نبی کریم ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 195 · 55 hadiths · Page 3 of 3

6147Mishkaat-al-Masabih

حسنین سے کمال محبت کا اظہار

وعن يعلى بن مرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حسين مني وأنا من حسين أحب الله من أحب حسينا حسين سبط من الأسباط رواه الترمذي

اور حضرت یعلی بن مرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حسین ؓ مجھ سے ہے اور میں حسین ؓ سے ہوں اور جس شخص نے حسین سے محبت رکھی اس نے اللہ تعالیٰ سے محبت رکھی حسین اسباط میں سے ایک سبط ہے۔ (ترمذی) تشریح ایک شارح نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ جس وقت یہ الفاظ ارشاد فرما رہے تھے اس وقت آپ ﷺ نے گویا نور نبوت سے اس المیہ کے پہلے ہی ادراک کرلیا تھا جو تقریبا نصف صدی بعد یزیدیوں کی طرف سے حضرت حسین ؓ کی شہادت کی صورت میں پیش آنے والا تھا۔ لہذا آپ نے اس ارشاد گرامی میں خاص طور صرف حضرت حسین ؓ کا ذکر کیا اور واضح کیا کہ میں اور میرا حسین ؓ ایک جان دو قالب ہیں ہم دونوں کے درمیان ایسا جسمانی و روحانی قرب و اتصال ہے کہ جس طرح مجھ سے محبت رکھنا واجب ہے۔ اسی طرح حسین سے محبت رکھنا واجب اور جس طرح مجھ سے مخالفت و مخاصمت رکھنا اور مجھ سے لڑنا حرام ہے۔ اسی طرح حسین سے مخالفت و مخاصمت رکھنا اور حسین سے لڑنا حرام ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے محبت رکھی کیونکہ حسین سے محبت رکھنا رسول ﷺ سے محبت رکھنا اور رسول سے محبت رکھنا اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنا ہے واضح ہو کہ احب اللہ میں اگر ہ کو زبر کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا ترجمہ وہی ہوگا جو اوپر مذکور ہوا اور اگر ہ کو پیش کے ساتھ پڑھا جائے تو ترجمہ یہ ہوگا کہ (جس شخص نے حسین سے محبت رکھی) اس سے اللہ تعالیٰ محبت رکھے گا۔ حسین اسباط میں سے ایک سبط ہے یعنی حسین میرا بیٹا ہے۔ سبط (س کے زیر کے ساتھ) کا ماخذ اصل میں سبط ہے اور سبط اس درخت کو کہتے ہیں جس کی جڑ تو ایک ہو مگر اس کی شاخیں بہت ہوں۔ پس گویا درخت کی مانند ہو اور اولاد اس کی شاخوں کی مانند۔ بعض حضرات نے سبط من الاسباط کے معنی یہ لکھے ہیں کہ حسین امتوں میں سے ایک امت ہے خیر و بھلائی اور شرف وسعادت کے اعتبار سے ایک پوری امت کے برابر ہے ایک شارح لکھتے ہیں سبط کا لفظ ولد کے معنی میں ہے اس صورت مذکورہ میں جملہ کا ترجمہ یہ ہوگا کہ حسین میری اولاد ہے سبط کے ایک معنی قبیلہ کے بھی آتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن میں ایک آیت ہے (وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا) 7۔ الاعراف 160) (یعنی! اور ہم نے ان کو بارہ خاندانوں یا قبیلوں میں تقسیم کردیا) اس معنی کی مناسبت سے کہا جاسکتا ہے کہ اس جملہ سے شاید یہ مراد ہو کہ حسین ایک قبیلہ اور بڑی نسل کے مورث بنیں گے، اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں بہت برکت دے گا اور ان کی اولاد سلسلہ در سلسلہ نہ صرف یہ کہ بہت پھیلے گی بلکہ قائم و باقی رہے گی چناچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت حسین ؓ کی نسل بہت پھیلی، بہت بڑھی، ان کی اولاد میں بیشمار صحیح النسب سادات موجود ہیں۔ حضرت شیخ عبدالحق دہلوی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ سبط س کے زیر اور ب کے جزم کے ساتھ) کے معنی ہیں اولاد (یعنی بیٹے یا بیٹی) کی اولاد۔ اسباط اسی کی جمع ہے۔ جیسا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ساری اولاد کو اسباط کہا جاتا ہے۔ در اصل یہودیوں کے لئے اسباط کا لفظ معنی مستعمل ہوتا ہے جس معنی میں عرب کے لئے قبیلہ کا لفظ۔ اور سبط ب کے زبر کے ساتھ) کے معنی اس درخت کے ہیں جس کی ڈالیاں اور شاخیں بہت ہوں اور جڑ ایک ہو۔ پس حضرت حسن ؓ کو سبط سے تعبیر کرنا اس طرف اشارہ ہے ان کی نسل سے بیشمار لوگ پیدا ہوں گے۔

6148Mishkaat-al-Masabih

حسنین کی حضور ﷺ سے مشابہت

وعن علي رضي الله عنه قال : الحسن أشبه رسول الله صلى الله عليه و سلم ما بين الصدر إلى الرأس والحسين أشبه النبي صلى الله عليه و سلم ما كان أسفل من ذلك . رواه الترمذي

اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا حسن تو رسول اللہ ﷺ کے سر سے لے کر سینہ تک کے حصہ میں بہت مشابہ ہیں اور حسین نبی کریم ﷺ کے سینہ کے بعد سے جسم کے باقی حصہ (یعنی پنڈلی اور پاؤں وغیرہ) میں بہت مشابہ ہیں۔ (ترمذی) تشریح گویا دونوں شاہزادے مل کر آنحضرت ﷺ کی پوری شبیہ تھے اور آنحضرت ﷺ کا جسم مبارک ان دونوں کے درمیان منقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا۔

6149Mishkaat-al-Masabih

فاطمہ اور حسنین کی فضیلت

وعن حذيفة قال : قلت لأمي : دعيني آتي النبي صلى الله عليه و سلم فأصلي معه المغرب وأسأله أن يستغفر لي ولك فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فصليت معه المغرب فصلى حتى صلى العشاء ثم انفتل فتبعته فسمع صوتي فقال : من هذا ؟ حذيفة ؟ قلت : نعم . قال : ما حاجتك ؟ غفر الله لك ولأمك إن هذا ملك لم ينزل الأرض قط قبل هذه الليلة استأذن ربه أن يسلم علي ويبشرني بأن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة وأن الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ (ایک روز) میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آج مغرب کی نماز جا کر رسول کریم ﷺ کے ساتھ پڑھوں اور پھر آنحضرت ﷺ سے درخواست کروں کہ وہ میرے اور آپ کے لئے بخشش و مغفرت کی دعا فرمائیں چناچہ (میری والدہ نے مجھے اجازت دے دی اور) میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی آپ ﷺ (مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد) نوافل پڑھتے رہے یہاں تک کہ پھر عشاء کی نماز پڑھی اور جب آپ ﷺ نے میری آواز (یعنی میرے قدموں یا جوتوں کی آواز) سن لی (یا یہ کہ میں نے کسی سے کوئی بات کی جس کی آواز آپ نے بھی سن لی، چناچہ آپ ﷺ نے پوچھا کون ہے (جو اس وقت اپنے گھر جانے کے بجائے میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہو) اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو عفو و بخشش سے نوازے (دیکھو) یہ ایک فرشتہ ہے جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا، اس (فرشتہ) نے اپنے پروردگار سے اس بات کی اجازت لی ہے کہ (زمین پر) آ کر مجھ کو سلام کرے اور مجھ کو یہ خوشخبری سنائے کہ فاطمہ ؓ جنتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن و حسین ؓ جنتی جوانوں کے سردار ہیں اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح مجھے اجازت دیجئے شاید حذیفہ ؓ کا مکان مسجد نبوی سے خاصے فاصلہ پر رہا ہوگا اور ان کی والدہ یا تو خود اپنی تنہائی کی وجہ سے یہ حذیفہ کے تئیں احتیاط کے پیش نظر ان کو اس وقت اتنی دور جانے سے منع کر رہی ہوگی۔ یہاں تک کہ پھر عشاء کی نماز پڑھی اس سے مغرب و عشاء کے درمیان نوافل میں مشغول رہنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جس کو مشائخ کے ہاں احیاء ما بین العشائین کہا جاتا ہے۔ پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا اس میں اس مقصد کی اہمیت و عظمت کی طرف اشارہ ہے جس کے لئے وہ فرشتہ زمین پر اترا تھا۔

6150Mishkaat-al-Masabih

اچھی سواری، اچھا سوار

وعن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم حاملا الحسن بن علي على عاتقه فقال رجل : نعم المركب ركبت يا غلام فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ونعم الراكب هو . رواه الترمذي

اور حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ (ایک روز) رسول کریم ﷺ حسن بن علی ؓ کو اپنے کندھے پر بٹھائے ہوئے تھے کہ ایک شخص بولا اے (خوش نصیب) منے! کیسی اچھی سواری پر تم سوار ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا اور سوار بھی تو کتنا اچھا ہے۔ (ترمذی) تشریح آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ سواری تو اچھی ہے ہی لیکن خود سوار بھی بہت اچھا ہے پس ان الفاظ سے حضرت حسن ؓ کی کمال توصیف و منقبت اور نہایت فضیلت کا اظہار ہوتا ہے۔

6151Mishkaat-al-Masabih

حضرت اسامہ کی فضیلت

وعن عمر رضي الله عنه أنه فرض لأسامة في ثلاثة آلاف وخمسمائة وفرض لعبد الله بن عمر في ثلاثة آلاف . فقال عبد الله بن عمر لأبيه : لم فضلت أسامة علي ؟ فو الله ما سبقني إلى مشهد . قال : لأن زيدا كان أحب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم من أبيك وكان أسامة أحب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم منك فآثرت حب رسول الله صلى الله عليه و سلم على حبي . رواه الترمذي

اور حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنے زمانہ خلافت میں) اسامہ بن زید ؓ کی سالانہ تنخواہ تین ہزار پانچ سو درہم مقرر کی اور اپنے فرزند عبداللہ کی تین ہزار درہم۔ اس پر عبداللہ نے اپنے باپ سے عرض کیا کہ آپ نے اسامہ ؓ کو مجھ پر کیوں ترجیح دی (کہ میری تنخواہ ان سے پانچ سو درہم کم رکھی) حالانکہ واللہ اسامہ ؓ نے کسی مشہد میں مجھ پر سبقت و بازی حاصل نہیں کی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اسامہ ؓ کا باپ (زید) رسول کریم ﷺ کو تمہارے باپ (یعنی مجھ سے) زیادہ عزیز و محبوب تھے لہذا میں نے رسول کریم ﷺ کے محبوب (اسامہ) کو اپنے محبوب (یعنی تم) ترجیح دی۔ (ترمذی) تشریح مشہد کے معنی ہیں حاضر ہونے کی جگہ جہاں کسی اچھے کام یا اچھی بات میں حصہ لیا جائے لیکن یہاں یہ لفظ شہید ہونے کی جگہ یعنی میدان جنگ اور معرکہ جنگ کے معنے میں استعمال ہوا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا شکوہ اس احساس کی بناء پر تھا کہ جب اسامہ ؓ کی تنخواہ میری تنخواہ سے زیادہ مقرر کی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسامہ ؓ کو مجھ پر فضیلت و برتری حاصل ہے، حالانکہ علمی، دینی اور خدماتی لحاظ سے اسامہ ؓ کا مرتبہ میرے مرتبہ سے یقینا کم ہے، اس پر حضرت عمر ؓ نے ان کو سمجھایا کہ اسامہ کی تنخواہ اس لئے زیادہ ہے کہ وہ باعتبار علم و عمل اور خدمات کے تم سے افضل ہیں بلکہ اس محبت خاص کی رعایت سے ہے جو ان سے رسول کریم ﷺ کو تھی اور کسی کا دوسروں کے مقابلہ پر زیادہ محبوب ہونا اس بات کو مستلزم نہیں ہوتا کہ وہ ان دوسروں سے افضل بھی ہو، رہی یہ بات کہ حضرت اسامہ ؓ اور ان کے والد حضرت زید ؓ آنحضرت ﷺ کو زیادہ عزیز و محبوب تھے تو اس کی ایک ظاہر سی وجہ تو یہی ہے کہ وہ دونوں اس اعتبار سے آنحضرت ﷺ کے اہل بیت میں سے تھے کہ آپ ﷺ کے آ زاد کردہ غلام تھے اور کسی شخص کا آزاد کردہ غلام اس کے افراد خانہ میں شمار ہوتا ہے۔

6152Mishkaat-al-Masabih

حضرت زید کا آنحضرت ﷺ کو چھوڑ کر اپنے گھر جانے سے انکار

وعن جبلة بن حارثة قال : قدمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله ابعث معي أخي زيدا . قال : هو ذا فإن انطلق معك لم أمنعه قال زيد : يا رسول الله والله لا أختار عليك أحدا . قال : فرأيت رأي أخي أفضل من رأيي . رواه الترمذي

اور حضرت جبلہ بن حارثہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیجئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ زید موجود ہے (اور اپنی مرضی کا مختار ہے) اگر یہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو میں اس کو منع نہیں کرتا، زید نے یہ سن کر) کہا یا رسول اللہ ﷺ! اللہ کی قسم میں آپ ﷺ (کی صحبت و خدمت میں رہنے کی سعادت) پر کسی کو بھی ترجیح نہیں دیتا (خواہ وہ بھائی یا والدین ہی کیوں نہ ہوں) جبلہ کہتے ہیں کہ میں نے (زید کا یہ فیصلہ سنا تو) مان لیا کہ میرے بھائی کی عقل میری عقل سے بڑھی ہوئی ہے۔ (ترمذی) تشریح میں اس کو منع نہیں کرتا یعنی جب میں اس کو آزاد کرچکا ہوں تو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق اس کو مل گیا ہے اب نہ تو میں اس کو جانے سے روک سکتا ہوں اور نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ چلے جاؤ وہ جانا چاہے تو چلا جائے اور نہ جانا چاہے تو شوق سے میرے پاس رہے۔ میری عقل سے بڑھی ہوئی ہے جبلہ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ پہلے تو میری رائے یہ تھی کہ زید کو میرے اپنے گھر واپس چلنا چاہئے مگر زید کا فیصلہ سننے کے بعد ان کی رائے کی اصابت اور برتری کا میں قائل ہوگیا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی صحبت و خدمت میں رہنے والا کوئی بھی صاحب ایمان اس دنیاوی و آخروی سعادت و عظمت اور خیر و بھلائی کو چھوڑنے پر آمادہ ہو ہی نہیں سکتا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حضرت زید ؓ کے بھائی کے آمد اور ان کو اپنے ساتھ وطن لے جانے کی درخواست پیش کرنے کا یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب حضرت زید غلام نہیں رہ گئے تھے بلکہ آنحضرت ﷺ ان کو خلعت آزادی سے سرفراز فرما چکے تھے اور اپنی مرضی کے پوری طرح مختار تھے، لیکن ظاہر ہے کہ خدمت بابرکت اور صحبت پر سعادت کی لذت ان کو کہاں جانے دیتی تھی۔ حضرت زید بن حارثہ ؓ کے بارے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے وہ یمن کے باشندہ تھے بچپن میں جب کہ ان کی عمر آٹھ سال کی تھی کچھ قریش مکہ ان کو پکڑ کر لائے تھے اور بطور غلام بازار میں فروخت کر ڈالا تھا، حضرت خدیجہ ؓ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ ؓ کے لئے ان کو خرید لیا تھا۔ جب حضرت خدیجہ ؓ آنحضرت ﷺ کے نکاح میں آئیں تو انہوں نے زید ؓ کو بطور ہدیہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ اور اپنی آزاد کردہ لونڈی ام یمن سے ان کا نکاح کردیا، ام یمن کے بطن سے حضرت اسامہ ؓ پیدا ہوئے، بعد ازاں آنحضرت ﷺ نے زید ؓ کا دوسرا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت جحش ؓ سے کیا جن کو کچھ دنوں بعد حضرت زید ؓ نے طلاق دے دی بعض حضرات کے قول کے مطابق بیس سال چھوٹے تھے۔ بدر اور دوسرے غزوں میں شریک ہوئے۔ آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں ان کا بھائی چارہ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کے قائم کیا تھا غزوہ موتہ ٨ ھ بعمر ٥٥ سال شہید ہوئے۔

6153Mishkaat-al-Masabih

اسامہ کے تئیں شفقت ومحبت کا اظہار

وعن أسامة بن زيد قال : لما ثقل رسول الله صلى الله عليه و سلم هبطت وهبط الناس المدينة فدخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد أصمت فلم يتكلم فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يضع علي يديه ويرفعهما فأعرف أنه يدعو لي . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ ان دنوں جب کہ رسول کریم ﷺ (مرض وفات میں) بہت زیادہ کمزور اور نحیف ہوچکے تھے، میں اور دوسرے لوگ مدینہ میں اترے، میں نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ ﷺ پر خاموشی طاری تھی (یعنی شدت مرض و ضعف کے سبب طاقت گویائی بھی باقی نہیں رہ گئی تھی) چناچہ (مجھ کو دیکھ کر) آپ ﷺ زبان سے کچھ نہیں بولے تاہم رسول کریم ﷺ نے یہ ضرور کیا کہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر مجھ پر رکھتے اور پھر اٹھاتے (نور ولایت اور ظہور فراست کے سبب) میں سمجھ گیا کہ آنحضرت ﷺ میرے حق میں دعا فرما رہے ہیں، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح آنحضرت ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ کی ماتحتی میں مہاجرین و انصار کا ایک لشکر تیار کیا تھا جو محاذ جنگ کو روانہ ہونے کے لئے مدینہ سے باہر پڑاؤ ڈالے ہوئے لیکن آنحضرت ﷺ کی مرض وفات کی خبر سن کر یہ لشکر مدینہ میں واپس آگیا تھا، اسی موقعہ کا ذکر حضرت اسامہ ؓ نے کہا ہے۔ مدینہ میں آنے کو حضرت اسامہ ؓ نے جو ہبوط سے تعبیر کیا ہے جس کے معنی اوپر سے نیچے اترنے کے ہیں تو وہ اس مناسبت سے ہے کہ لشکر نے جس جگہ پڑاؤ ڈال رکھا تھا وہ نواح مدینہ کے بالائی حصہ میں واقع تھی جس کو جوف کہا جاتا تھا جیسا کہ میدان عرفات مکہ کے بالائی نواح میں واقع ہے اہل عرب کا یہ اسلوب ہے کہ وہ ایسے مواقع پر گفتگو و کلام میں بلندی و نشیب کی لفظی رعایت رکھتے، چناچہ اگر ان کو یہ کہنا ہو کہ ہم عرفات گئے (تو یوں کہیں گے ہبطنا الی مکۃ یعنی ہم مکہ سے عرفات کو چڑھے اسی طرح مدینہ سے جوف کو جانا صعود (چڑھنے) سے تعبیر کیا جاتا تھا اور جوف سے مدینہ میں آنے کو ہبوط سے تعبیر کرتے تھے اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد حرام کے اندر سے باب السلام کی طرف جاتا ہے جو عرفات کی سمت میں ہے تو یوں کہتا ہے۔ صعدنا الی باب السلام۔ ملا علی قاری نے ہبطت وہبط الناس المدینۃ کا ترجمہ یہ بیان کیا ہے کہ میں اپنے مکان سے (جو نواح شہر کے بالائی حصہ میں تھا) مدینہ میں اترا اور دوسرے لوگ بھی اپنے مکانوں سے مدینہ میں اترے۔ میرے حق میں دعا فرما رہے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ کے دل میں اسامہ ؓ کی جو محبت اور ان کی خدمت اطاعت کی جو قدر تھی اس کی بناء پر آپ ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی۔ اس سے حضرت اسامہ ؓ کے تئیں آنحضرت ﷺ کے کمال کرم و عنایت اور شفقت و مہربانی کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے ایسے سخت و نازک وقت میں بھی ان کو اپنی دعاؤں سے نوازا۔

6154Mishkaat-al-Masabih

اسامہ کے تئیں شفقت ومحبت کا اظہار

وعن عائشة قالت : أراد النبي صلى الله عليه و سلم أن ينحي مخاط أسامة . قالت عائشة : دعني حتى أكون أنا الذي أفعل . قال : يا عائشة أحبيه فإني أحبه . رواه الترمذي

اور ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ (کے بچپن میں ان) کی رینٹ کو صاف کرنا چاہا (جیسا کہ بچوں کی ناک صاف کردیا کرتے ہیں) تو میں نے (اس بات کو خلاف ادب جان کر کہ میری موجودگی میں اسامہ کی رینٹ کو آنحضرت ﷺ صاف کریں) عرض کیا کہ آپ رہنے دیجئے یہ کام میں کر دوں گی آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ! تم اسامہ سے محبت رکھو کیونکہ میں اس کو عزیز و محبوب رکھتا ہوں۔ (ترمذی) تشریح آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو گویا اس طرف متوجہ فرمایا کہ اگر اسامہ ؓ سے تم کو طبعا محبت و انسیت نہ بھی ہو تو بھی اس بناء پر کہ محبوب بھی محبوب ہوتا ہے اسامہ کو عزیز و محبوب رکھو کیونکہ میں اس کو عزیز محبوب رکھتا ہوں حقیقت میں کمال محبت یہی ہے کہ محبوب سے گزر کر اس کے متعلقین اور اس سے وابستہ چیزوں تک سرایت کر جائے خواہ وہ آدمی ہوں یا دیار وطن وغیرہ۔

6155Mishkaat-al-Masabih

اسامہ کے تئیں شفقت ومحبت کا اظہار

وعن أسامة قال : كنت جالسا إذ جاء علي والعباس يستأذنان فقالا لأسامة : استأذن لنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله علي والعباس يستأذنان . فقال : أتدري ما جاء بهما ؟ قلت : لا . قال : لكني أدري فأذن لهما فدخلا فقالا : يا رسول الله جئناك نسألك أي أهلك أحب إليك ؟ قال : فاطمة بنت محمد فقالا : ما جئناك نسألك عن أهلك قال : أحب أهلي إلي من قد أنعم الله عليه وأنعمت عليه : أسامة بن زيد قالا : ثم من ؟ قال : ثم علي بن أبي طالب فقال العباس : يا رسول الله جعلت عمك آخرهم ؟ قال : إن عليا سبقك بالهجرة . رواه الترمذي وذكر أن عم الرجل صنو أبيه في كتاب الزكاة

اور حضرت اسامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) میں (آنحضرت ﷺ کے دروازہ پر) بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت علی ؓ اور حضرت عباس ؓ آئے جو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضری کی اجازت کے طلب گار تھے چناچہ ان دونوں نے اسامہ ؓ سے (جو ان دنوں چھوٹی عمر کے تھے) کہا کہ تم رسول کریم ﷺ سے ہمارے لئے حاضری کی اجازت طلب کرو میں نے (گھر کے اندر جا کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! حضرت علی ؓ اور حضرت عباس ؓ حاضری کی اجازت کے طلب گار ہیں آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) مجھ سے پوچھا کہ تم جانتے ہو یہ دونوں کس مقصد سے آئے ہیں؟ میں نے عرض کیا مجھ کو معلوم نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا لیکن میں جانتا ہوں، جاؤ ان دونوں کو اندر بلا لاؤ چناچہ دونوں حضرات اندر آئے اور بولے کہ یا رسول اللہ! ہم آپ کی خدمت میں یہ سوال لے کر آئے ہیں کہ آپ ﷺ کے اہل بیت میں سے کون شخص آپ ﷺ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا میری بیٹی فاطمہ بنت محمد ﷺ مجھ کو زیادہ محبوب ہے ان دونوں حضرات نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا تعلق آپ کے گھر والوں یعنی اولاد و ازواج سے نہیں ہے (بلکہ آپ کے دوسرے اقا رب و متعلقین سے ہے) آپ نے فرمایا میرے گھر والوں میں سے وہ شخص میرے نزدیک زیادہ عزیز و محبوب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام و فضل کیا اور میں نے بھی اس کو انعام و احسان سے نواز اور وہ اسامہ بن زید ؓ ہے حضرت علی ؓ اور حضرت عباس ؓ نے پوچھا پھر اسامہ ؓ کے بعد کون شخص (آپ ﷺ کو زیادہ محبوب و عزیز ہے) آپ ﷺ نے فرمایا پھر علی بن ابی طالب (یہ سن کر) حضرت عباس ؓ بولے یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے اپنے چچا (یعنی مجھ کو) اپنے گھر والوں میں آخر میں رکھا؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا علی ؓ نے ہجرت میں تم پر سبقت کی ہے (ترمذی) اور روایت ان عم الرجل صنو ابیہ (جو حضرت عباس ؓ کی منقبت میں ہے) پیچھے کتاب الزکوۃ میں نقل کی جا چکی ہے۔ تشریح اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام و فضل کیا ہے اور میں نے بھی اللہ تعالیٰ کے انعام و فضل سے تو مراد قبول اسلام کی توفیق ملنا ہدایت و راستی کی دولت سے سرفراز ہونا اور عزت و اکرام کا ملنا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے انعام و احسان ہیں سے مراد خلعت آزادی سے سرفراز ہونا، متبنی رسول کا شرف حاصل ہونا اور پروردہ تربیت یافتہ رسول کا اعزاز ملنا ہے جاننا چاہئے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے یہ وہ انعام و احسان ہیں جو اصل میں تو حضرت اسامہ ؓ کے والد حضرت زید ؓ کی نسبت ہے قرآن کریم میں مذکور ہیں لیکن باپ کو حاصل ہونے والے انعامات چونکہ اس کے بیٹے تک بھی بہر صورت پہنچتے ہیں اس اعتبار سے آنحضرت ﷺ نے اس آیت کریمہ اگرچہ زید کے حق میں نازل ہوئی ہے مگر اس میں جن انعامات کا ذکر ہے وہ زید کو حاصل تھے ہی لیکن زید کا بیٹا اور اس کا تابع ہونے کی حیثیت سے وہ انعامات اسامہ کو بھی حاصل ہیں اور اسی لئے دونوں ہی باپ بیٹا مجھ کو زیادہ عزیز و محبوب ہیں۔ پھر علی بن ابی طالب ؓ یعنی آپ ﷺ نے اپنے نزدیک عزیز و محبوب ہونے میں حضرت علی ؓ کو حضرت اسامہ ؓ کے بعد درجہ دیا اور یہ اہل سنت و جماعت کے اس مسلک کی واضح دلیل (نص جلی) ہے کہ زیادہ عزیز و محبوب ہونا افضلیت کے مترادف نہیں ہے، یعنی جو شخص اسامہ ؓ سے افضل ہیں، علاوہ ازیں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ کے زیادہ عزیز اور محبوب ہونا کی جو وجہ بیان فرمائی اس کی بنا پر یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ محبت وتعلق میں آنحضرت ﷺ کے نزدیک حضرت اسامہ ؓ کو حضرت علی ؓ پر علی الاطلاق فوقیت و ترجیح حاصل تھی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں تعدد وجوہ و حیثیات کا اعتبار مدنظر رکھنا ضروری ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حضرت اسامہ ؓ تو بسبب خدمت گزاری وغیرہ کے زیادہ محبوب تھے اور حضرت علی ؓ قرابت اور علم و فضل کے اعتبار سے زیادہ محبوب تھے، پس آنحضرت ﷺ بعض جہات سے حضرت اسامہ ؓ کو زیادہ محبوب رکھتے تھے اور بعض جہات سے حضرت علی ؓ کو آپ ﷺ نے اپنے چچا کو۔ حضرت عباس ؓ کا مطلب یہ تھا کہ اب اگر میں آپ سے یہ سوال کروں کہ پھر علی ؓ کے بعد اہل بیت میں سے کون شخص آپ ﷺ کو عزیز و محبوب ہے، تو یقینا آپ کا جواب میرے بارے میں ہوگا جس کے معنی یہ ہیں کہ میرا درجہ علی ؓ کے بھی بعد کا ہے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے واضح کیا کہ تم سے پہلے علی ؓ کا میرے نزدیک زیادہ عزیز و محبوب ہونا قرابت و رشتہ داری کے کسی طبعی تقاضہ کی بناء پر نہیں بلکہ ان کی اس فضیلت کی بناء پر ہے کہ انہوں نے جس طرح قبول اسلام میں تم پر سبقت حاصل کی تھی اسی طرح ہجرت میں بھی ان کو تم پر سبقت حاصل ہے۔ اس کی نظیر وہ روایت ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک روز حضرت عباس ؓ، حضرت ابوسفیان ؓ، حضرت بلال حبشی ؓ اور حضرت سلمان فارسی ؓ، حضرت عمر فاروق ؓ، کے ہاں آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر اندر آنے کی اجازت چاہی، خادم نے اندر جا کر حضرت عمر فاروق ؓ عنہ، کو ان حضرات کی آمد کی اطلاع دی اور پھر باہر آ کر بولا کہ (پہلے) بلال کو اندر جانے کی اجازت ہے۔ حضرت ابوسفیان ؓ (کو یہ بات ناگوار ہوئی کہ میری اور عباس کی موجودگی میں پہلے بلال کو اندر جانے کی اجازت کیسے مل گئی چناچہ وہ) حضرت عباس ؓ سے بولے کہ تم نے دیکھا، عمر آزاد کردہ غلاموں کو ہم پر فوقیت دیتے ہیں، حضرت عباس ؓ نے جواب دیا کہ ہم (قبول اسلام اور ہجرت میں) جو پیچھے رہ گئے تھے یہ اسی کا نتیجہ ہے۔

6156Mishkaat-al-Masabih

حسن آنحضرت ﷺ سے بہت مشابہ تھے

عن عقبة بن الحارث قال : صلى أبو بكر العصر ثم خرج يمشي ومعه علي فرأى الحسن يلعب مع الصبيان فحمله على عاتقه . وقال : بأبي شبيه بالنبي ليس شبيها بعلي وعلي يضحك . رواه البخاري

حضرت عقبہ بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ (اپنے زمانہ خلافت میں یا اس سے پہلے ایک دن) عصر کی نماز پڑھ کر باہر نکلے اور (کہیں جانے کے لئے) چلنے لگے، اس وقت ان کے ساتھ حضرت علی ؓ بھی تھے (راستہ میں) حضرت ابوبکر ؓ نے جب حسن ؓ کو دیکھا جو بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے تو ان کو اٹھا کر اپنے کندھے پر بٹھا لیا (از راہ خوش طبعی) بولے میرا باپ قربان ہو، یہ (حسن) نبی کریم ﷺ سے بہت مشابہ ہیں علی ؓ کے مشابہ نہیں ہے (یہ سن کر) حضرت علی ؓ (اظہار خوشی کے طور پر) ہنسنے لگے۔ (بخاری )

6157Mishkaat-al-Masabih

شہید اعظم کے سر مبارک کے ساتھ ابن زیاد کا تمسخر و استہزا ء

وعن أنس قال : أتي عبيد الله بن زياد برأس الحسين فجعل في طست فجعل ينكت وقال في حسنه شيئا قال أنس : فقلت : والله إنه كان أشبههم برسول الله صلى الله عليه و سلم وكان مخضوبا بالوسمة . رواه البخاري وفي رواية الترمذي قال : كنت عند ابن زياد فجيء برأس الحسين فجعل يضرب بقضيب في أنفه ويقول : ما رأيت مثل هذا حسنا . فقلت : أما إنه كان أشبههم برسول الله صلى الله عليه و سلم . وقال : هذا حديث صحيح حسن غريب

اور حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت حسین ؓ کا سر مبارک ( تن پاک سے جدا کر کے) عبیداللہ بن زیاد کے سامنے لا کر ایک طشت میں رکھا گیا تو وہ بدبخت اپنی چھڑی سے اس سر مبارک کو چھڑنے لگا (یعنی حضرت حسین ؓ کے تئیں اپنی نفرت و حقارت ظاہر کرنے کے لئے چھڑی کا سرا بار بار ناک وغیرہ پر مارتا رہا) پھر اس نے ان کے حسن کے بارے میں کچھ کہا حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے (اس شقی کی یہ حرکت دیکھ کر اور اس کے الفاظ کو سن کر) کہا، اللہ کی قسم یہ مقدس انسان ہے جو اہل بیت میں سے سب سے زیادہ رسول کریم ﷺ سے مشابہ تھا اس وقت حضرت حسین ؓ کا سر مبارک وسمہ سے رنگا ہوا تھا (بخاری) اور ترمذی کی روایت میں یوں ہے کہ حضرت انس ؓ نے بیان کیا اس وقت میں ابن زیاد کے پاس موجود تھا میں نے کہا تجھے معلوم بھی ہے، یہ وہ شخص ہے جو رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھا۔ ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے۔ تشریح اور طبرانی نے حضرت انس ؓ کے الفاظ یوں نقل کئے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اپنی چھڑی سے جو اس کے ہاتھ میں تھی حضرت حسین ؓ کی آنکھ اور ناک کو کو چنے لگا تو میں نے کہا (ارے بدبخت) اپنی چھڑی ہٹا لے، جن جگہوں کو تو اپنی چھڑی سے کوچ رہا ہے، وہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کا منہ رکھا ہوا دیکھا ہے اور براز کی روایت میں حضرت انس ؓ کے الفاظ یوں ہیں کہ میں نے عبیداللہ بن زیاد کو مخاطب کر کے کہا، جہاں تو اپنی چھڑی سے کوچ رہا ہے وہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو سونگھتے دیکھا ہے، میرے یہ کہنے پر ابن زیاد نے اپنی چھڑی ہٹا لی۔ بہرحال عبیداللہ بن زیادہ وہ شخص ہے جو کوفہ میں یزید بن معاویہ کا گورنر تھا اور یزید نے اسی کو اس لشکر کا کماندار بنایا تھا جو حضرت حسین ؓ کو شہید کرنے کے لئے متعین ہوا تھا، اس شخص نے جس بےدردی سے حضرت حسین ؓ اور ان کے رفقاء و اعزاء کو قتل کرایا اور پھر بعد میں حضرت حسین ؓ کے سر مبارک کے ساتھ جس تمسخر و استہزا بلکہ حقارت و تنفر کا سلوک کیا وہ اس کی شقاوت قلبی کا ثبوت ہے چناچہ خود اس کو قدرت کے انتقام کا اس طرح شکار ہونا پڑا کہ ٦٦ ھ میں مختیار بن عبید کے زمانہ میں بمقام موصل ابراہیم بن مالک ابن الاشتر النخعی کے ہاتھوں اپنے بہت سارے لوگوں کے ساتھ موت کے گھاٹ اترا اور ذخائر میں عمارۃ بن عمیر کی روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا جب میدان جنگ سے ابن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سرتن سے جدا کر کے شہر کی جامع مسجد میں لائے گئے تو اس وقت مسجد کے چبوترہ پر میں بھی موجود تھا، ابن زیاد کا کٹا ہوا سر وہأں رکھا ہوا تھا، اچانک لوگوں نے ایک طرف کو دیکھ کر چلانا شروع کیا وہ آیا وہ آیا، میں نے جو دیکھا تو ایک سانپ تیزی سے ابن زیاد کے سر کی طرف چلا آ رہا تھا اور آنا فانا اس کے نتھنے میں گھس گیا، کچھ دیر وہ اندر رہا پھر وہ باہر نکل کر چلا گیا۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد وہ آیا وہ آیا کا شور پھر بلند ہوا اور وہ سانپ تیزی سے آ کر ابن زیاد کے نتھنے میں گھس گیا اور کچھ دیر رہ کر پھر نکلا اور چلا گیا، یہ عجیب و غریب ماجرا دو یا تین بار پیش آیا۔ پھر اس نے اس کے حسن کے بارے میں کچھ کہا اس جملہ کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ ابن زیاد نے حضرت حسین ؓ کا سر مبارک دیکھ کر ان کے حسن اور ان کی خوبصورتی کے بارے میں کوئی عیب جو نہ بات کہی، لیکن ایک مطلب جو ترمذی کی روایت سے ظاہر بھی ہوتا ہے یہ ہوسکتا ہے کہ ابن زیاد نے اس وقت حضرت حسین ؓ کے حسن و جمال کے بارے میں تعریف و تحسین کے اس طرح مبالغہ آمیز الفاظ استعمال کئے جسے کوئی مذاق اڑانے والا کیا کرتا ہے وہ الفاظ ظاہر تو تعریف کے تھے مگر حقیقت میں اس خوشی کے اظہار کے لئے جو اس بدبخت کو حضرت حسین ؓ کے قتل سے حاصل ہوئی تھی تمسخر و استہزاء کے طور پر تھے۔

6158Mishkaat-al-Masabih

ایک خواب جس میں ولادت حسین کا مثردہ تھا ایک پیشن گوئی جس میں قتل حسین کی پیش خبری تھی

وعن أم الفضل بنت الحارث أنها دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله إني رأيت حلما منكرا الليلة . قال : وما هو ؟ قالت : إنه شديد قال : وما هو ؟ قالت : رأيت كأن قطعة من جسدك قطعت ووضعت في حجري . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأيت خيرا تلد فاطمة إن شاء الله غلاما يكون في حجرك . فولدت فاطمة الحسين فكان في حجري كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم . فدخلت يوما على رسول الله صلى الله عليه و سلم فوضعته في حجره ثم كانت مني التفاتة فإذا عينا رسول الله صلى الله عليه و سلم تهريقان الدموع قالت : فقلت : يا نبي الله بأبي أنت وأمي مالك ؟ قال : أتاني جبريل عليه السلام فأخبرني أن أمتي ستقتل ابني هذا فقلت : هذا ؟ قال : نعم وأتاني بتربة من تربته حمراء

اور حضرت ام فضل بنت حارث سے جو حضرت عباس کی زوجہ اور آنحضرت ﷺ کی چچی ہیں روایت میں ہے کہ وہ (ایک روز) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بولیں کہ یا رسول اللہ ﷺ آج کی رات میں نے ایک ڈراؤ نا خواب دیکھا ہے (نہ تو میں اس کو بیان کرنا پسند کرتی ہوں اور نہ آپ اس کو سن کر پسند کریں گے) آنحضرت ﷺ نے فرمایا (مجھ کو سناؤ تو سہی آخر وہ کیا ہے، ام فضل ؓ نے کہا میں نے دیکھا کہ گویا آپ کے جسم مبارک سے ایک ٹکڑا کاٹا گیا ہے اور میری گود میں رکھ دیا گیا ہے۔ ( یہ سن کر) رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم نے تو بہت اچھا اور مبارک خواب دیکھا ہے ( اس کی تعبیر یہ ہے) کہ انشاء اللہ فاطمہ ؓ کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا اور اس لڑکے کو تمہاری گود میں دیا جائے گا (کیونکہ خاندان کی عورتوں میں تمہارا ہی رشتہ بڑا ہے اور تم اس لڑکے کی زیادہ بہتر طور پر تربیت کرسکو گی) چناچہ فاطمہ ؓ کے ہاں لڑکا (حسین) پیدا ہوا اور جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا اس لڑکے کو میری گود میں دیا گیا۔ پھر ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی اور حسین ؓ آپ کی گود میں دے کر ذرا دوسری طرف متوجہ ہوگئی اور پھر (مڑ کر میں نے جو آپ ﷺ کی طرف نظر اٹھائی) تو کیا دیکھتی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو جاری ہیں، ام فضل ؓ کہتی ہیں میں نے (گھبرا کر) پوچھا اے اللہ کے نبی، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، آپ ﷺ کو کیا ہوا (جو رو رہے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا (ابھی میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت (یعنی مسلمانوں ہی میں سے بعض لوگوں کی جماعت) میرے اس بیٹے کو (نہایت ظالمانہ طریقے سے) عنقریب قتل کر دے گی، میں نے (بڑی حیرت سے ساتھ) پوچھا کیا اس بیٹے کو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں (اسی بیٹے کو) بلکہ جبرائیل تو میرے پاس اس خاک زمین سے کچھ مٹی بھی لے کر آئے تھے ( جہاں میرے اس جگر پارے کا خون بہایا جائے گا) اور وہ مٹی سرخ تھی۔ تشریح ایک روایت ذخائر میں سلمی سے منقول ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک روز میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں میں نے رونے کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے (خواب میں) رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ کے سر اور ریش مبارک پر خاک اور دھول جمی ہوئی تھی جب میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ اس حالت میں کیوں ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا میں ابھی قتل گاہ حسین سے ہو کر آ رہا ہوں اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے نیز بغوی نے بھی یہ روایت حسان میں نقل کی ہے۔

6159Mishkaat-al-Masabih

شہادت حسین اور ابن عباس کا خواب

وعن ابن عباس قال : رأيت النبي صلى الله عليه وسل فيما يرى النائم ذات يوم بنصف النهار أشعث أغبر بيده قارورة فيها دم فقلت : بأبي أنت وأمي ما هذا ؟ قال : هذا دم الحسين وأصحابه ولم أزل ألتقطه منذ اليوم فأحصي ذلك الوقت فأجد قبل ذلك الوقت . رواهما البيهقي في دلائل النبوة وأحمد الأخير

اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا ایک دن دوپہر میں میں نے نبی کریم ﷺ کو اس طرح دیکھا جیسے کوئی سونے والا کسی کو دیکھتا ہے (یعنی خواب دیکھا) کہ آپ ﷺ کے بال بکھرے ہوئے اور گرد آلودہ ہیں اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک بوتل ہے جو خون سے بھری ہوئی ہے۔ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان یہ کیا ہے (یعنی حادثہ پیش آیا ہے کہ آپ نہایت پریشان حال اور گرد آلود ہیں اور ایک خون بھری بوتل ہے) آپ ﷺ نے فرمایا یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے جس کو میں نے آج قتل گاہ حسین میں صبح سے اب تک اس بوتل میں اکٹھا کیا کرتا رہا ہوں، حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ (اس خواب کے بعد میری آنکھ کھل گئی) اور پھر میں نے اس وقت کو یاد رکھا ( جس وقت یہ خواب دیکھا تھا) چناچہ (جب قتل حسین کی خبر آئی) تو میں نے پایا کہ شہادت حسین کا المیہ (اسی دن اور اسی وقت پیش آیا تھا) جب میں نے مذکورہ خواب دیکھا تھا) ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اور اس دوسری روایت کو احمد نے بھی نقل کیا ہے۔

6160Mishkaat-al-Masabih

اہل بیت کو عزیز ومحبوب رکھو

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحبوا الله لما يغذوكم من نعمه فأحبوني لحب الله وأحبوا أهل بيتي لحبي . رواه الترمذي

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اللہ سے محبت رکھو کیونکہ وہی تمہیں اپنی نعمتوں سے رزق پہنچاتا ہے اور تمہاری پرورش کرتا ہے اور اس بناء پر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو مجھ سے محبت رکھو اور میرے اہل بیت کو میری محبت کی وجہ سے عزیز و محبوب رکھو۔ (ترمذی) تشریح اپنی نعمتوں سے رزق پہنچاتا ہے یعنی تمہیں ایسی طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا ہے جن سے تمہاری پرورش بھی ہوتی ہے اور تمہیں نوع بنوع لذتیں بھی حاصل ہوتی ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمتوں کے دروازے نہ کھولے اور اپنے خزانہ قدرت سے تمہارا رزق نہ دیتا ہے تو نہ تم زندہ رہ سکتے ہو اور نہ کھانے پینے کی کوئی لذت حاصل کرسکتے ہو تم جو کچھ کھاتے پیتے ہو وہ سب اسی کی طرف سے تمہیں پہنچتا ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے آیت (فمابکم من نعمۃ فمن اللہ) حاصل یہ کہ اگر تم اللہ سے محبت صرف اس بناء پر رکھ سکتے ہو کہ وہ تمہارا پالن ہار ہے اور تمہیں نعمتیں پہنچاتا ہے تو اس کو ضرور دوست رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ سبحانہ عارفین محبین کے نزدیک محبوب لذاتہ وصفاتہ ہے، اس سے ہر حالت میں محبت رکھنی چاہئے خواہ وہ نعمتیں عطا کرے یا نہ کرے پس یہ حدیث معنوی اسلوب و انداز کے اعتبار ایسی ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد آیت (فلیعبدوا رب ہذا البیت) اور اس بناء پر کہ تم اللہ سے محبت رکھتے ہو یعنی جب وہ سبب ثابت و ظاہر ہوگیا جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنا لازمی ہوجاتا ہے اور اسی سبب سے تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو پھر مجھ سے بھی محبت رکھو کیونکہ محبوب کا محبوب اپنا محبوب ہوتا ہے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے آیت (قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ) حضرت شیخ عبد الحق دہلوی نے اپنی شرح میں لحب اللہ کے تحت یوں لکھا ہے کہ تم مجھ سے اس بناء پر محبت رکھو کہ تم اللہ سے محبت رکھتے ہو، یا یہ کہ تم مجھ سے اس بناء پر محبت رکھو کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے محبت رکھتا ہے۔ میرے اہل بیت کو میری محبت کی وجہ سے اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ چونکہ میں اپنے اہل بیت کو عزیز و محبوب رکھتا ہوں لہٰذا تم بھی میرے اہل بیت کو عزیز و محبوب رکھو اور دوسرا مطلب یہ کہ چونکہ تم مجھ کو عزیز و محبوب رکھتے ہو لہٰذا میرے اہل بیت کو بھی عزیز و محبوب رکھو۔

6161Mishkaat-al-Masabih

اہل بیت اور کشتی نوح میں مماثلت

وعن أبي ذر أنه قال وهو آخذ بباب الكعبة : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ألا إن مثل أهل بيتي فيكم مثل سفينة نوح من ركبها نجا ومن تخلف عنها هلك . رواه أحمد

اور حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) انہوں نے کعبہ کے دروازہ کو پکڑ کر یوں بیان کیا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یاد رکھو، تمہارے حق میں میرے اہل بیت کی وہی اہمیت ہے جو نوح کی کشتی میں سوار ہوگیا اس نے نجات پالی اور جو شخص اس کشتی میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ ہلاک ہوا۔ (احمد) تشر یح مطلب یہ کہ جس طرح طوفان نوح کے وقت وہی شخص زندہ سلامت بچا اور اس دنیا میں باقی رہا جو نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار ہوگیا تھا اور جو کشتی میں سوار نہیں ہوا وہ ہلاک ہونے سے بچ نہیں سکا، طوفان کی بلا خیز موجوں نے اس کا نام و نشان تک مٹا کر رکھ دیا ٹھیک اسی طرح امت محمدیہ کے حق میں اہل بیت محمد ﷺ ایک ایسی پناہ گاہ ہیں کہ جو شخص ان کے دامان عاطفت سے وابستہ ہوگیا، جس نے ان کے اکرام و احترام اور ان کی محبت و متابعت کو لازم پکڑ لیا اس نے دارین میں نجات پالی اور جو شخص ان کے دامن محبت و متابعت سے وابستہ نہیں ہوسکا وہ دونوں جہاں میں ہلاک ہونے سے بچ نہیں سکتا خواہ وہ کتنا مال لٹا دے، کیسی ہی عزت و جاہ کا سہارہ لے لے، کتنی بڑی طاقت سے اپنے آپ کو وابستہ کرلے پس آنحضرت ﷺ نے گویا دنیا اور دنیا کی چیزوں یعنی یہاں کی فریب کاریوں، کفر و شرک کی گمراہوں، بدعات و جہالت کے اندھیروں اور فاسد و بیہودہ خواہشات و آرزؤں کو ایسے گہرے اور بھپرے ہوئے سمندر سے مشابہت دی جس کی سطح پر تہ در تہ موجوں کی بلا خیزی ہو اس کے اوپر فضا میں گھنے اور کالے بادلوں کا جماؤ ہو، چاروں طرف تاریکی ہو اور سمندر نے ساری آبادیوں اور زمینوں کو گھیر رکھا ہو اور پھر آپ ﷺ نے آگاہ کیا کہ اس سمندر کی بلا خیزی اور ہلاکت آمیزی سے وہی شخص زندہ سلامت بچ سکتا ہے، نجات پاسکتا ہے جو میرے اہل بیت کی محبت کی کشتی میں سوار ہوجائے اس معنوی سیاق میں دیکھا جائے تو اس حدیث کہ جس میں فرمایا گیا ہے اصحابی مثل النجوم من اقتدی بشیء منہ اہتدی (او کما قال) اور اس کے ارشاد گرامی کہ میرے اہل بیت نوح کشتی کی مانند ہیں کے درمیان گہرا اور لطیف ربط خود بخود سمجھ میں آجاتا ہے اور اسی ربط کو سامنے رکھ کر امام فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں بڑی پیاری بات لکھی ہے کہ ہم اہل سنت و جماعت الحمد اللہ اہل بیت کی محبت کی کشتی میں سوار ہوئے اور راہ ہدایت کے ستاروں یعنی اصحاب محمد ﷺ کے ذریعہ راہ یاب ہوئے چناچہ ہم قیامت کی ہولنا کیوں، تاریکیوں اور دوزخ کی ہلاکت خیزیوں سے نجات کی اور درجات نجات اور وہاں کی ابدی نعمتوں تک پہنچنے کا راستہ پانے کی امید رکھتے ہیں اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو شخص اس کشتی میں سرے سے سوار ہی نہیں ہوا جیسے خوارج تو وہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ اول دہلہ ہی میں ہلاک ہوگیا اور جو شخص اس کشتی میں سوار تو ہوا لیکن ہدایت کے ستاروں کے ذریعہ راستہ پانے سے محروم رہا جیسے روافض تو وہ گمراہی اور تاریکیوں میں اس طرح پھنس کر رہ گیا کہ اس کا زندہ سلامت بچ کر نکلنا ناممکن ہے۔