نبی کریم ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 195 · 55 hadiths · Page 1 of 3

6107Mishkaat-al-Masabih

نبی کریم ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان

اہل بیت رسول ﷺ کا اطلاق کن کن پر ہوتا ہم اہل بیت یعنی آنحضرت ﷺ کے گھر والوں سے کون کون لوگ مراد ہیں؟ اس بارے میں مختلف روایتیں ہیں۔ اہل بیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی آیا ہے جن کو زکوٰۃ کا مال لینا حرام ہے یعنی بنو ہاشم اور ان میں آل عباس، آل جعفر اور آل عقیل شامل ہیں۔ بعض روایتوں میں آنحضرت ﷺ کے اہل و عیال کو اہل بیت کہا گیا ہے جن میں ازواج مطہرات یقینی طور پر شامل ہیں، لہٰذا جو لوگ ازواج مطہرات کو اہل بیت سے خارج قرار دیتے ہیں وہ مکابرہ کا شکار ہیں اور قرآن کریم کی اس آیت (لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا) 33۔ الاحزاب 23)۔ سے اپنا اختلاف ظاہر کرتے ہیں کیونکہ جب اس سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ازواج مطہرات ہی کو مخاطب تو پھر ان کو (یعنی ازواج مطہرات کو) درمیان آیت کے مضمون (اہل البیت) اور اس کے مصداق میں شامل نہ کرنا آیت کو اس کے عبارتی تسلسل اور معنوی سیاق وسباق سے الگ کردینا ہے، چناچہ امام محمد فخرالدین رازی نے لکھا ہے کہ یہ آیت آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کو شامل ہے کیونکہ آیت کا سیاق وسباق پوری شدت سے اس کا مقاضی ہے پس ازواج مطہرات کو اہل بیت کے مصداق سے خارج کرنا اور ان کے علاوہ دوسروں کو اس مصداق کے ساتھ مختص کرنا صحیح نہیں ہوگا۔ امام رازی آگے لکھتے ہیں۔ یہ کہنا زیادہ بہتر اور اولی ہے کہ اہل بیت کا مصداق آنحضرت ﷺ کی اولاد اور ازواج مطہرات ہیں اور ان میں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین بھی شامل ہیں، نیز حضرت علی بھی آنحضرت ﷺ سے خصوصی نسبت وتعلق اور خانگی قرب رکھنے کے سبب اہل بیت میں سے ہیں، تاہم بعض مواقع پر اہل بیت کا اطلاق اس طرح بھی آیا ہے کہ جس سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اس کا مصداق صرف فاطمہ زہرا، علی مرتضی، حسن اور حسین ہیں جیسے حضرت انس کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ جب نماز فجر کے لئے مسجد میں آتے تو راستہ میں حضرت فاطمہ کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے یوں فرماتے الصلوۃ یا اہل البیت، انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہر کم تطہیرا۔ اس روایت، کو ترمذی نے نقل کیا ہے۔ اسی طرح ام المؤمنین حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ (ایک دن) میں آنحضرت ﷺ کے پاس (گھر میں) بیٹھی ہوئی تھی کہ خادم نے آکر بتایا کہ علی اور فاطمہ باہر کھڑے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) مجھ سے فرمایا کہ تم کنارے ہوجاؤ چناچہ میں گھر کے گوشہ میں چلی گئی۔ علی اور فاطمہ اندر آگئے اور ان کے ساتھ حسن و حسین بھی تھے جو اس وقت ننھے منے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے حسن اور حسین کو آغوش مبارک میں بٹھا لیا اور ایک ہاتھ سے علی کو اور دوسرے ہاتھ سے فاطمہ کو پکڑ کر اپنے بدن سے چمٹایا، پھر آپ ﷺ نے أپنی کالی کملی اس سب پر لپیٹی جو جو اس وقت جسم مبارک پر تھی اور فرمایا خداوندا! یہ میرے اہل بیت ہیں، مجھ کو اور میرے اہل بیت کو اپنی طرف بلانہ کہ آگ کی طرف اور حضرت ام سلمہ ہی سے یہ بھی منقول ہم کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا میری یہ مسجد ہر حائضہ عورت اور ہر جنبی مرد پر حرام ہے (جو عورت حیض کی حالت میں ہو یا جو مرد ناپاکی کی حالت میں ہو وہ میری مسجد میں ہرگز داخل نہ ہو) ہاں محمد اور محمد ﷺ کے اہل بیت پر کہ وہ علی، فاطمہ، حسن اور حسین ہیں، حرام نہیں ہے اس روایت کو بیہقی نم نقل کیا ہے اور اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ بہر حال ایک طرف تو وہ روایتیں ہیں جن سے بنو ہاشم اور آنحضرت ﷺ کے اہل و عیال پر اہل بیت کا اطلاق ثابت ہوتا ہے اور دوسری طرف یہ روایتیں ہیں جن سے اہل بیت کا مصداق صرف حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین معلوم ہوتے ہیں بلکہ ان ہی چہار تن پاک پر اہل بیت کا اطلاق شائع اور مشہور بھی ہے لہٰذا علماء نے ان تمام روایتوں میں تطبیق اور ان کے اطلاقات کی توجیہہ میں یہ کہا ہے کہ بیت کی تین نو عیتیں ہیں (١) بیت نسب (٢) بیت سکنی (٣) ولادت۔ پس بنوہاشم یعنی عبد المطلب کی او لاد کو تو نسب اور خاندان کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ کا اہل بیت (اہل خاندان) کہا جائے گا۔ دراصل عرب میں جد قریب کی اولاد کو بیت (یعنی خاندان یاگھرانہ) یا خاندان سے اس شخص کے باپ اور دادا کی اولاد مراد ہوتی ھم آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کو اہل بیت سکنی (اہل خانہ) کہا جائے گا چناچہ عرف عام میں کسی شخص کی بیویوں کو اس کے اہل بیت یا گھروالی سے تعبیر کیا جانا مشہور ہی ہے اور آنحضرت ﷺ کی اولاد (ماجد کو اہل بیت ولادت کہا جائے گا اور اگرچہ آپ ﷺ کی تمام ہی اولاد پر اہل بیت ولادت کا اطلاق کیا جانا چاہئے لیکن تمام اولاد میں حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسنین کو جو خاص فضل وشرف اور آنحضرت ﷺ سے کمال قرب وتعلق حاصل تھا اور یہ کہ ان کے فضائل ومناقب جس کثرت سے احادیث میں وارد ہیں اس کی بناء پر اہل بیت ولادت کا خصوصی و امتیازی مصداق صرف یہی چار تن مانے جائیں گے۔ واضح ہو کہ اس باب میں مولف مشکوٰۃ نے جو احادیث اور روایات نقل کی ہیں، اہل بیت کی نسبت سے ان کا تعلق بعض بنوہاشم سے بھی ہے اور علی وفاطمہ اور حسن و حسین سے بھی اور ابراہیم بن رسول اللہ ﷺ سے بھی ہے۔ علاوہ ازیں اس ضمن میں حضرت زید بن حارثہ اور ان کے بیٹے حضرت اسامہ کا ذکر بھی آیا ہے اور ان دونوں کا ذکر یا تو غالباً اس بناء پر ہے کہ ان دونوں پر آنحضرت ﷺ کی بےانتہا محبت و عنایت تھی یا اس سبب سے ہے کہ شاید ان دونوں کو بھی مؤلف مشکوٰۃ نے اہل بیت میں شمار کا ہے اسی طرح مولف مشکوٰۃ نے جو اس باب میں ازواج مطہرات کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ان کے لئے علیحدہ سے باب قائم کیا ہے تو اس کی وجہ سے بھی یا تو یہ ہے کہ ان کے مخصوص مناقب و فضائل کے اعتبار سے ان کا ذکر مستقل طور علیحدہ ہی باب میں کیا جانا موزوں جانا گیا یا عرف عام کی رعایت سے ان کا ذکر اہل بیت سے الگ کر کے کیا گیا کیونکہ عام طور سے اہل بیت کا اطلاق انھی چار تن پر ہوتا ہے۔

6108Mishkaat-al-Masabih

آیت مباہلہ اور اہل بیت

عن سعد بن أبي وقاص قال : لما نزلت هذه الآية [ ندع أبناءنا وأبناءكم ] دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم عليا وفاطمة وحسنا وحسينا فقال : اللهم هؤلاء أهل بيتي رواه مسلم

حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَا ءَنَا وَاَبْنَا ءَكُمْ وَنِسَا ءَنَا وَنِسَا ءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ ) 3۔ آل عمران 61) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین کو بلوایا اور کہا خداوندا! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ (مسلم) تشریح پوری آیت یوں ہے (فَمَنْ حَا جَّكَ فِيْهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَا ءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَا ءَنَا وَاَبْنَا ءَكُمْ وَنِسَا ءَنَا وَنِسَا ءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ ) 3۔ آل عمران 61) پس جو شخص آپ ﷺ سے اس (قرآن یا دین) کے بارے میں (اب بھی) حجت کرے بعد اس کے کہ آپ ﷺ کے پاس علم قطعی آچکا ہے تو آپ ﷺ اس سے کہے کہ آجاو ہم اور تم بلالیں اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور خود اپنے تنوں کو اور تمہارے تنوں کو، پھر ہم (سب مل کر) خوب دل سے دعا کریں بایں صورت کہ اللہ کی لعنت بھیجیں ان پر جو (بارے میں) ناحق پر ہوں اس آیت کو آیت مباہلہ کہا جاتا ہے۔ مباہل کا لفظ بھل یا بھلۃ سے بنا ہے جس کے معنی لعنت بھیجنے اور لعنت کے ہیں مباہلہ کا مطلب ہوتا ہے ایک دوسرے پر لعنت بھیجنا اور ملعون ہوجانے لگا۔ جس میں تضرع، خشوع و خضوع اور عاجزی وفروتنی کی صورت بہت زیادہ اختیار کی گئی ہو بہرحال، عربوں کی یہ عادت تھی کہ جب کسی معاملہ میں دو فریق آپس میں ایک دوسرے کی مخالفت و تکذیب کرتے اور ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کا الزام عائد کرتے تو آخر میں اپنے اپنے گھروں سے باہر نکل کر کسی خاص جگہ پر جمع ہوتے اور ایک دوسرے کے خلاف بددعا کرتے ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے اور یوں دعا مانگتے یا اللہ! ہم میں سے جو شخص ناحق پر ہو یا ظالم ہو اس پر لعنت بھیج پس جب نصاری (مسیحوں) نے دین اسلام یا قرآن کی حقانیت و صداقت کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے بحث مباحثہ کا دروازہ کھولا اور پیغمبر اسلام کی مخالفت و تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مذکورہ بالا آیت کے ذریعہ حکم دیا کہ آپ ﷺ ان مسیحوں کو مباہلہ کو دعوت دیجئے اور ان سے کہے کہ آؤ برسرعام اپنا فیصلہ کرالیں کہ ہم میں سے کون حق پر ہے اور کون ناحق پر چناچہ روایتوں میں آتا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر آنحضرت ﷺ اپنے عزیز ترین اور قریب ترین اہل بیت کو لے کر مباہلہ کے لئے اس طرح نکلے کہ حضرت حسن اور حضرت حسین کو جو اس وقت بہت چھوٹے چھوٹے تھے آپ نے گود میں اٹھا رکھا تھا، حضرت فاطمہ آپ ﷺ کے پیچھے تھیں اور حضرت علی حضرت فاطمہ کے پیچھے تھے، آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں جب مباہلہ میں دعا کروں تو تم سب مل کر آمین کہنا مسیحوں کے پیشوا کی نظر ان نورانی چہروں پر پڑی تو اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرکے بےاختیار بول اٹھا تم پر افسوس ہے میں نے تو ان نورانی چہروں کو ایسا دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ اللہ سے یوں درخواست کریں کہ پہاڑ کو اس کی جگہ سے اکھیڑ دے تو بالیقین اللہ (ان کی درخواست قبول کرکے) پہاڑ کو اس کی جگہ سے اکھیڑ دے گا پھر اس نے پر زور انداز میں اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیا کہ (ان لوگوں کے ساتھ مباہلہ ہرگز نہ کرنا ورنہ جڑ سے اکھاڑ دیئے جاؤ گے۔ آخر کار ان مسیحوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ مباہلہ نہیں کیا اور جزیہ قبول کرکے آنحضرت ﷺ کی سیاسی اطاعت پر مجبور ہوئے، لیکن ان کے اندر چونکہ اسلام اور پیغمبر اسلام سے قلبی وابستگی اور مناسبت نہیں تھی اس لئے اسلام میں داخل ہونے سے محروم رہے ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ بعد میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر وہ لوگ مباہلہ کرتے تو نتیجہ کے طور پر ان کی صورتیں مسخ ہو کر بندروں اور سوروں کی سی ہوجاتیں، تمام بیابان وجنگل آگ ہی آگ ہوجاتا اور وہ آگ نہ صرف ان کو بھسم کرکے سرے سے نیست ونابود کردیتی بلکہ درختوں پر پرندوں تک کو جلا دیتی۔

6109Mishkaat-al-Masabih

آیت قرآنی میں مذکور |" اہل بیت |" کا محمول ومصداق

وعن عائشة قالت : خرج النبي صلى الله عليه و سلم غداة وعليه مرط مرحل من شعر أسود فجاء الحسن بن علي فأدخله ثم جاء الحسين فدخل معه ثم جاءت فاطمة فأدخلها ثم جاء علي فأدخله ثم قال : [ إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا ] رواه مسلم

اور حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن صبح کو نبی کریم ﷺ تشریف لائے، اس وقت آپ ﷺ کے بدن مبارک پر ایک سیاہ بالوں کی کملی تھی جس پر اونٹ کے کجاو وں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں اتنے میں حسن ابن علی، آگئے اور آپ ﷺ نے ان کو اپنی کملی کے اندر لے لیا پھر حسین آئے اور آپ ﷺ نے ان کو بھی حسن کے ساتھ کملی کے اندر لے لیا، پھر فاطمہ آئیں اور آپ ﷺ نے ان کو بھی کملی کے اندر لے لیا اور پھر علی آئے اور آپ ﷺ نے ان کو بھی کملی کے اندر لے لیا اور پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا) 33۔ الاحزاب 33) (یعنی اے اہل بیت) اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم کو (گناہوں اور برائیوں کی) پلیدی (اور غیر اخلاقی وغیر انسانی باتوں کے میل کچیل میں آلود ہونے) سے بچائے (جیسا کہ اکثر لوگ آلودہ ہوجاتے ہیں) اور تم کو ایسا پاک صاف رکھے جیسا کہ پاک صاف رہنا چاہئے۔ ( مسلم) تشریح اس آیت کا سیاق وسباق پوری وضاحت کے ساتھ اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں سے ہیں کیونکہ اس سے پہلی میں بھی ینسآء النبی لستن کا حد من النسآء کے ذریعہ ازواج مطہرات ہی کو خطاب کیا گیا ہے اور بعد کی آیت میں بھی واذکرن ما یتلی فی بیوتکن میں بھی انہی کا ذکر ہے۔ رہی یہ بات کہ پھر عنکم الرجس میں جمع مذکر کی ضمیر کیوں لائی گئی ہے تو اس کی وجہ یا تو اظہار عظمت ہے یا اہل بیت کے مردوں کی فوقیت و برتری کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔

6110Mishkaat-al-Masabih

ابر اہیم بن رسول اللہ ﷺ

وعن البراء قال : لما توفي إبراهيم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن له مرضعا في الجنة رواه البخاري

اور حضرت براہ بن عازب کہتے ہیں کہ جب (حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے آنحضرت ﷺ کے فرزند) ابراہیم کا (شیرخوارگی کی عمر میں) انتقال ہوا تو رسول کریم نے فرمایا (ابراہیم کو جنت میں پہنچا دیا گیا ہے اور وہاں) اس کے لئے ایک دودھ پلانے والی یعنی دایہ (مقرر ہوگئی) ہے (جو اس کو دودھ پلانے کے زمانہ کو پورا کرے گی۔ (بخاری) تشریح بعض شارحین نے دودھ پلائے جانے سے یہ مراد لیا ہے کہ حق تعالیٰ نے ان کے لئے جنت کی تمام نعمتیں مہیا کردی ہیں اور وہ بہشت میں مزے لوٹ رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس تاویل کی کوئی ضرورت نہیں ہے جب کسی لفظ کے حقیقی معنی امکان وقوع رکھتے ہوں تو اس کے مجازی معنی مراد لینا جائز بھی نہیں ہے۔ لفظ مرضعا زیادہ تر نسخوں میں م کے پیش اور ض کے زبر کے ساتھ منقول ہے جس کے معنی دایہ کے ہیں اور ایک صحیح نسخہ میں م اور ض دونوں کے زبر کے ساتھ ہے جس کا لفظی ترجمہ دودھ پلانے کی جگہ ہے اس صورت میں مرضعا فی الجنۃ کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کی شیر خوارگی کی مدت پوری ہونے کی جگہ جنت میں ہے ویسے مرضعا کو مصدر یعنی دودھ پلانا بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ حدیث ظاہرا اس بات کی دلیل ہے کہ پاک نفس وپاکباز لوگ مرنے کے بعد اسی وقت جنت میں پہنچادئیے جاتے ہیں اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ موعودہ جنت وجود میں آچکی ہے اور موجود ہے

6111Mishkaat-al-Masabih

حضرت فاطمہ کی فضیلت

وعن عائشة : قالت : كنا - أزواج النبي صلى الله عليه و سلم - عنده . فأقبلت فاطمة ما تخفى مشيتها من مشية رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رآها قال : مرحبا بابنتي ثم أجلسها ثم سارها فبكت بكاء شديدا فلما رأى حزنها سارها الثانية فإذا هي تضحك فلما قام رسول الله صلى الله عليه و سلم سألتها عما سارك ؟ قالت : ما كنت لأفشي على رسول الله صلى الله عليه و سلم سره فلما توفي قلت : عزمت عليك بما لي عليك من الحق لما أخبرتني . قالت : أما الآن فنعم أما حين سار بي في الأمر الأول فإنه أخبرني : أن جبريل كان يعارضه بالقرآن كل سنة مرة وإنه قد عارضني به العام مرتين ولا أرى الأجل إلا قد اقترب فاتقي الله واصبري فإني نعم السلف أنا لك فلما رأى جزعي سارني الثانية قال : يا فاطمة ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء أهل الجنة أو نساء المؤمنين ؟ وفي رواية : فسارني فأخبرني أنه يقبض في وجعه فبكيت ثم سارني فأخبرني أني أول أهل بيته أتبعه فضحكت . متفق عليه

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کی بیویاں (آپ کے مرض الموت سے کچھ ہی پہلے ایام مرض الموت کے دوران ایک دن) آپ ﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ فاطمہ آئیں۔ ان کی چال کی وضع اور ہیت رسول کریم ﷺ کی چال کی وضع اور ہیت رسول ﷺ کی چال کی واضع اور ہیت سے (ذرا بھی) مختلف نہیں تھی (یعنی آنحضرت ﷺ کے چلنے کا انداز اس قد ر یکساں تھا کہ کوئی بھی ان دونوں کی چال میں امیتاز نہیں کرسکتا تھا) بہرحال آنحضرت ﷺ نے حضرت فاطمہ کو (آتے) دیکھا تو فرمایا میری بیٹی مرحبا پھر آپ ﷺ نے ان کو (اپنے پاس) بٹھا لیا اور چپکے چپکے ان سے باتیں کیں، اتنے میں فاطمہ رونے لگیں اور زور زور سے رزئیں۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ فاطمہ بہت رنجیدہ ہوگئی ہیں تو پھر ان سے سرگوشی کرنے لگے اور فاطمہ اکدم کھلکھلا کر ہنس دیں پھر جب رسول اللہ ﷺ (استنجاء وغیرہ کے لئے یا نماز پڑھنے کے لئے وہاں سے) اٹھکر چلے گئے تو میں نے فاطمہ سے پوچھا کہ تم سے آنحضرت ﷺ سے چپکے چپکے کیا باتیں کررہے تھے؟ فاطمہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا راز افشاء کرنے والی نہیں ہوں (اس وقت تو میں خاموش ہوگئی لیکن) جب آنحضرت ﷺ نے اس دنیا سے پردہ فرمایا تو (ایک دن) میں نے فاطمہ سے کہا کہ (ایک ماں ہونے کی حیثیت سے یا دینی اخوت اور باہمی محبت وتعلق رکھنے کے اعتبار سے) تم پر میرا جو حق ہے اس کا واسطہ اور قسم دے کر کہنا چاہتی ہوں کہ میں تم سے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگتی کہ مجھ کو اس سرگوشی کے بارے میں بتادو جو ( اس دن) آنحضرت ﷺ نے تم سے کی تھی فاطمہ بولیں ہاں اب (جب نبی کریم ﷺ اس دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں اس راز کو ظاہر کرنے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھتے ہوئے) میں بتاتی ہوں کہ آنحضرت ﷺ نے جو پہلی بار مجھ سے سرگوشی کی تھی تو اس میں مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ جبرائیل (علیہ السلام) مجھ سے سال بھر میں ایک مرتبہ (یعنی رمضان میں) قرآن کا دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال (رمضان میں) انہوں نے مجھ سے دو بار دور کیا اور اس کا مطلب میں نے یہ نکالا ہے کہ میری موت کا وقت قریب آگیا ہے، پس (اے فاطمہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتی رہنا (یعنی تقویٰ پر قائم رہنا یا یہ کہ جہاں تک ہو سکے زیادہ تقوی اور پرہیز گاری اختیار کرنا) اور (اللہ کی اطاعت و عبادت میں مشغول رہنے اور معصیت سے بچنے کے لئے جو بھی تکلیف اور مشقتیں اٹھا نا پڑیں اور جو بھی آفت وحادثہ پیش آئے خصوصا میری موت کے سانحہ پر) صبر کرنا، بلاشبہ میں تمہارے لئے بالخصوص) بہترین پیش روہوں (یہ تو وہ بات تھی جس کو سن کر اور آنحضرت ﷺ کی جدائی کا احساس کرکے) میں رونے لگی تھی اور پھر جب آپ ﷺ نے مجھ کو زیادہ مضطرب اور بےصبر پایا تو دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور اس وقت یوں فرمایا اے فاطمہ! کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم جنت میں (تمام) عورتوں یا (خاص طور پر اس امت کی عورتوں کی سردار بنائی جاؤ (یہ سن کر میں ہنسنے لگی تھی) اور ایک روایت میں حضرت فاطمہ کے یہ الفاظ منقول ہیں کہ جب آپ ﷺ نے (پہلی مرتبہ) مجھ سے سرگوشی کی تو اس میں یہ فرمایا تھا کہ آپ ﷺ اس بیماری میں وفات پاجائیں گے اور (یہ سن کر) میں رونے لگی تھی، (دوسری مرتبہ) آپ ﷺ نے مجھ سے سرگوشی کی اس میں مجھ کو یہ بتایا تھا کہ آپ ﷺ کے اہل بیت میں سب سے پہلے میں ہی آپ ﷺ سے جا کر ملوں گی (یعنی یہ تسلی دی تھی کہ مضطرب نہ ہوٍ، میری وفات کے بعد بہت جلد تم بھی اس دنیا سے رخصت ہو کر میرے پاس آجاؤ گی) چناچہ (یہ سن کر) میں ہنسنے لگی تھی۔ (بخاری ومسلم) تشریح راز میں افشا کرنے والی نہیں ہوں یعنی جس بات کو آنحضرت ﷺ نے چھپایا اس کو میں کیسے ظاہر کردوں کیونکہ اگر آپ ﷺ کے نزدیک اس بات کا اظہار مناسب ہوتا تو مجھ کو چپکے چپکے نہ فرماتے بلکہ سب کے سامنے اونچی آواز میں فرماتے اس سے معلوم ہوا کہ اپنے بڑوں، عزیزوں اور دوستوں کا راز دوسروں سے چھپانا مستحب ہے۔ دوبار دور کیا) یعنی سال بھر میں جتنا قرآن نازل ہوتا تھا اس سب کا دور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) رمضان میں آنحضرت ﷺ سے کرتے تھے تاکہ اول تو آپ ﷺ کے ذہن میں قرآن ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف کے ساتھ پوری طرح محفوظ رہے اور دوسرے یہ ظاہر ہوجایا کرے کہ کون سی آیت ناسخ ہو کر نازل ہوئی ہے اور کون سی آیت منسوخ ہوگئی ہے حدیث کے اس اجزاء سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ قرآن کا دور (یعنی دو حافظوں کا ایک دوسرے کو قرآن حفظ سنانا مستحب ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ حدیث آنحضرت ﷺ کی عمر کے آخری رمضان کے بعد ارشاد ہوئی تھی۔ اس کا مطلب میں نے نکالا ہے یعنی! جبرائیل (علیہ السلام) نے اس سال معمول کے خلاف جو دو بار دور کیا ہے وہ اس بات کی آگاہی ہے کہ قرآن کی صورت میں نزول ہدایت کا سلسلہ پایہ اتمام کو پہنچ گیا ہے اور تکمیل دین کی سرفرازی ونعمت عطا ہوگئی ہے۔ لہٰذا اب قرآن کو ذہن میں پوری طرح محفوظ کرلینا چاہئے اور اس کے احکام خوب یاد کرلینے چاہیئں۔ کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو یعنی یہ بات جان کر کہ میں اس دنیا سے جلد ہی رخصت ہونے والا ہوں تمہیں تنگ دل اور مضطرب نہیں رہنا چاہئے، اللہ کے حکم اور فیصلہ پر راضی رہو اور اس بات پر اس کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں اتنا بڑا رتبہ اور اعزاز عطا کیا ہے۔

6112Mishkaat-al-Masabih

فاطمہ زہرا کی افضیلت

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت فاطمہ تمام عورتوں سے افضل ہیں یہاں تک حضرت مریم (علیہ السلام) حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ پر بھی ان کو خاص شخصیت حاصل ہے، چناچہ سیوطی نے یہی لکھا ہے رہی اس حدیث کی بات جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فاطمہ زہرا) حضرت مریم بن عمران (علیہ السلام) کے علاوہ باقی تمام عورتوں پر فضیلت رکھتی ہیں یا ایک وہ حدیث ہے کہ جس میں فرمایا گیا ہے کہ اس امت میں فاطمہ کا وہی مرتبہ ہے جو مریم (علیہ السلام) کو اپنی قوم میں حاصل ہے یعنی جس طرح حضرت مریم (علیہ السلام) اپنی قوم کی تمام عورتوں سے افضل ہیں اسی طرح اس امت کی تمام عورتوں میں سب سے افضل فاطمہ ہیں توروایتوں کا اختلاف شاید اس سبب سے نظر آتا ہے کہ حضرت فاطمہ کا رتبہ تدریجی طور پر بڑھتا رہا ہوگا اور اسی تدریج کے ساتھ ان کی افضلیت کی اطلاع اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی اور اس کے فرشتہ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کو ملتی رہی ہوگی جس کا اظہار مختلف احادیث کے ذریعہ ہوتا رہا اور پھر جب آخر میں حضرت فاطمہ کا رتبہ آخری درجہ تک بڑھ گیا تو بلا استثناء عالم کی تمام عورتوں پر ان کی افضلیت ثابت ہوگئی بعض علماء نے حضرت عائشہ کو حضرت فاطمہ سے افضل قرار دیا ہے اور دلیل میں یہ بات پیش کی ہے کہ جنت میں حضرت عائشہ تو آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہوں گی جب کہ حضرت فاطمہ، حضرت علی کے ساتھ ہوں گی اور یہ ظاہر ہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا درجہ اور محل حضرت علی کے درجہ اور محل سے اعلی و اشرف ہوگا۔ لیکن یہ دلیل ان حدیثوں کے سامنے بےمعنی ہوجاتی ہے جن میں بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت فاطمہ کو خطاب کرکے فرمایا میں تم، علی، حسن اور حسین جنت میں ایک درجہ اور ایک ہی محل میں ہوں گے۔ حضرت عائشہ کی افضلیت کے قائلیں کی طرف سے ایک دلیل یہ بھی دیجاتی ہے کہ ان کو اجتہاد کا مقام حاصل تھا، مجتہد تسلیم کی جاتی تھیں اور خلفاء اربعہ کے زمانہ میں فتوی دیا کرتی تھیں سیوطی نے فتاوی میں لکھا ہے کہ! اس مسئلہ میں (فاطمہ افضل ہیں یا عائشہ) تین مسلک ہیں اور ان تینوں مسلکوں میں سب سے صحیح مسلک یہ ہے کہ فاطمہ عائشہ سے افضل ہیں۔ بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ فاطمہ اور عائشہ دونوں کا رتبہ یکساں ہے جب کہ کچھ حضرات اس بارے میں خاموش رہنے ہی کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں ان میں بعض حنفی اور بعض شافعی علماء خصوصیت سے اس طرف مائل ہیں حضرت امام مالک کے متعلق منقول ہے کہ جس ان سے پوچھا گیا کہ آپ حضرت فاطمہ کو افضل سمجھتے ہیں یا حضرت عائشہ کو؟ تو انہوں نے جواب دیا فاطمہ پیغمبر کے گوشت کا ٹکڑا ہیں اور میں رسول اللہ ﷺ کے گوشت کے ٹکڑے پر کسی کو فضیلت نہیں دیتا امام سبکی نے لکھا ہے کہ! ہمارے نزدیک اور ہمارے مسلک کے اعتبار سے جو بات زیادہ معتبر اور زیادہ صحیح ہے وہ یہ ہے کہ سب سے افضل حضرت فاطمہ ہیں، ان کے بعد ان کی والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ اور ان کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ ویسے حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ کے بارے میں بھی علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ بعض نے حضرت خدیجہ کو افضل کہا ہے اور بعض نے حضرت عائشہ کو بہرحال ان مذکورہ جلیل القدر خواتین اسلام کی الگ الگ حیثیتیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک اس کی اپنی حیثیت وخصوصیت کے اعتبار سے فضیلت و برتری حاصل ہے، تاہم بعض حضرات نے کثرت ثواب کو افضلیت کی بنیاد بنایا ہے جس کا علماء کے ہاں اعتبار بھی ہے اور اس حیثیت سے حضرت فاطمہ چاہے سب سے افضل نہ ہوں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ شرف ذات پاگیزگی طینت اور تقدس جوہر کے اعتبار سے کوئی بھی حضرت فاطمہ، حضرت حسن، افضل و برتر نہیں ہوسکتا۔

6113Mishkaat-al-Masabih

فاطمہ زہرا

حضرت فاطمہ زہرا، ام المؤمنین حضرت خدیجہ کے بطن سے رسول اللہ ﷺ کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں تمام عالم کی عورتوں کی سردار ہیں ٢ ھ کے رمضان میں حضرت علی ؓ سے ان کا نکاح ہوا اور ذی الحجہ میں رخصت ہو کر حضرت علی کے گھر میں آئیں ان کے بطن سے حسن، حسین، زینب، ام کلثوم اور رقیہ پیدا ہوئیں، آنحضرت ﷺ کے وصال کے چھ ماہ بعد یا ایک قول کے مطابق تین ماہ بعد مدینہ میں حضرت فاطمہ کا انتقال ہوا اور اس وقت ان کی عمر اٹھائیس سال کی تھی۔ حضرت علی نے غسل دیا اور نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت فاطمہ سے جن حضرات نے احادیث روایت کی ہیں ان میں حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین اور دوسرے بہت سے لوگ شامل ہیں حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں میں نے فاطمہ سے زیادہ صادق القول ان کے باپ (رسول اللہ ﷺ کے علاوہ اور کسی کی نہیں دیکھا۔

6114Mishkaat-al-Masabih

جس نے فاطمہ کو خفا کیا اس نے مجھ کو خفا کیا

وعن المسور بن مخرمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فاطمة بضعة مني فمن أغضبها أغضبني وفي رواية : يريبني ما أرابها ويؤذيني ما آذاها . متفق عليه

اور حضرت مسور ابن مخرمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے جس نے فاطمہ کو خفا کیا اس نے مجھے خفا کیا اور ایک روایت میں یہ لفظ (بھی) ہیں جو چیز فاطمہ کو بری معلوم ہوتی ہے وہ مجھ کو بھی بری معلوم ہوتی ہے اور جو چیز فاطمہ کو دیکھ دیتی ہے وہ مجھ کو بھی دکھ دیتی ہے۔ (بخاری ومسلم ) تشریح اس نے مجھ کو خفا کیا یعنی فاطمہ چونکہ میرے گوشت پوست کا ایک حصہ ہے اور اس اعتبار سے میرے اور اس کے درمیان جو یگانگت اور یک پن ہے اس کی بناء پر فاطمہ کو خفا کرنا، یا فاطمہ کو دکھ پہنچانا گویا مجھ کو خفا کرنا اور دکھ پہنچانا ہے۔ پس اس ارشاد گرامی میں دراصل اس طرح کی بلیغ تشبیہ ہے اور اس اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ بعض علماء کا اس حدیث سے یہ استدلال کرنا ناموزوں ہے کہ جس نے فاطمہ کو برا کہا وہ کافر ہوگیا، کیونک اس طرح کی احادیث کا اصل محمول کمال اتحاد و اختلاط اور نہایت تعلق کا اظہار ہے چناچہ اسی قبیل سے وہ روایت بھی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے کسی مسلمان کو دکھ دیا اس نے گویا مجھ کو دکھ دیا اور جس نے مجھ کو دکھ دیا اس نے (گویا) اللہ تعالیٰ کو دکھ پہنچایا وہ روایت کہ جس میں آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے انصار کو عزیز و محبوب رکھا اس نے اللہ تعالیٰ کو عزیز و محبوب رکھا اور جس شخص نے انصار سے دشمنی رکھی اس نے اللہ تعالیٰ سے دشمنی رکھی۔ اسی طرح آپ کا یہ ارشاد گرامی کہ قریش کو دوست رکھنا ایمان ہے اور ان سے دشمنی رکھنا کفر ہے نیز عربوں کو دوست رکھنا ایمان ہے اور ان سے دشمنی رکھنا کفر ہے، جس شخص نے عربوں کو دوست رکھا اس نے مجھ کو دوست رکھا اور جس شخص نے عربوں سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی۔ وہ مجھ کو دکھ دیتی ہے بعض روایتوں میں آیا ہے کہ ابوجہل کے بھائی حارث بن ہشام نے چاہا تھا کہ ابوجہل کی بیٹی غورا کا نکاح حضرت علی ؓ سے کردے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ خود حضرت علی کی خواہش تھی کہ غوراء سے نکاح کریں بہرحال جب اس بارے میں آنحضرت ﷺ سے طلب اجازت کا مرحلہ آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس بات کی اجازت کبھی نہیں دوں گا اور پھر یہ حدیث ارشاد فرمائی، نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار نہیں دیتا لیکن یہ ضرور ہے کہ اللہ کی دوست کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ہرگز یکجا نہیں ہوسکتیں۔ حضرت علی نے آنحضرت ﷺ کے یہ سخت تاثرات سنے تو فورا خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اظہار معذرت کے بعد عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں وہ کام کبھی نہیں کروں گا جو آپ ﷺ کو پسند نہ ہو۔ واضح ہو کہ حضرت مسور کی یہ حدیث مختلف طرق سے منقول ہے، چناچہ ایک روایت میں اس حدیث کو اس طرح نقل کیا گیا ہے حضرت مسور کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر کھڑے ہوئے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہشام ابن مغیرہ کے بیٹے حارث مجھ سے اس بات کی منظوری چاہتے تھے کہ ابوجہل کی بیٹی کا نکاح علی ابن طالب سے کردیں لیکن میں اس بات کو منظور نہیں کرتا اور مکرر کہتا ہے ہوں کہ میں منظور نہیں کروں گا ہاں اگر ابن ابی طالب نے ارادہ ہی کرلیا ہے تو وہ میری بیٹی کو طلاق دیدیں اور ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرلیں۔ فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے جس نے فاطمہ کو خفا کیا اس نے مجھے خفا کیا۔

6115Mishkaat-al-Masabih

فاطمہ کی موجودگی میں علی کو کسی اور عورت سے نکاح کی ممانعت

شرح مسلم میں اس حدیث کے تحت لکھا ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کوئی ایسا کام کرنا جس سے نبی کریم ﷺ کو دکھ پہنچے بہر صورت حرام ہے اگرچہ وہ کام مباح ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ آنحضرت ﷺ کے خصائص میں سے ہے آنحضرت ﷺ حضرت علی کو ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے کی جو اجازت نہیں دی تو اس کی دو وجہیں تھیں، ایک تو یہ کہ اس نکاح سے حضرت فاطمہ کو خفگی ہوتی اور ایک طرح سے ان کو دکھ پہنچتا اور حضرت فاطمہ کے دکھی ہونے سے آنحضرت ﷺ کی دکھ ہوتا اور یہ بات حضرت علی کے لئے تباہی کا باعث بنتی لہٰذا خود حضرت علی کے حق میں خیرخواہی اور آنحضرت ﷺ کی شفقت کا تقاضا یہی تھا کہ ان کو اس نکاح سے باز رکھا جائے دوسری وجہ آنحضرت ﷺ کا یہ خوف تھا کہ اس نکاح سے حضرت فاطمہ کی غیرت وحمیت کے منافی ہونے کے سبب کہیں وہ سخت آزمائش اور ابتلاء سے دوچار نہ ہوجائیں۔ بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ میں اس بات کو منظور نہیں کرتا سے آنحضرت ﷺ کی مراد یہ نہیں تھی کہ حضرت فاطمہ کی موجودگی میں کسی اور عورت سے نکاح کرنا علی کے لئے ممنوع ہے بلکہ ان الفاظ کے ذریعہ دراصل آپ ﷺ نے اس بات کا اعلان کیا کہ قضاء وقدر الہٰی یوں ہے کہ علی کے نکاح میں فاطمہ اور بنت اور ابوجہل ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ لیکن دوسری روایتوں اور اقوال سے اس قول کی تائید نہیں ہوتی مثلا یحییٰ بن سعید بن القطان سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن داؤد سے آنحضرت ﷺ کے ان الفاظ میں اس بات کو منظور نہیں کرتا ہاں اگر ابن ابی طالب نے ارادہ کر ہی لیا ہے تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں اور ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرلیں کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے علی پر حرام تھا کہ وہ فاطمہ کی زندگی میں ان کے ساتھ کسی اور عورت کو اپنے نکاح میں رکھنی اور یہ حرمت قرآن کی آیات وما اتٰکم فخذوہ ومانہکم عنہ فانتہوا (اے اہل ایمان! رسول اللہ ﷺ جو کچھ تمہیں دیں اس کو قبول کرو اور جس بات سے تم کو منع کریں اس سے باز رہو) سے ثابت ہوتی ہے۔ جب آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ میں منظور نہیں کرتا تو علی کے لئے حلال اور جائز نہیں رہا تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کی اجازت اور منظوری کے علی الرغم فاطمہ کی موجودگی میں کسی اور عورت سے نکاح کریں۔ اسی طرح یحییٰ ابن سعید سے یہ منقول ہے کہ انہوں نے کہا میں نے عمربن داؤد سے سنا، وہ کہتے تھے کہ جب آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے جو چیز فاطمہ کو بری معلوم ہوتی ہے وہ مجھ کو بھی بری معلوم ہوتی ہے اور جو چیزفاطمہ کو دکھ دیتی ہے وہ مجھ کو بھی دکھ دیتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت علی پر حرام ہوگیا تھا کہ وہ فاطمہ کی موجود گی میں کسی اور عورت سے نکاح کرکے آنحضرت ﷺ کو دکھ پہنچائیں جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے ماکان لکم ان توذوا رسول اللہ ﷺ ( تمہارے لئے قطعی روا نہیں کہ رسول اللہ کو دکھ پہنچاؤ) یحییٰ بن سعید کی ان دونوں روایتوں کی حافظ اور ابوالقاسم دمشقی نے نقل کیا ہے۔ ایک روایت میں یوں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو چیز فاطمہ کو دل گرفتہ بناتی ہے وہ مجھ کو بھی دل گرفتہ کردیتی ہے اور جو چیز فاطمہ کو شگفتہ دل بناتی ہے شگفتہ دل کردیتی ہے۔ جان لو قیامت کے دن نسبی رشتے کٹ جائیں گے صرف میرا نسبی اور سسرالی رشتہ باقی رہے گا ایک اور روایت میں، جو حضرت ابوایوب سے منقول ہے، یہ بیان کیا گیا ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن (ایک مرحلہ پر) عرش میں سے ایک آواز آوے گی جیسے منادی کرنے والا منادی کررہا ہے۔ یا اہل الجمع نکسوارء وسکم وغضوا ابصارکم حتی مرت فاطمۃ بنت محمد علی الصراط۔ اے اہل محشر! اپنے سرجھکالو اور اپنی آنکھیں بند کرلو تاآنکہ محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ پل صراط پر سے گزر جائیں، اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا فتمرمع سبعین الف جارئۃ من الحورالعین کمر البرق۔ پس فاطمہ ستر ہزار حورمین باندیوں کے جلو میں پل صراط پر سے اس طرح گزر جائے گی جیسے بجلی گزر جاتی ہے۔ روایتوں میں یہ بھی آتا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ سفر پر روانہ ہوتے تو سب سے رخصت ہونے کے بعد آخر میں حضرت فاطمہ سے ملنے کو آتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہ کے پاس تشریف لاتے۔

6116Mishkaat-al-Masabih

ایک وضاحت

یہاں یہ بات واضح کردینا ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو حضرت علی کو حضرت فاطمہ کی خفگی کے پیش نظر دوسرا نکاح کرنے سے منع کیا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کسی کی بیوی اپنے خاوند کے دوسرے نکاح کرنے سے ناراض اور خفا ہو تو وہ دوسرا نکاح نہ کرے یہ صرف آنحضرت ﷺ کے خصائص میں سے ہے یعنی معاملہ کی اس مخصوص نوعیت کے پیش نظر کہ آنحضرت ﷺ کو دکھ نہ پہنچے حضرت علی کے حق میں ممنوع تھا جیسا کہ بعض روایتوں سے واضح ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں نہ کوئی عورت حضرت فاطمہ کے برابر ہے اور نہ کسی عورت کا باپ حضرت فاطمہ کے باپ سرور کائنات کے برابر ہوسکتا ہے کہ جس کی ناراضگی کے سبب دوسرا نکاح کرنا کسی کا جائز نہ ہو۔ پس نکاح ثانی کا جو جواز قرآن کریم کی اس آیت ( فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَا ءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ) 4۔ النساء 3) عورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چار چار عورتوں سے) ثابت ہے وہ اپنی جگہ سب سے بڑی دلیل ہے اور یہ عمومی جو از حدیث بالا میں مذکور مخصوص اور منفرد نوعیت سے متاثر نہیں ہوگا

6117Mishkaat-al-Masabih

اس عذاب سے ڈور جو اہل بیت کے حقوق کی کوتاہی کے سبب ہوگا

وعن زيد بن ارقم قال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما فينا خطيبا بماء يدعى : خما بين مكة والمدينة فحمد الله وأثنى عليه ووعظ وذكر ثم قال : أما بعد ألا أيها الناس فإنما أنا بشر يوشك أن يأتيني رسول ربي فأجيب وأنا تارك فيكم الثقلين : أولهما كتاب الله فيه الهدى والنور فخذوا بكتاب الله واستمسكوا به فحث على كتاب الله ورغب فيه ثم قال : وأهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي وفي رواية : كتاب الله عز و جل هو حبل الله من اتبعه كان على الهدى ومن تركه كان على الضلالة . رواه مسلم

اور حضرت زید ابن ارقم کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ایک دن مکہ و مدینہ کے درمیان پانی والے مقام پر کہ جس کو خم کہا جاتا تھا خطاب عام کے لئے ہمارے سامنے کھڑے ہوئے پہلے اللہ کی حمد وثنا کی، پھر لوگوں کو (اچھی باتوں اور اچھے اعمال کی) نصیحت فرمائی، ان کو اللہ کا ثواب و عذاب یاد دلایا (اور غفلت و کوتاہی کے خلاف خبردار کیا اور پھر فرمایا بعد ازاں۔ اے لوگو! آگاہ ہو، میں تمہارے ہی مانند ایک انسان ہوں (اس امتیاز کے ساتھ کہ اللہ نے تمہاری ہدایت کے لئے مجھ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا اور مجھ پر وحی آتی ہے) وہ وقت قریب ہے جب پروردگار کا فرستادہ (یعنی ملک الموت عزرائیل (علیہ السلام) مجھ کو اس دنیا سے لے جانے کے لئے یا تو تنہایا جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ) آئے اور میں اپنے پروردگار کا حکم قبول کروں میں تمہارے درمیان دو عظیم بانفیس چیزیں چھوڑ جاؤں گا، جن میں سے ایک کتاب اللہ ہے جس میں ہدایت (یعنی دین ودنیا کی فلاح و کامیابی تک لیجانے والی راہ راست کا بیان) اور نور ہے پس تم کتاب اللہ کو مضبوط پکڑ لو (یعنی اپنے مسائل کا حل اسی کی روشنی میں ڈھونڈو اسی کو اپنا رہنما اور مستدل بناؤ، اس کو یاد کرکے اپنے سینوں میں محفوظ کرو اور اس کے علوم و معارف کو حاصل کرو) غرض کہ آپ ﷺ نے لوگوں کو کتاب اللہ تئیں خوب جوش دلایا اور اس کی طرف راغب کیا، پھر فرمایا اور (ان دو عظیم چیزوں میں سے دوسری چیز) میرے اہل بیت ہیں میں تمہیں اللہ کا وہ عذاب یاد دلاتا ہوں جو میرے اہل بیت کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی اور تقصیر کے سبب ہوگا میں (دوبارہ) تمہیں اللہ کا عذاب یاد دلاتا ہوں جو میرے اہل بیت کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کے سبب ہوگا اور ایک روایت میں (جن میں سے ایک کتاب اللہ ہے کی جگہ) یہ الفاظ ہیں کتاب اللہ، اللہ کی رسی ہے، جو شخص کتاب اللہ کی اطاعت کرے گا (یعنی اس پر ایمان لائے گا اس کو، یاد کرے گا، اخلاص کے ساتھ اس کا علم حاصل کرے گا اور اس پر عمل پیرا رہے گا تو وہ راست پر رہے گا اور جو شخص اس کو چھوڑ دے گا (یعنی نہ تو اس پر ایمان لائے گا، نہ اس کو یاد کرے گا، نہ اس کے علم وعمل میں مخلص ہوگا) تو وہ گمراہ رہے گا۔ (مسلم ) تشریح خم مکہ اور مدینہ کے درمیان حجفہ کے قریب ایک مشہور جگہ کا نام ہے جس کو غدیر خم بھی کہا جاتا ہے۔ دراصل غدیر پانی کے حوض کو کہتے ہیں اور اس جگہ کسی حوض یا تلاب کی شکل میں پانی موجود رہا ہوگا، اس مناسبت سے اس جگہ کو غدیر خم کہا جانے لگا جیسا کہ حضرت علی کے مناقب کے بیان مینگزر چکا ہے، خطاب عام کی یہ صورت اس وقت پیش آئی تھی جب آپ ﷺ حجۃ الوداع سے فارغ ہو کر مکہ سے مدینہ کو واپس لوٹ رہے تھے اور غدیر خم پر پڑاؤ ڈالا گیا تھا۔ اور میں اپنے پروردگار کا حکم قبول کروں یہ اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ اس دنیا سے آپ ﷺ کی رخصت کا وقت قریب آچکا ہے، چناچہ یہ بات آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے سفر واپسی کے دوران آخر ماہ ذی الحجۃ ١٠ ھ میں فرمائی تھی اور تقریبا تین ماہ بعد ربیع الاول ١١ ھ میں آپ ﷺ کا وصال ہوا۔ دو عظیم یا نفیس چیزیں یہ ثقلین کا ترجمہ ہے۔ ثقل (ث کے زیر کے ساتھ) کے معنی تو بھاری اور بوجھ کے ہیں اور ثقل (ث وق) کے زبر کے ساتھ) مسافر کے سامان اور حشم وخدم اور کسی بھی اعلی ونفیس چیز کو کہتے ہیں یہاں حدیث میں اس لفظ کے یہی معنی نفیس مراد ہیں۔ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ ثقلین سے دو عظیم چیزیں مراد ہیں اور کتاب اللہ اور اہل بیت کو دو عظیم چیزیں یا تو ان کے عظیم المرتبت ہونے کے اعتبار سے فرمایا گیا یا اس سبب سے کہا گیا کہ ان پر عمل کرنا مشکل اور بھاری ہے، ہر شخص ان کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا جن وانس کو بھی ثقلین اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ وہ زمین کے بوجھ میں یعنی جس طرح جانور کی پشت پر بوجھ لادتے ہیں اسی طرح زمین نے ان دونوں (جن وانس کا بوجھ اپنی پشت پر اٹھا رکھا ہے بعض حضرات نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دونوں یعنی کتاب اللہ اور اہل بیت دین کی متاع ہیں کہ ان کے ذریعہ دین کی اصلاح، درستی اور آبادی ہوتی ہے جیسے ثقلین یعنی جن وانس زمین کی متاع ہیں کہ انہی سے دنیا کی آبادی ہے۔ جس میں ہدایت اور نور ہے یعنی کتاب اللہ میں ان احکام و اعمال کا بیان ہے جن سے راہ حق روشن ہوتی ہے اور جو طالب کو منزل مقصود تک پہنچاتے ہیں اور اس کے علم وعرفان میں وہ نور حق ہے جو ذہن وفکر کی استقامت و سلامتی کا ذریعہ بنتا ہے اور یہی نور قیامت کے دن رہنمابنے گا واضح رہے کہ نور قرآن کا ایک نام بھی ہے۔ کتاب اللہ کو مضبوط پکڑ لو یعنی اپنے فکر ونظر، اعتقاد وانقیاد اور عمل و کردار کی بنیاد کتاب اللہ کو قرار دو، اسی میں عقیدہ و یقین رکھو اور اسی پر عمل کرو یہ بات ذہن نشین رہے کہ احادیث رسول اللہ ﷺ پر عمل کرنا بھی منجملہ کتاب اللہ ہے، کیونکہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے ما اتکم الرسول فخذوہ وما نہکم عنہ فانتہوا۔ (اے اہل ایمان! رسول جو کچھ تمہیں دیں اس کو قبول کرو اور جس بات سے تمہیں منع کریں اس سے بازرہو) اور فرمایا ومن یطع الرسول فقد اطاع اللہ (او رجس شخص نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی) اور فرمایا قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ۔ (آپ فرمادیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میرا اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے) ایک روایت میں یہاں حدیث کا یہ فقرہ یوں نقل کیا گیا ہے فتمسکوا بکتاب اللہ وخذوا (پس کتاب اللہ کو مضبوط پکڑ لو اور اس کو اختیار کرو) خوب جوش دلایا یعنی حاضرین کو اس امر کی جانب بہت تاکید اور شد ومد کے ساتھ متوجہ کیا کہ کتاب اللہ پڑھنے) اس کو حفظ کرنے، اس کے الفاظ ومعانی کے آداب وقواعد کی رعایت ملحوظ رکھنے اور جو احکام و مضامین اس میں ہیں ان پر عمل کرنے میں ذرا غفلت و کوتاہی نہ کی جائے۔ راغب کیا یعنی آپ ﷺ نے کتاب اللہ کی طرف راغب کرنے والی باتوں کا ذکر کیا جو شخص اللہ کی کتاب کو مضبوط پکڑے رہے گا اور اپنی تمام تر فکری اعتقادی اور عملی زندگی کا محور اسی کو بنائے رہے گا اس کو دین ودنیا کی فلاح و کامرانی حاصل ہوگی اور اس کو بلند تر مراتب و درجات حاصل ہونگے یہاں اگرچہ یہ احتمال بھی ہے کہ آپ ﷺ نے راغب کرنے والی اور بشارت دینے والی باتوں کے ساتھ اس عذاب سے ڈرانے والی باتیں بھی ذکر کی ہوں جو کتاب اللہ کے احکام پر عمل نہ کرنے والوں کو ہوگا تاہم یہ ممکن ہے کہ آپ ﷺ نے صرف بشارت دینے والی باتوں پر اکتفا کرکے وسعت رحمت باری، اپنی شان رحمۃ اللعالمین اور اپنی امت کے امت مرحومہ ہونے کی طرف اشارہ کیا ہو۔ میں (دوبارہ) تمہیں اللہ کا وہ عذاب یاددلاتا ہوں یہ جملہ آپ ﷺ نے تاکید اور زیادہ سے زیادہ اہمیت ظاہر کرنے کے لئے دو مرتبہ ارشاد فرمایا تاہم یہ بات بھی بعید ازامکان نہیں ہے کہ ایک بار کے جملہ، اہل بیت، سے مراد اولاد ہو اور دوسری باری کے جملہ میں ازواج مطہرات مراد ہوں، چناچہ پہلے بیان بھی کیا جا چکا ہے کہ اہل بیت کا اطلاق اولاد اور ازواج دونوں پر ہوتا ہے ایک روایت میں یہاں قال ثلاث مرات کے الفاظ ہیں، یعنی آپ ﷺ نے یہ جملہ تین بار ارشاد فرمایا۔ کتاب اللہ اللہ کی رسی ہے حبل کے لغوی معنی رسی کے ہیں اور اس سے مراد ہے عہد امان اور وہ چیز جو بندہ کو اس کے رب کی طرف لے جائے اور اس کے قرب ورضا کا وسیلہ ہو مطلب یہ کہ قرآن بندہ کی فلاح و کامیابی کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عہد و اقرار ہے، اس کے عذاب سے امان ہے اور اس کے قرب کا وسیلہ ہے اس کو مضبوط پکڑنے والا عذاب سے محفوظ ہوجاتا ہے، قرب الٰہی کی سرفرازی پاتا ہے اور اخروی فلاح اور کامرانیوں کے بلند درجات تک پہنچتا ہے اس کے برخلاف جو شخص اپنی اعتقادی وعملی زندگی کا محور نہیں پاتا پس قرآن کریم دونوں اعتبار سے رسی کی مانند ہے، کہ ہدایت چاہنے والے کو ترقی درجات تک پہنچاتا ہے اور سرکشی کرنے والے کو محرومیوں اور نامرادیوں کی نچلی سطح تک گرا دیتا ہے یضل بہ کثیرا ویہدی بہ کثیرا۔ چناچہ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ القرآن حجۃ لک اوعلیک یعنی قرآن شریف یا تو تیری سند ہے (تجھ کو نجات (دلائے گا) یا تیرے مقابلہ میں سند بنے گا (تجھ کو عذاب میں گرفتار کرائے گا۔ اور خود باری تعالیٰ فرماتا ہے۔ وننزل من القران ماہو شفاء ورحمۃ للمؤمنین ولا یزید الظٰمین الا خسارا ( اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں کہ وہ ایمان والوں کے حق میں تو شفاء ورحمت ہے اور ناانصافوں کو اس سے اور الٹا نقصان بڑھتا ہے )

6118Mishkaat-al-Masabih

حضرت جعفر کا لقب

وعن ابن عمر أنه كان إذا سلم على ابن جعفر قال : السلام عليك يا ابن ذي الجناحين . رواه البخاري

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ (یعنی ابن عمر) جب حضرت جعفربن ابی طالب کے صاحبزادے عبداللہ کو سلام کرتے تو یوں کہتے اے دو بازوؤں والے کے بیٹے تجھ پر سلامتی ہو۔ (بخاری) تشریح دو بازوؤں والے یہ ذوالجناحین کا ترجمہ اور ذالجناحین حضرت جعفر طیار کا لقب تھا جو ابوطالب کے بیٹے اور آنحضرت ﷺ کے چچازاد بھائی ہیں۔ حضرت جعفر جنگ موتہ (٨ ھ) میں نہایت بہادری اور پامردی کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے، یہ جنگ عیسائیوں کے خلاف مسلمانوں کے پہلی جنگ تھی جو شام کے علاقہ (موتہ) میں ہوئی تھی اور قیصر روم کا لشکر جرار مقابلہ پر تھا، اس جنگ کے دوران ایک دن آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں اپنی نگاہ اعجاز سے دیکھا کہ جعفر کو دس بازو عطاکئے گئے ہیں جن کے ذریعہ فرشتوں کے ساتھ اڑتے پھر رہے میں آنحضرت ﷺ سخت حیران ہوئے کہ اس نظارہ کا کیا مطلب ہے اور پھر جب ان کی شہادت کی خبر مدینہ پہنچی تو عقدہ کھلا، چناچہ اس دن سے ان کو (جعفر طیار کہا جانے لگا اور ذوالجناحین کا لقب دیا گیا۔ اور ایک روایت میں یوں بھی آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں نے جعفر کو جنت کو فضاؤں میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا ہے۔ چناچہ اس دن سے وہ ذوالجناحین اور طیار کے لقب سے موسوم ہوگئے۔ حضرت جعفر طیار قدیم الا سلام ہیں، ان سے پہلے صرف اکتیس آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ حضرت جعفر اپنے بھائی حضرت علی بن ابی طالب سے دس سال بڑے تھے اور خلقا وخلقا آنحضرت ﷺ سے بہت مشابہ تھے ٨ ھ میں جنگ موتہ میں شہید ہوئے، اس وقت ان کی عمر اکتالیس سال کی تھی۔ پورے بدن پر تیر اور تلواروں کے نوے زخم آئے تھے حضرت جعفر طیار سے احادیث روایت کرنے والوں میں دوسرے صحابہ کے علاوہ ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بھی شامل ہیں۔

6119Mishkaat-al-Masabih

حسن کے لئے دعا

وعن البراء قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم والحسن بن علي على عاتقه يقول : اللهم إني أحبه فأحبه متفق عليه

اور حضرت برائ کہتے ہیں کہ میں نے (ایک دن) نبی کریم ﷺ کو اس حال میں دیکھا کہ حسن ابن علی آپ ﷺ کے کاندھے پر سوار تھے اور آپ ﷺ فرما رہے تھے، اے اللہ! میں اس سے (بہت) محبت رکھتا ہوں، تو بھی اس سے محبت رکھ۔ (بخاری ومسلم ) تشریح تو بھی اس سے محبت رکھ بلاشبہ آنحضرت ﷺ کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت حسن کو اپنا اور اور چہیتا بنایا بس جب اللہ نے اور اللہ کے رسول نے حضرت حسن کو محبوب رکھا تو ہر مسلمان کو لازم ہے کہ حسن کی محبت سے اپنے دل و دماغ کی دنیا معمور رکھے۔

6120Mishkaat-al-Masabih

حسن وحسین

حضرت حسن حضرت فاطمہ زہرائ کے بطن سے حضرت علی کے صاحبزادے اور رسول اللہ ﷺ کے نواسے، آپ ﷺ کیا آنکھوں کی ٹھنڈک اور آپ ﷺ کے آنگن پھول تھے۔ اور تمام جنتی جوانوں کے سردار ہیں حضرت حسن کی کنیت ابومحمد تھی۔ صحیح تر روایت کے مطابق سن تین ہجری کے ماہ رمضان کی پندرہ تاریخ کو پیدا ہوئے اور سن پچپن میں وفات ہوئی۔ بعض حضرات نے سن وفات ٥٨ ھ اور بعض نے ٤٩ ھ اور بعض ٤٤ ھ لکھا ہے بقیع میں دفن کئے گئے ان سے ایک بڑی جماعت کو شرف روایت حاصل ہے جس میں ان کے صاحبزادے حضرت حسن ابن حسن اور حضرت ابوہریرہ بھی شامل ہیں تاریخی روایت کے مطابق حضرت علی کی شہادت (رمضان ٤٠ ھ) کے بعد کوفہ میں جن لوگوں نے حضرت حسن کو خلیفہ بنایا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کی ان تعداد چالیس ہزار تھی لیکن وہ امت کو افراق و انتشار سے بچانے کی خاطر چھ ماہ بعد ہی ١٥ جمادی الاول ٤١ ھ کو حضرت امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگئے۔ سید الشہداء حضرت حسین کی کنیت ابوعبداللہ ہے، سن چار ہجری کے ماہ شعبان کی پانچ تاریخ کو پیدا ہوئے اپنے بڑے بھائی حضرت حسن سے صرف ١٠ ماہ ٣٠ دن چھوٹے تھے ١٠ محرم ٦١ ھ جمعہ کے دن کربلا (عراق) کی سر زمین پر یزید ابن معاویہ کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے ایک روایت تو یہ ہے کہ سنان ابن انس نخعی نے آپ کو شہید کیا جب کہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ شمرذی الجوش نے شہید کیا اور آپ کی نعش مبارک اور آپ کے اہل بیت کو میدان کربلا سے عبداللہ ابن زیاد کے پاس خولی ابن یزید اصبحی لے کر آیا روایتوں میں آتا ہے کہ کربلا کے میدان میں حضرت حسین کے ساتھ آپ کی اولاد، آپ کے بھائیوں اور اہل بیت میں سے ٢٣ مردوں کو شہید کیا گیا شہادت کے دن حضرت حسین کی عمر اٹھاون سال کی تھی۔

6121Mishkaat-al-Masabih

حسن سے آنحضرت ﷺ کا تعلق خاطر

وعن أبي هريرة قال : خرجت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في طائفة من النهار حتى أتى خباء فاطمة فقال : أثم لكع ؟ أثم لكع ؟ يعني حسنا فلم يلبث أن جاء يسعى حتى اعتنق كل واحد منهما صاحبه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم إني أحبه فأحبه وأحب من يحبه . متفق عليه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دن کے ایک حصہ میں باہر نکلا جب آپ ﷺ حضرت فاطمہ ؓ کے گھر میں پہنچے تو پوچھا کیا یہاں منا ہے کیا یہاں منا ہے آپ ﷺ کی مراد حضرت حسن ؓ سے تھی (جن کو ڈھونڈتے ہوئے آپ ﷺ آئے تھے) ابھی آپ نے چند ہی لمحے گزارے تھے کہ حسن دوڑتے ہوئے آئے، پھر حسن ؓ آنحضرت کے گلے سے اور آنحضرت ﷺ حسن کے گلے سے لپٹ گئے اور پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا خدایا! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، تو بھی اس سے محبت رکھ اور اس شخص سے بھی محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے۔ بخاری ومسلم ) تشریح اس حدیث سے ایک تو معانقہ کا جائز ہونا ثابت ہوا، دوسرے جیسا کہ نووی نے لکھا ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ بچوں سے محبت و شفقت اور نرمی و مہربانی کا برتاؤ کرنا یعنی ان کے گلے لگانا، گود میں اٹھا لینا اور ان کو پیار کرنا مستحب ہے نیز بچوں اور اپنے چھوٹوں کے سامنے بھی انکساری و فروتنی اختیار کرنا اور ان کی خاطر داری کرنا مستحب ہے۔

6122Mishkaat-al-Masabih

امام حسن کی فضیلت

وعن أبي بكرة قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر والحسن بن علي إلى جنبه وهو يقبل على الناس مرة وعليه أخرى ويقول : إن ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين . رواه البخاري

اور حضرت ابوبکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) دیکھا کہ حسن بن علی ؓ آپ ﷺ کے (دائیں یا بائیں) پہلو میں تھے کبھی تو آپ ﷺ (وعظ و نصیحت میں تخاطب کے لئے) لوگوں کی طرف دیکھتے اور کبھی (پیار و محبت بھری نظروں سے) حسن بن علی ؓ کی طرف دیکھنے لگتے اور فرماتے کہ یہ میرا بیٹا سید ہے امید رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ (بخاری ) تشریح سید کے معنی اس شخص کے ہیں جو نیکی میں فائق ہو اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ سید اس شخص کو کہتے ہیں جو غصہ سے مغلوب نہ ہوتا ہو یعنی حلیم الطبع ہو ویسے سید کا اطلاق کئی معنوں پر ہوتا ہے مثلا مربی، مالک، شریف، فاضل، کریم، حلیم، اپنی قوم کی ایذاء پر تحمل کرنے والا، رئیس، سردار اور پیشواء۔ دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا، یہ ارشاد نبوت دراصل ان واقعات و حالت کی سچی پیش گوئی تھا جو حضرت علی ؓ کی خلافت کے ظہور پذیر ہوئے۔ اس وقت ملت اسلامیہ کا بڑا حصہ واضح طور پر دو طبقوں میں بٹ گیا تھا ایک طبقہ حضرت امام حسن ؓ کی خلافت و امارت کا قائل تھا اور دوسرے طبقہ نے حضرت امیر معاویہ ؓ کی امارت و حکمرانی کو تسلیم کیا تھا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس زمانہ میں خلافت و امارت کے سب سے بڑے حقدار حضرت حسن ؓ ہی تھے کیونکہ نہ صرف ذاتی، نسبی اور دینی عظمت و حشمت و بزرگی اور فضیلت و برتری ان کو حاصل تھی اور جس کی ایک بڑی دلیل یہی حدیث ہے کہ لسان نبوت نے ان کو سید فرمایا بلکہ ملی و سیاسی سطح پر بھی ان کو زبردست حمایت و طاقت حاصل تھی اور چالیس ہزار جوان مردوں کا لشکر جان کی بازی لگا دینے کا عہد کر کے اور امیر معاویہ سے لڑنے مارنے مرنے کا حلف اٹھائے ہوئے ان کی پست پر تھا، لیکن اس استحقاق اور طاقت کے باوجود انہوں نے محض اس خوف سے کہ نانا جان کی امت افتراق و انتشار اور باہمی خونریزی کا شکار ہوجائے گی، حکمرانی اور ملکی و دنیاوی سیادت کو ٹھکرا دیا اور آخرت کی فلاح و کامرانی کو اپنا منتہائے مقصود سمجھا چناچہ انہوں نے کسی کمزوری کے تحت نہیں، بلکہ اتحاد امت کے مقصد کے تحت اپنی مرضی اور خوش دلی کے ساتھ امیر معاویہ ؓ سے صلح کرلی اور ان کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگئے حضرت امام حسن ؓ اس زمانہ میں فرمایا کرتے تھے، اللہ کی قسم، مجھ کو یہ گوارا نہیں کہ امت محمدیہ میں سے کسی کے خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرے۔ امت کو خونزیزی سے بچانے کے لئے خلافت سے دستبرداری کا فیصلہ حضرت امام حسن ؓ کے بہت سے ساتھیوں کے لئے ناقابل قبول تھا، بعض انتہا پسندوں نے سیدنا حسن ؓ کو اس حد تک ملامت بنایا کہ ان کی مجلس میں پہنچ کر ان کو یوں مخاطب کرتے اسلام علیک یا عار المؤمنین۔ اور سیدنا حسن ؓ نہایت تحمل و بردباری کے ساتھ ان سے فرماتے العار خیر من النار اور سیدنا حسن ؓ نہایت و بردباری کے ان سے فرماتے العار خیر من النار (عار، نار سے بہتر ہے) حضرت حسن ؓ کے حق میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی (اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا) اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں ہی فرقے (یعنی امیر معاویہ کے پیرو اور سیدنا علی ؓ اور ان کے بعد سیدنا حسن ؓ کے پیرو) ملت اسلامیہ کا جزاء اور مسلمان تھے باوجودیکہ ان میں سے ایک فرقہ مصیب تھا اور ایک مخطی۔ نیز سیدنا حسن ؓ کا امیر معاویہ ؓ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوجانا اور ان سے صلح کرلینا اہل سنت و جماعت کے نزدیک اس امر کی دلیل ہے کہ اس صلح کے بعد حضرت امیر معاویہ ؓ کی خلافت و امارت شرعی طور پر قانونی اور جائز تھی یہاں یہ انتباہ ضروری ہے کہ اس زمانہ میں جو کچھ ہوا یعنی صحابہ کے درمیان اختلاف و نزاع کی جو صورت پید اور بعض مواقع پر ان کے درمیان جنگ و جدل کی جو نوبت آئی اور جس کو مشاجرات صحابہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اس کے بارے میں تمام سلف اور بزرگان دین نے ہمیشہ اپنی زبان بند رکھی صحابہ ؓ کی مقدس ہستیوں کو ہدف بنانا تو کجا، ان سے متعلق ان واقعات و حالات کو تنقید و تبصرہ کا موضوع بنانا بھی اسلاف میں عالم اور بزرگ کر گوارہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو ان کے خون سے دور رکھا ہے تو پھر ہم اپنی زبانوں کو ان پر تنقید و تبصرہ اور ان کی نکتہ چینی سے کیوں ملوث کریں۔ بہر حال سیدنا حسن ؓ کا فضل و شرف اس بات سے عیاں ہے کہ سرکار دو عالم نے ان کو سید فرمایا۔ حضرت ابوبکر ؓ ایک اور روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھانے میں مشغول ہوتے تھے کہ حسن ؓ عنہ، جو اس وقت چھوٹے سے تھے، مسجد میں آجاتے اور جب آنحضرت ﷺ سجدہ میں جاتے تو وہ آپ ﷺ کی گردن اور پیٹھ پر چڑھ جاتے تھے۔ پھر آنحضرت ﷺ سجدہ سے سر اس قدر آہستگی اور احتیاط سے اٹھاتے کہ حسن نیچے اتر جاتے (ایک دن) بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم آپ ﷺ کو اس منے کے ساتھ وہ معاملہ کرتے دیکھتے ہیں جو کسی اور کے ساتھ کرتے نہیں دیکھا! آپ ﷺ نے جواب دیا یہ منا میری دنیا کا پھول ہے، بلاشبہ میرا یہ بیٹا سید ہے امید رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو فرقوں کے درمیان صلح کرائے گا اور امام احمد نے حضرت امیر معاویہ ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ حسن ؓ کی زبان یا ان کے ہونٹ چوسا کرتے تھے اور اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس زبان یا ہونٹ کو عذاب سے ہرگز دو چار نہیں کرے گا جس کو رسول اللہ ﷺ نے چوسا ہو۔

6123Mishkaat-al-Masabih

حسن وحسین میری دنیا کے دو پھول ہیں

وعن عبد الرحمن بن أبي نعم قال : سمعت عبد الله بن عمر وسأله رجل عن المحرم قال شعبة أحسبه يقتل الذباب ؟ قال : أهل العراق يسألوني عن الذباب وقد قتلوا ابن بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هما ريحاني من الدنيا . رواه البخاري

اور حضرت عبدالرحمن بن ابی نعم کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے سنا جبکہ (اہل کوفہ میں سے) کسی شخص نے ان سے محرم کے بارے میں پوچھا تھا (اس روایت کو حضرت عبدالرحمن ؓ روایت کرنے والے راوی) حضرت شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ پوچھنے والے نے مکھی کو مار ڈالنے کا حکم دریافت کیا تھا۔ اس پر حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا عراق یعنی کوفہ کے لوگ مجھ سے مکھی مار ڈالنے کے بارے میں شرعی حکم دریافت کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے بیٹے کو مار ڈالا جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے دو پھول ہیں۔ (بخاری ) تشریح کسی کوفی نے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا ہوگا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص محرم ہو یعنی حج کا احرام باندھے ہوئے ہو اور اس حالت میں وہ مکھی مار ڈالے تو اس کا بدلہ کیا ہے، آیا اس پر دم لازم ہوگا یا صدقہ اور یا کچھ لازم نہیں ہوگا؟ اس پر حضرت ابن عمر ؓ نے بڑا گہرا طنز فرمایا کہ یہ کوفہ والے مجھ سے مکھی مار ڈالنے کے بارے میں شرعی حکم دریافت کر کے گویا یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم کو شرع کا بہت پاس لحاظ ہے اور تقوی و احتیاط کا دامن کسی حال میں ہاتھ سے نہیں چھوڑتے حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نہایت بےدردی سے نواسہ رسول (حسین ؓ کو شہید کر ڈالا اور اپنا نام ظالموں کی فہرست میں سب سے اوپر لکھوایا۔ میری دنیا کے دو پھول ہیں۔ لغت میں ریحان کے کئی معنی آتے ہیں رحمت، راحت روزی، رزق، چین اور آسائش۔ اور اسی مناسبت سے بیٹے کو بھی ریحان کہتے ہیں کہ اس کے دل کو راحت اور آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے، نیز خوشبو دار گھاس اور پھول کو بھی ریحان کہا جاتا ہے اور از راہ تشبیہ اس معنی کا بھی اطلاق بیٹے اور اولاد پر ہوسکتا ہے کیونکہ جس طرح خوشبو دار چیز یعنی پھول وغیرہ کو سونگھا جاتا ہے اسی طرح لوگ اولاد کو بھی سونگھتے اور چومتے ہیں اور طرح اپنا دل خوش کرتے ہیں۔

6124Mishkaat-al-Masabih

سرکار رسالت سے حسنین کی جسمانی مشابہت

وعن أنس قال : لم يكن أحد أشبه بالنبي صلى الله عليه و سلم من الحسن بن علي وقال في الحسن أيضا : كان أشبههم برسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه البخاري

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والا حسن بن علی ؓ کے علاوہ کوئی نہیں تھا نیز حضرت انس ؓ نے حضرت حسین ؓ کے بارے میں بھی کہا کہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ مشابہ تھے (بخاری ) تشریح آگے دوسری فصل میں حضرت علی ؓ کی روایت آرہی ہے جس میں انہوں نے تفصیل بیان فرمائی ہے کہ سر سے سینہ تک تو حسن آنحضرت ﷺ سے زیادہ مشابہ تھے اور باقی نیچے کے جسم میں حسنین ؓ آنحضرت ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے،

6125Mishkaat-al-Masabih

ابن عباس کے لئے دعاء علم وحکمت

وعن ابن عباس قال : ضمني النبي صلى الله عليه و سلم إلى صدره فقال : اللهم علمه الحكمة وفي رواية : علمه الكتاب . رواه البخاري

اور حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ کو سینہ مبارک سے لپٹا کر یوں دعا فرمائی تھی اس کو حکمت عطا فرما اور ایک روایت میں (دعا کے) یہ الفاظ آئے ہیں کہ خداوندا اس کو کتاب اللہ کا علم عطا فرمائیے۔ (بخاری) تشر یح سینہ سے لپٹانا دراصل اس طرف اشارہ تھا کہ علم کا منبع ومصدر اور حکمت کا مخزن و معدن سینہ مبارک ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ حکمت سے مراد حکمت فلسفہ نہیں بلکہ اتفاق علم و عمل یعنی علم میں تمام اوصاف و محاسن کے ساتھ تکمیل کرنا اور امور دین میں فہم صحیح مراد ہے۔ اور انسان کے لئے یہ وہ نعمت عظمی ہے جس کی طرف قرآن کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے آیت (یوتی الحکمۃ من یشاء ومن یوتی الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا)۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ مذکورہ دعا میں حکمت سے مراد حقائق اشیاء کا پہنچانا اور اس چیز پر عمل کرنے ہے جو سزا وار عمل ہو۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ حکمت سے مراد صحت کردار اور درست گفتار ہے اور بعض نے حکمت کا مصداق سنت نبوی (اقوال و افعال اور تقریر) کو قرار دیا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے آیت ( وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ) 2۔ البقرۃ 129) الغرض آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے لئے علم و حکمت اور فہم کتاب کی دعا فرمائی ہے اور وہ اس امت کے جلیل القدر عالم تھے ان کے علم و فضل اور حکمت و دانشمندی کا بڑے بڑے صحابہ کرام نے اعتراف و اقرار کیا ہے کہ اور نبی کریم ﷺ نے ان کے لئے علم و حکمت کی دعا فرمائی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ہجرت سے تین سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئے اور جب رسول کریم ﷺ کا وصال ہوا اس وقت ابن عباس ؓ تیرہ سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت پندرہ برس کے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے وقت دس سال کے تھے انہوں نے دو بار جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا ہے اور دو بار آنحضرت ﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی ہے۔ آخری عمر میں آنکھوں سے نابینا ہوگئے تھے وہ ٦٨ ھ میں مقام طائف میں فوت ہوئے ابن زبیر ؓ کا دور حکومت تھا اور انہوں نے اکہتر سال عمر پائی۔

6126Mishkaat-al-Masabih

آپ ﷺ کا دعا دینا

وعنه قال : إن النبي صلى الله عليه و سلم دخل الخلاء فوضعت له وضوءا فلما خرج قال : من وضع هذا ؟ فأخبر فقال : اللهم فقهه في الدين . متفق عليه

اور ان ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بیت الخلا میں داخل ہوئے تو میں نے آپ ﷺ کے لئے وضو کا پانی رکھا پس جب آپ ﷺ نکلے تو فرمایا یہ (پانی) کس نے رکھا ہے؟ آپ ﷺ کو خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس کو دین کی سمجھ عطا کر دے۔ (بخاری ومسلم ) تشریح یہ واقعہ اس رات کا ہے کہ جس رات حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اپنی خالہ میمونہ ام المؤمنین کے گھر ٹھہرے تھے تاکہ وہ آنحضرت ﷺ کی نماز تہجد کا طریقہ معلوم کرسکیں چناچہ یہ پورا واقع باب قیام اللیل (نماز تہجد کے بیان) میں گزر چکا ہے۔ اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ان (ابن عباس ؓ کو ایسا عالم بنا دے جو دین کے اصول و فروع اور اس کے کلیات و ضربات اچھی طرح جان و پہچان لیں اور انہیں اعلی درجہ کی عملی مہارت و فقاہت اور دین میں سمجھ بوجھ حاصل ہو۔ اس فقہ سے مراد صرف وہ متعارف فقہ نہیں ہے جس کا تعلق فروعی مسائل و معاملات، صوری عبادات اور فصل خصومات سے ہے بلکہ اس سے دین کی مکمل سمجھ بوجھ اور کامل مہارت مراد ہے امام نووی فرماتے ہیں اس حدیث سے فقہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور غائبانہ دعا کا مستحب ہونا واضح ہوتا ہے اور جو شخص کوئی خدمت انجام دے یا کوئی بھلائی کرے اس کے حق میں دعا کرنے کا استحباب مفہوم ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی دعا کی برکت سے ابن عباس ؓ کو علم میں بلندو اعلی رتبہ عطا فرمایا اور یہ آپ کی خدمت کا صلہ تھا کہ مرداں زخدمت بجائے رسند