی ہیں اور یہ حدیث مجھے ابن عمر (رض) نے بیان کی کیونکہ وہ اس لشکر میں تھے۔

Ibn Aun reported: I wrote to Nafi inquiring from him whether it was necessary to extend (to the disbelievers) an invitation to accept (Islam) before meeting them in fight. He wrote (in reply) to me that it was necessary in the early days of Islam. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) made a raid upon Banu Mustaliq while they were unaware and their cattle were having a drink at the water. He killed those who fought and imprisoned others. On that very day, he captured Juwairiya bint al-Harith. Nafi said that this tradition was related to him byAbdullah bin Umar (RA) who (himself) was among the raiding troops.

4520Sahih Muslimصحیح

جن کافروں کو پہلے اسلام دیا جا چکا ہو ایسے کافروں کو دوبارہ اسلام کی دعوت دیے بغیر ان سے جنگ کرنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَلَمْ يَشُکَّ

محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث منقول ہے اور اس میں ہے کہ حضرت جویریہ حارث کی بیٹی ہیں اور شک نہیں کیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Aun and the name of Juwairiya bint al-Harith was mentioned beyond any doubt.

4521Sahih Muslimصحیح

لشکر کا امیر بنانے اور اسے وصیت اور جہاد کے آداب وغیرہ کے احکام دینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَائً

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، سفیان، اسحاق ابن ابراہیم، حضرت یحییٰ بن آدم (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سفیان نے ہمیں یہ حدیث بیان کی اور کہا کہ یہ حدیث انہوں نے حضرت علقمہ بن مرثد نے ہمیں لکھوائی۔

Translation(English) is not available.

4522Sahih Muslimصحیح

لشکر کا امیر بنانے اور اسے وصیت اور جہاد کے آداب وغیرہ کے احکام دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَی جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بِتَقْوَی اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ثُمَّ قَالَ اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ کَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَمْثُلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّکَ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَادْعُهُمْ إِلَی ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَکُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَکُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَی دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِکَ فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَی الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْهَا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَکُونُونَ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُکْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَی الْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَکُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْئِ شَيْئٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَسَلْهُمْ الْجِزْيَةَ فَإِنْ هُمْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَکُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوکَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ وَلَکِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَکَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِکَ فَإِنَّکُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَکُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِکُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوکَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَی حُکْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَی حُکْمِ اللَّهِ وَلَکِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَی حُکْمِکَ فَإِنَّکَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُکْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ وَزَادَ إِسْحَقُ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ عَنْ يَحْيَی بْنِ آدَمَ قَالَ فَذَکَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ يَحْيَی يَعْنِي أَنَّ عَلْقَمَةَ يَقُولُهُ لِابْنِ حَيَّانَ فَقَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

عبداللہ بن ہاشم، عبدالرحمن ابن مہدی، سفیان، علقمہ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی آدمی کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر بناتے تو آپ ﷺ اسے خاص طور پر اللہ سے ڈرنے اور جو ان کے ساتھ ہوں ان کے ساتھ مسلمان (مجاہدین) کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت فرماتے پھر آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستے میں جہاد کرو عہد شکنی نہ کرو اور مثلہ (یعنی کسی کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل نہ بگاڑی جائے) نہ کرو اور کسی بچے کو قتل نہ کرو اور جب تمہارا اپنے دشمن مشرکوں سے مقابلہ ہوجائے تو ان کو تین باتوں کی دعوت دینا وہ ان میں سے جس کو بھی قبول کرلیں تو ان کے ساتھ جنگ سے رک جانا پھر انہیں اسلام کی دعوت دو تو اگر وہ تیری دعوت اسلام کو قبول کرلیں تو ان سے جنگ نہ کرنا پھر ان کو دعوت دینا کہ اپنا شہر چھوڑ کر مہاجرین کے گھروں میں چلے جائیں اور ان کو خبر دیدیں کہ اگر وہ اس طرح کرلیں تو جو مہاجرین کو مل رہا ہے وہ انہیں بھی ملے گا اور ان کی وہ ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں اور اگر وہ اس سے انکار کردیں تو انہیں خبر دے دو کہ پھر ان پر دیہاتی مسلمانوں کا حکم ہوگا اور ان پر اللہ کے وہ احکام جاری ہوں گے جو کہ مومنوں پر جاری ہوتے ہیں اور انہیں جہاد کے بغیر مال غنیمت اور مال فئے میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا اور اگر وہ تمہاری دعوت قبول کرلیں تو تم بھی ان سے قبول کرو اور ان سے جنگ نہ کرو اور اگر وہ انکار کردیں تو اللہ کی مدد کے ساتھ ان سے قتال کرو اور جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرلو اور وہ قلعہ والے اللہ اور رسول کو کسی بات پر ضامن بنانا چاہیں تو تم ان کے لئے نہ اللہ کے ضامن اور نہ ہی اللہ کے نبی ﷺ کو ضامن بنانا بلکہ تم اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو ضامن بنانا کیونکہ تمہارے لئے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے عہد سے پھرجانا اس بات سے آسان ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے عہد کو توڑو اور جب تم کسی قلعہ والوں کو محاصرہ کرلو اور وہ قلعہ والے یہ چاہتے ہوں کہ تم انہیں اللہ کے حکم کے مطابق قلعہ سے نکالو تو تم اللہ کے حکم کے مطابق نہ نکالو بلکہ انہیں اپنے حکم کے مطابق نکالو کیونکہ تم اس بات کو نہیں جانتے کہ تمہاری رائے اور اجتہاد اللہ کے حکم کے مطابق ہے یا نہیں۔

It has been reported from Sulaiman bin Buraid through his father that when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) appointed anyone as leader of an army or detachment he would especially exhort him to fear Allah and to be good to the Muslims who were with him. He would say: Fight in the name of Allah and in the way of Allah. Fight against those who disbelieve in Allah. Make a holy war, do not embezzle the spoils; do not break your pledge; and do not mutilate (the dead) bodies; do not kill the children. When you meet your enemies who are polytheists, invite them to three courses of action. If they respond to any one of these, you also accept it and withold yourself from doing them any harm. Invite them to (accept) Islam; if they respond to you, accept it from them and desist from fighting against them. Then invite them to migrate from their lands to the land of Muhajirs and inform them that, if they do so, they shall have all the privileges and obligations of the Muhajirs. If they refuse to migrate, tell them that they will have the status of Bedouin Muslims and will be subjected to the Commands of Allah like other Muslims, but they will not get any share from the spoils of war or Fai except when they actually fight with the Muslims (against the disbelievers). If they refuse to accept Islam, demand from them the Jizya. If they agree to pay, accept it from them and hold off your hands. If they refuse to pay the tax, seek Allahs help and fight them. When you lay siege to a fort and the besieged appeal to you for protection in the name of Allah and His Prophet, do not accord to them the guarantee of Allah and His Prophet, but accord to them your own guarantee and the guarantee of your companions for it is a lesser sin that the security given by you or your companions be disregarded than that the security granted in the name of Allah and His Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) be violated When you besiege a fort and the besieged want you to let them out in accordance with Allahs Command, do not let them come out in accordance with His Command, but do so at your (own) command, for you do not know whether or not you will be able to carry out Allahs behest with regard to them.

4523Sahih Muslimصحیح

لشکر کا امیر بنانے اور اسے وصیت اور جہاد کے آداب وغیرہ کے احکام دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بُرَيْدَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا أَوْ سَرِيَّةً دَعَاهُ فَأَوْصَاهُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ سُفْيَانَ

حجاج بن شاعر، عبدالصمد بن عبدالوارث، شعبہ، علقمہ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کو امیر بنا کر یا کوئی سریہ بھیجتے تو آپ ﷺ اسے وصیت فرماتے۔

Sulaiman bin Buraida reported on the authority of his father that when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent an Amir with a detachment he called him and advised him. The rest of the hadith is the same.

4524Sahih Muslimصحیح

لشکر کا امیر بنانے اور اسے وصیت اور جہاد کے آداب وغیرہ کے احکام دینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّائُ عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا

ابراہیم، محمد بن عبدالوہاب، حسین بن ولید حضرت شعبہ سے اسی طرح حدیث منقول ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Shubahh.

4525Sahih Muslimصحیح

آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابوبکر، ابواسامہ، برید بن عبداللہ، ابی بردہ، حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے صحابہ (رض) میں سے کسی کو کسی کام کے لئے بھیجتے تو آپ ﷺ فرماتے کہ لوگوں کو بشارت سناؤ اور متنفر نہ کرو اور لوگوں سے آسانی والا معاملہ کرو اور تنگی والا معاملہ نہ کرو۔

It has been narrated on the authority of Abu Musa that when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) deputed any of his Companions on a mission, he would say: Give tidings (to the people); do not create (in their minds) aversion (towards religion); show them leniency and do not be hard upon them.

4526Sahih Muslimصحیح

آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَی الْيَمَنِ فَقَالَ يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، شعبہ، حضرت سعید بن ابی بردہ (رض) اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو اور حضرت معاذ (رض) کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا کہ آسانی والا معاملہ کرنا اور تنگی والا معاملہ نہ کرنا اور ان کو بشارت سنانا اور متنفر نہ کرنا اور آپس میں ایک دوسرے کی اطاعت کرنا اور اختلاف نہ کرنا۔

It has also been narrated by Sad bin Abu Burda through his father through his grandfather that the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent him and Muadh (on a mission) to the Yemen, and said (by way of advising them): Show leniency (to the people); dont be hard upon them; give them glad tidings (of Divine favours in this world and the Hereafter); and do not create aversion. Work in collaboration and dont be divided.

4527Sahih Muslimصحیح

آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ کِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا

محمد بن عباد، سفیان، عمرو، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی خلف، زکریا بن عدی، عبیداللہ بن زید بن ابی انسیہ، سعید بن ابی بردہ، اپنے والد سے، جدہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی شعبہ کی حدیث کی طرح منقول ہے اور اس زید بن ابی انیس کی حدیث میں (وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا) کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Buraida but for the last two words.