مال کی کمی درحقیقت بڑی نعمت ہے
وعن محمود بن لبيد أن النبي صلى الله عليه وسلم قال اثنتان يكرههما ابن آدم يكره الموت والموت خير للمؤمن من الفتنة ويكره قلة المال وقلة المال أقل للحساب . رواه أحمد
حضرت محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ دو چیزیں ایسی ہیں جن کو ابن آدم (انسان) ناپسند کرتا ہے (اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے وہ دونوں چیزیں بہت اچھی ہیں چنانچہ) انسان ایک تو موت کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ مومن کے لئے موت فتنہ سے بہتر ہے، دوسرے مال و دولت کی کمی کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ مال کی کمی حساب کی کمی کا موجب ہے۔ (احمد)
تشریح
فتنہ سے رماد ہے کفر و شرک اور گناہوں میں گرفتار ہونا، ظالم و جابر لوگوں کا ایسے کام کرنے پر مجبور کرنا جو اسلامی عقائد وتعلیمات کے خلاف ہوں اور ایسے حالات سے دوچار ہونا جن سے دین و آخرت کی زندگی مجروح ہوتی ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی اور زندہ رہنے کی تمنا تو اسی صورت میں خوب ہے جب کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے طاعات و عبادات کی توفیق عمل حاصل رہے، راہ مستقیم پر ثابت قدم نصیب ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس دنیا سے ایمان کی سلامتی کے ساتھ رخصت ہو۔ اگر یہ چیزیں حاصل نہ ہوں اور ایمان کی سلامتی نصیب نہ ہو تو پھر یہ زندگی کس کام؟ ظالم و جابر لوگوں کی طرف سے جبر واکراہ کی صورت میں اگرچہ دل، ایمان، عقیدہ پر قائم رہے مگر زبان سے ایسی بات کا ادا ہونا کہ جو ایمان عقیدہ کے مناسب و لائق نہیں ہے، یہ بھی ایک فتنہ ہی ہے ہاں اگر فتنہ کا تعلق کسی اور طرح کے دنیاوی ابتلاء و مصائب، زندگی کی سختیوں اور نفس کی مشقت شدائد سے ہو تو اسی صورت میں زندگی سے نفرت اور موت کی تمنا درست نہیں ہوگی کیونکہ ایسا فتنہ گناہوں کے کفارہ اور اخروی درجات کی بلندی و رفعت کا سبب ہوتا ہے۔ وقلۃ المال اقل للحساب، کا مطلب یہ ہے کہ دنیاوی مال و دولت کی کمی، عذاب سے بعید تر اور ہر مسلمان کے لئے بہتر ہے۔ لہٰذا جو مسلمان تنگدست و غریب ہو اس کو خوش ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مال و دولت کی فراوانی کے وبال کی وجہ سے آخرت میں پیش آئیں گی۔ حضرت شیخ عبدالحق دہلوی (رح) نے اس موقع پر بڑی حکمت آمیز بات کہی ہے، انہوں نے ہر طاب حق کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ عزیز من! یہ سب ایمان کی شاخیں ہیں، جو شخص شارع (علیہ السلام) کے ارشادات کے مطابق ایمان کو صحیح درست رکھتا ہے وہ یقیناً جانتا ہے کہ شارع نے جو کچھ فرمایا ہے وہ برحق اور عین صداق ہے اور اگر وہ شخص عقل سلیم اور صحیح تجربہ رکھتا ہو تو وہ اسی دنیا میں بھی جان لیتا ہے کہ مال و دولت کی فراوانی اور اس مال و دولت کو حاصل کرنے اور جمع کرنے، نیز اس کے ساتھ تعلق و محبت رکھنے کے سلسلے میں جن مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس قدر ذلت و خواری کا منہ دیکھنا پڑتا ہے اور جتنی زیادہ محنت و مشقت اور ہر طرح کی ذلت و خواری سے بچنے ہی کا نہیں بلکہ) نفس کی پاکیزگی و صفائی اور اخروی حساب و عذاب سے بچنے نیز درجات کی بلندی و رفعت کا انحصار اس بات پر ہے کہ مال و دولت کی کثرت سے اپنا دامن بچایا جائے اس سے قطع کر کے اور قدر کفایت پر قناعت کر کے عزت نفس اور اخلاق و کردار کی بلندی و استقامت کو اختیار کیا جائے۔
ذات رسالت ﷺ سے محبت کا دعویٰ رکھتے ہو تو فقر و فاقہ کی زندگی اختیار کرو
وعن عبد الله بن مغفل قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال إني أحبك . قال انظر ما تقول . فقال والله إني لأحبك ثلاث مرات . قال إن كنت صادقا فأعد للفقر تجفافا للفقر أسرع إلى من يحبني من السيل إلى منتهاه . رواه الترمذي وقال هذا حديث حسن غريب
حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں آپ ﷺ سے (بہت زیادہ) محبت رکھتا ہوں! حضور ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ دیکھ لو کیا کہہ رہے ہو؟ یعنی اچھی طرح سوچ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو، کیونکہ تم ایک بہت بڑی چیز کا دعویٰ کر رہے ہو، ایسا نہ ہو کہ بعد میں اپنی بات پر پورا نہ اتر سکو۔ اس شخص نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم! میں آپ ﷺ سے محبت رکھتا ہوں۔ اور تین بار اس جملہ کو ادا کیا! حضور ﷺ نے فرمایا اگر تم میری محبت کے دعوے میں سچے ہو تو پھر فقر کے لئے پاکھر تیار کرلو کیونکہ جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے اس کو فقر و افلاس اس پانی کے بہاؤ سے بھی زیادہ جلد پہنچتا ہے جو اپنے منتہا کی طرف جاتا ہے اس حدیث کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
تجفاف کے معنی ہیں پاکھر اور پاکھر اس آہنی جھول کو کہتے ہیں جو میدان جنگ میں ہاتھی گھوڑے پر ڈالی جاتی ہے تاکہ ان کا جسم زخمی ہونے سے بچا رہے جیسا کہ زرہ، سوار سپاہی کے جسم کو نیز و تلوار وغیرہ کے زخم سے محفوظ رکھتی ہیں۔ یہاں حدیث میں پاکھر کے ذریعہ صبر و استقامت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جس طرح پاکھر ہاتھی گھوڑے کے جسم کو چھپاتا ہے۔ اسی طرح صبر و استقامت اختیار کرنا، فقر و فاقہ کی زندگی کا سرپوش بنتا ہے حاصل یہ کہ صبر و استقامت کی راہ پر بہر صورت گامزن رہو، خصوصا اس وقت جب کہ فقر و افلاس تمہاری زندگی کو گھیر لے تاکہ تمہیں مراتب و درجات کی بلندی و رفعت نصیب ہو۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کی محبت سے پوری طرح سرشار ہوتا ہے اس کو فقر و فاقہ کا جلد پہنچنا اور اس پر دنیاوی آفات و بلاؤں اور سختیوں کا کثرت سے نازل ہونا ایک یقینی امر ہے کیونکہ منقول ہے کہ دنیا میں جن لوگوں کو سب سے زیادہ آفات شدائد کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ انبیاء ہیں ان کے بعد درجہ بدرجہ ان لوگوں کا نمبر آتا ہے جو عقیدہ و عمل کے اعتبار سے اعلیٰ مرتبہ کے ہوتے ہیں پس حضور ﷺ بھی انہی انبیاء میں سے تھے لہٰذا آپ ﷺ نے اس شخص پر واضح فرمایا کہ اگر واقعتا تم میری محبت رکھو گے تو میرے تئیں تمہاری محبت جس درجہ کی ہوگی اسی درجہ کی دنیاوی سختیوں اور پریشانیوں کا تمہیں سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ یہ اصول ہے المرء مع من احب (یعنی جو شخص جس کو دوست رکھتا ہے اسی جیسی حالت میں رہتا ہے) حضرت شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنے اس ارشاد فقر کے لئے پاکھر تیار کرلو کے ذریعہ بطور کنایہ اس امر کی تلقین فرمائی کہ فقر و فاقہ کے وقت صبر کی راہ پر چلنے کے لئے تیار رہو کیونکہ یہ صبر ہی ہے جو فقر افلاس کی آفتوں اور صعوبتوں کو برداشت کرنے کی طاقت بہم پہنچاتا ہے، دینی و دنیاوی ہلاکت تباہی سے محفوظ رکھتا ہے، جزع و فزع اور شکوہ شکایت کی راہ سے دور رکھتا ہے اور غضب الٰہی سے بچاتا ہے حضرت شیخ آگے فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ فقر و فاقہ کی زندگی اختیار کئے بغیر اور حضور ﷺ کے طرز حیات پر عمل پیرا ہوئے بغیر آپ ﷺ کی محبت کا دعویٰ بالکل ناروا اور جھوٹ ہے۔ کیونکہ حقیقت میں اسوہ نبوی کی اتباع اور حضور ﷺ کی محبت دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور محبوب کی اتباع وپیروری کے بغیر محبت کا دعویٰ درست ہو ہی نہیں سکتا، ان المحب لمن یحب مطیع، تاہم واضح رہے کہ حب نبی کا یہ سب سے اعلی مرتبہ ہے کہ کسی مسلمان کا حضور ﷺ کے اسوہ حیات کی کامل اتباع کو اپنا شیوہ بنا لینا اس بات کی علامت ہے کہ وہ حضور ﷺ کے تئیں دعویٰ محبت میں بالکل سچا اور درجہ کمال کا حامل ہے۔ اگرچہ محبت کی حقیقت و ماہیت یہ ہے کہ انسان کا کسی کی طرف اندر سے کھنچنا اور اس کے دل کا اس محبوب کی خوبیوں، اس کی ذات وصفات کی تحسین اور اس کی شکل و صورت اور عادات واطوار کی تعریف و توصیف سے معمور ہوجانا کہ وہ اپنے محبوب کو سب سے اچھا دیکھنے اور سب سے اچھا جاننے لگے۔ مگر جیسا کہ پہلے بتایا گیا تکمیل محبت کا انحصار، محبوب کی کامل اتباع اور پیروی پر ہے، اگر باطنی تعلق و محبت کے ساتھ عمل و اتباع کی دولت بھی نصیب ہو تو اصل اور کامل محبت وہی کہلائے گی ورنہ محض دل میں محبت کا ہونا اور زبان سے اس کا اعتراف و اقرار بھی کرنا، مگر عمل و اتباع کی راہ میں غفلت و کوتاہی کا شکار ہونا، محبت کے ناقص ہونے کی دلیل ہے، جیسا کہ عمل کے بغیر ایمان درجہ تکمیل تک نہیں پہنچاتا۔
دعوت اسلام کی راہ میں حضور ﷺ کو پیش آنے والے فقر و فاقہ اور آفات و آلام کا ذکر
وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لقد أخفت في الله وما يخاف أحد ولقد أوذيت في الله وما يؤذى أحد ولقد أتت علي ثلاثون من بين ليلة ويوم وما لي ولبلال طعام يأكله ذو كبد إلا شيء يواريه إبط بلال . رواه الترمذي قال ومعنى هذا الحديث حين خرج النبي صلى الله عليه وسلم هاربا من مكة ومعه بلال إنما كان مع بلال من الطعام ما يحمل تحت إبطه
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ کے دین کو ظاہر کرنے اور اس کی طرف لوگوں کو بلانے کی راہ میں جس قدر مجھ کو خوف و دہشت میں مبتلا کیا گیا اس قدر کسی اور کو خوف و دہشت میں مبتلا نہیں کیا گیا اور اللہ کے دین کی راہ میں جتنی ایذاء رسانیوں سے میں دوچار ہوا ہوں اتنی ایذاء رسانیوں سے کوئی اور دوچار نہیں ہوا ہے (یعنی ابتداء میں جب میں نے اسلام کی دعوت پیش کی اور اللہ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کا اظہار و اعلان کیا تو اس وقت میں بالکل تنہا تھا، کوئی اور شخص میرے ساتھ نہیں تھا، چناچہ اس راہ میں پیش آنے والے تمام تر مصائب و آلام اور ہر طرح کی دہشت انگیزی کو برداشت کرنے والا واحد شخص میں تھا) بلاشبہ مجھ پر متواتر تیس دن اور تیس راتیں ایسی گزری ہیں جن میں میرے اور بلال کے لئے کھانے پینے کا ایسا کوئی سامان نہیں تھا جس کو کوئی جگردار (یعنی حیوان) کھاتا ہے (یعنی ان دنوں ہم دونوں کے پاس کھانے کی ان چیزوں میں سے بھی کوئی چیز نہیں تھی جس کو جانور کھاتے ہیں چہ جائیکہ آدمیوں کے کھانے پینے کی کوئی چیز ہوتی) علاوہ اس نہایت معمولی سی چیز کے جس کو بلال اپنی بغل میں چھپائے رہتے تھے اور ظاہر ہے کہ جس چیز کو انسان اپنی بغل میں دبالے اس کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے خاص طور پر اس صورت میں جب کہ باہر سے یہ نظر بھی نہ آئے کہ بغل میں کیا چیز ہے۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث میں حضور ﷺ نے جو صورت حال بیان فرمائی ہے اس کا تعلق اس وقت سے ہے جب حضور ﷺ مکہ سے نکلنے پر مجبور ہوگئے تھے اور اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ حضرت بلال ؓ تھے۔ نیز حضرت بلال ؓ کے پاس کھانے کی چیزوں میں سے صرف اتنا تھا جس کو وہ اپنی بغل میں دبائے رہتے تھے۔
تشریح
حدیث کے ابتدائی جملوں کی وضاحت طیبی نے وہی کی ہے جو ترجمہ میں (بین القوسین) نقل کی گئی ہے۔ لکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس قدر کسی اور کو خوف و دہشت میں مبتلا نہیں کیا گیا اور اتنی زیادہ ایذاء رسانیوں سے کوئی اور دوچار نہیں ہوا سے حضور ﷺ کی مراد یہ تھی کہ اللہ کا دین پہنچانے کی راہ میں جس قدر خوف و دہشت میں مجھے مبتلا کیا گیا ہے اور جس قدر اذیتیں اور تکلیفیں میں نے برداشت کی ہیں اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ مااوذی نبی مثل ما اوذیت (یعنی جتنی زیادہ ایذاء مجھے پہنچائی گئی ہے اتنی زیادہ کسی اور نبی کو نہیں پہنچائی گئی) اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دراصل اللہ کے دین کی راہ میں ایذاء اور تکلیف کا پہنچانا ہر شخص کی ہمت و حیثیت اور مرتبہ کے مطابق ہوتا ہے، چونکہ سرکار دو عالم ﷺ کی ہمت و حیثیت سب سے زیادہ بلند تھی۔ آپ ﷺ کا مرتبہ سب سے اونچا تھا آپ ﷺ کی صداقت و حقانیت سب سے زیادہ واضح تھی۔ اور ایمان کو پھیلانے اور لوگوں کو راہ راست پر لانے کی تمنا و خواہش اور اس کے تئیں سعی تڑپ سب سے زیادہ آپ ﷺ میں تھی اس لئے اس راہ میں سب سے زیادہ ایذاء رسانی اور مصائب کا سامنا بھی آپ ہی کو کرنا پڑا۔ آیت (ولقد اتت علی) الخ سے حضور ﷺ نے اپنے فقر و فاقہ کے انتہائی شدید وسخت دنوں کا ذکر جس انداز میں فرمایا اس سے ایک تو ان سخت مصائب و آلام کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا جن سے آپ ﷺ کو دعوت اسلام کی راہ میں دوچار ہونا پڑا اور ظاہر ہے کہ فقر و فاقہ سے زیادہ سخت اور کوئی مشقت نہیں ہوسکتی اور دوسرے اصل مقصد امت کے لوگوں کو تعلیم و تلقیں تھا کہ اللہ کے دین کی راہ میں اگر بڑی سے بڑی صعوبت بھی برداشت کرنا پڑے تو اس کو بطیب خاطر انگیز کیا جائے اور بہر صورت راہ استقامت پر گامزن رہا جائے۔ امام ترمذی نے جو یہ کہا ہے کہ اور اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ حضرت بلال ؓ بھی تھے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضور ﷺ کی بیان فرمودہ صورت حال کا تعلق اس وقت سے نہیں جب کہ آپ ﷺ نے مکہ سے مدینہ کے لئے ہجرت فرمائی تھی کیونکہ اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ حضرت بلال نہیں تھے۔ بلکہ یہ واقعہ غالباً اس وقت کا ہے جب آپ ابتدائے اسلام میں مکہ سے طائف تشریف لے گئے تھے چناچہ نبوت کا دسواں سال تھا اور شوال کا مہینہ کہ آپ کے چچا ابوطالب کی وفات ہوگئی۔ اور پھر تین دن بعد یا پانچ دن کے بعد ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ بھی اللہ کو پیاری ہوگئیں، یہ دونوں سانحے حضور ﷺ کے لئے نہایت سخت تھے اسی لئے آپ ﷺ نے اس سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال فرمایا۔ قریش مکہ جو پہلے ہی آپ ﷺ کو طرح طرح کی اذیتوں کا نشانہ بنا رہے تھے، اب ان دونوں، ہستیوں خصوصاً ابوطالب کی وفات کے بعد ان کو اپنی جابرانہ کاروائیوں کا موقع مل گیا، چناچہ انہوں نے آپ ﷺ کی ایذاء رسانی میں بڑی شدت پیدا کردی، ادھر جب آپ ﷺ کو اہل مکہ کے قبول اسلام سے مایوسی کی صورت پیدا ہونے لگی تو اسی سال یعنی ١٠ نبوی، آخر ماہ شوال میں آپ حضرت زید بن حارثہ ؓ کو ساتھ لے کر پیادہ پا مکہ سے طائف تشریف ہے گئے اور اہل طائف کو کلمہ حق کی طرف دعوت دی اور متواتر ایک ماہ تک ان کی تبلیغ و ہدایت میں مصروف رہے، مگر انہوں نے آپ کی ایک بات نہیں سنی اور کسی ایک شخص کو بھی قبول حق کی توفیق نہیں ہوئی، بلکہ ظالموں نے اپنے بچوں اور اوباش لوگوں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا کہ جس قدر ہو سکے آپ ﷺ کو ایذاء پہنچائیں چناچہ ان بدبختوں نے آپ ﷺ پر پتھر برسانے شروع کئے جس سے سردار دو عالم ﷺ کے قدم شریف زخمی ہوجاتے تھے اور اتنا خون بہتا تھا کہ آپ ﷺ کے نعلین مبارک اس سے بھر جاتے تھے، جب آپ ﷺ پتھر کے زخموں سے چور ہو کر گرپڑتے تھے تو وہ لوگ آپ ﷺ کے دونوں بازو پکڑ کر کھڑا کردیتے تھے اور آپ ﷺ آگے چلتے تو پھر پتھراؤ شروع کردیتے تھے اور خوش ہو کر تالیاں بجاتے اور قہق ہے لگاتے تھے۔ حضرت زید بن حارثہ ؓ جس طرف سے پتھر آتا ہوا دیکھتے اس طرف خود کھڑے ہو کر آنحضرت ﷺ کو بچاتے اور پتھر کو اپنے سر پر لیتے تھے یہاں تک کہ حضرت زید ؓ کا سر بھی پتھروں کے زخم سے چور چور ہوگیا۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے بادل کا ایک ٹکڑا بھیجا جو آپ ﷺ پر سایہ فگن ہوگیا اور پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ایک اور فرشتے کے ساتھ حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کے پروردگار نے آپ ﷺ کی قوم کی ساری باتیں سنیں اور آپ ﷺ کے ساتھ جو کچھ سلوک انہوں نے کیا ہے اس کو دیکھا، میرے ساتھ یہ وہ فرشتہ ہے جس کے سپرد پہاڑوں کی خدمت ہے، اللہ پاک کا اس کو حکم ہے کہ اگر آپ ﷺ فرمائیں تو طائف کے گرد کی دونوں پہاڑیاں باہم ٹکرا دی جائیں۔ اور ان دونوں کے درمیان اہل طائف کو اس طرح دل دیا جائے جس طرح چکی کے دو پاٹوں میں دانہ دل جاتا ہے۔ رحمت عالم ﷺ کسی انتقامی کاروائی کی اجازت دے دیتے، یہ کیسے ممکن تھا؟ چناچہ آپ ﷺ نے اس امر کی اجازت نہیں دی اور بارگاہ رب العزت میں یوں گویا ہوئے۔ ارحم الراحمین! تو نے مجھ کو سخت دل اور انتقام کا خو گر نہیں بنایا، میں لوگوں پر تیرے عذاب نازل کرانے نہیں آیا ہوں، مجھے اپنی قوم کے ہلاک و تباہ ہونے کا سبب نہ بنا، اگر یہ نیست نابود ہوگئے تو اس سے مجھے کیا حاصل ہوگا، ہاں اگر یہ زندہ رہے تو امید ہے کہ شاید ان کی نسلوں میں سے وہ لوگ پیدا ہوں جو تیری وحدانیت کے ساتھ پرستش کریں اور تیرے دین کا جھنڈہ بلند کریں! پروردگار یہ میرے مرتبہ سے ناواقف ہیں، ان کی آنکھوں پر جہل و نادانی کی پٹی بندھی ہوئی ہے، اگر تو ان کو وہ بینائی عطا فرما دے جس سے یہ میری شان پیغمبر دیکھ لیں تو امید ہے کہ ایمان سے مشرف ہوجائیں۔ بالآخر رحمت عالم ﷺ ایک ماہ بعد طائف سے اس طرح واپس ہوئے کہ فقر و فاقہ کے تعب اور ایذاء رسانیوں کے زخم سے جسم نڈھال تھا اور آپ ﷺ کے ٹخنے شریف لہو لہان تھے، مگر زبان پر حرف بد دعا کے بجائے دعائے ہدایت کے الفاظ تھے۔ سفر طائف کا یہ پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ تاریخ و سیر کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے یہاں اس کا ذکر اجمالی طور پر کیا گیا ہے اور وہ بھی اس لئے کہ روایت کے آخر میں اس طرف اشارہ ہے۔ رہی یہ بات کہ حدیث میں اس موقع پر آنحضرت ﷺ کے ساتھ حضرت بلال ؓ کا ہونا مذکور ہے، جب کہ مذکورہ بالا واقعہ میں حضرت زید بن حارثہ ؓ کا ذکر ہے تو ان دونوں میں کوئی تضاد اور منافات نہیں کیونکہ اغلب ہے کہ حضرت بلال اور حضرت زید بن حارثہ ؓ دونوں ہی آپ ﷺ کے ساتھ رہے ہوں گے، تاہم تاریخ و سیر کی کتابوں میں اس موقعہ پر حضرت زید بن حارثہ ؓ کا ہی ہونا ذکر کیا جاتا ہے۔
حضور ﷺ اور صحابہ (رض) کے فقر و افلاس کا حال
وعن أبي طلحة قال شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الجوع فرفعنا عن بطوننا عن حجر حجر فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بطنه عن حجرين . رواه الترمذي وقال حديث غريب
حضرت ابوطلحہ ؓ کہتے ہیں ہم نے رسول کریم ﷺ سے بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا دکھایا، (یعنی ہم میں سے ہر شخص نے بھوک کی شدت سے بیتاب ہو کر اپنے پیٹ پر ایک ایک پتھر باندھ رکھا تھا جس کو ہم نے اپنا پیٹ کھول کر حضور کو دکھایا) تب حضور ﷺ نے اپنا پیٹ کھول کر دکھایا تو اس پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
جب بھوک کی شدت ہوتی ہے اور پیٹ بالکل خالی ہوتا ہے تو اس صورت میں پیٹ پر پتھر باندھ لینا پیٹ معدہ اور آنتوں کو اس حد تک تقویت پہنچا دیتا ہے کہ آدمی اپنا کام کاج کرنے، اٹھنے یٹھنے اور چلنے پھرنے پر تھوڑا بہت قادر ہوجاتا ہے اور جب بھوک کی شدت اور زیادہ ہوجاتی ہے اور ایک پتھر سے بھی کام نہیں چلتا تو پھر دو پتھر باندھنے پڑتے ہیں، چناچہ حضور ﷺ پر بھوک کی شدت زیادہ طاری تھی اور ویسے بھی آپ ﷺ زیادہ محنت و ریاضت کے عادی تھے اس لئے آپ ﷺ نے اپنے شکم مبارک پر دو پتھر باندھ رکھے تھے۔
حضور ﷺ اور صحابہ (رض) کے فقر و افلاس کا حال
وعن أبي هريرة أنه أصابهم جوع فأعطاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم تمرة تمرة . رواه الترمذي
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب فقراء صحابہ کو بھوک کی شدت نے پریشان کیا تو رسول کریم ﷺ نے ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور عطا فرمائی۔ (ترمذی)
تشریح
اس حدیث سے حضرت ابوہریرہ ؓ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ان صحابہ ؓ پر فقر و افلاس اور کھانے پینے کی تنگی کا اتنا زیادہ غلبہ تھا کہ بسا اوقات انہیں ایک ایک کھجور پر اکتفا کرنا پڑتا تھا۔
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال خصلتان من كانتا فيه كتبه الله شاكرا من نظر في دينه إلى من هو فوقه فاقتدى به ونظر في دنياه إلى من هو دونه فحمد الله على ما فضله الله عليه كتبه الله شاكرا صابرا . ومن نظر في دينه إلى من هو دونه ونظر في دنياه إلى من هو فوقه فأسف على ما فاته منه لم يكتبه الله شاكرا ولا صابرا . رواه الترمذي . وذكر حديث أبي سعيد أبشروا يا معشر صعاليك المهاجرين في باب بعد فضائل القرآن
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں پائی جاتی ہیں اس کو اللہ تعالیٰ شاکر و صابر قرار دیتا ہے ایک یہ جب وہ شخص دینی معاملہ یعنی اچھے اعمال وغیرہ میں ایسے آدمی کو دیکھے جو (علم و عمل، طاعات و عبادات، قناعت و استقامت اور ریاضت و مجاہدہ کے اعتبار سے) اس سے برتر ہو تو اس کی اقتدا کرے ( یعنی اس میں دینی برتری و فضیلت سے اس طرح فیضان حاصل کرے کہ خود بھی علم وعمل کی راہ پر چلے، طاعات و عبادات کی محنت ومشقت اور برائیوں سے اجتناب پر صبر و استقامت اختیار کرے اور جو دینی و باطنی کمالات پہلے فوت ہوچکے ہیں ان پر تأسف کرے) اور دوسرے یہ کہ جب اپنی دنیا کے معاملہ میں اس آدمی کو دیکھے جو (مال و دولت اور جاہ ومنصب کے اعتبار سے) اس سے کمتر ہو تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے اور اس کا شکر ادا کرے کہ اس نے اس آدمی پر اس کو فضیلت و برتری بخشی ہے پس اللہ تعالیٰ اس شخص کو صابر و شاکر قرار دیتا ہے (یعنی شاکر تو اس لئے کہ اس نے دنیاوی اعتبار سے اپنے سے کمتر کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا اور صابر اس لئے کہ اس نے دینی اعتبار سے اپنے سے برتر شخص کو دیکھ کر اس سے رہنمائی اور فیضان حاصل کیا) اور جو شخص ایسا، ہو کہ جب وہ کسی ایسے شخص کو دیکھے جو اس کے دینی (یعنی اعمال صالحہ وغیرہ) کے اعتبار سے اس سے کمتر درجہ کا ہو (تو اس کے تئیں رشک و حسد اور حرص و خواہش میں مبتلا ہوجائے اور) اس چیز (یعنی جاہ ومال پر رنج و غم کرے جس سے وہ محروم ہے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ شاکر قرار دیتا ہے اور نہ صابر۔ (ترمذی) اور حضرت ابوسعید ؓ کی روایت ابشرا یا معشر صعالیک المہاجرین الخ اس باب میں نقل کی جا چکی ہے جو فضائل قرآن کے باب کے بعد ہے۔
تشریح
موخرالذکر شخص کو نہ تو شاکر اور نہ صابر قرار دینے کا سبب یہ ہے کہ جن دو خصلتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی ایک صفت کو بھی اس نے اختیار نہیں کیا، بلکہ اس کے برخلاف اس نے اللہ کی ناشکری کی اور زبان اور دل دونوں سے جزع و فزع او شکوہ شکایت کا مرتکب ہوا۔ حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو صابر اور شاکر قرار دیتا ہے ( تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو کامل مومن بنا دیتا ہے۔ چناچہ اس آیت آیت (اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ ) 31۔ لقمان 31) سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صابر و شاکر کا اطلاق اسی پر ہوتا ہے جو کامل مومن ہو، نیز ایک حدیث میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ایمان کے دو نصف ہیں۔ اس کا ایک نصف صبر ہے اور ایک نصف شکر ہے گویا اپنے آپ کو برائیوں سے روکنا صبر سے تعبیر ہے اور اعضاء ظاہر کے ذریعہ طاعات کی بجا آواری شکر کے مفہوم میں ہے اور ظاہر ہے کہ جس بندے کی زندگی ان دونوں اجزاء تکمیل سے معمور ہو وہ کامل مومن ہوتا ہے۔
عن أبي عبد الرحمن الحبلي قال سمعت عبد الله بن عمرو وسأله رجل قال ألسنا من فقراء المهاجرين ؟ فقال له عبد الله ألك امرأة تأوي إليها ؟ قال نعم . قال ألك مسكن تسكنه ؟ قال نعم . قال فأنت من الأغنياء . قال فإن لي خادما . قال فأنت من الملوك . قال عبد الرحمن وجاء ثلاثة نفر إلى عبد الله بن عمرو وأنا عنده . فقالوا يا أبا محمد إناوالله ما نقدر على شيء لا نفقة ولا دابة ولا متاع . فقال لهم ما شئتم إن شئتم رجعتم إلينا فأعطيناكم ما يسر الله لكم وإن شئتم ذكرنا أمركم للسلطان وإن شئتم صبرتم فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن فقراء المهاجرين يسبقون الأغنياء يوم القيامة إلى الجنة بأربعين خريفا . قالوا فإنا نصبر لا نسأل شيئا . رواه مسلم
حضرت ابوعبدالرحمن جبلی (رح) (جن کا اصل نام عبداللہ بن زید مصری ہے اور جن کا شمار ثقہ تابعین میں ہوتا ہے) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کو فرماتے ہوئے سنا، جب کہ ایک شخص نے ان سے سوال کیا اور کہا کہ کیا ہم ان فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں جن کے بارے میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ وہ دولتمندوں سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے؟ حضرت عبداللہ نے یہ سن کر اس شخص سے پوچھا کہ کیا تم بیوی والے کہ جس کے پاس تمہیں سکون قرار ملتا ہو؟ اس شخص نے کہا کہ ہاں پھر حضرت عبداللہ نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس مکان ہے جس میں تم رہائش اختیار کرو؟ اس شخص نے کہا کہ ہاں مکان بھی ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا تو پھر تم دولتمندوں میں سے ہو (یعنی تم ان مہاجرین کی حیثیت کے آدمی ہو جو فقر و افلاس میں مبتلا نہیں تھے، فقراء مہاجرین میں تمہارا شمار نہیں ہوسکتا کیونکہ ان فقراء کے پاس نہ بیوی تھی نہ گھر بار تھا، یا اگر کسی کے پاس اس دونوں میں سے کوئی ایک چیز تھی تو دوسری چیز سے محروم تھا) اس شخص نے ( جب یہ سنا کہ حضرت عبداللہ نے بیوی اور گھر والا ہونے کی وجہ سے اسے گویا دولتمند کہا ہے تو) کہا کہ میرے پاس ایک خادم بھی ہے (یعنی غلام یا لونڈی) حضرت عبداللہ نے فرمایا تب تو تم بادشاہوں میں سے ہو (یعنی اس صورت میں تو تمہارا شمار رئیسوں اور بادشاہوں میں ہونا چاہئے، تمہیں فقیر مفلس کہنا کسی طرح درست نہ ہوگا۔ حضرت ابوعبدالرحمن (راوی) نے یہ بھی بیان کیا کہ ایک دن حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس تین آدمی آئے، اس وقت میں بھی ان کی خدمت میں حاضر تھا، ان تینوں نے کہا کہ اے ابومحمد! واللہ ہم کسی چیز کی استطاعت نہیں رکھتے، نہ تو خرچ کرنے کی (کہ حج کو جا سکتیں) نہ کسی جانور کی کہ جہاد میں شریک ہو سکیں اور نہ کسی دوسرے سامان کی کہ جس کو فروخت کرے اپنے ضروری مصارف پورا کرسکیں۔ حضرت عبداللہ نے ان کی بات سن کر فرمایا کہ تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تمہاری یہ خواہش ہے کہ میں تمہارے ساتھ معاونت کروں اور تمہیں اپنے پاس سے کچھ دوں تو تم لوگ پھر کسی وقت آنا میں تمہیں وہ چیز دوں گا جس کا اللہ تمہارے لئے انتظام کر دے گا کیونکہ تمہیں دینے کے لئے اس وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے اور اگر تم چاہو تو میں تمہاری حالت بادشاہ (امیر معاویہ ؓ سے بیان کر دوں تمہیں اپنی عطاء سے فارغ البال کردیں گے۔ اور سب سے بہتر بات یہ ہے کہ اگر تم اہل کمال کا رتبہ حاصل کرنا چاہو تو صبر کرو یعنی اپنی اسی حالت فقر و افلاس پر استقامت اختیار کرو، کیونکہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ فقراء مہاجرین قیامت کے دن جنت میں دولتمندوں سے چالیس سال پہلے جائیں گے۔ ان تینوں نے یہ حدیث سنی تو کہا کہ بیشک ہم صبر و استقامت ہی کی راہ اختیار کرنے کا عہد کرتے ہیں، اب ہم آپ سے کچھ نہیں مانگتے یا یہ کہ اب آئندہ ہم کسی سے کچھ نہیں مانگیں گے۔ (مسلم)
وعن عبدالله بن عمرو قال بينما أنا قاعد في المسجد وحلقة من فقراء المهاجرين قعود إذ دخل النبي صلى الله عليه وسلم فقعد إليهم فقمت إليهم فقال النبي صلى الله عليه وسلم ليبشر فقراء المهاجرين بما يسر وجوههم فإنهم يدخلون الجنة قبل الأغنياء بأربعين عاما قال فلقد رأيت ألوانهم أسفرت . قال عبد الله بن عمرو حتى تمنيت أن أكون معهم أو منهم . رواه الدارمي
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد (نبوی) میں بیٹھے ہوئے تھے اور فقراء مہاجرین کا حلقہ جما ہوا تھا کہ اچانک نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے اور فقراء کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے میں بھی اپنی جگہ سے اٹھا اور (حضور ﷺ کی اتباع میں) فقراء کے قریب پہنچ کر ان کی طرف متوجہ ہوگیا (تاکہ آنحضرت ﷺ ان سے جو کچھ فرمائیں، ان ملفوظات کو میں بھی سن سکوں) چناچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ فقراء مہاجرین کو وہ بشارت پہنچا دینی ضروری ہے جو ان کو مسرور و شادماں بنا دے، پس وہ بشارت یہ ہے کہ فقراء مہاجرین جنت میں دولتمندوں سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ واللہ میں نے دیکھا کہ یہ بشارت سن کر فقراء کے چہروں کا رنگ روشن وتاباں ہوگیا۔ پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ بشارت سن کر اور فقراء کے چہروں کی تابانی و شگفتگی دیکھ کر میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش میں بھی ان ہی جیسا ہوتا یعنی اس دنیا میں مجھ پر بھی فقر و افلاس طاری ہوتا اور میں اس جماعت فقراء میں شمار ہوتا) یا یہ کہ ان میں سے ہوتا (یعنی آخرت میں اس جماعت کے ساتھ اٹھتا اور انہی کے ساتھ میرا حشر ہوتا۔ (دارمی)
تشریح
بما یسر وجوہہم میں لفظ وجوہ سے مراد یا تو ذات ہے یا جیسا کہ ترجمہ میں اسی کو ملحوظ رکھا گیا ہے یا یہ لفظ اپنے اصل معنی چہرے کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ فقراء مہاجرین کو بشارت پہنچا دینی ضروری ہے جو ان کے دلوں کو خوش کر دے اور اس خوشی کا اثر ان کے چہروں پر ظاہر و نمایاں ہو۔ اکون معہم او منہم میں حرف او تنویع کے لئے ہے اور اسی کے مطابق کا مطلب بھی بین القوسین بیان کردیا گیا ہے یا یہ کہ یہ صرف راوی کے شک کو ظاہر کرتا ہے کہ حضرت عبداللہ نے یا تو ان اکون معہم فرمایا یا یہ کہ ان اکون منہم یعنی میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش میں بھی فقراء مہاجرین میں سے ایک ہوتا۔
وہ باتین جو خزانہ الٰہی میں سے ہیں
وعن أبي ذر قال أمرني خليلي بسبع أمرني بحب المساكين والدنو منهم وأمرني أن أنظر إلى من هو دوني ولا أنظر إلى من هو فوقي وأمرني أن أصل الرحم وإن أدبرت وأمرني أن لا أسأل أحدا شيئا وأمرني أن أقول بالحق وإن كان مرا وأمرني أن لا أخاف في الله لومة لا ئم وأمرني أن أكثر من قول لا حول ولا قوة إلا بالله فإنهن من كنز تحت العرش . رواه أحمد
حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میرے خلیل (نبی کریم ﷺ نے مجھ کو ساتھ باتوں کا حکم دیا ہے، چناچہ آپ ﷺ نے ایک حکم تو یہ دیا کہ میں فقراء و مساکین سے محبت کروں اور ان سے قربت رکھوں۔ دوسرا حکم یہ کہ میں اس شخص کی طرف دیکھوں جو دنیاوی اعتبار سے مجھ سے کمتر درجہ کا ہے اور اس شخص کی طرف نہ دیکھوں جو جاہ و مال اور منصب میں مجھ سے بالا تر ہے، تیسرا حکم یہ دیا کہ میں کسی قرابتدار سے ناطے داری کو قائم رکھوں اگرچہ کوئی (قرابت دار) ناطے داری کو منقطع کرے، چوتھا حکم یہ دیا کہ میں کسی شخص سے کوئی چیز نہ مانگوں، پانچواں حکم یہ دیا کہ میں (ہر حالت میں) حق بات کہوں اگرچہ وہ سننے والے کو تلخ اور غیر خوش آئندہ معلوم ہو، چھٹا حکم یہ دیا کہ میں اللہ کے دین کے معاملہ میں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلہ میں ملامت کرنے والے کی کسی ملامت سے نہ ڈروں اور ساتواں حکم یہ دیا کہ میں کثرت کے ساتھ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کا ورد رکھوں (پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ) پس یہ ساتوں باتین اور عادتیں اس خزانہ کی ہیں جو عرش الٰہی کے نیچے ہے (اور جس سے فیوض و برکات نازل ہوتے ہیں) (احمد)
تشریح
فانہن کی ضمیر حضرت شیخ عبدالحق (رح) نے تو مذکورہ ساتوں باتوں کی طرف راجع کی ہے جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہوا لیکن ملا علی قاری (رح) نے اس ضمیر کا مرجع صرف آخری بات یعنی لاحول ولاقوۃ الا باللہ کو قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ الفاظ (یعنی لاحول الخ) دراصل اس گنج معنوی کا ایک حصہ ہیں جو عرش الٰہی کے نیچے محفوظ رکھا گیا ہے اور گنج معنوی تک اس شخص کے علاوہ اور کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی جس کو اللہ کی طرف سے حول وقوۃ یعنی قدرت و طاقت حاصل ہو۔ یا یہ معنی ہیں کہ یہ الفاظ جنت کے خزانوں میں ایک خزانہ ہیں۔ اس صورت میں عرش الٰہی کے نیچے کا مفہوم بھی بالکل واضح ہوگا کیونکہ عرش الٰہی، بالائے جنت ہے، نیز ملا علی قاری نے فرمایا ہے کہ جن شارحین نے انہن کی ضمیر مذکورہ ساتوں باتوں کی طرف راجع کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ یہ ساتوں باتیں اور عادتیں اس خزانہ کی ہیں جو عرش الٰہی کے نیچے ہے، ایک ایسا قول ہے جو حقیقت سے بعید ہے کیونکہ اس قول کو ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے جب کہ انہن کی ضمیر کو صرف آخری بات یعنی لاحول الخ کی طرف راجع کرنے کی سب بڑی دلیل یہ ہے کہ صحاح ستہ اور دیگر مسند کتابوں میں کثیر طرق سے یہ روایت کیا گیا ہے کہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ جنت کے خزانوں میں ایک خزانہ ہے۔ رہی یہ بات کہ ان الفاظ کو جنت کا خزانہ کس اعتبار سے فرمایا گیا ہے تو اس سلسلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، چناچہ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ان الفاظ کو خزانہ اس لئے کہا گیا ہے کہ جس طرح خزانہ، عالم لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتا ہے اسی طرح یہ الفاظ اپنی حقیقت و رفعت اور نفاست پاکیزگی کے اعتبار سے لوگوں کی نظروں سے محفوظ ہیں۔ یا ان الفاظ کو اس لئے خزانہ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہ جنت کے ذخائر میں سے ایک ذخیرہ ہیں۔ اور یا یہ کہ جو شخص ان الفاظ کا ورد رکھتا ہے اس کے لئے نہایت اعلی مرتبہ کا اجر وثواب جنت میں محفوظ کردیا جاتا ہے، اس اعتبار سے یہ الفاظ گویا جنت کا ایک خزانہ ہیں حضرت مسعود ؓ ایک روایت میں بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں نے آنحضرت ﷺ کے سامنے یہ کلمہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ پڑھا تو حضور ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم ان الفاظ کا حقیقی مفہوم بھی جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جان سکتے ہیں، تب آپ ﷺ نے فرمایا (ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ) اللہ کی نافرمانی اور گناہوں سے پھرنا اور بچنا صرف اللہ تعالیٰ کی مدد پر منحصر ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد پر منحصر ہے اور اللہ کی اطاعت عبادات پر قادر ہونا صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی جانے والی قدرت و طاقت پر منحصر ہے۔ مشائخ شاذلیہ قدس اللہ اسرارہم نے طالبان حق اور رہر وان طریقت معرفت کو ان الفاظ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کے ورد کی بہت وصیت کی ہے اور فرمایا ہے کہ توفیق عمل کی راہ میں اس سے زیادہ معین و مددگار اور کوئی چیز نہیں ہے۔
آنحضرت ﷺ کی مرغوب دنیاوی چیزیں
وعن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعجبه من الدنيا ثلاثة الطعام والنساء والطيب فأصاب اثنين ولم يصب واحدا أصاب النساء والطيب ولم يصب الطعام . رواه أحمد
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ دنیا کی چیزوں میں سے تین چیزیں رسول کریم ﷺ کی نظر میں نہایت پسندیدہ تھیں ایک تو کھانا (کہ جس کے ذریعہ جسم و بدن کو محفوظ و توانا رکھ کر دینی خدمات پر قدرت و طاقت حاصل کی جاسکے) دوسرے عورتیں ( کہ جن کے ذریعہ نفس کو برے خیالات سے محفوظ رکھا جاسکے) اور تیسرے خوشبو (کہ جس کے ذریعہ دماغ کو نشاط وتقویت حاصل ہو، کیونکہ حکماء کے قول کے مطابق عقل و فراست کا مخزن دماغ ہی ہے) چناچہ ان تینوں چیزوں میں سے دو چیزیں تو حضور ﷺ کو (کثرت کے ساتھ) حاصل ہوئی اور ایک چیز (زیادہ) حاصل نہیں ہوئی یعنی ایک تو عورتیں آپ کو زیادہ ملیں (بایں طور کہ آپ نے نو شادیاں کیں اور دوسرے خارجی طور پر خوشبو آپ کو بہت ملی باوجودیکہ آپ ﷺ کا پسینہ مبارک ہی تمام طرح کی خوشبو سے زیادہ معطر اور خوشگوار تھا، لیکن تیسری چیز کھانا، آپ ﷺ کو (زیادہ) نہیں ملا۔ (احمد)
تشریح
کھانے پر نفی کا اطلاق بطور مبالغہ ہے کہ آپ ﷺ کی غذائی ضروریات جس تنگی و قلت کے ساتھ پوری ہوتی تھیں اور جتنا کم کھانا آپ ﷺ کو نصیب ہوتا تھا اس کی بناء پر اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ کھانا، نہ ملنے ہی کے برابر تھا، چناچہ پہلے یہ روایت گزر چکی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ تا وفات ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ ﷺ نے مسلسل دو دن جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر کھائی ہو، اگرچہ کھانے کی یہ تنگی و قلت خود حضور ﷺ کی اختیار کردہ تھیں کہ آپ ﷺ نے اپنے لئے تنگی معیشت اور فقر و غربت کی زندگی کو ترجیح دی تھی اور حق تعالیٰ نے اپنے حبیب کے لئے جو اس بات کو پسند کیا تو اس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ تھیں۔
آنحضرت ﷺ کی مرغوب دنیاوی چیزیں
وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حبب إلي الطيب والنساء وجعلت قرة عيني في الصلاة . رواه أحمد والنسائي . وزاد ابن الجوزي بعد قوله حبب إلي من الدنيا
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ خوشبو اور عورتیں میرے لئے پسندیدہ بنائی گئی ہیں اور میرا قلبی سکون و نشاط، نماز میں رکھا گیا ہے (احمد، نسائی) اور ابن جوزی نے اس ارشاد میں حبب الی کے بعد من الدنیا کے الفاظ بھی نقل کئے ہیں۔
تشریح
میرا قلبی سکون و نشاط نماز میں رکھا گیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو جو ذوق و لذت، استغراق وحضور اور راحت و سرور نماز میں حاصل ہوتا ہے وہ کسی بھی وقت اور کسی بھی عبادت میں میسر نہیں ہوتا چناچہ حضور ﷺ پر نماز کے تئیں اس لذت بےخودی اور اسی ذوق حضور کے نشاط کا یہ اثر تھا کہ جونہی نماز کا وقت آتا، تو نہایت شوق کے عالم میں فرماتے ارحنا یا بلال! جلدی اٹھو اور اذان کہو، تاکہ میں نماز پڑھنے لگوں اور دوسرے امور کی مشغولیت و فکرات سے دامن چھڑا کر مناجات حق میں مشغول ہوجاؤں۔ لفظ قرۃ یا تو قر سے مشتق ہے جس کے معنی قرار و ثبات کے ہیں اور چونکہ جب نگاہ کو محبوب کا دیدار نصیب ہوجاتا ہے تو نہ صرف نظر کو قرار مل جاتا ہے کہ نگاہیں پھر کسی دوسرے کو دیکھنے کی روادار نہیں ہوتیں، بلکہ دل و دماغ کو بھی راحت و اطمینان کی دولت مل جاتی ہے، جس طرح کہ محبوب کا دیدار نہ ہونے کی صورت میں نظریں پریشان اور دل بےقرار رہتا ہے، لہٰذا نگاہ ودل کے اسی قرار و سکون کو حضور ﷺ نے قرۃ عینی سے تعبیر فرمایا۔ یا کہ یہ لفظ قرۃ اصل میں قر سے مشتق ہے، جس کے معنی اس ٹھنڈک اور خنکی و لذت کے ہیں جو کسی عزیز ترین چیز اور محبوب کے دیدار اور مشاہدہ کے سرور سے آنکھوں کو حاصل ہوتی ہے، چناچہ جس طرح کسی دشمن اور قابل نفرت چیز کو دیکھ کر آنکھوں میں چنگاریاں سلگتی معلوم ہوتی ہیں اسی طرح اپنی کسی عزیز ترین چیز اور محبوب کو دیکھ کر آنکھوں میں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے، اسی لئے بیٹے کو قرۃ العین کہا جاتا ہے۔ روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ابن جوزی نے اس حدیث کو جس طرح نقل کیا ہے اس میں شروع کا جملہ اس طرح ہے حبب الی من الدنیا الطیب الخ (یعنی دنیا کی جن چیزوں کو میرے لئے پسندیدہ بنایا گیا ہے، ان میں سے ایک تو خوشبو ہے اور دوسری عورت ہے) تاہم یہ بات واضح رہے کہ حدیث کے وہ الفاظ کہ جن کو امام احمد اور امام ترمذی نے متفقہ طور پر نقل کیا ہے، زیادہ صحیح وہی ہیں جو اوپر متن میں نقل کئے گئے ہیں چناچہ طبرانی نے اپنے تینوں معاجم میں، خطیب نے تاریخ بغداد میں اور ابن عدی نے کامل میں اس روایت کو انہی الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے، نیز حاکم نے بھی اپنی مستدرک میں اسی طرح نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے البتہ ان کی روایت میں جعلت کا لفظ نہیں ہے۔ ویسے نسائی کی ایک روایت میں بھی من الدنیا کا لفظ ایک دوسری وجہ سے منقول ہے ایک اور بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ بعض ناقلین حدیث کے ہاں اس روایت میں حبب الی من الدنیا کے بعد ثلث کا جو ایک اور لفظ نقل کیا جاتا ہے، تو جیسا کہ سخاوی (رح) نے لکھا ہے کہ تحقیق تفتیش کے باوجود یہ لفظ حدیث کی کسی کتاب میں اس روایت کے دوران نہیں ملتا، البتہ کتاب احیاء العلوم اور کشاف کی تفسیر سورت آل عمران میں یہ لفظ ضرور ملتا ہے، شیخ ابن حجر اور شیخ ولی الدین عراقی نے بھی یہی لکھا ہے کہ حدیث کی جس کتاب میں بھی یہ روایت ہے ثلث کا لفظ کہیں منقول نہیں ہے، لہٰذا یہ حدیث یہاں جن الفاظ کے ساتھ نقل کی گئی ہے اس کے مفہوم میں کوئی اشکال واقع نہیں ہوتا، اسی طرح ان دونوں لفظوں یعنی من الدنیا اور ثلث میں سے کوئی بھی ایک لفظ شامل روایت ہو تب بھی مفہوم بالکل واضح رہتا ہے، ہاں! اگر یہ دونوں لفظ ایک ساتھ شامل روایت ہوں تو اس صورت میں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ نماز پر دنیاوی چیز کا اطلاق کس طرح ہوسکتا ہے کیونکہ نماز دنیاوی امور میں سے نہیں ہے؟ لہٰذا جو ناقلین حدیث ان دونوں لفظوں کے ساتھ اس روایت کو بیان کرتے ہیں ان کی طرف سے اشکال کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ دنیا سے حضور ﷺ کی مراد اس عالم کی حیات ہے، یعنی آپ ﷺ نے گویا یہ فرمایا کہ اس عالم میں تین چیزیں میری پسندیدہ ہیں جن میں سے دو چیزیں تو طبعی اور دنیاوی امور سے تعلق رکھتی ہیں یعنی خوشبو اور عورت اور تیسری چیز یعنی نماز کا تعلق دینی امور سے ہے۔ آخر میں ایک بات اور، حدیث میں صلوۃ کا لفظ تقریباً تمام علماء کے نزدیک نماز ہی پر محمول ہے، لیکن بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ اس حدیث میں صلوۃ کے لفظ سے نبی کریم ﷺ پر (درود وسلام) مراد ہے۔
راحت طلبی اور تن آسانی بندگان خاص کی شان کے منافی ہے
وعن معاذ بن جبل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما بعث به إلى اليمن قال إياك والتنعم فإن عباد الله ليسوا بالمتنعمين . رواه أحمد
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ جب انہیں رسول کریم ﷺ نے (قاضی بنا کر یمن بھیجا تو ان کو یہ نصیحت بھی فرمائی کہ اپنے آپ کو راحت طلبی اور تن آسانی سے بچانا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندگان خاص آرام و آسائش کی زندگی نہیں گزارتے۔ (احمد)
تشریح
تنعم کا مفہوم ہے نفسانی خواہشات کی تکمیل میں زیادہ سے زیادہ اہتمام و انصرام کرنا، بہت زیادہ دنیاوی لذتوں اور نعمتوں کے درمیان رہنا اور کھانے پینے اور طبیعت و نفس کی مرغوبات کا حریص ہونا حاصل یہ کہ راحت طلبی وتن آسانی کی چیزوں میں پڑنا اور عیش و عشرت کی زندگی اختیار کرنا، کافر و فاجر، غافل ونادان اور جاہل لوگوں کا خاصہ ہے، بندگان خاص کو ایسی زندگی سے کیا سروکار! چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ آیت (ذرہم یأکلوا ویتمتعوا ویلہہم الامل فسوف یعلمون)۔ آپ ﷺ ان کافروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے کہ وہ خوب کھا لیں اور چین اڑا لیں اور خیالی منصوبے دنیا بھر کی آرزوئیں اور تمنائیں ان کو غفلت میں ڈالے رکھیں ان کو ابھی حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے۔ اور فرمایا۔ آیت (والذین کفروا یتمتعون ویأکلون کما تاکل الانعام والنار مثوی لہم) دوسری آیت (انھم کانوا قبل ذالک مترفین)۔ اور جو لوگ کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں اور جہنم ان لوگوں کا ٹھکانہ ہے۔ ایک جگہ یوں فرمایا گیا ہے وہ کافر لوگ اس سے قبل دنیا میں بڑی خوشحال اور چین کی زندگی بسر کرتے تھے۔
وعن علي رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من رضي من الله باليسير من الرزق رضي الله منه بالقليل من العمل
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص تھوڑے سے رزق پر اللہ سے راضی ہوتا ہے، (یعنی اپنی معاشی ضروریات کی قلیل مقدار پر قناعت کرتا ہے) توا للہ تعالیٰ اس سے (طاعات عبادات کے) تھوڑے سے عمل پر راضی ہوجاتا ہے۔
اپنی معاشی تنگی ومحتاجگی کو لوگوں پر ظاہر نہ کرنے والے کے حق میں وعدہ خداوندی
وعن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من جاع أو احتاج فكتمه الناس كان حقا على الله عز وجل أن يرزقه رزق سنة من حلال . رواهما البيهقي في شعب الإيمان
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص بھوکا ہو، یا کسی چیز کا محتاج ہو اور اپنی اس بھوک و محتاجگی کو لوگوں سے چھپائے یعنی کھانے کی طلب میں کسی سے یہ نہ کہے کہ میں بھوکا ہوں اور نہ مدد چاہنے کے لئے کسی سے اپنی احتیاج و ضرورت کو بیان کرے تو اللہ تعالیٰ کا یہ یقینی وعدہ ہے کہ وہ اس شخص کو حلال طریقہ پر ایک سال کا رزق پہنچائے گا۔ (ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
تشریح
بھوک سے مراد وہ بھوک ہے جس کو برداشت کرنا ممکن ہو اور لوگوں سے اس کو چھپانان ناجائز نہ ہو، کیونکہ جو بھوک ناقابل برداشت حد تک پہنچائے اور اس کی وجہ سے ہلاکت کا خوف ہو تو ایسی بھوک کو چھپانا جائز نہیں ہے، اس لئے علماء نے تصریح کی ہے کہ اگر کوئی شخص اس حالت میں بھوک کی وجہ سے مرا جائے کہ نہ تو اس نے کسی کے سامنے اپنی بھوک کا انحصار کر کے کھانے پینے کے لئے کچھ مانگا ہو اور نہ اس نے ایسی کوئی چیز ہی کھائی ہو جس سے زندگی بچائی جاسکتی تھی اور بحالت مجبوری جس چیز کے کھانے کی اجازت شریعت نے دی ہے کہ خواہ وہ مردار ہی کیوں نہ ہو تو اس شخص کی موت گنہگار کی موت ہوگی۔
اللہ کے نزدیک کون مسلمان پسندیدہ ہے؟
وعن عمران بن حصين قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله يحب عبده المؤمن الفقير المتعفف أبا العيال . رواه ابن ماجه
حضرت عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اس مسلمان کو محبوب رکھتا ہے جو مفلس، پارسا اور عیالدار ہو۔ (ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان عیالدار، مفلس و نادار ہونے کا وجود اپنی اور اپنے اہل و عیال کی معاشی ضروریات کو پات کو پورا کرنے کے لئے حرام و ناجائز اسباب و ذرائع سے اجتناب کرتا ہو اور لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بھی پرہیز کرتا ہو وہ کامل مسلمان ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس کو محبوب رکھتا ہے۔
حضرت عمر (رض) کا کمال تقویٰ
وعن زيد بن أسلم قال استسقى يوما عمر فجيء بماء قد شيب بعسل فقال إنه لطيب لكني أسمع الله عز وجل نعى على قوم شهواتهم فقال ( أذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا واستمتعتم بها ) فأخاف أن تكون حسناتنا عجلت لنا فلم يشربه . رواه رزين
حضرت زید بن اسلم تابعی (رح) کہتے ہیں کہ ایک دن امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے پینے کے لئے پانی مانگا تو ان کی خدمت میں جو پانی پیش کیا گیا اس میں شہد ملا ہوا تھا، حضرت عمر ؓ نے اس پانی کو دیکھ کر اور یہ جان کر کہ اس میں شہد ملا ہوا ہے) فرمایا یقینا یہ پانی پاک و حلال اور نہایت خوشگوار ہے لیکن میں اس کو نہیں پیوں گا، کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں (قرآن سے سنتا اور جانتا ہوں کہ اس نے ایک قوم کو خواہشات نفس کی اتباع کا ملزم گردانا اور بطور سرزنش و تنبیہ فرمایا۔ کہ تم نے اس دنیاوی زندگی میں اپنی لذتوں اور نعمتوں کو پا لیا اور ان سے پورا پورا فائدہ حاصل کرلیا (اب آخرت میں تمہارے لئے کیا رہ گیا ہے لہٰذا میں ڈرتا ہے کہ کہیں ہماری نیکیاں بھی ایسی نہ ہوں جن کا اجر وثواب (دنیاوی نعمتوں اور لذتوں کی صورت میں) جلد ہی اتنی دنیا میں ہمیں دے دیا جائے اور پھر آخرت میں محرومی کا منہ دیکھنا پڑے) چناچہ حضرت عمر ؓ نے شہد ملا ہوا وہ پانی نہیں پیا۔ (رزین)
تشریح
حضرت عمر ؓ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ شہد ملا ہوا یہ پانی نہایت لذت آمیز اور بہت بڑی دنیاوی نعمت ہے جو نفس کو بھی نہایت مطلوب ہے، اگر میں اس پانی کو پیتا ہوں تو گویا بہت بڑی نعمت سے فائدہ اٹھاتا ہوں اور لذت کام ودہن سے نفس کو خوش کرتا ہوں تو اس صورت میں مجھے خوف ہے کہیں یہ لذت ونعمت ہمارے اعمال صالحہ کا وہ اجر وثواب نہ قرار پائے جو ہمیں بس دنیا ہی میں چکا دیا جائے اور آخرت کے لئے کچھ نہ رہ جائے جیسا کہ کافروں کے بارے میں ہے کہ ان کے نیک عمل کا بدلہ، دنیاوی نعمتوں اور لذتوں کی صورت میں ان کو اس دنیا میں مل جاتا ہے اور آخرت میں ان کو کچھ نصیب نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ حضرت عمر ؓ نے اللہ تعالیٰ کا جو ارشاد نقل فرمایا ہے یعنی آیت (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا)۔ یہ ایک آیت کا ٹکڑا ہے اس طرح ایک آیت یہ بھی ہے (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّ لْنَا لَه فِيْهَا مَا نَشَا ءُ ) 17۔ الاسراء 18) یعنی جو شخص دنیا کے نفع کی نیت رکھے گا ہم ایسے شخص کو دنیا میں جتنا چاہیں گے جس کے واسطے چاہیں گے جلدی اسی دنیا میں دے دیں گے۔ یہ دونوں آیتیں اگرچہ کفار کے حق میں ہیں لیکن اصل اعتبار تو الفاظ کی عمومیت کا ہے جس سے ہر شخص سبق حاصل کرسکتا ہے نہ کہ خصوص سبب کا اعتبار ہونا چاہئے۔
ابتدائے اسلام میں صحابہ کا فقر و افلاس
وعن ابن عمر قال ما شبعنا من تمر حتى فتحننا خيبر . رواه البخاري .
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم صحابہ ؓ نے اپنے فقر و افلاس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ کھجوروں سے، کبھی پیٹ نہیں بھرا، یہاں تک کہ ہم نے خیبر کو فتح کرلیا جہاں کھجوریں بہت ہوتی تھیں تب ہمیں پیٹ بھر کھانے کو کھجوریں ملیں۔ (بخاری)