امارت وقضا کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 118 · 51 hadiths · Page 1 of 3

3611Mishkaat-al-Masabih

امارت وقضاء کا بیان

امارت سے مراد سرداری وحکمرانی ہے اور قضاء سے مراد شرعی عدالت ہے اسلامی نظام حکومت کی عمارت کے یہ دو بنیادی ستون ہیں! امیر و امام (یعنی سربراہ مملکت) اسلام کے قانون اساسی کا محافظ، نظم حکومت اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا ذمہ دار حفاظت مذہب اور امت اسلامیہ کی طاقت و قوت کا امین اور امور عامہ کا نگہبان ہوتا ہے اسلامی معاشرہ کے افراد کا تعلق جن امور سے ہے ان سب پر امیر و امام ہی کا اختیار کار فرما ہوتا ہے۔ قاضی، اسلامی عدالت کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے شہریوں کے حقوق (امن، آزادی، مساوات) کا محافظ ہوتا ہے اور وہ معاملات کا فیصلہ کرنے میں شریعت کی طرف سے حکم کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے نزاعی مقدمات کا شریعت کے مطابق فیصلہ کرے اور اس کا اس سے بڑا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ عدل و انصاف، دیانت داری اور ایمانداری کے تقاضوں کو ہر حالت میں مدنظر رکھے۔ اسلام اور حکومت اسلام، دنیا کا یگانہ مذہب بھی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی اسلام جس طرح انسانیت عامہ کی دینی، مذہبی اور اخلاقی، اخروی فلاح کا سب سے آخری اور مکمل قانون ہدایت ہے اس طرح وہ ایک ایسی لافانی سیاسی طاقت بھی ہے جو انسانوں کے عام فائدے، عام بہتری اور عام تنظیم کے لئے حکومت وسیاست سے اپنے تعلق کو برملا اظہار کرتی ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اسلام صرف ایک مذہب ہی نہیں بلکہ مذہب کی حیثیت سے کچھ اور بھی ہے اس کو حکومت حاکمیت، سیاست اور سلطنت سے وہی تعلق ہے جو اس کائنات کی کسی بھی بڑی حقیقت سے ہوسکتا ہے اس کو محض ایک ایسا نظام نہیں کہا جاسکتا ہے جو صرف باطن کی اصلاح کا فرض انجام دیتا ہے بلکہ اس کو ایسا دینی نظام بھی سمجھنا چاہئے جو اللہ ترس و خدا شناس روح کی قوت سے دنیا کے مادی نظام پر عالمگیر غلبہ کا دعوی رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم جو اسلامی تصورات ونظریات کا سر چشمہ ہے اور احادیث نبوی ﷺ جو ہدایات کی شارح و ترجمان ہیں، ان کا ایک بہت بڑا حصہ اسلام اور حکومت وسیاست کے تعلق کو ثابت کرتا ہے کہیں تاریخی انداز میں، کہیں تعلیمات کے پیرایہ میں اور کہیں نعمت الہٰی کو ظاہری کرتے ہوئے ہم پر یہ واضح کیا جاتا ہے کہ اسلام اور حکومت اللہ کا حق ہے اس لئے اسلام کا ایک بنیادی مقصد یہ بھی ہے کہ اس زمین پر اللہ کی حکومت قائم کی جائے اور اس کا اتارا ہوا قانون نافذ کیا جائے۔ ہم میں سے جو کج فکر لوگ مذہب اور سیاست کے درمیان تفریق کی دیوار حائل کر کے اسلام کو سیاست و حکومت سے بالکل بےتعلق وبے واسطہ رکھنا چاہتے ہیں وہ دراصل مسلم مخالف عناصر کے اس شاطر دماغ کی سازش کا شکار ہیں جو خود تو حقیقی معنے میں آج تک حکومت کو مذہب سے آزاد نہ کرسکا لیکن مسلمانوں کی سیاسی پرواز اور ہمہ گیر پیش قدمی کو مضمحل کرنے کے لئے مذہب اور سیاست و حکومت کی مستقل بحثیں پیدا کر کے مسلمانوں کے چشمہ فکر وعمل میں دین اور دنیا کی پلیدگی کا زہر گھول رہا ہے۔ کتاب الامارۃ والقضاء سے اس کتاب جو حصہ شروع ہو رہا ہے اور اس میں جو احادیث نقل ہوں گی وہ اس دعوی کی واضح دلیل ہیں کہ اسلام اور حکومت و سیاست دو متضاد چیزیں نہیں ہیں ان احادیث میں امیر و خلیفہ قاضی و منصف، عوام اور رعایا، ملک و فوج اور نظم مملکت کے دیگر گوشوں سے متعلق جو ہدایات و احکام بیان کئے جائیں گے ان سے واضح ہوگا کہ حکومت وسیاست بھی اسلام کا ایک موضوع ہے۔

3612Mishkaat-al-Masabih

امیر کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أطاعني فقد أطاع الله ومن عصاني فقد عصى الله ومن يطع الأمير فقد أطاعني ومن يعص الأمير فقد عصاني وإنما الإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به فإن أمر بتقوى الله وعدل فإن له بذلك أجرا وإن قال بغيره فإن عليه منه

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص میری فرمانبرداری کرتا ہے اس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جس شخص نے میری نافرمانی کی اس شخص نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس شخص نے اپنے امیر (سردار) کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس شخص نے اپنے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی! اور یاد رکھو، امام یعنی سربراہ مملکت (مسلمانوں کے لئے) ڈھال کی مانند ہے جس کے پیچھے سے (یعنی اس کی طاقت کے بل بوتہ پر) جنگ کی جاتی ہے اور جس کے ذریعہ (دشمنوں کی آفات و بلیات سے) حفاظت حاصل کی جاتی ہے! پس (اگر وہ (امام) اللہ سے ڈر کر (اس کے قانون کے مطابق) فیصلہ کرے اور عدل و انصاف سے کام لے تو اس کی وجہ سے وہ امام بڑے اجر وثواب کا مستحق ہوگا اور اگر وہ ایسا نہ کرے۔ (یعنی اس کے احکام و فیصلے، اللہ کے خوف، قانون الہٰی کی روح اور عدل و انصاف سے خالی ہوں) تو اس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہوگا۔ (بخاری ومسلم)۔ تشریح امام (سربراہ مملکت) کو ڈھال کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ سے یہ ہے کہ جس طرح ڈھال جنگ میں (دشمن کے تیر و تلوار سے بچاتی ہے اسی طرح امام کا وجود، مسلمانوں کو دشمنان دین کے حملوں اور ان کی آفات و بلاؤں سے بچانے کا باعث ہے۔

3613Mishkaat-al-Masabih

اگر کسی کمتر شخص کو امیر بنایا جائے تو اس کی اطاعت بھی ضروری ہے

وعن أم الحصين قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أمر عليكم عبد مجدع يقودكم بكتاب الله فاسمعوا له وأطيعوا . رواه مسلم (2/334) 3663 - [ 3 ] ( صحيح ) وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أسمعوا وأطيعوا وإن استعمل عليكم عبد حبشي كأن رأسه زبيبة . رواه البخاري

اور حضرت ام حصین کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی نکٹے اور کن کٹے غلام کو بھی تمہارا حاکم بنایا جائے اور وہ اللہ کے قانون کے مطابق تم پر حکمرانی کرے تو تم اس کا حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ (مسلم) تشریح اس ارشاد گرامی کا مقصد اولو الامر کی اطاعت و فرمانبرداری کی اہمیت کو واضح کرنا ہے اور اس اہمیت کو زیادہ سے زیادہ واضح کرنے کے لئے غلام کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص مسجد بنائے اگرچہ وہ چڑیا کے گھونسلے کی مانند ہو الخ سے ظاہر ہے کہ مسجد چڑیا کے گھونسلے کی مانند کبھی نہیں ہوسکتی بلکہ اس ارشاد کا مقصد مسجد بنانے کی اہمیت اور اس کی فضیلت کو زیادہ سے زیادہ بیان کرنا ہے اسی طرح یہاں بھی غلام کے ذکر سے مبالغہ مقصود ہے یا پھر یہ مراد ہے کہ وہ غلام جو بادشاہ یا خلیفہ اعظم (سربراہ مملکت) کا نائب ہو یا اسے کسی خاص علاقہ کا حاکم بنایا گیا ہو۔ اس ساری تاویل کی بنیاد یہ ہے کہ غلام کو امیر و امام (سربراہ مملکت) بنانا جائز نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ان تمام احادیث میں بھی یہی تاویل کی جائے گی جن میں غلام کی امارت وسرداری کا ذکر ہے۔ نکٹا اور کن کٹا کے الفاظ بھی مقصد کو مؤ کد کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں اور ان سے مراد حقیر و کمتر غلام ہے حاصل یہ کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے امیر و امام کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور اس کے منصب امارت و امت کی پوری عزت و توقیر کریں خواہ وہ امیر اپنی ذاتی حیثیت میں کتنا ہی کمتر کیوں نہ ہوں۔ اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (اپنے امیر و حاکم کا فرمان سنو ) اور (اس کے اوامرو نواہی کی) اطاعت کرو۔ تاوقتیکہ اس کا کوئی حکم و فرمان اللہ کے اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو) اگرچہ تم پر کسی ایسے غلام ہی کو حکمران کیوں نہ بنایا گیا ہو جس کا سر (چھوٹے پن اور سیاہی میں ) انگور (کی مانند) ہو۔ (بخاری )

3614Mishkaat-al-Masabih

غیر شرعی حکم کی اطاعت واجب نہیں

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وأكره ما لم يؤمر بمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة (2/334) 3665 - [ 5 ] ( متفق عليه ) وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا طاعة في معصية إنما الطاعة في المعروف

اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے امیر و حاکم کی بات کو سننا اور (اس کے احکام کی) فرمانبرداری کرنا ہر حالت میں مرد مسلم پر واجب ہے خواہ (اس کا کوئی حکم اس کو پسند ہونا پسند ہو۔ تاوقتیکہ کسی گناہ کی بات کا حکم نہ کیا جائے۔ لہٰذا جب حاکم کوئی ایسا حکم دے جس (پر عمل کرنے میں گناہ ہو تو اس کی اطاعت کرنا واجب نہیں۔ (بخاری ومسلم ) تشریح امیر و حاکم کی بات کو سننا اور اس کے احکام و فرامین کی اطاعت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ اس کا حکم و فرمان طبیعت و پسند کے موافق ہو یا غیر موافق ہو لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا کوئی حکم شریعت کی حدود سے متجاوز نہ ہو لہٰذا اگر امیر و حاکم کوئی ایسا حکم و فرمان جاری کرے جس پر عمل کرنے سے گناہ لازم آتا ہو، اس کی اطاعت و فرمانبرداری واجب نہیں ہوگی لیکن اس صورت میں بھی امیر و حاکم کے خلاف بغاوت کرنا یا اس سے جنگ وجدال کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اور حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی بھی ایسے حکم کی اطاعت و فرمانبرداری جائز نہیں ہے جس کا تعلق گناہ سے ہو (خواہ وہ حکم امیر و حاکم کی طرف سے ہو یا ماں باپ اور استاد پیر وغیرہ کی جانب سے ہو) اطاعت و فرمانبرداری تو صرف اچھے حکم میں واجب ہے۔ (بخاری ومسلم)

3615Mishkaat-al-Masabih

اطاعت و فرمانبرداری کا عہد

وعن عبادة بن الصامت قال : بايعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على السمع والطاعة في العسر واليسر والمنشط والمكره وعلى أثرة علينا وعلى أن لا ننازع الأمر أهله وعلى أن نقول بالحق أينما كنا لا نخاف في الله لومة لائم . وفي رواية : وعلى أن لا ننازع الأمر أهله إلا أن تروا كفرا بواحا عندكم من الله فيه برهان (2/335) 3667 - [ 7 ] ( متفق عليه ) وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : كنا إذا بايعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على السمع والطاعة يقول لنا : فيما استطعتم

اور حضرت عبادہ ابن صامت کہتے ہیں کہ ہم نے رسول ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی یعنی آپ کے روبرو ان امور کا عہد کیا کہ ہم (آپ کی ہدایات کو توجہ سے) سنیں گے (اور ہر قسم کے حالات میں آپ ﷺ کے احکام کی) اطاعت کریں گے تنگی اور سخت حالات میں بھی اور آسان و خوش آئند زمانہ میں بھی، خوشی کے موقع پر بھی اور ناخوشی کی حالت میں ہم پر ترجیح دی جائے گی (تو ہم صبر کریں گے۔ ہم امر کو اس کی جگہ سے نہیں نکالیں گے ہم (جب زبان سے کوئی بات کہیں کے تو) حق کہیں گے خواہ ہم کسی جگہ ہوں (اور کسی حال میں ہوں) اور ہم اللہ کے معاملے میں (یعنی دین پہنچانے اور حق بات کہنے میں) کسی ملامت کرنے والے شخص کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ (ہم نے اس بات کا عہد کیا کہ ہم امر کو جگہ سے نہیں نکالیں گے۔ (چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ امر کو اس کی جگہ سے نہ نکالو) ہاں اگر تم صریح کفر دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے (یعنی قرآن کی کسی آیت یا کسی حدیث کی صورت میں دلیل ہو (اور اس میں کسی تاویل کی گنجائش نہ ہو تو اس صورت میں امر کو اس کی جگہ سے نکالنے کی اجازت ہے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح ہم پر ترجیح دی جائے گی کا مطلب یہ ہے کہ ہم انصارنے یہ بھی عہد کیا کہ اگر ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے گی ہم صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں گے۔ ایک روایت میں منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے انصار سے فرمایا تھا کہ (میرے بعد تم لوگوں سے ترجیحی سلوک ہوگا یعنی بخشش و انعام اور اعزاز مناصب کی تقسیم کے وقت تم پر دوسرے لوگوں کو ترجیح و تفصیل دی جائے گی ایسے موقع پر تم لوگ صبر کرنا چناچہ آپ کی یہ پیش گوئی ثابت ہوئی کہ خلفاء راشدین کے زمانے کے بعد جب امراء کا عہد حکومت شروع ہوا تو انصار کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا گیا اور انصار نے بھی آپ کے ارشاد کی تعمیل میں اور اپنا عہد نباہتے ہوئے اس ترجیحی سلوک کے خلاف شکوہ شکایت کرنے کی بجائے صبر و تحمل کی راہ کو اختیار کیا۔ ہم امر کو اس کی جگہ سے نہیں نکالیں گے کا مطلب یہ ہے کہ ہم امارت و حکومت کی طلب و خواہش نہیں کریں گے ہم پر جس شخص کو امیر وحاکم بنادیا جائے گا ہم اس کو معزول نہیں کریں گے اور اپنے امیر وحاکم کے خلاف ہنگامہ آرائی کر کے کوئی شورش پیدا نہیں کریں گے۔ روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر امیر وحاکم کے قول وفعل میں صریح کفر دیکھو تو اس کو معزول کردینے کی اجازت ہے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا واجب ہوگا۔

3616Mishkaat-al-Masabih

فسق وفجور، عزل منصب کی بنیاد بن سکتا ہے یا نہیں ؟

اس ارشاد گرامی سے یہ واضح ہوا کہ امام یعنی سربراہ مملکت کو معزول کرنے کی اسی صورت میں اجازت ہے جب کہ وہ صریح طور پر کفر کا مرتکب ہو اور اس کا کفر قرآن و حدیث کی روشنی میں اتنے واضح طور پر ثابت ہو کہ اس امام کے لئے کفر کی کوئی بھی تاویل کرنا ممکن نہ ہو۔ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ اگر امام فسق فجور میں مبتلا ہوجائے تو اس کو معزول کیا جاسکتا ہے یہی مسئلہ ہر قاضی و امیر کا ہے۔ واضح رہے کہ اس مسئلہ میں ان ائمہ کے اختلافی اقوال کی بنیاد یہ ہے کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک توفاسق شخص اس بات کا اہل نہیں ہوگا کہ اس کو ولایت (کسی کا ولی ہونے) کی ذمہ داری سونپی جائے جب کہ امام اعظم ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ فاسق، ولایت کا اہل ہوسکتا ہے چناچہ ان کے نزدیک فاسق باپ کے لئے اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح کردینا جائز ہے۔ فرمانبرداری بقدر طاقت اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ جب ہم رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرتے (یعنی اس بات کا عہد کرتے) کہ ہم (آپ کی ہدایات کو توجہ سے سنیں گے اور (آپ کے احکام کی) اطاعت کریں گے تو آپ ﷺ ہم سے فرماتے کہ ان امور میں جن کو تم طاقت رکھتے ہو۔ ( بخاری ومسلم) تشریح آنحضرت ﷺ نے یا تو اپنے ارشاد کے ذریعہ صحابہ کو یہ رخصت (یعنی آسانی و سہولت) عطا فرمائی کہ تم سے جس قدر فرمانبرداری ہوسکے اس قدر کرو۔ یا یہ ارشاد اسی بات کی تاکید و تشدید کے لئے تھا کہ تم جتنی فرمانبرداری کرسکو اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی یا قصور واقع نہ ہونا چاہئے۔

3617Mishkaat-al-Masabih

ملت کی اجتماعیت میں رخنہ ڈالنے والے کے بارے میں وعید

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من رأى أميره يكرهه فليصبر فإنه ليس أحد يفارق الجماعة شبرا فيموت إلا مات ميتة جاهلية

اور حضرت ابن عباس راوی ہیں کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص اپنے امیر و سردار کی طرف سے کوئی ایسی بات دیکھے جو اس کو (شرعًا یا طبعًا) پسند نہ ہو تو اس کو اس پر صبر کرنا چاہئے اور اس کی وجہ سے امام کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند نہ کرنا چاہئے کیونکہ جو شخص جماعت سے بالشت بھر (بھی) جدا ہوا اور (توبہ کئے بغیر اسی حالت میں) مرگیا تو اس کی موت اہل جاہلیت کی موت کی مانند ہوگی۔ ( بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے امام و امیر کی اطاعت و فرمانبرداری سے اپنے کو آزاد کرلیا اور مسلمانوں کی جماعت (تنظیم) سے علیحدگی اختیار کرلی اور تمام مسلمانوں کے اجتماع و اتحاد کی مخالفت پر کمر بستہ رہا اور پھر اسی حالت میں وہ مرگیا تو گویا زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی موت مرا اور اس مشابہت کی بنیاد ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ چونکہ دین سے بےبہرہ تھے اس لئے وہ اپنے امیر و سردار کی اطاعت کرتے تھے نہ اپنے امام (رہنما) کی ہدایت کو مانتے تھے بلکہ ان سے وہ علی الاعلان بیزاری کا اظہار کرتے تھے اسی طرح چونکہ ان کے یہاں ملی شیرازہ بندی اور اجتماعی تنظیم کا کوئی اہتمام نہیں تھا اس لئے وہ نہ کسی چیز پر اجتماع و اتحاد کا مظاہرہ کرتے تھے اور نہ کسی رائے پر متفق ہوتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام میں ملت کی شیرازہ بندی، مسلمانوں کی مضبوط اجتماعی تنظیم، لیڈر شب پر مکمل اعتماد اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اور ملی امور میں آپس میں اتفاق و اتحاد کی بڑی اہمیت ہے بلکہ یہ چیزیں دین کا مطلوب ہیں اور دین کی سربلندی کا بنیادی عنصر ہیں۔

3618Mishkaat-al-Masabih

تعصب کے خلاف تنبیہ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من خرج من الطاعة وفارق الجماعة فمات مات ميتة جاهلية ومن قاتل تحت راية عمية يغضب لعصبية أو يدعو لعصبية أو ينصر عصبية فقتل فقتلة جاهلية ومن خرج على أمتي بسيفه يضرب برها و فاجرها ولا يتحاشى من مؤمنها ولا يفي لذي عهد عهده فليس مني ولست منه . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص امام (سربراہ مملکت) کی اطاعت و فرمانبرداری سے نکل جائے اور اسلام کی جماعت (ملت کی اجتماعی ہیت) سے علیحدگی اختیار کرے اور پھر اس حالت میں مرجائے تو اس کا مرنا جاہلیت پر مرنے کے مرادف ہوگا، جو شخص کسی ایسے جھنڈے کے نیچے یعنی ایسے مقصد کے لئے) لڑا جس کا حق و باطل ہونا ظاہر نہ ہو درآنحالیکہ وہ تعصب سے غضبناک ہوا اور متعصب ہوا اور تعصب کی وجہ سے لوگوں کو اپنی طرف بلایا یا تعصب کی وجہ سے کسی کی مدد کی (یعنی اس کا لڑنا غضبناک ہونا لوگوں کو اپنی مدد کے لئے بلانا یا کسی کی مدد کرنا اعلاء کلمۃ الحق اور دین سے اظہار کے لئے نہیں تھا بلکہ محض تعصب یعنی اپنی قوم کے ظلم کی حمایت اور اس کی ناروا جانب داری کی بنیاد پر تھا) اور اسی حالت میں) وہ مارا گیا تو اس کا مرنا جاہلیت پر مرنے کے مترادف ہوگا اور جس شخص نے میری امت کے خلاف تلوار اٹھائی اور اس کے ذریعہ میری امت کے اچھے اور برے آدمیوں کو مارا اور میری امت کے مسلمان کی پرواہ نہیں کی (یعنی اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ ایک مسلمان کو مارنا کتنا بڑا جرم ہے اور اس کا وبال و عذاب کتنا سخت ہے) اور نہ اس نے عہد والے کے عہد کو پورا کیا تو نہ وہ میری امت میں سے ہے (یعنی میرے راستے پر چلنے والوں میں سے نہیں ہے اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ (مسلم )

3619Mishkaat-al-Masabih

بہترین اور بدترین حاکم

وعن عوف بن مالك الأشجعي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : خيار أئمتكم الذين يحبونهم ويحبونكم وتصلون عليهم ويصلون عليكم وشرار أئمتكم الذي تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنوهم ويلعنوكم قال : قلنا : يا رسول الله أفلا ننابذهم عند ذلك ؟ قال : لا ما أقاموا فيكم الصلاة لا ما أقاموا فيكم الصلاة ألا من ولي عليه وال فرآه يأتي شيئا من معصية الله فليكره ما يأتي من معصية الله ولا ينزعن يدا من طاعة . رواه مسلم

اور حضرت عوف ابن مالک اشجعی رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے تمہارے حاکموں میں سے بہترین حاکم وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں اور تم ان کے لئے اور وہ تمہارے لئے دعا کریں اور اس کی وجہ سے آپس میں ربط وتعلق اور محبت پیدا ہو) اور تمہارے حاکموں میں سے بدترین حاکم وہ ہیں جن سے تم بغض و عداوت رکھو اور وہ تم سے بغض و عداوت رکھیں اور تم ان پر اور وہ تم پر لعنت بھیجیں۔ حضرت عوف کہتے ہیں کہ ہم (صحابہ) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اس صورت میں ہم ان سے کئے ہوئے عہد وفاداری توڑ نہ ڈالیں (یعنی کیا ان بدترین حاکموں کو معزول نہ کریں اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کردیں؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا نہیں! جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کریں! خبردار! جس شخص کو تم پر حاکم مقرر کیا جائے اور تم اس کا کوئی ایسا فعل دیکھو۔ جو اللہ کی نافرمانی (گنا ہ) پر مبنی ہو تو اس کے اس گناہ کے فعل کو برا سمجھنا چاہئے۔ لیکن اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے دست بردار نہ ہونا چاہئے۔ (مسلم) تشریح جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کریں اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اسلامی مملکت کے سربراہ کا نماز کو ترک کردینا مسلمانوں کے کئے ہوئے عہد وفاداری کو توڑ ڈالنے کا موجب اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے دست بردار ہوجانے کا سبب ہے کہ جس طرح اگر سربراہ مملکت صریح کفر کا مرتکب ہوجائے تو مسلمان اپنا عہد وفاداری توڑ کر اس کو معزول کرسکتے ہیں اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے دستبردار ہوسکتے ہیں، اسی طرح اگر وہ نماز چھوڑ دیں تو مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے تئیں اپنا عہد وفاداری توڑ دیں اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے انکار کردیں! کیونکہ نماز دین کا ستون ہے اور کفر و ایمان کے درمیان فرق و امتیاز کرنے والی ہے۔ اس کے برخلاف دوسرے گناہ چونکہ ترک نماز کی طرح نہیں ہیں اس لئے ان کا ارتکاب عہدوفاداری کو توڑنے اور اطاعت و فرمانبرداری سے دست بردار ہونے کا موجب نہیں ہوسکتا۔ اس ارشاد گرامی میں ترک نماز پر سخت ترین زجر و تنبیہ اور عظیم تہدید ہے۔

3620Mishkaat-al-Masabih

حاکم کی بے راہ روی پر اس کو ٹوکنا ہر مسلمان کی ایک ذمہ داری ہے۔

وعن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يكون عليكم أمراء تعرفون وتنكرون فمن أنكر فقد برئ ومن كره فقد سلم ولكن من رضي وتابع قالوا : أفلا نقاتلهم ؟ قال : لا ما صلوا لا ما صلوا أي : من كره بقلبه وأنكر بقلبه . رواه مسلم

اور حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایسے لوگ بھی تم پر حاکم مقرر کئے جائیں گے جو اچھے برے دونوں قسم کے کام کریں گے لہٰذا جس شخص نے انکار کیا (یعنی جو شخص اپنے حاکم کے سامنے زبان سے یہ کہنے پر قادر ہو کہ تمہارا یہ فعل برا ہے اور اس نے اس طرح کہہ بھی دیا) تو وہ نفاق اور مداہنت سے پاک اور (اپنی ذمہ داری سے) بری ہوگیا اور جس شخص نے مکروہ جانا (یعنی جو شخص حاکم کے منہ پر اس کے برے فعل کو بیان کردینے پر قادر نہ ہو لیکن اپنے دل سے اس کے اس فعل کو برا سمجھے) تو وہ سالم رہا) یعنی اس فعل کی برائی و گناہ اور اس کے وبال میں شریک ہونے سے محفوظ رہا) لیکن جو شخص (حاکم کے برے افعال پر دل سے) خوش ہوا اور (خود بھی برے افعال میں مبتلا ہو کر گویا حاکم کی اتباع کی (تو وہ گناہ اور اس کے وبال میں شریک ہوا صحابہ نے عرض کیا کہ (ایسی صورت میں جب کہ حکام برائیوں میں مبتلا ہوجائیں اور ان کی بےراہ روی کا اثر عوام پر بھی پر نے لگے تو) کیا ہم ان کے خلاف جنگ نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز پڑھیں، نہیں! جب تک وہ نماز پڑھیں۔ یعنی جس شخص نے اپنے دل سے برا سمجھا اور اپنے دل سے انکار کیا۔ (مسلم) تشریح روایت کے آخری الفاظ یعنی جس شخص نے اپنا دل سے برا سمجھا اور اپنے دل سے انکار کیا کے بارے میں حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے تو یہ لکھا ہے کہ راوی کی عبارت ہے جس کے ذریعہ انہوں نے حدیث کے الفاظ ومن کرہ فقد سلم کی توضیح کی ہے، جب کہ ملا علی قاری نے یہ لکھا ہے کہ راوی نے اس عبارت کے ذریعہ حدیث کے ان دونوں جملوں (فمن انکر) اور (ومن کرہ) الخ کی توضیح کی ہے۔

3621Mishkaat-al-Masabih

اگر حاکم کی طرف سے کسی کی حق تلفی ہوتب بھی اس کی فرمانبرداری کی جائے۔

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنكم سترون بعدي أثرة وأمورا تنكرونها قالوا : فما تأمرنا يا رسول الله ؟ قال : أدوا إليهم حقهم وسلوا الله حقكم (2/336) 3673 - [ 13 ] ( صحيح ) وعن وائل بن حجر قال : سأل سلمة بن يزيد الجعفي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا نبي الله أرأيت إن قامت علينا أمراء يسألونا حقهم ويمنعونا حقنا فما تأمرنا ؟ قال : اسمعوا وأطيعوا فإنما عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم . رواه مسلم

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ تم میرے بعد اپنے ساتھ ترجیحی سلوک اور بہت سی ایسی چیزوں کو دیکھو گے جس کو تم برا سمجھو گے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر آپ ﷺ ہمیں کیا ہدایت دیتے ہیں (ہمیں کیا ہدایت دیتے ہیں (کہ اس وقت ہمارا رویہ کیا ہو؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا تم ان (حاکموں) کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے حاکم تمہارے ساتھ ترجیحی سلوک کریں بایں طور کہ تمہاری حق تلفی کریں تو ایسی صورت میں بھی ان کے تئیں تمہارا رویہ یہی ہونا چاہئے کہ تم ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو یعنی ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرو اور ان کے مددگار ومعین بنے رہو اور وہ تمہارے حق کی ادائیگی میں جو کوتاہی کریں ان پر صبر کرو اور بارگاہ کبریائی میں التجاء کرو کہ وہ تمہیں تمہارے حق کا نعم البدل عطا کرے۔ اور حضرت وائل بن حجر کہتے ہیں کہ حضرت سلمہ ابن یزید جعفی نے رسول کریم ﷺ سے سوال کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! اس بارے میں ہمارے لئے آپ ﷺ کی کیا ہدایت ہے کہ اگر ہم پر ایسے حاکم مقرر ہوں جو ہم سے تو اپنے حق (یعنی اطاعت و فرمانبرداری کا مطالبہ کریں لیکن ہمیں ہمارا حق ( یعنی عدل و انصاف اور مال غنیمت کا حصہ نہ دیں؟ آپ نے فرمایا تم ظاہر میں ان کی بات سنو اور باطن میں) ان کی فرمانبرداری کرو (یعنی ان کی بات اور ان کے احکام کو سننا ظاہری اطاعت ہے) اور ان کے احکام پر عمل کرنا باطنی فرمانبرداری ہے) یاد رکھو! ان پر وہ چیز فرض ہے جو ان کے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے (یعنی رعایا کو عدل و انصاف دینا اور ان کے حقوق ادا کرنا اور تم پر وہ چیز فرض ہے جو تمہارے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے (یعنی اپنے حاکم و سردار کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا اور اگر ان حاکموں کی طرف سے تمہاری حق تلفی ہو یا اور کوئی مصیبت پیش آئے تو اس پر صبر کرنا۔ (مسلم) تشریح حدیث کا حاصل و رعایا میں سے ہر ایک کے سپرد ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا کرنا ہر ایک پر واجب ہے جس طرح حاکم کے کاندھوں پر عوام کے حقوق کا تحفظ اور ان کو عدل و انصاف دینے کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنا اس پر واجب ہے، اسی طرح رعایا کے کاندھوں پر اپنے حاکم کی مدد واعانت اور اس اطاعت کی فرنبرداری ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنا رعایا واجب ہے لہٰذا دونوں ہی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز نہ کریں۔

3622Mishkaat-al-Masabih

امام کی اطاعت سے دست بردار ہونے والے کے بارے میں وعید

وعن عبد الله بن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من خلع يدا من طاعة لقي الله يوم القيامة ولا حجة له . ومن مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية . رواه مسلم

اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص امام یعنی اسلامی مملکت کے سربراہ کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لے وہ قیامت کے دن بارگاہ رب العزت میں اس طرح حاضر ہوگا کہ اس کے پاس (ایمان کی) دلیل نہیں ہوگی اور جو شخص اس حال میں مرے کہ اس کی گردن امام کی بیعت (یعنی امام برحق کی اطاعت) سے آزاد ہو (یعنی وہ امام برحق کا باغی ہو کر مارا جائے) تو اس کی موت جاہلیت پر مرنے کے مترادف ہوگی۔ (مسلم )

3623Mishkaat-al-Masabih

خلیفہ وامیر کی موجودگی میں اگر کوئی شخص خلافت وامارت کا دعوی کرے تو اس کو تسلیم نہ کرو

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء كلما هلك نبي خلفه نبي وإنه لا نبي بعدي وسيكون حلفاء فيكثرون قالوا : فما تأمرنا ؟ قال : فوا بيعة الأول فالأول أعطوهم حقهم فإن الله سائلهم عما استرعاهم (2/337) 3676 - [ 16 ] ( صحيح ) وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا بويع لخليفتين فاقتلوا الآخر منهما . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کو انبیاء ادب وتہذیب سکھایا کرتے تھے چناچہ جب ایک نبی کی وفات ہوجاتی تو اس کا جانشین کوئی دوسرا نبی ہوجاتا (اس طرح یکے بعد دیگرے انبیاء اپنی قوم کی تربیت کیا کرتے تھے۔ ) لیکن میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے البتہ میرے بعد امراء وخلفاء ہونگے اور بہت ہوں گے (جن کے ذمے) امت کی راہنمائی ونگہبانی ہوگی صحابہ نے عرض کیا کہ جب بیک وقت متعدد امراء ملک وامت کی سیادت کے دعویدار ہوں گے اور آپس میں ایک دوسرے کی مخالفت کریں گے تو) اس وقت کے لئے آپ ہمیں کیا ہدایت فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا پہلے امیر کی بیعت پوری کرو (پھر دوسرے زمانہ میں) پہلے امیر کی (یعنی جب بھی بیک وقت مثلًا امیر اپنی سیادت کا دعویٰ کریں تو اس امیر کی بیعت وطاعت کرو جو پہلے مقرر ہوا ہو اور دوسرے کی مطلق پیروی نہ کرو) اور ان کے حقوق ادا کرو اور جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی مخلوق کی نگہداشت و حکومت کی ذمہ داری سونپی ہے اس کے بارے میں وہ خود ان سے پوچھ لے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح ( فوابیعۃ الا ول فالاول) کا مطلب یہ ہے کہ خلفیہ و امیر کی بیت پوری کرو جو پہلے مقرر ہوا پھر اس خلیفہ و امیر کی و اطاعت کرو جو اس کے بعد مقرر ہوا! اور اس دوسرے خلیفہ و امیر کو اول اس امیر و خلیفہ کی نسبت سے فرمایا گیا ہے جو اس کے بعد مقرر ہوگا۔ گویا حاصل یہ ہے کہ جس طرح علی الترتیب ایک کے بعد دوسرا خلیفہ مقرر ہو اس طرح تم بھی ترتیب کے ساتھ ایک کے بعد دوسرے خلیفہ کی بیعت و اطاعت کرنا ہے ہاں اگر ایک ہی وقت میں دو شخص امارت و خلافت کا دعوی کریں تو تم اس شخص کی بیعت وطاعت کرو جو پہلے مقرر ہوا ہے اور دوسرے کے بارے میں یہ سمجھو کہ یہ شخص حکومت و سیاست کے لالچ میں غلط دعوی کر رہا ہے لہٰذا اس کو اپنا خلیفہ و امیر ماننے سے انکار کردو چناچہ آگے جو حدیث آرہی ہے اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے۔ (اعطوہم حقہم) (ان کے حقوق ادا کرو) گویا پہلے جملہ (فوبیعۃ الاول) (پہلے امیر کی اطاعت پوری کرو) کا بدل ہے اور حدیث کے آخری الفاظ یعنی (فان اللہ سائلہم) الخ دراصل پہلے جملہ کی علت کو بیان کرتے ہیں جس میں خلیفہ و امیر کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، گویا اس جملہ میں اختصار کو اختیار کیا گیا ہے پورا مفہوم یہ ہے کہ تم ان کے حقوق ادا کرو اگرچہ وہ تمہارے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کریں۔ حدیث کے آخر میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ خلیفہ و امیر (سربراہ مملکت) کو رعایا کے حقوق کی حفاظت و ادائیگی کی جو (ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ اس کے لئے قیامت کے دن احکم الحاکمین کی بارگارہ میں جواب دہ ہوگا، اس نے دنیا میں جن لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہوگی اس سے ان لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کرائی جائے گی اور وہ اس پر قادر نہ ہو سکے تو سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ اور حضرت ابوسعید راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو ان میں سے جو بعد کا ہے اس کو قتل کر ڈالو۔ (مسلم) تشریح اگر ایسی صورت پیش آجائے کہ پہلے سے مقرر خلیفہ و امیر کی موجودگی میں کوئی دوسرا شخص اپنی خلافت وامارت کا اعلان کر دے اور لوگوں سے بیعت لینے لگے تو اس سے جنگ کی جائے یہاں تک کہ وہ راہ راست پر آجائے اور اللہ کے حکم کے مطابق پہلے سے مقرر خلیفہ و امیر کی اطاعت قبول کرلے یا اسی حالت میں مارا جائے کیونکہ وہ اللہ کے حکم اور اسلامی مملکت کا باغی ہے اور باغی کی یہی سزا ہے کہ اگر وہ اپنی بغاوت سے باز نہ آئے تو اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔ بعض حضرات نے اس کو قتل کر ڈالو کی مراد یہ بیان کی ہے کہ جن لوگوں نے اس کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کا عہد کرلیا ہے اور وہ اپنی بیعت اور اپنا عہد فسخ کردیں اور اس شخص کو اس طرح کمزور کردیں کہ وہ خلیفہ کے خلاف شورش نہ پھیلا سکے۔

3624Mishkaat-al-Masabih

جو شخص امت میں تفرقہ پیدا کرے اس کو موت کے گھاٹ اتار دو

وعن عرفجة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنه سيكون هنات وهنات فمن أراد أن يفرق أمر هذه الأمة وهي جميع فاضربوه بالسيف كائنا من كان . رواه مسلم (2/337) 3678 - [ 18 ] ( صحيح ) وعنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أتاكم وأمركم جميع على رجل واحد يريد أن يشق عصاكم أو يفرق جماعتكم فاقتلوه . رواه مسلم (2/337) 3679 - [ 19 ] ( صحيح ) وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من بايع إماما فأعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه إن استطاع فإن جاء آخر ينازعه فاضربوا عنق الآخر . رواه مسلم

اور حضرت عرفجہ کہتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب تخریب و فساد رونما ہوں گے لہٰذا جو شخص اس میں تفریق پیدا کرنا چاہے درا نحالی کہ امت آپس میں متحد ومتفق ہو تو اس شخص کو تلوار سے اڑا دو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ (مسلم) تشریح عنقریب تخریب و فساد رونما ہوں گے کا مطلب یہ ہے کہ جوں جوں زمانہ گذرتا جائے گا توں توں دین کے مخالف اور دشمن طاقتوں کی فتنہ پردازیاں بڑھتی جائیں گی، وہ مختلف طریقے سے امت میں انتشار پیدا کر کے تخریب و فساد کے شعلے بھڑکائیں گے وہ کوشش کریں گے کہ ملت اسلامیہ کے درمیان سے اتحاد و اتفاق کی رو کو نکال لیں اور چونکہ امارت وسیادت انسان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے اس لئے کچھ مسلمان اس انسانی کمزوری سے مجبور ہو کر ان کی سازشوں کا شکار ہوجائیں گے اور طلب امارت و حصول جاہ کے لئے مسلم مخالف طاقتوں کا آلہ کار بن کر طرح طرح کے فتنوں کو جگائیں گے۔ جس کا انجام یہ ہوگا کہ تمام بدامنی و انتشار کی فضا پیدا ہوجائے گی اور امت گروہ بندیوں اور تفرقوں کا شکار ہوجائے گی۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کو چاہئے کو جو شخص پہلے سے ان کی قیادت کے مرتبہ پر فائز ہے اور جس کو وہ شروع میں اپنا مرجع اطاعت بنا چکے ہیں اسی کے جھنڈے کے نیچے جمع رہیں اور پہلے سے ان کی قیادت میں ہر اس طبقہ اور فرد کے فتنوں کی سرکوبی کریں جو امت کے اتحاد و اتفاق میں رخنہ اندازی کر رہا ہو، کیونکہ (اصل میں امیر و خلیفہ وہی شخص ہے اور اسی کی قیادت قابل اطاعت ہے۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو کے ذریعے اس حقیقت کو طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ امت کا اتحاد، فرد کی حیثیت و شخصیت پر مقدم ہے اگر امت کے اتحاد اور ملت کی اجتماعی حیثیت کو بچانے کے لئے کسی بھی بڑے سے بڑے فرد کو راستہ سے ہٹانا پڑے تو اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرنی چاہئے خواہ وہ شخص کتنا ہی کوئی بڑا عالم کیوں نہ ہو۔ اور دیکھنے میں کتنا ہی بڑا شیخ طریقت اور کتنا ہی معزز و حیثیت دار کیوں نہ ہو بلکہ یہاں تک ملحوظ رہنا چاہئے کہ اگر کوئی شخص امارت وسیادت کا دعوی کرے جو حقیقت میں بھی اس منصب کا زیادہ سے زیادہ اہل ہے تو علماء لکھتے ہیں کہ اس کو قتل کردینا چاہئے کیونکہ فتنہ و فساد اور امت میں تفریق پیدا کرنے کا باعث ہونے کی وجہ سے وہ قتل ہی کا مستحق ہے بشرطیکہ جو شخص پہلے منصب امارت و امامت پر فائز ہے وہ اپنے منصب کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا اہل ہو اور اس کو معزول کرنے کی کوئی وجہ نہ ہو۔ اور حضرت عرفجہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص (امام وقت کے خلاف بغاوت کر کے اور اپنی خلافت وامارت کا اعلان کر کے) تمہارے پاس آئے در آنحالیکہ تم سب ( پہلے سے) ایک شخص پر متفق اور ایک خلیفہ پر متحد ہو اور وہ شخص تمہاری لاٹھی کو چیرے یا تمہاری اجتماعی تنظیم میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتا ہو تو تم اس کو قتل کردو۔ (مسلم ) تشریح لاٹھی چیرنے کو کنایۃ مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے، گویا مسلمانوں کے اتفاق واتحاق و اتحاد اور کسی ایک رائے پر مجتمع ہوجانے کو لاٹھی سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس، اتفاق و اتحاد اور اجتماعیت میں رخنہ اندازی کو چیرنے کا مفہوم دیا گیا ہے۔ (او یفرق جماعتکم) (یا تمہاری اجتماعی تنظیم میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتا ہو) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں راوی نے اپنے شک کو ظاہر کیا ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو پہلا جملہ (ان یشق عصاکم) ( ارشاد فرمایا تھا یا یہ جملہ ارشاد فرمایا تھا، لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں ہی جملے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمائے تھے، اس صورت میں پہلے جملہ کو دنیاوی امور یعنی مسلمانوں کی سیاسی طاقت میں انتشار پیدا کرنے پر محمول کیا جائے اور دوسرے جملہ کو دینی احکام یعنی مسلمانوں کی زندگی اور ان کے مذہبی معاملات میں فتنہ پردازی پر محمول کیا جائے اور حضرت عبداللہ ابن عمر راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے امام سے بیعت کی بایں طور کہ اس کو اپنا ہاتھ دے کر اطاعت و فرمانبرداری کرے اور پھر اگر کوئی دوسرا شخص اپنی امامت کا اعلان کر دے اور اپنے امام کے خلاف بغاوت کرے تو اس کی گردن اڑا دو۔ (مسلم )

3625Mishkaat-al-Masabih

حکومت وامارت کے طلب گار نہ بنو

وعن عبد الرحمن بن سمرة قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسأل الإمارة فإنك إن أعطيتها عن مسألة وكلت إليها وإن أعطيتها عن غير مسألة أعنت عليها (2/338) 3681 - [ 21 ] ( صحيح ) وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إنكم ستحرصون على الإمارة وستكون ندامة يوم القيامة فنعم المرضعة وبئست الفاطمة . رواه البخاري (2/338) 3682 - [ 22 ] ( صحيح ) وعن أبي ذر قال : قلت : يا رسول الله ألا تستعملني ؟ قال : فضرب بيده على منكبي ثم قال : يا أبا ذر إنك ضعيف وإنها أمانة وإنها يوم القيامة خزي وندامة إلا من أخذها بحقها وأدى الذي عليه فيها . وفي رواية : قال له : يا أبا ذر إني أراك ضعيفا وإني أحب لك ما أحب لنفسي لا تأمرن على اثنين ولا تولين مال يتيم . رواه مسلم

اور حضرت عبدالرحمن ابن سمرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تم حکومت و سیادت کو طلب نہ کرو کیونکہ اگر تمہاری خواہش اور طلب پر تم کو حکومت وسیادت دی گئی تو تمہیں اسی کے سپرد کردیا جائے گا (تا کہ تم اس منصب کی ذمہ داریوں کو انجام دو درآنحالیکہ منصب وامارت کی ذمہ داریاں اتنی دشوار اور مشقت طلب ہیں کہ بغیر مدد الہٰی کے کوئی شخص ان کو انجام نہیں دے سکتا اور اگر تمہاری خواہش وطلب کے بغیر تمہیں حکومت وسیادت ملے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری مدد کی جائے گی (یعنی حق تعالیٰ کی طرف سے تمہیں یہ توفیق بخشی جائے گی کہ تم عدل و انصاف اور نظم وضبط کے ساتھ اس کی ذمہ داریوں کو انجام دے سکو۔ (مسلم ) اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا (میں دیکھ رہا ہوں) تم آنے والے زمانے میں حکومت وسیادت کی حرص میں مبتلا ہو گے حالانکہ وہ حکومت وسیادت (جو حرص وطلب کے ساتھ ملے) قیامت کے دن پشیمانی کا موجب ہے (یاد رکھو) حکومت وسیادت دودھ چھڑانے والی عورت کی طرح بری لگتی ہے لہٰذا یہ بات مرد دانا کے لائق نہیں ہے کہ وہ ایسی لذت کے حصول کی خواہش و کوشش کرے جس کا انجام حسرت وغم ہے۔ اور حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ﷺ مجھے (کسی جگہ کا) عامل (حاکم) کیوں نہیں بنا دیتے؟ حضرت ابوذر کا بیان ہے (میری یہ بات سن کر) آنحضرت ﷺ نے (ازراہ لطف و شفقت) میرے مونڈھے پر اپنا ہاتھ مارا اور پھر فرمایا کہ ابوذر! تم نا تو اں ہو اور یہ سرداری (خدا کی طرف سے) ایک امانت ہے) جس کے ساتھ بندوں کے حقوق متعلق ہیں اور اس میں خیانت نہیں کرنی چاہئے) اور تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) سرداری قیامت کے دن رسوائی و پیشمانی کا باعث ہوگی الاّ یہ کہ جس شخص نے اس (سرداری کو حق کے ساتھ حاصل کیا اور اس حق کو ادا کیا جو اس سرداری کے تئیں اس پر ہے (یعنی جو شخص مستحق ہونے کی وجہ سے سردار بنایا گیا اور پھر اس نے اپنے زمانہ میں حکومت میں عدل و انصاف کا نام روشن کیا اور رعایا کے ساتھ احسان وخیر خواہی کا برتاؤ کیا تو وہ سرداری اس کے لئے رسوائی اور وبال کا باعث نہیں ہوگی) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ابوذر! میں تمہیں نا تو اں دیکھتا ہوں (کہ سرداری کا بار برداشت نہیں کرسکو گے) اور میں تمہارے لئے اس چیز کو پسند کرتا ہوں جو میں اپنے نفس کے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں کا بھی سردار وعامل نہ بننا اور کسی یتیم کے بھی مال کی کار پردازی و نگرانی نہ کرنا۔ (مسلم) تشریح جو میں اپنے نفس کے لئے پسند کرتا ہوں کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں تمہاری طرح ضعیف ونا تو اں ہوتا تو میں اس سرداری وحاکمیت کے بوجھ کو نہ اٹھاتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے قوت بھی دی ہے اور پھر تحمل بھی عطا کیا ہے، اگر حق تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو تحمل عطا نہ ہوتا تو میں ہرگز اس بار کو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ حکومت وسیادت سے پرہیز کرنے کے بارے میں یہ حدیث اصل میں عظیم اور سب سے بڑی رہنما ہے بطور خاص اس شخص کے لئے جو اس منصب کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی قوت نہ رکھتا ہو!۔

3626Mishkaat-al-Masabih

جو شخص خود کسی عہدہ ومنصب کا طلب گار ہو اس کو اس منصب کا طلب گار ہو اس کو منصب پر فائز نہ کرو :

وعن أبي موسى قال : دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم أنا ورجلان من بني عمي فقال أحدهما : يا رسول الله أمرنا على بعض ما ولاك الله وقال الآخر مثل ذلك فقال : إنا والله لا نولي على هذا العمل أحدا سأله ولا أحدا حرص عليه . وفي رواية قال : لا نستعمل على عملنا من أراده

اور حضرت ابوموسی کہتے ہیں کہ (ایک دن) میں اور میرے چچا کی اولاد میں سے دو شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان میں سے ایک نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو (تمام مسلمانوں اور روئے زمین کا) حاکم بنایا ہے، مجھ کو کسی جگہ یا کسی کام کا حاکم و والی فرمائی۔ دوسرے نے بھی اسی طرح کی خواہش کا اظہار کیا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم! ہم (دین و شریعت کے ) ان امور میں کسی بھی شخص کو والی اور ذمہ دار نہیں بناتے جو ہم سے ولایت وذمہ داری کا طلبگار ہو یا اس کی حرص رکھتا ہو۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہم اپنے کام پر اس شخص کو (عامل کار پرداز) مقرر نہیں کرتے جو اس کا ارادہ (یعنی عامل ہو نیکی خواہش رکھے۔ (مسلم) تشریح آنحضرت ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جو شخص کسی خدمت ذمہ داری کا طالب ہوتا اور آپ ﷺ سے اس کی درخواست کرتا تو آپ ﷺ اس کو کام پر مقرر نہ فرماتے کیونکہ کسی منصب کا طالب ہونا حب جاہ پر دلالت کرتا ہے جو آخرکار طالب کے حق میں خرابی کا باعث ہوتا ہے۔

3627Mishkaat-al-Masabih

حکومت وامارت سے انکار کرنے والا بہترین شخص ہے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تجدون من خير الناس أشدهم كراهية لهذا الأمر حتى يقع فيه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں میں بہتر تم اس شخص کو پاؤ گے جو اس چیز (یعنی حکومت وسیادت) کو ناپسند کرنے کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت ہو یہاں تک کہ وہ اس میں مبتلا ہوجائے۔ (بخاری ومسلم ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو شخص حکومت وسیادت کے منصب و اختیارات کو قبول کرنا سخت ناپسند کرے اس کو لوگوں میں بہترین شخص جانو یہاں تک کہ وہ اگر کسی وجہ سے اس منصب کو قبول کر بیٹھا تو اس کو بھی آخر کار وہی ندامت وپشیمانی ہوگی جو اس منصب کا آخری انجام ہے۔ طیبی نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ایسے شخص کو جو حکومت وسیادت سے سخت متنفر ہو) تو ایک بہترین شخص پاؤ گے یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اس نفرت پر قائم نہ رہ سکا اور حکومت وسیادت کی طلب میں مبتلا ہوگیا تو اس وقت وہ لوگوں میں کا بہترین بلکہ بدترین شخص ہوگا۔

3628Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن ہر شخص کو اپنی ذمہ داری کی جواب دہی کرنی ہوگی

وعن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا كلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته فالإمام الذي على الناس راع وهو مسؤول عن رعيته والرجل راع على أهل بيته وهو مسؤول عن رعيته والمرأة راعية على بيت زوجها وولده وهي مسؤولة عنهم وعبد الرجل راع على مال سيده وهو مسؤول عنه ألا فكلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته

اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خبردار تم میں سے ہر شخص اپنی رعیت کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) تم سے ہر شخص کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑے گا، لہٰذا امام یعنی سربراہ مملکت و حکومت جو لوگوں کا نگہبان ہے اس کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی، مرد جو اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اس کو اپنے گھر والوں کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی عورت جو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے، اس کو ان کے حقوق کے بارے میں جواب دہی کرنی ہوگی اور غلام مرد جو اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اس کو اس کے مال کے بارے میں جواب داہی کرنا ہوگی لہٰذا آگاہ رہو! تم میں سے ہر ایک تم میں سے ہر ایک شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک شخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہوگا۔ (بخاری ومسلم) تشریح رعیت اس چیز کو کہتے ہیں جو نگہبان کی حفاظت و نگرانی میں ہو چناچہ کسی ملک کے باشندوں کو اس ملک کے حکمران کی رعیت اور رعایا اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سب حکمران کی حفاظت و نگرانی میں ہوتے ہیں اور اسی اعتبار سے حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اپنی اپنی جگہ پر ہر شخص نگہبان ہے کہ مرد کے لئے گھر والے اس کی رعیت ہیں، عورت کے لئے خاوند کا گھر بار اور اس کے بچے اس کی رعیت ہیں اور غلام کے مالک کا مال اس کی رعیت ہے۔ یہاں تک کہ علماء نے لکھا ہے کہ ہر شخص اپنے جسم کے اعضاء جو اس کا نگہبان ہے اور وہ اعضاء اس کی رعیت ہیں لہٰذا قیامت کے دن ہر شخص سے اس کے اعضاء حو اس کے بارے میں بھی جواب طلب کیا جائے گا کہ تم نے ان اعضاء کو کہاں کہاں اور کس کس طرح استعمال کیا؟ اور اس کو حدیث میں اس لئے نقل نہیں کیا گیا کہ یہ بالکل ظاہر بات ہے۔

3629Mishkaat-al-Masabih

خائن وظالم حاکم کے بارے میں وعید

وعن معقل بن يسار قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من وال بلي رعية من المسلمين فيموت وهو غاش لهم إلا حرم الله عليه الجنة

اور حضرت معقل ابن یسار کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو بھی شخص حکومت وسیادت حاصل کر کے اپنی رعیت پر حکمرانی کرے اور پھر اس حالت میں مرجائے کہ وہ اپنی رعیت پر ظلم اور ان کے حقوق میں خیانت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح جنت کے حرام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ ابتداء میں جنت میں داخل ہونے سے محروم کردیا جائے گا۔ یا یہ ارشاد گرامی مستحل یعنی اس حاکم پر محمول ہے جو خیانت اور ظلم کو حلال جان کر ظالم وخائن بنا ہو اور یا یہ کہ آپ نے زجر و تنبیہ اور سخت وعید کے طور پر یہ فرمایا ہو۔

3630Mishkaat-al-Masabih

رعایا کے حق میں بھلائی وخیر خواہی نہ کرنے والا حاکم جنت کی بو سے محروم رکھا جائے گا

وعنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من عبد يسترعيه الله رعية فلم يحطها بنصيحة إلا لم يجد رائحة الجنة (2/339) 3688 - [ 28 ] ( صحيح ) وعن عائذ بن عمرو قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن شر الرعاء الحطمة . رواه مسلم (2/339) 3689 - [ 29 ] ( صحيح ) وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم من ولي من أمر أمتي شيئا فشق عليهم فاشقق عليه ومن ولي من أمر أمتي شيئا فرفق بهم فارفق به . رواه مسلم

اور حضرت معقل ابن یسار کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص سے رعیت کی نگہبانی کرائے یعنی جس کو رعیت کا حاکم ونگہبان بنائے) اور وہ بھلائی وخیر خواہی کے ساتھ نگہبانی نہ کرے تو وہ بہشت کی بو نہ پائے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح تو وہ جنت کی بو نہ پائے گا۔ کا مطلب یا یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن بہشت کی بو پانے والوں کے ساتھ بو نہ پائے گا حالانکہ بہشت کی بو پانچ سو برس کی مسافت کے فاصلے سے بھی آئے گی یا یہ مطلب ہے کہ وہ نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ بہشت کی بو نہیں پائے گا اور یا یہ کہ اگر وہ کفر پر مرے گا یا رعایا پر ظلم کرنے کو حلال جانے اور اسی عقیدے پر مرجائے تو اس کو مطلق بہشت کی بو میسر نہیں ہوگی۔ بدترین حاکم وہ ہے جو اپنی رعایا پر ظلم کرے اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (بارگاہ قاضی الحاجات میں یہ عرض کی) اے میرے پروردگار جس شخص کو میری امت کے (دینی و دنیاوی) امور میں سے کسی کا ولی و متصرف بنایا گیا اور پھر اس نے (اپنے اختیارولایت اور تصرف کے ذریعہ) میری امت کے لوگوں پر مشقت اور سختی مسلط کردی تو اس شخص پر تو بھی مشقت و سختی مسلط کر دے اور جس شخص کو میری امت کے امور میں کسی چیز کا والیو متصرف بنایا گیا اور اس نے میری امت کے لوگوں کے ساتھ نرمی و بھلائی کا برتاؤ کیا تو اس شخص کے ساتھ تو بھی نرمی و عنایت کا معاملہ فرما۔ (مسلم)