نبی کریم ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 195 · 55 hadiths · Page 2 of 3

6127Mishkaat-al-Masabih

اسامہ بن زید اور امام حسن کے حق میں دعا

وعن أسامة بن زيد عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يأخذه والحسن فيقول : اللهم أحبهما فإني أحبهما وفي رواية : قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأخذني فيقعدني على فخذه ويقعد الحسن بن علي على فخذه الأخرى ثم يضمهما ثم يقول : اللهم ارحمهما فإني أرحمهما . رواه البخاري

اسامہ بن زید سے منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ اسامہ کو اور امام حسن ؓ کو پکڑ کر فرماتے اے اللہ ان دونوں سے محبت فرما کہ میں بھی ان دونوں سے محبت کرتا ہوں اور ایک روایت میں ہے کہ اسامہ ؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ مجھے پکڑ کر اپنی ران مبارک پر بٹھاتے اور حضرت حسن بن علی ؓ کو دوسری ران مبارک پر بٹھا کر ان دونوں کو ملا کر فرمایا کرتے تھے اے اللہ ان دونوں پر رحم فرما کہ میں بھی ان پر مہربان ہوں۔ (بخاری) تشریح حضرت اسامہ ؓ کے والد ماجد حضرت زید بن حارثہ ؓ آنحضرت ﷺ کے آزاد کردہ غلام اور آپ ﷺ کے متبنی (منہ بولے بیٹے) تھے آپ ﷺ نے ان کا عقد اپنی خادمہ خاص (بر کہ) ام ایمن ؓ سے کردیا تھا یہ خاتون آپ کے والد عبداللہ بن عبد المطلب کی آزاد کردہ تھیں ان کے بطن سے حضرت زید بن حارثہ ؓ کے بیٹے اسامہ ؓ تھے آپ ﷺ کو زید اور اس کے بیٹے اسامہ سے بےحد محبت تھی۔ حضرت اسامہ ؓ کو جن کے والدین پر غلامی کا دور گزر چکا تھا انہیں اپنے نواسے کے ساتھ اپنی ران مبارک پر بیٹھا کر دعائیں دینا جہاں آپ کی شان رحیمی کو واضح کرتا ہے وہاں ان دو حضرات کی رفعت جلالت شان اور عظمت کی آپ کے اس طرز عمل سے نشان دہی ہوتی ہے بیت زانکہ ترابر من مسکیں نظر ست آثارم از آفتاب مشہور ترست آنحضرت ﷺ کے وصال اور دنیا سے رخصت ہونے کے وقت اسامہ ؓ کی عمر بیس برس کے قریب تھی وہ وادی القراء میں سکونت پذیر ہوگئے تھے اور وہاں ہی حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد انہوں نے وفات پائی ہے۔ بعض کا قول ہے کہ انہوں نے ٥٤ ھ میں وفات پائی ہے اور علامہ ابن عبد البر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔

6128Mishkaat-al-Masabih

اسامہ بن زید کو آپ ﷺ کا امیر لشکر بنانا

وعن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث بعثا وأمر عليهم أسامة بن زيد فطعن بعض الناس في إمارته فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن كنتم تطعنون في إمارته فقد كنتم تطعنون في إمارة أبيه من قبل وأيم الله إن كان لخليقا للإمارة وإن كان لمن أحب الناس إلي وإن هذا لمن أحب الناس إلي بعده متفق عليه وفي رواية لمسلم نحوه وفي آخره : أوصيكم به فإنه من صالحيكم

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک فوج روانہ کی اور اس پر اسامہ بن زید ؓ کو امیر بنا کر بھیجا تو کچھ لوگوں نے اس کی امارت پر طعنہ زنی کی پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم لوگ اس (اسامہ) کی امارت پر معترض ہوئے ہو تو اس سے پہلے تم اس کے باپ (زید) کی امارت پر بھی طعنہ زنی (اور اعتراض) کرچکے ہو اور اللہ کی قسم وہ (زید) امارت کے قابل بھی تھا اور تمام لوگوں سے مجھے محبوب و عزیز تر بھی تھا اور اس کے بعد یہ (اسامہ) بھی مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب و عزیز تر ہے بخاری ومسلم اور مسلم کی ایک روایت میں اسی طرح ہے اور اس کے آخر میں اتنا اضافہ بھی کہ لوگوں میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ یقینا یہ تمہارے نیک لوگوں میں سے ہے۔ تشریح طعنہ دینے اور اعتراض کرنے والے لوگ یا تو منافق تھے جن کا شیوہ ہی یہ تھا کہ وہ کوئی موقع ہاتھ آنے کی انتظار میں رہتے تھے اور جہاں انہیں کوئی موقع ملا زبان کو بےلگام کردیا اور یا پھر طعنہ دینے والے نو مسلم تھے جو زمانہ جاہلیت کے طور طریقوں کے عادی چلے آئے تھے اور ان کے نزدیک انسان کی قدر و قیمت صلاحیت و علمی و عملی قابلیت کی بجائے خاندانی وجاہت اور اہل و دولت کی بنیاد پر تسلیم کی جاتی تھی۔ اسامہ کے باپ حضرت زید بن حارثہ ؓ نہایت جلیل القدر صحابی اور سابق الایمان بزرگ تھے آنحضرت ﷺ کو ان سے بےحد محبت تھی اور ذاتی طور پر بھی وہ نہایت قابل شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی عسکری صلاحیت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ سے منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب بھی کوئی فوج روانہ کی جس میں زید بن حارثہ ؓ کو روانہ کیا تو آپ ﷺ نے انہیں امیر ہی بنا کر روانہ کیا۔ ٨ ھ میں شام کی سرحد پر رومی افواج جمع ہوچکی تھیں اس لئے آپ ﷺ نے ایک فوج اس طرف روانہ کی اور اس پر حضرت زید ؓ کو امیر بنا کر روانہ فرمایا۔ یہ شام گئے نصرانی کفار سے مقابلہ ہوا حضرت زید ؓ، حضرت جعفر طیار اور عبداللہ بن رواحہ شہید ہوئے اس جنگ کو جنگ موتہ کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر لوگوں نے حضرت زید ؓ کی امارت پر اعتراض کیا تھا اگلے سال آپ نے حضرت زید ؓ شہید کے صاحبزادے حضرت اسامہ ؓ کو امیر فوج بنا کر سرحد پر روانہ کیا تو کچھ لوگوں نے پھر اعتراض کیا اور اس بات کو اعتراض کی بنیاد بنایا کہ ایک تو کم سن ہیں اور دوسرا یہ کہ ان کے والدین پر غلامی کی حالت گزر چکی ہے بالخصوص جب منافقین نے یہ دیکھا کہ اسامہ ؓ کی ماتحتی میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابی موجود ہیں تو انہیں اور بھی اعتراض کا موقع ہاتھ آگیا۔ انہیں کیا معلوم کہ اسلام رنگ و نسل و مال و دولت کے تمام عارضی امتیازات کو مٹا کر شرافت و بزرگی کی بنیاد پر ذاتی قابلیت، علم و عمل اور تقوی و پرہیزگاری و اعلیٰ اخلاق کو قرار دیتا ہے اللہ کی قسم وہ امارت کے قابل تھے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیت تقویٰ و پرہیزگاری سبقت اسلام اور میری اطاعت و محبت کی بنیاد پر یقینا امارت کے اہل اور سیادت کے لائق تھے اور ان کے بعد اسامہ ؓ بھی اس قابل ہیں کہ انہیں ملکی مہمات اور اہم خدمات پر مامور کیا جائے کہ وہ بھی اپنے باپ کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز اور میرے نزدیک اس عہدہ کے قابل اور زیادہ قابل وثوق ہیں۔

6129Mishkaat-al-Masabih

زید بن محمد کہنے کی ممانعت

وعنه قال : إن زيد بن حارثة مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ما كنا ندعوه إلا زيد بن محمد حتى نزل القرآن [ ادعوهم لآبائهم ] متفق عليه وذكر حديث البراء قال لعلي : أنت مني في باب بلوغ الصغير وحضانته

اور یہ بھی عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا ہم لوگ اس (زید) کو صرف زید بن محمد ہی کہہ کر بلایا کرتے تھے یہاں تک کہ قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی تم ان کو ان کے باپوں کے ناموں سے پکارا اور بلایا کرو۔ (بخاری ومسلم) اور حضرت براء ؓ کی حدیث جس میں آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو فرمایا انت منی (تم مجھ سے ہو) بلوغ صغیر اور (اس کی حضانت کے باب میں گزر چکی ہے ) تشریح مکمل آیت اس طرح ہے (مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِيْ جَوْفِه وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ اڿ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَا ءَكُمْ اَبْنَا ءَكُمْ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ وَاللّٰهُ يَ قُوْلُ الْحَ قَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيْلَ۔ اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَا ى ِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْ ا اٰبَا ءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْ ) 33۔ الاحزاب 4)۔ اور اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے نہیں قرار دیا یہ تو تمہارے اپنے ہی منہ کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ درست بات کہتا ہے اور صحیح راہ دکھاتا ہے تم ان کو ان کے باپوں کے نام کی نسبت سے پکارا و بلایا کرو اس لئے کہ یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ عدل و انصاف کی مظہر ہے اور اگر ان کے باپ تمہیں معلوم نہ ہوں تو پھر وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔ اس آیت کے نزول کے بعد انہیں زید بن حارثہ ؓ کہنے لگے۔ اس روائیداد سے بھی بخوبی واضح ہوتا ہے کہ رحمت عالم ﷺ کے ساتھ زید بن حارثہ ؓ کو کسی قدر رتبہ محبت و قرب حاصل تھا۔

6130Mishkaat-al-Masabih

زید بن محمد کہنے کی ممانعت

عن جابر قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجته يوم عرفة وهو على ناقته القصواء يخطب فسمعته يقول : يا أيها الناس إني تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا : كتاب الله وعترتي أهل بيتي . رواه الترمذي

حضرت جابر ؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا میں رسول اللہ ﷺ کو آپ کے حج کے موقع پر عرفہ کے دن اپنی قصواء نامی اونٹنی پر خطبہ دیتے سنا کہ فرمایا لوگو! میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم نے اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو تم کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور میری اولاد، میرے اہل بیت۔ (ترمذی) تشریح قصواء اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جس کے کان کا کوئی کونہ کٹا ہوا ہو۔ آنحضرت ﷺ کی اونٹنی کا کان پیدائشی طور پر ایسا ہی تھا اور کٹا ہوا نہ تھا یہ وجہ تسمیہ بھی ہوسکتی ہے کہ قصواء بمعنی بعید ہو۔ چناچہ منقول ہے کہ آپ ﷺ کی یہ اونٹنی نہایت تیز رفتار تھی اور دور دور تک تیز رفتار سے چلتی جاتی تھی۔ اخذتم بہ تم مضبوطی سے پکڑے رہو۔ پکڑنے سے مراد اطاعت اور عمل و پیروی ہے ابن مالک نے کہا کہ کتاب کو پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر عمل کیا جائے اور عترت و اولاد کو پکڑنے کا مفہوم یہ ہے کہ ان سے محبت کی جائے ان کی سیرت اختیار کی جائے اور ان کو قولا فعلاً کسی طرح بھی ایذاء نہ دی جائے۔ عترت سے آپ کی اولاد مراد ہے اور اہل بیت سے مراد آپ کے قرابت دار اور جد قریب کی اولاد بھی ہے اور آپ کی ازواج مطہرات بھی رضو ان اللہ علیہم۔ آج عالم اسلام میں جس قدر پریشانیاں موجود ہیں ان کا واحد حل صرف اور صرف یہ ہے کہ اہل اسلام حضور اکرم ﷺ کے اس فرمان کو بالکل بھول چکے ہیں۔

6131Mishkaat-al-Masabih

حضور اکرم ﷺ کی وصیت

وعن زيد بن أرقم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني تارك فيكم ما إن تمسكتم به لن تضلوا بعدي أحدهما أعظم من الآخر : كتاب الله حبل ممدود من السماء إلى الأرض وعترتي أهل بيتي ولن يتفرقا حتى يردا علي الحوض فانظروا كيف تخلفوني فيهما . رواه الترمذي

حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں میرے بعد جب تک تم انہیں پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے ایک ان میں دوسری سے عظیم تر ہے۔ وہ ایک تو اللہ کی کتاب ہے اور اللہ تعالیٰ کی آسمان سے زمین کی طرف پھیلی ہوئی رسی ہے اور دوسری میری اولاد میرے گھر والے ہیں اور وہ الگ الگ نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وہ میرے پاس آپہنچیں گے پس تم لوگ سوچ لو کہ تم میرے بعد ان سے کیا معاملہ کرتے ہو اور کیسے پیش آتے ہو۔ (ترمذی) تشریح اس واقعہ کے بیان کرنے والے زید بن ارقم الانصاری الخزرجی مشہور صحابی ہیں غزوہ احد میں بوجہ کمسنی کے حضور ﷺ نے ان کو شریک نہیں فرمایا۔ غزوہ خندق اور اس کے بعد تمام غزوات میں شریک رہے انہوں نے عبداللہ بن ابی بن سلول کے منافقانہ اقوال (جن کا ذکر قرآن پاک میں آیۃ کریمہ (لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعز منہا الاذل میں ہے) کو حضرت سے نقل کیا تھا مگر عبداللہ انکار کر گیا اور زید کو صحابہ ؓ نے سچا نہ جانا اس کے بعد سورت منافقین نازل ہوئی جس میں زید کی تصدیق کی گئی تھی زید حضور انور ﷺ کے ساتھ سترہ غزوات میں شریک ہوئے ٢٢ ھ میں وفات پائی۔ تمام کتب صحاح میں آپ کی بکثرت احادیث مروی ہیں مختصر یہ کہ آپ ایک بہت بڑے پائے کے صحابی ہیں۔ اس حدیث میں بھی کتاب اللہ (قرآن مجید) کی طرف اپنی توجہ دلائی ہے اور اپنے اہل کے حقوق بھی یاد دلائے اور اہل بیت کی عظمت بیان فرما دی کہ تم لوگ میری نسبت کے خیال سے ان کے حقوق کی ادائیگی میں جتنے زیادہ سرگرم رہو گے او ان کی ہر طرح کی خبر گیری میں جنتا زیادہ حصہ لو گے اتنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور تمہیں دنیا و آخرت میں خیر و عافیت نصیب ہوگی آپ ﷺ کا یہ فرمانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص باپ دم رخصت اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ میں یہ اپنی اولاد چھوڑ کر جار ہا ہوں تم ان کی خوب دیکھ بھال کرنا اور ان کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا۔ اور یہ دونوں الگ الگ نہیں ہوں گی یعنی قیامت کے تمام مواقف و مراحل پر ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور عترت رسول کا ساتھ رہے گا، کہیں بھی یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی۔ یہاں تک کہ یہ دونوں مل کر حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گی اور دنیا میں جس جس نے ان دونوں کے حقوق اچھی طرح ادا کئے ہوں گے اس کا نام لے کر میرے سامنے شکریہ ادا کریں گی اور پھر میں بدلہ میں ان سب کے ساتھ نہایت اچھا سلوک اور احسان کروں گا اور اللہ تعالیٰ بھی ان سب کو کامل جزا اور انعام عطا فرمائیں گے اور ان لوگوں نے دنیا میں ان دونوں کی حق تلفی کی ہوگی اور دونوں کے ساتھ کفران نعمت کیا ہوگا ان کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہوگا۔ پس تم دیکھو کہ یعنی میں نے ان دونوں کو حیثیت و اہمیت تمہارے سامنے واضح کردی ہے۔ اب تمہیں خود اپنا احتساب کرنا ہے کہ ان دونوں یعنی کتاب اللہ اور میری عزت کے تئیں تم میرے خلف الصدق ثابت ہوتے ہو یا ناخلف۔ اگر تم نے میرے بعد دونوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھا اور ان کے ساتھ وابستگی رکھی جو ان کا حق تو میرے خلف الصدق قرار پاؤ گے اور اگر ان کے ساتھ اچھی وابستگی نہ رکھی اور ان کے تئیں اچھا رویہ اختیار نہ کیا تو ناخلف سمجھے جاؤ گے۔

6132Mishkaat-al-Masabih

چہار تن پاک کا دشمن گویا آنحضرت ﷺ کا دشمن

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لعلي وفاطمة والحسن والحسين : أنا حرب لمن حاربهم وسلم لمن سالمهم . رواه الترمذي

اور حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت علی، فاطمہ، حسن، حسین ؓ، کے حق میں فرمایا کہ جو کوئی ان سے لڑے میں اسے لڑونگا اور جو کوئی ان سے مصالحت رکھے میں اس سے مصالحت رکھوں گا۔ (ترمذی) تشریح اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ جس نے ان چہار تن پاک کو دوست اور محبوب رکھا، اس نے آنحضرت ﷺ کو دوست و محبوب رکھا۔ اور جس نے ان چاروں کو دشمن رکھا اس نے آنحضرت کو دشمن رکھا ایک روایت میں حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس نے مجھ کو دوست رکھا، ان دونوں یعنی حسن و حسین ؓ کو دوست رکھا اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں یعنی علی ؓ اور فاطمہ ؓ کو دوست رکھا تو وہ قیامت کے دن میرے درجہ میں میرے ساتھ ہوگا۔ احمد اور ترمذی نے بھی یہ روایت نقل کی ہے جس کے آخری الفاظ یوں ہیں۔ تو وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔

6133Mishkaat-al-Masabih

علی و فاطمہ (رض) کی فضیلت

وعن جميع بن عمير قال : دخلت مع عمتي على عائشة فسألت : أي الناس كان أحب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قالت : فاطمة . فقيل : من الرجال ؟ قالت : زوجها إن كان ما علمت صواما قواما . رواه الترمذي

اور حضرت جمیع بن عمیر (تابعی) کہتے ہیں کہ (ایک دن) میں اپنی پھوپی کے ساتھ ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے پوچھا، رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا فاطمہ ؓ سے میں نے جواب دیا فاطمہ ؓ سے پھر میں نے پوچھا اور مردوں میں سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا فاطمہ ؓ کے شوہر (علی المرتضیٰ ) سے۔ (ترمذی) تشریح یہاں حضرت عائشہ ؓ کی منصف مزاجی اور صدق گوئی نوٹ کرنے کے قابل ہے انہوں نے اخلاص کے ساتھ سچی بات بیان کردی۔ حالانکہ اگر وہ چاہتیں تو کہہ سکتی تھیں کہ آنحضرت ﷺ کو سب سے زیادہ محبت مجھ سے اور میرے باپ سے تھی۔ اور اس میں شک نہیں کہ اگر یہی سوال حضرت فاطمہ ؓ سے کیا جاتا تو ان کا جواب یہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کو سب سے زیادہ محبت عائشہ ؓ اور ان کے باپ سے تھی۔ اب اس حدیث کے آئینہ میں ذرا وہ متعصب اور کجرو اپنا چہرہ دیکھیں جو حضرت عائشہ ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کے درمیان اختلاف وعناد ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہرحال یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ سب سے زیادہ محبوب ہونے کا مطلب سب سے افضل ہونا ہرگز نہیں ہے اولاد اور نزدیگی اقا رب سے زیادہ محبت ہونا ایک طبعی چیز ہے ایک شخص یقینی طور پر جانتا ہے کہ غیر اولاد میں فلاں فلاں آدمی اس کی اولاد سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود اپنی ہی اولاد سے زیادہ محبت رکھتا ہے۔ ہاں اپنی اولاد کا غیر افضل ہونا اس بات کو لازم کرتا ہے کہ اس سے محبت بھی زیادہ ہو۔

6134Mishkaat-al-Masabih

جس نے میرے چچا کو ستا یا اس نے مجھ کو ستا یا

وعن عبد المطلب بن ربيعة أن العباس دخل على رسول الله صلى الله عليه و سلم مغضبا وأنا عنده فقال : ما أغضبك ؟ قال : يا رسول الله ما لنا ولقريش إذا تلاقوا بينهم تلاقوا بوجوه مبشرة وإذا لقونا لقونا بغير ذلك ؟ فغضب رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى احمر وجهه ثم قال : والذي نفسي بيده لا يدخل قلب رجل الإيمان حتى يحبكم لله ولرسوله ثم قال : يا أيها الناس من آذى عمي فقد آذاني فإنما عم الرجل صنو أبيه رواه الترمذي . وفي المصابيح عن المطلب

اور حضرت عبد المطلب بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت عباس ؓ غصہ میں بھرے ہوئے آئے (یعنی کسی نے کوئی ایسی حرکت کردی تھی یا کوئی اسی بات کہہ دی تھی جس سے حضرت عباس ؓ کو غصہ آ رہا ہے؟ حضرت عباس ؓ بولے اے اللہ کے رسول! ہمارے (یعنی بنی ہاشم) اور (باقی) قریش کے درمیان کیا (بیگانگی) ہے کہ جب وہ (قریش) آپس میں ملتے ہیں تو کشادہ روئی سے ملتے ہیں اور جب ہمارے ساتھ ملتے ہیں تو اس طرح نہیں ملتے رسول کریم ﷺ (نے حضرت عباس ؓ سے یہ بات سنی تو ان قریش کے اس برے رویہ پر) سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ غصہ کی شدت سے آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا پھر) حضرت عباس ؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوگا اگر وہ تم (اہل بیت) کو اللہ اور اللہ کے رسول کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دوست نہیں رکھے گا۔ اور پھر فرمایا لوگو! جان لو) جس شخص نے خصوصا) میرے چچا کو ستایا اس نے (گویا) مجھ کو ستایا، کیونکہ کسی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے (ترمذی) اور مصابیح میں عبد المطلب بن ربیعہ کی جگہ) مطلب بن ربیعہ ہے (جبکہ صحیح عبد المطلب بن ربیعہ ہی ہے جو ترمذی نے نقل کیا ہے۔ تشریح ایمان داخل نہیں ہوگا یا تو مطلق ایمان مراد ہے اس صورت میں ارشاد گرامی کو شدید ترین وعید پر محمول کیا جائے گا یا کامل ایمان مراد ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا مقصد سخت تاکید کے ساتھ اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ دل و دماغ کو اہل بیت کی محبت و عقیدت سے معمور کئے بغیر ایمان کامل کی دولت نصیب نہیں ہوسکتی۔ قریش کی جو متعدد شاخیں تھیں ان میں سے بنو ہاشم (آنحضرت ﷺ کا خاندان) سب سے باعزت شاخ تھی ایسے اکثر مناصب جو سماجی عزت وجاہت عطا کرتے تھے۔ اسی شاخ کے افراد کے سپرد تھے۔ پھر سب سے بڑا شرف یعنی نبوت و رسالت کا منصب عظمی بھی اسی شاخ کا نصیب بنا۔ ان وجوہ سے قریش کی دوسری شاخیں بنو ہاشم سے ایک پرخاش رکھتی تھیں اور ان کو اپنا حریف قرار دیتی تھیں۔ چناچہ ابوجہل آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے یہی کہا کرتا تھا کہ مکہ اور قریش کی سرداری بنو ہاشم نے لے رکھی ہے حاجیوں کو زمزم پلانے کے اعزاز پر بنو ہاشم نے قبضہ کر رکھا ہے اگر بنو ہاشم میں نبوت و رسالت بھی آجائے تو پھر باقی قریش کے پاس کیا رہ جائے گا۔

6135Mishkaat-al-Masabih

حضرت عباس کی فضیلت

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العباس مني وأنا منه رواه الترمذي

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عباس مجھ سے ہیں اور میں عباس سے ہوں۔ (ترمذی) تشریح عباس مجھ سے ہیں یعنی میرے خاص قرابتیوں میں سے ہیں یا یہ کہ میرے اہل بیت میں سے ہیں علماء لکھتے ہیں کہ فضل و شرف اور شرف اور نبوت کے اعتبار سے تو آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اصل ہے جب کہ نسب اور چچا ہونے کے اعتبار سے حضرت عباس ؓ اصل ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ مذکورہ ارشاد گرامی دراصل کمال محبت وتعلق، یک جہتی و یگانگت اور اخلاص و اختلاط سے کنایہ ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کے حق میں بھی فرمایا تھا کہ (اے علی) میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو۔ حضرت عباس بن عبد المطلب آنحضرت ﷺ کے چچا ہیں ان کی ولادت واقعہ فیل سے ایک سال قبل ہوئی ان کی والدہ قبیلہ نمر بن قاسط سے تعلق رکھتی تھیں اور وہ پہلی عرب خاتون ہیں جس نے کعبہ اقدس پر حریر و دیباج اور نوع بہ نوع قیمتی کپڑوں کا غلاف چڑھایا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عباس ؓ بچپن میں کہیں گم ہوگئے تھے اور تلاش بسیار کے بعد ہاتھ نہیں لگے تو ان کی والدہ نے منت مانی کہ اگر میرا بیٹا مل جائے گا تو میں بیت الحرام پر غلاف چڑھاؤں گی۔ چناچہ جب حضرت عباس ؓ کا سراغ لگ گیا اور وہ گھر آگئے تو ان کی والدہ نے بڑے اہتمام کے ساتھ منت پوری کی۔ حضرت عباس ؓ زمانہ جاہلیت میں بھی مکہ اور قریش میں زبردست اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ اور ایک بڑے سردار تسلیم کئے جاتے تھے۔ عمارۃ اور سقایۃ کے اہم مناصب ان کے سپرد تھے وہ آنحضرت ﷺ سے دو سال بڑے تھے اور چچا ہونے کے باوجود آنحضرت ﷺ کا غیر معمولی ادب احترام کرتے تھے منقول ہے کہ ایک دن کسی نے ان سے سوال کیا انت اکبر او النبی ﷺ (آپ بڑے ہیں یا آنحضرت ﷺ؟ تو انہوں نے جواب دیا ہو اکبر وانا اسن (بڑے تو آنحضرت ﷺ ہی ہیں ہاں عمر میری زیادہ ہے ) حضرت عباس ؓ نے اسلام تو بہت پہلے قبول کرلیا تھا لیکن بعض مصالح کے تحت اپنے اسلام کا اظہار نہیں کرتے تھے چناچہ جنگ بدر میں وہ بڑی کراہت کے ساتھ اور مجبوری کے تحت مشرکین مکہ کے ساتھ شریک تھے اور آنحضرت ﷺ نے مجاہدین اسلام سے فرما دیا تھا کہ جس شخص کا سامنا عباس ؓ سے ہوجائے وہ ان کو قتل نہ کرے کیونکہ وہ مجبوراً اس جنگ میں مشرکین مکہ کی طرف سے شریک ہیں جنگ کے خاتمہ پر حضرت عباس ؓ بھی قیدیوں میں شامل ہوئے اور ابوالیسیر بن کعب بن عمر نے ان کو قید کیا۔ پھر انہوں نے فدیہ (مالی معاوضہ) ادا کر کے رہائی حاصل کی اور مکہ واپس آگئے بعد میں وہاں سے باقاعدہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے ٣٦ ھ میں ١٢ رجب جمعہ کے دن ان کی وفات ہوئی اس وقت ان کی عمر ٨٨ سال کی تھی اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی وفات کے وقت کے ستر غلام آزاد کئے۔

6136Mishkaat-al-Masabih

عباس (رض) اور اولاد عباس (رض) کے لئے دعا

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم للعباس : إذا كان غداة الاثنين فأتني أنت وولدك حتى أدعو لهم بدعوة ينفعك الله بها وولدك فغدا وغدونا معه وألبسنا كساءه ثم قال : اللهم اغفر للعباس وولده مغفرة ظاهرة وباطنة لا تغادر ذنبا اللهم احفظه في ولده . رواه الترمذي وزاد رزين : واجعل الخلافة باقية في عقبه وقال الترمذي : هذا حديث غريب

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ نے (میرے والد) حضرت عباس ؓ سے فرمایا کہ پیر کے دن صبح کے وقت تم اپنی اولاد کو لے کر آنا تاکہ میں تمہارے لئے دعا کروں جس کے سبب اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو نفع پہنچائے چناچہ (جب پیر کا دن آیا تو) صبح کے وقت حضرت عباس ؓ اور ان کے ساتھ ہم سب (ان کی اولاد) آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آنحضرت ﷺ نے اپنی چادر مبارک ہم سب کو اڑھائی اور پھر یوں دعا فرمائی خداوندا! عباس ؓ کو ان کی اولاد کو بخش دے اور ظاہر و باطن کی ایسی بخشش عطا فرما جو کوئی گناہ باقی نہ چھوڑے۔ الہٰی! عباس ؓ کو ان کی اولاد میں قائم و محفوظ رکھو۔ ترمذی اور رزین نے اس دعاء کے آخر میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ امارت و بادشاہی کو ان کی اولاد میں باقی رکھ ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح اپنی چادر مبارک ہم سب کو اڑھائی یہ اس بات سے کنایہ تھا کہ جس طرح میں نے ان سب پر یہ چادر پھیلائی ہے اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا سایہ ان سب پر پھیلائے۔ عباس ؓ کو ان کی اولاد میں قائم و محفوظ رکھ یعنی اے اللہ! تو عباس ؓ کو عزت و شوکت عطا فرما اور ان کو تمام آفات و بلیات سے محفوظ رکھ تاکہ یہ اپنے اولاد کے حقوق و مفاد کا تحفظ کرسکیں۔ امارت و بادشاہی کو ان کی اولاد میں باقی رکھ یعنی طویل مدت تک اولاد عباس ؓ کو تخت حکمرانی اور سیادت و ثروت سے نوازے رکھ چناچہ یہ دعا مقبول ہوئی کہ وہ زمانہ آیا جب کئی صدیوں تک خلافت و حکمرانی کا اعزاز عباسیوں میں رہا یا یہ دعائیہ الفاظ دراصل امت کے لئے ایک ہدایت تھی کہ خلافت و امارت کا استحقاق اولاد عباس ؓ کو بھی حاصل ہے۔ خلیفہ و امیر منتخب کرتے وقت ان کے ترجیح استحقاق کو مد نظر رکھنا چاہئے۔

6137Mishkaat-al-Masabih

ابن عباس (رض) کی فضیلت

وعنہ أنه رأى جبريل مرتين ودعا له رسول الله صلى الله عليه وسلم مرتين . رواه الترمذي

اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں دو بار حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا اور رسول کریم ﷺ نے ان کے حق میں دو مرتبہ دعا فرمائی۔ (ترمذی ) تشریح دو بار حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا اس سلسلہ کی تفصیلی روایت سیوطی نے جمع الجوامع میں اس طرح نقل کی ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ایک دن میں بہت سفید کپڑے پہنے ہوئے آنحضرت ﷺ کے پاس سے گزرا تو دیکھا آپ ﷺ دحیہ کلبی سے سرگوشی کر رہے ہیں۔ جب کہ حقیقت میں وہ دحیہ کلبی نہیں تھے بلکہ ان کی صورت میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تھے، لیکن اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ جبرائیل ہیں میں وہاں سے گزرتا چلا گیا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ سے بولے کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ ابن عباس ؓ اگر ہمیں سلام کرتا تو میں اس کے سلام کا جواب دیتا۔ ابن عباس ؓ تو بہت سفید کپڑوں میں ہے مگر اس کے بعد اس کی اولاد سیاہ کپڑے پہننے پر مجبور ہوگی۔ جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آسمان پر چلے گئے تو آنحضرت ﷺ وہاں سے لوٹ کر آئے اور مجھ سے فرمایا ہمارے پاس سے گزرتے وقت تم نے ہمیں سلام کیوں نہیں کیا تھا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ اس وقت دحیہ کلبی سے بات چیت اور سرگوشی میں مصروف تھے میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ آپ میرے سلام کا جواب دیں اور اس طرح میں آپ کے سلسلہ گفتگو میں رکاوٹ بنوں تب آنحضرت ﷺ نے مجھے بتایا کہ وہ دحیہ کلبی نہیں تھے۔ ابن عباس نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ واقعہ دو مرتبہ پیش آیا۔ حضرت عبد الحق محدث دہلوی اس موقع پر لکھتے ہیں یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی آمد عام طور دحیہ کلبی کی شکل و صورت میں ہوتی تھی اور دوسرے صحابہ بھی ان کو دیکھا کرتے تھے۔ تو پھر خاص طور پر حضرت ابن عباس ؓ کے بارے میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ کس وجہ سے بیان کی گئی کہ انہوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دو بار دیکھا پھر اس کا جواب حضرت شیخ نے یہ لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے بھی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ان دونوں مرتبہ دحیہ کلبی ہی کی شکل میں دیکھا تھا لیکن ان کا دیکھنا عالم ملکوت میں تھا جبکہ ان کے علاوہ کسی صحابی نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) عالم ملکوت میں نہیں دیکھا۔ دوسرے صحابہ ان کو عالم تاسوت میں دیکھا کرتے تھے ایک روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابن عباس ؓ سے فرمایا تھا کہ نبی و رسول کے علاوہ جس انسان نے بھی جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا اس کی بینائی جاتی رہی، لہٰذا اے ابن عباس ؓ تمہارے بینائی بھی چلی جائے گی۔ لیکن موت کے دن تمہاری بینائی پھر تمہارے پاس آجائے گی۔ چناچہ یہ تو معلوم ہی ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نابینا ہوگئے تھے اور یہ منقول ہے کہ جب ان کی وفات ہوئی اور ان کا جسد خاکی کفن میں لپیٹ دیا گیا تو اچانک ایک سفید پرندہ نمودار ہوا اور ان کی میت کے پاس آ کر کفن کے اندر گھسا اور غائب ہوگیا۔ لوگوں نے ہرچند تلاش کیا اور ادھر ادھر دیکھا لیکن اس سفید پرندہ کا سراغ نہیں لگا۔ بالاخر حضرت ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت عکرمہ نے کہا کہ کیا تم لوگ احمق ہوگئے ہو) وہ واقعۃ ً پرندہ نہیں تھا بلکہ ان کی بینائی تھی جس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ موت کے دن ان کے پاس واپس آجائے گی روایت میں بھی آیا ہے کہ جب حضرت ابن عباس ؓ کو لحد میں رکھ دیا گیا تو غائب کی طرف سے ایک آواز آئی جس کو سب نے سنا آیت (یایتہا النفس المطمئنہ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ) (اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے ) اور ان کے حق میں دو مرتبہ دعا فرمائی ایک بار تو وہ دعا فرمائی جس کا ذکر پیچھے الفصل الاول کی ایک حدیث میں گزرا کہ آنحضرت ﷺ حضرت ابن عباس ؓ کو اپنے (صفحہ نمبر ٧٢٥۔۔۔۔۔۔۔۔ ) یہ دعا دی اللہم علمہ الحکمۃ (اے اللہ اس کو حکمت عطا فرما) یا یوں فرمایا تھا اللہم علمہ الکتاب (اے اللہ اس کو کتاب اللہ کا علم عطا فرما) دوسری مرتبہ کی دعا وہ ہے جس کے بارے میں بھی حضرت ابن عباس ؓ کی روایت پیچھے گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ استنجاء کے لئے تشریف لے گئے تو میں نے وضو کے لئے پانی بھر کر رکھ دیا جب آپ کو بتایا گیا کہ ابن عباس ؓ نے رکھا ہے تو اس وقت آپ ﷺ نے یہ دعا دی اللہم فقہ فی الدین (خداوندا! ابن عباس ؓ کو دین کا فقیہ بنا دے) تاہم یہ احتمال بھی ہے کہ ایک مرتبہ کی دعا توہ مراد ہو جو آپ ﷺ نے پانی رکھنے پر خوش ہو کردی تھی اور دوسری مرتبہ کی دعا سے وہ دعا مراد ہو جو آنحضرت ﷺ نے حضرت عباس ؓ اور ان کی اولاد کے حق میں فرمائی تھی۔

6138Mishkaat-al-Masabih

ابن عباس کو عطائے حکمت کی دعا

وعنه أنه قال : دعا لي رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يؤتيني الله الحكمة مرتين . رواه الترمذي

اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا رسول کریم ﷺ نے میرے لئے دو مرتبہ یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو حکمت عطاء فرمائے۔ (ترمذی) تشریح یعنی اس مفہوم کی دعا کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو دین و شریعت کا علم اصول و فروع عطا فرمائے، ایک مرتبہ تو لفظ حکمت کے ساتھ کی اور ایک مرتبہ لفظ فقہ کے ساتھ اور ظاہر یہ ہے کہ آپ ﷺ نے یہ دونوں دعائیں الگ الگ دو موقعوں پر کیں جیسا کہ پیچھے گزرا۔

6139Mishkaat-al-Masabih

حضرت جعفر کی کنیت

وعن أبي هريرة قال : كان جعفر يحب المساكين ويجلس إليهم ويحدثهم ويحدثونه وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يكنيه بأبي المساكين . رواه الترمذي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جعفر بن ابی طالب مساکین ؓ سے (بہت محبت رکھتے تھے، وہ ان کے پاس اٹھتے بیٹھتے اور ان سے (دلجوئی و غمخواری کی) باتیں کرتے اور مساکین ان سے (اپنے دکھ درد کی) باتیں کیا کرتے تھے۔ اور رسول کریم ﷺ نے (اسی بناء پر) ان کی کنیت ابوالمساکین رکھ چھوڑی تھی۔ (ترمذی) تشریح مطلب یہ کہ حضرت جعفر چونکہ بہت زیادہ مساکین نواز تھے اور ان کے ساتھ بہت زیادہ اٹھنا بیٹھنا رکھتے تھے اسی مناسبت سے آنحضرت ﷺ نے ان کی کنیت ابوالمساکین رکھ دی تھی جیسا کہ حضرت علی ؓ کی کنیت ابوتراب اس مناسبت سے رکھ دی تھی کہ وہ بیٹھنے اور لیٹنے کے لئے فرش خاک زیادہ پسند کرتے تھے اور مٹی پر بلاتکلف بیٹھ یا لیٹ جایا کرتے تھے یا جیسا کہ مسافر کو ابن السبیل اور صوفی کو ابوالوقت مخصوص معنوی مناسبت سے کہا جاتا ہے۔

6140Mishkaat-al-Masabih

حضرت جعفر کی فضیلت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأيت جعفرا يطير في الجنة مع الملائكة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے ہوئے دیکھا ہے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح حضرت جعفر جنگ موتہ میں اسلامی لشکر کے کماندار تھے اور اسلام کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا۔ اس جنگ میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ اصل میں تو اس جنگ کے اسلامی کماندار حضرت زید بن حارثہ ؓ تھے لیکن دوران جنگ ان کے شہید ہوجانے کے بعد اسلامی لشکر کی کمانداری اور اسلام کا جھنڈا حضرت جعفر کے ہاتھ میں آیا چناچہ حضرت جعفر کمال مردانگی کے ساتھ اللہ کی راہ میں لڑے پہلے ان کا ایک ہاتھ کام آیا، پھر دوسرا ہاتھ بھی کام آگیا اور پھر ٹانگیں بھی قربان ہوگئیں۔ یہاں تک کہ شہید ہوگئے ادھر تو میدان جنگ میں حضرت جعفر شہید ہوئے، ادھر مدینہ منورہ میں آنحضرت ﷺ کو حالت مکاشفہ میں یا خواب میں دکھایا گیا کہ جعفر کے دو پنکھ ہیں جو خون میں لتھڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے ان پنکھوں کے ذریعہ فرشتوں کے ساتھ جنت میں اڑے اڑے پھر رہے ہیں۔

6141Mishkaat-al-Masabih

بہشت کے جوانوں کے سردار

وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة . رواه الترمذي

اور حضرت سعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حسن اور حسین دونوں بہشت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ (ترمذی) تشریح طیبی کے مطابق الفاظ حدیث کی مراد یہ ہے کہ حسن اور حسین ان تمام اہل اسلام سے افضل ہیں جو اللہ کی راہ میں جوانی کی حالت میں مرے لیکن یہ بات محل کلام ہے کیونکہ ان دونوں کو صرف ان تمام اہل اسلام سے افضل قرار دینے کی وجہ تخصیص نہیں ہے جو جوان مرے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ حسن و حسین ان بہت سے اہل اسلام سے بھی افضل ہیں جو بڑی عمروں میں مرے پس بعض حضرات کا یہ قول زیادہ صحیح ہے کہ اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ حسن اور حسین تمام اہل جنت کے سردار ہیں کیونکہ تمام اہل جنت جوان ہوں گے۔ لیکن انبیاء اور خلفاء راشدین مستثنیٰ ہیں یعنی ان سے یہ دونوں افضل نہیں ہوں گے۔ بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ یہاں شباب یعنی جوان کا لفظ جوان العمر کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ فتوت یعنی جوانمرد سخی اور کریم کے معنی میں ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ یہ دونوں تمام جوان مردوں کے سردار ہیں علاوہ انبیاء اور خلفاء راشدین کے یا یہ کہ جنت کے جوانوں سے مراد تمام اہل جنت ہیں اور ان کو شباب کے لفظ سے تعبیر کرنا۔ اظہار محبت و شفقت کے تحت ہے جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ باپ جب اپنے بیٹے کا ذکر کرتا ہے تو اس کا لڑکا، بچہ، وغیرہ کے الفاظ ہی سے تعبیر کرتا ہے خواہ وہ کتنا ہی مسن اور عمر رسیدہ ہو۔

6142Mishkaat-al-Masabih

حسن وحسین میری دنیا کے دو پھول ہیں

وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الحسن والحسين هما ريحاني من الدنيا . رواه الترمذي وقد سبق في الفصل الأول

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ حسن و حسین میری دنیا کے دو پھول ہیں (ترمذی) یہ حدیث فصل اول میں گزر چکی ہے۔ تشریح سید جمال الدین نے یہ حدیث فصل اول میں گزر چکی ہے کے بارے میں لکھا ہے کہ صاحب مشکوٰ ۃ شریف کے ان الفاظ میں صاحب مصابیح پر اعتراضات کی طرف اشارہ ہے لیکن ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ اعتراض (کہ مصابیح نے ایک روایت کو مکرر نقل کردیا ہے) اس طرح کالعدم قرار پا جاتا ہے فصل اول کی روایت بخاری کی ہے جو اپنی جگہ پر نقل ہوئی ہے اور یہ روایت ترمذی کی ہے جس کو اس کی جگہ پر نقل کیا گیا ہے جب کہ ان دونوں روایتوں کے الفاظ میں فی الجملہ تغایر بھی ہے۔

6143Mishkaat-al-Masabih

حسین سے محبت وتعلق

وعن أسامة بن زيد قال : طرقت النبي صلى الله عليه و سلم ذات ليلة في بعض الحاجة فخرج النبي صلى الله عليه و سلم وهو مشتمل على شيء ولا أدري ما هو فلما فرغت من حاجتي قلت : ما هذا الذي أنت مشتمل عليه ؟ فكشفه فإذا الحسن والحسين على وركيه . فقال : هذان ابناي وابنا ابنتي اللهم إني أحبهما فأحبهما وأحب من يحبهما رواه الترمذي

حضرت اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں اپنی کسی ضرورت سے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ (اپنے گھر کے اندر سے) اس حال میں باہر تشریف لائے کہ کسی چیز کو اپنے ساتھ لپٹیے ہوئے تھے اور میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا چیز تھی پھر جب میں اپنی ضرورت کو عرض کرچکا تو پوچھا کہ یہ کیا چیز آپ ﷺ نے لپیٹ رکھی ہے آپ ﷺ نے اس چیز کو کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ حسن و حسین ہیں جو آپ ﷺ کی دونوں کو کھوں پر تھے (یعنی آپ ﷺ نے ان دونوں کی طرف گود میں لے کر چادر سے لپیٹ رکھا تھا) اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا دونوں (حکماً ) میرے بیٹے ہیں اور (حقیقۃً ) میری بیٹی کے بیٹے ہیں خداوندا! میں ان دونوں کو محبوب رکھتا ہوں، تو بھی ان کو محبوب رکھ اور ہر اس شخص کو محبوب رکھ جو ان دونوں کو محبوب رکھے۔ (ترمذی) تشریح یہ دونوں (حکماً ) میرے بیٹے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ بیٹی کا بیٹا اپنے ہی بیٹے کے حکم میں ہوتا ہے جیسا کہ بیٹے کا بیٹا یعنی پوتا اپنے بیٹے کے حکم میں ہوتا ہے۔ نیز اس حدیث کو اس بات کی بھی دلیل بنایا جاسکتا ہے کہ نسب کا شرف ماں کی طرف سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ حضرت اسامہ ؓ کے سامنے آنحضرت ﷺ کا مذکورہ دعا فرمانا شاید ان کو اور دوسروں کو بھی اس طرف متوجہ اور راغب کرنے کے لئے تھا کہ حسنین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ محبت اور قلبی تعلق رکھیں۔

6144Mishkaat-al-Masabih

شہادت حسین اور ام سلمہ کا خواب

وعن سلمى قالت : دخلت على أم سلمة وهي تبكي فقلت : ما بيكيك ؟ قالت : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم - تعني في المنام - وعلى رأسه ولحيته التراب فقلت : ما لك يا رسول الله ؟ قال : شهدت قتل الحسين آنفا رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت سلمی (جو حضرت ابورافع ؓ کی زوجہ ہیں) بیان کرتی ہیں کہ (ایک دن) میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی کیا دیکھتی ہوں کہ وہ رو رہی ہے میں نے پوچھا کیوں رو رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا! میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا یعنی خواب میں اس حالت میں دیکھا کہ آپ ﷺ کا سر اور داڑھی گرد آلود ہے پھر جب میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ، آپ ﷺ گرد آلود کیوں ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا میں ابھی حسین کے قتل گاہ میں موجود تھا اور وہاں دیکھ رہا تھا کہ میرے جگر کے ٹکڑے کو ظالموں نے کس بےدردی کے ساتھ شہید کیا) اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے تشریح ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ کی وفات ٥٩ ھ میں ہوئی اور بعض حضرات نے ان کا سن وفات ٦٣ ھ لکھا ہے لیکن زیادہ صحیح قول پہلا ہی ہے۔ ادھر حضرت امام حسین کی شہادت عظمی کا سانحہ ٦١ ھ میں پیش آیا ہے حضرت ام سلمہ ؓ کے سن وفات کے بارے میں اگر دوسرے قول کو صحیح مانا جائے تو اس حدیث کے تحت کوئی اشکال لازم نہیں آتا ہاں پہلے قول کو صحیح ماننے کی صورت میں تھوڑا اشکال لازم آتا ہے مگر اس تاویل سے یہ بھی رفع ہوجاتا ہے کہ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا سانحہ پیش آنے سے پہلے ہی حضرت ام سلمہ ؓ کے خواب میں اس کا وقوع دکھا دیا گیا تھا اس سورت میں لفظ انفاً (ابھی) کے استعمال کی توجیہ یہ کی جائے گی کہ اس لفظ کا استعمال اس صورت حال کی تحقیق کے اعتبار سے ہے جو بصورت شہادت حسین آنحضرت ﷺ کے خواب میں اس وقت دکھائی گئی تھی۔

6145Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کو اپنے اہل بیت میں سب سے زیادہ محبت حسن و حسین سے تھی

وعن أنس قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم : أي بيتك أحب إليك ؟ قال : الحسن والحسين وكان يقول لفاطمة : ادعي لي ابني فيشمهما ويضمهما إليه . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ ﷺ کے اہل بیت میں سے کون شخص آپ کو سب سے زیادہ عزیز و محبوب ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا حسن اور حسین اور (انس ؓ نے یہ بیان کیا کہ) آنحضرت ﷺ (کسی وقت حسن و حسین کو گھر میں نہ دیکھتے تو) حضرت فاطمہ ؓ سے فرماتے کہ میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ۔ پھر (جب حسن و حسین آجاتے تو) آپ ﷺ ان دونوں کے جسموں کو سونگھتے (کیونکہ وہ آپ ﷺ کے پھول تھے) اور ان کو اپنے گلے سے لگاتے ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

6146Mishkaat-al-Masabih

حسنین سے کمال محبت کا اظہار

وعن بريدة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطبنا إذ جاء الحسن والحسين عليهما قميصان أحمران يمشيان ويعثران فنزل رسول الله صلى الله عليه و سلم من المنبر فحملهما ووضعهما بين يديه ثم قال : صدق الله [ إنما أموالكم وأولادكم فتنة ] نظرت إلى هذين الصبيين يمشيان ويعثران فلم أصبر حتى قطعت حديثي ورفعتهما . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

اور حضرت بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین آگئے وہ دونوں سرخ کرتے پہنے ہوئے تھے اور (کم سنی ناطاقتی کے سبب) اس طرح چل کر آ رہے تھے کہ گر گرپڑتے تھے چناچہ رسول کریم ﷺ (ان کو دیکھ کر منبر سے اتر آئے اور ان دونوں کو اپنی گود میں اٹھا لیا اور پھر ان کو اپنے پاس بٹھا کر فرمایا اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے کہ آیت (انما اموالکم واولادکم فتنۃ) میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا (کہ ان سے چلا نہیں جا رہا ہے اور) گرتے پڑتے چلے آ رہے ہیں تو (ان کی محبت میں) مجھ کو صبر نہ ہوسکا اور میں نے اپنی بات دینی وعظ و نصیحت اور بیان احکام و مسائل کا سلسلہ منقطع کیا اور منبر سے اتر کر) ان کو گود میں اٹھا لیا۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی) تشریح آنحضرت ﷺ کا خطبہ کے درمیان منبر سے اتر کر حسنین کو اٹھانا دراصل ایک ایسا عمل تھا جس کا تحرک شفقت و ترحم اور رقت و محبت کا وہ جذبہ تھا جو ان شاہزادوں کو اس حال میں دیکھ کر قلب نبوت میں امنڈ آیا تھا چونکہ اولاد اور بچوں پر شفقت و مہربانی کرنا ایک مستحسن و مستحب اور پسندیدہ حق چیز ہے اور خطبہ کے دوران خطیب کا کچھ لمحات کے لئے کسی نیک عمل کی طرف متوجہ ہوجانا جائز ہے اس خطبہ کے دوران آنحضرت ﷺ کے اس عمل کو تداخل فی العبادات کی ایک قسم کہا جائے گا آپ ﷺ نے اپنے اس عمل کو جو عذر بیان فرمایا وہ ایک تو کسر نفسی کے تحت تھا۔ دوسرے سامعین و حاضرین کو متنبہ کرنا بھی مقصود تھا کہ میرے اس عمل کو مستقل میں دلیل بنا کر خود کو عادی نہ بنالیں اور یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ جب میں نے ایسا کیا ہے تو ہر شخص جب چاہے ایسا کرسکتا ہے۔