عشرہ مبشرہ (رض) کے مناقب کا بیان
عشرہ مبشرہ ان دس جلیل القدر صحابہ کی جماعت کو کہتے ہیں جنہیں آنحضرت ﷺ نے خصوصی بشارت عطا فرمائی تھی اور وہ ہیں حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح اور حضرت سعید بن زید، یہ سب حضرات قریشی ہیں اور ان کے لئے جو افضلیت، مناقب اور احادیث منقول ہیں وہ اوروں کے حق میں منقول نہیں ہیں یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ جنت کی یہ خصوصی بشارت صرف انہی دس صحابہ کے حق میں منقول نہیں ہے بلکہ اہل بیت نبوت یعنی آنحضرت ﷺ کی اولاد اور ازواج مطہرات کے حق میں بھی اور ان کے علاوہ کچھ دوسرے صحابہ کے حق میں بھی منقول ہے۔ صرف ان دس صحابہ کے ذکر کے لئے اس علیحدہ باب کے قائم کرنے کی وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ کسی ایک حدیث میں یا الگ الگ حدیثوں میں مختلف خصوصی حیثیتوں سے ان کا جو ذکر آیا ہے وہ یکجا ہوجائے تاہم اس باب میں اس طرف اشارہ ضرورپایا جاتا ہے کہ صحابہ کی اس مبارک جماعت (عشرہ مبشرہ) کو اس ترتیب کے ساتھ تمام صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے کہ پہلے خلفاء اربعہ سب سے افضل ہیں اور پھر باقی حضرات دیگر تمام صحابہ سے افضل ہیں۔
حضرت عمر کے نامزد کردہ مستحقین خلافت
عن عمر رضي الله عنه قال : ما أحد أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر الذين توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو عنهم راض فسمى عليا وعثمان والزبير وطلحة وسعدا وعبد الرحمن . رواه البخاري
حضرت عمر فاروق سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنی وفات کے وقت ارباب حل وعقد اور اصحاب شورٰی کو مستحقین خلافت کم بارے میں وصیت کرتے ہوئے) فرمایا تھا اس امر یعنی منصب خلافت کا ان لوگوں سے زیادہ کوئی مستحق نہیں جن سے رسول اللہ ﷺ راضی اور خوش اس دنیا سے تشریف لے گئے اور پھر حضرت عمر نے یہ نام لئے علی، عثمان، زبیر، سعد اور عبدالرحمن،۔ (بخاری )
تشریح
راضی اور خوش اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ یوں تو آنحضرت ﷺ اپنے تمام ہی صحابہ سے راضی اور خوش تھے۔ مگر خصوصیت کے ساتھ ان لوگوں سے بہت زیادہ راضی اور خوش تھے اور ان سے آپ ﷺ کا راضی اور خوش ہونا یقینی طور پر سب کو معلوم بھی تھا، یا حضرت عمر کی مراد ان لوگوں کے تئیں آنحضرت ﷺ کی ایسی مخصوص رضا اور خوشنودی کی طرف اشارہ کرنا تھا جس کے سبب ان کا مستحقین خلافت ہونا ثابت ہوتا تھا۔ بہرحال ان الفاظ کا اصل مقصد مذکورہ حضرات کی ترجیح حیثیت کو ظاہر کرنا تھا جس کی بنیاد حضرت عمر نے گویا یہ بیان کی کہ ان لوگوں کے عشرہ مبشر میں سے ہونے کے سبب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی بہ نسبت ان لوگوں سے زیادہ راضی اور خوش تھے۔ حضرت عمر نے اس موقع پر عشرہ مبشرہ میں سے محض چھ حضرات کا ذکر اس لئے کیا کہ حضرت ابوبکر اور خود حضرت عمر کا سب سے زیادہ افضل ہونا تو سب کو معلوم تھا، اس بنا پر ان دونوں ناموں کے ذکر کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ تیسرے صاحب حضرت ابوعبیدہ بن الجراح، جن کو آنحضرت ﷺ نے امین امت اور امین حق الامین فرمایا تھا حضرت عمر سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے اور چوتھے صحابہ حضرت سعید بن زید چونکہ حضرت عمر کے بہنوئی تھے اس لئے حضرت عمر نے اس احتیاط کے مدنظر ان کا ذکر نہیں کیا کہ کہیں کوئی یہ تہمت نہ دھر دے کہ مستحقین خلافت کی فہرست میں سعید کا نام قرابت داری کی جہت سے آیا ہے، ویسے بعض روایتوں میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے سعید کا نام ان لوگوں کے زمرہ میں تو ذکر کیا تھا جن سے رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے خوش وراضی تشریف لے گئے لیکن ارباب حل وعقد اور اصحاب شورٰی میں ان کا نام نہیں رکھا تھا۔
جاننا چاہئے کہ امامت و خلافت شرعی طور پر جائز اور قانونی (واجب التسلیم) یا تو اس صورت میں ہوئی ہے کہ ارباب حل وعقد اس شخص کو امام و خلیفہ تعین و صراحت کے ساتھ کسی ایسے شخص کو اپنا جانشین نامزد کر جائے جو منصب خلافت کی ذمہ ذاریاں نبھانے کی اہلیت و لیاقت رکھتا ہو جیسے حضرت ابوبکر کے نامزد کردینے سے حضرت عمر کی خلافت قائم ہوئی، نیز اگر کوئی ایسا شخص خلیفہ منتخب ومقرر ہوجائے جو اپنی وجاہت و حیثیت کے اعتبار سے منقول ہو اور اس سے افضل شخص موجود ہو تو اس کی خلافت شرعی اور قانونی طور پر جائز مانی جائے گی کیونکہ خلفاء راشدین کے بعد قریش میں سے ایسے بعض لوگوں کی خلافت پر علماء کا اجتماع ثابت ہے جو اپنے سے افضل لوگوں کی موجودگی میں خلیفہ مقرر ہوئے تھے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی ایک غیر افضل شخص ملکی وحکومتی اور سیاسی امور میں افضل شخص سے زیادہ با صلاحیت ثابت ہوتا ہے اور اس خصوصی صلاحیت کی بنا پر ایسا شخص دینی معاملات کی بہتر طور پر نگرانی رکھ سکتا ہے، کاربار حکومت کو کار گر طریقہ سے انجام دے سکتا ہے رعایا کی خبر گیری کرسکتا ہے، ملک وملت کو نقصان پہنچا نے والے فتنوں اور سازشوں سے مؤثر انداز میں نمٹ سکتا ہے اور یہ کہ ملکی وملی استحکام وسا لمیت کو اچھی طرح برقرار رکھ سکتا ہے۔ رہی بات کہ بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ امامت و خلافت کی سزا وار وہی ذات ہوسکتی ہے جو معصوم ہوہاشمی ہو اور اس کے ہاتھ پر کوئی ایسا معجزہ ظاہر ہو جس سے اس کی راستی اور سچائی جانی جائے تو یہ محض شیعوں کا خرافاتی نظر یہ ہے اور ان کی جہالت کا آئینہ دار بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہی نظریہ ان کی گمراہیوں کی تمہید اور مقدمہ ہے جن کے ذریعہ انہوں نے ملت اسلامیہ میں افتراق و انتشار اور طبقاتی وگروہی محاذ آرائی کی بنیاد ڈالی۔ ان میں سے ایک بڑی گمراہی تو ان کی یہی ہے کہ وہ حضرت علی کے علاوہ باقی تمام خلفاء کی امامت و خلافت کو بےاصل اور باطل مانتے ہیں۔
وعن قيس بن حازم قال : رأيت يد طلحة شلاء وقى بها النبي صلى الله عليه و سلم يوم أحد . رواه البخاري
اور حضرت قیس بن ابی حازم (تابعی) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طلحہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو (سالہا سال بعد بھی) بالکل بیکار اور شل تھا، انہوں نے اس ہاتھ سے غزوہ احد کے دن نبی کریم ﷺ کو (کفار کے حملوں سے) بچایا تھا۔ (بخاری)
تشریح
غزوہ احد کے دن حضرت طلحہ نے کمال جانثاری کا ثبوت دیا تھا اور آنحضرت ﷺ کو کفار کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خود کو سپر بنالیا تھا، وہ تلواروں کو اپنے ہاتھ پر روک روک کر آنحضرت ﷺ کو گزند سے بچاتے تھے۔ چناچہ نہ صرف یہ کہ ان کا ہاتھ زندگی بھر کے لئے شل اور بےکار ہو کر رہ گیا تھا بلکہ ان کے پورے جسم پر اسی زخم لگے تھے اور عضو مخصوص بھی زخمی ہوگیا تھا صحابہ کر ام جب بھی غزوہ احد کے دن کا تذکرہ کرتے تو کہا کرتے تھے کہ وہ دن تو درحقیقت طلحہ کی جانثاری اور فدا کاری سے بھر پور دن تھا۔ حضرت طلحہ عبیداللہ کے بیٹے اور قریشی ہیں، کنیت ابومحمد (یا ایک قول کے مطابق ابوعمرو) تھی، قدیم الاسلام ہیں غزوہ بدر کے علاوہ اور تمام غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک رہے ہیں غزوہ بدر میں اس وجہ سے شریک نہیں ہوسکے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے کام سے کہیں گئے ہوئے تھے۔ حضرت طلحہ کا رنگ گندمی تھا اور بال کثرت سے تھے، بڑے وجہیہ اور خوبصورت آدمی تھے ٦٤ سال کی عمر میں جنگ جمل کے موقع پر ٢٠ جمادی الثانی ٣٦ ھ پنجشنبہ کے دن شہید ہوئے اور بصرہ میں دفن کئے گئے۔
وعن جابر قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : من يأتيني بخبر القوم يوم الأحزاب ؟ قال الزبير : أنا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن لكل نبي حواريا وحواري الزبير متفق عليه
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ غزوہ احزاب (یعنی غزوہ خندق) کے موقع پر ایک دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کون شخص ہے جو (دشمن کے) لوگوں کی خبر میرے پاس لائے؟ زبیر بولے میں لاؤں گا۔ تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے حواری (یعنی خاص دوست اور مددگار ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں (بخاری ومسلم)
تشریح
حزب کی جمع ہے جس کے معنی گروہ کے ہیں اس موقع پر چونکہ مختلف اسلام دشمن گروہ یعنی قریش اور غیر قریش کے قبائل اور مدینہ کے وہ یہودی جن کا تعلق بنوقریظہ اور جلاوطن بنونضیر سے تھا، متحد اور جمع ہو کر آنحضرت ﷺ سے لڑنے آئے تھے اس لئے اس غزوہ کو غزوہ احزاب کہا جاتا ہے اس غزوہ میں دشمن کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار تھی اور مجاہدین اسلام کل تین ہزار نفر دشمن دراصل مرکز اسلام کو تاخت و تاراج کردینے کے منصوبے کے تحت حملہ آور ہوا تھا اور اس کا ٹڈی دل لشکر تقریبا ایک مہینہ تک مدینہ کو گھیرے پڑا رہا۔ آنحضرت ﷺ نے تمام مجاہدین اسلام کی مدد سے دفاعی کاروائی کے طور پر مدینہ شہر کے گرد خندق کھودی تھی اور اس مناسبت سے اس غزوہ کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے۔ وہ بڑے سخت دن تھے اور اہل اسلام نہایت پریشانیوں اور دشواریوں میں گھر کر رہ گئے تھے۔ باقاعدہ صف آرائی اور جنگ کی نوبت نہیں آئی، تاہم سنگ باری اور تیر انداز کے واقعات پیش آتے رہتے تھے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا لشکر نازل کیا اور ایسی آندھی بھیجی کہ دشمن کے خیمے اکھڑے گئے، چولہوں پر سے دیگچیاں اوندھی ہوگئیں جابجا ڈیروں میں آگ گل ہوگئی اور ہیبت ناک اندھیرا چھا گیا اور دشمن کا لشکر خوف و دہشت کے مارے راتوں رات بھاگ کھڑا ہوا۔ ان دنوں چونکہ یہودیوں اور منافقوں کے سبب مدینہ شہر کے اندر اور دشمن کے محاصرہ کے سبب باہر تک ہر طرف ایسی خطرناک صورت حال تھی کہ جنگی مصالح ومفاد سے متعلق معلومات فراہم کرنا اور دشمنوں کے بارے میں خبریں منگانا سخت دشوار مرحلہ تھا، اس لئے جب حضرت زبیر نے تمام خطرات اور دشواریوں کے باوجود اس خدمت کے لئے خود کو پیش کیا تو آنحضرت ﷺ نے ان کی زبردست تحسین فرمائی اور ان کو اپنا حواری ہونے کا اعزاز عطا فرمایا۔
حضرت زبیر عوام کے بیٹے اور ابوعبداللہ قرشی کی کنیت سے مشہور ہیں۔ ان کی والدہ حضرت صفیہ بنت عبد المطلب آنحضرت ﷺ کی حقیقی پھوپھی تھیں، زبیربن العوام قدیم الاسلام ہیں یعنی ابتداء ہی میں اسلام کی دولت سے بہرہ مند ہوگئے تھے اور اس وقت سولہ سال کے تھے۔ اس چھوٹی سی عمر میں جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان کے چچا نے ان پر بڑے ظلم ڈھائے یہاں تک کہ ان کو دھوئیں میں بند کردیا گیا تاکہ اس عذاب سے گھبرا کر اسلام ترک کردیں لیکن انہوں نے نہایت استقامت کے ساتھ اس سخت عذاب کو برداشت کیا اور اسلام سے پھیرے نہیں۔ آنحضرت ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شریک ہوئم اور سب سے پہلے اسلام کی راہ میں تلوار کھینچنے والے یہی زبیر بن العوام تھے۔ غزوہ احد کے دن بڑے استقلال اور ثابت قدمی سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہے اور شجاعت وجانثاری کے جوہر دکھائے۔ حضرت زبیر طویل قامت قدرے نحیف الجثہ اور گورے رنگ کے تھے۔ ٣٦ ھ میں جنگ صفین سے واپسی پر راستہ ہی میں بصرہ کے علاقہ میں سفوان پر عمر و بن جرموز نے ان کو شہید کردیا، اس وقت ان کی عمر ٦٤ سال کی تھی وادی اسباع میں دفن کئے گئے پھر نعش مبارک بصرہ منتقل کردی گئی اور مشہور ہے کہ ان کی قبر وہیں (بصرہ) میں ہے۔
وعن الزبير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يأتي بني قريظة فيأتيني بخبرهم ؟ فانطلقت فلما رجعت جمع لي رسول الله صلى الله عليه و سلم أبويه فقال : فداك أبي وأمي . متفق عليه
اور حضرت زبیر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کون ہے جو بنی قریظہ (کے یہودیوں) میں جائے اور ان کے بارے میں ضروری معلومات لا کر مجھے دے، چناچہ (آپ ﷺ کا یہ ارشاد سن کر) میں روانہ ہوگیا اور جب ان کے بارے میں معلومات حاصل کرکے واپس آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ماں باپ دونوں پر جمع کردیئے، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا میرے ماں باپ تم پر صدقے۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
بنوقریظہ کے یہودیوں نے غزوہ احزاب کے موقع پر ایسی عہد شکنی اور بد معاملگی کا ارتکاب کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ان کی سرکوبی ضروری سمجھا اور غزوہ احزاب سے فارغ ہوتے ہی ان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ نے پندرہ روز تک (ایک تاریخی روایت کے مطابق پچیس روز) ان کا محاصرہ کئے رکھا اور آخر کار ان کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ پس اسی موقع پر آپ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی کہ کون بہادر ہے جو بنوقریظہ کے بارے میں جنگی معلومات فراہم کرکے میرے پاس لائے یا یہ کہ غزوہ احزاب میں بھی بنوقریظہ دشمن کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور مسلمانوں کے خلاف جنگی کاروائیوں میں شامل تھے ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر بنوقریظہ کے بارے میں ضروری معلومات آپ ﷺ کو درکار ہوں اور آپ ﷺ نے یہ بات فرمائی ہو۔ میرے ماں باپ تم پر صدقے۔ یہ بارگاہ رسالت کی طرف سے حضرت زبیر کی قدر منزلت کی توثیق کرنا اور ان کے اس کارنامہ پر ان کو زبردست اعزاز عطا کرنا تھا جو انہوں نے نہایت جرأت وبہادری کے ساتھ انجام دیا تھا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی بھی شخص یہ الفاظ اسی ہستی کے حق میں استعمال کرتا ہے جس کو وہ نہایت معزز ومکرم سمجھتا ہے اور اس کی تعظیم کرتا ہے اس اعتبار سے حضرت زبیر کی شان میں آنحضرت ﷺ نے دو مرتبہ اپنے ماں باپ دونوں مجھ پر جمع کئے (یعنی یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر صدقے) ایک مرتبہ تو جنگ احد کے موقع پر اور دوسری مرتبہ بنو قریظہ کے خلاف کاروائی کے موقع پر ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت زبیر نے اپنے بیٹے حضرت عروہ سے کہا برخوردار! میرے بدن کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ کی معیت میں (جنگوں کے دوران) زخمی نہ ہوا ہو۔
وعن علي قال : ما سمعت النبي صلى الله عليه و سلم جمع أبويه لأحد إلا لسعد بن مالك فإني سمعته يقول يوم أحد : يا سعد ارم فداك أبي وأمي . متفق عليه
اور حضرت علی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو کسی کے لئے ماں باپ کو جمع کرتے نہیں سنا علاوہ سعد بن مالک کے۔ چناچہ جنگ احد کے دن (جبکہ سعد دشمن کافروں کو آنحضرت ﷺ تک پہنچنے سے روکنے کے لئے جواں مردی کے ساتھ تیر مار مار کر ان کو پیچھے ہٹا رہے تھے میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا سعد! چلاؤ اور تیر چلاؤ میرے ماں باپ تم پر صدقے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
سعد بن مالک سے مراد سعد بن ابی وقاص ہیں، دراصل ابی وقاص کا نام مالک ابن وہب تھا اور اس اعتبار سے سعد بن ابی وقاص کو سعد بن مالک بھی کہا جاتا تھا۔ اوپر کی حدیث میں آنحضرت ﷺ کا اپنے ماں باپ کو جمع کرنا، حضرت زبیر کے حق میں بھی منقول ہے جبکہ یہاں حضرت علی یہ فرما رہے ہیں کہ سعد بن مالک کے علاوہ اور کسی کے لئے آنحضرت ﷺ نے اپنے ماں باپ کو جمع نہیں کیا۔ لہٰذا اوپر کی حضرت زبیر کی روایت اور حضرت علی کی اس روایت دونوں کے درمیان مطابقت کی خاطر یہ کہا جائے گا کہ دراصل حضرت علی کو معلوم نہیں تھا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت زبیر کے حق میں بھی یہ جملہ ارشاد فرمایا یا کہ حضرت علی کی مراد یہ تھی کہ خود میں نے کسی واسطہ کے بغیر آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے جملہ سعد کے علاوہ اور کسی کے حق میں نہیں سنا پس ان کا یہ کہنا اس بات کے منافی نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ جملہ حضرت زبیر کے حق میں بھی فرمایا ہو اور اس کا علم حضرت علی کو بالواسطہ طور پر ہوا ہو۔
حضرت سعد کی کنیت ابواسحاق ہے اور زہری وقرشی کرکے مشہور ہیں۔ قدیم الاسلام ہیں یعنی آغاز دعوت اسلام ہی میں سترہ سال کی عمر میں مشرف با اسلام ہوگئے تھے۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں تیسرا مسلمان ہوں مجھ سے پہلے صرف دو آدمی اسلام لائے تھے اور اللہ کی راہ میں اسلام کی طرف سے سب سے پہلے تیر چلانے والا میں ہوں۔ حضرت سعد آنحضرت ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شریک ہوئے ہیں اور مستجاب الدعوات مانے جاتے تھے۔ ان کی حیثیت عوام و خواص میں اس قد ر مشہور تھی کہ لوگ ان کی بدعا سے ڈرتے تھے اور ان کی نیک دعاؤں کے طلب گار رہا کرتے تھے۔ دراصل ان کو یہ مقام اس بنا پر حاصل ہوا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی تھی اے اللہ! سعد کی دعائیں قبول فرما۔ حضرت زبیر کے علاوہ صرف حضرت سعد ہی وہ خوش نصیب ہستی ہیں جن کے لئے آنحضرت ﷺ نے اپنے ماں باپ کو جمع کیا، یعنی الگ الگ موقعوں پر ان دونوں کو مخاطب کرکے فرمایا تھا میرے ماں باپ تم پر صدقے، یہ عظیم اعزاز ان دونوں کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ حضرت سعد کا رنگ گندمی تھا اور ان کے بدن پر بہت بال تھے ٥٥ ھ میں اس محل میں ان کا انتقال ہوا جو انہوں نے مدینہ شہر کے قریب وادی عتیق میں بنوایا تھا، جنازہ مدینہ منورہ لایا گیا اور اس وقت کے حاکم مدینہ ابن الحکم نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی اس وقت حضرت سعد کی عمر کچھ اوپر ستر سال کی تھی اور عشرہ مبشرہ میں سب کے بعد ان کا انتقال ہوا۔ حضرت عمر نے ان کو کوفہ کا حکم مقرر کیا تھا، پھر بعد میں حضرت عثمان نے بھی اس منصب پر ان کو دوبارہ کوفہ بھیجا تھا۔ صحابہ اور تابعین کی ایک بڑی جماعت کو ان سے احادیث کی سماعت اور روایت کا شرف حاصل ہے۔
اللہ کی راہ میں سب سے پہلا تیر حضرت سعد نے چلایا
وعن سعد بن أبي وقاص قال : إني لأول العرب رمى بسهم في سبيل الله . متفق عليه
اور حضرت سعد ابی وقاص کہتے ہیں کہ میں پہلاعرب مسلمان ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یعنی میں وہ شخص ہوں جس نے اسلام میں سب سے پہلے اللہ کے دشمنوں پر تیر چلایا مجھ سے پہلے کسی نے اللہ کی راہ میں تیر نہیں چلایا تھا۔ یہ ١ ھ کا واقعہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن الحارث کی سر کردگی میں ساٹھ سواروں کا ایک چھوٹا سا لشکر ابوسفیان بن حرب اور اس کے ساتھ مشرکین کے مقابلہ پر روانہ فرمایا تھا، جنگ کی نوبت نہیں آئی، صرف اتنا ہوا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے ان دشمنان اسلام کی طرف ایک تیرپھینکا اور یہ سب سے پہلا تیر تھا جو اہل اسلام کی طرف سے دشمنان اسلام پر چلایا گیا۔
وعن عائشة قالت : سهر رسول الله صلى الله عليه و سلم مقدمه المدينة ليلة فقال : ليت رجلا صالحا يحرسني إذ سمعنا صوت سلاح فقال : من هذا ؟ قال : أنا سعد قال : ما جاء بك ؟ قال : وقع في نفسي خوف على رسول الله صلى الله عليه و سلم فجئت أحرسه فدعا له رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم نام . متفق عليه
اور حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ (ایک مرتبہ کسی غزوہ سے) مدینہ میں (واپس) آکر (دشمنان دین سے خطرہ کے سبب رات میں سوئے نہیں اور پھر آپ ﷺ فرمانے لگے کہ کاش کوئی نیک بخت مرد (آج کی رات) میری نگہبانی کرتا آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہی تھا کہ اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی (جیسے کوئی شخص تلوار وکمان سنبھالے باہر چوکی پہرے پر ہو اور اس کے ہتھیار کھڑکھڑا رہے ہوں) آپ ﷺ نے (یہ آواز سن کر) پوچھا کون ہے! جواب ملا میں سعد ہوں! آنحضرت ﷺ نے سوال کیا (اتنی رات گئے) یہاں تم کیسے آگئے؟ سعد بولے میرے دل میں رسول اللہ ﷺ کی نسبت خوف پیدا ہوا (کہ کہیں دشمنان دین آپ کو ضرر نہ پہنچائیں) لہٰذا میں یہاں حاضر ہوگیا ہوں کہ آپ ﷺ کی نگہبانی کروں (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے سعد کو دعائیں دیں اور (اطمینان سے) سوگئے۔ (بخاری ومسلم )
ابو عبیدہ کو |" امین الامت |" کا خطاب
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل أمة أمين وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح . متفق عليه
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے (کہ وہ اللہ اور اللہ کے بندوں کے حقوق میں اور اپنے نفس کے بارے میں خیانت نہیں کرتا) اور اس امت کے آمین ابوعبیدہ ابن الجراح ہیں۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
اگرچہ تمام ہی صحابہ وصف امانت کے حامل تھے لیکن صرف حضرت ابوعبیدہ کو اس امت کا امین اس اعتبار سے فرمایا گیا کہ یا تو ان میں یہ وصف دوسرے صحابہ کی بہ نسبت زیادہ غالب تھا یا یہ کہ خود ان کے دوسرے اوصاف کی بہ نسبت یہ وصف ان پر زیادہ غالب تھا۔ بہرحال حضرت ابوعبیدہ اپنے ذاتی محاسن و کمالات کی بنا پر بڑے شان والے صحابی ہیں اور ان کے مناقب و فضائل میں اور بھی بہت سی رواتیں منقول ہیں۔ ان کے جو مختلف پندونصائح مختلف کتابوں میں مذکور ہیں ان میں سے ایک یہ نصیحت نہایت قیمتی ہے۔ بادروا السیأات القد یمات بالحسنات الحادثات والا رب مبیض لثیابہ مدلس لدینہ والا رب مکرم لنفسہ وہو لہا مہین پچھلے گناہوں پر ( خمیازہ بھگتنے سے پہلے) نئی نیکیاں بڑھالو اور یاد رکھو ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی پوشاک تو اجلی رکھتے ہیں لیکن اپنا دین میلا رکھتے ہیں اور یہ بھی یاد رکھو کہ بعض لوگ اپنے آپ کو عزت دار محسوس کرتے ہیں حالانکہ انجام کے اعتبار سے وہ خود کو ذلت و خواری میں ڈالنے والے ہیں۔
حضرت ابوعبیدہ کا اصل نام عامر بن عبداللہ بن جراح ہے فہری قرشی کہلاتے ہیں، آپ حضرت عثمان بن مظعون کے ساتھ دائرہ اسلام و ایمان میں داخل ہوئے تھے، پہلے حبشہ کو ہجرت کی پھر دوسری بار ہجرت کرکے مدینہ آگئے تھے، آپ تمام غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ہمراہ شریک ہوئے ہیں اور غزوہ احد میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ میدان جنگ میں ثابت قدم رہے۔ جب اس غزوہ میں آنحضرت ﷺ زخمی ہوئے اور خود کی کڑیاں آپ ﷺ کے چہرہ مبارک میں پیوست ہوگئیں تو حضرت ابوعبیدہ ہی نے ان کڑیوں کو اپنے دانتوں سے پکڑ کر کھینچا اور اس کی وجہ سے ان کے سامنے کے دو دانت گرپڑے تھے۔ حضرت ابوعبیدہ دراز قد خوب رو اور ہلکے بدن کے تھے۔ ١٨ ھ میں طاعون اسو اس میں مبتلا ہو کر اردن میں واصل بحق ہوئے اور نبی ان کے مقام پر دفن کئے گئے اس وقت آپ کی عمر اٹھاون سال کی تھی اور نماز جنازہ حضرت معاذ بن جبل نے پڑھائی۔
وعن ابن أبي مليكة قال : سمعت عائشة وسئلت : من كان رسول الله صلى الله عليه و سلم مستخلفا لو استخلفه ؟ قالت : أبو بكر . فقيل : ثم من بعد أبي بكر ؟ قالت : عمر . قيل : من بعد عمر ؟ قالت : أبو عبيدة بن الجراح . رواه مسلم
اور حضرت ابن ابی ملیکہ (تابعی) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ اس وقت سنا جب ان سے پوچھا گیا کہ (فرض کیجئے) اگر رسول اللہ ﷺ خلافت کے لئے (صراحتہ) کسی کو نامزد فرماتے تو آپ کی نگاہ انتخاب کس پر جاتی؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا حضرت ابوبکر پر! پھر ان سے پوچھا گیا حضرت ابوبکر کے بعد کس کو نامزد فرماتے؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا عمر کو پھر پوچھا گیا اور حضرت عمر کے بعد کس کا نمبرآتا؟ حضرت عائشہ بولیں ابوعبیدہ بن الجراح کا۔ (مسلم)
تشریح
ابوعبیدہ چونکہ امین الامت تھے اور منصب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اہلیت و لیاقت رکھتے تھے اس لئے ان کا مستحقین خلافت میں شمار ہونا عین موزوں تھا چناچہ وصال نبوی کے بعد جب آنحضرت ﷺ کے جانشین اور خلیفہ کے انتخاب کا مرحلہ درپیش تھا حضرت ابوبکر نے فرمایا تھا کہ! بار خلافت اٹھانے کے لئے مجھے آگے کیوں کرتے ہو تمہارے درمیان یہ عمر ہیں علی ہیں یہ ابوعبیدہ بن الجراح ہیں ان میں سے جس کو چاہو خلیفہ منتخب کرلو لیکن حل وعقد اور عمائدین ملت کا کہنا تھا کہ آپ سے زیادہ اہل ولائق اور کون ہوسکتا ہے، جب آنحضرت ﷺ نے اپنے مرض الموت میں ہماری دینی قیادت (یعنی نماز کی امامت کے لئے) آپ ہی کو آگے کیا تھا تو پھر کس کی مجال ہے کہ ہماری دنیاوی وملی قیادت کے لئے آپ کو ترجیح نہ دے بہر حال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ اس نظریہ کی حامل تھیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے بعد باقی اصحاب شوریٰ میں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ہی خلافت کے سب سے زیادہ اہل اور مستحق تھے۔
حرا پہاڑ پر ایک نبی اور ایک صدیق اور پانچ شہید
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان على حراء هو وأبو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير فتحركت الصخرة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اهدأ فما عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد . وزاد بعضهم : وسعد بن أبي وقاص ولم يذكر عليا . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان غنی حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر، حراء پہاڑ پر کھڑے تھے کہ (ان کے پیروں کے نیچے کا) پتھر حرکت کرنے لگا۔ رسول کریم ﷺ نے (اس پتھر کو مخاطب کرکے فرمایا ٹھہر جا تیرے اوپر کوئی دوسرا نہیں کھڑا ہے۔ یا نبی ہے یا صدیق ہے یا شہداء ہیں اور بعض راویوں نے اور سعد بن ابی وقاص کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے اور علی کا ذکر نہیں کیا ہے۔
تشریح
شہداء سے مراد حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر تھے، چناچہ ان سب حضرات کو شہادت ہی کی موت ملی، ان میں سے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر جنگ جمل کے موقع پر شہیدکئے گئے اور اگرچہ ان کی موت عین جنگ کے دوران واقعہ نہیں ہوئی ہوئی تھی بلکہ جنگ سے باہر ظلما مارے گئے تھے لیکن چونکہ یہ ثابت ہے کہ جس شخص کو ظلما قتل کردیا جائے وہ شہید ہوتا ہے اس لئے ان دونوں کو بھی شہادت کا مرتبہ نصیب ہوا۔ اور علی کا ذکر نہیں کیا۔ اس سے پہلے جملہ میں زاد کا لفظ کسی ناقل روایت کے تسامح کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ اس راوی کی روایت میں حضرت علی کے بجائے حضرت سعد بن ابی وقاص کا ذکر معاوضہ اور مبادلہ کی صورت ہے نہ کہ اضافہ کی۔ بہر حال اس ورایت میں، کہ جس میں حضرت سعد بن ابی وقاص کا ذکر ہے۔ یہ اشکال پیش آتا ہے کہ ان کو تو شہادت کی موت نہیں بلکہ وادی عقیق واقع اپنے محل میں فوت ہوئے تھے! اس اشکال کو دور کرنے کے لئے یا تو یہ توجیہ کی جائے گی کہ آپ ﷺ نے ان سب حضرات کو تغلیبا شیہدا فرمایا تھا گویا آپ ﷺ کی مراد یہ تھی ایک نبی اور ایک صدیق کے علاوہ باقی وہ لوگ ہیں جن میں سے اکثر وبیشتر شہید ہوں گے یا جیسا کہ سید جمال الدین نے لکھا ہے، یہ کہا جائے گا کہ حضرت سعد کی موت کسی ایسے مرض کے سبب واقع ہوئی تھی جس میں مبتلا ہو کر مرنے والا شہید کے حکم میں ہوتا ہے، جیسے پیٹ کی بیماری وغیرہ۔۔
عن عبد الرحمن بن عوف أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أبو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلي في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وعبد الرحمن بن عوف في الجنة وسعد بن أبي وقاص في الجنة وسعيد بن زيد في الجنة وأبو عبيدة بن الجراح في الجنة . رواه الترمذي
حضرت عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان، جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنت میں ہیں، سعد بن ابی وقاص جنت میں ہیں، سعید ابن زید جنت میں ہیں اور ابوعبیدہ بن الجراح جنت میں ہیں،۔ (ترمذی) اور ابن ماجہ کی روایت کو سعید ابن زید سے نقل کیا ہے۔۔
تشریح
حضرت سعید بن زید جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ایک ہیں، حضرت عمر فاروق کے بہنوئی تھے، حضرت عمر کی بہن حضرت فاطمہ ان سے منسوب تھی اور یہی وہ فاطمہ ہیں جو حضرت عمر کے قبول اسلام کا ذریعہ بنی تھی۔ حضرت سعید ٥١ میں بعمر ستر سال واصل بحق ہوئے اور بقیع میں دفن کئے گئے۔ حدیث میں مذکورہ یہ دس جلیل القدر صحابہ جنت کی بشارت کے ساتھ جو بہت زیادہ مشہور اور ممتاز ہیں۔ تو اس کی مختلف وجوہات میں سے ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ ان سب حضرات کے حق میں جنت کی بشارت ایک سات ایک حدیث میں بیان فرمائی گئی ہے، ورنہ یہ بات نہیں ہے کہ جنت کی اس طرح مخصوص بشارت ان کے علاوہ اور کسی کے لئے منقول نہیں ہے، اوروں کو بھی اس بشارت سے نوازا گیا ہے۔
ایک نکتہ جو بہت اہمیت کا حامل ہے
یہاں اس نکتہ کی طرف توجہ مبذول کرانا ضروری ہے کہ احادیث میں جہاں بھی خلفاء اربعہ کا ذکر آیا ہے وہ اسی ترتیب کے ساتھ آیا ہے جو اوپر کی حدیث سے ظاہر ہے یعنی پہلے ابوبکر کا نام، پھر حضرت عمر کا نام پھر حضرت عثمان کا نام پھر حضرت علی کا نام۔ اس سے اہل سنت والجماعت کے عقیدہ ومسلک کا درست اور برحق ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ گمان کرنا کہ شاید احادیث کے راویوں نے اپنے عقیدہ ومسلک کی رعایت کرتے ہوئے ان احادیث میں خلفاء اربعہ کے ذکر کی ترتیب میں ردوبدل کردیا ہو، بدترین درجہ کی ناانصافی ہوگی۔ حاشاوکلا کہ اگر راوی کسی موقع پر حدیث کے ترتیب بیان میں تھوڑی تبدیلی اور معمولی تقدیم و تاخیر ضروری سمجھ کر کرتے بھی ہیں تو اسی صورت میں جبکہ حدیث کے مفہوم اور مقصد ومنشاء میں ہلکا سا بھی فرق پیدا نہ ہو ایسی صورت میں تصور بھی، نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اتنے اہم معاملہ میں کسی تبدیلی اور تقدیم و تاخیر کے روا دار ہوسکتے ہیں زبان رسالت سے جس ترتیب کے ساتھ خلفاء اربعہ کا ذکر ہوتا ہے۔ بعینہ اسی ترتیب کے ساتھ راوی بیان کرتے ہیں۔
چند صحابہ (رض) اجمعین، کی خصوصی حیثیتوں کا ذکر
وعن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أرحم أمتي بأمتي أبو بكر وأشدهم في أمر الله عمر وأصدقهم حياء عثمان وأفرضهم زيد بن ثابت وأقرؤهم أبي بن كعب وأعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل ولكل أمة أمين وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح رواه أحمد والترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح وروى معمر عن قتادة مرسلا وفيه : وأقضاهم علي
اور حضرت انس نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میری امت میں ابوبکر ہی میری امت کے لوگوں کے حق میں سب سے زیادہ مہربان اور سب سے بڑے درد مند ہیں (کہ وہ نہایت لطف و مہربانی اور درد مندی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور ان کو فلاح ونجات کے راستہ پر لگاتے ہیں) اور میری امت کے لوگوں میں عمر اللہ کے دین کے معاملات میں سب سے زیادہ سخت ہیں (کہ نہایت سختی اور مضبوطی کے ساتھ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں) اور میری امت کے لوگوں میں عثمان سب سے سچے حیادار ہیں اور میری امت کے لوگوں میں سب سے بڑے فرائض داں زید بن ثابت ہیں اور میری امت کے لوگوں میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے اور سب سے بڑے ماہر تجوید قرآن ابی ابن کعب ہیں اور میری امت میں حلال و حرام کو سب سے زیادہ جاننے والے معاذ بن جبل ہیں اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین عبیدہ بن الجراح ہیں۔ (احمد و ترمذی) اور ترمذی نے کہا ہے کہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس حدیث کو معمر نے بھی قتادہ سے بطریق ارسال نقل کیا ہے اور (معمر کی) اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ میری امت کے لوگوں میں حق کے مطابق سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے علی ہیں۔
تشریح
۔۔۔۔ عثمان سب سے سچے حیادار ہیں۔ حیاء کا وصف، کہ جو ایمان کی ایک بڑی شاخ ہے۔ حضرت عثمان کے ساتھ ایک طرح کی خصوصی اور امتیازی نسبت رکھتا ہے تھا اور ان کی حیاداری اور غیرت مندی کو مثالی حیثیت حاصل تھی رہی یہ بات کہ سچی حیاداری سے کیا مراد ہے تو اس میں دراصل اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ بسا اوقات حیاء اور غیرت کا اظہار طبعی تقاضہ کے تحت ایسے موقع پر بھی ہوتا ہے جو شرعی نکتہ نظر سے حیاء اور غیرت کا تقاضا نہیں کرتا پس حضرت عثمان اسی سچی اور معتبر حیاء کے حامل تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ سب سے بڑے فرائض داں زید بن ثابت ہیں۔ یعنی فرائض اور میراث کا علم فنی اور تحقیقی مضبوطی کے ساتھ زید بن ثابت میں بہت زیادہ ہے بلاشبہ حضرت زید بن ثابت بڑے فقہا، صحابہ میں سے تھے اور علم فرائض کے ماہر سمجھے جاتے تھے کاتب وحی ہونے کا شرف بھی ان کو حاصل تھا اور انہوں نے حضرت ابوبکر اور پھر حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں قرآن کو لکھنے اور جمع کرنے کی خدمت بڑی خوبی کے ساتھ انجام دی۔۔۔۔۔۔۔۔ سب سے بڑے ماہر تجوید قرآن ابی بن کعب ہیں۔ حضرت ابی بن کعب انصاری خزرجی ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے ایک کاتب وحی بھی تھے جن چھ صحابہ نے حضور ﷺ کے عہد مبارک میں پورا قرآن کریم حفظ کیا تھا ان میں سے ایک یہ بھی ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ان کو سید القراء کہا جاتا تھا اور خود سرکار ﷺ نے ان کو سید الانصار کا لقب دیا تھا۔ حضرت عمر فاروق سید المسلمین کے لقب سے پکارتے تھے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ جب سورت نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ یہ سورت تمہارے سامنے پڑھوں اور تمہیں سناوں۔ ابی نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں اللہ نے تمہارا نام لیا ہے۔ یہ سن کر ابی رونے لگے اور ان کے ساتھ آنحضرت ﷺ بھی رو دئیے۔ ان کی وفات ١٩ ھ میں مدینہ میں ہوئی۔ ایک بہت بڑی جماعت کو ان سے روایت حدیث کا شرف حاصل ہے۔ حلال و حرام کو سب سے زیادہ جاننے والے معاذ بن جبل انصار میں سے ہیں اور ان ستر خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جو آنحضرت ﷺ کی ہجرت مدینہ سے پہلے مکہ آئے تھے اور بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک تھے، مدینہ میں آنحضرت ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان جو عام بھائی چارہ کرایا تھا اس کے تحت حضرت معاذ بن جبل کا بھائی چارہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے یا ایک روایت کے مطابق حضرت جعفر بن ابی طالب سے قائم ہوا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے آپ کو قاضی اور معلم بنا کر یمن بھیجا تھا اس وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال کی تھی طاعون عمو اس میں بعمر اڑتیس سال ١٨ ھ میں آپ نے انتقال کیا، انتقال کے وقت آپ بار بار کہتے تھے الہٰی! یہ (سخت ترین طاعون بعض اعتبار سے) درحقیقت تیرے بندوں پر تیری رحمت ہے الہٰی! معاذ اور معاذ کے اہل و عیال کو اس رحمت سے محروم نہ رکھ۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ دم رخصت حضرت معاذ کی زبان پر کچھ اس طرح کے الفاظ تھے الہٰی! موت کی سختی کم کردے جتنا تو چاہے قسم ہے تیری عزت کی تو خوب جانتا ہے کہ میں تجھ کو دوست رکھتا ہوں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ہم معاذ بن جبل کو اس آیت (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا) 16۔ النحل 120)۔ کے مضمون میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے ساتھ تشبیہ دیا کرتے تھے حضرت معاذ بن جبل کی علمی فضیلت و بزرگی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں فتویٰ دینے کی اہم ذمہ داری آپ کے سپرد تھی اور حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں بھی۔ جب معلم وقاضی ہو کر یمن چلے گئے تو حضرت عمر فاروق فرمایا کرتے تھے معاذ نے یمن جا کر اہل مدینہ میں فقہ کا خلاء پیدا کردیا ہے حضرت معاذ جنگ بدر میں بھی شریک تھے اور دوسری جنگوں میں بھی مجاہدین اسلام کے دوش بدوش رہے۔ منقول ہے کہ رحلت کے وقت آپ کے ساتھی رونے لگے تو ان سے پوچھا تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟ ان سب نے کہا کہ ہم علم کو رو رہے ہیں جو آپ کی موت کے سبب منقطع ہوا چاہتا ہے، حضرت معاذ نے کہا علم اور ایمان لازوال ہیں قیامت تک باقی رہنے والے ہیں، حق جس سے بھی ملے حاصل کرو باطل پر جو بھی اس کی تردید و مخالفت کرو۔ اس امت کے امین ابوعبیدہ بن الجراح ہیں۔ حضرت عبیدہ بن الجراح نے اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت کا سب سے بڑا کامیاب امتحان اپنے باپ کو اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اتار کردیا جو دشمنان اسلام کی طرف سے اہل اسلام کے خلاف میدان جنگ میں آیا تھا جنگ احد میں پامردی اور ثابت قدمی کے ساتھ میدان کارزار میں ڈٹے رہے اور ذات رسالتماب ﷺ کو دشمن کے حملوں سے بچانے میں فدا کاری کے جوہر دکھائے۔ خلافت صدیقی میں آپ بیت المال کے مہتمم اور افسر اعلی تھے حضرت عمر فاروق نے آپ کو حضرت خالد بن ولید کی جگہ اسلامی فوج کا سپہ سالار اعظم مقرر کیا اور شام و فلسطین کی اکثر فتوحات آپ ہی کے زیر کمان حاصل ہوئیں۔ حضرت عمر نے اپنی وفات کے دن فرمایا تھا اگر آج ابوعبیدہ زندہ ہوتے تو اس معاملہ (یعنی خلافت) کی زمام کار (یا یہ کہ انتخاب خلیفہ کے لئے مشاورت کا انتظام واختیار) میں انہی کو سونپ جاتا۔ حضرت ابوعبیدہ زہد و قناعت کے جس درجہ کمال کے حامل تھے ان کا اندازہ اس روایت سے کیا جاسکتا ہے جو بعض مستند کتابوں میں عروہ بن زبیر سے منقول ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق شام و فلسطین کے دورہ پر آئے تو اس خطہ کے مختلف علاقوں میں تعینات اسلامی افواج کے کمانڈر اور بڑے بڑے عمال و حکام امیر المؤمنین کے استقبال کے لئے موجود تھے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح جو شام و فلسطین میں اسلامی افواج کے سپہ سالار اعظم تھے، اس وقت تک وہاں نہیں پہنچے تھے، حضرت عمر نے استقبال کرنے والے امراء اور عمائدین سے پوچھا کہ میرا بھائی کہاں ہے؟ لوگوں نے پوچھا کون آپ کا بھائی؟ فاروق اعظم نے فرمایا ابوعبیدہ بن الجراح! لوگوں نے کہا وہ آتے ہی ہوں گے۔ جب ابوعبیدہ آگئے تو امیرالمؤمنین سواری سے اترے اور ان کو گلے لگایا، پھر ان کے گھر گئے، انہوں نے سپہ سالاراعظم ابوعبیدہ کے گھر میں پہنچ کر دیکھا تو وہاں ان کو ایک چھوٹی سی تلوار، ایک سپر کے علاوہ اور کوئی سامان نظر نہ آیا۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ امیر المؤمنین نے حضرت ابوعبیدہ سے کہا کہ چلو ہمیں اپنے گھر لے چلو اور پھر امیر المؤمنین حضرت ابوعبیدہ کے گھر آئے اور اندر پہنچ کر دیکھا تو پورا مکان خالی نظر آیا کہیں کوئی چیز دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ امیر المؤمنین حیرت سے پوچھا ابوعبیدہ! تمہارے سامان کہاں ہے، یہاں تو ایک نمدہ، ایک رکابی اور ایک تلوار کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے حالانکہ تم تو اس علاقہ کے حاکم اعلی اور اسلامی افواج کے سپہ سالاراعظم ہو، کیا تمہارے پاس کچھ کھانے کو بھی ہے یا نہیں؟ حضرت ابوعبیدہ یہ سن کر گھر کے ایک کونے میں گئے اور وہاں سے روٹی کے چند خشک ٹکڑے اٹھا کر لائے، فاروق اعظم نے یہ دیکھا تو بےاختیار رونے لگے اور بولے ابوعبیدہ! بس تم ہی ایک مرد افگن نکلے، باقی ہم سب کو تو دنیا نے اپنے فریب کا شکار بنا لیا۔ ۔۔۔۔ حق کے مطابق سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے حضرت علی ہیں، بلاشبہ حضرت علی اس امت کے سب سے بڑے قاضی ہیں، قضایا نمٹانے اور حق بجانب فیصلہ کرنے میں کوئی ان کا ثانی نہیں تھا اسی لئے حضرت عمر ان کے مشورہ اور ان کے فتوے کے بغیر کوئی حکم اور فیصلہ صادر نہیں کرتے تھے، اگر حضرت علی موجود نہ ہوتے تو ان کے آنے تک فیصلہ کی کاروائی ملتوی رکھتے تھے۔ بہرحال حدیث کے الفاظ اقضاہم کے بظاہر یہی معنی ہیں کہ علی فیصلہ طلب مقدموں اور قضیوں کے شرعی اور عدالتی احکام و قوانین سب سے زیادہ جانتے ہیں اور سب سے اچھا فیصلہ دیتے ہیں تاہم اس سے حضرت عمر اور حضرت عمر پر حضرت علی کی افضلیت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ حضرت علی کی جزئی فضیلت ہے اور جزئی فضیلت کلی فضیلت کے منافی نہیں ہوتی، جبکہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی شان میں جو نصوص موجود ہیں ان سے علی الترتیب ان دونوں حضرات کا تمام امت سے افضل ہونا ثابت ہے۔ حضرت ابوبکر کی افضلیت کی ایک صریح دلیل تو ایک یہی آیت ہے (لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ اُولٰ ى ِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ بَعْدُ وَقٰتَلُوْا) 57۔ الحدید 10) یہ آیت خاص حضرت ابوبکر ہی کے حق میں نازل ہوئی ہے کیونکہ صرف انہوں نے ہی فتح مکہ سے پہلے اپنا مال جہاد میں لگا یا تھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کوئی مسلمان ان کے برابر نہیں ہوسکتا، اس میں بھی کوئی شبہ کہ اس بارے میں حدیثیں متعارض اور دلیلیں متناقض ہیں اور روایت و دلائل کا یہ تعارض وتناقض اس بات کا متقضی ہے کہ اس نکتہ کو تسلیم کیا جائے جس پر جمہور صحابہ نے اتفاق کیا ہو۔ پس جس نکتہ پر جمہور صحابہ نے اتفاق کیا ہے وہ وہی ہے جس پر اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے یعنی یہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اجر وثواب کی کثرت کے اعتبار سے حضرت ابوبکر افضل ہیں پھر حضرت عمر، پھر حضرت عثمان اور پھر حضرت علی۔
سیدنا علی اور امیر معاویہ کا معاملہ
یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ سیدنا علی اور امیر معاویہ کے درمیان جو محاذ آرائی اور جنگ وحصومت واقع ہوئی اس کو اجتہادی اختلاف) پر محمول کرنے چاہیے۔ حضرت علی نے دینی وشرعی طور پر اپنے خلافت کا مستحق سمجھا جبکہ امیر معاویہ اپنی خلافت کو برحق جانتے تھے، دونوں نے اپنے اپنے حق میں اجتہاد کیا یہ اور بات ہے کہ سیدنا علی کا اجتہاد درست ظاہر ہوا اور ثابت ہوگیا کہ اس وقت تمام لوگوں میں امت اسلامیہ کے سب سے بڑے آدمی اور سب سے افضل وہی تھے، ان کے برخلاف امیر معاویہ اپنے اجتہاد میں درست ثابت نہیں ہوئے کیونکہ حضرت علی کی موجودگی میں وہ خلافت کے ہرگز مستحق نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود فریقین میں سے کسی نے بھی اپنے مخالف فریق کو کافر نہیں کہا دونوں فریق الگ الگ جماعتوں میں بٹے ہوئے تھے، دونوں کے درمیان زبر دست معرکہ آرائی بھی ہوئی، دونوں فریقوں میں سے کچھ لوگوں نے ایک دوسرے کو برا بھی کہا، ایک دوسرے کے خلاف سب وشتم بھی کیا مگر ان میں سے کسی نے کسی کو دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا، اگرچہ ان میں سے بعض لوگ جہالت ونادانی اور تعصب میں مبتلا ہونے کے سبب ایسے امور کے مرتکب ہوئے جن سے ان کا گناہ گار ہونا یقینا ثابت ہوتا ہے، پس کسی مؤمن کو ہرگز روا نہیں کہ ان میں سے کسی کی بھی طرف کفر کی نسبت کرے اور ان کے بارے میں ایسا عقیدہ و خیال رکھے جو ایک مؤمن کے حق میں رکھ ہی نہیں سکتا۔
طلحہ کے لئے جنت کی بشار ت
وعن الزبير قال : كان على النبي صلى الله عليه و سلم يوم أحد درعان فنهض إلى الصخرة فلم يستطع فقعد طلحة تحته حتى استوى على الصخرة فسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أوجب طلحة . رواه الترمذي
اور حضرت زبیر کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن نبی کریم ﷺ کے جسم پر دو زرہیں تھیں (دوران جنگ ایک موقع پر) آپ ﷺ نے ایک چٹان چڑھنا چاہا (تاکہ دشمن کے لشکر کا جائزہ لیں اور مجاہدین اسلام کو بلندی پر سے دکھائی دیں) لیکن (دونوں زرہوں کے بوجھ کی وجہ سے) اوپر چڑھنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ طلحہ نے (آپ ﷺ کو چٹان پر چڑھنے کی کوشش کرتے اور پھر کامیاب نہ ہوتے دیکھا تو فورا) آپ ﷺ کے نیچے بیٹھ گئے تاآنکہ آنحضرت ﷺ ان کے اوپر چڑھ کر چٹان پر پہنچ گئے اور میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا طلحہ نے (جنت کو واجب کرلیا۔ (ترمذی)
تشریح
اللہ تعالیٰ کے ارشاد خذوا حذرکم (اے ایمان والو! اپنی احتیاط رکھو) کی زیادہ سے زیادہ تعمیل کی خاطر آپ ﷺ نے دو زرہیں اس دن پہن رکھی تھیں کیونکہ زرہ اور سپر جیسی چیزیں سامان جنگ میں سے ہیں اور میدان جنگ میں دشمن کے حملوں سے بچاؤ کے لئے لازمی ذریعہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دشمن کے مقابلہ پر ہتھیاروں کا استعمال اور تحفظ کے مادی ذرائع اختیار کرنا تو کل کے منافی نہیں ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر دو زرہیں پہن کر گویا امت کو بتایا کہ دشمن کے مقابلہ پر اپنے بچاؤ کی ہر ممکن تدبیر اختیار کرنی چاہئے۔ طلحہ نے (جنت کو) واجب کرلیا۔ جنت کا لفظ بعض روایتوں میں صریح آیا ہے اس جملہ کا مطلب یہ تھا کہ طلحہ نے اپنے اس ایک عمل کے ذریعہ یا اپنے ان مجاہدانہ کارناموں کے ذریعہ جو انہوں نے اس جنگ میں انجام دئیے ہیں اپنے لئے جنت کا استحقاق اور وجوب پیدا کرلیا ہے، بلاشبہ اس جنگ میں حضرت ابوطلحہ کی جانثاری وفدا کاری اسی طرح کی تھی کہ آنحضرت ان کو اس بشارت سے نوازتے۔ انہوں نے جان کی بازی لگا کر اپنے جسم کو آنحضرت ﷺ کی ڈھال بنالیا تھا اور آنحضرت کی طرف آنے والے تمام تیر اپنے بدن پر روک رہے تھے، ان کا پورا جسم زخموں سے چھلنی ہوگیا تھا، ان کا ہاتھ تو زندگی بھر معطل اور شل رہا۔ اسی ٨٠ سے اوپر زخم ان کے بدن پر شمار کئے گئے تھے یہاں تک کہ ان کا عضو مخصوص بھی زخمی ہونے سے نہیں بچا تھا۔ بعد میں صحابہ کرام جب بھی عزوہ احد کا ذکر کرتے تو کہا کرتے تھے کہ جنگ کا وہ پورا دن طلحہ کی سرفروشی اور فدا کاری کا دن تھا۔