Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 225 of 379

4488Sahih Muslimصحیح

حاکم جب اجہتاد کرے خواہ درست ہو یا خطا کرے اس کے لئے ثواب متحقق ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فِي عَقِبِ الْحَدِيثِ قَالَ يَزِيدُ فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ أَبَا بَکْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ هَکَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن ابی عمر، عبدالعزیز بن محمد، ابابکر بن محمد عمرو بن حزم، حضرت ابوہریرہ (رض) سے بھی اسی طرح حدیث روایت کی ہے

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) with another chain of transmitters.

4489Sahih Muslimصحیح

حاکم جب اجہتاد کرے خواہ درست ہو یا خطا کرے اس کے لئے ثواب متحقق ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِثْلَ رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، مروان یعنی ابن محمد دمشقی، لیث بن سعد، یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد، لیث، عبدالعزیز بن محمد اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Usama bin al-Had al-Laithi.

4490Sahih Muslimصحیح

غصہ کی حالت میں قاضی کے فیصلہ کرنے کی کر اہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ قَالَ کَتَبَ أَبِي وَکَتَبْتُ لَهُ إِلَی عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ وَهُوَ قَاضٍ بِسِجِسْتَانَ أَنْ لَا تَحْکُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحْکُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ

قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر، حضرت عبدالر حمن بن ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ میرے والد نے لکھوایا اور میں نے لکھا قاضی سجستان عبیداللہ ابوبکرہ کی طرف کہ تو دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کوئی بھی دو آدمیوں کے درمیان حالت غصہ میں فیصلہ نہ کرے۔

Abdul Rahman bin Abu Bakra (RA) reported: My father dictated (and I wrote for him) to Ubaidullah bin Abu Bakr (RA) while he was the Judge of Sijistan: Do not Judge between two persons when you are angry, for I have heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: None of you should Judge between two persons when he is angry.

4491Sahih Muslimصحیح

غصہ کی حالت میں قاضی کے فیصلہ کرنے کی کر اہت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ

یحییٰ بن یحیی، ہشیم، شیبان بن فروخ، حماد بن سلمہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، ابوکریب، حسین بن علی، زائدہ، عبدالملک بن عمیر، عبدالرحمن بن ابی بکرہ اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdul Rahman bin Abu Bakra (RA) through another chain of transmitters.

4492Sahih Muslimصحیح

احکام باطلہ کو ختم کرنے اور رسومات و بدعات کو رد کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ

ابوجعفر محمد بن صباح، عبداللہ بن عون ہلالی، ابراہیم بن سعد، ابن صباح، ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف، قاسم بن محمد، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ہمارے احکام میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس سے نہ ہو تو وہ مردود و نامقبول ہے۔

Aisha reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who innovates things in our affairs for which there is no valid (reason) (commits sin) and these are to be rejected.

4493Sahih Muslimصحیح

احکام باطلہ کو ختم کرنے اور رسومات و بدعات کو رد کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَامِرٍ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ لَهُ ثَلَاثَةُ مَسَاکِنَ فَأَوْصَی بِثُلُثِ کُلِّ مَسْکَنٍ مِنْهَا قَالَ يُجْمَعُ ذَلِکَ کُلُّهُ فِي مَسْکَنٍ وَاحِدٍ ثُمَّ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، ابی عامر، عبدالملک بن عمرو، عبداللہ بن جعفر زہری، حضرت سعد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ میں نے قاسم بن محمد سے پوچھا اس آدمی کے بارے میں جس کے تین مکان ہوں اور وہ ہر مکان سے تہائی حصہ کی وصیت کر دے۔ انہوں نے کہا مجھے عائشہ صدیقہ (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ نامقبول ہے۔

Sad bin Ibrahim reported: I asked Qasim bin Muhammad about a person who had three dwelling houses and he willed away the third part of every one of these houses; he (Qasim bin Muhammad) said: All of them could be combined in one house; and then said: Aisha informed me that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who did any act for which there is no sanction from our behalf, that is to be rejected.

4494Sahih Muslimصحیح

بہترین گواہوں کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَائِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا

یحییٰ بن یحیی، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، عبداللہ بن عمرو بن عثمان، ابن ابی عمرہ انصاری، حضرت زید بن خالد الجہنی (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کی خبر نہ دوں۔ یہ وہ ہے جو گواہی کے طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دے دے۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Should I not tell you of the best witnesses? He is the one who produces his evidence before he is asked for it.

4495Sahih Muslimصحیح

مجہتدین کے اختلاف کے میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَائَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ هَذِهِ لِصَاحِبَتِهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِکِ أَنْتِ وَقَالَتْ الْأُخْرَی إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِکِ فَتَحَاکَمَتَا إِلَی دَاوُدَ فَقَضَی بِهِ لِلْکُبْرَی فَخَرَجَتَا عَلَی سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَام فَأَخْبَرَتَاهُ فَقَالَ ائْتُونِي بِالسِّکِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَکُمَا فَقَالَتْ الصُّغْرَی لَا يَرْحَمُکَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا فَقَضَی بِهِ لِلصُّغْرَی قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّکِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ مَا کُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ

زہیر بن حرب، شبابہ، ورقاء، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دو عورتیں جارہی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے اپنے اپنے بیٹے تھے۔ بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک عورت کے بیٹے کو اٹھا کرلے گیا۔ تو اس دوسری نے کہا کہ وہ تیرے بیٹے کو اٹھا کرلے گیا ہے۔ پس ان دونوں نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس اپنا مقدمہ پیش کیا تو آپ نے بڑی کے لئے فیصلہ کردیا۔ وہ نکلیں اور سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ کو اس کی خبر دی آپ نے فرمایا میرے پاس چھری لے آؤ تاکہ میں اسے تمہارے درمیان کاٹ دوں تو چھوٹی نے کہا ایسا نہ کرو۔ اللہ آپ پر رحمت فرمائے وہ اسی کا بیٹا ہے۔ تو آپ نے چھوٹی ہی کے لئے اس بچے کا فیصلہ کردیا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں اللہ کی قسم ! میں نے آج تک سکین سنا ہی نہیں ہم تو اسے مدیہ کہتے ہیں

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: While two women had been going along with their two sons, a wolf came and made away with the child of one of them. One of them said to her companion: It is with your child that it (the wolf) has run away. The other one said: It has run away with your child. They brought the matter to (Hadrat) Dawud علیہ السلام (David) for decision and he made a decision in favour of the elder one. They then went to Sulaiman bin Dawud (may there be peace upon both of them) and told them (the story). He said: Bring me a knife so that I may cut him (the child) (into two parts) for you. The younger one said: No, it cant be, may Allah have mercy upon you, he (the child) belongs to her (the elder). So he gave a decision in favour of the younger one. Abu Hurairah (RA) said: If ever I heard of the word as-sikin at all, it was that day. We called it by no other name but al-Mudya.

4496Sahih Muslimصحیح

مجہتدین کے اختلاف کے میں

و حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ ح و حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَی حَدِيثِ وَرْقَائَ

سوید بن سعید، حفص یعنی ابن میسرہ صنعانی، موسیٰ بن عقبہ، امیہ بن بسطام، یزید بن زریع، روح ابن قاسم، محمد بن عجلان، ابی زناد اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu az-Zinad with the same chain of transmitters.

4497Sahih Muslimصحیح

حاکم کا جھگڑ نے والوں کے درمیاں صلح کر انے کے استح بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَی رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَی الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَی الْعَقَارَ خُذْ ذَهَبَکَ مِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْکَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْکَ الذَّهَبَ فَقَالَ الَّذِي شَرَی الْأَرْضَ إِنَّمَا بِعْتُکَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا قَالَ فَتَحَاکَمَا إِلَی رَجُلٍ فَقَالَ الَّذِي تَحَاکَمَا إِلَيْهِ أَلَکُمَا وَلَدٌ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِي غُلَامٌ وَقَالَ الْآخَرُ لِي جَارِيَةٌ قَالَ أَنْکِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَی أَنْفُسِکُمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے رسول اللہ ﷺ کی مروی احادیث میں سے ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے زمین خریدی۔ پس اس آدمی نے جس نے زمین خریدی تھی اس کی زمین میں سونے کے ایک گھڑے کو پایا۔ تو اس آدمی سے کہا جس سے زمین خریدی تھی۔ مجھ سے اپنا سونا لے لو میں نے تو تجھ سے صرف زمین ہی خریدی تھی میں نے تجھ سے سونا طلب نہیں کیا تھا۔ تو اس آدمی نے کہا جس نے زمین فروخت کی تھی کہ میں نے یہ زمین بمع جو کچھ اس میں ہو تجھے فروخت کردی ہے چناچہ انہوں نے اپنا یہ مقدمہ ایک آدمی کے سامنے پیش کیا۔ جس کے سامنے مقدمہ پیش کیا گیا اس نے کہا کیا تمہارے دونوں کی اولاد ہے ؟ ان میں سے ایک نے کہا میرا لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا میری لڑکی ہے۔ اس نے کہا کہ لڑکے کا نکاح اس لڑکی سے کردو اور یہ مال ان پر خرچ کردو اور انہیں دے دو ۔

Hammim bin Munabbih said: Abu Hurairah (RA) reported (so many) ahadith of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم), and one of them is this: A person bought from another person a piece of land, and the person who had bought that land found in it an earthen ware which contained gold. The person who had bought the land said (to the seller of the land): Take your gold from me, for I bought only the land from you and not the gold. The man who had sold the land said: I sold the land to you and whatever was in it. They referred the matter to a person. One who was made as a Judge said to them: Have you any issue? One of them said: I have a boy, and the other said: I have a young daughter. He (the Judge) said: Marry this young boy with the girl, and spend something on yourselves and also give (some) charity out of it.

4498Sahih Muslimصحیح

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِکَائَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَکَ بِهَا قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ لَکَ أَوْ لِأَخِيکَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ قَالَ مَا لَکَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتَّی يَلْقَاهَا رَبُّهَا قَالَ يَحْيَی أَحْسِبُ قَرَأْتُ عِفَاصَهَا

یحییٰ بن یحیی، مالک، ربیعہ بن عبدالرحمن، یزید مولیٰ منبعث، حضرت زید بن خالد جہنی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان رکھ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کر تو اگر اس کا مالک آجائے تو ٹھیک ورنہ اسے تو رکھ لے اس نے عرض کیا گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ تیرے لئے یا تیرے بھائی کے لئے یا بھیڑئے کے لئے ہے اس نے عرض کیا گمشدہ اونٹ کے بارے میں کیا حکم ہے آپ ﷺ نے فرمایا تجھے اس سے کیا ہے اس کے ساتھ اس کی مشک ہے اور اس کا جوتا بھی اس کے ساتھ ہے وہ پانی کے گھاٹ پر جائے گا اور درختوں کے پتے کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پکڑ لے گا۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported: A man came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and asked him about picking up of stray articles. He said: Recognise (well) its bag and the strap (by which it is tied) then make announcement of that for a year. If its owner comes (within this time return that to him), otherwise it is yours. He (again) said: (What about) the lost goat? Thereupon he (the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) said: It is yours or for your brother, or for the wolf. He said: (What about) the lost camel? Thereupon he said: You have nothing to do with it; it has a leather bag along with it, and its shoes also. It comes to the watering-place, eats (the leaves of the) trees until its master finds him.

4499Sahih Muslimصحیح

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِکَائَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَائَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَکَ أَوْ لِأَخِيکَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوْ احْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ مَا لَکَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّی يَلْقَاهَا رَبُّهَا

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، یزید مولیٰ منبعث حضرت زید بن خالد جہنی (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ایک سال تک اعلان کر پھر اس کے باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان کو یاد رکھ پھر اسے خرچ کرلے تو اگر اس کا مالک آجائے تو اسے اس کو لوٹا دے اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول گمشدہ بکری کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا اسے پکڑ لو کیونکہ وہ تیرے لئے ہے یا تیرے بھائی کے لئے ہے اس نے عرض کیا گمشدہ اونٹ کے بارے میں راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غصہ میں آگئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے رخسار مبارک سرخ ہوگئے یا پھر آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا تجھے اس اونٹ سے کیا ہے اس اونٹ کے ساتھ اس کا جوتا ہے اور اس کا مشک ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پکڑ لے گا۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported that a person asked Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about picking up of stray articles, whereupon he said: Make announcement about it for a year, and recognise well the strap and the bag (containing that); then spend that; and if its owner comes, make him the payment of that. He (the inquirer) said: Messenger of Allah, what about the lost goat? he said: Take it, for that is yours or for your brother, or for the wolf. He (again) said: (What about) the lost camel? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was enraged until his cheeks became red (or his face became red) and then said: You have nothing to do about that; it has feet and a leather bag (to quench its thirst) until its owner finds it.

4500Sahih Muslimصحیح

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَغَيْرُهُمْ أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِکٍ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ قَالَ أَتَی رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ عَنْ اللُّقَطَةِ قَالَ وَقَالَ عَمْرٌو فِي الْحَدِيثِ فَإِذَا لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا

ابوالطاہر، عبداللہ بن وہب سفیان الثوری، مالک بن انس، و عمر بن حارث ربیعہ بن ابی عبدالرحمن ان سندوں سے بھی یہ حدیث اسی طرح منقول ہے سوائے اس کے کہ اس میں یہ زائد ہے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں بھی اس کے ساتھ ساتھ تھا اس نے لقطہ (گری ہوئی گمشدہ چیز) کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اور عمرو کی حدیث میں ہے کہ جب اس کا طلب کرنے والا نہ آئے تو تم اسے خرچ کر ڈالو۔

This hadith has been narrated on the authority of Rabia bin Abu Abdul Rahman with the same chain of transmitters but with this addition: "There came a person to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) while I was with him, and he asked him about picking up of a stray article, and he said: When none comes to demand it, then spend that."

4501Sahih Muslimصحیح

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُا أَتَی رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاحْمَارَّ وَجْهُهُ وَجَبِينُهُ وَغَضِبَ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا کَانَتْ وَدِيعَةً عِنْدَکَ

احمد بن عثمان، ابن حکیم الاودی، خالد بن مخلد، سلیمان ابن بلال، ربیعہ ابن ابی عبدالرحمن، یزید مولیٰ منبعث حضرت زید بن جہنی (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا پھر آگے اسی طرح حدیث نقل کی سوائے اس کے اس میں ہے کہ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک اور آپ ﷺ کی پیشانی سرخ ہوگئی اور آپ ﷺ غصہ میں آگئے اور آپ ﷺ کے اس فرمان کے بعد یہ بھی زائد ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھر ایک سال تک اعلان کرو اور اگر اس کا مالک نہ آئے تو پھر وہ چیز تیرے پاس امانت ہوگی۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported. There came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a person, the rest of the hadith is the same but with the variation (of these words): His face became red, his forehead too, and he felt annoyed; and made an addition after the words: He should make announcement of that for a year, and if its owner does not turn up, then it is a trust with you.

4502Sahih Muslimصحیح

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوْ الْوَرِقِ فَقَالَ اعْرِفْ وِکَائَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاسْتَنْفِقْهَا وَلْتَکُنْ وَدِيعَةً عِنْدَکَ فَإِنْ جَائَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنْ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَقَالَ مَا لَکَ وَلَهَا دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَائَهَا وَسِقَائَهَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتَّی يَجِدَهَا رَبُّهَا وَسَأَلَهُ عَنْ الشَّاةِ فَقَالَ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَکَ أَوْ لِأَخِيکَ أَوْ لِلذِّئْبِ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان ابن بلال، یحییٰ بن سعید، یزید مولیٰ منعبث حضرت زید بن خالد جہنی (رض) صحابی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سونے یا چاندی کے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس تھیلی کے باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان کو یاد رکھو پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو پھر اگر کوئی اسے نہ پہچانے تو تو اس کو خرچ کر ڈال لیکن یہ تیرے پاس امانت ہوگی پھر اگر کسی زمانے کے کسی دن اس کا متلاشی آجائے تو تو اسے اس کو واپس کر دے اور اس آدمی نے آپ ﷺ سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تجھے اس اونٹ سے کیا غرض اسے چھوڑ کیونکہ اس کی جوتی اور اس کی مشک اس کے ساتھ ہے وہ پانی پر جائے گا اور درخت کے پتے کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے گا اور پھر اس آدمی نے آپ ﷺ سے بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تو اسے پکڑ لے کیونکہ وہ بکری تیرے لئے یا تیرے بھائی کے لئے ہے یا بھیڑیے کے لئے ہے۔

Zaid bin Khalid al-Juhani, the Companion ot Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , said that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked about the picking up of stray gold or silver, whereupon he said: Recognise well the strap and the bag (containing) that and then make an announcement regarding that for one year, but if none recognises it, then spend that and it would be a trust with you; and if someone comes one day to make demand of that, then pay that to him. He (the inquirer) asked about the lost camel, whereupon he said: You have nothing to do with that. Leave that alone, for it has feet and also a leather bag, it drinks water, and eats (the leaves) of the trees. He asked him about sheep, whereupon he said: Take it, it is for you, or for your brother, or for the wolf.

4503Sahih Muslimصحیح

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَرَبِيعَةُ الرَّأْيِ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ زَادَ رَبِيعَةُ فَغَضِبَ حَتَّی احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا وَوِکَائَهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ وَإِلَّا فَهِيَ لَکَ

اسحاق بن منصور، حبان بن ہلال، حماد بن سلمہ، یحییٰ بن سعید، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، حضرت زید بن خالد جہنی (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا ربیعہ کی حدیث میں یہ زائد ہے کہ آپ ﷺ کے رخسار مبارک سرخ ہوگئے اور اس میں یہ بھی زائد ہے کہ اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے تھیلے کو اور اس کے عدد کو پہچان لے (نشانی بتادے) تو وہ اسے دے دو ورنہ وہ تیرے لئے ہے۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported: A person asked Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about a lost camel; Rabia made this addition: "He (the Holy Prophet) was so much annoyed that his cheeks became red." The rest of the hadith is the same. He (the narrator) made this addition: "If its (that of the article) owner comes and he recognises the bag (which contained it) and its number, and the strap, then give that to them, but if not, then it is for you."

4504Sahih Muslimصحیح

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِکَائَهَا ثُمَّ کُلْهَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ

ابوالطاہر احمد بن عمرو بن سرح، عبداللہ بن وہب، ضحاک بن عثمان بن ابی النضر، بسر بن سعید، حضرت زید بن خالد جہنی (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کر پھر اگر وہ چیز نہ پہچانی جائے تو اس تھیلے اور اس کے باندھنے کی ڈوری کو یاد رکھ پھر اس کو کھالے اگر اس کا مالک آجائے تو اسے وہ چیز ادا کردو۔

Asked about picking up of stray things, whereupon he said: Make announcement of that Zaid bin Khalid al-Juhani reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was for one year, but if it is not recognised (by the owner), then recognise its bag and strap, then eat it; and if its owner comes, then give that to him. This hadith has been narrated on the authority of Al-Dahhak bin Uthman with the same chain of transmitters but with a slight variation of words.

4505Sahih Muslimصحیح

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَإِنْ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِکَائَهَا وَعَدَدَهَا

اسحاق بن منصور، ابوبکر الحنفی، حضرت ضحاک بن عثمان ان سندوں کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور اس میں فرماتے ہیں کہ اگر وہ چیز پہچان لی جائے تو اسے ادا کر ورنہ اس تھیلے اور اس کے باندھنے کی ڈوری اور اس کے عدد کو یاد رکھو۔

This Arabic text is part of previous Hadeeth and not translated there.

4506Sahih Muslimصحیح

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ قَالَ خَرَجْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ غَازِينَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ فَقَالَا لِي دَعْهُ فَقُلْتُ لَا وَلَکِنِّي أُعَرِّفُهُ فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ قَالَ فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي أَنِّي حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا قَالَ فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا فَقَالَ احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِعَائَهَا وَوِکَائَهَا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِکَ بِمَکَّةَ فَقَالَ لَا أَدْرِي بِثَلَاثَةِ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلٍ وَاحِدٍ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبکر بن نافع، غندر، شعبہ، سلمہ بن کہیل، حضرت سوید (رض) بن غفلہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت زید بن صوحان (رض) اور سلمان بن ربیعہ (رض) جہاد کرنے کی غرض سے نکلے تو میں نے ایک چابک پڑا ہوا پایا تو میں نے اسے پکڑ لیا مجھ سے کہا کہ اسے چھوڑ دو میں نے کہا لیکن میں اس کا اعلان کروں گا تو اگر اس کا مالک آگیا تو ٹھیک ورنہ میں اس سے فائدہ اٹھاؤں گا حضرت سوید (رض) بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں کی بات کا انکار کردیا اور جب ہم جہاد سے واپس لوٹے تو میرے لئے فیصلہ کیا گیا کہ میں حج کروں اور پھر میں مدینہ آیا تو میری ملاقات حضرت ابی بن کعب (رض) سے ہوئی میں نے ان کو چابک اٹھانے کی خبر دی اور میں نے ان کو اپنے ساتھیوں کی بات سے آگاہ کیا تو حضرت ابی (رض) نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں مجھے ایک تھیلی ملی تھی جس میں سو دینار تھے میں اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا آپ ﷺ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو تو جب اس کا پہچاننے والا کوئی نہ آیا تو میں پھر آپ ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو تو جب میں نے اس کا پہچاننے والا کوئی نہ پایا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کی گنتی کر اور اس تھیلی اور اس باندھنے کی ڈوری کی پہچان کو یاد رکھو تو اگر اس کا مالک آگیا تو ٹھیک ورنہ تم اس سے فائدہ حاصل کرنا پھر میں نے اس سے فائدہ حاصل کیا پھر اس کے بعد مکہ میں میں حضرت ابی بن کعب (رض) سے ملا تو انہوں نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ تین سال یا ایک سال تھا۔

Salama bin Kuhail reported: I heard Sowaid bin Ghafala say: I went out, and also Zaid bin Suhan and Salman bin Rabia for Jihad, and I found a whip and took it up. They said to me: Leave it. I said: No, but I will make announcement of it and if its owner comes (then I will return that), otherwise I will use it, and I refused them. When we returned from Jihad, by a good fortune for me, I performed Pilgrimage. I came to Madinah and met Ubayy bin Kab, and related to him the affair of the whip and their opinion (the opinion of Zaid bin Suhan and Salman bin Rabia) about it (i. e. I should throw it). Thereupon he said: I found a money bag during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which contained one hundred dinars. I came to him along with it, and he said: Make an announcement of it for one year; so I announced it, but did not find anyone who could (claim it after) recognising it. I again came to him and he said: Make announcement for one year. So I made announcement of it, but I found none who could recognise it. I came to him he said: Make announcement of it for one year. I made announcement of that but did not find one who could recognise it, whereupon he said: Preserve (in your mind) its number, its bag and its strap, and if its owner comes (then return that to him), otherwise make use of it. So I made use of that. I (Shubah) met him (Salama bin Kuhail) after this in Makkah, and he said: I do not know whether he said three years or one year.

4507Sahih Muslimصحیح

باندھنے کی ڈوری اور اس تھیلی کی پہچان اور گمشدہ بکریوں اور اونٹوں کے حکم کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ کُهَيْلٍ أَوْ أَخْبَرَ الْقَوْمَ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَی قَوْلِهِ فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا قَالَ شُعْبَةُ فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ يَقُولُ عَرَّفَهَا عَامًا وَاحِدًا

عبدالرحمن بن بشر، بہز، شعبہ، سلمہ بن کہیل، حضرت سوید بن غفلہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت زید بن صوحان اور حضرت سلمان بن ربیعہ (رض) کے ساتھ نکلا تو میں نے ایک چابک پایا باقی حدیث اسی طرح ہے شعبہ کہتے ہیں کہ دس سال کے بعد میں نے ان سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔

Shubah reported: Salama bin Kuhail informed me or he informed people and I was among them. He said: I heard Sawaid bin Ghafala who reported: I went out along with Zaid bin Suhan and Salman bin Rabia, and found a whip, the rest of the hadith is the same up to the words: "I made use of that." Shubah said: I heard him say after ten years, that he made an announcement of it for one year.