عشرہ مبشرہ کے مناقب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 194 · 34 hadiths · Page 2 of 2

6093Mishkaat-al-Masabih

جنگ احد کے دن آنحضرت ﷺ پر کیا گزری

حضرت ابوسعید خدری نے ایک روایت میں بیان کیا ہے کہ جنگ احد کے دن ایک دشمن دین عتبہ بن وقاص نے آنحضرت ﷺ کو ایک پتھر پھینک کر مارا جس کی چوٹ سے آپ ﷺ کا دائیں طرف کا دندان مبارک شہید ہوگیا اور نیچے کا ہونٹ زخمی ہوگیا ایک اور بدبخت عبداللہ بن شہاب زہری کے حملہ کے نتیجہ میں آپ ﷺ کی مبارک پیشانی پر سخت زخم آیا اور خود کی دو کڑیاں رخسار مبارک میں پیوست ہوگئیں۔ دشمنوں نے میدان جنگ میں پوشیدہ طور پر کچھ گڑھے کھود کر ان کو اوپر سے اس طرح برابر کردیا تھا کہ نادانستگی میں جس مسلمان کا پیر اس کے اوپر پڑھے وہ گڑھے میں گرجائے چناچہ ایسے ہی ایک گڑھے میں آنحضرت ﷺ بھی گرپڑے تھے، فورا حضرت علی نے آگے بڑھ کر آپ ﷺ کا دست مبارک تھاما اور پھر حضرت طلحہ بن عبیداللہ نے آپ ﷺ کو اٹھایا اور گڑھے سے باہر نکال کر کھڑا کیا چہرہ مبارک کے زخموں سے جو خون نکل رہا تھا اس کو ابوسعید خدری نے اپنے منہ سے چوسا اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میرا خون چوس کر صاف کیا ہے۔ اس کو دوزخ کی آگ چھونے بھی نہیں پائے گی۔

6094Mishkaat-al-Masabih

حضرت طلحہ کی فضیلت

وعن جابر قال : نظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى طلحة بن عبيد الله قال : من أحب أن ينظر إلى رجل يمشي على وجه الأرض وقد قضى نحبه فلينظر إلى هذا . وفي رواية : من سره أن ينظر إلى شهيد يمشي على وجه الأرض فلينظر إلى طلحة بن عبيد الله رواه الترمذي

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے طلحہ بن عبیداللہ کی طرف (محبت بھری نظروں سے) دیکھا اور فرمایا جس شخص کی خواہش ہو کہ اس انسان کو دیکھے جو زمین پر چلتا پھرتا ہے لیکن حقیقت میں وہ مردہ ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس انسان (طلحہ) کو دیکھے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص ایسے شہید کا دیدار کرنا چاہے جو زمین پر چلتا پھرتا ہے تو وہ طلحہ بن عبیداللہ کو دیکھے۔ (ترمذی) تشریح حقیقت میں وہ مردہ ہے یہ قضی نحبہ کا ترجمہ ہے۔ اصل میں تو نحب کے معنی ہیں منت ماننا، نذر کرنا، عہد کرنا۔ لیکن اس کے ایک معنی موت اور اجل کے بھی آتے ہیں چناچہ قرآن کریم کی اس آیت! (مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَه وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ ) 33۔ الاحزاب 23) من مفسرین نے قضی نحبہ کی تفسیر میں دونوں معنی مرادلئے ہیں۔ اس لحاظ سے اس حدیث میں بھی قضی نحبہ کو اگرچہ دونوں معنی پر محمول کیا جاسکتا ہے لیکن دوسرے معنی (موت کے مفہوم میں) مراد لینا زیادہ صحیح اور زیادہ موزوں ہے جیسا کہ دوسری روایت شہید یمشی علی وجہ الارض سے بھی ہے۔ بہرصورت اس ارشاد گرامی سے آنحضرت ﷺ کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ طلحہ وہ شخص ہے جس نے اللہ کی راہ میں اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے سرفروشی اور فدا کاری کا جو عہد کیا تھا اس کو پورا کردیا اور میدان جنگ میں اس نے جان سپاری کے ذریعہ درحقیقت موت کا مزہ چکھ لیا یہ اور بات ہے کہ وہ ابھی زندہ نظر آتا ہے، یہ معلوم ہی ہے کہ جنگ احد کے دن حضرت طلحہ نے خود کو آنحضرت ﷺ کی ڈھال بنا لیا تھا اور اس کے نتیجہ میں ان کے جسم کو کوئی حصہ کوئی عضو زخمی ہونے سے نہیں بچا تھا۔ بعض حضرات نے لکھا ہے اس حدیث میں حضرت طلحہ کے تعلق سے جو کچھ فرمایا گیا اس میں درحقیقت اس اختیاری موت کی طرف اشارہ ہے جو اہل سلوک اور ارباب فناہ کو حاصل ہوتی ہے یا مردہ ہونے سے ذات باری تعالیٰ کی طرف انجذاب اور ذکر الہٰی اور مشاہدہ ملکوت میں پوری طرح مستغرق ہونے کے سبب عالم شہادت سے غائب ہونا ہے جو دراصل (اختیاری موت) کا نتیجہ ہوتا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ ﷺ نے مردہ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہو کہ مال کار حضرت طلحہ کو شہادت کی موت اور حسن خاتمہ کی سعادت نصیب ہوگی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت طلحہ جنگ جمل میں شہید ہوئے۔

6095Mishkaat-al-Masabih

طلحہ اور زبیر کی فضیلت

وعن علي رضي الله عنه قال : سمعت أذني من في رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : طلحة والزبير جاراي في الجنة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت علی کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے رسول کریم ﷺ کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے سنے طلحہ اور زبیر جنت میں میرے پڑوسی ہیں۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح ان الفاظ کے ذریعہ کنایۃ اس کمال قرب وتعلق کو ظاہر کیا گیا ہے جو ان دونوں حضرات اور نبی کریم ﷺ کے مابین تھا۔

6096Mishkaat-al-Masabih

سعد کے لئے دعا

وعن سعد بن أبي وقاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يومئذ يعني يوم أحد : اللهم اشدد رميته وأجب دعوته . رواه في شرح السنة

اور حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے (ان کے حق میں) اس دن یعنی غزوہ احد کے دن دعا فرمائی خداوندا! اس (سعد) کی تیر اندازی میں شدت وقوت عطا فرما اور اس کی دعا قبول کر۔ (شرح السنۃ) تشریح اس موقع پر تیر اندازی میں شدت وقوت کے ساتھ اجابت دعا کر ذکر اس مناسبت سے تھا کہ عرف عام میں تیر اور دعا کے درمیان گہرا تعلق ہے، تیر کا دعا سے استعارہ کیا جاتا ہے اور تیر دعا دعا کا تیر بہدف ہونا بڑا مشہور محاروہ تو خود اردو زبان میں بھی ہے اس مناسبت سے بطور نکتہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حضرت سعد کا مستجاب الدعوات بن جانا گویا اس تیر کا اثر تھا جو انہوں نے اللہ کی راہ میں اسلام میں سب سے پہلے تیر چلایا تھا

6097Mishkaat-al-Masabih

سعد کے لئے دعا

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اللهم استجب لسعد إذا دعاك . رواه الترمذي

اور حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے دعا فرمائی تھی خداوندا! سعد جب تم سے دعا مانگے تو اس کو قبول فرما۔ (ترمذی )

6098Mishkaat-al-Masabih

سعد کی فضیلت

وعن علي رضي الله عنه قال : ما جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم أباه وأمه إلا لسعد قال له يوم أحد : ارم فداك أبي وأمي وقال له : ارم أيها الغلام الحزور . رواه الترمذي

اور حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے ماں باپ کو سعد کے علاوہ کسی کے لئے جمع نہیں کیا چناچہ غزوہ احد کے دن ان کو مخاطب کرکے فرمایا تھا تیر چلائے جا، تجھ پر میرے ماں باپ صدقے۔ نیز ( اس دن) آپ ﷺ نے سعد کو مخاطب کرکے یوں بھی فرمایا تھا تیر پھینکے جا اے جواں مرد۔ (ترمذی) تشریح اور اس جواں مرد نے جب ابوبکر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا تو اس وقت اس کی عمر ١٧ سال کی تھی۔ ان کے کچھ حالات پیچھے گزر چکے ہیں، انہوں نے اپنے زمانہ اسلام کے ہر اہم معاملہ اور واقعہ میں سرگرم حصہ لیا تھا اور دین کی سربلندی کے لئے بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں آخر میں جب ملت انتشار وتنازعہ کی صورت حال سے دوچار تھی اور خلافت و اقتدار کے مسئلہ پر مختلف گروہوں کی محاذ آرئیاں ہورہی تھیں تو انہوں نے تمام معاملات سے کامل یکسوائی اختیار کرلی تھی اور خود کو گھر کے اندر محصور کرکے ایک قبر تک محدود کرلیا تھا اور اپنے گھر کے لوگوں کو ہدایت دیدی تھی کہ باہر کی کوئی خبر مجھ تک نہ پہنچائی جائے تاآنکہ امت کسی ایک امام پر متفق ومتحد ہوجائے

6099Mishkaat-al-Masabih

سعد کی فضیلت

وعن جابر قال : أقبل سعد فقال النبي صلى الله عليه و سلم : هذا خالي فليرني امرؤ خاله . رواه الترمذي وقال : كان سعد من بني زهرة وكانت أم النبي صلى الله عليه و سلم من بني زهرة فلذلك قال النبي صلى الله عليه و سلم : هذا خالي . وفي المصابيح : فليكرمن بدل فليرني

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ (ایک دن سعد بن ابی وقاص (مجلس مبارک میں) آئے تو نبی کریم ﷺ نے (ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ میرے ماموں ہیں۔ اگر کوئی شخص ایسا ماموں رکھتا ہے تو وہ مجھ کو دکھائے۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ سعد (قریش کے ایک قبیلہ) بنی زہرہ سے تھے اور (چونکہ آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ بھی بنی زہرہ ہی سے تھیں) اس اعتبار سے آنحضرت ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا یہ میرے ماموں ہیں نیز مصابیح میں فلیرنی (تو وہ مجھ کو دیکھائے) کے بجائے فلیکرمن (تو وہ اپنے اس ماموں کی تکریم کرے) کے الفاظ نقل کئے گئے ہیں، لیکن ابن حجر نے اس تبدیلی کو تصحیف کہا ہے بلکہ ملاعلی قاری نے تو تحریف قرار دیا ہے۔ تشریح ۔۔۔۔۔۔ تو وہ مجھ کو دکھائے یعنی اگر کوئی شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ اس کا ماموں میرے ماموں جیسا ہے نہیں ہوسکتا۔ زہرہ عورت کا نام ہے جو کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب کی بیوی تھی، اس کی اولاد کو بنوزہرہ کہا جاتا ہے اور یہ قریش کی ایک مشہور شاخ تھی۔ آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص کا نسبی تعلق اسی شاخ سے تھا اور اس اعتبار سے حضرت آمنہ اور سعد بن وقاص بہن بھائی ہوئے۔

6100Mishkaat-al-Masabih

اسلام میں سب سے پہلا تیر سعد نے چلایا

عن قيس بن حازم قال : سمعت سعد بن أبي وقاص يقول : إني لأول رجل من العرب رمى بسهم في سبيل الله ورأيتنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وما لنا طعام إلا الحبلة وورق السمر وإن كان أحدنا ليضع كما تضع الشاة ماله خلط ثم أصبحت بنو أسد تعزرني على الإسلام لقد خبت إذا وضل عملي وكانوا وشوا به إلى عمر وقالوا : لا يحسن يصلي . متفق عليه

حضرت قیس بن ابی حازم (تابعی) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو یہ فرماتے سنا یقینا میں عرب میں پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا اور ہم نے وہ (زمانہ دیکھا ہے جب ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ مصروف جہاد رہا کرتے تھے اور ہمارے پاس خوراک نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی، ہاں کیکر کی پھلیاں (جو لوبیہ کے مشابہ ہوتی ہیں اور کیکر کی پتیاں ضرور مل جاتی تھیں (جنہیں ہم پیٹ میں پہنچا کر بھوک کی آگ ٹھنڈی کرلیتے تھے) اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ ہم لوگ بکری کی مینگنیوں کی مانند خشک پاخانہ پھرتے تھے جس میں رکوبت اور چپچپاہت کا نام تک نہ ہوتا تھا پھر (اب وہ زمانہ بھی دیکھنا پڑ رہا ہے کہ بنو اسد مجھ کو اسلام (یعنی نماز) کے بارے میں نصیحت (یا تنبیہ) کرتے ہیں (بخدا اگر میں اب بھی بنو اسد کی نصیحت کا محتاج اور دین کے بارے میں ان سے کمتر ہوں) تو پھر اس میں کیا شبہ کہ میں حرماں نصیب ہی رہا اور میرا کیا دھرا کارت ہوا۔ (یہ سعد نے اس وجہ سے کہا کہ) بنو اسد نے حضرت عمر فاروق سے سعد کی چغل خوری اور شکایت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ نماز اچھی طرح نہیں پڑھتے۔ (بخاری ومسلم) تشریح بنواسد سے زبیر بن العوم بن خویلد بن اسد کی اولاد اور اہل خاندان مراد ہیں۔ دراصل اس زمانہ میں جبکہ حضرت سعد بن ابی وقاص امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق کی طرف سے کوفہ کی گورنری کے منصب پر فائز تھے، بنواسد لوگوں کی زبانی یاتحریری طور پر حضرت عمر کے پاس یہ شکایت بھیجا کرتے تھے کہ سعد نماز اچھی نہیں پڑھتے یعنی یا تو نماز کی شرائط اور ارکان اور یا سنن کی ادائیگی خوب طرح نہیں کرتے اور اس کے آداب و محاسن کی رعایت ملحوظ نہیں رکھتے۔ اس شکایت پر حضرت عمر نے سعد سے جواب طلب کیا اور ان کو تنبیہ وتہدید بھیجی، حضرت سعد نے صورت حال کی وضاحت کی اور امیر المؤمنین کو بتایا کہ میں آنحضرت ﷺ کی نماز کے مطابق ہی لوگوں کو نماز پڑھاتا ہوں، چناچہ پہلی دونوں رکعتیں تو طویل رکھتا ہوں اور بعد کی دونوں رکعتوں کو مختصر کرتا ہوں۔ حضرت عمر نے حضرت سعد کی وضاحت کو قبول کیا۔ نماز پڑھانے کے ان کے طریقہ کی تصویب کی اور فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ تم نے جو بیان کیا ہے وہ صحیح ہے بنو اسد کا حضرت سعد کے خلاف دربار خلافت میں شکایت پہنچانا اور اچھی طرح نماز نہ پڑھنے کا الزام ان پر عائد کرنا یقینا ایک غیر معمولی واقعہ تھا جس نے حضرت سعد کے جذبات و احساسات کو زبردست ٹھیس پہنچائی اور مجبورا انہیں اپنے اس افتخار کا اظہار کرنا پڑا کہ انہیں پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ دور اول کی اس انقلابی جدوجہد میں بھر پور شرکت کا اعزاز حاصل ہے جو اسلام کے نام لیواؤں کے لئے سراسر مشقت، جان کا ہی اور سخت جسمانی و روحانی آزمائشوں کا موجب تھی۔ حضرت سعد نے گویا اس تاثر کا اظہار کیا کہ جب سخت ترین دور بھی میری دینی زندگی میں کوئی اضمحلال اور تساہلی پیدا نہ کرسکا اور بڑی سے بڑی پریشانی اور سختی برداشت کرکے بھی میں نے اسلام کے فرائض کو کماحقہ، ادا کیا تو اب نماز جیسی سب سے اہم عبادت میں کسی سہل انگاری یا تساہلی کاروادار کیسے ہوسکتا ہوں یہ کتنی ناانصافی کی بات ہے کہ بنواسد نے قبول اسلام میں میری سبقت اسلام کے لئے میری جدوجہد اور قربانیاں اور دین کے راستہ میں میری ثابت قدمی اور میری تمام طاعات و عبادات کو نظر انداز کرکے مجھ پر ایسا الزام عائد کیا جو میرے لئے عار کا باعث ہے اور مجھے سخت ذہنی و روحانی اذیت میں مبتلا کردینے والا ہے حضرت سعد نے جن الفاظ میں اپنے احساسات کا اظہار کیا اس سے معلوم ہوا کہ دینی مصلحت کے تحت اور معاندانہ عیب جوئی وتنقیص کے ازالہ کی خاطر اپنے علم وفضل اور اوصاف کمالات کا واقعاتی اور حقیقی پیرایہ بیان میں فخریہ اظہار شریعت میں جائز ہے۔ چناچہ یہ ثابت ہے کہ صحابہ کرام صالح اور صحت منداغراض کے تحت اپنے اوصاف و کمالات کا آپس میں فخریہ اظہار کیا کرتے تھے۔

6101Mishkaat-al-Masabih

حضرت سعد کا افتخار

وعن سعد قال : رأيتني وأنا ثالث الإسلام وما أسلم أحد إلا في اليوم الذي أسلمت فيه ولقد مكثت سبعة أيام وإني لثالث الإسلام . رواه البخاري

اور حضرت سعد نے کہا میں اپنے بارے میں (دوسروں سے زیادہ) زیادہ جانتا ہوں، اسلام کی فہرست میں میرا نمبر تیسرا ہے اور (مجھ سے پہلے مشرف باسلام ہونے والے ان دونوں میں سے بھی) کوئی شخص اس دن سے دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوا تھا جس دن کہ میں نے اسلام قبول کیا تھا اور پھر سات دن تک میں اسلام کا تہائی حصہ بنا رہا۔ (بخاری) تشریح حضرت سعد کا مطلب یہ تھا سب سے پہلے دن تین آدمیوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا ان میں سے دو تو حضرت خدیجہ اور ابوبکر تھے اور تیسرا آدمی میں خود تھا اس طرح اگرچہ حضرت خدیجہ اور حضرت ابوبکر نے مجھ سے پہلے اسلام قبول کرلیا تھا، لیکن ہم تینوں کے اسلام قبول کرنے کا دن بہرحال ایک ہی تھا، پھر میرے قبول اسلام کے بعد سات دنوں تک کسی شخص نے اسلام قبول نہیں کیا۔ میرے بعد جو لوگ مسلمان ہوئے وہ سب ان سات دنوں کے بعد ہی ہوئے یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ حضرت سعد کی مراد یہ تھی کہ آزاد اور بالغ لوگوں میں ہم تین آدمیوں کے علاوہ اور کوئی شخص ان سات دنوں میں مسلمان نہیں ہوا۔ یا یہ کہ حضرت سعد کو شاید اور لوگوں کے اسلام کی خبر نہ ہوئی ہوگی۔ اس وضاحت سے نہ تو یہ اشکال پیدا ہوگا کہ جب حضرت علی (جو قبول اسلام کے وقت نابالغ تھے اور حضرت زید بن حارثہ (غلام کے بارے میں ثابت ہے کہ ان دونوں نے بھی پہلے ہی دن اسلام قبول کرلیا تھا تو حضرت سعد نے یہ بات کہی اور نہ حضرت عمار کی اس روایت سے حضرت سعد کی اس روایت کا تنافض لازم آئے گا جس میں انہوں نے (یعنی عمار نے کہا جب میں نے (پہلی مرتبہ) رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی تو اس وقت پانچ غلاموں، دو عورتوں اور ایک ابوبکر کے علاوہ اور کوئی شخص آپ ﷺ کے ساتھ مسلمان نہیں تھا۔

6102Mishkaat-al-Masabih

حضرت عبدالرحمن بن عوف کی فضیلت

وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول لنسائه : إن أمركن مما يهمني من بعدي ولن يصبر عليكن إلا الصابرون الصديقون قالت عائشة : يعني المتصدقين ثم قالت عائشة لأبي سلمة بن عبد الرحمن سقى الله أباك من سلسبيل الجنة وكان ابن عوف قد تصدق على أمهات المؤمنين بحديقة بيعت بأربعين ألفا . رواه الترمذي

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ نے جو اپنی بیویوں سے فرمایا تمہارا معاملہ کچھ اس نوعیت کا ہے کہ مجھ میرے بعد کے فکر میں ڈالتا ہے اور تمہارے خرچہ پر وہی جو صبر کریں گے (صابر ہیں اور صدیق ہیں حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ (صابر اور صدیق سے) آنحضرت ﷺ کی مراد وہ لوگ ہیں جو صدقہ دینے والے اور کار خیر کرنے والے ہیں پھر حضرت عائشہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کے بیٹے حضرت ابوسلمہ تابعی کے سامنے (ان کے والد بزرگوار کے زبردست مالی ایثار پر اظہار تشکر اور جذبہ منت گزاری کے تحت) کہا اللہ تعالیٰ تمہارے باپ کو جنت کی سلسبیل سے سیراب فرمائے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات (کے خرچہ) کے لئے ایک باغ دیا تھا جو چالیس ہزار دینار کو بیچا گیا تھا۔ تشریح جو صابر ہیں یعنی وہ لوگ کہ جو اللہ کی رضا و خوشنودی کی خاطر اپنا مال اور اپنی دولت خرچ کرتے ہیں، صدقہ و خیرات کے ذریعہ اس دنیا کی پونجی کو تو کم کرتے ہیں مگر آخرت کے سرمایہ میں اضافہ کرتے ہیں اور اس طرح مال و دولت کے خرچ ہونے پر نفس کو جو ناگواری ہوتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔ صدیق ہیں یعنی وہ لوگ جو صدقہ معاملہ میں کامل ہیں، ادائے حقوق میں سب سے آگے ہیں اور جود وسخا میں کثیر الصدق ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے ازواج مطہرات سے جو کچھ فرمایا اس کا حاصل یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں اختیار دیا تھا کہ چاہے تو زوجیت رسول کے شرف کی صورت میں آخرت کو اختیار کرلو، چاہو آسائش و آرام کی زندگی گزارنے کی خاطر اس شرف کو چھوڑ دینا اختیار کرلو تو اس وقت تم نے اگرچہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دی تھی اور میری رفاقت وزوجیت میں رہنے کے فیصلہ کو اس کامل یقین کے ساتھ برقرار رکھا تھا کہ اس عظیم ترین شرف و اعزاز کی خاطر دنیا کے بڑے مصائب اور بڑی سے بڑی سختی کو بھی خوش دلی سے انگیز کروگی، تاہم مجھ کو کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ تمہارے لئے میراث چھوڑ کر نہیں جارہا ہوں، نہ معلوم میری وفات کے بعد تمہیں کن حالات سے دوچار ہونا پڑے۔ تمہارے ساتھ لوگ کیا معاملہ اور کیسا سلوک رکھیں گے کون شخص تمہارے گزارے کا متکفل بنے گا اور کس شخص کو تمہاری خبر گیری کی توفیق نصیب ہوگی اور جو تمہارے مصارف کے لئے اپنے مال اور اپنی جائداد کا نذرانہ پیش کریں گے ان کا وہی مقام و مرتبہ ہوگا جو اللہ کے نزدیک صابر اور صدیق کا ہوتا ہے حضرت عائشہ نے ارشاد نبوت کے سیاق میں، صابر اور صدیق کے معنی بیان کئے اور پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف کے حق میں، ان کے بیٹے کے سامنے، جو دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے اس سے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی وہ فضیلت ظاہر ہوئی جو انہوں نے ازواج مطہرات کے لئے اپنی بڑی ایک جائداد کا نذرانہ پیش کرکے اس حدیث کے مطابق حاصل کی۔ اللہ کی راہ میں حضرت عبدالرحمن بن عوف کی مالی قربانیاں حدیث بالا میں یہ ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے باغ ازواج مطہرات کے لئے دیا تھا وہ چالیس ہزار دینار کو بیچا گیا، لیکن ترمذی ہی کی ایک روایت میں، جس کو ترمذی نے حسن غریب کہا ہے یوں ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے ازواج مطہرات کے مصارف کے لئے اپنا پورا باغ اللہ کی راہ میں دیدیا تھا جو چار لاکھ درہم یا دینار کو بیچا گیا۔ یہ تو ابن عوف کی مالی قربانیوں کی صرف ایک مثال ہے، وہ بہت بڑے تاجر تھے اور وسیع بنیادوں پر پھیلی ہوئی اپنی تجارت کے ذریعہ جتنا زیادہ مال و اسباب پیدا کرتے تھے اتنا ہی اللہ کی راہ میں خرچ بھی کرتے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ان کی زندگی اور ان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا مطلقا مبالغہ نہ ہوگا کہ ان کی تمام تر تجارت اور کسب مال کا مقصد ہی اللہ کی راہ میں اور دین کی سربلندی کے لئے خرچ کرنا تھا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک مرتبہ اپنے آدھے مال و اسباب اور چار ہزار دینار یادرہم یا درہم نقد کا نذرانہ پیش کیا، پھر انہوں نے چالیس ہزار دینار تصدق کئے، پھر پانچ سوگھوڑے جہاد کے لئے اللہ کے کی راہ میں دئیے اور پھر جہاد ہی کے لئے اللہ کی راہ میں انہوں نے ڈیڑھ ہزار اونٹنیاں پیش کیں اور ان تمام مال و اسباب میں سے اکثر حصہ ان کے تجارتی مال و سرمایہ سے تعلق رکھتا تھا۔ ایک روایت کے مطابق ایک دن حضرت عبدالرحمن بن عوف نے ایک سو پچاس ہزار یعنی ڈیڑھ لاکھ دینار اللہ کی خوشنودی کے لئے صحابہ کرام کو دیئے، پھر جب رات آئی تو گھر میں قلم کاغذ لے بیٹھے اور اپنا تمال مہاجرین و انصار صحابہ میں تقسیم کرنے کے لئے ایک فہرست مرتب کی، اس فہرست میں انہوں نے اپنے بدن کے کپڑوں تک کے بارے میں لکھا کہ میرے بدن پر جو قمیص ہے وہ فلاح صاحب کے لئے ہے اور میرا عمامہ فلاں صاحب کے لئے اس طرح انہوں نے اپنے مال و اسباب میں سے کچھ باقی نہیں رہنے دیا، ایک ایک چیز حاجتمندوں کے نام لکھ دی، اس کام سے فارغ ہو کر سوگئے صبح ہوئی تو نماز فجر کے لئے مسجد پہنچے اور آنحضرت ﷺ کے پیچھے نماز ادا کی اتنے میں حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور آنحضرت ﷺ سے کہا کہ اے محمد ﷺ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عبدالرحمن کو میری طرف سے سلام کہو اور وہ فہرست (جو انہوں نے آج رات میں بنائی ہے) ان سے قبول کرکے پھر ان کو واپس کردو اور ان سے کہو کہ اللہ نے تمہارا صدقہ قبول کرلیا، اس سارے مال و اسباب میں تم اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے وکیل ہو، اپنی مرضی سے اس میں سے لین دین کرو اور اپنے سابقہ حق تصرف کے ساتھ چاہو خرچ کرو، اس کا تم سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اس کے ساتھ ہی ان کو جنت کی بشارت عطا کی گئی۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ انہوں نے تیس ہزار غلام آزاد کئے۔ پسماندگان میں انہوں نے چار بیویاں چھوڑی تھیں اور منقول ہے کہ ایک ایک بیوی کے حصہ میں اسی اسی ہزار درہم آئے تھے بلکہ ایک روایت میں یوں ہے کہ عبداللہ بن عوف کا تر کہ سولہ سہام پر تقسیم، ہوا اور ہر بیوی کے حصہ دو دو لاکھ درہم آئے۔

6103Mishkaat-al-Masabih

خداوندا! عبدالرحمن بن عوف کو جنت کی نہر سے سیراب فرما

وعن أم سلمة قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لأزواجه : إن الذي يحثو عليكن بعدي هو الصادق البار اللهم اسق عبد الرحمن بن عوف من سلسبيل الجنة . رواه أحمد

اور حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی بیویوں سے یوں فرماتے سنا، حقیقت یہ ہے کہ میری وفات کے بعد جو شخص مٹھیاں بھر بھر کر تم پر خرچ کرے گا یعنی پوری فراخ دلی اور کامل سخاوت کے ساتھ تمہارے مصارف میں اپنا مال خرچ کرے گا وہ صادق الایمان صحاب احسان ہے خداوندا! عبدالرحمن بن عوف کو جنت کی نہر سلسبیل سے سیراب کر۔ (احمد) تشریح ظاہر تو یہ ہے کہ دعائیہ الفاظ حضرت ام سلمہ کے اپنے ہیں جیسا کہ پچھلی روایت میں حضرت عائشہ ؓ نقل ہوا لیکن بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ دعائیہ الفاظ بھی آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا حصہ ہیں۔ دراصل آنحضرت ﷺ کو پہلے ہی معلوم ہوگیا تھا کہ عبدالرحمن بن عوف میری بیویوں کے ساتھ کتنا بڑا احسان کریں گے اور اس لئے آپ ﷺ نے ان کے حق میں یہ دعا فرمائی۔ اس اعتبار سے یہ حدیث آنحضرت ﷺ کے اعجاز کو ظاہر کرتی ہے۔

6104Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابوعبیدہ کی فضیلت

وعن حذيفة قال : جاء أهل نجران إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا : يا رسول الله ابعث إلينا رجلا أمينا . فقال : لأبعثن إليكم رجلا أمينا حق أمين فاستشرف لها الناس قال : فبعث أبا عبيدة بن الجراح . متفق عليه

اور حضرت حذیفہ بن الیمان (جو کبار صحابہ میں سے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے محرم راز تھے) کہتے ہیں کہ نجران کے لوگوں نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے پاس (حاکم وقاضی بنا کر) ایسے شخص کو بھیجئے جو امانت دار ہو یعنی ہمارے حقوق میں کوئی خیانت نہ کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یقینا میں ایک ایسے شخص کو (حاکم یا قاضی بنا کر تمہارے ہاں بھیجوں گا جو امین ہے اور اس لائق ہے کہ امانت دار کہا جائے۔ (یہ سن کر) لوگ اس شرف کے حصول کی تمنا اور انتظار کرنے لگے (کہ دیکھیں کون شخص اس منصب کا شرف و امتیاز حاصل کرتا ہے) حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ابوعبیدہ بن الجراح کو بھیجا۔ (بخاری ومسلم ) تشریح نجران یمن میں ایک جگہ کا نام ہے جس کو ١٠ ھ میں فتح کیا گیا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ نجران حجاز اور شام کے درمیان واقع ایک جگہ کا نام ہے۔۔۔۔۔۔ تمنا اور انتظار کرنے لگے اس تمنا اور اظہار کا تعلق جاہ طلبی کے جذبہ اور حصول منصب کی خواہش سے ہرگز نہیں تھا بلکہ اس تمنا واشتیاق کی بنیاد صفت امانت سے متصف قرار پانے کی طلب و خواہش تھی۔

6105Mishkaat-al-Masabih

امارت وخلافت کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے ایک سوال اور اس کا جواب

وعن علي قال : قيل لرسول الله : من نؤمر بعدك ؟ قال : إن تؤمروا أبا بكر تجدوه أمينا زاهدا في الدنيا راغبا في الآخرة وإن تؤمروا عمر تجدوه قويا أمينا لا يخاف في الله لومة لائم وإن تؤمروا عليا - ولا أراكم فاعلين - تجدوه هاديا مهديا يأخذ بكم الطريق المستقيم . رواه أحمد

اور حضرت علی کہتے ہیں کہ کسی نے سوال کیا یا رسول اللہ! آپ ﷺ کے بعد ہم کس کو اپنا امیر وسربراہ بنائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم میرے بعد ابوبکر کو اپنا امیر وسربراہ بناؤ گے تو ان کو امانت دار، دنیا سے بےپرواہ اور آخرت کی طرف راغب پاؤ گے۔ اگر عمر کو اپنا امیر وسربراہ بناؤ گے تو ان کو (بار امانت اٹھانے میں) بہت مضبوط، امین اور ملامت کرنے والے کی ملامت سے بےخوف پاؤ گے اور اگر علی کو اپنا امیر وسربراہ بناؤ گے، درآنحالیکہ میرے خیال میں تم ان کو ( اختلاف ونزاع کے بغیر) اپنا امیر وسربراہ بنانے والے نہیں ہو۔ تاہم جب بناؤ گے تو ان کو راہ راست دکھانے والا (یعنی مکمل مرشد) بھی پاؤ گے اور کامل ہدایت یافتہ بھی) جو صراط مستقیم پر چلائیں گے۔ (احمد) تشریح امانت دار دنیا سے بےپرواہ یعنی حقوق دین کی ادائیگی میں ان سے کوئی خیانت نہیں ہوگی۔ وہ دین وملت کے معاملہ میں جو بھی حکم و فیصلہ صادر کریں گے، اس کی بنیاد میں عدل اور دیانت ہی کی کار فرما ہوگی۔ اسی طرح ان کو دنیا سے کوئی محبت نہیں ہوگی بلکہ ان کی تمام تر توجہ اور دلچسپی آخرت کی طرف ہوگی۔ ان الفاظ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے گویا اس طرف اشارہ فرمایا کہ میرے بعد خلافت وامارت کا استحقاق کے لئے ان اوصاف کو پہلا معیار بنانا چاہیے، کیونکہ جس شخص میں یہ اوصاف ہوں گے وہ دراصل اخلاص کے درجہ کمال پر فائز ہوگا اور اخلاص ہی وہ جوہر ہے جو خلاص یعنی نجات کو لازم کرتا ہے ایک روایت میں تجدوہ مسلما امینا (تو تم ان کو امانتدار مسلمان پاؤ گے) کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں تجد وہ قویا فی امر اللہ ضیعفا فی نفسہ۔۔۔۔ ( تو تم ان کو ایسا انسان پاؤ گے جو اللہ کے معاملہ میں تو سخت اور مضبوط ہوگا اور اپنی ذات کے معاملہ میں کمزور و ضعیف ہوگا۔ ملامت کرنے والے کی ملامت سے بےخوف۔ یعنی دین کے معاملہ میں وہ کسی بھی خارجی خوف و مصلحت سے بےنیاز ہوں گے، شریعت کے نفاذ و اشاعت میں کوئی رورعایت نہیں کریں گے۔ دین وملت کے مفاد میں جو بھی قدم اٹھائیں گے اور جو بھی کاروائی کریں گے اس میں پوری مضبوطی اور استقلال کا ثبوت دیں گے، نہ کسی مخالف کی مخالفت انہیں خوف زدہ کرے گی، نہ کسی نکتہ چیں کی نکتہ چینی ان کو متاثر کر پائے گی نہ کسی معترض کا اعتراض ان کو ڈگمگائے گا اور نہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا کرسکے گی اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں تجدوہ قویا فی امر اللہ قویا فی نفسہ۔ (تم ان کو اللہ کے معاملہ میں بھی مضبوط پاؤ گے اور خود ان کی ذات کے معاملہ میں بھی )۔ اس حدیث میں حضرت عثمان کا ذکر نہیں ہے یا تو آنحضرت ﷺ نے ان کا ذکر ہی نہیں کیا تھا یا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے تو ذکر کیا تھا لیکن راوی ان کا ذکر کرنا بھول گئے۔ بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابوبکر کا ذکر کرنا خلافت کے بارے میں ان کے تقدم اور ان کی فوقیت کی طرف اشارہ کرتا ہے نیز آپ ﷺ نے اگرچہ حضرت عثمان کا ذکر صریحا نہیں کیا لیکن حضرت علی کے ذکر میں لااراکم فاعلین (میرے خیال میں تم ان کو اپنا امیروسربراہ بنانے والے نہیں ہو) کے الفاظ میں حضرت علی پر حضرت عثمان کے تقدم کی طرف اشارہ ضرور ملتا ہے۔ ویسے ان الفاظ (لااراکم فاعلین کا ایک مطلب تو وہی ہے جس کی طرف ترجمہ میں بین القوسین اشارہ کیا گیا، یعنی یہ کہ میرا خیال ہے کہ ان کی خلافت پر تمام مسلمانوں کا اجماع نہیں ہوگا بلکہ ان سے اختلاف کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد بھی موجود رہے گی اور ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرا خیال ہے کہ تم لوگ میری وفات کے بعد سب سے پہلے علی کو خلیفہ اور امیر نہیں بناؤ گے کیونکہ قضاء قدر الہٰی سے مجھ کو معلوم ہوگیا ہے کہ علی کی عمر طویل ہوگی اور وہ مذکورہ دونوں آدمیوں یعنی ابوبکر اور عمر سے زیادہ جئیں گے۔ اگر میرے بعد سب سے پہلے علی ہی خلیفہ و امیر بنائے جائیں تو ان دونوں کی خلافت قائم ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے جو علی سے پہلے فوت ہونے والے ہیں جبکہ ان لوگوں کا خلیفہ ہونا مقدر ہوچکا ہے۔ یہ مطلب مراد لینے کی صورت میں خیال میں (ظن) کو یقین کے معنی میں لیا جائے گا۔ یعنی آپ ﷺ نے گویا یہ فرمایا مجھے یقین ہے کہ تم میرے بعد سب سے پہلے علی کو خلیفہ اور امیر نہیں بناؤ گے۔ بہرحال آنحضرت ﷺ نے سائل کے جواب میں جو کچھ ارشاد فرمایا اس کا حاصل یہ تھا کہ اے مسلمانو! میرے بعد اہل اسلام کی قیادت اور ملی سربراہی (یعنی خلافت وامارت) کا معاملہ درحقیقت خود تمہارے اوپر موقوف ہے تم دین وملت کے بارے میں امین بھی ہو اور مجتہد بھی، اللہ تعالیٰ نے تمہیں اتنی بصیرت اور حق تک پہنچنے کی ایسی ایمانی قوت عطا فرمائی ہے کہ حالات اور تقاضوں کا جائزہ لے کر صحیح فیصلہ پر پہنچ سکتے ہو پس میرے بعد تم اپنے اجتہاد کے ذریعہ جس شخص کی بھی امارت و خلافت پر متفق اور متحد ہوجاؤ گے وہی تمہارا برحق امیر و خلیفہ ہوگا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم لوگوں کا اجماع و اتحاد حق و سچائی کے علاوہ کسی بات پر نہیں ہوسکتا حضرت شیخ عبد الحق دہلوی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نص صریح کو صورت میں یہ تعیین کے ساتھ کسی کو بھی اپنا جانشین نامزد مقرر نہیں فرمایا۔

6106Mishkaat-al-Masabih

چاروں خلفاء کے فضائل

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رحم الله أبا بكر زوجني ابنته وحملني إلى دار الهجرة وصحبني في الغار وأعتق بلالا من ماله . رحم الله عمر يقول الحق وإن كان مرا تركه الحق وما له من صديق . رحم الله عثمان تستحييه الملائكة رحم الله عليا اللهم أدر الحق معه حيث دار رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابوبکر پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ انہوں نے اپنی بیٹی (عائشہ) کا نکاح مجھ سے کردیا اپنی اونٹنی پر سوار کرکے مجھ کو دار ہجرت (یعنی مدینہ) لے آئے (سفر ہجرت کے دوران) غار ثور میں میرے ساتھ رہے اور اپنے مال سے بلال کو (خرید کر) آزاد کیا (اور میری خدمت میں دیدیا) اللہ تعالیٰ عمر پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، وہ جو بات کہتے ہیں خواہ کسی کو تلخ ہی کیوں نہ لگے اور حق گوئی نے ان کو اس حال پر پہنچا دیا کہ ان کا کوئی دوست نہیں۔ اللہ تعالیٰ عثمان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، ان سے تو فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ علی پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، اے اللہ (حق کو علی کے ساتھ رکھ کہ جدھر علی رہے ادھر ہی حق رہے۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہم کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح اپنی اونٹنی پر سوار کرکے بعض روایتوں میں آیا ہم کہ حضرت ابوبکر نے (٢) اونٹنیاں پال کر تیار کر رکھی چھوڑی تھیں کہ نامعلوم کب ہجرت کا حکم آجائے چناچہ جب ہجرت کا حکم آگیا تو وہ ایک اونٹنی لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! سفر ہجرت میں سواری کے لئے اس اونٹنی کو قبول فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں اس اونٹنی کو اپنی سواری کے لئے اس صورت میں لوں گا کہ تم اس کو میرے ہاتھ فروخت کردو۔ آخر کار حضرت ابوبکر نے اس اونٹنی کو آپ کے ہاتھ فروخت کیا اور آپ ﷺ نے آٹھ سو درہم قرض کے عوض اس اونٹنی کو خرید لیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کا کوئی دوست نہیں یعنی ان کا کوئی ایسا دوست نہیں جو دوستی کے ناطے ان سے رعایتی سلوک اور مداہنیت کی توقع رکھے ورنہ جہاں تک مطلق دوستی کا تعلق ہے تو سارے ہی مخلص اور سچے مسلمان ان کے دوست تھے اور سب سے بڑھ کر تو صدیق اکبر ہی ان کے صدیق (دوست) تھے۔ جدھر علی رہے ادھر ہی حق رہے یہ الفاظ ایسے ہی ہیں جیسے ایک اور روایت میں کہ جس کو سیوطی نے جمع الجوامع میں نقل کیا ہے فرمایا گیا ہے القران مع علی وعلی مع القران۔ (یعنی قرآن علی کے ساتھ ہے اور علی قرآن کے ساتھ )