حضرت علی بن ابی طالب کے مناقب کا بیان
سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مناقب و فضائل بیشمار ہیں جتنی زیادہ حدیثیں آپ کی تعریف و توصیف اور فضیلت میں منقول ہیں اتنی صحابہ میں سے کسی کے حق میں منقول نہیں ہیں، اگرچہ ان میں سے بہت سے روایتیں موضوع (گھڑی ہوئی) بھی ہیں چناچہ حضرت شیخ مجد الدین شیرازی نے جس طرح ان بعض روایتوں کے بارے میں، کہ جو حضرت ابوبکر صدیق کے مناقب میں نقل کی گئی ہیں، یہ وضاحت کی ہے کہ یہ موضوع روایتیں ہیں کیونکہ ان کا بےاصل وبے بنیاد ہونا معمولی عقل وفہم رکھنے والا بھی جان سکتا ہے اسی طرح انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب کے مناقب میں لوگوں نے بیشمار جھوٹی حدیثیں بنالی ہیں اور ان جھوٹی حدیثوں کا سب سے بڑا ذخیرہ وہ ہے جس کو انہوں نے وصایا نامی کتاب میں جمع کیا ہے اور جس کی ہر حدیث یا علی کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ ہاں ان میں سے صرف ایک حدیث یا علی انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ بیشک ایسی حدیث ہے جو ثابت ہے۔ بہرحال حضرت علی کی مناقب میں سے جو صحیح احادیث منقول ہیں ان کے بارے میں امام احمد اور امام نسائی وغیرہ نے کہا ہے کہ ان کی تعداد ان احادیث سے کہیں زیادہ ہے جو دوسرے صحابہ کے حق میں منقول ہیں اور سیوطی نے اس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ متاخر ہیں اور ان کے زمانہ میں نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ونزاع کی خراب صورت حال پیدا ہوگئی تھی بلکہ خود سیدنا علی کی مخالفت کرنے والوں کا ایک بہت بڑا طبقہ پیدا ہوگیا تھا جنہوں نے ان کے خلاف جنگیں بھی لڑیں اور ان کی خلافت سے انحراف بھی کیا، لہذا علماء اور محدیثین نے مقام علی کی حفاظتی اور مخالفین علی کی تردیدوتغلیط کی خاطر منقبت علی سے متعلق احادیث کو چن چن کر جمع بھی کیا اور ان احادیث کو پھیلانے میں بہت سرگرم جدوجہد بھی کی، ورنہ جہاں تک خلفاء ثلاثہ کے مناقب کا تعلق ہے تو وہ حقیقت میں حضرت علی کے مناقب سے بھی زیادہ ہیں۔
علی ابن ابی طالب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر ابن کنانہ۔ آپ کا نام حیدر بھی ہے، حیدر دراصل حضرت علی کے نانا اسد کا نام تھا، جب آپ پیدا ہوئے تو اس وقت آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد نے آپ کا نام اپنے باپ کے نام پر حیدر رکھا پھر بعد میں ابوطالب نے اپنی طرف سے بیٹے کا نام علی رکھا اور جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے حضرت علی فرمایا کرتے تھے خود میرے نزدیک ابوتراب سے زیادہ پسندیدہ کوئی نام نہیں ہے۔
ابو تراب سیدنا علی کی کنیت اس طرح پڑی کہ ایک دن رسول کریم ﷺ حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت علی گھر نہیں ہیں۔ پوچھا علی کہاں ہیں؟ حضرت فاطمہ نے جواب دیا میرے اور ان کے درمیان کچھ ان بن ہوگئی تھی، اسی غصہ میں گھر سے چلے گئے ہیں، آج تو انہوں نے اس گھر میں قیلولہ بھی نہیں کیا ہے، آنحضرت ﷺ نے جبھی حضرت انس کو حکم دیا کہ جا کر دیکھو، علی کہاں ہیں، حضرت انس نے بتایا کہ یا رسول اللہ ﷺ؟ وہ تو مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ فورا مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت علی مسجد کی دیوار سے لگے ہوئے ننگی زمین پر لیٹے محوخواب ہیں، چادر کاندھے سے کھسک کر الگ ہوگئی تھی اور پیٹھ وپہلو پر مٹی لگی ہوئی تھی، اس وقت آنحضرت ﷺ ان کے جسم کے اوپر سے مٹی صاف کرتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے، اے ابوتراب اٹھو، جبھی سے حضرت علی کی کنیت ابوتراب مشہور ہوگئی۔
عن سعد بن أبي وقاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعلي : أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي . متفق عليه
حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا تھا (دنیا وآخرت میں قرابت و مرتبہ میں اور دینی مددگار ہونے کے اعتبار سے) تم میرے لئے ایسے ہی ہو جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہارون (علیہ السلام) تھے بس فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
آنحضرت ﷺ جب اپنی زندگی کے آخری غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے جا رہے تھے تو حضرت علی کو اپنے اہل و عیال کی خبر گیری و حفاظت کے لئے مدینہ میں چھوڑ دیا تھا، اس پر منافقوں نے حضرت علی کو طعنہ دیا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں بےقدر جان کر مدینہ میں چھوڑ گئے ہیں، حضرت علی نے منافقوں کا یہ طعنہ سنا تو بڑی غیرت محسوس کی اور فورا ہتھیار باندھ کر نکل کر کھڑے ہوئے اور جرف پہنچ گئے جو مدینہ سے تقریبا تین میل شمال میں واقعہ ایک جگہ ہے اور جہاں آنحضرت ﷺ اسلامی لشکر کے ساتھ پڑاؤ کئے ہوئے تھے، انہوں نے حضرت اقدس ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! منافقین میرے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہہ رہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ جھوٹے ہیں میں نے تو تمہیں مدینہ میں اپنے اہل و عیال پر بھی میرا خلیفہ بن کر رہو اور پھر اسی وقت آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ علی! کیا تم اس سے خوش نہیں ہو کہ تمہارا مجھ سے وہی تعلق ہے جو ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ سے تھا کہ جب موسیٰ چلا دینے کوہ طور پر گئے تھے تو اپنی قوم میں ہارون کو اپنا خلیفہ بنا کر چھوڑ گئے تھے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کہے گئے آنحضرت ﷺ کے ان الفاظ کو شیعہ لوگ ماروگھٹنا پھوٹے آنکھ کے مصداق اپنے بےبنیاد عقیدے کی دلیل بنا کر بیٹھ گئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر حضرت علی کو خلافت کا بار سونپا تھا۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد خلافت کا اولین استحقاق حضرت علی کا تھا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ روافض نے تو اس کج رائی کا شکار ہو کر تمام صحابہ کو کافر تک کہہ ڈالا ہے، اس وجہ سے کہ ان کے بقول ان صحابہ نے آنحضرت ﷺ کی وصیت سے انحراف کیا اور خلافت کے بارے میں حضرت علی پر دوسروں کو مقدم کیا، بلکہ ان میں سے بعض ستم ظریفوں نے تو حضرت علی کو بھی نہیں بخشا اور کہا ہے کہ حضرت علی نے چونکہ اپنا حق طلب نہیں کیا اور خلافت کا دعویٰ لے کر مضبوطی سے نہیں اٹھے اس لئے وہ بھی کافر ایسے نادانوں سے بس یہی کہنا چاہئے کہ تم سے بڑا کافر کون ہوسکتا ہے جو لوگ تمام امت کو کافر کہیں خصوصا طبقہ اول (صحابہ) پر کفر کا اطلاق کریں اور اس طرح گویا یہ ثابت کریں کہ وہ پوری شریعت کو غیر معتبر قرار دے رہے ہیں اور اسلام کی ساری عمارت کو ڈھا رہے ہیں تو ان کے کفر میں کس کو شک ہوگا۔ بہرحال اہل سنت والجماعت نے اس حدیث سے شیعوں کے مذکورہ استدلال کو دوراز کار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ الفاظ حدیث سے جو بات مفہوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کو اپنا خلیفہ محض اس عرصہ کے لئے بنایا تھا جو غزوہ تبوک کے سلسلہ میں آپ ﷺ نے مدینہ سے باہر گزارا تھا، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اس عرصہ کے لئے اپنی قوم پر خلیفہ بنایا تھا، جو انہوں نے چلہ کے لئے کوہ طور پر گزارا تھا اگر اس عرصہ کے لئے حضرت علی کو اپنا خلیفہ بنانا سے آنحضرت ﷺ کا مقصد اس بات کی وصیت کرنا یا اس طرف اشارہ کرنا ہوتا کہ اسی طرح میرے وصال کے بعد بھی خلیفہ علی ہونگے تو آپ ﷺ اس موقع پر حضرت علی کو حضرت ہارون (علیہ السلام) سے تشبیہ نہ دیتے کیونکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ نہیں بنے تھے، وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے انتقال سے چالیس سال پہلے ہی وفات پاچکے تھے، علاوہ ازیں آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں اپنی عدم موجودگی اسی عرصہ میں امامت نماز کے لئے اپنا خلیفہ ایک دوسرے صحابی حضرت ام مکتوم کو بنایا تھا چناچہ اس عرصہ میں حضرت علی تو آنحضرت ﷺ کے اہل و عیال کی خبر گیری اور حفاظت کے فرائض انجام دیتے تھے اور حضرت ام مکتوم نماز میں لوگوں کی امامت کرتے تھے، اگر خلافت مطلق ہوتی تو اصول کے مطابق آنحضرت ﷺ امامت نماز کی ذمہ داری بھی یقینا حضرت علی ہی کو سونپ کر جاتے، اس کے لئے ایک دوسرے آدمی کو نامزد نہ فرماتے۔
آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا تھا کہ تم میرے لئے ایسے ہی ہو جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہارون (علیہ السلام) تھے ان الفاظ کے ذریعہ حضرت علی کو حضرت ہارون (علیہ السلام) سے تشبیہ دینا تو صاف سمجھ میں آتا ہے لیکن وجہ تشبیہ ظاہر نہیں ہوئی تھی کہ آپ ﷺ نے ان کو حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ کس اعتبار سے تشبیہ دی، اسی بات کی وضاحت کے لئے آپ ﷺ نے آگے فرمایا بس فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا یعنی اگر تم دونوں میں کچھ فرق ہے تو بس یہ ہے کہ ہارون (علیہ السلام) ایک نبی تھے اور تم نبی نہیں ہو، پس معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی باہمی قرابت و وابستگی کی مثال کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے اپنے اور حضرت علی کے درمیان جس قرابت و وابستگی کو ظاہر کیا وہ نبوت کے اعتبار سے نہیں تھی بلکہ خلافت کے اعتبار سے تھی جو مرتبہ میں نبوت کے قریب ہے، لیکن خلافت کا اعتبار بھی دونوں صورتوں کو محتمل ہوسکتا تھا کہ یا تو آپ ﷺ کی مراد اپنی زندگی میں ایک خاص عرصہ کے لئے حضرت علی کو اپنا خلیفہ بنا کر ان کے تئیں اپنی قربت و وابستگی اور اعتماد کو ظاہر کرنا تھا یا اپنی وفات کے بعد ان کے استحقاق خلافت کی طرف اشارہ کرکے قربت و وابستگی اور اعتماد کو ظاہر کرنا تھا جہاں تک اس دوسری صورت کا تعلق ہے تو یہ یوں خارج ازامکان قرار پائی جاتی ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے وفات پاگئے تھے اور وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد خلیفہ کب بنے تھے کہ ان کی مثال کے ذریعہ آنحضرت ﷺ اپنی وفات کے بعد حضرت علی کی خلافت کی طرف اشارہ کرتے لامحالہ ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ کے مذکورہ الفاظ سے جو مفہوم متعین طور پر ثابت ہوتا ہے وہ وہی ہے جو پہلی صورت میں بیان ہوا، یعنی یہ کہ آپ ﷺ نے اس موقعہ پر حضرت علی کو صرف اس عرصہ کے لئے خلیفہ بنانے کی بات کہی تھی جو غزوہ تبوک کے لئے آپ ﷺ نے مدینہ سے باہر گزارا، خلاصہ کے طور پر یہ بات یوں بھی کہی جاسکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے حکم کے مطابق حضرت علی کی وہ خلافت جزوی تھی جو آنحضرت ﷺ کی زندگی ہی میں ایک خاص عرصہ کے لئے عارضی اور وقتی انتظام کے طور پر عمل میں آئی تھی اس صورت میں کہ وہ عرصہ ختم ہونے پر یعنی عزوہ تبوک سے آنحضرت ﷺ کی واپسی کے بعد وہ خلافت ختم ہوگئی تھی، وہ جزوی خلافت آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد ان کی کلی خلافت کی دلیل کیسے بن سکتی ہے۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) جب آسمان سے اترینگے تو نبی کے طور پر نہیں اتریں گے بلکہ دین محمد ﷺ کانفاذ کرنے والے اور اسلامی امراء و حکام میں سے ایک امیر وحاکم بن کر اتریں گے اور ان کا کام ہی یہ ہوگا کہ لوگوں کو شریعت محمدی ﷺ کا پابندومتبع بائیں، لیکن ملا علی قاری کا کہنا ہے کہ حدیث کے الفاظ اس بات کے منافی نہیں ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نبی کی حیثیت میں اتریں اور ہمارے نبی کی ﷺ کی شریعت کے متبع کے طور پر دین محمدی کے اجراء ونفاذ اور اسوہ رسالت محمدی کی ترویج و اشاعت کا فریضہ انجام دیں اور اس میں بھی کوئی استبعاد نہیں کہ اس فریضہ کی ادائیگی میں ان کی راہنمائی وحی کے ذریعہ ہو، اس صورت میں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا کی مراد یہ بیان کی جائے گی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا اور آپ ﷺ خاتم النبیین اس اعتبار سے ہیں کہ نئے پیدا ہونے والے نبیوں کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم ہوگیا ہے، آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی اس دنیا میں نہیں آئے گا۔ اس حدیث میں حضرت علی کی جس بڑی فضیلت ومنقبت کی طرف اشارہ ہے فرمایا گیا کہ اگر آنحضرت ﷺ خاتم النبیین نہ ہوتے اور آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہ ہوگیا ہوتا تو حضرت علی بھی ایک نبی ہوتے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پھر یہ حدیث اس حدیث کے منافی ہوجائے گی جو صراحت کے حضرت عمر کے حق میں وارد ہوئی ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے درحقیقت ان دونوں حدیثوں کا مفہوم فرضی اور تقدیری ہے، یعنی آپ ﷺ نے ایک امر محال کو فرض کرکے گویا یوں فرمایا کہ اگر بالفرض میرے بعد اگر نبوت کا دروازہ کھلا رہتا تو میرے صحابہ میں سے متعدد لوگ نبی ہوتے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
ایک حدیث علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ( میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کے مانند ہیں) کا بڑا چرچا کیا جاتا ہے اور اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ یہ واقعی حدیث ہے لیکن جیسا کہ حفاظ حدیث مثلا زرکشی عسقلانی دمیری سیوطی سے تصریح کی ہے اس کی کچھ اصل نہیں ہے۔
علی سے محبت ایمان کی علامت ہے
وعن زر بن حبيش قال : قال علي رضي الله عنه : والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبي الأمي صلى الله عليه و سلم إلي : أن لا يحبني إلا مؤمن ولا بيغضني إلا منافق . رواه مسلم
اور حضرت زربن حبیش (تابعی) کہتے ہیں کہ سیدنا علی نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو پھاڑا (یعنی اگایا) اور ذی روح کو پیدا کیا درحقیقت نبی امی ﷺ نے مجھ کو یقین دلایا تھا کہ جو (کامل) مؤمن ہوگا وہ مجھ سے (یعنی علی سے) محبت رکھے گا اور جو منافق ہوگا وہ مجھ سے عداوت رکھے گا۔ (مسلم)
تشریح
محبت سے مراد وہ محبت ہے جو شرعی تقاضوں کے ہم آہنگ واقع کے مطابق اور نقصان و زیادتی کے بغیر ہو پس جس طرح وہ لوگ کہ جو حضرت علی کے حقیقی مقام و مرتبہ کو گھٹاتے ہیں جیسے فرقہ خارجیہ کے لوگ حب علی کی محرومی کے سبب اس حدیث میں مذکورہ مؤمن کا مصداق نہیں بن سکتے اسی طرح وہ لوگ بھی کہ جو حضرت علی کی محبت میں غیرشرعی اور غیرحقیقی غلو کرتے ہیں اور اس غلو کے نتیجہ میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے بغض و عداوت رکھتے ہیں جیسے شیعوں کے بعض طبقے، اس حدیث میں مذکور مؤمن کا مصداق ہرگز نہیں ہوسکتے۔ بہرحال حضرت علی ؓ سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض و عداوت نفاق کی نشانی ہے ایک اور روایت میں جو حضرت علی ہی سے منقول ہے یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا من احبنی واحب ہذین واباہما وامہما کان معی فی درجتی یوم القیامۃ۔ جس شخص نے مجھ سے اور ان دونوں (حسن و حسین) سے اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت رکھی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا۔ (احمد و ترمذی ) لیکن آنحضرت ﷺ حضرت علی اور اہل بیت نبوی سے محبت کا عین تقاضہ یہ ہے کہ ان سب صحابہ سے محبت وعقیدت رکھنی چاہے جن سے آنحضرت ﷺ، حضرت علی اور اہل بیت نبوی ﷺ محبت وتعلق رکھتے ہیں تھے جس طرح حضرت علی کی محبت ایمان کی علامت ہے اسی طرح تمام صحابہ کی محبت ایمان کی علامت ہے اور جس طرح حضرت علی ؓ سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے اسی طرح دوسرے کسی صحابی سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے، ابن عساکر نے حضرت جابر سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے حب ابی بکر وعمر من الایمان وبغضہما کفر وحب الانصار من الایمان وبغضہم کفر وحب العرب من الایمان وبغضہم کفر ومن سب اصحابی فعلیہ لعنۃ اللہ ومن حفظنی فیہم انا احفظہ یوم القیامۃ۔ ابوبکر وعمر کی محبت جزو ایمان ہے اور ان سے بغض کفر ہے انصار کی محبت جزو ایمان ہے اور ان سے بغض کفر ہے اہل عرب کی محبت جز و ایمان ہے اور ان سے بغض کفر ہے اور جس شخص نے میرے صحابہ کو سب وشتم کیا اس پر اللہ کی لعنت ہو اور جس شخص نے صحابہ کو (دوسروں کے سب وشتم سے بچایا اس کو قیامت کے دن کی ہولنا کیوں اور سختیوں سے) میں بچاؤں گا۔
وعن سهل بن سعد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يوم خيبر : لأعطين هذه الراية غدا رجلا يفتح الله على يديه يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله . فلما أصبح الناس غدوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم كلهم يرجو أن يعطاها فقال : أين علي بن أبي طالب ؟ فقالوا : هو يا رسول الله يشتكي عينيه . قال : فأرسلوا إليه . فأتي به فبصق رسول الله صلى الله عليه و سلم في عينيه فبرأ حتى كأن لم يكن به وجع فأعطاه الراية فقال علي : يا رسول الله أقاتلهم حتى يكونوا مثلنا ؟ فقال : انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم ثم ادعهم إلى الإسلام وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله فيه فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من أن يكون لك حمر النعم . متفق عليه وذكر حديث البراء قال لعلي : أنت مني وأنا منك في باب بلوغ الصغير
اور حضرت سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن فرمایا کل میں یہ جھنڈا (کہ جو کمانداری کی علامت ہے) ایسے شخص کو عطا کروں گا کہ جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عطافر مائے گا اور وہ شخص اللہ اور اللہ کے رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ اور اللہ کا رسول اس کو دوست رکھتے ہیں چناچہ تمام صحابہ نے اس انتظار اور شوق میں پوری رات جاگ کر گزاری کہ دیکھئے کل صبح یہ سرفرازی کس کے حصہ میں آتی ہے اور جب) صبح ہوئی تو ہر شخص اس آرزو کے ساتھ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ جھنڈا اسی کو ملے، آنحضرت ﷺ نے (تمام صحابہ پر نظر ڈال کر فرمایا کہ علی ابن ابی طالب کہاں ہیں دراصل حضرت علی آشوب چشم میں مبتلا ہوگئے تھے اور اس وجہ سے اس وقت وہاں حاضر نہیں تھے) صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آنکھوں نے ان کو پریشان کر رکھا ہے (اور اس عذر کی بنا پر وہ یہاں موجود نہیں ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کسی کو بھیج کر ان کو بلوالو، چناچہ حضرت علی کو بلا کر لایا گیا، رسول کریم ﷺ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا اور وہ آنکھیں ایک دم اس طرح اچھی ہوگئیں جیسے ان میں کوئی تکلیف اور خرابی تھی نہیں، اس کے بعد آپ ﷺ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا۔ حضرت علی (اس سرفرازی سے بہت خوش ہوئے اور) بولے یا رسول اللہ ﷺ! میں ان لوگوں (دشمنوں سے) اس وقت تک لڑتا رہوں جب تک وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہوجائیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جاؤ اور نرمی وبردباری کے ساتھ چل کر ان (دشمنوں) علاقہ میں پہنچو، پھر (سب سے پہلے) ان کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو اللہ کے وہ حقوق بتاؤ جو اسلام میں ان پر عائد ہوتے ہیں (اور پھر اگر وہ دعوت اسلام کو ٹھکرادیں تو ان سے جزیہ طلب کرو، اگر وہ جزیہ پر صلح کرنے سے انکار کردیں تو پھر آخر میں ان کے خلاف اعلان جنگ کرو اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہو جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائیں یا جزیہ دے کر اسلامی نظام کی سیاسی اطاعت قبول کرنے پر تیار نہ ہوجائیں) پس (اے علی) اللہ کی قسم، یہ بات کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ کسی ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے، تمہیں ملنے والے سرخ اور چوپائیوں سے کہیں بہتر ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
خیبر ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ سے ساٹھ میل دور ملک شام کی سمت واقع ہے، یہ غزوہ ٧ ھ میں پیش آیا تھا۔ پس (اے علی) اللہ کی قسم۔۔۔۔۔۔۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت عل کی جو راہ نمائی فرمائی تھی کہ کفار کو اپنے اسلام کی دعوت دیں تو اسی کی تاکید کے لئے آپ ﷺ نے آگے کے جملے قسم کھا کر ارشاد فرمائے، اس پر تاکید راہنمائی کی وجہ یہ احساس تھا کہ جنگ و قتال کی صورت میں اگرچہ مال غنیمت مثلا اعلی و عمدہ اونٹ اور چوپائے وغیرہ حاصل ہوتے ہیں لیکن اگر کفار کو نرمی وبردباری کے ساتھ اسلام کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ دعوت اکثر بارآور ہوجاتی ہے اور مخالفین اسلام کی بڑی تعداد جنگ وجدل کے بغیر مسلمان ہوجاتی ہے جو اسلام کا اصل منشاء ومقصد ہے علامہ ابن ہمام نے اسی بنیاد پر بڑی پیاری بات کہی ہے کہ ایک مؤمن کا پیدا کرنا ہزار کفار کو معدوم کرنے سے بہتر ہے۔
عن عمران بن حصين أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن عليا مني وأنا منه وهو ولي كل مؤمن . رواه الترمذي
حضرت عمران ابن حصین سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ علی مجھ سے اور میں علی سے ہوں نیز وہ علی تمام اہل ایمان کے دوست و مددگار ہیں۔ (ترمذی)
تشریح
علی مجھ سے ہیں۔۔۔۔۔ یہ ارشاد گرامی دراصل کمال قرب وتعلق اخلاص ویگانگت اور نسب ونسل میں باہم اشتراک سے کنایہ ہے وہ (علی) تمام اہل ایمان۔۔۔۔ ان الفاظ میں قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے (اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُه وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رٰكِعُوْنَ ) 5۔ المائدہ 55) تمہارے دوست ومدد گار تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اہل ایمان ہیں جو اس طرح نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں کہ ان میں خشوع ہوتا ہے۔
وعن زيد بن أرقم أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من كنت مولاه فعلي مولاه . رواه أحمد والترمذي
اور زید ابن ارقم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں جس کا دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں۔
تشریح
اس حدیث کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جس شخص کو میں دوست رکھتا ہوں اس کو علی بھی دوست رکھتے ہیں اور ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو شخص میرا حامی ومدد گار اور دوست ہے اس کے حامی ومدد گار اور دوست علی ہوتے ہیں، اس حدیث کی باقی وضاحت آگے تیسری فصل میں آرہی ہے۔
وعن حبشي بن جنادة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : علي مني وأنا من علي ولا يؤدي عني إلا أنا وعلي رواه الترمذي ورواه أحمد عن أبي جنادة
اور حضرت حبشی بن جنادہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں، میری طرف سے (نبذعہد کی ذمہ داری) کوئی ادا نہیں کرے علاوہ میرے اور علی کے (ترمذی اور احمد نے اس روایت کو ابوجنادہ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
کسی معاہدہ کو اس طرح توڑنا کہ فریق ثانی کو پہلے سے مطلع کردیا گیا ہو نبدعہد کہلاتا ہے دراصل اہل عرب میں یہ اصول رائج تھا کہ جب دو فریقوں کے درمیان کسی صلح اور مقفیہ باہمی کا وصل قرار ہوتا یا کسی صلح اور معاہدہ کو توڑنا ہوتا تو اس سلسلہ کی ضروری کاروائی اور بات چیت کی ذمہ داری ہر فریق میں سے صرف وہ شخص انجام دیتا ہے جو اپنی قوم و جماعت کا سردار اور سربراہ ہوتا، یا پھر اس کی عدم موجودگی میں اس کی نیابت صرف وہ شخص کرسکتا تھا جو اس (سردار وسربراہ) کا قریب ترین عزیزورشتہ دار ہوتا، اس حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد ٩ ھ کے حج کے موقع پر بعض اہم دینی وملی مصروفیات کے سبب آنحضرت ﷺ حج کے لئے تشریف نہ لے جاسکے تو آپ ﷺ نے اپنی جگہ حضرت ابوبکر کو امیر الحج بنا کر مکہ روانہ کیا حضرت ابوبکر کی روانگی کے بعد آنحضرت ﷺ پھر حضرت علی کو مکہ روانہ کیا اور ان کو اپنی طرف سے یہ ذمہ داری سپرد کی کہ وہ حج کے موقعہ پر اس صلح نامہ اور معاہدہ کی منسوخی کے فیصلہ کا اعلان کریں جو تین سال قبل ٦ ھ میں حدیبیہ کے مقام پر آنحضرت ﷺ اور قریش مکہ کے درمیان عمل میں آیا تھا، سورت براہ ( سورت توبہ) مشرکوں کو پڑھ کر سنائیں جس میں اس بات سے متعلق آیتیں نازل ہوئی تھیں اور یہ اعلان کردیں کہ مشرک نجس و ناپاک ہیں اس کے بعد کوئی مشرک مسجد حرام کے پاس نہ آئے اور اس ضمن میں جو دوسرے احکام و فرامین نازل ہوئے ہیں ان سے سب کو آگاہ کردیں اسی موقع پر آنحضرت ﷺ نے مذکورہ بالا حدیث ارشاد فرمائی جس کا مقصد حضرت علی کی عزت افزائی بھی تھا اور حقیقت میں مذکورہ ذمہ داری حضرت ابوبکر کے سپرد کئے جانے کا عذر بیان کرنا بھی تھا کہ امیر الحج ہونے کی حیثیت سے اس سفر حج میں دربار رسالت کانمائندہ اول تو ابوبکر ہیں لیکن عرب میں رائج اصول کی مجبوری کے تحت نقض عہد (معاہدہ کی منسوخی) کے اعلان کی ذمہ داری علی کے سپرد کی گئی ہے، اسی لئے حضرت ابوبکر نے حضرت علی ؓ سے اسی وقت وضاحت کرالی تھی جب وہ پیچھے سے آکر ان کے قافلہ میں شامل ہوئے کہ تم امیر ہو کر آئے ہو یا مامور ہو کر حضرت علی نے واضح کیا کہ میں امیر ہو کر نہیں آیا ہوں مامور ہو کر آیا ہوں۔ اس واقعہ سے محققین یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ اس میں درحقیقت اس طرف اشارہ تھا کہ علی کی خلافت ابوبکر صدیق کی خلافت کے بعد قائم ہوگی۔
وعن ابن عمر قال : آخى رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أصحابه فجاء علي تدمع عيناه فقال : آخيت بين أصحابك ولم تؤاخ بيني وبين أحد . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنت أخي في الدنيا والآخرة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
اور حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کرایا، تو حضرت علی اس حال میں (آنحضرت ﷺ کے پاس) آئے کہ آنکھوں سے آنسوجاری تھے اور عرض کیا کہ آپ ﷺ نے اپنے اور صحابہ کے درمیان تو بھائی چارہ قائم فرما دیا لیکن کسی سے میرا بھائی چارہ قائم نہیں کیا؟ (یہ سن کر) رسول کریم ﷺ نے (ان سے) تم میرے بھائی ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ نے مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پر سب سے پہلے جس چیز کی طرف خصوصی توجہ دی وہ باشندگان مدینہ یعنی انصار اور مکہ سے آئے ہوئے مہاجرین کے درمیان برادرانہ بنیادوں پر مخلصانہ ومستحکم تعلق قائم کرانا تھا، چناچہ مدینہ پہنچنے کے پانچویں ہی ماہ آپ ﷺ نے ایک دن تمام انصار اور مہاجرین کو جمع کر کے اخوت اسلامی کا آفاقی فلسفہ پیش کیا اور انفرادی سطح پر عموماً ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ حضرت علی ان چند صحابہ میں سے ایک تھے جن کا کسی کے ساتھ بھائی چارہ قائم نہیں ہوا تھا اس پر حضرت علی کو سخت ملال ہوا اور وہ سمجھے کہ شاید مجھے نظر انداز کردیا گیا ہے، لہٰذا وہ روتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے اور شکوہ کیا کہ آپ ﷺ نے دوسرے صحابہ جیسے ابوبکر اور خارجہ ابن انصاری کے درمیان حضرت عمر فاروق اور حضرت عتبان بن مالک انصاری کے درمیان حضرت عثمان بن عفان اور حضرت ثابت بن منذر انصاری کے درمیان اور حضرت سلمان اور حضرت ابودرداء انصاری وغیرہ وغیرہ کے درمیان تو بھائی چارہ قائم کرکے ان کو ایک دوسرے کا دینی بھائی بنادیا ہے لیکن کسی انصاری صحابی کے ساتھ میرا بھائی چارہ قائم نہیں فرمایا اس پر آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں تمہارا بھائی موجود ہوں، دنیاوی رشتہ و قرابت کے اعتبار سے بھی، تو پھر تمہیں کیا ضروت ہے کہ کسی کے ساتھ تمہارا بھائی چارہ قائم کراؤں۔
علی اللہ کے محبوب ترین بندے
وعن أنس قال : كان عند النبي صلى الله عليه و سلم طير فقال : اللهم ائتني بأحب خلقك إليك يأكل معي هذا الطير فجاء علي فأكل معه . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
اور حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ کے سامنے (بھنایاپکا ہوا) پرندہ رکھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے دعا مانگی اے اللہ! تیری مخلوق میں جو بہت زیادہ تجھ کو محبوب ہو اس کو میرے پاس بھیج دے تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے پس حضرت علی آئے اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ کھایا، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
ابن جوزی کا کہنا تو یہ ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے لیکن حاکم نے اس کو موضوع قرار دیا ہے نیز مختصر ع میں یہ لکھا ہے کہ یہ روایت گوبہت سے طرق سے منقول ہے مگر وہ سارے طرق ضعیف ہیں، بہر حال یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اللہ کے نزدیک اس کی مخلوق میں محبوب ترین بندے تھے۔ تاہم شارحین نے حدیث کا یہ مطلب بعض تخصیصات وقیود کے ساتھ بیان کیا ہے مثلا یہ کہ سیدنا علی اللہ کے محبوب ترین بندے تھے، سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے محبوب ترین بندوں میں سے ایک تھے یا یہ کہ آنحضرت ﷺ کے غم زادوں یا آپ ﷺ کے قریب ترین رشتہ داروں میں اللہ کے محبوب ترین بندے سیدنا علی تھے اور یا یہ مراد ہے کہ آنحضرت ﷺ کے حسن سلوک اور احسان کا ترجیحی بنیاد پر سب سے زیادہ استحقاق رکھنے والوں میں اللہ کے نزدیک اس کے محبوب ترین بندے سیدنا علی تھے۔ ان تحقیقات اور قیود سے شارحین کا مقصد غالباً یہ ہے کہ الفاظ حدیث سے یہ مطلب اخذ کیا جاسکے کہ سیدنا علی، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے بھی زیادہ محبوبیت رکھتے تھے، حالانکہ حقیقت میں ان تخصیصات وقیود کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اول تو یہ یقینی بات ہے کہ حدیث میں مخلوق سے علی العموم تمام مخلوق مراد نہیں ہے، اگر علی العموم تمام مخلوق مراد لی جائے تو یہ مطلب ہوگا کہ سیدنا علی کا مرتبہ آنحضرت ﷺ سے بھی بڑھا ہوا تھا جو نہ صرف یہ کہ علی الطلاق محبوب ترین بندے ہیں بلکہ سید المحبوبین اور افضل المخلوقین بھی ہیں، اس لئے آنحضرت ﷺ پر سیدنا علی کو کیا کسی کو بھی فضیلت نصیب نہیں ہوسکتی، دوسرے یہ کہ اگر کسی خاص نسبت اور کسی مخصوص حیثیت کے اعتبار سے سیدنا علی کا حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے بھی محبوب تربندہ ہونا ثابت ہو تو بجمیع وجوہ مراد نہ ہونے کے سبب اس کو ابوبکر وعمر پر علی کی جزوی فضیلت کہیں گے اور یہ جزوی فضیلت ان دونوں کی اس کلی فضیلت کے منافی ہرگز نہیں ہوگی جو کثرت اجر اور ثواب کی بنا پر اور بجمیع وجوہ ان کو حاصل ہے، لہٰذا روافض اگر اس حدیث سے حضرت علی کی خلافت بلافصل پر دلیل لیتے ہیں اور حضرت ابوبکر وحضرت عمر پر ان کی کلی فضیلت و برتری ثابت کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی نادانی ہے۔ ان کو دیکھنا چاہے کہ اس طرح کے الفاظ حضرت عمر کی منقبت میں بھی مقبول ہیں جیسے ایک حدیث میں فرمایا گیا ما طلعت الشمس علی خیرمن عمر (عمر سے بہتر کسی انسان پر سورج طلوع نہیں ہوا) یا ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں ارفع درجۃ فی الجنۃ عمر (جنت میں عمر کا درجہ بلند تر ہوگا) تو کیا ان حدیث کے الفاظ کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کرتے ہوئے روافض وشیعہ یہ تسلیم کریں گے کہ علی العموم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ افضل واعلی حضرت عمر ہیں کیونکہ ان حدیث سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ روئے زمین پر عمر سے بہتر کوئی انسان نہیں اور جنت میں کسی کا بھی درجہ عمر سے بلند نہیں ہوگا، ظاہر ہے اہل رفض و تشیع اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتے کیونکہ یہ مطلب تو اہل سنت والجماعت بھی مراد نہیں لیتے بلکہ چند تحصیصات وقیود کے ساتھ الفاظ حدیث کا مطلب بیان کرتے ہیں تو پھر حضرت علی ؓ سے متعلق اس روایت کو مطلق اس کے ظاہری معنی پر محمول کرکے ان کی علی الاطلاق افضلیت پر ان روافض اور شیعوں کو اصرار کیوں ہے، ایک بات اہل سنت سے بھی کہہ دینا ضروری ہے کہ افضلیت کا مسئلہ طنی ہے اس کو ایمان وکفر کا معاملہ نہ بنانا چاہئے، اسی طرح اس روایت کو موضوع قرار دینے پر زور صرف کرنا چاہئے، فنی اور تحقیقی طور پر کتنا ہی درست ہو مگر ظاہری طور پر اس کو شدت وتنگی بلکہ تعصب پر محمول کیا جانا مستبعد نہیں ہے۔
عطاء وبخشش کا خصوصی معاملہ
وعن علي رضي الله عنه قال : كنت إذا سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم أعطاني وإذا سكت ابتدأني . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
اور حضرت علی کہتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ سے جب بھی کچھ مانگتا تو آپ ﷺ عطا فرما دیتے اور جب میں خاموش رہتا یعنی مانگنے سے حجاب برتتا تو آپ ﷺ از خود دے دیتے تھے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
علی علم وحکمت کا دروازہ ہیں
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا دار الحكمة وعلي بابها . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب وقال : روى بعضهم هذا الحديث عن شريك ولم يذكروا فيه عن الصنابحي ولا نعرف هذا الحديث عن أحد من الثقات غير شريك
اور حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے میں حکمت و دانائی کا گھر ہوں اور علی اس گھر کا دروازہ ہیں اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض راویوں نے اس حدیث کو شریک تابعی سے نقل کیا ہے لیکن ان کی اس حدیث کی اسناد میں صنابحی کا ذکر نہیں ہے (جیسا کہ ان کی اور روایتوں کے سلسلہ اسناد میں اس کا نام کا ذکر آتا ہے) نیز اس روایت کو ثقات میں شریک کے علاوہ اور کسی سے ہم نہیں جانتے۔
تشریح
ایک روایت میں یوں آیا ہے انا مدینۃ العلم وعلی بابہا (یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اس شہرکا دروازہ ہیں) ایک اور روایت میں آگے یہ الفاظ بھی ہیں فمن اراد العلم فلیاتہ من بابہ (یعنی پس جو شخص حصول علم کا آرزومند ہو اس کو اس دروازہ کے ذریعہ آنا چاہئے۔ بہرحال علی دروازہ ہیں سے یہ مراد نہیں ہے کہ تنہا علی ہی دروازہ ہیں، بلکہ یہ معنی مراد ہیں کہ علی دروازوں میں سے ایک دروازہ ہیں تاہم اس معنی میں بھی صرف حضرت علی کا ذکر ان کی فضیلت اور تکریم کا ظاہر کرتا ہے اور واقع میں حضرت علی ایسا رتبہ رکھتے بھی ہیں، اس میں کوئی شبہ بھی نہیں کہ طبقہ صحابہ میں علم و حکمت کا جو خصوصی درجہ کمال سیدنا علی کو حاصل ہے وہ چند ہی صحابہ کو نصیب ہوا اور اس اعتبار سے سیدنا علی کو اگر اکثر صحابہ کی بہ نسبت سب سے زیادہ علمی فضیلت و بزرگی رکھنے والا کہا جائے تو غیر موزوں نہیں ہوگا۔ رہی یہ بات کہ اس روایت کے ظاہری معنی کے مطابق تنہا علی کو دروازہ کیوں قرار دیا جائے اور دوسرے صحابہ کو بمنزلہ اور دروازہ کیوں مانا جائے، تو اس سلسلہ میں اس حقیقت کو نظر انداز نہ کیا جائے کہ آنحضرت ﷺ سے اکتساب فیض کرنے والے تمام ہی صحابہ امت کے لے مدار علم ہیں امت تک دین کا جو بھی علم پہنچا ہے وہ تمام صحابہ نے مشترک طور پر پہنچایا ہے، کسی بھی صحابی کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس امت کو علم نبوت تنہا اسی نے منتقل کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کے بعد علوم دین کا واحد مدار اسی کی ذات ہے۔ اس کی دلیل میں بہت سی حدیثیں پیش کی جاسکتی ہیں ان میں سے ایک حدیث تو آنحضرت ﷺ کا یہی ارشاد ہے کہ اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیم میرے تمام صحابہ آسمان ہدایت کے ستارے ہیں ان میں سے جس کی بھی اقتداء کرو گے ہدایت پاؤ گے علاوہ ازیں یہ بات تاریخی اور واقعاتی طور پر ثابت شدہ ہے کہ تابعین نے دین و شریعت کے جو مختلف علوم وفنون اخذکئے جیسے قرأۃ تجوید، تفسیر، حدیث اور فقہ وغیرہ، وہ سب انہوں نے تنہا حضرت علی ؓ سے اخذ نہیں کئے بلکہ تمام صحابہ سے اخذ کئے ہیں لہٰذا اس کے علاوہ چارہ نہیں کہ بابیت یعنی علم و حکمت کے شہر کے دروازہ ہونے) کو تنہا حضرت علی کے حق میں منحصر نہ رکھا جائے۔ ہاں اگر قضا (عدالت ومنصفی) کا علم وفن کے ساتھ مخصوص کرکے حضرت علی کے بارے میں یہ کہا جائے کہ ان کی ذات بےمثال تھی اور اس باب میں وہ تمام صحابہ پر فضیلت و برتری رکھتے تھے تو یقینا بجا ہوگا کیونکہ ان کے حق میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے انہ اقضاکم علی سب سے بڑے قاضی ہیں جیسا کہ حضرت ابی کے حق میں فرمایا انہ اقراء کم (ابی تم میں سب سے بڑے قاری ہیں) اور حضرت معاذ بن جبل کے حق میں فرمایا انہ اعلمکم بالحلال والحرام تم میں حلال و حرام کا علم سب سے زیادہ رکھنے والے ہیں۔ علامہ طیبی لکھتے ہیں شیعہ اس حدیث میں مذکورتمثیل سے تمسک کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے علم و حکمت پہنچنے کا واحد ذریعہ حضرت علی ہیں ان کے واسطہ کے بغیر کسی کو اس (علم و حکمت) میں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ گھر میں داخل ہونے کا اصل ذریعہ دروازہ ہی ہوسکتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے وا تو البیوت من ابوبہا اور چونکہ آنحضرت ﷺ نے خود کو علم و حکمت کا گھر بتایا ہے اور اس گھر کا دروازہ حضرت علی کو قرار دیا ہے، اس لئے حضرت علی وہ دروازہ ہیں جس کے ذریعہ علم و حکمت کے گھر میں رسائی ہوسکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شیعہ جو کچھ کہتے ہیں اس کی ذرہ برابر دلیل اس حدیث میں نہیں ہے، بلاشبہ حضرت علی کو علم و حکمت کا گھر جنت کے گھر سے زیادہ وسیع وفراخ نہیں ہے؟ جب جنت کے آٹھ دروازے ہیں تو علم و حکمت کے گھر کے دروازے اس سے زیادہ کیوں نہیں ہوسکتے۔ آخر میں یہ ذکر کردینا ضروری ہے کہ اس حدیث کا اصل ناقل ابی الصلت عبد السلام بن صلاح ہر وی ہے جو اگرچہ شیعہ ہے لیکن محدیثن کے نزدیک راست گو ہے علاوہ ازیں اس حدیث کے بارے میں محدیثن کم اختلافی اقوال ہیں بعض محدثین نے اس کو صحیح کہا ہے تو بعض نے حسن۔ اسی طرح بعض نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے تو بعض نے کہا ہے کہ منکر ہے یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ اس حدیث کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور کچھ لوگوں نے اس کو موضوع قرار دینے کی بھی کو شس کی ہے تاہم حافظ ابوسعید نے وضاحت کردی ہے کہ یہ حدیث کی باعتبارطرق کے حسن ہے نہ صحیح ہے نہ ضعیف اور نہ موضوع، نیز محدیثن نے اس حدیث کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے انا مدنیۃ العلم و ابوبکر اساسہا وعمر حیطانہا و عثمان سقفہا وعلی بابہا یعنی علم کا شہر ہوں، ابوبکر اس شہر کی بنیاد ہیں، عمر اس شہر کی فصیل ہیں عثمان اس شہر کی چھت ہیں اور علی اس شہرکا دروازہ ہیں۔
وعن جابر قال : دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم عليا يوم الطائف فانتجاه فقال الناس : لقد طال نجواه مع ابن عمه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما انتجيته ولكن الله انتجاه . رواه الترمذي
اور حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ غزوہ طائف کے دن رسول اللہ ﷺ نے علی کو بلایا اور اس سے سرگوشی کرنے لگے (یعنی ایسا نظر آرہا تھا جیسے کسی خاص مسئلہ پر ان کے ساتھ چپکے چپکے باتیں کررہے ہیں اور جب ان باتوں کا سلسلہ کچھ دراز ہوگیا تو (منافقین نے یا صحابہ میں عام) لوگوں نے کہا اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ تو رسول اللہ نے بڑی دیر تک کانا پھوسی کی؟ رسول اللہ ﷺ نے (یہ سنا تو) فرمایا علی کے ساتھ میں نے سرگوشی نہیں کی بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے۔ (ترمذی)
تشریح
بلکہ اللہ نے سرگوشی کی یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا تھا کہ بعض باتیں چپکے چپکے علی تک پہنچا دوں، اس لئے حکم الہٰی کی تعمیل میں میں نے ان کے ساتھ چپکے چپکے باتیں کی ہیں نہ کہ میں ان کے ساتھ وہ کانا پھوسی کررہا تھا جو آداب مجلس کے خلاف ہے اور چونکہ وہ سرگوشی اللہ کے حکم کی تعمیل میں تھی لہٰذا اس صورت میں گویا اللہ نے ان سے سرگوشی کی، مصداق کے اعتبار سے یہ جملہ ایسا ہی ہے جیسا ایک آیت قرآن کا یہ فقرہ ( وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى) 8۔ الانفال 17) اور آپ ﷺ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی اس سلسلہ میں یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ حضرت علی ؓ سے آنحضرت ﷺ کی اس سرگوشی کا موضوع دراصل اس غزوہ کی بابت کچھ ایسے نقطے اور راز کی باتیں تھیں جن کا تعلق دین کے ضمن میں آنے والے دنیاوی انتظام و معاملات سے تھا اور جن کا برسر عام تذکرہ حکمت وپالیسی کے خلاف تھا یہ نہیں کہ آپ ﷺ نے منجانب اللہ نازل شدہ دین کی کوئی بات یا دینی امور سے متعلق کچھ احکام سب لوگوں سے چھپا کر حضرت علی کو دئیے خود حضرت علی نے اس طرح کے خیال کے مبنی برحقیقت ہونے کی تردید کی ہے چناچہ بخاری کی روایت میں ہے کہ جب کچھ لوگوں نے حضرت علی ؓ سے سوال کیا کہ آپ ﷺ کے پاس کوئی ایسی چیز (یعنی کوئی ایسا خدائی حکم و فرمان) ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے! حضرت علی نے جواب دیا اس ذات کی قسم جس نے زمین سے دانہ اگایا اور ذی روح کو پیدا کیا، میرے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے جو قرآن میں موجود ہے ہاں کتاب اللہ کی وہ سمجھ مجھے حاصل ہے جو (حق تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کے تحت) کسی کو حاصل ہوتی ہے اور یہ ایک صحیفہ میرے پاس ہے (جس میں وراثت ودیت وغیرہ کے کچھ احکام لکھے ہوئے ہیں )۔
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعلي : يا علي لا يحل لأحد يجنب في هذا المسجد غيري وغيرك قال علي بن المنذر : فقلت لضرار بن صرد : ما معنى هذا الحديث ؟ قال : لا يحل لأحد يستطرقه جنبا غيري وغيرك . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
اور حضرت سعید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا تھا اے علی! میرے اور تمہارے سوا کسی کو جائز نہیں کہ وہ جنابت یعنی ناپاکی کی حالت میں مسجد میں آئے علی بن منذر کا بیان ہے کہ میں نے ضرار ابن صرد سے پوچھا کہ اس حدیث کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے بتایا (اس کے معنی یہ ہیں کہ) میرے اور تمہارے سوا کسی شخص کے لئے جائز ہے کہ وہ جنابت یعنی ناپاکی کی حالت میں مسجد کو گزر گاہ بنائے اور اس کے اندر سے آئے جائے، اس کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے (لیکن جزری کا کہنا یہ ہے کہ متفقہ طور پر تمام محدثین نے اس حدیث کو ضغیف قرار دیا ہے )۔
تشریح
اتفاق سے آنحضرت ﷺ اور حضرت علی کے گھروں کے دروازے مسجد نبوی کے اندر واقع تھے اور اپنے اپنے گھر میں آنے جانے کے لئے ان کو مسجد میں سے گزرنا پڑتا تھا۔ علی ابن منذر تیسری ہجری کی ایک مشہور ہستی ہیں اور اونچا علمی مقام تو رکھتے ہی تھے لیکن عابد وزاہد ہونے کے اعتبار سے بھی امتیازی شخصیت کے مالک تھے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پچپن حج کئے۔ ائمہ حدیث کی ایک جماعت سے حدیث سننے اور روایت کا شرف ان کو حاصل ہے، اگرچہ شیعہ تھے لیکن مستند فقیہ اور محدثین کی اصطلاح میں صدوق مانے گئے ہیں اور ابن حبان نے ان کا ذکر ثقہ راویان حدیث میں کیا ہے۔
وعن أم عطية قالت : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم جيشا فيهم علي قالت : فسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو رافع يديه يقول : اللهم لا تمتني حتى تريني عليا . رواه الترمذي
اور حضرت ام عطیہ کہتی ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ نے کسی جنگی مہم پر ایک لشکر روانہ فرمایا تو اس میں حضرت علی بھی شامل تھے ام عطیہ کا بیان ہے کہ اس موقعہ پر (جب کہ آپ ﷺ لشکر کو رخصت کر رہے تھے یا لشکر کی واپسی کا دن قریب تھا) میں نے رسول کریم ﷺ کو ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگتے سنا! الہٰی مجھ کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک کہ تو علی کو (عافیت و سلامتی کے ساتھ واپس لاکر) مجھ کو نہ دکھا دے۔ (ترمذی)
تشریح
اس حدیث سے اس چیز کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ کو سیدنا علی سے کس درجہ تعلق اور کتنی شدید محبت تھی کہ ان کی جدائی سے آپ ﷺ دل گرفتہ ہوجاتے تھے۔
علی سے بغض رکھنے والا منافق ہے
عن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يحب عليا منافق ولا يبغضه مؤمن . رواه أحمد والترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب إسنادا
حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا علی سے منافق محبت نہیں رکھتا اور (کامل) مؤمن علی سے بغض اور دشمنی نہیں رکھتا، اس روایت کو احمد و ترمذی نے نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث باعتبار اسناد کے غریب ہے۔