آرزو اور حرص کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 154 · 37 hadiths · Page 1 of 2

5120Mishkaat-al-Masabih

فقراء کی فضیلت اور نبی کریم ﷺ کی معاشی زندگی کا بیان

فقراء فقیر کی جمع ہے جس کے معنی ہی مفلس، محتاج، غریب اور فضیلت سے مراد اجر وثواب کی کثرت ہے۔ لہٰذا فقراء کی فضیت کے بیان کا مطلب ان احادیث کو نقل کرنا ہے جن سے یہ واضح ہوگا کہ جو لوگ اپنی غربت و افلاس اور محتاجگی کی وجہ سے اپنی اور اپنے متعلقین کی معاشی زندگی کی سختیوں کو صبر و سکون کے ساتھ جھیلتے ہیں اور تمام مشکلات کا مقابلہ نہایت عزم و استقلال کے ساتھ کرتے ہوئے توکل و قناعت اختیار کرتے ہیں اور تقدیر الٰہی پر راضی و شاکر رہتے ہیں ان کو کتنا زیادہ اجر وثواب ملتا ہے اور وہ آخرت میں کتنا بڑا درجہ پائیں گے۔ حضور ﷺ کی معاشی زندگی سے مراد آپ کے کھانے پینے، رہن سہن اور بسر اوقات کا وہ معیار اور طور طریقہ ہے جو غرباء اور فقراء کا ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ جس کو کفات (بقدر ضرورت) کہا جاسکتا ہے، عنوان بالا میں فقراء کی فضیلت اور حضور ﷺ کی معاشی زندگی کو ایک ساتھ ذکر کرنے اور دونوں سے متعلق احادیث و مضمون کو ایک باب میں نقل کرنے میں جو خاص حکمت ہے وہ اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اکثر انبیاء اولیاء کی طرح حضور ﷺ کا معیار زندگی اور بسر اوقات بھی غرباء و فقراء کی طرح تھا، یعنی سرکار دو عالم ﷺ خوشحال زندگی اختیار کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود اپنی زندگی اس طرح بسر کرتے تھے جس طرح کوئی غریب و مفلس شخص بسر کرتا ہے اور اپنے متعلقین کی کفالت اسی تنگی اور سخت کوشی و جانکاہی کے ساتھ کرتے تھے جو غریب و نادار لوگوں کا معمول ہے، چناچہ غریب و نادار مومن کی فضیلت کو ثابت کرنے کے لئے یہی بات بہت کافی ہے۔ واضح رہے کہ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ صبر و رضا اختیار کرنے والا غریب و مفلس سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے یا شکر گزار غنی و خوشحال شخص؟ چناچہ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ شکر گزار غنی زیادہ فضیلت رکھتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ سے اکثر وہ چیزیں عمل میں آتی ہیں جو صدقہ و خیرات اور مالی انفاق و ایثار یعنی زکوٰۃ قربانی اور نیک کاموں میں خرچ کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا زیادہ سے زیادہ قرب و نزدیکی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں نیز حدیث میں بھی اغنیاء کی تعریف میں یوں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا آیت (ذالک فضل اللہ یؤ تیہ من یشاء) یعنی یہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اکثر حضرات یہ فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والا غریب و مفلس زیادہ فضیلت رکھتا ہے جس کی ایک سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ خود حضور سرور کائنات ﷺ کا معیار زندگی اغنیاء کے مطابق نہیں تھا بلکہ غرباء اور مفلسوں کی طرح تھا نیز اس باب میں جو احادیث منقول ہوں گی وہ سب بھی ان حضرات کے قول کی دلیل ہیں۔ تاہم یہ بات ملحوظ رہے کہ اس اختلافی اقوال کا تعلق دراصل مطلق فقر اور غنا کی حقیقت و ماہیت سے ہے اور اس کا اعتبار بھی وجوہ کے مختلف ہونے پر ہے۔ چناچہ ایک شخص کے حق میں کبھی تو غنا یعنی دولتمندی، خیر و بھلائی کا باعث بن سکتی ہے اور کبھی اس کا فقیر و مفلس ہونا ہی اس کے حق میں بہتر ہوسکتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ پر مہربان ہوتا ہے تو اس کو وہی چیز دیتا ہے جو اس کے حق میں صلاح و فلاح کا ذریعہ ہوتی ہے۔ خواہ فقر ہو یا غنا اور خواہ صحت ہو یا تندرستی! یہی حکم کہ اختلاف وجوہ کی بنا پر ایک ہی چیز کبھی افضل ہوسکتی ہے اور کبھی مفضول ان تمام صفات کا ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ حضرت شیخ المشائخ سید محی الدین عبدالقادر جیلانی (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ صبر کرنے والا مفلس بہت رہے یا شکر گزار دولتمند؟ تو انہوں نے فرمایا کہ شکر گزار فقیر دونوں سے بہتر ہے۔ انہوں نے اس جواب کے ذریعہ گویا فقر و افلاس کی فضیلت کی طرف اشارہ فرمایا کہ فقر افلاس درحقیقت ایک نعمت ہے کہ اس پر شکر گزار ہونا چاہئے نہ کہ وہ کوئی مصیبت و بلا ہے جس پر صبر کیا جائے، شیخ عالم عارف ربانی اور ولی اللہ حضرت عبدالوہاب متقی (رح) اپنے شیخ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے جب تک ہم سے فقر و افلاس کی فضیلت کا اقرار و اعتراف نہیں کرا لیا اس وقت تک ہمیں بیعت نہیں کیا، چناچہ فرمایا کہ اس طرح کہو الفقر افضل من الغناء فقر و افلاس، غنا سے بہتر ہے جب ہم نے اس بات کو دہرایا تب انہوں نے ہمارا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور ہمیں مرید کہا۔ اس موقع پر اس بات کو بھی جان لینا چاہئے کہ اصلاح شریعت میں فقیر کا وہ مفہوم مراد نہیں ہوتا جو عام طور پر معروف ہے یعنی گدا گر بھکاری اور منگتا، بلکہ اس لفظ سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جس کو عرف عام میں غریب و مفلس کہا جاتا ہے اور جو مال و اسباب سے تہی دست ہوتا ہے اسلام کی مذہبی کتابوں اور احکام و مسائل میں ایسے شخص کے لئے عام طور پر دو لفظ استعمال ہوتے ہیں ایک تو فقیر دوسرے مسکین، چناچہ بعض حضرات نے ان دونوں میں فرق کیا ہے اور کہا ہے کہ فقیر کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جو نصاب یعنی اس قدر مال و اسباب کا مالک نہ ہو جس کی وجہ سے اس پر زکوٰۃ و فطرہ واجب ہوتا ہو، یا اس شخص کو فقیر کہا جاتا ہے جو بس ایک دن کی غذائی ضروریات کے بقدر مال و اسباب رکھتا ہو اور اس سے زائد اس کے پاس اور کچھ نہ ہو جب کہ مسکین اس شخص کو کہتے ہیں جو نہ صرف یہ کہ نصاب کا مالک نہ ہو بلکہ اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو یہاں تک کہ وہ ایک دن کی غذائی ضروریات کے بقدر بھی مال و اسباب نہ رکھتا ہو اور بعض حضرات نے اس کے برعکس کہا ہے۔ بہرحال عنوان میں جو لفظ فقراء استعمال کیا گیا ہے اس سے فقیر اور مسکین دونوں مراد ہیں۔

5121Mishkaat-al-Masabih

افلاس اور خستہ حالی کی فضیلت

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم رب أشعث مدفوع بالأبواب لو أقسم على الله لأبره . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بظاہر تو پرا گندہ بال اور غبار آلود (یعنی نہایت خستہ حال اور پریشان صورت) نظر آتے ہیں جن کو (ہاتھ یا زبان کے ذریعہ) دروازوں سے دھکیلا جاتا ہے لیکن وہ (خدا کے نزدیک اتنا اونچا درجہ رکھتے ہیں کہ) اگر وہ اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو یقینا پورا کرے۔ (مسلم) تشریح جن کو دروازوں سے دھکیلا جاتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ واقعتا دنیا داروں کے دروازوں پر جاتے ہیں ان کو وہاں سے دھکیلا جاتا ہے کیونکہ جو لوگ اللہ کے لئے دنیا کی ظاہری زینت و عزت کی چیزوں سے دور رہتے ہیں، ان کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ کوئی ایسا کام کریں گے جس سے ذلت اٹھانا پڑے، بلکہ اس جملہ سے مراد یہ ہے کہ اولیاء اللہ کی روحانی عظمتوں کا راز ان کی شکستہ حالی میں پوشیدہ ہوتا ہے اور ان کا ظاہر، ان کے باطن کا اس حد تک سرپوش ہوتا ہے کہ اگر بالفرض وہ کسی کے گھر جانا چاہیں تو لوگوں کی نظر میں ان کی کوئی قدر و منزلت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو دروازہ ہی پر روک دیا جائے مکان میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ اور ظاہر ہے کہ جب وہ دروازوں سے دھکیلے جاسکتے ہیں تو ان کو مجلسوں اور محفلوں میں آنے سے بطریق اولی روکا جاسکتا ہے اور اس میں حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ ان کی حقیقت لوگوں پر ظاہر ہو اور وہ ایسی حالت میں رہیں جس سے لوگ ان کی طرف مائل و ملتفت ہوں، تاکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے کوئی انس ورغبت نہ ہو۔ پس حقیقت میں اللہ تعالیٰ ان پاک نفس بندوں کو دنیا داروں اور ظالموں کے دروازوں پر کھڑے رہنے اور ان کے حرام مال کے کھانے پینے سے محفوظ رکھتا ہے، جیسا کہ کوئی شخص اپنے مریض کو اب و ہوا اور نقصان دہ غذاؤں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ چناچہ وہ لوگ اپنے مولیٰ کے در کے علاوہ اور کسی دروازے پر حاضری نہیں دیتے اور اپنے کمال استغناء اور بےنیازی کی وجہ سے اپنے پروردگار کے علاوہ کسی دوسرے کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ اور اگر وہ اللہ پر قسم کھائیں الخ کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اللہ پر اعتماد کر کے اور اس کی قسم کھا کر یہ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں کام کرے گا یا فلاں کام نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو سچا کرتا ہے بایں طور کہ ان کے کہنے کے مطابق اس کام کو کرتا ہے یا نہیں کرتا، جیسا کہ باب الدیت میں اس کے متعلق ایک روایت گزر چکی ہے حاصل یہ کہ وہ لوگ اگرچہ اپنی ظاہری حالت کی وجہ سے دنیا داروں کی نظر میں کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتے مگر حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا مرتبہ اتنا بلند اور اس کی بارگاہ میں ان کی عزت و مقبولیت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی بات پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ ان کو سچا کرتا ہے اور ان کی قسم پوری کرتا ہے یعنی وہ بات پوری ہو کر رہتی ہے۔

5122Mishkaat-al-Masabih

ملت کے حقیقی خیر خواہ وپشت پناہ، غریب ونا تو اں مسلمان ہیں

وعن مصعب بن سعد قال رأى سعد أن له فضلا على من دونه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم ؟ . رواه البخاري

حضرت مصعب بن سعد تابعی (رح) کہتے ہیں کہ (میرے والد) حضرت سعد ؓ نے اپنے بارے میں یہ گمان کیا کہ وہ اس شخص سے افضل ہیں جو ان سے کمتر ہے (یعنی ضعیف و نا تو اں شخص یا فقیر و مفلس چناچہ رسول کریم ﷺ نے (ان کا یہ گمان ختم کرنے اور دوسروں کو آگاہ کرنے کے لئے) فرمایا۔ تمہیں (دشمنان دین کے مقابلہ پر) مدد و سہارا اور رزق کن لوگوں کی برکت سے ملتا ہے انہی کی برکت سے جو ضعیف و نا تو اں اور غریب و نادار ہیں (بخاری) تشریح حضرت سعد ؓ بہت سے اوصاف اور خوبیوں کے مالک تھے، مثلا شجاعت (دل اوری) جود و کرم اور سخاوت، فیاضی جیسے اعلی اوصاف ان میں بدرجہ اتم تھے، چناچہ ان کے ذہن میں یہ بات پیدا ہوئی کہ جو لوگ مجھ جیسی خصوصیات اور خوبیاں نہیں رکھتے ان کی بہ نسبت میں مسلمانوں کی زیادہ مدد و اعانت کرتا ہوں اور اس اعتبار سے اسلام کے لئے میرا وجود زیادہ فائدہ مند ہے ذہن کی یہ بات زبان بھی آگئی ہوگی، لہٰذا حضور ﷺ نے ان کے اس گمان سے ان کو باز رکھا اور واضح فرمایا کہ تمہارا اس انداز سے سوچنا غیر مناسب بات ہے تمہیں چاہئے کہ جو لوگ طاقت و قوت اور مال و دولت کے اعتبار سے تم سے کمتر ہیں ان کی عزت کرو، انہیں کمتر و حقیر نہ سمجھو اور ان کے تئیں تکبر و نخوت کا رویہ اختیار نہ کرو کیونکہ وہ لوگ بڑے شکستہ دل اور مسکین ہوتے ہیں، ان میں خلوص و سچائی کا جوہر ہوتا ہے، ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہوتی ہے اور تم انہی کی دعاؤں کی برکتوں سے فائدہ اٹھاتے ہو، اللہ انہی کے طفیل تمہیں دشمنوں پر غالب کرتا ہے اور تمہارے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔

5123Mishkaat-al-Masabih

غریب ونادار مسلمانوں کو جنت کی بشارت

وعن أسامة بن زيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قمت على باب الجنة فكان عامة من دخلها المساكين وأصحاب الجد محبوسون غير أن أصحاب النار قد أمر بهم إلى النار وقمت على باب النار فإذا عامة من دخلها النساء . متفق عليه

حضرت اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ فرمانے لگے کہ میں (معراج کی رات، یا خواب میں، یا حالت کشف میں) جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تھا (میں نے دیکھا کہ جو لوگ جنت میں داخل ہوئے ہیں ان میں زیادہ تعداد غریبوں کی ہے اور مالداروں کو قیامت کے میدان میں روک رکھا گیا ہے۔ البتہ اصحاب نار یعنی کافروں کو دوزخ میں لے جانے کا حکم دے دیا گیا ہے اور جب میں دوزخ کے دروزاے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ جو لوگ دوزخ میں ڈالے گئے ہیں ان میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح محبوسون کے معنی ہیں وہ لوگ جن کو جنت میں جانے سے روک دیا گیا ہے حاصل یہ کہ مومنین میں سے جو لوگ اس فانی دنیا میں مالداری و تمول اور جاہ و منصب کی وجہ سے عیش و عشرت کی زندگی اختیار کئے ہوئے ہیں ان کو جنت میں جانے سے اس وقت تک کے لئے روکا رکھا جائے گا، جب تک ان سے اچھی طرح حساب نہیں لیا جائے گا، چناچہ اس وقت وہ لوگ اس بات سے سخت رنج و غم محسوس کریں گے کہ انہیں دنیا میں مال و زر کی کثرت اور جاہ و منصب کی وسعت کیوں حاصل ہوئی اور وہ اپنی خواہشات نفس کے مطابق دنیاوی لذات و عشرت سے کیوں بہرہ مند ہوئے کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر ان سے ان دنیاوی امور کا ارتکاب ہوا ہوگا جن کو حرام قرار دیا گیا ہے تو وہ عذاب کے مستوجب ہوں گے اور اگر انہوں نے محض ان چیزوں کو اختیار کیا ہوگا جن کو حلال قرار دیا گیا ہے تب بھی انہیں حساب و کتاب کے مرحلہ سے بہرحال گزرنا پڑے گا، جب کہ فقراء و مفلس لوگ اس سے بری ہوں گے کہ نہ تو ان سے حساب لیا جائے گا اور نہ انہیں جنت میں جانے سے روکا جائے گا بلکہ وہ مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں چلے جائیں گے اور ان کا مالداروں سے پہلے جنت میں جانا گویا ان نعمتوں کے عوض میں ہوگا جن سے وہ دنیا سے محروم رہے ہوں گے۔

5124Mishkaat-al-Masabih

جنتیوں اور دوزخیوں کی اکثریت کن لوگوں پر مشتمل ہوگی

وعن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اطلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء . واطلعت في النار فرأيت أكثر أهلها النساء . متفق عليه

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثر تعداد غریبوں اور نادار لوگوں کی نظر آئی اور دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثریت عورتوں کی نظر آئی (بخاری ومسلم)

5125Mishkaat-al-Masabih

فقراء کی فضیلت

وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن فقراء المهاجرين يسبقون الأغنياء يوم القيامة إلى الجنة بأربعين خريفا . رواه مسلم

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا فقراء، مہاجرین قیامت کے دن جنت میں اغنیاء (مال داروں) سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے (مسلم) تشریح چالیس سال سے مراد وہ عرصہ ہے جو ہماری اس دنیا کے شب و روز کے اعتبار سے چالیس سال کے بقدر ہوتا ہے اور اس حدیث کے ظاہر مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق خاص طور پر انہی فقراء سے ہے جو مہاجرین میں سے تھے۔ اس طرح اغنیاء سے مراد بھی اغنیائے مہاجرین ہیں۔ رہی یہ بات کہ یہاں فقراء اور اغنیاء کے ساتھ مہاجرین کی قید کیوں لگائی گئی ہے تو اس کی حقیقت دوسری فصل کی پہلی حدیث سے معلوم ہوگی۔ نیز جنت میں فقراء کے پہلے داخل ہونے کی وجہ ہوگی اغنیاء تو حساب کی طوالت کی وجہ سے میدان حشر میں رکے رہیں گے، جب کہ فقراء حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو کر وہاں کی سعادتوں اور نعمتوں سے بہرہ مند ہونے لگیں گے۔

5126Mishkaat-al-Masabih

فقراء کی فضیلت

وعن سهل بن سعد قال مر رجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لرجل عنده جالس ما رأيك في هذا ؟ فقال رجل من أشراف الناس هذا والله حري إن خطب أن ينكح وإن شفع أن يشفع . قال فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم مر على رجل فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم ما رأيك في هذا ؟ فقال يا رسول الله هذا رجل من فقراء المسلمين هذا حري إن خطب أن لا ينكح . وإن شفع أن لا يشفع . وإن قال أن لا يسمع لقوله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا خير من ملء الأرض مثل هذا . متفق عليه

حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ کے سامنے سے ایک شخص گزرا تو آپ ﷺ نے (اس کو دیکھ کر) اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے پوچھا کہ یہ جو شخص گزرا ہے اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، یعنی یہ کوئی اچھا شخص ہے یا برا؟ اس شخص نے جواب دیا کہ یہ شخص نہایت معزز اور شریف ترین لوگوں میں ہے، بخدا، اس شخص کی حیثیت یہ ہے کہ اگر کسی عورت سے نکاح کا پیغام بھیجے تو اس عورت سے اس کا نکاح ہوجائے اور اگر (کسی حاکم و سردار سے کسی شخص کے بارے میں کوئی سفارش کرے تو اس کی سفارش مان لی جائے، راوی حضرت سہل ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ (یہ جواب سن کر) خاموش رہے، اتنے میں ایک دوسرا شخص سامنے سے گزرا تو آپ ﷺ نے اس کو دیکھ کر اپنے پاس بیٹھے ہوئے اسی شخص سے پوچھا کہ اچھا اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ! یہ شخص نادار، قلاش مسلمانوں میں سے ہے، اس کی حیثیت تو یہ ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو اس سے کوئی نکاح نہ کرے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ ہو اور اگر کوئی بات کہے تو اس کی وہ بات سننے پر کوئی تیار نہ ہو (یعنی یہ شخص اپنے فقر و افلاس کی وجہ سے اتنی قدر و منزلت بھی نہیں رکھتا کہ کوئی شخص اس کی بات سننے پر آمادہ ہوجائے اور اس کی طرف التفات و توجہ کرے رسول کریم ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا۔ (نادان) یہ شخص (کہ جس کو تم نے حقارت کی نظر سے دیکھا ہے اور ایک بےحیثیت انسان سمجھا ہے) اس شخص جیسے لوگوں سے ہری زمین سے بھی کہیں بہتر ہے (جس کی تم نے تعریف کی ہے) (بخاری ومسلم) تشریح اس شخص جیسے لوگوں سے بھری زمین الخ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمام روئے زمین اس شخص جیسے لوگوں سے بھر جائے جو پہلے یہاں سے گزرا تھا اور جس کی تعریف و توصیف میں تم رطب اللسان ہوئے تھے تو وہ ایک شخص کہ جو اپنے فقر و افلاس کی وجہ سے تمہاری نظر میں کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتا ہے مرتبہ و فضیلت کے اعتبار سے اس تمام روئے زمین سے کہیں بہتر قرار پائے گا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضور ﷺ کے پاس جو صاحب بیٹھے ہوئے تھے اور جن سے حضور ﷺ نے ان دونوں اشخاص کے بارے میں سوال کیا تھا وہ خود کوئی غنی اور مال دار شخص ہوں گے، لہٰذا ان کے ساتھ مذکورہ سوال و جواب گویا ان کے حق میں یہ تنبیہ تھی کہ غریب و نادار مسلمانوں کو بنظر حقارت نہیں دیکھنا چاہئے کیونکہ اللہ کے نزدیک ان کو جو فضیلت حاصل ہے وہ بڑے بڑے مالداروں کو بھی حاصل نہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ حضور ﷺ نے مالدار مسلمانوں کے مقابلہ پر غریب و نادار مسلمان کی اس درجہ فضیلت کیوں بیان فرمائی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر غریب و نادار مسلمان کا دل بہت صاف ہوتا ہے اور اس کے سبب وہ حق کو بہت جلد قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی بہت زیادہ کرتا ہے، اس کے برخلاف غنی و مالدار لوگ عام طور پر بےحسی اور شقاوت میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے اندر سرکشی وبے نیازی اور تکبر کا وہ مادہ پیدا ہوجاتا ہے جو انہیں قبول حق اور احکام الٰہی کی پیروی سے باز رکھتا ہے۔ اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ آیت (سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ) 7۔ الاعراف 146) اور اس حقیقت کا اندازہ علماء کے شاگردوں اور صلحاء و مشائخ کے مریدوں کو دیکھ کر کیا جاسکتا ہے کہ ان میں سے جو لوگ غریب و نادار ہوتے ہیں وہ حق بات کو بہت جلد قبول کرلیتے ہیں اور جو لوگ صاحب ثروت و مالدار ہوتے ہیں وہ ہر بات میں حیل و حجت کرتے ہیں۔ حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پہلے گزرنے والا شخص بھی مالدار مسلمانوں میں سے تھا نہ کہ کوئی کافر تھا کیونکہ مفاضلہ (یعنی آپس میں ایک دوسرے کی اخروی فضیلت کو ظاہر کرنے) کا تعلق کفار و مسلمین کے مابین ہو ہی نہیں سکتا (یعنی کسی مسلمان اور کسی کافر کو ایک دوسرے کے مقابلہ پر رکھ کر یہ کہا ہی نہیں جاسکتا کہ اخروی اجر وثواب کے اعتبار سے ان میں سے کون شخص زیادہ افضل ہے) اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار میں سے کسی بھی شخص کی طرف سرے سے خیر (یعنی اخروی سعادت و بھلائی کی نسبت کی ہی نہیں جاسکتی (اور ظاہر ہے کہ جس شخص میں خیر سرے سے کوئی وجود ہی نہ ہوسکتا ہو اس کی طرف اخروی فضیلت کی نسبت بھی کسی طرح نہیں کی جاسکتی چناچہ بعض علماء نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جس مسلمان نے اپنی اپنی زبان سے یوں کہا کہ النصرانی خیر من الیہودی (یعنی عیسائی یہودی سے افضل ہے) تو اس کے بارے میں خوف ہے کہ وہ دائرہ کفر میں داخل نہ ہوگیا ہو کیونکہ اس نے اس جملہ کے ذریعہ گویا ان لوگوں میں خیر کا وجود ثابت کیا جن میں سرے سے خیر کا وجود ہی نہیں ہوسکتا، تاہم اس پر کفر کا اطلاق، جزم کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ بعض موقعوں پر لفظ کے ذریعہ (اخروی سعادت و بھلائی کے بجائے) حق کے زیادہ قریب کا مفہوم بھی مراد لے لیا جاتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ مذکورہ جملہ ادا کرنے والے نے لفظ خیر کو اسی مفہوم میں استعمال کیا ہو۔

5127Mishkaat-al-Masabih

اہل بیت نبوی ﷺ کے فقر کی مثال

وعن عائشة قالت ما شبع آل محمد من خبر الشعير يومين متتابعين حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم . متفق عليه

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ محمد ﷺ کے اہل بیت (یعنی ازواج مطہرات اور متعلقین) نے دو روز مسلسل جو کی روٹی سے پیٹ بھرا ہو (چہ جائیکہ گیہوں کی روٹی سے) یہاں تک کہ رسول کریم ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے (بخاری ومسلم) تشریح دو روز مسلسل سے یہ واضح ہوا کہ حضور ﷺ اور آپ کے اہل بیت کا معمول یہی تھا کہ اگر ایک دن پیٹ بھر کر کھایا تو دوسرے دن بھوکے رہے اور یہ اس وجہ سے تھا کہ حضور ﷺ نے خوشحالی و ترفہ کی زندگی پر فقر و افلاس کی زندگی کو ترجیح دی تھی اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو دنیا بھر کے خزانوں کی پیش کش ہوئی اور حکم ہوا اگر آپ ﷺ کہیں تو مکہ کے پہاڑوں کو آپ ﷺ کے لئے سونے میں تبدیل کردیا جائے تو حضور ﷺ نے دنیا بھر کے خزانوں اور سونے کے پہاڑوں کو تبدیل کرنے کے بجائے فقر اور تنگدستی ہی کو اختیار کیا اور فرمایا کہ میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن پیٹ بھروں اور ایک دن بھوکا رہوں، تاکہ جس دن پیٹ بھروں اس دن اللہ کا شکر ادا کروں اور جس دن بھوکا رہوں اس دن صبر کروں۔ مذکورہ بالا حدیث سے بعض لوگوں کے اس قول کی تردید ہوجاتی ہے کہ حضور ﷺ اپنی زندگی کے آخری حصہ میں غنی و مالدار ہوگئے تھے، کیونکہ اگر حضور ﷺ اپنی آخری عمر میں واقعتا غنی ہوگئے تھے تو پھر حضرت عائشہ ؓ کے اس کہنے کے کیا معنی ہوں گے کہ حضور ﷺ کے اہل بیت کا حضور ﷺ کی وفات تک یہی معمول رہا کہ انہوں نے کبھی مسلسل دو دن تک جو کی روٹی سے پیٹ نہیں بھرا؟ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ جب آخری زمانہ نبوی میں اسلام کو طاقت اور غلبہ ملا اور مجاہدین اسلام نے مختلف علاقوں کو فتح کیا تو اس صورت میں مال غنیمت کا مقررہ حصہ حضور ﷺ کو بھی ملا اور تھوڑا بہت مال آپ ﷺ کے پاس آتارہا مگر روایات صحیحہ شاہد ہیں کہ حضور ﷺ اس مال کو بھی اپنے پاس کبھی نہیں رکھا، بلکہ جس طرح آتا اسی طرح اس کو اپنے پوردگار کی خوشنودی کی راہ میں خرچ کردیتے اور خود ہمیشہ کی طرح خالی ہاتھ رہ جاتے، البتہ دل کا غنا اور بڑھ جاتا، حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی حالت یہ تھی کہ مسلسل کئی کئی راتیں بھوک میں گزار دیتے تھے حضور ﷺ اور اہل بیت کو رات کا کھانا میسر نہیں ہوتا تھا اور وقتا فوقتا کھانا میسر ہونے کی صورت میں بھی آپ ﷺ کے دسترخوان پر عام طور سے جس چیز کی روٹی ہوتی تھی وہ جو تھا۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوئی کہ ہمارے زمانہ کے غریب و نادار لوگوں اور فقراء میں سے کوئی بھی شخص اتنی سخت زندگی نہ تو گزاتا ہے اور نہ گزار سکتا ہے جتنی سخت زندگی حضور ﷺ گزارتے تھے اور یہ شان اس ذات گرامی کی تھی جو نہ صرف افضل البشر بلکہ افضل الانبیاء ہے جس کے چشم و ابرو کے اشارے پر دنیا بھر کی نعمتیں اس کے قدموں میں آسکتی تھیں۔ پس حضور ﷺ کے اس طرز زندگی میں غریب و نادار مسلمانوں کے لئے بڑی تسلی و اطمینان کا سامان پوشیدہ ہے۔ واضح رہے کہ حضور ﷺ کا اس قدر فقر و افلاس کی زندگی گزارنا اور بھوک کی صعوبت کو برداشت کرنا کوئی اضطرار و مجبوری کے درجہ کی چیز نہیں تھی بلکہ یہ اپنے قصد و اختیار کا نتیجہ تھا کہ آپ ﷺ چونکہ دنیا کی لذات اور نعمتوں سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے، قوت لایموت پر قناعت کرتے اور اپنی اور اپنے اہل بیت کی ضروریات پر فقراء و مساکین اور دیگر ضرورت مندوں کی ضروریات کو ترجیح دے کر ایثار نفس پر عمل پیرا تھے اس لئے آپ ﷺ اتنی سخت زندگی گزارتے تھے۔

5128Mishkaat-al-Masabih

اتباع نبوی ﷺ کی اعلیٰ مثال

وعن سعيد المقبري عن أبي هريرة أنه مر بقوم بين أيديهم شاة مصلية فدعوه فأبى أن يأكل وقال خرج النبي صلى الله عليه وسلم ولم يشبع من خبز الشعير . رواه البخاري

حضرت سعید مقبری تابعی (رح) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک دن) حضرت ابوہریرہ ؓ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے (جو ایک جگہ کھانے کے دسترخوان پر جمع تھے) اور ان کے سامنے بھنی ہوئی بھری بکری رکھی تھی۔ انہوں نے (کھانے کے لئے) حضرت ابوہریرہ ؓ کو بھی بلایا، لیکن انہوں نے انکار کردیا اور (اپنے نہ کھانے کے عذر میں) فرمایا کہ رسول کریم ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے اور کبھی آپ ﷺ نے جو کی روٹی سے بھی اپنا پیٹ نہیں بھرا لہٰذا یہ کیسے گوارا ہوسکتا ہے کہ میں بھنی بکری جیسی لذیذ غذا سے اپنا پیٹ بھروں جب کہ حضور ﷺ کو پیٹ بھر جو کی روٹی بھی میسر نہ ہوتی تھی۔ (بخاری)

5129Mishkaat-al-Masabih

حضور ﷺ کی معاشی زندگی پر قرض کا سایہ

وعن أنس أنه مشى إلى النبي صلى الله عليه وسلم بخبز شعير وإهالة سنخة ولقد رهن النبي صلى الله عليه وسلم درعا له بالمدينة عند يهودي وأخذ منه شعيرا لأهله ولقد سمعته يقول ما أمسى عند آل محمد صاع بر ولا صاع حب وإن عنده لتسع نسوة . رواه البخاري

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جو کی روٹی اور ایسی چربی لے کر آئے جو زیادہ دن رکھی رہنے کی وجہ سے بدبو دار ہوگئی تھی۔ نیز حضرت انس ؓ ہی نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (ایک مرتبہ) اپنی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے پاس گروی رکھ کر اس سے اپنے اہل بیت کے لئے کچھ جو لئے۔ حضرت انس ؓ سے روایت کرنے والے نے یہ بھی بیان کیا کہ میں نے حضرت انس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ محمد ﷺ کے اہل بیت کی ایسی کوئی شام نہیں ہوتی تھی جس میں ان کے پاس ایک صاع گیہوں یا کوئی اور غلہ رہتا ہو جب کہ حضور ﷺ کے نو بیویاں تھیں۔ (بخاری) تشریح روایت کے آخری الفاظ کے ذریعہ یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ حضور ﷺ نے اپنے اہل بیت کے لئے کسی رات میں آنے والے دن کے لئے کسی طرح کا غلہ رکھ چھوڑا ہو باوجودیکہ آپ ﷺ کے نو بیویاں تھیں اور ان کی غذائی ضروریات کے لئے تھوڑا بہت غلہ ہر وقت آپ ﷺ کے یہاں رہنا چاہئے تھا۔ جہاں تک ایک یہودی سے حضور ﷺ کے قرض لینے کی بات ہے تو اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر آپ ﷺ کسی مسلمان سے قرض لیتے تو مسلمان پر آپ ﷺ کا حال ظاہر ہوتا اور وہ آپ ﷺ کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے جب کہ آپ ﷺ اس بات کو ہرگز پسند نہیں فرماتے تھے کہ آپ ﷺ کی ضروریات زندگی کا بار مسلمانوں کے کاندھوں پر پڑے اور وہ خواہ خوشی یا کسی گرانی کے ساتھ اور شرم حضوری میں آپ ﷺ کو کچھ دیں۔ لیکن یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ حضور ﷺ کا کسی مسلمان کی بجائے ایک یہودی سے قرض لینا دراصل اس بات سے انتہائی تنزہ اور کامل احتیاط کے پیش نظر تھا کہ حضور ﷺ اپنی امت کے لوگوں سے کسی اجر و معاوضہ کے طلب گار ہوں خواہ وہ اجر و معاوضہ کے اعتبار سے نہ ہو بلکہ محض صورۃً ہو جیسا کہ مثلاً قرض کی صورت، کہ اگر آپ ﷺ کسی مسلمان سے قرض لیتے تو اس پر اجر و معاوضہ کا اطلاق نہ ہوتا، مگر ممکن تھا کہ کسی نہ کسی درجہ میں نفع اٹھانے کی وجہ سے اس پر بھی صورتاً اجر و معاوضہ کا اطلاق ہوجاتا، اس لئے آپ ﷺ احتیاطا اس کو بھی پسند نہیں کرتے تھے کہ کسی مسلمان سے قرض ہی کی صورت میں کوئی مالی فائدہ حاصل کریں، چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت (قل لا اسألکم علیہ من اجر ان اجری الا علی اللہ ) حضور ﷺ کے اس کامل احتیاط کی ایک نظیر ہمارے امام، امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کی زندگی میں بھی ملتی ہے، چناچہ ان کے بارے میں منقول ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کی دیوار کے سایہ سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے تھے جس پر ان کا کوئی قرض ہوتا تھا اور ان کی یہ احتیاط اس حدیث کے پیش نظر ہوتی تھی کل قرض جر منفعۃ فھو ربوا (یعنی جو بھی قرض کوئی منفعت کھینچ کر لائے وہ سود ہے)۔ مذکورہ بالا حدیث کے ضمن میں ایک اشکال واضح ہوتا ہے اور وہ یہ کہ بعض صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے بقدر کفایت لازمی ضروریات کی بعض چیزیں ایک سال کے لئے اکٹھا بھروا کر رکھ دی تھیں، جب کہ یہاں جو حدیث نقل کی گئی ہے اس سے اس کے برعکس ثابت ہوتا ہے؟ اس کا جواب علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ حقیقت تو یہی ہے کہ شروع میں بہت کافی عرصہ تک، جب کہ آپ ﷺ کی معاشی زندگی پر فقر کا زیادہ غلبہ تھا آپ ﷺ اس معمول پر قائم تھے کہ کبھی کسی چیز کا ایک دن کے لئے بھی ذخیرہ نہیں کیا، جس دن جو کچھ میسر ہوگیا وہ اس دن کی غذائی ضروریات میں کام آگیا، اگلے دن کے لئے قناعت و توکل کے علاوہ کچھ پاس نہیں رہا، ہاں بعد میں جب معاشی حالت کچھ بہتر ہوئی اور آمدنی میں کچھ وسعت ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرت کے لئے ایک سال کی غذائی ضروریات کے بقدر غلہ کہ جو حد کفایت سے متجاوز نہیں تھا، اکٹھا بھروا دیا تھا۔ بعض حضرات نے ان دونوں طرح روایتوں میں اس طور پر مطابقت پیدا کی ہے کہ اٰل محمد میں لفظ آل زیادہ ہے جیسا کہ اہل عرب کے اسلوب کلام میں یہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ (آل فلاں) بول کر اس کے لفظی معنی ( فلاں کے اہل بیت) کے بجائے صرف اس فلاں کی ذات کو مراد لیتے ہیں مثلاً اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ آل زید (یعنی زید کے گھر والوں) کے پاس چند روپے بھی نہیں ہیں تو اس جملہ سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ خاص طور پر زید کے پاس چند روپے بھی نہیں ہیں۔ لہٰذا یہ بات بعید از حقیقت نہیں ہوسکتی کہ کبھی بھی دو روز مسلسل جو کی روٹی سے پیٹ نہ بھرنے یا اگلے دن کے لئے غلہ وغیرہ جمع نہ رکھنے کی بات خاص طور سے آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک سے تعلق رکھتی ہو یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ خود آپ ﷺ نے مسلسل دو دن تک پیٹ بھر کر نہ کھایا ہو یا خاص اپنی ذات کے واسطے آنے والے ایک آدھ دن کے لئے رکھ چھوڑا ہو، ہاں اگر آپ ﷺ نے کبھی کبھار ایسا کیا ہو کہ اپنی ازواج مطہرات کے لئے کچھ دنوں یا ایک آدھ سال کی غذائی ضروریات کے بقدر غلہ وغیرہ بھروا کر رکھ دیا ہو تو یہ اس بات کے منافی نہیں ہے۔

5130Mishkaat-al-Masabih

دنیا کی طلب مومن کی شان نہیں

وعن عمر قال دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هو مضطجع على رمال حصير ليس بينه وبينه فراش قد أثر الرمال بجنبه متكئا على وسادة من أدم حشوها ليف . قلت يا رسول الله ادع الله فليوسع على أمتك فإن فارس والروم قد وسع عليهم وهم لا يعبدون الله . فقال أو في هذا أنت يا ابن الخطاب ؟ أولئك قوم عجلت لهم طيبتاتهم في الحياة الدنيا . وفي رواية أما ترضى أن تكون لهم الدنيا ولنا الآخرة ؟ . متفق عليه

حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضور ﷺ کھجور کے پات کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، آپ ﷺ کے بدن مبارک اور چٹائی کے درمیان کوئی بچھونا وغیرہ نہیں تھا جس کی وجہ سے حضور ﷺ کے پہلوئے مبارک پر چٹائی نے بدھیاں ڈال دی تھیں، نیز آپ ﷺ نے سر مبارک کے نیچے جو تکیہ رک رکھا تھا وہ چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، میں نے (سرکار دو عالم کو اس حالت میں دیکھ کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں فرماتے کہ وہ آپ ﷺ کی امت کو مالی وسعت و فراخی عطا فرمائے؟ فارس اور روم کے لوگوں کو کس قدر وسعت و فراخی عطا کی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی نہیں کرتے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ ابن خطاب! یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ کیا تم ابھی تک اسی جگہ ہو ( جہاں سے تم شروع میں چلے تھے اور اتنے عرصہ کے بعد بھی تمہارے انداز فکر اور سوچنے سمجھنے کا معیار اتنا آگے نہیں بڑھا جو تم حقیقت تک پہنچ سکو؟ یاد رکھو یہ اہل فارس و روم (اور تمام کفار) وہ لوگ ہیں جن کو تمام نعمتیں اور خوبیاں بس ان کی دنیاوی زندگی ہی میں دے دی گئی ہیں (جب کہ ہمیشہ کی زندگی یعنی آخرت میں ان کو فقر و افلاس، ذلت و خواری اور خسران و نقصان کے سوا کچھ نہیں ملے گا) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ کیا تم اس پر راضی و مطمئن نہیں ہو کہ ان (اہل فارس و روم اور دیگر کفار) کو دنیا ملے (جو فنا ہوجانے والی ہے) اور ہمیں آخرت ملے (جو اپنی تمام تر نعمتوں کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے یعنی وہی چٹائی سرکار دو عالم ﷺ کا بستر تھا جس کو چارپائی پر ڈال کر اس پر آپ لیٹے ہوئے تھے یا وہ چٹائی زمین پر بچھی ہوئی تھی اور آپ ﷺ اسی کھری چٹائی پر استراحت فرما رہے تھے اور بعض عبارتوں سے یہ بھی مفہوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی جو چارپائی تھی وہی کھجور کی رسیوں سے بنی ہوئی تھی جیسا کہ چارپائیوں کو بان سے بنا جاتا ہے۔ رمال راء کے پیش اور زبر دونوں کے ساتھ اصل میں رمل کی جمع ہے اور مرمول (یعنی بنے ہوئے کے) معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ مخلوق کے معنی میں خلق استعمال ہوتا ہے۔ لیف (لام کے زیر اور راء کے جزم کے ساتھ) کھجور کی چھال کو کہتے ہیں! حاصل یہ کہ حضور ﷺ کا جو تکیہ مبارک تھا وہ چمڑے کا تھا اور اس میں روئی وغیرہ کے بجائے کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، چناچہ جو لوگ غریب و نادار ہوتے ہیں، روئی وغیرہ کا تکیہ بنانا ان کی استطاعت سے باہر ہوتا ہے وہ کھجور کی چھال کو کوٹ کر نرم کرلیتے ہیں اور اس کو تکیہ میں بھر لیتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے امت کے حق میں مالی وسعت اور رزق کی فراخی کی دعا کے لئے حضور ﷺ سے جو درخواست کی، اس کی وجہ یہ تھی کہ جب انہوں نے دیکھا کہ حضور ﷺ فقر کو اختیار کر کے اتنی سخت زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے آپ کو اس حال میں رکھے ہوئے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ حضور ﷺ فقر کو اختیار کر کے اتنی سخت زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے آپ کو اس حال میں رکھے ہوئے تو انہوں نے سوچا کہ اگر پوری امت بھی اسی فقر و افلاس میں مبتلا رہی اور اس کو معاشی زندگی کی غرب و دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تو اس امت کے وہ لوگ جو مضبوط عقیدہ و مزاج کے نہیں ہوں گے، اتنی سخت زندگی کی تاب نہیں رکھ پائیں گے اور ناقابل برداشت دشواریوں میں مبتلا ہوجائیں گے لہٰذا انہوں نے ایسے لوگوں کے مناسب حال یہی جانا کہ انہیں مالی وسعت و فراخی عطا ہوجائے۔ لیکن طیبی (رح) یہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کا اصل مقصد خود حضور ﷺ کی ذات کے لئے مالی وسعت و فراخی کی خواہش کرنا تھا، مگر انہوں نے اس بات کو آنحضرت ﷺ کی شان عظمت کے مناسب نہیں سمجھا کہ براہ راست حضور ﷺ کے لئے اس ادنیٰ اور ناپاک دنیا کی طلب کو ظاہر کریں، جیسا کہ ایک روایت میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ ﷺ ایک نہایت گرم اور تنگ و تاریک کوٹھڑی میں ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں انہوں نے کوٹھڑی کے کونوں میں نظر دوڑائی تو دیکھا کہ بس چمڑے کے دو چار ٹکڑے اور ایک دو باسن پڑے ہوئے ہیں، حضور ﷺ کی غربت و خستہ حالی کا یہ منظر دیکھ کر حضرت عمر ؓ رونے لگے، حضور ﷺ نے پوچھا کہ ابن خطاب کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ﷺ حضور کی حالت دیکھ کر رو رہا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہوتے ہوئے اس حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور قیصر و کسری (جو اللہ کے نافرمان و سرکش بندے ہیں) کس قدر ناز و نعم اور عیش و راحت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے بعد روایت کے وہی الفاظ ہیں جو او فی ہذا یا بن الخطاب سے آخرت، اوپر حدیث میں نقل ہوئے طیبی کی یہ وضاحت بھی اگرچہ حقیقت کے بہت زیادہ قریب ہے لیکن خود حضرت عمر ؓ کے الفاظ فان فارس و روم قد وسع علیہم کے پیش نظر پہلی توضیح زیادہ مناسب ہے۔

5131Mishkaat-al-Masabih

اصحاب صفہ کی ناداری

وعن أبي هريرة قال لقد رأيت سبعين من أصحاب الصفة ما منهم رجل عليه رداء إما إزار وإما كساء قد ربطوا في أعناقهم فمنها ما يبلغ نصف الساقين ومنها ما يبلغ الكعبين فيجمعه بيده كراهية أن ترى عورته . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اصحاب صفہ میں سے ستر افراد کو دیکھا جن میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا کہ اس کے پاس کوئی چادر ہو (جس کو وہ دوسرے کپڑے کے اوپر اوڑھ لے یا کاندھوں پر ڈال لے، گویا ان کو صرف ایک کپڑے کے علاوہ اور کوئی کپڑا میسر نہیں تھا اور وہ کپڑا (بھی) یا تو تہبند تھا یا کملی تھی، جس کو وہ اپنی گردنوں میں باندھ لیتے تھے (اور اس کے ذریعہ اپنے جسم و ستر کو ڈھانکتے تھے) ان تہبند اور کملیوں میں سے بعض ایسے تھے جو صرف آدھی پنڈلیوں تک آتے تھے اور بعض ایسے تھے جو دونوں ٹخنوں تک پہنچ جاتے تھے، چناچہ جب کوئی شخص سجدہ میں جاتا (یا گھٹنے اٹھا کر بیٹھتا) تو وہ اس خوف سے کہ کہیں اس کا ستر نہ کھل جائے اپنے اس تہبند یا کملی کو ہاتھ سے پکڑے رہتا تھا۔ (بخاری)

5132Mishkaat-al-Masabih

اپنی اقتصادی حالت کا مواز نہاس شخص سے کرو جو تم سے بھی کمتر درجہ کا ہے

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نظر أحدكم إلى من فضل عليه في المال والخلق فلينظر إلى من هو أسفل منه متفق عليه . وفي رواية لمسلم قال انظروا إلى من هو أسفل منكم ولا تنظروا إلى من هو قوقكم فهو أجدر أن لا تزدروا نعمة الله عليكم

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں جو شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو اس سے زیادہ مالدار اور اس سے زیادہ اچھی شکل و صورت کا ہو (اور اس کو دیکھ کر اپنی حالت پر رنج و حسرت ہو، اللہ کا شکر ادا کرنے میں سستی و کوتاہی واقع ہوتی ہو اور اس آدمی کے تئیں رشک و حسد کے جذبات پیدا ہوتے ہوں) تو اس کو چاہئے کہ وہ اس آدمی پر نظر ڈال لے جو اس سے کمتر درجہ کا ہے (تاکہ اس کو دیکھ کر اپنی حالت پر اللہ کا شکر ادا کرے اور نعمت عطا کرنے والے پروردگار سے خوش ہو۔ (بخاری تشریح معاشرہ کے افراد کو دنیاوی مال و متاع اور جاہ و حشمت کے تئیں باہمی بغض و حسد، رشک و حسرت اور بددلی و مایوسی سے بچانے کے لئے حضور ﷺ نے بڑا نفسیاتی طریقہ تجویز فرمایا ہے۔ یہ انسان کی جبلت ہے کہ جب وہ کسی شخص کو اپنے سے زیادہ مالدار اور اپنے سے زیادہ اچھی حیثیت و حالت میں دیکھتا ہے تو یا اس کے اندر اس طرح کے جذبات پیدا ہوتے ہیں جو اس کو بددل و مایوس، رنج خور و حسرت زدہ اور تقدیر الٰہی کا شاکی بتا دیتے ہیں یا پھر اس کے اندر حسد و جلن اور ناروا مسابقت کا مادہ پیدا کردیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ جائز و ناجائز ہر طرح سے اپنے آپ کو اوپر لے جانے کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح معاشرہ میں عجیب قسم کی جنگ زرگری اور نقصان دہ سماجی و معاشی دوڑ شروع ہوجاتی ہے، چناچہ حضور ﷺ نے اس صورت حال سے بچنے کے لئے مذکورہ بالا ہدایت فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے کہ جو اس سے زیادہ مالدار ہو، اس سے زیادہ اچھی شکل و صورت کا ہو، اس سے زیادہ جاہ و حشمت رکھتا ہو اور اس سے زیادہ اچھے لباس اور زیادہ اچھے مکان میں رہتا ہو، نیز وہ اس حقیقت سے بیخبر ہو کہ اس آدمی کو حاصل شدہ، یہ تمام دنیاوی خوبیاں دراصل آخرت کے اعتبار سے اس کے حق میں وبال کا درجہ رکھتی ہیں کہ وہ انہی چیزوں کی وجہ سے آخرت میں مواخذہ و عذاب کا مستوجب ہوگا تو اس شخص کو چاہئے کہ وہ اس آدمی کی طرف نظر کرے جو مال و منال و شکل و صورت اور دنیاوی حیثیت و عزت کے اعتبار سے اس سے کمتر درجہ کا ہے، لیکن اپنے عقیدہ و خیال اور گفتار و کردار کے اعتبار سے آخرت میں درجہ عالی کا مستحق ہے۔ اس حدیث کے بین السطور سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معاشرہ میں اکثریت ایسے افراد کی ہوئی ہے جو اقتصادی و سماجی طور پر اعتدال کی حالت میں ہوتے ہیں یعنی نہ تو بہت زیادہ اونچے درجہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور نہ بہت نیچے درجہ سے تعلق رکھتے ہیں (معروف اصطلاح میں ایسے لوگوں کو درمیانہ طبقہ کہا جاتا ہے) یہ اور بات ہے کہ وہ حالت اعتدال یکساں نوعیت نہ رکھتی ہو، بلکہ ایسا ہو کہ کوئی شخص کسی کی بہ نسبت معتدل حالت رکھتا ہو اور کوئی شخص کسی کی بہ نسبت۔ لہٰذا جس شخص نے اپنے سے برتر کی طرف دیکھ کر اپنے سے کمتر کی طرف نظر ڈالی وہ یقینا اچھی حالت کا حامل ہوگا۔ اس حدیث میں اس طرح بھی اشارہ ہے کہ بفرض محال کوئی شخص ہر حیثیت اور ہر اعتبار سے اپنے معاشرہ کے تمام ہی لوگوں پر فضیلت و برتری رکھتا ہو تو اس کے یہ مناسب نہیں ہوگا کہ وہ ان لوگوں کی طرف دیکھے جو اس سے کمتر درجہ کے حامل ہیں، کیونکہ اس صورت میں بعید نہیں کہ اس کے اندر عجب و غرور اور اظہار فخر کا مادہ پیدا ہوجائے لہٰذا اس پر واجب یہ ہوگا کہ وہ جس اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہے اور اپنی فضیلت و برتری کو اپنے بلند کردار کے ذریعہ تواضع و انکساری اور خدمت خلق کا ذریعہ بنا لے نیز جو شخص ایسا ہو کہ کوئی دوسرا آدمی اس سے زیادہ مفلس و قلاش اور اس سے زیادہ غریب و نادار نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرے کہ اس نے مجھے دنیا کے وبال میں مبتلا نہیں کیا اور دنیا داری کے بکھیڑوں اور اس کے غم و فکر سے محفوظ رکھا۔ چناچہ حضرت شبلی (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ وہ جب کسی دنیا دار کو دیکھتے تو (اس کے وبال کے خوف سے) بیساختہ ان کی زبان سے نکلتا۔ اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عفو عافیت کا طلب گار ہوں غربت و افلاس کی تنگی و سختی اور فقر و فاقہ کی صعوبتیں حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے، اس کا اندازہ اس حکایت سے کیا جاسکتا ہے کہ ایک دن ایک بہت بزرگ و ولی اور عارف باللہ اپنی مجلس میں حاضرین کو وعظ و نصیحت سے مستفید فرما رہے تھے کہ ایک نہایت مفلس و نادار شخص کھڑا ہوا اور شکوہ کرنے لگا کہ حضرت! میں نے اتنے طویل عرصہ سے نہ تو کسی کے سامنے اور نہ کسی سے چھپ کر کچھ کھایا پیا ہے اور نہایت اخلاص اور کمال استقامت کے ساتھ شدت بھوک کی صعوبتوں کو برداشت کر رہا ہوں۔ ان بزرگ نے فرمایا۔ ارے دشمن خدا! تو کتنا بڑا جھوٹ بول رہا ہے؟ تجھے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ شدت بھوک کی صعوبت میں اپنے انہی بندوں کو مبتلا کرتا ہے جو اس کے رسول، نبی اور ولی ہوتے ہیں اگر تو ایسے ہی بندگان اللہ میں سے ہوتا تو اس پوشیدہ راز کو ہرگز ظاہر نہ کرتا اور اللہ کی اس نعمت کو لوگوں سے چھپاتا۔ ان ساری باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ مومن کو جب سلامتی طبع اور حسن استقلال کی دولت مل جاتی ہے اور اس کا دین ہر طرح کے نقصان و خلل سے محفوظ ہوتا ہے تو پھر وہ نہ مال و متاع کی پرواہ کرتا ہے اور نہ جاہ و حشمت سے محرومی اس کو ملول کرتی ہے نیز زمانہ حال یا مستقبل میں اس کو جن مصیبتوں اور پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے وہ ان کو اللہ کی طرف سے ایک ایسی نعمت سمجھ کر کہ جو اس کو آخرت کی سعاتوں اور کامیابیوں سے ہمکنار کرنے والی ہے، صبر و رضا اور شکر و اطمینان کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔ منقول ہے کہ امام غزالی کے ایک مرید کو کسی نے مارا پیٹا اور قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کیا تو اس نے امام غزالی سے شکایت کی، انہوں نے فرمایا عزیزمن! اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو بس اتنے ہی میں ٹل گئی ورنہ بلا تو کبھی اس سے زیادہ تکلیف دہ صورت میں نازل ہوتی ہے۔ کچھ دنوں کے بعد وہی مرید کچھ دوسرے لوگوں کے چکر میں پھنس گیا جنہوں نے اس کو ایک کنوئیں میں بند کردیا۔ جب وہ کسی طرح سے نجات پا کر حضرت امام موصوف کی خدمت میں پہنچا اور ان سے اس حادثہ کی شکایت کی تو انہوں نے وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا، پھر اتفاق کی بات کہ کچھ عرصہ کے بعد ایک یہودی کے چنگل میں جا پھنسا، اس یہودی نے یہ سلوک کیا کہ اس کو ایک زنجیر میں باندھ کر اپنے پاس ڈال لیا اور ہر لمحہ کوئی نہ کوئی ایذاء اس کو پہنچاتا رہا۔ اس مرتبہ اس شخص کو نہایت تکلیف و اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور بہت دل گرفتہ ہوا کہ کیا دنیا بھر کی مصیبتیں میرے ہی لئے رہ گئی ہیں، آخرکار جب اس یہودی سے بھی نجات پا کر امام غزالی کی خدمت میں پہنچا اور جن مصائب سے دوچار ہوا تھا ان کی شکایت کی، تو حضرت امام موصوف نے پہلے کی طرح پھر صبر و شکر کی تلقین کی! اب بات چونکہ اس کی برداشت سے باہر ہوگئی تھی لہذا نہایت بیقراری کے عالم میں کہنے لگا کہ حضرت! اب تک جن اذیتوں اور تکلیفوں سے دوچار ہوچکا ہوں کیا ان سے بھی زیادہ سخت کوئی بلا باقی رہ گئی ہے؟ حضرت امام غزالی نے جواب دیا۔ ہاں! اس سے بھی سخت بلا ہے اور وہ یہ کہ (خدا نخواستہ) تمہاری گردن میں کفر کا طوق پڑجائے۔ حاصل یہ کہ انسان کے لئے آلات اور بلاؤں کی کوئی حد نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی آفت و بلا میں مبتلا ہو تو صرف یہ کہ اس کو اس آفت و بلا کا صبر و استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہئے بلکہ اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہئے کہ اس نے اس سے بھی سخت کسی آفت و مصیبت میں مبتلا نہیں کیا۔

5133Mishkaat-al-Masabih

جنت میں فقراء کا داخلہ اغنیاء سے پہلے ہوگا

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخل الفقراء الجنة قبل الأغنياء بخمسمائة عام نصف يوم . رواه الترمذي

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ فقراء جنت میں اغنیاء سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے جو آدھے دن کے برابر ہے۔ (رواہ البخاری) تشریح آدھے دن سے مراد قیامت کا آدھا دن ہے مطلب یہ ہے کہ وہ پانچ سو سال قیامت کے آدھے دن کے برابر ہوں گے۔ اور قیامت کے دن کی مدت طوالت، دنیاوی شب و روز کے اعتبار سے ایک ہزار سال کے برابر ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ آیت (وان یوما عند ربک کا لف سنۃ مماتعدون)، رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک اور جگہ یہ فرمایا ہے کہ آیت ( فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُه خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَ نَةٍ ) 70۔ المعارج 4) اور جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، تو جاننا چاہئے کہ پہلی آیت کہ جس سے قیامت کے دن کا ایک ہزار سال کے برابر ہونا ثابت ہوتا ہے) عمومیت کی حامل ہے۔ جب کہ یہ دوسری آیت (کہ جس سے قیامت کے دن کا پچاس ہزار سال کے برابر ہونا ثابت ہوتا ہے) ایک خاص نوعیت کی طرف اشارہ کرتی ہے! یعنی اصل بات تو یہی ہے کہ دنیاوی حساب کے اعتبار سے قیامت کا دن ایک ہزار سال کے برابر ہوگا اور اسی کو پہلی آیت کے ذریعہ واضح فرمایا گیا ہے۔ لیکن وہ قیامت کے دن چونکہ سختیوں اور شدت کا دن ہوگا اور جو شخص دنیا میں دین و ہدایت سے جتنا دور ہوگا اس کو اس دن کی سختیار اسی قدر زیادہ محسوس ہوگی اس لئے کفار کے حق میں اس دن کی سختیاں اس قدر زیادہ ہوں گی کہ اپنی درازی و سختی کے اعتبار سے وہ دن ان کو پچاس ہزار سال کے برابر معلوم ہوگا! یہ دوسری آیت یہی مفہوم بیان کرتی ہے کہ قیامت کا دن (اگرچہ ایک ہزار سال کے برابر ہوگا مگر سختیوں اور شدائد کی بنا پر) کفار کو وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر معلوم ہوگا جیسا کہ مومنین اور نیک کاروں کے حق میں وہ دن گویا لپیٹ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے برابر اس دن کی طوالت ان کو ایک ساعت کے بقدر معلوم ہوگی۔ اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔ آیت (فَاِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُوْرِ۔ فَذٰلِكَ يَوْمَى ِذٍ يَّوْمٌ عَسِيْرٌ۔ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ غَيْرُ يَسِيْرٍ 10) 74۔ المدثر 8) اس حدیث کے ضمن میں ایک اشکال یہ بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث بظاہر اس حدیث کے معارض ہے جو جنت میں فقراء کے پہلے داخل ہونے کی مدت کو چالیس سال ظاہر کرتی ہے؟ لہٰذا شارحین نے ان دونوں حدیثوں میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے یہ بیان کیا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ پچھلی حدیث میں اغنیاء سے مراد اغنیاء مہاجرین ہوں (جیسا کہ اس حدیث کی تشریح میں بھی اس طرف اشارہ کیا جا چکا ہے) اس صورت میں اس حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ فقراء ان اغنیاء سے کہ ان کا تعلق مہاجر صحابہ سے ہے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے، جب یہاں اس حدیث میں اغنیاء سے مراد وہ اغنیاء ہیں جو مہاجرین میں سے ہوں گے۔ اس وضاحت سے دونوں حدیثوں کے درمیان کوئی تعارض و تضاد باقی نہیں رہتا۔ لیکن جیسا کہ بعض شارحین نے لکھا ہے کہ ان دونوں حدیثوں کے درمیان مذکورہ تعارض کو ختم کرنے کے لئے یہ وضاحت زیادہ مناسب و موزوں ہے کہ دونوں عدد، یعنی چالیس اور پانچ سو سے مراد تحدید نہیں ہے۔ بلکہ مطلقا اس زمانی فرق کو بیان کرنا مقصود ہے جو جنت میں داخل ہونے کے سلسلہ میں فقراء اور اغنیاء کے درمیان ہوگا۔ چناچہ اس فرق کو ظاہر کرنے کے لئے کہ فقراء جنت میں اغنیاء سے پہلے جائیں گے از راہ تفنن کسی موقع پر تو چالیس سال فرمایا گیا ہے۔ اور کسی موقع پر پانچ سو سال کے الفاظ ذکر فرمائے گئے ہیں جب کہ مقصود دونوں کا ایک ہی ہے یا یہ کہ پہلے حضور ﷺ کو بذریعہ وحی یہی معلوم ہوا ہوگا کہ جنت میں فقراء کے اغنیاء سے پہلے جانے کی مدت چالیس سال ہوگی، چناچہ حضور ﷺ نے اس وحی کے مطابق چالیس سال کا ذکر فرمایا لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی برکت سے فقراء کے حال پر خصوصی فضل فرماتے ہوئے اور ان کی مزید تسلی کے لئے یہ خبر دی کہ فقراء کو جنت میں اغنیاء سے پانچ سو سال پہلے داخل کیا جائے گا۔ چناچہ حضور ﷺ نے جب دوسری مرتبہ اس بات کا ذکر کیا تو اس میں پانچ سو سال کا ذکر فرمایا۔ یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان دونوں حدیثوں کے مفہوم میں جو اختلاف نظر آتا ہے اس کا تعلق دراصل خود فقراء کی ذات و شخصیت کی غیر یکسانیت سے ہے یعنی ظاہر ہے کہ ہر غریب و نادار اور ہر فقیر مسلمان ایک ہی حالت نہیں رکھتا، بعض فقراء تو ایسے ہوتے ہیں جو صبر و رضا اور شکر کے درجہ کمال پر ہوتے ہیں اور بعض فقراء وہ ہیں جن میں صبر و رضا اور شکر کا مادہ کم ہوتا ہے لہٰذا پانچ سو سال والی حدیث کا تعلق اول الذکر فقراء سے اور چالیس سال والی حدیث کا تعلق موخر الذکر فقراء سے۔ یہ تاویل زیادہ مناسب اور موزوں بھی ہے اور اس کی تائید جامع الاصول کی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے جس میں ان دونوں حدیثوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے یہ کہا گیا ہے کہ جس حدیث میں چالیس سال کا ذکر ہے اس کی مراد یہ ہے کہ دنیاوی لذتوں اور نعمتوں کی خواہش رکھنے والا فقیر، حریص غنی سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوگا اور جس حدیث میں پانچ سو سال کا ذکر ہے اس کی مراد یہ ہے کہ دنیاوی لذتوں و نعمتوں سے بالکل بےنیاز اور زاہد فقیر دنیا دار غنی سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوگا۔

5134Mishkaat-al-Masabih

مفلس ومسکین کی فضیلت

وعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني في زمرة المساكين فقالت عائشة لم يا رسول الله ؟ قال إنهم يدخلون الجنة قبل أغنيائهم بأربعين خريفا يا عائشة لا تردي المسكين ولو بشق تمرة يا عائشة أحبي المساكين وقربيهم فإن الله يقربك يوم القيامة رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان وروى ابن ماجه عن أبي سعيد إلى قوله زمرة المساكين

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ دعا فرمائی۔ اے اللہ مجھ کو مسکین بنا کر زندہ رکھ، مسکینی ہی کی حالت میں مجھے موت دے اور مسکینوں ہی کے زمرہ میں میرا حشر فرما۔ حضرت عائشہ ؓ نے حضور ﷺ کو یہ دعا فرماتے ہوئے سنا تو کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ ایسی دعا کیوں کرتے ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا۔ اس لئے کہ مساکین اپنے دوسرے فضائل و خوصوصیات اور حسن اخلاق و کردار کی وجہ سے آخرت کی سعادتوں اور نعمتوں سے تو بہرہ ور ہوں ہی گے لیکن اس سے قطع نظر ان کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ وہ دولتمندوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے! دیکھو عائشہ! کسی مسکین کو اپنے دروازہ سے ناامید نہ جانے دینا بلکہ ہر حالت میں اس کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کرنا اگرچہ اس کو دینے کے لئے تمہارے پاس کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو عائشہ ؓ اپنے دل میں مسکینوں کی محبت رکھ اور ان کو اپنی مجلسوں اور محفلوں کی قربت سے نواز یعنی ان کو حقیر کمتر جان کر اپنے یہاں آنے جانے سے مت روکو اگر تم ایسا کروگی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی قربت سے نوازے گا کیونکہ فقراء و مساکین کے ساتھ محبت ہمدردی کا برتاؤ کرنا اور ان کو اپنے قریب آنے دینا اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔ ترمذی، بیہقی اور ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت ابوسعید ؓ سے صرف زمرۃ المساکین تک نقل کیا ہے (یعنی ان کی روایت میں حضرت عائشہ ؓ کا سوال و جواب اور حدیث کے باقی جملے نہیں ہیں) تشریح مسکین لفظ مسکنت سے نکلا ہے جس کے معنی تواضح کمزوری اور مفلسی کے ہیں۔ ویسے یہ لفظوں سکون اور سکینۃ سے بھی مشتق قرار دیا جاسکتا ہے، جس کے معنی وقار، اطمینان اور تقدیر الٰہی کے اقرار و قبول کے ہیں اور یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ شرعی اصطلاح میں مسکین اس شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا جس کے پاس اتنا نہ ہو جو اس کے اہل و عیال کی ضروریات زندگی کو پورا کرسکے۔ مذکورہ بالا ارشاد گرامی میں امت کے لئے یہ تعلیم و تلقین ہے کہ فقراء و مساکین کی فضیلت کو پہچانا جائے، ان کے ساتھ محبت و ہمدردی کا برتاؤ کیا جائے اور ان کے ساتھ ہم نشینی و قربت اختیار کی جائے تاکہ ان کی برکت مسلمانوں کو پہنچے۔ نیز اس حدیث میں فقراء و مساکین کے لئے یہ بڑی تسلی پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے حالات کی تنگی و سختی سے بددل و مایوس نہ ہوں بلکہ اپنے ان بلند درجات سے آگاہ ہوجائیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس فانی دنیا کی زوال پذیر نعمتوں اور لذتوں سے محرومی کے عوض ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والے جہاں یعنی آخرت کی زندگی کے لئے عطا فرما دئیے ہیں۔ رہی یہ بات کہ حضور ﷺ کا اپنے حق میں مسکین بننے کی دعا کرنا کیا مفہوم رکھتا تھا، تو اس بارے میں یہ کہنا مناسب ہے کہ اس دعا سے حضور ﷺ کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو بس اتنی روزی دے جو گزارہ کے بقدر ہو اور جس سے زندگی کا وجود باقی رہے، نیز آپ کو دنیاوی مال و دولت اور اس کی نعمتوں و لذتوں میں مشغول نہ کرے، کیونکہ مال و دولت کی کثرت مقربین کے حق میں سخت وبال کا درجہ رکھتی ہے۔ منقول ہے کہ ایک مسلمان بادشاہ کہیں جا رہا تھا کہ راستہ میں اس کا گزر فقراء و صالحین کی ایک جماعت پر ہوا، ان لوگوں نے بادشاہ کے تئیں کسی التفات کا اظہار نہیں کیا اور نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے، بادشاہ کو یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی، اس نے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے جواب میں جو بات کہی اس کو یہاں نقل کرنا مقصود ہے، انہوں نے کہا ہم وہ لوگ ہیں کہ جن کے ساتھ محبت، ترک دنیا کا سبب ہے اور جن کے ساتھ عداوت ترک عقبی کا سبب ہے بادشاہ نے یہ جواب سنا تو ان سے دارو گیر کئے بغیر آگے بڑھ گیا اور کہنے لگا کہ ہم نہ تمہاری محبت حاصل کرسکتے ہیں اور نہ تمہارے ساتھ عداوت رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا اپنے حق میں مذکورہ دعا فرمانا اور پھر حضرت عائشہ ؓ کے پوچھنے پر اس دعا کی یہ توجیہ فرمانا کہ میرا مقصد وہ فضل و شرف حاصل کرنا ہے جو قیامت کے دن فقراء کو حاصل ہوگا وہ دولتمندوں سے چالیس سال پ ہے جنت میں دخل ہوں گے، یہ وہم پیدا کرتا ہے کہ فقراء بلا استثناء تمام دولتمندوں سے پہلے جنت میں جائیں گے خواہ وہ دولتمند انبیاء ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن اس سلسلہ میں زیادہ قوی بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مذکورہ دعا اور اس کی توجیہہ میں مذکورہ ارشاد کا اصل مقصد ایک تو محض فقراء و مساکین کے فضل وشرف کو ظاہر کرنا ہے اور دوسرے اپنی اس طلب و خواہش کو ظاہر کرنا ہے کہ مجھے تمام انبیاء سے پہلے جنت میں داخل ہونے کی سعادت حاصل ہو خواہ وہ انبیاء دولتمند ہوں یا فقراء پس حضور ﷺ کا اپنے بارے میں فقر و فاقہ کی زندگی کی دعا کرنا فقراء غیر انبیاء سے پیچھے رہ جانے کے خوف سے نہیں بلکہ ان انبیاء سے پیچھے رہ جانے کے خوف کی بناء پر تھا جن کی زندگی فقر و فاقہ سے معمور تھی! اس وضاحت سے مذکورہ بالا وہم محل نظر ہوجاتا ہے۔ یا عائشہ الا تردی المسکین الخ (عائشہ کسی مسکین کو اپنے دروازہ سے ناامید نہ جانے دینا) کے ذریعہ حضور ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو یہ نصیحت فرمائی کہ جو مسکین و فقیر تمہارے پاس اپنی حاجت لے کر آئے اس کو کمتر و حقیر نہ جانو اور اس کو بےمراد واپس نہ کرو، بلکہ اس کے ساتھ محبت و نرمی سے پیش آؤ، ان کی حالت پر رحم کھاؤ اور جو کچھ میسر ہو اس کے دامن مراد میں ڈال دو، خواہ وہ کتنی ہی کمتر چیز کیوں نہ ہو اور اگر تمہارے پاس ایسی کوئی بھی چیز نہ ہو جس کے ذریعہ تم اس کا سوال پورا کرسکو تو اس صورت میں نہایت نرمی و بھلائی کے ساتھ معذرت کرو اور اس کو اچھے انداز میں واپس کرو۔ ابوالشیخ اور بیہقی نے حضرت عطاء بن ابی رباح سے نقل کیا ہے انہوں نے مشہور صحابی حضرت ابوسعید ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگو! تمہاری تنگدستی و ناداری تمہیں اس بات پر نہ اکسانے پائے کہ تم اپنی روزی ناجائز وسائل و ذرائع سے حاصل کرنے کی طلب رکھنے لگو، (یعنی اگر اللہ نے تمہیں تنگدستی و ناداری میں مبتلا کیا تو تم اپنی اس حالت پر صابر و شاکر رہ کر عزم و حوصلہ اور کردار کی پختگی کے ساتھ معاشی شدائد کا مقابلہ کرو، ایسا نہ ہو کہ روزی حاصل کرنے کے لئے ایسے ذرائع اختیار کرو جو شرع احکام کے خلاف اور انسانی اخلاق و کردار کی عظمت کے منافی ہیں) کیونکہ میں نے رسول کریم ﷺ کو اپنے بارے میں یہ دعا فرماتے سنا ہے کہ اے اللہ! تو مجھے فقر و ناداری کی حالت میں موت دے، دولتمندی کی حالت میں موت نہ دے اور میرا حشر مسکینوں کے زمرہ میں فرما پس یقینا سب سے بڑا بدبخت وہ شخص ہے جو دنیا کے فقر و افلاس کا بھی شکار ہو اور آخرت کے عذاب کا بھی مستوجب قرار پائے (یعنی جو شخص فقر و افلاس کی سختیوں سے گھبرا کر ناجائز طور پر اپنی روزی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا اس سے بڑا بدنصیب اور کون ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے فقر و افلاس کی وجہ سے دنیا کی نعمتوں سے بھی محروم رہا اور حصول معاش کی راہ میں حرام ناجائز امور کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے آخرت کے عذاب کا بھی مستوجب قرار پایا۔ ملا علی قاری (رح) نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ اگر اس ارشاد گرامی کے علاوہ کوئی اور دلیل نہ بھی ہوتی تو یہی حدیث اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی تھی کہ صبر کرنے والا فقیر و مسکین، شکر گزار دولت مند سے افضل ہے۔ نیز ملاعی قاری (رح) نے اس موقع پر ان دو حدیثوں کا بھی ذکر کیا ہے جو فقر و ناداری کے سلسلہ میں عوام میں بہت مشہور ہیں، ان میں سے ایک حدیث (الفقر فخری وبہ افتخر) ہے ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ حفاظ جیسے علامہ عسقلانی وغیرہ نے صراحت کی ہے کہ یہ حدیث بالکل بےاصل ہے اور اس کی کوئی سند نہیں ہے۔ دوسری حدیث کا دا لفقر ان یکون کفرا ہے اس کے بارے میں محدیثین نے وضاحت کی ہے کہ یہ حدیث اول تو یقینی طور پر ضعیف ہے دوسرے اگر اس کو صحیح مان بھی لیا جائے تو اس کا محمول قلبی فقر و افلاس ہے جو جزع و فزع، شکوہ شکایت، قضا و قدر پر بےاطمینانی اور اللہ کی بنائی ہوئی قسمت پر اعتراض کرنے کے باعث ہوتا ہے، ورنہ جہاں تک معاشی فقر و افلاس کا تعلق ہے تو وہ ایک ایسی چیز ہے جو اللہ کی طرف سے انہی بندوں کو نصیب ہوتی ہے جن کو وہ آخرت میں بلند درجات پر پہنچانا چاہتا ہے اس لئے ایک روایت میں فرمایا گیا ہے کہ الفقر شین عندالناس وزین عند اللہ یوم القیامہ (دیلمی) یعنی فقر و افلاس لوگوں کی نظر میں تو ایک عیب و برائی ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک زینت دینے والی چیز ہے۔

5135Mishkaat-al-Masabih

کمزور ونادار مسلمانوں کی برکت

وعن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ابغوني في ضعفائكم فإنما ترزقون أو تنصرون بضعفائكم . رواه أبو داود

حضرت ابودرداء ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ تم لوگ مجھے اپنے کمزور لوگوں میں تلاش کرو کیونکہ تمہیں رزق کا دیا جانا یا یہ فرمایا کہ تمہیں اپنے دشمن کے مقابلہ پر مدد کا ملنا انہی لوگوں کی برکت سے ہے جو تم میں کمزور ہیں۔ (ابو داؤد) تشریح کمزور لوگوں سے مراد فقراء و مساکین اور نادار لوگ ہیں اور ان میں تلاش کرنے کا مطلب، ان لوگوں کی مدد و اعانت اور خبر گیری کے ذریعہ ان کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کرنا ہے۔ یا کمزور لوگوں سے مراد مظلوم ہیں کہ اگرچہ وہ دولتمند ہی کیوں نہ ہوں اور مطلب ظلم کے پنجہ سے نکلنے میں ان کی ہر طرح کی مدد کرنا ہے۔ حاصل یہ کہ اس ارشاد گرامی ذریعہ کے حضور ﷺ نے یہ واضح فرمایا ہے کہ اگر تم لوگ میری رضا مندی و خوشنودی کے طلب گار ہو تو اپنی مدد و اعانت اور حسن سلوک کے ذریعہ ان لوگوں کی خوشنودی حاصل کرو جو تم میں کمزور نادار ہیں۔ او تنصرون میں لفظ او تنویع کے لئے ہے اور اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں او کے بجائے حرف واؤ ہے، تاہم یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں حرف او کے ذریعہ راوی کے شک کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ حضور ﷺ نے یا تو لفظ ترزقون فرمایا تھا یا لفظ تنصرون چناچہ اوپر ترجمہ میں اس احتمال کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ انہی لوگوں کی برکت سے ہے جو تم میں کمزور ہیں کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ جو کمزور و نادار نظر آتے ہیں اور ہر طرح کی دنیاوی طاقت و حیثیت سے خالی معلوم ہوتے ہیں، ان کا وجود پوری کائنات کے لئے خیر و برکت کا باعث اور ان کے ساتھ احسان و حسن سلوک تمام لوگوں کی بھلائی و بہتری کا ضامن ہوتا ہے کیونکہ ان لوگوں میں وہ بڑے بڑے اقطاب و اوتاد بھی ہوتے ہیں جو اگرچہ دنیاداروں کی نظر میں اپنی اصل حیثیت کے ساتھ متعارف نہیں ہوتے مگر حقیقت میں سارے عالم کا نظم کائنات انہی کی وجہ سے استوار ہوتا ہے بلکہ بعض حالات میں مختلف علاقوں اور آبادیوں کا نظم و انصرام روحانی طور پر اللہ کی طرف سے ان کے سپرد ہوتا ہے ان لوگوں کا در و بست ان کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ ابن ملک (رح) نے اس حدیث کی وضاحت میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ کے مذکورہ ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ (اگر مجھ کو پانا چاہتے ہو تو) مجھے اپنے کمزور نادار لوگوں میں تلاش کرو بایں طور کہ تمہارے اوپر ان کے حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کی محافظت کرو اور ان کی دل جوئی میں مشغول رہو کیونکہ میں ان کے ساتھ بعض اوقات تو جسمانی طور پر ہوتا ہوں دل و جان سے تمام اوقات میں ہوتا ہوں لہٰذا جس شخص نے ان کا احترام کیا اس نے گویا میرا اکرام و احترام کیا اور جس شخص نے ان کو (خواہ جسمانی خواہ روحانی طور پر) تکلیف و ایذاء پہنچائی اس نے گویا مجھ کو تکلیف و ایذاء پہنچائی، اس کی تائید اس حدیث قدسی سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، حدیث (من عادلی ولیا فقد بارزنی بالحرب) یعنی جس شخص نے میرے ولی کے ساتھ عداوت دشمنی اختیار کی وہ گویا مجھ سے لڑنے کے لئے میدان میں آگیا۔

5136Mishkaat-al-Masabih

کمزور ونادار مسلمانوں کی برکت

وعن أمية بن خالد بن عبد الله بن أسيد عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يستفتح بصعاليك المهاجرين . رواه في شرح السنة

حضرت امیہ ؓ بن خالد بن عبداللہ بن اسید نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ (اللہ تعالیٰ سے کفار کے مقابلہ) فتح حاصل ہونے کے لئے درخواست کرتے تو فقراء مہاجرین کی برکت کے ذریعہ دعا مانگتے۔ (شرح السنہ) تشریح صعالیک صعلوک کی جمع ہے، جیسا کہ عصفور کی جمع عصافیر ہے اور صعلوک کے معنی ہیں فقیر و مسکین اور کمزور و نادار۔ ملا علی قاری نے اس حدیث کا مطلب یہ لکھا ہے کہ حضور ﷺ کفار سے مقابلہ آرائی کے وقت اللہ تعالیٰ سے فتح حاصل ہونے کی جو درخواست کرتے اس میں فقراء و مہاجرین کا واسطہ اور ان کی دعاؤں کی برکت کا ذریعہ اختیار فرماتے۔ اس کے بعد انہوں نے ابن ملک (رح) سے یہ نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ سے فقراء مہاجرین کا واسطہ اختیار کر کے فتح کی درخواست فرماتے بایں طور کہ آپ ﷺ اس طرح دعا فرمایا کرتے تھے۔ اللہم انصرنا علی الاعداء بعبادک الفقراء المہاجرین۔ حضرت شیخ عبدالحق دہلوی (رح) نے بھی یہ مطلب بیان کیا ہے اور پھر لکھا ہے کہ یہ حدیث فقراء و نادار مسلمانوں کی اس عظمت و فضیلت کو ظاہر کرتی ہے جو سرکار دو عالم ﷺ نے ان کے لئے ثابت فرمائی، چناچہ آپ ﷺ نے یہ شرف صرف فقراء و مساکین کو عطا فرمایا کہ ان کی برکت کو واسطہ اور وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے فتح و نصرت کی درخواست کرتے تھے ع شاہان چہ عجب گر بہ نوازند گدارا

5137Mishkaat-al-Masabih

کافروں کی خوشحالی پر رشک نہ کرو

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تغبطن فاجرا بنعمة فإنك لا تدري ما هو لاق بعد موته إن له عند الله قاتلا لا يموت . يعني النار . رواه في شرح السنة

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی فاجر (یعنی کافر یا فاسق) کو دنیاوی نعمتوں یعنی جاہ و حشمت اور دولت سے مالا مال دیکھ کر اس پر رشک نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد قبر میں یا حشر میں اس کو کیا کیا پیش آنے والا ہے (یعنی وہ یہاں تو بیشک دنیاوی نعمتوں سے مالا مال ہے لیکن اس کے برعکس آخرت میں طرح طرح کے عذاب اور سختیوں سے دوچار ہوگا اور یاد رکھو فاجر کے لئے اللہ کے یہاں ایک ایسا قاتل ہے جس کو موت اور فنا نہیں ہے اور اس قاتل سے حضور ﷺ کی مراد آگ ہے۔ (شرح السنہ) تشریح ایک ایسا قاتل ہے الخ یعنی اللہ تعالیٰ نے کفار و فساق کے لئے ایک ایسی چیز تیار کر رکھی ہے جو ان کو سخت عذاب دے گی، ہلاک کرے گی اور طرح طرح کی اذیت نا کیوں میں مبتلا کرے گی اور اس چیز کی شان یہ ہے کہ خود اس کو موت و فنا نہیں ہے۔ بلکہ ہمیشہ موجود رہے گی۔ یعنی النار کے الفاظ ان راوی کے ہیں جنہوں نے اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے اور ان کا نام نامی حضرت عبداللہ بن ابی مریم ہے، گویا انہوں نے ان الفاظ کے ذریعہ یہ وضاحت کی ہے کہ حضور ﷺ نے لفظ قاتل کے ذریعہ جس چیز کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ دوزخ کی آگ ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ ایسے کافر و فاسق کو دیکھ کر کہ جو زیادہ اولاد رکھتا ہے، یا زیادہ جاہ و حشمت کا مالک ہے یا مال و دولت کی فراوانی رکھتا ہے اور یا دوسری دنیاوی نعمتوں سے مالا مال ہے تو اس پر رشک نہ کیا جائے اور اس تمنا کو اپنے دل میں جگہ نہ دی جائے کہ کاش اسی طرح کی نعمتیں ہمیں بھی حاصل ہوں۔

5138Mishkaat-al-Masabih

دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے

وعن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الدنيا سجن المؤمن وسنته وإذا فارق الدنيا فارق السجن والسنة . رواه في شرح السنة

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور قحط ہے جب وہ مومن دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو گویا قید خانہ اور قحط سے نجات پاتا ہے۔ (شرح السنہ) تشریح قیدخانہ اور قحط کا مطلب یہ ہے کہ مومن یہاں ہمیشہ طرح طرح کی تنگی و سختی کا شکار رہتا ہے اور معاشی پریشان حالیوں میں بسر اوقات کرتا ہے اور اگر کسی مومن کو یہاں کی خوشحالی میسر بھی ہو تو ان نعمتوں کی نسبت کہ جو اس کو آخرت میں حاصل ہونے والی ہیں، یہ دنیا پھر بھی اس کے لئے قید خانہ اور قحط زدہ جگہ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی یا یہ مراد ہے کہ مخلص و عبادت گزار مومن چونکہ اپنے آپ کو ہمیشہ طاعات و عبادات کے مشقتوں اور ریاضت و مجاہدہ کی سختیوں میں مشغول رکھتا ہے۔ عیش و راحت کو اپنی زندگی میں راہ نہیں پانے دیتا اور ہر لمحہ اس راہ شوق پر گامزن رہتا ہے کہ اس محنت و مشقت بھری دنیا سے نجات پا کر دارالبقاء کی راہ پکڑے۔ اس اعتبار سے یہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور قحط زدہ جگہ سے کم صبر آزما نہیں ہوتی، ایک روایت میں یوں فرمایا گیا لایخلو المومن من قلۃ او علۃ او ذلۃ وقد یجتمع للمومن الکامل جمیع ذلک یعنی ایسا کوئی مومن نہیں جو یا تو مال کی کمی، یا بیماری اور یا ذلت و خواری سے خالی ہو اور بعض اوقات مومن کامل میں یہ سب چیزیں جمع ہوجاتی ہیں۔

5139Mishkaat-al-Masabih

جن کو اللہ اپنا محبوب بنانا چاہتا ہے ان کو دنیاوی مال و دولت سے بچاتا ہے

وعن قتادة بن النعمان أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إذا أحب الله عبداحماه الدنيا كما يظل أحدكم يحمي سقيمه الماء . رواه أحمد والترمذي

حضرت قتادہ بن نعمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو دوست رکھتا ہے تو اس کو دنیا سے بچاتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے مریض کو پانی سے بچاتا ہے۔ (احمد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس طرح تمہارا کوئی عزیز و متعلق جب کسی ایسے مرض میں مبتلا ہوجائے جس میں پانی کا استعمال سخت نقصان پہنچاتا ہے جیسے استسقاء اور ضعف معدہ وغیرہ اور تمہیں اس کی زندگی پیاری ہوتی ہے تو تم اس بات کی پوری کوشش کرتے ہو کہ وہ مریض پانی کے استعمال سے دور رہے تاکہ صحتیابی سے جلد ہمکنار ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جس بندے کو اپنا محبوب بنانا اور اس کو آخرت کے بلند درجات پر پہنچانا چاہتا ہے اس کو دنیاوی مال و دولت، جاہ و منصب اور اسے ہر چیز سے دور رکھتا ہے جو اس کے دین کو نقصان پہنچانے اور عقبی میں اس کے درجات کو کم کرنے کا سبب بنے۔ اشرف (رح) نے بھی اسی طرح کی بات کہی ہے اور لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو دنیاوی مال و جاہ اور یہاں کی کوئی ایسی چیز نہیں دیتا جو اس کی دینی و اخروی زندگی کی زینت و خوبی کو داغدار کر دے، تاکہ اس کا دل دنیا اور دنیا کی چیزوں کی محبت و خواہش کے مرض میں مبتلا نہ ہو۔