امارت وقضا کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 118 · 51 hadiths · Page 3 of 3

3651Mishkaat-al-Masabih

امام عادل کی فضیلت

عن عائشة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أتدرون من السابقون إلى ظل الله عز و جل يوم القيامة ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم قال : الذين إذا أعطوا الحق قبلوه وإذا سئلوه بذلوه وحكموا للناس كحكمهم لأنفسهم

حضرت عائشہ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا جانتے ہو قیامت کے دن سب سے پہلے کون لوگ اللہ تعالیٰ کے عرش یا اس کے فضل و کرم کے سایہ میں جائیں گے؟ ) صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جاننے والے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا سبقت لے جانے والے وہ لوگ ہیں جن کے سامنے حق بات رکھی جاتی ہے تو وہ قبول کرتے ہیں، جب ان سے حق کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو وہ خرچ کرتے ہیں اور لوگوں کے حق میں وہی فیصلہ کرتے ہیں جو اپنی ذات کے بارے میں کرتے ہیں۔ تشریح اسی حدیث میں عادل حکمرانوں کے تین اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ ان کی وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عنایات و کرم اور ان کے سایہ کے سب سے پہلے مستحق ہوں گے عادل حکمرانوں کا پہلا وصف تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب ان کے سامنے رعایا کی بھلائی و بہتری اور عدل ومساوت کے تعلق سے کوئی صحیح اور حق بات پیش کی جاتی ہے تو وہ اس کو قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ دوسرا وصف یہ ہے کہ جب رعایا ان سے اپنا حق مانگتی ہے تو وہ اس کا حق دیتے ہیں اور لوگوں کی بھلائی اور بہتری اور ان کی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتے اور تیسرا وصف یہ ہے کہ وہ جس چیز کو اپنے لئے پسند کرتے ہیں اسی کو رعایا کے لئے بھی پسند کرتے ہیں اگر وہ راحت اور اپنا چین چاہتے ہیں تو رعایا کے حق میں بھی یہ یہی چاہتے ہیں کہ عام لوگ راحت وچین اور امن و سکون کے ساتھ رہیں، خود غرض اور عیش کوش حکمرانوں کی طرح کا شیوہ یہ نہیں ہوتا کہ خود تو عیش وعشریت اور شہوت رانیوں میں مبتلا رہیں اور رعایا کو سختی اور تنگی اور بدحالی میں رہنے دیں۔

3652Mishkaat-al-Masabih

حکمرانوں کے ظلم سے آنحضرت ﷺ کا خوف

وعن جابر بن سمرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ثلاثة أخاف على أمتي : الاستسقاء بالأنواء وحيف السلطان وتكذيب القدر

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں اپنی امت کے حق میں تین باتوں سے ڈرتا ہوں کہ (کہیں وہ ان کو اختیار کر کے گمراہی میں مبتلا نہ ہوجائے) ایک تو چاند کی منازل کے حساب سے بارش مانگنا، دوسرے بادشاہ کا ظلم کرنا اور تیسرے تقدیر کا جھٹلانا (یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ تقدیر الہٰی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ انسان جو بھی فعل کرتا ہے وہ خود اس کا خالق ہوتا ہے جیسا کہ ایک جماعت قدریہ کا مسلک ہے۔ تشریح انواء نوء۔ کی جمع ہے جس کے لغوی معنی تو اٹھنا اور (گرنا) ہیں لیکن عام طور پر اس کا استعمال چاند کی منازل کے مفہوم میں ہوتا ہے! قدیم علماء فلکیات کے مطابق چاند کی اٹھائیس منزلیں ہوتی ہیں کہ وہ ہر شب ایک منزل میں رہتا ہے غالبًا اٹھنے اور گرنے سے طلوع اور غروب مراد لے کر انواء کو چاند کو منازل کے مفہوم استعمال کیا جاتا ہے۔ بہرحال عرب کے مشرکین بارش کو ان منازل کی طرف منسوب کرتے تھے اور جب بارش ہوتی تو وہ یہ کہتے کہ چاند کی فلاں منزل کی وجہ سے بارش ہوئی ہے چونکہ یہ ایک باطل عقیدہ ہے کہ اس لئے دوسری احادیث میں یہ عقیدہ رکھنے سے صریح ممانعت مذکور ہے۔ توحید کی اہمیت کو واضح کرنے اور شرک کے ایہام سے دور رکھنے کے لئے اس پر لفظ کفر کا اطلاق کیا گیا ہے۔

3653Mishkaat-al-Masabih

بلاوجہ نہ تو امین بنو اور نہ حاکم بنو

وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ستة أيام اعقل يا أبا ذر ما يقال لك بعد فلما كان اليوم السابع قال : أوصيك بتقوى الله في سر أمرك وعلانيته وإذا أسأت فأحسن ولا تسألن أحدا شيئا وإن سقط سوطك ولا تقبض أمانة ولا تقض بين اثنين

اور حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ چھ دن تک مجھ سے یہ فرماتے رہے کہ ابوذر! بعد میں جو بات تم سے کہی جانے والی ہے اس کے لئے تیار رہو (یعنی آنحضرت ﷺ چھ دن تک مجھے آگاہ کرتے رہے کہ میں تمہیں ایک ہدایت دوں گا تم اس پر خوب غور کرنا اس کو یاد رکھنا اور اس پر عمل کرنا) چناچہ جب سا تو اں دن ہوا تو آپ نے فرمایا میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ظاہر و باطن میں اللہ سے ڈرتے رہنا، جب تم سے کوئی برائی سرزد ہوجائے تو ساتھ ہی نیکی بھی کرنا کیونکہ وہ برائی کو مٹا دیتی ہے یا یہ مقصد ہے کہ اگر تم کسی کے ساتھ کوئی برا سلوک کر بیٹھو تو اس کے ساتھ (نیکی کا) سلوک بھی کرو) کسی (مخلوق) کے آگے دست سوال دراز نہ کرنا اگرچہ تمہارا کوڑا ہی کیوں نہ گرپڑا ہو (یعنی اگر کوڑا گرے تو اس کو اٹھانے کے لئے بھی کسی سے نہ کہو) کسی کی امانت اپنے پاس نہ رکھنا اور دو آدمیوں کے حکم نہ بننا۔۔ تشریح کسی کے امانت اپنے پاس نہ رکھنا کا مطلب یہ ہے کہ بلاضرورت کسی کی امانت اپنے پاس رکھنا احتیاط اور دور اندیشی کے خلاف ہے کیونکہ نفس کا کوئی بھروسہ نہیں کہ وسوسہ اور شیطان کے فریب میں مبتلا ہوجائے اور امانت میں خیانت کا ارتکاب ہوجائے یا اگر خیانت کا ارتکاب نہ بھی ہو تو یہ چیز تہمت کا محل تو ہے ہی کہ کسی وجہ سے خود امانت کا مالک یا کوئی دوسرا شخص تم پر خیانت کی تہمت لگا دے۔

3654Mishkaat-al-Masabih

حکمران کے حق میں حکومت کے تین تدریجی مرحلے

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : ما من رجل يلي أمر عشرة فما فوق ذلك إلا أتاه الله عز و جل مغلولا يوم القيامة يده إلى عنقه فكه بره أو أوبقه إثمه أولها ملامة وأوسطها ندامة وآخرها خزي يوم القيامة

اور حضرت ابوامامہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے (دس آدمیوں کی) بھی یا اس سے زائد لوگوں کی حکمرانی قبول کی اس کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس طرح طوق میں جکڑا ہوا حاضر کرے گا (یعنی میدان حشر میں اٹھائے گا) کہ اس کے ہاتھ نے اس کی گردن کو جکڑ رکھا ہوگا یہاں تک کہ یا تو اس کی نیکی اس کو چھڑائے گی (یعنی اگر اس نے دنیا میں اپنے زیردستوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ اور حسن سلوک کیا ہوگا تو یہ اس کی نجات کا باعث بنے گا یا اس کا گناہ (یعنی اپنے زیردستوں پر اس کا کیا ہوا ظلم وغیرہ ) اس کی ہلاکت (عذاب) میں مبتلا کر دے گا۔ (یاد رکھو) سرداری وحکمرانی کی ابتداء ملامت ہے اس کا درمیان پیشمانی و ندامت ہے اور اس کا آخر قیامت کے دن کی ذلت و رسوائی ہے۔ تشریح حکومت وسرداری کی حقیقت اور اس کا مآل کیا ہے؟ اس کو یہ حدیث واضح کر رہی ہے کہ جب کوئی شخص حکومت وسیادت کی مسند پر فائز ہوتا ہے تو اس کا ابتدائی مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو ہر طرف سے ملامت کے تیر کا نشانہ بننا پڑتا ہے، لوگ مطعون کرتے ہیں کہ اس نے ایسا ویسا کیا، کوئی اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کرتا ہے، کوئی خویش پروری اور جننہ داری کی تہمت لگاتا ہے تو کوئی فرائض حکومت کی انجام دہی میں غفلت کا ملزم گردانتا ہے عرضی کہ ہر طرف سے طعن وتشنیع، سب وشتم اور اعتراضات کی بوچھاڑ ہوتی ہے اس کے بعد درمیانی مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ حکمران حکومت کی سخت کوشیوں اور لوگوں کے طعن وتشنیع سے بددل ہو کر سخت ندامت وپیشیمانی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اس منصب کو کیوں قبول کیا اور اس محنت و مصیبت میں اپنے آپ کو مبتلا کیا اور پھر اس کا آخری حصہ ذلت و رسوائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا کی ذلت و رسوائی بھی اور آخرت کی ذلت و رسوائی بھی! دنیا کی ذلت رسوائی تو یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے اس منصب سے معزول کردیا جاتا ہے تو اس کی خواری و تحقیر ہوتی ہے یا اگر رعایا اس کے طرز حکومت میں اور انتظام سلطنت سے مطمئن نہیں ہوتی تو ان کے دل ان کے دلوں میں اس کے تئیں سخت قسم کی نفرت و حقارت کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایک حکمران کے لئے اس سے بڑھ کر دنیا میں ذلت و رسوائی اور کیا ہوسکتی ہے اور آخرت کی ذلت و رسوائی یہ ہے کہ وہ اپنے دور حکومت میں جو کچھ کرتا ہے اس کی جواب دہی احکم الحاکمین کی بارگاہ میں کرنی ہوتی ہے یہاں تک کہ اس سے جو کو تاہیاں، جو ظلم اور جو غلط افعال سرزد ہوئے ہیں ان کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہونا پڑتا ہے۔ ( فاعتبروا یا اولی الابصار)۔ یہاں حدیث میں صرف قیامت کے دن کی ذلت و رسوائی کا ذکر کیا گیا ہے دنیا کی خواری مذکور نہیں ہے اس کی وجہ یہ کہ قیامت کے دن کی ذلت و رسوائی دنیا کی ذلت و رسوائی کہیں زیادہ سخت ہے اسی لئے اس کے ذکر پر اکتفا کیا گیا۔

3655Mishkaat-al-Masabih

حضرت معاویہ کے حق میں آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی

وعن معاوية قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معاوية إن وليت أمرا فاتق الله واعدل . قال : فما زلت أظن أني مبتلى بعمل لقول النبي صلى الله عليه و سلم حتى ابتليت

اور حضرت امیر معاویہ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا سے معاویہ! اگر تمہیں کسی کام (یا کسی جگہ) امیر وحاکم بنایا جائے تو امور حکومت کی انجام دہی میں) اللہ سے ڈرتے رہنا اور عدل و انصاف کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔ حضرت معاویہ کہتے ہیں برابر خیال کرتا رہا کہ آنحضرت ﷺ کے فرمانے کے بموجب میں کسی کام (یعنی امارت وسرداری میں مبتلا کیا جاؤں گا۔ یہاں تک کہ میں مبتلا کیا گیا (یعنی آنحضرت ﷺ کا فرمان صحیح ہوا اور امارت وسرداری نصیب ہوئی۔

3656Mishkaat-al-Masabih

آنے والے زمانے کے بارے میں پیشن گوئی

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تعوذوا بالله من رأس السبعين وإمارة الصبيان . روى الأحاديث الستة أحمد وروى البيهقي حديث معاوية في دلائل النبوة

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ستر سال کی ابتداء سے اور بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگو، مذکورہ بالا چھ حدیثوں کو امام احمد نے اور امیر معاویہ کی روایت کو بہیقی بھی دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے۔ تشریح ستر سال کی ابتداء سے مراد سن کی ساتویں دہائی ہے جس کی ابتداء ٦١ ھ کے آخر میں حضرت معاویہ کا دور حکومت ان کی وفات پر پورا ہوا اور یزید ابن معاویہ کی امارت قائم ہوئی اس کے ساتھ ہی حکومت پر سے صحابیت کا بابرکت سایہ اقتدار مکمل طور اٹھ گیا اور اس کے بعد سے امت کی تاریخ حکومت کا وہ دور شروع ہوگیا جو افتراق اور انتشار، فتنہ و فساد، ظلم وجور حصول اقتدار کی کشمکش اور ملوکیت کی فتنہ سامانیاں اپنے دامن میں لے کر آیا۔ یزید کل تین سال آٹھ ماہ تخت حکومت پر رہا اس دوران میں اس کی حکومت کا سب سے شرمناک واقعہ سانحہ کربلا ہے۔ یزید کے بعد اس کا بیٹا معاویہ ابن یزید ابن معاویہ برائے نام تخت نشین ہوا اور آخر میں حکومت کی باگ ڈور بنو امیہ کے سفیانی خاندان سے نکل کر بنی مروان کے ہاتھ آگئی۔ حدیث میں انہی بنی مروان کی حکومت کو بچوں کی حکومت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بنی مروان کے زمانہ حکومت میں اقتدار کی رسہ کشی استبداد وجبر، مذہبی انتشار وتشتت، دین سے برگشتگی، خاندانی وقبائلی عصبیت، اسلامی شعائر سے لاپرواہی اور بزرگان حق کے ساتھ سختی وتشدد کا جو مظاہرہ ہوا اس پورے نظام حکومت ومملکت کو بازیچہ اطفال بنا کر رکھ دیا تھا۔ رسوائے تاریخ ظالم حجاج ابن یوسف بنی مروان ہی کے عہد حکومت کا سب سے بڑا معتمد والی تھا جو ظلم وستم میں چنگیز ہلاکو سے کم بدنام نہیں ہے۔ سن ہجری کی ساتویں دہائی کی ابتداء سے یزید ابن معاویہ کی امارت کی صورت میں رونما ہونے والی ہولنا کیوں اور اس کے بعد کے عرصہ میں بنی مروان کی حکومت کی ستم رانیاں وقوع پزیر ہونے سے سالہا سال پہلے نبوت کے سامنے ایک کھلی کتاب کی مانند تھیں اور آپ ﷺ کی فراست محکم آنے والے اس زمانے کا ادراک کر رہی تھی جس میں نبوت کی اجتماعی اور اس کی ملی خصوصیات کو چند خود غرض، مفاد پرست اور دنیا دار حکمران اپنے اقتدار طلبی اور عیش رانیوں پر قربان کرنے والے تھے۔ لہٰذا آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا اس وقت پیش آنے والے سخت حالات اور عاقبت نااندیش حکمرانوں کے عہد حکومت سے اللہ کی پناہ مانگو کہ اللہ تم میں سے کسی کو وہ زمانہ نہ دکھلائے۔

3657Mishkaat-al-Masabih

جیسے عمل کرو گے ویسے ہی حکمران مقرر ہوں گے

وعن يحيى بن هاشم عن يونس بن أبي إسحاق عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كما تكونون كذلك يؤمر عليكم

اور حضرت یحییٰ بن ہاشم، حضرت یونس ابن اسحاق سے اور اور وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں۔ کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جیسے تم ہوگے ویسے ہی تمہارے اوپر حکمران مقرر کئے جائیں گے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ تمہارے طور طریقے اور تمہارے اعمال جیسے ہوں گے ویسے ہی تم پر حاکم وعامل مقرر ہوں گے اگر تمہارے اعمال اچھے ہوں گے تو تمہارے حاکم بھی اچھے ہوں گے اور تم برے اعمال کرو گے تو تمہارے حاکم بھی برے ہوں گے۔

3658Mishkaat-al-Masabih

بادشاہ روئے زمین پر اللہ کا سایہ ہوتا ہے

وعن ابن عمر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن السلطان ظل الله في الأرض يأوي إليه كل مظلوم من عباده فإذا عدل كان له الأجر وعلى الرعية الشكر وإذا جار كان عليه الإصر وعلى الرعية الصبر

اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بادشاہ روئے زمین پر اللہ کا سایہ ہے جس کے نیچے اللہ کے بندوں میں سے مظلوم بندہ پناہ حاصل کرتا ہے لہٰذا جب بادشاہ عدل و انصاف کرتا ہے تو اس کو ثواب ملتا ہے اور رعایا پر اس کا شکر واجب ہوتا ہے اور جب وہ ظلم و طغیانی کرتا ہے تو وہ گنہ گار ہوتا ہے اور رعایا پر صبر لازم ہوتا ہے۔ بادشاہ کے وجود کو خود کا سایہ اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے جس طرح کسی چیز کا سایہ سورج کی تپش و گرمی کی ایذاء سے بچاتا ہے اسی طرح بادشاہ اپنی رعیت کے لوگوں کو مختلف قسم کی ایذاؤں اور سختیوں سے بچاتا ہے! نیز بسا اوقات لفظ سایہ سے کنایۃ محافظت و حمایت کا مفہوم بھی مراد لیا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے بھی اگر دیکھا جائے تو بادشاہ کے وجود کا بجا طور پر اپنی رعایا کے لئے محافظت و حمایت کا سب سے بڑا ذریعہ ہونا بالکل ظاہر ہے۔ طیبی نے یہ وضاحت کی ہے کہ لفظ ظل اللہ ایک تشبیہ ہے اور عبادت (یاوی الیہ کل مظلوم) الخ اس تشبیہ کی وضاحت اور مراد بیان کرتی ہے یعنی لوگ جس طرح سایہ کی ٹھنڈک میں سورج کی گرمی سے راحت پاتے ہیں اسی طرح بادشاہ کے عدل کی ٹھنڈک میں ظلم وجور کی گرمی سے راحت پاتے ہیں۔ ظل اللہ میں اللہ کی طرف (سایہ) کی نسبت اس (سایہ) کی عظمت و برتری کے اظہار کے لئے ہے جیسا کہ بیت اللہ میں اللہ کی طرف بیت کی نسبت اس (بیت) کی عظمت و برتری کو ظاہر کرنے کے لئے ہے اور اس سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ وہ سایہ (یعنی بادشاہ) دوسرے سایوں کی طرح نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کے تعلق سے اپنی الگ شان اور خصوصیت و برتری رکھتا ہے کیونکہ اس کو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کا خلیفہ (نائب) قرار دیا گیا ہے کہ اس کا فریضہ اللہ تعالیٰ کے عدل و احسان کو اس کے بندوں پر پھیلانا ہے۔

3659Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن سب سے بلند مرتبہ نرم خو اور عادل حکمران ہوگا

وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أفضل عباد الله عند الله منزلة يوم القيامة إمام عادل رفيق وإن شر الناس عند الله منزلة يوم القيامة إمام جائر خرق

اور حضرت عمر ابن خطاب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بندوں میں بلند مرتبہ کے اعتبار سے سب سے بہتر جو شخص ہوگا وہ میں مرتبہ کے اعتبار سے سب سے بدتر جو شخص ہوگا وہ ظالم اور سختی کرنے والا حاکم ہے۔

3660Mishkaat-al-Masabih

کسی مسلمان کو محض ڈرانا دھمکانا بھی عذاب کا سزاوار کرتا ہے

وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من نظر إلى أخيه نظرة يخيفه أخافه الله يوم القيامة . روى الأحاديث الأربعة البيهقي في شعب الإيمان وقال في حديث يحيى هذا : منقطع وروايته ضعيف

اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے کسی بھائی کی طرف ڈراوے والی نظر سے دیکھے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو ڈرائے گا۔ مذکورہ چاروں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے اور نقل کیا ہے اور یحییٰ ابن ہاشم کی روایت کے بارے میں کہا ہے کہ یہ منقطع ہے اور یحییٰ کی روایت ضعیف (سمجھی جاتی) ہے۔ تشریح اس حدیث کو اس باب میں نقل کرنے سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ جب کسی مسلمان کو محض ڈرانا دھمکانا قیامت کے دن عذاب کا سزاوار بنائے گا تو مسلمانوں پر ظلم وستم کرنے والے کا کیا حشر ہوگا؟

3661Mishkaat-al-Masabih

حکمران کے ظلم پر اس کو برا بھلا کہنے کی بجائے اپنے اعمال درست کرو

وعن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى يقول : أنا الله لا إله إلا أنا مالك الملوك وملك الملوك قلوب الملوك في يدي وإن العباد إذا أطاعوني حولت قلوب ملوكهم عليهم بالرحمة والرأفة وإن العباد إذا عصوني حولت قلوبهم بالسخطة والنقمة فساموهم سوء العذاب فلا تشغلوا أنفسكم بالدعاء على الملوك ولكن اشغلوا أنفسكم بالذكر والتضرع كي أكفيكم ملوككم . رواه أبو نعيم في الحلية

اور حضرت ابودرداء کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ (حدیث قدسی) میں ارشاد فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہ ہوں، بادشاہوں کے دل میرے ہاتھ (یعنی میرے قبضہ قدرت) میں ہیں لہٰذا جب میرے (اکثر) بندے میری اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں تو میں ان کے حق میں (ظالم) بادشاہوں کے دلوں کو رحمت و شفقت کی طرف پھیر دیتا ہوں اور جب میرے بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے حق (عادل ونرم خو) بادشاہوں کے دلوں کو غضبناکی اور سخت گیری کی طرف پھیر دیتا ہوں جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ (بادشاہ) ان کو سخت عقوبتوں میں مبتلا کرتے ہیں، اس لئے (ایسی صورت میں) تم اپنے آپ کو ان بادشاہوں کے لئے بدعا کرنے میں مشغول نہ کرو بلکہ (میری بارگاہ میں تضرع وزاری کر کے اپنے آپ کو (میرے) ذکر میں مشغول کرو تاکہ میں تمہارے ان بادشاہوں کے شر سے تمہیں بچاؤں۔ اس روایت کو ابونعیم نے اپنی کتاب حلیۃ الاولیاء میں نقل کیا ہے۔ تشریح اس حدیث میں اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ رعایا کے تئیں حکمرانوں کے رویہ کا تعلق باطنی طور پر لوگوں کے اعمال و کردار سے ہوتا ہے کہ اگر رعایا کے لوگ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں اور ان کے اعمال و معاملات بالعموم راست بازی ونیک کرداری کے پابند ہوتے ہیں تو ان کا ظالم حکمران بھی ان کے حق میں عادل نرم خو اور شفیق و کرم گستر بن جاتا ہے اور اگر رعایا کے لوگ اللہ کی سرکشی و طغیانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ان کے اعمال و معاملات عام طور پر بد کر داری کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں تو پھر ان کا عادل ونرم خو حکمران بھی ان کے حق میں غضبناک اور سخت گیر ہوجاتا ہے لہٰذا حکمران کے ظلم کے ظلم وستم اور اس کی سخت گیری وانصافی پر اس کو برا بھلا کہنے اور اس کے لئے بدعا کرنے کی بجائے یہ راہ اختیار کرنی چاہئے کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، اپنی بداعمالیوں پر ندامت کے ساتھ توبہ استغفار کیا جائے، اللہ تعالیٰ کے دربار میں عاجزی وزاری کے ساتھ التجاء فریاد کی جائے اور اپنے اعمال و اپنے معاملات کو مکمل طور پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع کردیا جائے تاکہ رحمت الٰہی متوجہ ہو اور ظالم حکمران کے دل کو عدل و انصاف اور نرمی و شفقت کی طرف پھیر دے۔