امارت وقضا کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 118 · 51 hadiths · Page 2 of 3

3631Mishkaat-al-Masabih

عادل حکمران کا مرتبہ عظیم

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المقسطين عند الله على منابر من نور عن يمين الرحمن وكلتا يديه يمين الذين يعدلون في حكمهم وأهليهم وما ولوا . رواه مسلم

اور حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن العاص کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بلاشک عادل حکمران اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر جگہ پائیں گے جو رحمن (اللہ) کے داہنے ہاتھ کی طرف ہوں گے اور اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں اور عادل حکمران وہ ہیں) جو اپنے احکام اپنے اہل اور اپنے زیر تصرف معاملات میں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ (مسلم) تشریح داہنے ہاتھ کی طرف الخ یہ اللہ کے نزدیک عادل حکمران کے مرتبہ عظیم اور جلالت قدر کا کنایۃ پیرایہ بیان ہے کیونکہ جو شخص عظیم قدر ہوتا ہے۔ وہ دائیں طرف کھڑا ہوتا یا بیٹھتا ہے۔ اور اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں یہ دفع تو ہم کے لئے فرمایا گیا ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ داہنا ہاتھ، بائیں ہاتھ کے مقابل میں کہا گیا ہے کیونکہ بایاں نسبتًا کمزور ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی کمزوری اور نقصان سے پاک ومنزہ ہے واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہاتھ کی نسبت متشابہات میں سے ہے کہ اس کی مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تاہم ظاہری طور پر ہاتھ سے مراد قوت و غلبہ ہے۔ حکام میں عدل و انصاف کا مطلب یہ ہے کہ حکومت وامارت کے تعلق سے ان کے ذمے جو امور ہیں ان کی انجام دہی میں وہ انصاف، ایمان داری اور دیانت کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ اہل میں عدل و انصاف کا مطلب یہ ہے کہ ان کے زیر تسلط جو لوگ ہیں خواہ وہ ان کے اہل و عیال ہوں یا رعیت کے عام لوگ ہوں سب کے حقوق کی ادائیگی میں جو ان پر واجب ہیں پورا پورا انصاف کرتے ہیں۔ اسی طرح زیر تصرف معالات میں عدل و انصاف کا مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں ان کی ولایت ونگہبانی میں ہیں جیسے یتیم اور غربا کی پرورش اور وقف کے مال کی خبر گیری وغیرہ، ان میں وہ پوری دیانت داری اور انصاف کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتی ہیں۔ ایک مرد حق گو کا قول ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے نفس کے بارے میں بھی عدل و انصاف کرے بایں طور کہ اپنے اوقات ایسی چیزوں میں ضائع نہ کرے جن میں اپنا وقت صرف کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا ہے بلکہ اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی چیزوں اور مخلوق اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں مشغول رکھے اور حق تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری اور ممنوع چیزوں سے اجتناب پر مداومت اختیار کرے جیسا کہ اولیاء کرام اور اہل اللہ کا طریقہ ہے، یا اپنے وقت کا اکثر حصہ ان چیزوں میں مشغول رکھے جیسا کہ مؤمنین و صالحین کا معمول ہے۔

3632Mishkaat-al-Masabih

ہر حاکم وامیر کے ہمراہ ہمیشہ دو متضاد طاقتیں رہتی ہیں۔

وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بعث الله من نبي ولا استخلف من خليفة إلا كانت له بطانتان : بطانة تأمره بالمعروف وتحضه عليه وبطانة تأمره بالشر وتحضه عليه والمعصوم من عصمه الله . رواه البخاري

اور حضرت ابوسعید روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی نبی نہیں بھیجا اور ایسا کوئی خلیفہ مقرر نہیں کیا جس کے لئے دو چھپے ہوئے رفیق نہ ہوں ایک چھپا ہوا رفیق تو نیک کام کرنے کا حکم دیتا ہے اور نیکی کی طرف راغب کرتا ہے اور دوسرا چھپا ہوا رفیق برائی کا حکم دیتا ہے اور برائی کی طرف کرتا ہے اور معصوم (بےگناہ) وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے محفوظ رکھا۔ (بخاری) تشریح دو چھپے ہوئے رفیقوں سے مراد فرشتہ اور شیطان ہیں یہ دونوں انسان کے باطن میں رہتے ہیں چناچہ فرشتہ اور شیطان ہیں یہ دونوں انسان کے باطن میں رہتے ہیں چناچہ فرشتہ تو نیک کام کرنے کی ہدایت کرتا رہتا ہے اور نیکی کی ترغیب دیتا ہے جب کہ شیطان برے کام کرنے پر اکساتا رہتا ہے اور برائی کی طرف دھکیلتا رہتا ہے۔ اور معصوم وہ ہے الخ کے ذریعہ انبیاء کرام صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین، خلفاء راشدین اور بعض دوسرے خلفاء وامراء کا حال بیان کیا گیا ہے جن کو اللہ نے شیطان کے شر و فتنہ سے محفوظ رکھا ہے۔ دو رفیقوں سے مراد وزیر و مشیر ہوسکتے ہیں جو خلیفہ کے ساتھ ہر دم رہنے کی وجہ سے بطانہ (استرا) سے مشابہ ہوگئے ہیں، چناچہ ہر نبی اور خلیفہ کے ساتھ جو مشیر کار اور مصاحب رہتے تھے ان میں دو مختلف خیالات کے حامل افراد بھی ہوتے تھے یا ان کے ساتھ دو جماعتیں ہوتی تھیں جو آپس میں مختلف الرائے ہوتی تھیں جیسا کہ عام طور پر امراء و سلاطین اور والیان ریاست کے یہاں دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ ان کے صاحب، مشیران کار اور کار پرداز ہوتے ہیں ان کے خیالات اور آراء کا بعد بین المشرقین ہوتا ہے، چناچہ ان میں سے جو لوگ اچھے خیالات کے اور صائب ہوتے ہیں وہ اپنے والیو امیر کو اچھے مشورہ دیتے ہیں اور جن کے خیالات فاسد ہوتے ہیں یا جن کے طبائع میں برائی کا مادہ ہوتا ہے وہ اپنے والیو امیر کو غلط مشورے دیتے ہیں اور ان کو برائی کی راہ پر چلانا چاہتے ہیں آگے اللہ کی مصلحت کار فرما ہوتی ہے کہ وہ جس والیو امیر کو چاہتا ہے برے مصاحبین کے خیالات اور ان کے مشورے قبول کرنے سے بچاتا ہے۔

3633Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے ہاں حضرت قیس ابن سعد کا منصب

وعن أنس قال : كان قيس بن سعد من النبي صلى الله عليه و سلم بمنزلة صاحب الشرط من الأمير . رواه البخاري

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ہاں حضرت قیس ابن سعد کے سپرد وہ خدمت تھی جو امراء سلاطین کے ہاں کو توال انجام دیتے ہیں۔ (بخاری ) تشریح مطلب یہ ہے کہ حضرت قیس ابن سعد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے تھے تاکہ آنحضرت ﷺ جو احکام دین وہ ان کو جاری ونافذ کریں جیسا کہ امراء و سلاطین کے ہاں کو توال اس خدمت پر مقرر رہتے ہیں۔

3634Mishkaat-al-Masabih

عورت کو اپنا حاکم بنانے والی قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی

وعن أبي بكرة قال : لما بلغ رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أهل فارس قد ملكوا عليهم بنت كسرى قال : لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة . رواه البخاري

اور حضرت ابوبکرہ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ کے پاس یہ خبر پہنچی کہ فارس والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا لیا ہے تو فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس نے (ملک کے) امور کا حاکم والی کسی عورت کو بنایا ہو۔ (بخاری) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولایت وحکمرانی کا اہل مرد ہی ہوسکتا ہے عورت حکمرانی وسربراہی کے منصب کی اہل نہیں۔

3635Mishkaat-al-Masabih

ملت کی اجتماعی ہئیت سے علیحدگی اختیار کرنے والے کے بارے میں وعید

عن الحارث الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : آمركم بخمس : بالجماعة والسمع والطاعة والهجرة والجهاد في سبيل الله وإنه من خرج من الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه إلا أن يراجع ومن دعا بدعوى الجاهلية فهو من جثى جهنم وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم . رواه أحمد والترمذي

حضرت حارث اشعری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں۔ (١) مسلمانوں کی جماعت کا (قول و عمل اور اعتقاد میں) اطاعت کرو یعنی ملت کی اجتماعی ہئیت کو بہرصورت برقرار کرو اور سربراہان ملت کی طرف سے جو احکام جاری ہوں ان کو ہر حالت میں تسلیم کرو اور ان کی اطاعت کرو۔ (٢) امراء علماء (شریعت کے مطابق) جو ہدایت دیں ان کو سنو اور تسلیم کرو۔ (٣) علماء کے احکام کی اطاعت و فرمانبرداری کرو (٤) ہجرت کرو (٥) اللہ کی راہ میں جہاد کرو! جو شخص ملت کی اجتماعی ہئیت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا اس نے (گویا) اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے نکال دیا الاّ یہ کہ وہ واپس آجائے اور جس شخص نے پکارا جاہلیت کا سا پکارنا، وہ (گویا) دوزخیوں کی جماعت کا فرد ہے اگرچہ وہ روزے رکھے، نماز پڑھے اور یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں۔ (احمد، ترمذی) تشریح ہجرت کرو اس حکم میں ہجرت سے مراد ہے کہ دارالکفر میں رہنے والا مسلمان ترک وطن کر کے دار الاسلام چلا جائے یا اگر کسی ایسے مسلم ملک یا شہر میں ہو جو بدعات ومنہیات کا گڑھ ہونے کی وجہ سے دارالبدعۃ کے حکم میں ہو تو اس کو چھوڑ کر ملک یا ایسے شہر میں چلا جائے جو سنت دین کا مرکز ہونے کی وجہ سے دارالسنۃ کے حکم میں ہو! اسی طرح گناہ معصیت کی زندگی کو چھوڑ کر توبہ وانابت الی اللہ کی راہ کو اختیار کرلینا بھی ہجرت کے حکم میں ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے المہاجر من ہجر مانہی اللہ عنہ۔ وہ شخص (بھی) مہاجر ہے جس نے ان چیزوں کو چھوڑ دیا جس سے اللہ نے روکا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرو اس حکم میں جہاد سے مراد یہ ہے کہ اسلام کی ترقی و شوکت، دین کی سربلندی اور روئے زمین پر قانون الہٰی کے غلبہ کے لئے اسلام دشمن طاقتوں اور کافروں سے جنگ کرو، نیز اپنے نفس کو اس کی خواہشات سے باز رکھ کر اس کو مارنا بھی جہاد ہے کیونکہ انسان کے ساتھ اس کے نفس کی دشمنی سے زیادہ سخت اور نقصان دہ اور چیز نہیں ہے۔ جو شخص ملت کی اجتماعی ہئیت سے بالشت بھر بھی الگ ہو الخ یعنی جس مسلمان نے اس چیز کو ترک کیا جس پر پوری ملت عمل پیرا ہے جیسے سنت کو اختیار کرنا، بدعات سے اجتناب کرنا، امام و امیر کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا اور اگرچہ اس نے ان چیزوں کو بہت معمولی درجے میں ترک کیا ہو تو اس نے گویا اسلام کی فرمانبرداری کا پٹہ اپنی گردن سے نکال دیا یعنی اس نے اسلام کے تئیں اپنے کئے ہوئے عہد کو توڑ دیا اور اپنی اس ذمہ داری کو ختم کردیا جو مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس پر واجب تھی۔ یا یہ کہ خود (اسلام اس سے بری الذمہ ہوگیا۔ ہاں اگر وہ اپنے اس (فعل) (ملت کی اجتماعی ہئیت سے علیحدگی) سے باز آگیا اور اس نے اپنی بدعملی سے رجوع کرلیا تو پھر وہ پہلے ہی کی طرح اسلام کا ایک فرمانبردار فرد ہوجائے گا۔ اور جس شخص نے پکارا جاہلیت کا سا پکارنا الخ سے مراد یہ ہے کہ جس شخص نے زمانہ جاہلیت کے رسم و رواج کی طرف بلایا اور اس طرح وہ مخلوق کو اسلام مخالف عقائد ونظریات اور باطل رسوم و عادات میں مبتلا کرنے کا باعث ہوا اور بعض حضرات یہ مراد بیان کرتے ہیں کہ اس نے کسی حادثہ و حملہ کے وقت اس طرح لوگوں کو اپنی مدد کے لئے بلایا جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا کہ جب کسی شخص پر دشمن غالب آجاتا تھا تو اپنی مدد کے لئے لوگوں سے بآواز بلندیوں فریاد کرتا اے فلاں شخص کے خاندان والو! اے فلاں شخص کے خاندان والو۔ چناچہ وہ لوگ اس کی مدد کے لئے دوڑ پڑتے قطع نظر اس بات کے وہ شخص ظالم ہے یا مظلوم۔

3636Mishkaat-al-Masabih

امیروالی کی اہانت کرو

وعن زياد بن كسيب العدوي قال : كنت مع أبي بكرة تحت منبر ابن عامر وهو يخطب وعليه ثياب رقاق فقال أبو بلال : انظروا إلى أمير نايلبس ثياب الفساق . فقال أبو بكرة : اسكت سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أهان سلطان الله في الأرض أهانه الله رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب

اور حضرت زیاد ابن کسیب عدوی (تابعی) کہتے ہیں (ایک دن) میں حضرت ابوبکرہ (صحابی) کے ہمراہ حضرت عامر کے منبر کے نیچے بیٹھا تھا جب کہ وہ (ابن عامر) خطبہ دے رہے تھے اور انہوں نے باریک کپڑے پہن رکھے تھے (اسی موقع پر ایک تابعی) ابوبلال نے کہا کہ ذرا تم ہمارے اس امیر کو تو دیکھو، اس نے فاسقوں کے سے کپڑے پہن رکھے ہیں!؟ حضرت ابوبکرہ نے کہا خاموش! میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بادشاہ کی اہانت کرے گا جس کو اللہ نے (اپنی مخلوق کے کاموں کی انجام دہی کے لئے) زمین پر مقرر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو سبک و خوار کرے گا اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح اس نے فاسقون کے سے کپڑے پہن رکھے ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت ابن عامر نے کسی ایسے کپڑے کا لباس زیب تن کر رکھا تھا جس کا پہننا مردوں کے لئے ہے جیسے حریر یا کوئی ریشمی کپڑا، حضرت ابوبکرہ نے حضرت بلال کو اس بات سے منع کیا کہ وہ حضرت ابن عامر کو مطعون نہ کریں تو اس کی بنیاد یہ تھی کہ ایسے موقع پر ابوبلال کی نصیحت کہیں تکا فضیحتی اور مسلمانوں میں فتنہ و فساد پیدا ہوجانے کا باعث نہ بن جائے۔ یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے کپڑے ریشمی نہ رہے ہوں بلکہ بہت اعلیٰ قسم کے اور بہت زیادہ باریک رہے ہوں جو عام طور پر ابل عیش وتنعم کا لباس ہوتا ہے اور زاہد وعابد لوگ جس سے پرہیز کرتے ہیں اس لئے حضرت ابوبلال نے اس کپڑے کو فاسقوں کے لباس سے تشبیہ دی ہے بعض عارفین کا یہ قول ہے کہ۔ (من رق ثوبہ رق دینہ ) جس شخص نے بہت باریک کپڑے پہنے اس نے اپنے دین کو باریک کیا۔

3637Mishkaat-al-Masabih

اگر امیر وحاکم کسی گناہکا حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کرو

وعن النواس بن سمعان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق . رواه في شرح السنة

اور حضرت نو اس ابن سمعان کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مخلوق کے کسی ایسے حکم کی بھی تابعداری جائز نہیں جس سے خالق کی نافرمانی ہو۔ (شرح السنۃ) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر مخلوق (کوئی انسان) خواہ وہ امیر و حاکم ہی کیوں نہ ہو کوئی ایسا حکم دے جس پر عمل کرنے سے خالق (یعنی اللہ تعالیٰ ) کی نافرمانی ہوتی ہو اور گناہ لازم آتا ہو تو اس حکم کو مطلقا نہ ماننا چاہئے۔ ہاں کسی شخص کو اس کی اطاعت پر بزور طاقت مجبور کیا گیا تو اس صورت میں گناہ نہیں۔

3638Mishkaat-al-Masabih

امیروحاکم کا انجام

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من أمير عشرة إلا يؤتى به يوم القيامة مغلولا حتى يفك عنه العدل أو يوبقه الجور . رواه الدارمي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر امیر وحاکم، خواہ وہ دس ہی آدمیوں کا امیر وحاکم کیوں نہ ہو قیامت کے دن اس طرح لایا جائے گا اس کی گردن میں طوق ہوگا یہاں تک کہ اس کو اس طوق سے یا تو اس کا عدل نجات دلائے گا یا اس کا ظلم ہلاک کرے گا۔ (دارمی ) تشریح مطلب یہ ہے کہ ایک بار تو ہر حاکم خواہ وہ عادل ہو یا ظالم، بارگاہ رب العزت میں باندھ کر لایا جائے گا اور پھر تحقیق کے بعد اگر وہ عادل ثابت ہوگا اس کو نجات دے دی جائے گی اور اگر ظالم ثابت ہوگا تو ہلاکت یعنی عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔

3639Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن امراء وحکام کی حسرت ناکی

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ويل للأمراء ويل للعرفاء ويل للأمناء ليتمنين أقوام يوم القيامة أن نواصيهم معلقة بالثريا يتجلجلون بين السماء والأرض وأنهم لم يلوا عملا . رواه في شرح السنة ورواه أحمد وفي روايته : أن ذوائبهم كانت معلقة بالثريا يتذبذبون بين السماء والأرض ولم يكونوا عملوا على شيء

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا افسوس ہے امراء و حکام پر، افسوس ہے چودھریوں پر، افسوس ہے امینوں پر! بہت سے لوگ قیامت کے دن آرزو کریں گے کہ (کاش دنیا میں) ان کی پیشانیوں کے بال ثریا میں باندھ کر ان کو لٹکا دیا جاتا اور زمین و آسمان کے درمیان جھولتے رہتے لیکن ان کو کسی کام کی ولایت وسرداری نہ ملتی۔ (شرح السنۃ) تشریح لفظ ویل کے معنی ہیں وہ غم، ہلاکت اور دکھ و تکلیف جو عذاب کی وجہ سے۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ویل دوزخ کے ایک (نالے) کھائی کا نام ہے۔ چناچہ منقول ہے کہ ویل دوزخ کا ایک نالا ہے جس میں کافر چالیس برس تک گرتا لڑھکتا چلا جائے گا۔ مگر تہ تک نہیں پہنچے گا۔ امین اس کار پرداز کو کہتے ہیں کہ جس کو حاکم نے صدقات اور خراج محصولات لینے پر مقرر کیا ہو۔ یا وہ مسلمانوں کے دوسرے قسم کے مال و اسباب کا نگران ومحافظ بنایا گیا ہو۔ اور یا حاکم کے علاوہ کسی اور شخص نے اس کو اپنے مال کا امانت دار بنایا ہو۔ ثریا ان پانچ ستاروں کا مجموعہ کا نام ہے جو پاس پاس رہتے ہیں اور جن میں روشنی کم ہوتی ہے۔ پیشانی کے بل دریا میں باندھ کر لٹکانا دراصل ذلت و خواری کی تمثیل ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب امراء و حکام قیامت کے دن یہ دیکھیں گے کہ دنیا میں ہمیں لوگوں میں جو برتری وحاکمیت، شان و شوکت اور عزت و ریاست حاصل تھی آج اس کے بدلے میں ہمیں یہاں کی ذلت و خواری اور سبکی وسزا مل رہی ہے تو وہ آرزو کریں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں لوگوں پر وہ برتری و فوقیت اور عزت اور ریاست حاصل نہ ہوتی بلکہ ان کے مقابلہ میں ذلت و خواری اور کمتری ملتی جو یہاں کی ذلت و خواری سے کہیں کم وہل کی ہوتی یہاں تک کہ ہمارے سر کے بالوں کو کسی بلند چیز سے باندھ کر ہمیں معلق کردیا جاتا اور لوگ ہماری عزت و ریاست اور رفعت کی بجائے اس ذلت وکمتری کا مشاہدہ کرتے حدیث کا مقصد یہ تلقین کرنا ہے کہ اگر کسی شخص کے ذمہ کوئی خدمت سپرد کی جائے یا اس کو کسی جگہ کا یا کچھ لوگوں کا امیر و والی بنایا جائے تو وہ عدل انصاف کرے کہ عادل ومنصف امیر وحاکم کے حق میں بہت زیادہ ثواب کی بشارتیں ہیں اور نہ کسی کے ساتھ ظلم وجور کا معاملہ کرے اور نہ کسی کی حق تلقی کرے کہ ظلم وجبر اور حق تلفی کرنے والوں کا یہ حشر ہوگا جو حدیث میں مذکور ہوا۔ امیر وچودھریوں اور امینوں پر افسوس کا اظہار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مناصب اور ذمہ داریاں عام طور پر لغزش میں مبتلا کردیتی ہیں اور باطل کی طرف مائل کرتی ہیں اور ان کے امور کی انجام دہی میں عدل و انصاف اور راہ راست پر جمے رہنے کے تقاضے کم ہی پورے ہوتے ہیں ہاں جن کو حق تعالیٰ کی حفاظت ومدد اور توفیق نیک حاصل ہوتی ہے اور وہ اپنے مناصب کی ذمہ داریوں کو ان کے شرائط کے مطابق پورا کرتے ہیں۔

3640Mishkaat-al-Masabih

اکثر چودھری دوزخ میں جائیں گے

وعن غالب القطان عن رجل عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن العرافة حق ولابد للناس من عرفاء ولكن العرفاء في النار . رواه أبو داود

اور حضرت غالب قطان ایک شخص اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا چودھرایت ایک حقیقت ہے اور لوگوں کے لئے چودھری ہونا ضروری ہونا ہے لیکن چودھری دوزخ میں جائیں گے۔ (ابوداؤد) تشریح چودھرایت ایک حقیقت ہے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور نگرانی کے لئے چودھری ہونا ایک امر واقع ہے اور ان کی طرف لوگوں کی احتیاج مسلم ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ (اکثر) چودھری دوزخ میں جائیں گے کیونکہ وہ اپنی چودھرایت میں حق و انصاف سے کام نہیں لیں گے اور عدل و ایمانداری کے تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھیں گے۔ اس اعتبار سے چودھرایت کو قبول کرنا ہلاکت و عذاب کا سخت خطرہ مول لینا ہے لہٰذا عاقل و دانا کو چاہئے کہ وہ اس بارے میں ہوشیار رہے اور اس منصب کو قبول کرنے سے حتی الامکان پرہیز کرے تاکہ وہ کسی ایسے فتنہ میں مبتلا نہ ہوجائے جو اس کو دوزخ کے عذاب کا مستوجب بنا دے۔

3641Mishkaat-al-Masabih

احمق سردار وحاکم سے اللہ کی پناہ چاہو

وعن كعب بن عجرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعيذك بالله من إمارة السفهاء . قال : وما ذاك يا رسول الله ؟ قال : أمراء سيكونون من بعدي من دخل عليهم فصدقهم بكذبهم وأعانهم على ظلمهم فليسوا مني ولست منهم ولن يردوا علي الحوض ومن لم يدخل عليهم ولم يصدقهم بكذبهم ولم يعنهم على ظلمهم فأولئك مني وأنا منهم وأولئك يردون علي الحوض . رواه الترمذي والنسائي

اور حضرت کعب ابن عجرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا میں تم کو بیوقوف لوگوں کی سرداری کے طور طریقوں سے یا ان کی مصاحبت و حمایت) سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں، کعب فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ (یعنی اس طرح کی سرداری کب ہوگی اور کیونکر ہوگی اور وہ کون لوگ ہوں گے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے بعد (بعض زمانوں میں) جو لوگ امیر وحاکم ہوں گے (وہ احمق ونادان آئیں جہانبانی سے نابلد اور جھوٹے اور ظالم ہوں گے، لہٰذا جو لوگ ان (احمق ونادان اور کذاب و ظالم امیروں وحاکموں) کے پاس گئے (یعنی ان کی مصاحبت اختیار کی اور ان کے جھوٹ کو سچ کہا (اور اپنے قول وفعل کے ذریعہ) ان کے ظلم کی امداد و حمایت کی تو نہ ان کا مجھ سے کوئی تعلق ہے اور نہ میں ان سے کوئی تعلق رکھتا ہوں (بلکہ ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کرتا ہوں) اور نہ وہ لوگ حوض پر میرے پاس آئینگے اور جو لوگ نہ تو ان امیروں اور حاکموں کے پاس گئے اور نہ ان کے جھوٹ کو سچ کہا اور نہ ان کے ظلم کی امداد و حمایت کی تو وہ لوگ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں اور وہ حوض پر میرے پاس آئینگے۔ (ترمذی، نسائی ) تشریح اور نہ وہ لوگ میرے پاس حوض پر آئیں گے میں حوض سے مراد یا تو حوض کوثر ہے کہ ان لوگوں کو حوض کوثر پر میرے پاس آنے کی اجازت نہیں ہوگی یا جنت مراد ہے کہ ان لوگوں کو جنت میں میرے پاس نہیں آنے دیا جائے گا۔ یہ ارشاد گرامی گویا اس بات کو سخت وعید کے طور پر واضح کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی شخص ایسی حکومت اور نظام مملکت کی رکنیت اختیار کرتا ہے یا اس کی امداد و حمایت کو اپنا شیوہ بناتا ہے جس کی باگ ڈور کم ظرف اور احمق لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور جس کا سایہ میں اللہ کے بندوں پر ظلم وجور کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس شخص میں ایمان کا فقدان ہے اور وہ شخص مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔

3642Mishkaat-al-Masabih

سربراہان حکومت کی حاشیہ نشینی دین و دنیا کی تباہی کا باعث ہے

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من سكن البادية جفا ومن أتبع الصيد غفل ومن أتى السلطان افتتن . رواه أحمد والترمذي والنسائي وفي رواية أبي داود : من لزم السلطان افتتن وما ازداد عبد من السلطان دنوا إلا ازداد من الله بعدا

اور حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص جنگلی (دیہات) میں رہتا ہے وہ جاہل ہوتا ہے جو شخص شکار کے پیچھے پڑا رہتا ہے وہ غافل ہوتا ہے اور جو شخص بادشاہ کے پاس آتا جاتا ہے وہ فتنہ میں مبتلا ہوجاتا ہے (احمد، ترمذی، نسائی) اور ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ ( جو شخص بادشاہ کی ملازمت میں رہتا ہے (یعنی اس کے ہاں ہر وقت حاضر باش و حاشیہ نشین اور مددگار رہتا ہے وہ فتنہ میں مبتلا ہوتا ہے اور جو شخص بادشاہ کا جتنا زیادہ قرب چاہتا ہے اتنا ہی اللہ سے دور ہوجاتا ہے۔ تشریح جو شخص جنگل (دیہات) میں رہتا ہے الخ سے دیہات میں رہنے والوں کی ہتک وتضحیک مراد نہیں ہے اور نہ ان کو کمتر بنانا مقصود ہے بلکہ یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ دیہات وگاؤں میں رہنے والے لوگوں کو چونکہ علماء وصلحاء اور اولیاء اللہ کی صحبت میسر نہیں ہوتی اس لئے ان کے دل سخت ہوجاتے ہیں اور ان میں علم و معرفت عقل و دانش اور فہم وذکاوت کی روشنی پیدا نہیں ہوتی۔ جو شخص شکار کے پیچھے پڑا رہتا ہے الخ کا مطلب یہ ہے کہ لہو ولعب اور حصول لذت و خوشی کی خاطر ہر وقت شکار کی دھن میں رہتا ہے وہ طاعات و عبادت اور جمعہ اور جماعت نماز کے التزام سے غافل ہوجاتا ہے نیز اس میں شفقت و محبت اور نرم خوئی کی صفات ختم ہوجاتی ہیں، واضح رہے کہ اس ارشاد کے ذریعہ ان لوگوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے جو شکار کو عادت بنا لیتے ہیں اور حلال رزق حاصل کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ محض تفریح اور وقت گزاری کے لئے اپنے اوقات کا اکثر حصہ اس میں مصروف رکھتے ہیں ورنہ تو جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے مطلق شکار کے مباح و حلال ہونے میں شبہ نہیں ہے اور بعض صحابہ نے شکار کیا ہے البتہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ آپ نے خود بہ نفس نفیس کبھی شکار کرنے سے منع نہیں کیا ہے۔ حدیث کے آخر میں بادشاہ وحاکم کی حاشیہ نشینی اور دربار حکومت میں حاضر باشی کی خرابی کو واضح کیا گیا ہے کہ جو شخص بغیر کسی ضرورت و حاجت کے بادشاہ وحاکم کی چوکھٹ پر گیا وہ فتنہ میں مبتلا ہوگیا کیونکہ اگر وہ بادشاہ حاکم کے ان افعال و اعمال کی موافقت و حمایت کرے گا جو خلاف شرع ہوں تو اس کا دین خطرہ میں پڑے گا اور اگر ان کی مخالفت کرے گا تو اپنی دنیا خراب کرے گا مظہر کہتے ہیں کہ جو شخص بادشاہ وحاکم کے دربار میں حاضر ہوا اور وہاں مداہنت اختیار کی (یعنی ان کے خلاف شرع امور پر ان کو ٹوکا نہیں) تو اس نے فتنہ میں اپنے آپ کو مبتلا کیا (یعنی اپنا دین خطرے میں ڈالا) اور اگر اس نے مداہنت اختیار نہیں کی بلکہ ان کو نصیحت کی اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا تو اس صورت میں دربار حکومت میں اس کی حاضری جہاد سے بھی افضل ہوگی۔ دہلوی نے مسند فردوس میں حضرت علی ؓ سے بطریق مرفوع یہ روایت نقل کی ہے کہ حدیث (من ازداد علما ولم یزدد فی الدنیا زہدا لم یزدد من اللہ الا بعدا ) ٫٫ جس شخص نے اپنا علم تو زیادہ کیا لیکن دنیا کے (مال ومتاع) میں بےرغبتی کو زیادہ نہیں کیا تو اس نے اللہ سے دوری کو زیادہ کیا۔

3643Mishkaat-al-Masabih

گمنامی راحت کا باعث ہے اور شہرت، آفت کا باعث

وعن المقدام بن معدي كرب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ضرب على منكبيه ثم قال : أفلحت يا قديم إن مت ولم تكن أميرا ولا كاتبا ولا عريفا . رواه أبو داود

اور حضرت مقدام ابن معد یکرب روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ان (یعنی مقدام) کے مونڈھے پر اپنے ہاتھ) مار کر فرمایا اے قدیم! اگر اس حالت میں تمہاری موت ہو کہ نہ تو تم امیر وحاکم ہو، منشی ہو اور نہ چودھری تو تم نے فلاح پائی۔ (ابو داؤد) تشریح اس ارشاد گرامی میں اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ گمنامی وبے منصبی راحت ہے اور شہرت ومنصب آفت ہے۔

3644Mishkaat-al-Masabih

لوگوں سے خلاف شرع محصول وٹیکس وصول کرنے والاحاکم جنت سے محروم رہے گا

وعن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل الجنة صاحب مكس : يعني الذي يعشر الناس . رواه أحمد وأبو داود والدارمي

اور حضرت عقبہ ابن عامر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ صاحب مکس جنت میں داخل نہیں ہوگا صاحب مکس سے آنحضرت ﷺ کی مراد (حاکم کار پرداز) ہے جو لوگوں سے خلاف شرع محصولات وٹیکس وصول کرتا ہے۔ (احمد، ابوداؤد، درامی )

3645Mishkaat-al-Masabih

امام عادل کی فضیلت

وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أحب الناس إلى الله يوم القيامة وأقربهم منه مجلسا إمام عادل وإن أبغض الناس إلى الله يوم القيامة وأشدهم عذابا وفي رواية : وأبعدهم منه مجلسا إمام جائر . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب

اور حضرت سعید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سے زیادہ محبوب اور مجلس (یعنی مرتبہ) کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب جو شخص ہوگا وہ عادل امام وحاکم ہے اور قیامت کے دن اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ نفرت کا مستحق اور سب سے زیادہ عذاب کا سزاوار! اور ایک روایت میں یہ ہے کہ۔ اللہ سے سب سے زیادہ دور جو شخص ہوگا وہ ظالم امام وحاکم ہے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

3646Mishkaat-al-Masabih

ظالم حاکم کے سامنے حق گوئی سب سے بہتر جہاد ہے۔

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الجهاد من قال كلمة حق عند سلطان جائر . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

اور حضرت ابوسعید کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا سب سے جہاد اس شخص کا ہے جو ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ) اور احمد و نسائی نے اس روایت کو طارق ابن شہاب سے نقل کیا ہے تشریح جابر و ظالم حکمران کے سامنے حق گوئی کو بہترین جہاد اس لئے فرمایا گیا کہ جو شخص کسی دشمن سے جہاد کرتا ہے وہ خوف وامید دونوں کے درمیان رہتا ہے اگر اس کو یہ خوف ہوتا کہ شاید دشمن مجھ پر غالب آجائے اور میں مجروح یا شہید ہوجاؤں تو اس کے ساتھ ہی اس کو یہ امید ہوتی ہے کہ میں اس دشمن کو زیر کر کے اپنی جان کو پوری طرح بچا لوں گا۔ اس کے برخلاف جو شخص ظالم و جابر حکمران کے سامنے حق بات کہنے کا ارادہ رکھتا ہے اس کے لئے امید کی کوئی ہلکی سی کرن بھی نہیں ہوتی بلکہ خوف ہی خوف ہوتا ہے چناچہ وہ اس حکمران کے مکمل اختیار و قبضہ میں ہونے کی وجہ سے اس یقین کے ساتھ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فرض ادا کرتا ہے کہ اس کا انجام دنیا میں نری تباہی و نقصان کے علاوہ اور کچھ نہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جس مہم میں انسان کو اپنی زندگی اور اپنے مال ومتاع کے باقی رہنے کی ہلکی سی امید بھی نہ ہو اس کو انجام دینا اس مہم کو انجام دینے سے کہیں زیادہ صبر آزما، ہمت طلب اور مردانگی کا کام اور بدرجہا افضل ہوگا جس کی انجام دہی میں اپنی زندگی اور اپنے مال ومتاع کے باقی رہنے کی بہتر حد تک امید ہو۔ اس کو بہترین جہاد اس لئے فرمایا گیا ہے کہ حکمران کا ظلم وجور ان تمام لوگوں کو متاثر کرتا ہے جو اس کی رعیت میں ہوتے ہیں وہ کوئی دو چار دس آدمی نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں بندگان اللہ ہوتے ہیں لہٰذا جب کوئی شخص اس حکمران کو اس کے ظلم وجور سے روکے گا وہ اپنے اس عمل سے اللہ کی کثیر مخلوق کو فائدہ پہنچائے گا۔ جب کہ دشمن سے جہاد کرنے میں یہ بات نہیں۔

3647Mishkaat-al-Masabih

ظالم حکمران کے سامنے حق گوئی کا انداز

شیخ ابوحامد نے احیا میں لکھا ہے کہ بادشاہ وحکمران کو امر بالمعروف یہ ہے کہ اس کی بےراہ روی سے روکا جائے اور اس کے جو اعمال و افعال مبنی بر غلط ہوں۔ ان کو اس پر واضح کیا جائے یعنی اسے یہ بتایا جائے یعنی یہ بتایا جائے کہ تمہارے یہ کام عدل و انصاف کے خلاف ہے، تمہارا یہ فیصلہ یا یہ فرمان، قانون اور نظام حکمرانی کے مطابق نہیں ہے اور تمہارا یہ فعل دین و اخلاق اور اللہ کے حکم کے منافی ہے، لیکن رعایا کے کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ حکمران کو اس کے غلط کام وفعل سے تشدد کے ذریعہ روکے کیونکہ یہ ملک میں فتنہ و فساد اور قوم میں انتشار وافتراق کا باعث ہوگا اب رہی یہ بات کہ اگر کوئی شخص کسی حکمران کو اس کی غلط روی سے روکنے کے لئے تند وتیز الفاظ، درشت وغضبناک لب و لہجہ اور سخت کلامی اختیار کرے مثلًا وہ اس کو ظالم کہہ کر مخاطب کرے یا یوں کہے (من لایخاف اللہ) (اے اللہ سے نہ ڈرنے والے شخص) وغیرہ وغیرہ تو اس بارے میں یہ مسئلہ ہے کہ اگر اس شخص کا درشت لب و لہجہ اور اس کے تند و تیز الفاظ اس شخص کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لئے بھی اس حکمران کے عتاب کا نشانہ بن جانے کا باعث ہوں تو یہ (سخت کلامی) جائز نہیں۔ اور اگر اس شخص کو اس کا خوف نہیں کہ میری سخت کلامی کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی حکمران کے عتاب کا نشانہ بن جائیں گے بلکہ صرف میری ہی جان پر بنے گی تو یہ جائز ہے بلکہ مستحب ہے کیونکہ سلف (پہلے زمانوں کے مردان حق آگاہ) کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ اپنی جان کی ہلاکت کا خوف لئے بغیر حکمرانوں کو ان کی غلط روی سے پوری پوری سختی سے ٹوکا کرتے تھے اس لئے وہ جانتے تھے کہ اگر وہ اپنی جان کی ہلاکت کا باعث بن گیا تو اس سے بڑی سعادت کیا ہوسکتی ہے۔ کہ جہاد میں شہادت کا درجہ نصیب ہوگا۔

3648Mishkaat-al-Masabih

حکمران کے صالح مشیرکار اس فلاح کا باعث ہوتے ہیں

وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أراد الله بالأمير خيرا جعل له وزير صدق إن نسي ذكره وإن ذكر أعانه . وإذا أراد به غير ذلك جعل له وزير سوء إن نسي لم يذكره وإن ذكر لم يعنه . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی امیر (حکمران) کی (دینی و دنیاوی) بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لئے سچا (یعنی راست گفتار و راست کردار) وزیر ومشیر مقرر فرما دیتا ہے کہ جب وہ امیر (خدا کے احکام کو) بھول جاتا ہے تو وہ وزیر اس کو یاد دلاتا ہے (اور اگر وہ یاد رکھتا ہے تو وہ وزیر اس کو (یاد رکھنے میں مدد دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی امیر کی بھلائی کا ارادہ نہیں کرتا تو اس پر بد وزیر و مشیر مسلط کردیتا ہے۔ اور اگر امیر اللہ کے احکام کو فراموش کردیتا ہے تو وہ وزیر اس کو یاد نہیں دلاتا اگر وہ فراموش نہیں کرتا تو وہ وزیر اس کی مدد نہیں کرتا۔ (ابو داؤد، نسائی )

3649Mishkaat-al-Masabih

رعایا کے تئیں حکمران کا شک وشبہ انتشار وبددلی کا باعث ہے۔

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الأمير إذا ابتغى الريبة في الناس أفسدهم . رواه أبو داود (2/343) 3709 - [ 49 ] ( لم تتم دراسته ) وعن معاوية قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنك إذا اتبعت عورات الناس أفسدتهم . رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ابوامامہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے کہ آپ نے فرمایا حکمران جب لوگوں میں شک وشبہ کی بات ڈھونڈتا ہے تو لوگوں کو خراب کردیتا ہے۔ (ابو داؤد) تشریح اس ارشاد گرامی کے ذریعہ آئین جہانبانی کے ایک بڑے ہم نکتہ کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ ملک وقوم کی سالمیت عوام کی فلاح وبہبودی اور عام اطمینان وامن کے لئے یہ ضروری ہے کہ حکمران اور رعایا کے درمیان مکمل اعتماد ہو بطور خاص حکمران کو یہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اس کو اپنی رعایا کے تئیں اپنے اعتماد کا اظہار کرنا ہے! جو تنگ نظر اور کم ظرف حکمران اپنی مملکت کے عام لوگوں یا کسی خاص طبقے کے بارے میں مستقل طور پر شک وشبہ میں مبتلا رہتے ہیں اور ان کی وفاداری پر یا ان کی حرکات و سکنات پر بدگمانی کرتے ہیں اور ان پر طرح طرح کے الزامات عائد کر کے ان سے مؤ اخذہ کرتے ہیں اور ان کو مختلف قسم کی سزاؤں اور عقوبتوں میں گرفتار کرتے ہیں اور اپنے ہی ہاتھوں اپنی حکمرانی کی جڑیں کھودتے ہیں کیونکہ اس صورت حال سے نہ صرف یہ کہ جن طبقوں پر مستقل شک وشبہ کا اظہار کیا جاتا ہے ان کے حالات دگرگوں ہوجاتے ہیں بلکہ ملک وقوم میں بےاطمینانی اور اضطراب و انتشار کی فضا پیدا ہوجاتی ہے۔ اس حدیث کا مقصد جہاں لوگوں کے احوال کے تجسس اور ان کے عیوب تلاش کرنے سے منع کرنا ہے وہیں اس بات کا حکم دینا بھی ہے کہ اگر لوگوں میں کچھ عیوب ہوں تو ان کی پردہ پوشی کی جائے اور ان جو گناہ ولغزشیں سرزد ہوں ان سے درگزر کیا جائے۔ اور حضرت معاویہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ جب تم لوگوں کے (پوشیدہ) عیوب کو تلاش کرو گے تو ان کو خرابی میں مبتلا کرو گے۔ (بیہقی )

3650Mishkaat-al-Masabih

حق تلفی کرنے والے حاکم کے خلاف تلوار اٹھانے سے صبر کرنا بہتر ہے

وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف أنتم وأئمة من بعدي يستأثرون بهذا الفيء ؟ . قلت : أما والذي بعثك بالحق أضع سيفي على عاتقي ثم أضرب به حتى ألقاك قال : أولا أدلك على خير من ذلك ؟ تصبر حتى تلقاني . رواه أبو داود

اور حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (ہمیں مخاطب کر کے) فرمایا میرے بعد تم حاکموں اور سرداروں کے ساتھ اس وقت کیا برتاؤ کرو گے جبکہ وہ اس فئی کو خود رکھ لیں گے (یا آیا صبر کی راہ اختیار کرو گے یا ان کے خلاف تلوار اٹھاؤ گے؟ ) میں نے عرض کیا سن لیجئے قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں! اپنی تلوار کاندھے پر رکھوں گا اور پھر اس کے سبب) آپ سے جا ملوں گا۔ (آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں اس تلوار اٹھانے) سے بہتر بات نہ بتادوں؟ (تو سنو) تم اس وقت صبر کی راہ اختیار کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو! (کیونکہ کسی دنیاوی حق کے تلف ہونے کی صورت میں تلوار اٹھانے سے صبر کرنا اور خاموش رہنا بہتر بھی ہے اور دنیا کی چیزوں سے بےرغبتی اور زہد کے شایان شان بھی ہے۔ (ابو داؤد) تشریح فئی اس مال کو کہتے ہیں کہ جو کفار سے بغیر جنگ وجدل کے حاصل ہو، جیسے خراج و جزیہ یا اس قسم کے وہ دوسرے ٹیکس جو اسلامی مملکت میں غیر مسلموں سے وصول کئے جاتے ہیں اور کفار سے جو مال جنگ وجدل سے حاصل ہوتا ہے اس کو غنیمت کہتے ہیں۔ فئی کا حکم یہ ہے کہ حاصل شدہ مال کے چار حصے تو تمام مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ ان کے درمیان تقسیم کیا جائے اور پانچواں حصہ بیت المال میں داخل کردیا جائے جب کہ غنیمت میں جو مال حاصل ہوتا ہے اس کے چار حصے بیت المال میں داخل ہوتے ہیں اور پانچواں حصہ مسلمانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اس فئی کے بارے میں یہ تلقین کی گئی ہے کہ اگر کوئی حکمران اس کو اپنے تصرف میں لے آئے اور مستحقین میں تقسیم نہ کرے تو اگرچہ یہ حق تلفی ہے اور مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس حکمران سے اپنا اپنا حصہ وصول کریں لیکن محض اس مال کے لئے اس حکمران کے خلاف تلوار اٹھانے اور تشدد کی راہ اختیار کرنے سے یہ بہتر یہ ہے کہ صبر کی راہ اختیار کی جائے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی کے مفہوم میں فئی اور غنیمت دونوں شامل ہیں، نیز اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ جو حکمران فئی یا غنیمت کے سارے مال کو اپنے تصرف میں لا کر بیت المال کو نقصان پہنچائے گا اور مسلمانوں کو حق تلفی کرے گا وہ ظالم ہے۔