علی کو برا کہنا حضور ﷺ کو برا کہنا ہے
وعنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سب عليا فقد سبني . رواه أحمد
اور حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے (نسب ونسل کے اعتبار سے) علی کو برا کہا اس نے درحقیقت مجھ کو برا کہا )۔ (احمد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں بدگوئی اور فحش کلامی کرنا گویا آنحضرت ﷺ کی شان میں بدگوئی اور فحش کلامی کرنا ہے پس حدیث کا متقضی یہ ہے کہ جو شخص حضرت علی کی شان میں بدگوئی کرے اس کو کافر قرار دیا جانا چاہئے یا یہ کہا جائے کہ یہ حدیث دراصل تہدیدو وعید پر محمول ہے یا یہ کہ بدگوئی کرنے والے کو کافر اس صورت میں قرار دیا جائے گا جبکہ وہ ان کی شان میں بدگوئی کو حلال جانے۔ اس روایت کو حاکم نے بھی نقل کیا ہے نیز طبرانی نے حضرت ابن عباس کے حوالہ سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ من سب اصحابی فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین جس نے میرے صحابہ کی شان میں بدگوئی کی اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت۔ اور طبرانی ہی نے حضرت علی ؓ سے یوں نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا من سب الانبیاء قتل ومن سب اصحابی جلد انبیاء کی شان میں بد گوئی کرنے والے کو قتل کردیا جائے اور میرے صحابہ کی شان میں بدگوئی کرنے والے کو کوڑے لگائے جائیں۔
وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فيك مثل من عيسى أبغضته اليهود حتى بهتوا أمه وأحبته النصارى حتى أنزلوه بالمنزلة التي ليست له . ثم قال : يهلك في رجلان : محب مفرط يقرظني بما ليس في ومبغض يحمله شنآني على أن يبهتني . رواه أحمد
اور حضرت علی کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے مجھ کو فرمایا تم میں عیسیٰ (علیہ السلام) سے ایک طرح کی مشابہت ہے یہودیوں نے ان (عیسیٰ (علیہ السلام) سے بغض رکھا تو اتنا زیادہ رکھا کہ ان کی ماں (مریم (علیہ السلام) پر (زنا کا) بہتان باندھا اور عیسائیوں نے ان سے محبت و وابستگی قائم کی تو اتنی (زیادہ اور غلو کے ساتھ قائم کی) کہ ان کو اس مرتبہ ومقام پر پہنچا دیا جو ان کے لئے ثابت نہیں ہے (یعنی ان کو اللہ یا ابن اللہ قرار دے ڈالا) یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت علی نے کہا (مجھے یقین ہے کہ اس ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح میرے بارے میں بھی) دو شخص یعنی دو گروہ اس طرح ہلاک (یعنی گمراہ) ہوں گے کہ ان میں سے ایک تو جو مجھ سے محبت رکھنے والا ہوگا اور اس محبت میں حد سے متجاوز ہوگا، مجھ کو ان خوبیوں اور بڑائیوں کا حامل قرار دے گا جو مجھ میں نہیں ہونگی اور ایک جو مجھ سے بغض وعناد رکھنے والا ہوگا، میری دشمنی سے مغلوب ہو کر مجھ پر بہتان باندھے گا۔ (احمد )
تشریح
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں جو پیش گوئی فرمائی اور جس کی طرف خود حضرت علی نے واضح طور پر اشارہ کیا وہ پوری ہو کر رہی۔ روافض اور شیعوں نے حب علی میں حد سے اس قدر تجاوز کیا کہ تمام صحابہ پر یہاں تک کہ انبیاء پر ان کی فضیلت کے قائل ہوئے بلکہ بعض طبقوں (جیسے نصیریوں وغیرہ) نے تو حضرت علی کو مقام الوہیت تک پہنچا دیا، ان کے مقابلہ پر دوسرا گروہ وہ خارجیوں کا پیدا ہوا، وہ حضرت علی کی دشمنی میں حد تک بڑھ گئے کہ کوئی بڑے سے بڑا بہتان ایسا نہیں چھوڑا جو ان کی پاکیزہ شخصیت پر انہوں نے نہ باندھا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ محبت وعقیدت وہی مستحسن و مطلوب ہے جو حد سے زیادہ متجاوز نہ ہو اور عقل و شریعت کے مسلمہ اصول کے مطابق ہو، ایسی محبت وعقیدت جو حد سے متجاوز ہو درحقیقت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے اور غیر معتدل ہونے کے سبب راہ مستقیم سے باہر کردیتی ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کی محبت وعقیدت رکھنے والے شخص کو جو اگرچہ بظاہر مسلمان ودیندار نظر آتا ہے گمراہ انسان کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اہل سنت والجماعت کو جس چیز نے راہ مستقیم پر گامزن کر رکھا ہے وہ محبت وعقیدت کے باب میں ان کا اعتدال و توازن ہے کہ وہ افراط اور تفریط دونوں سے محفوظ ہیں، بہرحال اہل ایمان واسلام کی زندگی کا سرمایہ سعادت دو چیزیں ہیں ایک تو خاندان نبوت کی محبت اور دوسری اصحاب نبی ﷺ کی تعظیم جو شخص اس سرمایہ سعادت کو حاصل کرکے اپنی اور عقبی بنانا چاہئے اس کو لازم ہے کہ ان دونوں کے درمیان اعتدال و توازن رکھے اور اسی اعتدال و توازن کے ساتھ ان دونوں کی محبت کو اپنے اندر جمع کرے۔ امام احمد نے ایک روایت نقل کی ہے کہ سیدنا علی نے فرمایا یحبنی اقوام حتی یدخلوا النار فی حبی ویبغضنی اقوام حتی یدخلوا النار فی بغضی۔ کچھ گروہ مجھ سے محبت رکھیں گے یہاں تک کہ میری محبت (میں غلو) کے سبب ان کو دوزخ میں ڈالا جائے گا اور کچھ کروں مجھ سے دشمنی رکھیں گے یہاں تک کہ میری دشمنی کے سبب وہ دوزخ میں جائیں گے۔ امام احمد نے حضرت علی کی یہ دعا نقل کی ہے۔ اللہم العن کل مبغص لنا وکل محب لنا غال الہٰی! ہم سے دشمنی رکھنے والوں پر لعنت کر اور ہمارے غالی محبین پر بھی لعنت کر۔
وعن البراء بن عازب وزيد بن أرقم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما نزل بغدير خم أخذ بيد علي فقال : ألستم تعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم ؟ قالوا : بلى قال : ألستم تعلمون أني أولى بكل مؤمن من نفسه ؟ قالوا : بلى قال : اللهم من كنت مولاه فعلي مولاه اللهم وال من والاه وعاد من عاداه . فلقيه عمر بعد ذلك فقال له : هنيئا يا ابن أبي طالب أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة . رواه أحمد
حضرت براء بن عازب اور زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے جب غدیر خم میں پڑاؤ کیا تو آپ ﷺ نے (صحابہ کو جمع کیا اور جیسا کہ ایک روایت میں ہے، اونٹوں کے پلانوں کا منبر بنا کر اس پر کھڑے ہوئے اور پھر) حضرت علی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا ( اے میرے اصحاب! ) یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ اہل ایمان کے نزدیک میں ان کی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں؟ سب نے عرض کیا جی ہاں، اس کے بعد آپ ﷺ نے یوں فرمایا تم تو جانتے ہی ہو کہ میں ایک ایک مؤمن کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ عزیز و محبوب ہوں! صحابہ نے عرض کیا جی ہاں تب آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! جس شخص کا میں دوست ہوں علی اس کا دوست ہے۔ الہٰی تو اس شخص کو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اور تو اس شخص کو اپنا دشمن قرار دے جو علی سے دشمنی رکھے اس واقعہ کے بعد حضرت عمر جب حضرت علی ؓ سے ملے تو ان سے بولے ابن ابی طالب مبارک ہو تم تو صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی (یعنی ہر آن وہرلمحہ) ہر مسلمان مرد و عورت کے دوست و محبوب ہو۔ (احمد )
تشریح
غدیرخم ایک مقام کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے مابین حجفہ کے قریب واقع ہے، مکہ سے حجفہ کا فاصلہ تقریبا ٥٠، ٦٠ میل ہے اور حجفہ سے غدیرخم تین چار میل کے فاصلے پر ہے۔ ١٠ ھ میں رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے سفر واپسی میں یہاں قیام فرمایا تھا اور اس وقت صحابہ کی بہت بڑی تعداد آپ ﷺ کے ہمراہ تھی جن کو آپ ﷺ نے جمع کرکے حضرت علی کے حق میں مذکورہ الفاظ ارشاد فرمائے تھے۔ یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ اہل ایمان کے نزدیک۔۔۔۔ ان الفاظ کے ذریعہ آپ ﷺ نے صحابہ کو قرآن کریم کی اس آیت (اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ ) 33۔ الاحزاب 6) (نبی اہل ایمان کے نزدیک خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ عزیز و محبوب ہیں) کی طرف متوجہ کیا، نیز ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے یہ الفاظ تین بار ارشاد فرمائے تھے۔ میں ایک ایک مؤمن کے نزدیک۔۔۔۔۔ پہلے آپ ﷺ نے علی العموم اہل ایمان کا لفظ ارشاد فرمایا تھا، پھر اسی بات کو دوہرانے کے لئے اور زیادہ وضاحت کی خاطر ایک ایک مؤمن کا لفظ استعمال فرمایا۔ بہرحال ان الفاظ کے ذریعہ آپ ﷺ نے اس نکتہ کی طرف بھی اشارہ فرمایا کہ ایک ایک مؤمن جو مجھ کو اپنی جان سے بھی زیادہ رکھتا ہے تو اس کی ایک خاص یہ ہے کہ میں اہل ایمان کی انہی باتوں کا حکم دیتا ہوں جوان کی دینی یا دنیاوی بھلائی و بہتری اور فلاح ونجات کی ضامن ہیں جب کہ ان کا اپنا نفس، بتقضائے بشریت ان کو برائی اور بگاڑ کی طرف بھی لے جانا چاہتا ہے اور یہ انسان کی فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے کہ وہ جس ذات کو ہر آن اپنا خیرخواہ پاتا ہو اس کو ذات سے زیادہ عزیز و محبوب رکھے جوہر آن یا کبھی کبھار ہی سہی بدخواہی پر آمادہ پائی جاتی ہو۔ الہٰی تو اس شخص کو دوست رکھ۔۔۔۔۔ ایک روایت میں یہاں آپ ﷺ کے الفاظ یوں منقول ہیں الہم احب من حبہ وابغض من ابغضہ وانصر من انصرہ واخذل من خذلہ وادر الحق معہ حیث دار۔ الہٰی تو اس شخص کو محبوب رکھ جو علی کو محبوب رکھے اور اس شخص سے بغض رکھ جو علی سے بغض رکھے اور اس شخص کی مدد کر جو علی کا مددگار ہو اس شخص کی مدد نہ کر جو علی کی مدد نہ کرے اور حق کو علی کے ساتھ رکھ کہ جدھر علی رہے ادھر ہی حق رہے۔
شیعہ جماعت جن احادیث اور روایتوں سے حضرت علی کی خلافت بلافصل اور ان کی اولیت وافضلیت پر استدلال کرتی ہے ان میں سے اس حدیث کو وہ نہایت مضبوط اور قوی تر دلیل دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ مولا کے معنی عزیز و محبوب اور مددگار کے نہیں ہیں بلکہ دراصل یہ لفظ اولی بالخلافت کے معنی میں ہے، وہ اپنی دلیل میں ماقبل عبارت کے الفاظ انی اولی بالمؤمنین پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے بارے میں جو یہ الفاظ فرمائے تھے ان کے معنی یہ ہیں کہ میں اہل ایمان پر خود ان کے نفس سے زیادہ تصرف و حکومت کا حق رکھتا ہوں وہ کہتے ہیں کہ اگر ان الفاظ کے معنی اہل ایمان کے نزدیک ان کی جانوں سے بھی زیادہ عزیز و محبوب مراد ہوتے تو محض اس بات کو بیان کرنے کے لئے صحابہ کو اس قدر اہتمام سے جمع کرنے ان کو اتنی اہمیت کے ساتھ اور اس پر زور انداز میں مخاطب کرنے اور حضرت علی کے حق میں مذکورہ دعا کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہ بات اتنی واضح اور عام تھی کہ تمام صحابہ جانتے اور مانتے تھے۔ علاوہ ازیں جو دعا آپ ﷺ نے حضرت علی کے حق میں کی وہ اس ذات کے علاوہ اور کسی کے حق میں ہو ہی نہیں سکتی جو امام معصوم مفروض الطاعتہ ہو۔ اس طرح شیعہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس حدیث سے آنحضرت ﷺ نے پوری امت کم حق میں جو ولا اپنے لئے بیان کیا وہی ولا حضرت علی کے لئے بھی واضح طور پر ثابت ہوا پس یہ حدیث حضرت علی کی خلافت بلافصل کے حق میں نص وقطعی وصریح ہے۔
ماننا چاہیے کہ یہ حدیث صحیح ہے، ائمہ حدیث مثلا امام ترمذی، امام نسائی اور امام احمد وغیرہ کی ایک جماعت نے اس کو نقل کیا ہے، اس کے طرق بھی بہت ہیں اور متعدد سلسلہ اسناد سے منقول ہے اور ان میں سے اکثر سلسلہ اسناد صحاح اور حسان ہیں۔ سولہ صحابہ اس حدیث کے روای ہیں بلکہ امام احمد نے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی نے اپنا زمانہ خلافت میں ایک موقع پر جب کہ ان کے مخالفین کا گروہ ان کی خلافت کو نزاعی مسلہ بنائے ہوئے تھا، لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرکے ان سے فرمایا کہ میں تم سے ہر ایک کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم نے غدیر خم کے مقام پر رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنا تھا وہ بیان کرو تو اس پر تیس صحابہ نے کھڑے ہو کر یہ حدیث بیان کی اور خلافت علی کے حق میں شہادت دی۔ لہٰذا اس بات کی زیادہ اہمیت نہیں ہے کہ بعض حضرات نے اس حدیث کے صحیح ہونے میں کلام کیا ہے یا یہ کہا ہے کہ حدیث کا آخری حصہ الہم وال من والاہ الخ حقیقت میں اس حدیث کا جزء نہیں ہے بلکہ من گھڑت ہے اور بعد میں اس حدیث کا جزء بنایا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ حصہ بھی حدیث کا جزء ہے اور اس کو متعدد طرق سے نقل کیا گیا ہے جن میں اکثر کو دہبی نے صحیح قرار دیا ہے لیکن جہاں تک اس حدیث سے شیعوں کے مذکورہ استدلال کا تعلق ہے تو اس کی یقینا کوئی بنیاد نہیں ہے۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس کو ان سمجھی یا دانستہ طور پر غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا، لزامی جواب کے طور پر سب سے پہلی بات تو شیعوں سے یہ کہی جاسکتی ہے کہ خود تم اس بات پر متفق ہو کہ امامت کے مسئلہ میں دلیل کے نقطہ نظر سے تواتر کا اعتبا رہے یعنی امامت و خلافت کا استحقاق ثابت کرنے کے لئے وہی حدیث معتبر قرار پاسکتی ہے جو متواتر ہو جو حدیث متواتر نہیں ہے اس کے ساتھ صحت امامت پر استدلال نہ کرنا چاہئے جب کہ یہ حدیث جس کو تم لوگ نص قطعی وصریح قرار دے کر اپنا مستدل بناتے ہو، یقینی طور پر متواتر نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کے تو صحیح ہونے میں بھی اختلاف ہے یہ دوسری بات ہے کہ اس اختلاف کو قبول نہیں کیا گیا جن حضرات نے اس حدیث کو مطعون قرار دیا ہے ان میں ابوداؤد سجستانی اور ابوحاتم رازی جیسے ائمہ حدیث اور ارباب عدل بھی شامل ہیں جن کی طرف علم حدیث میں رجوع کیا جاتا ہے اور جن کی ذات محدثین کے ہاں مرجع مانی جاتی ہے، علاوہ ازیں اہل حفظ واتقان مثلا بخاری، ومسلم۔ واقدی اور دوسرے اکابر محدثین میں سے کسی نے بھی اس حدیث کو نقل نہیں کیا ہے جب کہ یہ حضرات حدیث کی طلب و جستجو میں شہر شہر قریہ قریہ پھرتے تھے اور صحیح احادیث کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر جمع کرتے تھے گویا بات نہ فنی طور پر اس حدیث کی صحت رخنہ ڈالتی ہے اور نہ ہم اس حدیث کے صحیح ہونے سے انکار کرتے ہیں لیکن کیا یہ حیرت واستعجاب کی بات نہیں ہے کہ ایسی حدیث کو حدیث متواتر قرار دینے کی کوشش کی جائے جب شیعہ صحت امامت کی دلیل میں حدیث متواتر کا ہونا شرط مانتے ہیں تو اس کا صاف مطلب اس کے علاوہ اور کیا ہوا کہ وہ اس حدیث کو نص قطعی وصریح مان کر گویا اس حدیث کو متواتر قرار دے رہے ہیں۔
اب آئیے یہ دیکھیں کہ شیعہ جس لفظ مولا کی بنیاد پر اس حدیث کو حضرت علی کے استحقاق خلافت بلافصل پر نص صریح قرار دیتے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے مولا کے ایک دو نہیں کئی معنی ہیں رب، مالک، آقا، مددگار، دوست، تابع، پیروی کرنے والا، پڑوسی، چچازاد بھائی، حلیف، داماد، آزاد کردہ غلام اور احسان مند وغیرہ وغیرہ یہ مسلمہ اصول ہے کہ اگر کسی کلام میں کوئی ایسا لفظ لایا گیا ہو جو مختلف معانی رکھتا ہو اور ان میں سے کچھ معنی ایک دوسرے سے ترادف و اشتراک بھی رکھتے ہوں تو ان میں سے کسی خاص معنی کو متعین اور مراد لینا اس صورت میں معتبر ہوگا جب کہ اس کی کوئی دلیل اور اضح قرینہ موجود ہو، یا اگر وہ لفظ متنازعہ بن گیا ہو تو اس معنی کو مراد لینا زیادہ صحیح مانا جاتا ہے جس میں قدر مشترک پایا جاتا ہو اس اصول کے تحت اہل سنت والجماعت کہتے ہیں کہ لفظ مولا کے معنی حاکم و والی مراد لینا صحیح نہیں ہے، صحیح تو دوست و مددگار مراد لینا ہیں کیونکہ اول تو سیاق حدیث کا واضح قرینہ اور دلیل اس معنی کے حق میں ہے، دوسری دلیل یہ کہ لفظ مولا کا امام یعنی حاکم والی کے معنی میں مستعمل ہونا معہود ومعملوم نہیں ہے نہ لغت میں اور نہ شرع میں اور ائمہ لغت میں سے کسی نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ مفعل بمعنی (اولی) میں آتا ہے یعنی یہ تو کہا جاتا ہے کہ یہ چیز فلاں چیز سے اولی ہے یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ چیز فلاں چیز سے مولا ہے دوسرے یہ کہ خود شیعہ حضرت علی کو پوری امت کا دوست و محبوب و مددگار ہیں پس اس قدر مشترک کے اعتبار سے اس لفظ کے یہ معنی مراد لینا زیادہ موزوں ہے۔ رہی یہ بات کہ اگر آنحضرت ﷺ نے یہی مفہوم مراد لیا تھا تو پھر اس کو اتنے اہتمام سے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی جب کہ یہ بات سب ہی کو معلوم تھی تو اس موالات کے بیان کرنے سے آنحضرت ﷺ کا اصل مقصد لوگوں کو اس بات پر متنبہ کرنا تھا کہ کوئی بھی شخص علی سے بغض وعناد نہ رکھے۔ اس تنبیہ کے اظہار کے لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو جمع کیا جاتا اور پھر علی کی عظمت و بزرگی ثابت کرنے کے لئے ان الفاظ میں ان کی منقبت بیان کی جاتی۔ اسی لئے آپ ﷺ نے پہلے یوں فرمایا الستم تعلممون انی والی بالمؤمنین اور پھر بعد میں جو دعا فرمائی وہ بھی انہی الفاظ کی جہت و مناسبت سے رکھی، واضح ہو کہ یہ روایت جن دوسرے طرق سے منقول ہے ان میں سے بعض طرق میں پہلے تو اہل بیت نبوت کا عموماً ذکر ہے اور پھر حضرت علی کا خصوصی ذکر ہے، اس سے یہی ثابت ہوتا ہم کہ آپ ﷺ کا اصل مقصد تمام اہل بیت خصوصا حضرت علی کی محبت و توقیر کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا اور اس بارے میں تاکید کرنا تھا بعض روایتوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ یہ ارشاد نبوت دراصل اس ضرورت کے تحت تھا کہ بعض صحابہ کو اس شکوہ پر تنبیہ کی جائے جس کا انہوں نے حضرت علی کے خلاف اظہار کیا تھا۔ یہ وہ صحابہ تھے جو ایک خاص مشن پر حضرت علی کے ساتھ یمن گئے تھے۔ جب یہ صحابہ بشمول حضرت علی حجۃ الوداع کے موقعہ پر یمن سے آکر آنحضرت ﷺ کے شریک حج ہوئے تو انہوں نے حضرت علی کی نسبت بعض معاملات میں آنحضرت ﷺ سے کچھ شکایات بیان کیں جو اہل یمن کی بعض غلط فہمیوں کے سبب پیدا ہوئی تھیں۔ نہ صرف یہ بلکہ بعض صحابہ نے حضرت علی کی کسی بات کا انکار بھی کیا تھا ان صحابہ میں ایک صحابی بریدہ اسلمی بھی تھے، صحیح بخاری کی روایت میں جس کو ذہبی نے بھی صحیح قرار دیا ہے یوں سے کہ جب آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کی شان میں ان صحابہ کے شکایتی الفاظ سنے تو (غصہ کے مارے) آپ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا اور فرمایا اے بریدہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اہل ایمان کے نزدیک میں ان کی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں اور پھر آپ ﷺ نے وہی الفاظ ارشاد فرمائے جو اوپر حدیث میں ہیں، بات چونکہ بہت اہم تھی اس لئے آپ ﷺ نے تمام صحابہ جمع کیا اور تاکیداً ان کے سامنے مذکورہ حدیث ارشاد فرمائی۔
دعویٰ پھر بھی ثابت نہیں ہوتا
علماء اہل سنت والجماعت کہتے ہیں چلئے ہم نے مانا کہ اس حدیث میں مولا کا لفظ اولی کے معنی میں ہے، لیکن یہ کہاں لازم آتا ہے کہ امامت و حکومت خلافت میں اولی سے مراد ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرابت اور اتباع میں اولی کے معنی مراد ہوں، اس کا قرینہ قرآن کی اس آیت میں موجود ہے۔ آیت (اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِيْمَ لَلَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ ) 3۔ آل عمران 68) حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ سب سے زیادہ خوصیت اور قرابت وہ لوگ رکھتے ہیں تھے جنہوں نے ان کا اتباع کیا تھا۔ اور شیعوں کے پاس دلیل قاطع تو درکنار کوئی ظاہر تر دلیل بھی ایسی نہیں ہے جو اس احتمال کو نفی کرنے والی ہو اور پھر چلئے ہم نے یہ بھی مان لیا کہ امامت و حکومت میں اولی مراد ہے لیکن یہ تو بتایا جائے کہ اس لفظ (اولی) سے بلا کسی مزید صراحت کے فی الحال اور بلا فصل کی قید کا لزوم کس دلیل کے تحت مان لیا گیا ہے۔ ایسی کوئی بھی دلیل اور واضح قرینہ موجود نہیں ہے جو یہ ثابت کرے کہ اگر اس لفظ سے آنحضرت ﷺ نے اولی بالحکومت مراد لیا تھا تو آپ ﷺ کی مراد یہ بھی تھی کہ علی اس وقت سے میرے ولی عہد ہیں اور میرے پہلے جانشین مقرر ہوگئے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے مال کے اعتبار سے اولی بالحکومت مراد لیا ہو یعنی آپ نے اس لفظ کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا ہو کہ کبھی نہ کبھی ایک ایسا وقت آئے گا جب علی ہی تمام مسلمانوں میں سب سے افضل و برتر ہوں گے اور امامت و خلافت کی باگ ڈور سنبھالیں گے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس معنی میں تو اہل سنت والجماعت بھی حضرت علی کو اولی بالخلافت تسلیم کرتے ہیں۔ جب ان کا وقت آیا تو مسلمانوں کے ارباب حل وعقد نے ان کو والی بالخلافت قرار دے کر منصب خلافت راشدہ پر انھی کو متمکن کیا اور اس وقت اہل اسلام میں سب سے افضل و برتر وہی قرار پائے، مختصر یہ کہ مولا کو اولی کے معنی میں مان لینے کے بعد بھی شیعوں کا دعوی کسی طرح ثابت نہیں ہوتا۔
خود حضرت علی سے کس کی تائید حاصل ہوتی ہے
شیعوں کی بات تو بعد کی ہے کہ وہ اس حدیث کو حضرت علی کی خلافت بلافصل پر نص قطعی مانتے ہیں اور لفظ مولیٰ کے وہ معنی مراد لیتے ہیں جو لغوی نقلی اور عقلی طور پر کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوتے۔ ان سے پہلے تو حضرت علی کی ذات ہے کہ اس حدیث کا براست تعلق بھی انہی سے ہے اور وہی صاحب معاملہ بھی ہیں لہٰذا دیکھنا چاہئے کہ خود حضرت علی نے بھی اس حدیث کا وہی مفہوم مراد لیا ہے جو شیعہ علماء بیان کرتے ہیں یا ان کے نزدیک حدیث کے وہ معنی ہیں جو اہل سنت والجماعت مراد لیتے ہیں، جہاں تحقیق ودرایت کا تعلق ہے تو بلاشبہ یہی نتیجہ اخذ کرنا پڑتا ہے کہ حضرت علی کے نزدیک اس حدیث کا وہ مفہوم ومطلب نہیں تھا جو شیعہ علماء بیان کرتے ہیں پہلی دلیل تو یہ ہے کہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان علی الترتیب تینوں کی خلافت، جو حضرت علی کی خلافت سے مقدم تھی، اجماع امت کے تحت قائم ہوئی تھی اور حضرت علی اس اجماع میں شامل تھے قطع نظر اس بات کے کہ بعض صریح روایتوں سے آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر کا خلیفہ اور جانشین رسول ظاہر ہونا تھا اگر زیر بحث حدیث حضرت علی کی خلافت بلافصل اور آنحضرت ﷺ کے بعد تمام امت پر ان کی افضلیت و برتری کی طرف کسی بھی صورت میں صراحت یا اشارہ کرتی تو حضرت علی کسی بھی طرح اس اجماع امت میں شامل نہ ہوتے جس نے نہ صرف حضرت ابوبکر کا خلیفہ اول مقرر کیا بلکہ بعد میں حضرت عمر اور پھر حضرت عثمان کی خلافت قائم کی۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر بقول شیعہ علماء یہ حدیث حضرت علی کے لئے خلافت بلافصل کی نص قطعی ہوتی تو حضرت علی یا حضرت عباس اور یا خاندان نبوت کا کوئی فرد آنحضرت ﷺ کے وصال کے فوراً بعد، جب کہ آنحضرت ﷺ کی خلافت اور جانشینی کا مسئلہ زیر مشورہ آیا، اس حدیث کو پیش کرتے اور اس کی بنیاد پر استحقاق علی کا دعویٰ کرتے لیکن ہوا یہ کہ حضرت علی نے تقویت و حمایت حاصل کرنے کے لئے اس حدیث کو بطور دلیل پیش بھی کیا تو اس وقت پیش کیا جب وہ مسند خلافت پر فائز ہوچکے تھے اور گروہ ان کی خلافت سے انحراف کررہا تھا یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حضرت علی خوب جانتے تھے کہ یہ حدیث آنحضرت ﷺ کے فورًا وصال کے بعد ان کے استحقاق خلافت پر نص پیش نہیں کرتی۔ تیسری دلیل یہ کہ بعض صحیح روایتوں کے مطابق خود حضرت علی نے وضاحت کی تھی کہ آنحضرت ﷺ سے ایسی کوئی چیز منصوص نہیں ہے جس سے ان کی یا کسی دوسرے کی خلافت ثابت ہوتی ہو، یہاں صرف اس نکتہ پر مرکوز رہنا چاہئے کہ حضرت علی اس حدیث کو اپنی خلافت بلا فصل پر نص نہیں مانتے تھے اور چوتھی دلیل وہ روایت ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آخر مرض الموت میں ایک دن جب حضرت علی اور حضرت عباس آپ ﷺ کے پاس آئے تو حضرت عباس نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ آنحضرت ﷺ سے اس امر یعنی خلافت کی درخواست کرکے دیکھ لو، اگر یہ اعزاز ہمارے خاندان میں رہنے والا ہم تو اچھا ہے کہ ہمیں اس کا علم خود آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے ذریعہ ہوجائے لیکن حضرت علی نے حضرت عباس کی بات کو نہیں مانا اور صاف انکار کردیا کہ میں ایسی کوئی درخواست آنحضرت ﷺ سے نہیں کروں گا، اس سے بھی بخوبی ثابت ہوا کہ شیعوں کا دعوی سرے سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اگر یہ حدیث حضرت علی کی خلافت بلافصل کے حق میں نص ہوتی تو اس بارے میں آنحضرت ﷺ کی طرف رجوع کرنے اور پوچھنے کی ضرورت کا ہے کو پیش آتی اور حضرت عباس یہ بات کیوں کہتے کہ اچھا ہے اس کا علم خود آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے ذریعہ ہوجائے، درآنحالیکہ اس حدیث اور غدیرخم کا واقعہ دو ڈھائی ماہ پہلے ہی پیش آیا تھا اور بالکل قریبی عرصہ کی بات ہونے کے سبب ان دونوں حضرات کے ذہن میں پوری طرح مستحضر تھا۔
لفظ |" مولی |" کے معنی تمام صحابہ نے کیا سمجھے
واقعہ غدیر خم کے دن تقریباً سوالاکھ مؤمنین کا جم غفیر اس موقع پر موجود تھا اور اس اجتماع عظیم میں بکثرت وہ صحابہ کرام بھی موجود تھے جن کے ایمان وعمل اور صدق و امانت کی شہادت کلام اللہ اور کلام رسول میں کثرت کے ساتھ وارد ہے، اس تمام جماعت مسلمین کی مادری زبان عربی ہی تھی اور اس جماعت میں بڑے بڑے فصحاء و ادبا اور نکتہ دانان الفاظ ومعانی بھی موجود تھے، بڑا اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان سب نے یہ حدیث آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے سنی تو اس کا کیا مطلب اخذ کیا گیا تھا جو اہل سنت والجماعت بیان کرتے ہیں، یعنی حضرت علی کی محبت ومودت کی تاکید، یا وہ مطلب سمجھا گیا تھا جو شیعہ بیان کرتے ہیں، یعنی آنحضرت ﷺ کی خلافت بلافصل اور رسول اللہ ﷺ کی جانشینی ولی عہدی کا اعلان! اس سوال کا واضح جواب ناقابل تردید وجوہ کی بناء پر یہ ہے کہ واقعہ غدیر کے تمام حاضرین نے اس حدیث کے یہ مطلب اور لفظ مولا کے معنی وہی سمجھے تھے جو اہل سنت والجماعت بیان کرتے ہیں ان تمام لوگوں نے رسول مقبول ﷺ کی وفات کے بعد جو متفقہ طور پر حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی، ان کو آنحضرت ﷺ کا جانشین اول تسلیم کیا اور حضرت علی کی بیعت خلافت کا انہوں نے کوئی ذکر ہی نہیں کیا تو یہ اس بات کی مضبوط ترین دلیل ہے کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس حدیث سے حضرت علی کی خلافت بلافصل مراد نہیں ہے۔ نہ تو بات قرین قیاس ہے کہ واقعہ غدیر کے محض دو ڈھائی ماہ بعد ہی تقریبا سوا لاکھ آدمیوں کی پوری جماعت حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرتے وقت اس حدیث کو سرے سے بھول گئی ہو اور نہ عقل اس کو تسلیم کرسکتی ہے کہ سوالاکھ اہل ایمان اور ارباب دین ودیانت میں سے سب کے سب اس ارشاد رسول ﷺ ہوگئے ہوں، یا انہوں نے دیدہ دانستہ اس حدیث کو پردہ غفلت میں رہنے دیا ہو۔ علاوہ ازیں یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی جاہئے کہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ واقعہ غدیر کے بعد ایک دن رسول کریم ﷺ نے صحابہ کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی شان و فضیلت اور ان کے استحقاق کو آشکارا کرتے ہوئے ان دونوں کو مخاطب کرکے فرمایا میرے بعد تم پر کوئی حاکم حکومت نہ کرے گا ظاہر ہے کہ اگر مذکورہ حدیث سے آپ ﷺ کی مراد حضرت علی کو اپنا جانشین اور خلیفہ نامزد کرنا ہوتا تو پھر بعد میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمرخ کو مخاطب کرکے یوں ہرگز نہ فرماتے کہ میرے بعد تم پر کوئی حاکم حکومت نہ کرے گا۔ واضح دلائل اور براہین کے ذریعہ ثابت ہے کہ اس حدیث سے آنحضرت ﷺ کا اصل مقصد حضرت علی کی محبت اور ان سے حسن تعلق قائم رکھنے کی تلقین و تاکید کرنا ہے اور اہل بیت نبوت کے بارے میں اس طرح کی تلقین و تاکید آپ ﷺ نے متعدد مواقع پر ارشاد فرمائی ہے لیکن محبت اور خلافت کے درمیان بہرحال فرق ہے وہ اہل نظر سے مخفی نہیں۔
تمام صحابہ پر ارتداد کا الزام
شیعوں کا کہنا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد اور حضرت ابوبکر کی بیعت کے موقع پر یہ حدیث تمام صحابہ کے ذہن میں تھی کوئی اس کو بھولا نہیں تھا لیکن ان سب نے ظلم وتعدی بغض وعناد اور مکابرہ کے فاسد جذبات سے مغلوب ہو کر اس ارشاد رسول سے صریح انحراف کیا دراصل شیعوں کا ایک مستقل عقیدہ ہے وہ صحابہ گمراہ کہتے ہیں بلکہ روافض تو ان کے ارتداد اور کفر کے قائل ہیں ان کا کہنا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی وفات ہوتے ہی تمام مسلمان مرتد ہوگئے تھے اور علی اور ان کے چند رفقاء کے علاوہ باقی سب صحابہ اس دنیا سے کفر کی حالت میں رخصت ہوئے۔ (معاذاللہ )
شیعہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت علی نے خلفاء ثلاثہ کی بیعت میں جو شرکت کی یا انہوں نے اس موقع پر اپنی خلافت کا جو دعویٰ نہیں کیا اور یا انہوں نے خلافت بلافصل کا اپنا حق ثابت کرنے کے لئے اس حدیث سے جو استدلال نہیں کیا تو اس کا سبب تقیہ تھا یعنی انہوں نے ظلم کے ڈر سے حق پوشی کی مجبورًا اور بکراہت خلفا ثلاثہ کی بیعت میں شامل ہوئے اور عامہ مسلمین کے سماجی و سیاسی دباؤ کے تحت غاصبین کا یعنی ابوبکر، عمر اور عثمان کی خلافت سے انحراف نہیں کیا اور اسی طرح معاذ اللہ یہ نادان کذب وافتراء کے ذریعہ سیدنا علی کی ذات پر بزدلی اور کم ہمتی اور نفاق کی تہمت دھرنے کے مرتکب ہوئے کیونکہ سیدنا علی جتنی زبردست افرادی وذاتی قوت رکھتے تھے اور جس بےمثال شجاعت و مردانگی کے حامل تھے اس کی بنا پر یہ بات محالات میں سے ہے کہ انہوں نے اپنی خلافت بلافصل کے لئے یہ نص سنی ہو اور موقع پر اس کو پیش کرنے اور اس پر عمل کرنے سے باز رہے ہوں۔
ان کو یہ احساس نہیں کہ صحابہ کی آڑ میں بات ذات رسالت تک پہنچتی ہے
صحابہ کرام اور صدر اول کے اہل ایمان کے بارے میں اس قدر جارحانہ اور انتہا پسندانہ عقیدہ و نظریہ رکھنے کی صورت میں) روافض نے جن نکتہ نظر اختیار کیا ہے اس کے سبب دین واسلام کو کلیۃ باطل قرار دینا لازم آتا ہے کیونکہ وہ عظیم ہستیاں جو دین و شریعت کے نقل و روایت کا مدار ہیں، اگر شیعہ اور رافضی جماعت کے بقول محض نفسیاتی جذبات و خواہشات کے تحت نصوص کو چھپا سکتی ہیں ظلم وتعدی کی راہ اختیار کرسکتی ہیں، حق پر کذب وافتراء کا پردہ ڈال سکتی ہیں تو پھر کیا چیز باقی رہ جاتی ہے جو واضح طور پر ثابت کردے کہ ان ہستیوں نے جو اسلام ہم تک پہنچایا ہے اور احادیث و روایات کی صورت میں دین و شریعت کا جو بنیادی سرمایہ ہم تک منتقل کیا ہے وہ سب لغو و باطل اور جھوٹ کا پلندہ نہیں ہے معاذاللہ بلکہ حقیقت میں تو بات ذات رسالت پناہ تک پہنچتی ہے کہ (معاذاللہ) غیر معتبر، بددیانت اور ایسے بےکردار لوگوں کا اتنا بڑا گروہ آپ ﷺ کے دامن صحبت میں مدتوں رہا جس کو آپ ﷺ کی ایک ربع صدی کی مسلسل تبلیغی مساعی اور تربیتی جدوجہد بھی دین و مذہب اور اخلاق و کردار کی راہ مستقیم پر گامزن رکھنے میں کامیاب نہ ہوسکی واللہ ان ہذا لشیء عجاب اور پھر جیسا کہ پہلے ذکر ہوا خود سیدنا علی کی ذات کہاں محفوظ رہی ایک بڑا الزام تو ان پر بھی آتا ہے کہ انہوں نے حق کی تاکید کرنے اور حق مانگنے میں سستی و کمزوری دکھائی اور مداہنت کا راستہ اختیار کیا۔
وعن بريدة قال : خطب أبي بكر وعمر فاطمة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنها صغيرة ثم خطبها علي فزوجها منه . رواه النسائي
اور حضرت بریدہ کہتے ہیں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے فاطمہ سے نکاح کا پیغام دیا تو رسول کریم ﷺ نے کہہ دیا کہ وہ کمسن ہے اور پھر جب حضرت علی نے فاطمہ سے اپنے نکاح کا پیغام دیا تو آپ ﷺ نے ان سے فاطمہ کا نکاح کردیا۔ (نسائی)
تشریح
کہہ دیا کہ وہ کمسن ہے اور ایک روایت میں فسکت کے الفاظ ہیں، یعنی آپ ﷺ نے ان دونوں کا پیغام آنے پر سکوت اختیار فرمایا کوئی جواب نہیں دیا پس ہوسکتا ہے کہ یہ جواب دینے کی صورت دوسری مرتبہ پیغام دینے پر پیش آئی ہو یعنی پہلی مرتبہ کے پیغام پر تو آپ ﷺ نے سکوت اختیار فرما لیا ہو اور جب انہوں نے دوسری مرتبہ پیغام دیا تو آپ ﷺ نے یہ جواب دیا ہو کہ فاطمہ کمسن ہے۔ پھر جب حضرت علی نے۔۔۔۔۔۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ ام ایمن نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ فاطمہ کے لئے آنحضرت ﷺ سے تم کیوں نہیں درخواست کرکے دیکھتے، تم تو آنحضرت ﷺ کے چچا کے بیٹے ہو، تمہاری درخواست قبول ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ حضرت علی نے یہ سن کر جواب دیا آنحضرت ﷺ سے بات کہتے ہوئے مجھ کو حجاب آتا ہے پھر کسی ذریعہ سے یہ بات آنحضرت ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے رضامندی کا اظہار فرمایا اور جب حضرت علی کو آنحضرت ﷺ کی رضا مندی معلوم ہوئی تو انہوں نے اپنی درخواست آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کی اور آنحضرت ﷺ نے حضرت فاطمہ کا نکاح ان سے کردیا۔ ایک اور روایت میں جو ابوالخیر قزوینی حاکمی نے حضرت انس بن مالک ؓ نقل کی ہے۔ حضرت فاطمہ کے نکاح کا واقعہ تفصیل کے ساتھ یوں بیان کیا گیا ہے کہ پہلے حضرت ابوبکر نے فاطمہ کے لئے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی تو آپ ﷺ نے ان کو جواب دیا کہ اے ابوبکر! فاطمہ کے بارے میں ابھی تک فیصلہ الٰہی نازل نہیں ہوا پھر حضرت عمر نے اور بعض دوسرے قریش نے یہی درخواست اپنی طرف سے پیش کی تو آنحضرت ﷺ نے ان سب کو وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکر کو پہلے دے چکے تھے، پھر بعد میں کچھ لوگوں نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ فاطمہ کے لئے اگر تم آنحضرت ﷺ سے درخواست کرو تو امید ہم کہ آنحضرت ﷺ ان کا نکاح تمہارے ساتھ کردیں گے، حضرت علی نے کہا جب قریش کے معززین حضرات کی یہ درخواست شرف قبولیت نہیں پاس کی تو بھلا میں اپنی درخواست کے بارے میں کیسے امید رکھوں۔ آخر کار حضرت علی نے پیغام ڈال دیا اور ان کے پیغام پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے بزرگ و برتر پروردگار نے مجھ کو اس کا حکم دے دیا ہے۔ حضرت انس آگے بیان کرتے ہیں کہ چند دنوں کے بعد آنحضرت ﷺ نے مجھ کو طلب کیا اور فرمایا کہ جاؤ اور ابوبکر، عمر بن الخطاب، عثمان بن عفان، عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، طلحہ، زبیر اور انصار کے فلاں فلاں کو میرے پاس بلالاؤ۔ انس کہتے ہیں کہ میں ان سب کو بلا لایا اور یہ حضرات آآ کر آنحضرت ﷺ کے سامنے اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے، اس وقت حضرت علی کہیں کام سے گئے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے یہ خطبہ پڑھا الحمد اللہ المحمود بنعمۃ المعبود بقدرتہ المطاع بسلطانہ المرہوب من عذابہ وسطوتہ النفذ امرہ فی سماہ وارضہ الذی خلق الخلق بقدرتہ ومیزہم باحکامہ واعزہم بدینہ واکرمہم بنبیہ محمد ﷺ ان اللہ تبارک وتعالیٰ اسمہ وعظمتہ جعل المصاہرۃ سببا لا حقاوامرامفترضا اوشج بہ الارحام والزمہ للانام فقال عزمن قائل وہو الذی خلق من الماء بشرا فجعلہ نسبا وصہرا وکان ربک قدیرا وامر اللہ تعالیٰ یجری الی قضاؤہ یجری الی قدرہ لکل قضاء قدرولکل قدر اجل ولکل اجل کتاب یمحو اللہ ما یشاء ویثبت وعندہ ام الکتاب پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں اپنی بیٹی فاطمہ بنت خدیجہ کا نکاح علی بن ابی طالب سے کردوں، پس تو لوگ گواہ رہو کہ میں نے فاطمہ سے علی کا نکاح چار سو مثقال چاندی پر کردیا ہے اگر علی راضی ہوں، پھر آپ ﷺ نے چھوہاروں کا ایک طباق منگا کر ہمارے سامنے رکھا اور فرمایا کہ لوٹ لو، ہم نے وہ چھورہاے لوٹے ابھی ہم ان چھوہاروں کو لوٹ ہی رہے تھے کہ اچانک حضرت علی بھی آکر آنحضرت ﷺ کے قریب بیٹھ گئے، آپ ﷺ ان کو دیکھ کر مسکرائے اور پھر ان کو دیکھ کر فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم دیا کہ تمہارے ساتھ فاطمہ کا نکاح چار سو مثقال چاندی پر کردوں، اگر تم راضی ہو، حضرت علی نے جواب دیا، یقینا میں اس پر راضی ہوں یا رسول اللہ ﷺ! اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے دعا فرمائی جمع اللہ شملکما واسعد جدکما وبارک علیکما واخرج منکما کثیرا طیبا۔ اللہ تعالیٰ تم دونوں کو دلجمعی اور حسن رفاقت عطا کرے، تم دونوں کو نصیبہ ور بنائے، تم دونوں پر برکتیں نازل فرمائے اور تم دونوں کو نہایت پاکیزہ نفس اولاد سے بہرور کرے۔ حضرت انس کہتے تھے کہ اللہ کی قسم (آنحضرت ﷺ کی اسی دعا کے طفیل) اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو نہایت پاکیزہ نفس اولاد سم سرفراز کیا۔
وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بسد الأبواب إلا باب علي . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ( مسجد نبوی کے اندر) حضرت علی کے دروازہ کے علاوہ اور سب دروازوں کو بند کرا دیا تھا، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
بعض صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد نبوی کے اندر تھے اس احتیاط کے پیش نظر کہ کوئی حائضہ عورت یا کوئی جنبی مرد ان دروازوں کے ذریعہ اپنے گھروں میں آنے جانے کے لئے مسجد کے اندر نہ آئے۔ آپ ﷺ نے ان سب صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھروں کے ان دروازوں کو جو مسجد کے اندر واقع ہیں بند کردیں، ہاں حضرت علی کو آپ ﷺ نے اس حکم سے مستثنیٰ رکھا اور ان کا دروازہ مسجد کے اندر کھلارہنے دیا۔ اس طرح آنحضرت ﷺ کے حکم کے تحت ان کو یہ خصوصی اجازت حاصل رہی کہ وہ جنابت یعنی ناپاکی کی حالت میں مسجد کے اندر سے گزر سکتے ہیں۔ رہی اس حدیث کی بات جو مناقب ابوبکر کے باب میں پیچھے نقل ہوئی ہے اور جس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر کے دریچہ کے علاوہ اور صحابہ کے گھروں کے ان دریچوں کو بند کردینے کا حکم دیا دو مسجد نبوی میں کھلے ہوئے تھے تو اس حدیث اور اس حدیث کے مابین کوئی تضاد اور منافات نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابوبکر سے متعلق اس بات کی وضاحت ہے کہ آپ ﷺ نے وہ حکم اپنے زمانہ مرض الموت میں دیا تھا جب کہ حضرت علی ؓ سے متعلق اس حدیث میں ایسی کوئی وضاحت نہیں ہے، اس لئے یہی کہا جائے گا کہ یہ حکم آپ ﷺ نے کبھی پہلے دیا تھا اور یہی بات کہ حضرت ابوبکر کی فضیلت وخصوصیت کو ظاہر کرنے والا حکم زمانہ مرض الموت کا ہے۔ علماء کے اس قول کو مضبوط بناتی ہے کہ اس حکم کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کا اصل مقصد حضرت ابوبکر کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا تھا، علاوہ ازیں حضرت ابوبکر سے تعلق رکھنے والی حدیث زیادہ صحیح اور زیادہ مشہور ہے کیونکہ اس کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے جب کہ حضرت علی ؓ سے تعلق رکھنے والی اس حدیث کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے، خواہ متن اسناد کے اعتبار اس کو انہوں نے غریب قرار دیا ہو یا معنی و مفہوم کے اعتبار سے۔ ملاعلی قاری نے اس حدیث کے تحت جو بحث کی ہے اس کو ترمذی کا اس حدیث کو غریب کہنا محل نظر معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے حضرت زید بن ارقم کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا درحقیقت مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ علی کے دروازہ کے علاوہ اور سب دروازوں کو بند کرادوں۔ ریاض کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس میں احمد نے حضرت زید بن ارقم سے یوں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ کے دروازے مسجد کو ان کی گزر گاہ بنائے ہوئے تھے، چناچہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ علی کے سوا اور تمام دروازے بند کردئیے جائیں۔ زید نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ کا یہ حکم سن کر چند لوگوں نے کچھ کلام کیا تو آنحضرت ﷺ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور حمد وثناء کے بعد فرمایا حقیقت یہ ہے کہ مجھ کو (اللہ کی طرف سے) حکم ہوا ہے کہ علی کے دروازہ کے علاوہ اور سب دروازوں کو بند کرادوں، اب تم میں سے کچھ لوگوں نے اس بارے میں کلام کیا ہے تو میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نہ میں نے اس کو بند کرنے کا حکم اپنی طرف سے دیا ہے اور نہ کسی دروازے کو کھلا رکھنے کا استثناء اپنی طرف سے کیا ہے مجھ کو جو حکم جس طرح دیا گیا ہے اسی طرح میں نے نافذ کردیا ہے، نیز ملا علی قاری نے یہ لکھا ہے کہ اوپر کی حدیث ابن عباس کی علاوہ حضرت جابر سے بھی منقول ہے۔ تاہم ملاعلی قاری نے وضاحت کردی ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے صحیح وہی حدیث ہے جو ابوسعید ؓ سے بخاری ومسلم نے نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ابوبکر کے دروازہ یا دریچہ کے علاوہ اور کوئی دروازہ یا دریچہ مسجد نبوی میں کھلا نہ چھوڑا جائے! اور حضرت علی ؓ سے تعلق رکھنے والی حدیث صحیح بھی ہو تو ان دونوں حدیثوں کو الگ الگ حالات اور مصالح پر محمول کیا جائے گا تاکہ ان دونوں کے درمیان تضاد اور منافات معلوم نہ ہو۔
قربت اور بے تکلفی کا خصوصی مقام
وعن علي قال : كانت لي منزلة من رسول الله صلى الله عليه و سلم لم تكن لأحد من الخلائق آتيه بأعلى سحر فأقول : السلام عليك يا نبي الله فإن تنحنح انصرفت إلى أهلي وإلا دخلت عليه . رواه النسائي
اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ کی نظر میں مجھ کو ایک ایسی قدر ومنزلت حاصل تھی جو خلقت میں کسی کو حاصل نہیں ہوئی، میں آپ ﷺ کے ہاں علی الصبح (بالکل اندھیرے منہ) پہنچ جاتا تھا (پہلے دروازہ پر کھڑے ہو کر طلب اجازت کے لئے) کہتا السلام علیک یا نبی اللہ! اگر آنحضرت ﷺ (میرا سلام سن کر) کھنگار دیتے تو میں (یہ سمجھ کر کہ اس وقت آپ ﷺ کسی مشغولیت میں ہیں اور کوئی شرعی یا عرفی رکاوٹ ایسی ہے جس کے سبب مجھ کو اندر نہیں جانا چاہئے) اپنے گھر واپس چلا آتا اور اگر آپ ﷺ نہ کھنگارتے تو میں (بےتکلف) آنحضرت ﷺ کے پاس چلا جاتا د۔ (نسائی)
تشریح
علماء کے اس قول کے مطابق کہ کسی کے گھر میں داخلے کی اجازت چاہنے کے لئے جو سلام کیا جاتا ہے اس کے جواب میں سلام کرنا صاحب خانہ کے لئے ضروری ہے یہ وضاحت کی جائے گی کہ حضرت علی کا سلام سن کر آنحضرت ﷺ پہلے ان کے سلام پر جوابی سلام کرتے اور پھر کھنکارتے تھے اور جن علماء کے مطابق صاحب خانہ پر جوابی سلام ضروری نہیں ہے، ان کے نزدیک اس وضاحت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سیدنا علی نے اس روایت کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اپنی جس قربت اور بےتکلفی کا ذکر کیا ہے وہ یقینا انہی کا خصوصی مرتبہ تھا جو ان کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں تھا کیونکہ وہ حضرت فاطمہ کی نسبت سے اور آنحضرت ﷺ کے چچازاد بھائی ہونے کی حیثیت سے آنحضرت ﷺ کے گھر میں بےتکلفا آمد ورفت اور غیر معمولی مخالطت ومجالست کا حق سب سے زیادہ رکھتے تھے،
وعنه قال : كنت شاكيا فمر بي رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أقول : اللهم إن كان أجلي قد حضر فأرحني وإن كان متأخرا فارفعني وإن كان بلاء فصبرني . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف قلت ؟ فأعاد عليه ما قال فضربه برجله وقال : اللهم عافه - أو اشفه - شك الراوي قال : فما اشتكيت وجعي بعد . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح
اور حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں سخت بیمار ہوگیا اور (حسن اتفاق سے) رسول کریم ﷺ میرے پاس سے گزر رہے تھے جب میں (مرض کی شدت سے بےتاب ہو کر بآوازبلند) یہ دعا مانگ رہا تھا الہٰی اگر میری موت کا وقت آپہنچا تو مجھ کو (موت دے کر مرض کی اذیت سے نجات اور ابدی) سکون عطاء فرما اور اگر ابھی وقت نہیں آیا ہے تو (صحت بحال کر کے مجھ کو راحت و کشادگی (یعنی صحت و تندرستی کی خوشی) عطا فرما اور اگر یہ بیماری امتحان و آزمائش ہے تو مجھے صبر و آزمائش کو برداشت کی قوت دے (تاکہ میں بےتابی وبے قراری کا اظہار نہ کروں) رسول کریم ﷺ نے (مجھے یوں دعا مانگتے سنا تو) فرمایا کہ تم کیا دعا مانگ رہے تھے؟ میں نے دعا کے الفاظ آپ ﷺ کے سامنے دوہرادئیے۔ آپ ﷺ نے (دعا کے الفاظ سننے کے بعد) اپنے پاؤں سے علی کو ٹھوکا دیا اور پھر یوں دعا فرمائی الہٰی! اس (علی) کو عافیت عطا فرما یا یہ فرمایا کہ اس کو شفا بخش یہ راوی کا اظہار شک ہے حضرت علی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی اس دعا کے بعد پھر مجھ کو وہ بیماری کبھی لاحق نہیں ہوئی، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
فارفغنی ف کے زبر اور غین کم جزم ساتھ منقول ہے جو رفاغۃ سے ہے اور جس کے معنی کشادگی اور فراغت کے ہیں اور ایک صحیح نسخہ میں یہ لفظ عین کے ساتھ فارفغنی منقول ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے علی کو ٹھوکا دیا تاکہ وہ اس معاملہ میں اپنی غفلت پر متنبہ ہوں، حرف شکایت زبان پر لانے سے باز رہیں پائے مبارک کی ضرب کی برکت سے بہرمند ہوں اور ذات رسالت پناہ کی قدم بقدم کمال متابعت ان کو حاصل ہو۔ یہ راوی کا شک ہے یہ جملہ بعد کے کسی راوی کا ہے جس نے واضح کیا ہے کہ اس موقع پر پہلے راوی نے اپنا شک ظاہر کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو اللہم عافہ (الہٰی) اس کو عافیت عطا فرما، کے ارشاد فرمائے تھے یا اللہم اشعفہ الہٰی! اس کو شفا بخش) کے الفاظ، بہرحال آنحضرت ﷺ کی اس دعا میں یہ تعلیم اور تلقین پوشیدہ ہے کہ مریض کو بس یہ دعا مانگنی چاہئے کہ اے اللہ! مجھ کو عافیت عطا فرمایا اے اللہ! مجھ کو شفا بخش دعا میں تردید کا پہلو اعتبار کرنا یعنی یوں کہنا کہ یا یہ کر یا وہ کر، جیسا کہ حضرت علی کی دعا تھی غیر مناسب بات ہے کیونکہ تردید کا پہلو ایک طرح سے جبر اور دباؤ کا مفہوم ظاہر کرتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ پر جبر کرنے اور دباؤ ڈالنے والا کوئی نہیں ہے۔
امیرالمؤمنین سیدنا علی ابن ابوطالب قریشی ہیں کنیت ابوالحسن بھی تھی اور ابوتراب بھی کم عمروں میں اسلام لانے والے سب سے پہلے شخص ہیں، قبول اسلام کے وقت عمر کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں، ایک قول یہ ہے کہ قبول اسلام کے دن آپ کی عمر پندرہ سال تھی، بعض حضرات نے آٹھ سال اور بعض نے دس سال بیان کی ہے سیدنا علی غزوہ تبوک کے علاوہ اور سب عزو وں میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے ہیں غزؤہ تبوک کے لئے جاتے ہوئے آنحضرت ﷺ ان کو اپنے اہل و عیال پر خلفیہ مقرر کرکے مدینہ چھوڑ کر گئے تھے اور ان سے فرمایا تھا کہ کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ میرے نزدیک تمہارا وہی درجہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک ہارون (علیہ السلام) کا تھا، حضرت علی گہرے گندمی رنگ کے تھے آنکھیں بڑی بڑی تھیں، قد میانہ مائل بہ پستی تھا، پیٹ بڑا اور سر کے بال کسی قدر اڑے ہوئے تھے، داڑھی گھنی اور لمبی تھی، دہن کشادہ تھا اور سر اور داڑھی کے بال سفید ہوگئے تھے۔ ١٨ ذی الحجہ ٣٥ ھ جمعہ کے دن جو حضرت عثمان کا یوم شہادت ہے، حضرت علی مسند آرائے خلافت ہوئے اور ١٧ رمضان المبارک ٤٠ ھ جمعہ کے دن فجر کی نماز کے وقت مسجد میں ایک شقی، عبدالرحمن ابن ملجم نے تلوار سے قاتلانہ حملہ کیا جس کے صدمہ سے تین راتوں کے بعد واصل بحق ہوگئے اور مرتبہ شہادت سے سرفراز ہوئے بعض مؤرخین نے تاریخ وفات ١٧ رمضان المبارک ٤٠ ھ لکھی ہے اور قاتلانہ حملہ کا وقوع اس تاریخ سے دو دن پہلے کا بیان کیا ہے غسل دینے والوں میں دونوں صاحبزادوں حسن اور حضرت حسین کے علاوہ حضرت عبداللہ بن جعفر بھی شامل تھے، حضرت حسن نے نماز جنازہ پڑھائی اور منہ اندھیرے تدفین عمل میں آئی، حضرت علی کی عمر تریسٹھ سال کی اور بعض حضرات کے مطابق پینسٹھ سال کی اور ایک قول کے مطابق ستر سال کی ہوئی، ان کی خلافت چارسال نوماہ رہی۔