رقاق رقیق کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں نرم، پتلا۔ یہاں سے کتاب کے جو ابواب شروع ہو رہے ہیں ان کو کتاب الرقاق سے اس لئے موسوم کیا گیا ہے کہ ان ابواب میں وہ احادیث منقول ہیں جو دل کو نرم کرتی ہیں، طبیعت میں رقت پیدا کرتی ہیں اور قوائے فکروعمل کو اس طرح متاثر کرتی ہیں کہ دنیا سے زہد وبے اعتنائی آخرت سے رغبت پیدا ہوجاتی ہے۔
عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس : الصحة والفراغ . رواه البخاري
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دو نعمتیں ہیں کہ ان کے معاملہ میں بہت سے لوگ فریب اور ٹوٹا کھائے ہوئے ہیں (اور وہ دونوں نعمتیں) تندرستی اور فراغت ہیں۔ (بخاری)
تشریح
مذکورہ نعمتوں میں سے ایک نعمت تو تندرستی ہے یعنی جسم وبدن کا امراض سے محفوظ رہنا اور دوسری نعمت ہے اوقات کا غم روز گار کے مشاغل درمصروفیات اور تفکرات وتشویشات سے فارغ وخالی ہونا، چناچہ دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اپنی غفلت لاپرواہی کی بنا پر ان دونوں نعمتوں کی قدر نہیں کرر ہے اور ان کے معاملہ میں اپنے نفس سے فریب کھا کر ان کو مفت میں ہاتھ سے جانے دیتے ہیں جیسا کہ کوئی شخص خریدوفروخت کے معاملہ میں کسی کے فریب اور دھوکہ کا شکار ہو کر اپنے مال ومتاع کو مفت میں گنوا دیتا ہے اور نقصان برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا اس ارشاد گرامی میں ان لوگوں کے تئیں حسرت و افسوس کا اظہار ہے جو ان نعمتوں سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھاتے، بایں طور کہ نہ تو اپنی صحت و تندرستی کے زمانہ دین ودنیا کی بھلائی و فائدہ کے کام کرتے ہیں اور نہ فرصت کے اوقات کو غنیمت جان کر ان میں آخرت کے امور کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، ہاں جب ان کی صحت و تندرستی خراب ہوجاتی ہے دنیا بھر کے فکرات لاحق ہوجاتے ہیں اور غم روزگار کی گردش ان کے اوقات کو مختلف قسم کی مشغولیتوں اور تشویشوں میں جکڑ لیتی ہے اس وقت ان کو ان نعمتوں کی قدر ہوتی ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے کیسے بیش قیمت مواقع گنوادئیے اور اس قول النعمۃ اذا فقدت عرفت (کہ نعمت کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ جاتی رہتی ہے) کا مصداق بنتے ہیں۔ ملا علی قاری (رح) نے حدیث کی تشریح میں یہ لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ ان نعمتوں کی حقیقی قدر نہیں کرتے، بایں طور کہ وہ ان نعمتوں کے حاصل ہونے کے زمانہ میں ایسے کام نہیں کرتے جن کے آخرت میں وہ محتاج ہوں گے اور پھر وہاں نادم ہوں گے کہ ہم نے دنیا میں اپنی عمر کے بیش قیمت اوقات کو کس طرح ضائع کردیا اور تندرستی و فراغت وقت کی جو نعمتیں ہمیں میسر تھیں ان کے جاتے رہنے سے پہلے ان کی قدر نہیں کی، حالانکہ اس وقت ان کی یہ ندامت ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ذالک یوم التغابن اور حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ آخرت میں اہل جنت اگر کسی بات پر حسرت و افسوس کریں گے تو ان لمحات پر کریں گے جو انہوں نے دنیا میں اس طرح گزار دئیے ہوں گے کہ ان میں انہوں نے اللہ کو یاد نہیں کیا ہوگا۔
وعن المستورد بن شداد قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : والله ما الدنيا في الآخرة إلا مثل ما يجعل أحدكم أصبعه في اليم فلينظر بم يرجع . رواه مسلم
حضرت مستورد بن شداد کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ اللہ کی قسم! آخرت (کے زمانہ اور وہاں کی نعمتوں) کے مقابلے میں دنیا ( کے زمانہ اور اس کی نعمتوں) کی مثال ایسی ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ وہ انگلی کیا چیز لے کر واپس آئی ہے۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈبو کر باہر نکالے تو وہ دیکھے گا کہ اس کی انگلی سمندر میں سے محض تری یا صرف ایک آدھ قطرہ پانی کا لے کر واپس آئی ہے، پس سمجھنا چاہئے کہ آخرت کے زمانہ اور وہاں کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کا زمانہ اور دنیا کی تمام نعمتیں اسی قدر قلیل وکمتر ہیں جس قدر کہ سمندر کے مقابلہ میں اس کی انگلی کو لگا ہوا پانی، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تمثیل بھی محض لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہے ورنہ متناہی کو غیر متناہی کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ہوسکتی، پانی کا وہ ایک قطرہ جو دریا سے باہر آیا ہے اپنی کمتری و بےوقعتی کے باوجود سمندر سے کچھ نہ کچھ نسبت ضرور رکھتا ہے مگر دنیا، آخرت سے اس قدر بھی نسبت نہیں رکھتی۔ ملا علی قاری (رح) لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ نہ تو نہایت جلد فنا ہوجانے والی دنیا کی نعمتوں اور آسائشوں پر مغرور ہو اور نہ اس کی سختیوں اور پریشانیوں پر روئے پیٹے اور نہ شکوہ و شکایت کرے بلکہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے مطابق یہی کہے کہ اللہم لا عیش الا عیش الاخرۃ، اے اللہ! اصل زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے نیز اس حقیقت کو ہر لمحہ مدنظر رکھے کہ یہ دنیا، مزرعۃ الاخرۃ (آخرت کی کھیتی ہے) اور یہاں کی زندگانی بس ایک ساعت کی ہے لہٰذا اس ایک ساعت کو گنوانے کی بجائے طلب الٰہی میں مصروف رکھنا ہی سب سے بڑی دانشوری ہے۔
وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بجدي أسك ميت . قال : أيكم يحب أن هذا له بدرهم ؟ فقالوا : ما نحب أنه لنا بشيءقال : فوالله للدنيا أهون على الله من هذا عليكم . رواه مسلم
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ بکری کے ایک ایسے مردہ بچہ کے پاس سے گزرے جس کے کان بہت چھوٹے تھے یا کٹے ہوئے تھے اور یا اس کے کان تھے ہی نہیں، چناچہ آپ ﷺ نے (اس کو دیکھ کر صحابہ ؓ اجمعین سے) فرمایا کہ تم میں ایسا کوئی شخص ہے جو اس (مردہ بچہ) کو ایک درہم کے عوض لینا پسند کرے؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ ہم تو اس کو کسی بھی چیز کے عوض لینا پسند نہیں کرسکتے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم! یہ دنیا (اپنی تمام لذتوں اور آسائشوں کے ساتھ) اللہ کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ بےوقعت وکمتر ہے جیسا کہ تمہارے نظر میں یہ۔ (مسلم)
تشریح
حضور ﷺ نے بکری کے اس مردہ بچہ کی مثال کے ذریعہ درحقیقت اس طرف متوجہ فرمایا کہ یہ دنیا ہرگز اس قابل نہیں ہے کہ انسان اس کی محبت وطلب میں آخرت کے نفع نقصان کو فراموش کردے، بلکہ اصل چیز آخرت کی محبت وطلب ہے جہاں کی زندگی بھی لافانی ہے اور جس کی نعمتیں بھی لازوال ہیں، لہٰذا مقصود زندگی آخرت کی محبت وطلب ہونا چاہئے نہ کہ دنیا کی محبت وطلب، کیونکہ فرمایا گیا ہے۔ حب الدنیا رأس کل خطیئۃ دنیا کی محبت و چاہت ہر گناہ کی جڑ ہے ترک الدنیا رأس کل عبادۃ دنیا سے بےاعتنائی، ہر عبادت کی بنیاد ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی محبت میں گرفتار رہنے والا اپنے اعمال میں مخلص و پاکیزہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا ہر کام کسی فاسد غرض و لالچ کی آمیزش رکھتا ہے خواہ وہ کوئی دینی اور مذہبی کام ہی کیوں نہ کرے، اس کے برخلاف جو شخص دنیا سے بےاعتنائی اختیار کئے ہوئے ہوتا ہے اس کے ہر عمل میں اخلاص و پاکیزگی اور آخرت ہی کا مفاد ہوتا ہے، خواہ وہ کسی دنیاوی کام ہی میں کیوں نہ مشغول ہو، اسی لئے کسی عارف نے کہا ہے کہ جس نے دنیا کو اپنی پسندیدہ اور محبوب چیز بنالیا ہے اس کو تمام مشائخ اور مرشدین مل کر بھی راہ راست پر نہیں لگاسکتے اور جس نے دنیا سے بےاعتنائی کو اپنا شیوہ بنا لیا اس کو دنیا بھر کے مفسد و بدکار لوگ بھی گمراہ نہیں کرسکتے۔
دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے (مسلم)
تشریح
قید خانہ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی شخص قید خانہ میں بند ہو تو وہاں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتا ہے اور طرح طرح کی مشقتیں جھیلتا ہے۔ اسی طرح مومن کے لئے یہ دنیا بھی گویا ایک قید خانہ ہے جہاں اس کو محنت ومشقت اور مصائب وشدائد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، منکرات اور منہیات (ممنوع اور خلاف شرع امور) سے اپنے آپ کو بچانا پڑتا ہے۔ نفس کی آزادی اور بےراہ روی کو ختم کرنا پڑتا ہے اور طاعات و عبادات کی مشقتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ یا یہ کہ مومن اس دنیا کو ایک ایسی جگہ محسوس کرتا ہے جہاں تنگی وگھٹن ہوتی ہے اور جہاں بودوباش اختیار کرنے کو وہ پسند نہیں کرتا، چناچہ وہ ہر وقت یہی خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس تنگ و تاریک جہاں سے نکل جائے اور عالم ملکوت کی وسعتوں کو اپنی جو لانگاہ بنائے۔ اور دنیا کافر کے لئے جنت ہے کا مطلب یہ ہے کہ کافر چونکہ اپنا مقصد زندگی دنیا کا حصول سمجھتا ہے اس لئے وہ اپنی تمام تر سعی و کوشش اور اپنی تمام ترجدو جہد دنیا کی نعمتوں اور آسائشوں کو حاصل کرنے میں صرف کرتا ہے اور پھر وہ دنیا کی لذات شہوات میں اس طرح مشغول ومنہمک ہوجاتا ہے کہ اس کے لئے یہ دنیا ایک عشرت کدہ بن جاتی ہے جہاں سے نکلنا اس کو گوارہ نہیں ہوتا۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ حدیث کی مراد یہ ہے کہ مومن کو آخرت میں جو اجر وثواب ملے گا اور اس کو وہاں کی جن نعمتوں اور راحتوں سے نوازا جائے گا ان کی بہ نسبت یہ دنیا اس کے حق میں گویا قید خانہ ہے اور کافر کو جس دردناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا اس کے مقابلہ میں یہ دنیا اس کے حق میں گویا جنت ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ مومن اس دنیا میں خواہ کتنے ہی نازونعم کے ساتھ رہے اور اس کو یہاں کی کتنی ہی آسائشیں اور راحتیں حاصل ہوں مگر وہ سب ہیچ ہیں کیوں کہ اس کو آخرت میں جو نعمتیں ملنے والی ہیں اور وہاں کی جو راحتیں اور آسائشیں اس کو حاصل ہوں گی وہ اس دنیا کی نعمتوں اور راحتوں وآسائشوں سے کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ اعلی ہوں گی، اسی طرح کافر اس دنیا میں خواہ کتنی ہی مصیبتیں اور آفتیں جھیلے اور کتنے ہی شدائد کا سامنا کرے۔ مگر آخرت میں اس کا حال اس دنیا کے حال سے بھی بدتر ہوگا۔ منقول ہے کہ ایک یہودی نے حضرت حسن ؓ کو دیکھ کر ان سے کہا کہ آپ کے نانا جان (رسول کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ الدنیا سجن المومن وجنۃ الکافر تو ان کو یہ قول میرے اور آپ کے حال پر کس طرح صادق آتا ہے، کیونکہ تم تو گھوڑے پر سواری کرتے ہو اور بڑی راحت و آسائش کے ساتھ زندگی گزارتے ہو، جب کہ میں بیماری میں مبتلا ہوں اور طرح کی تکالیف اور فقروفاقہ میں گرفتار رہتا ہوں؟ چناچہ حضرت امام ؓ نے اس کو جو جواب دیا وہ وہی تھا جو اوپر نقل کیا گیا۔
کافر کے اچھے کام کا اجر اس کو اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله لا يظلم مؤمنا حسنة يعطي بها في الدنيا ويجزي بها في الآخرة وأما الكافر فيطعم بحسنات ما عمل بها لله في الدنيا حتى إذا أفضى إلى الآخرة لم يكن له حسنة يجزى بها . رواه مسلم
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مومن کی نیکی کا اجر ضائع نہیں کرتا، کہ اس کی اس نیکی کے سبب اس کو دنیا میں بھلائیاں دی جاتی ہیں اور آخرت میں بھی اس کا اجروثواب دیا جائے گا۔ اور کافر اللہ کی خوشنودی کے لئے جو اچھے کام کرتا ہے اس کو اس کے بدلہ میں اس دنیا میں کھلا پلا دیا جاتا ہے (یعنی وہ ان اچھے کاموں کی وجہ سے جس بھلائی کا مستحق ہوتا ہے وہ اس کو نعمتوں اور راحتوں کی صورت میں اس دنیا میں دے دی جاتی ہے) یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے نامہ اعمال میں ایسی کوئی نیکی نہیں ہوگی کہ جس کی وجہ سے اس کو وہاں اجروثواب دیا جائے۔ (مسلم)
تشریح
اس ارشاد گرامی کے ذریعہ اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ آخرت کی بھلائی اور وہاں کے اجروثواب کا دارومدار دنیا میں محض اچھے کام کرنے پر نہیں ہے بلکہ ایمان و عقیدہ پر ہے چناچہ وہ نیک کام جو اللہ کی خوشنودی کے لئے کئے جاتے ہیں اور جن سے اللہ یقیناخوش ہوتا ہے، جب کوئی مومن کرتا ہے تو اس کو ان نیک کاموں کی وجہ سے دنیا میں بھی اچھا بدلہ ملتا ہے۔ بایں طور پر کہ اس کے کاروبار معیشت اور رزق میں وسعت وفراخی عطا کی جاتی ہے، اس کی زندگی کو چین و سکون اور خوش حالی وقلبی اطمینان کی دولت نصیب ہوتی ہے اور پھر اس کو ہر طرح کی آفات وبلیات اور ناپسندیدہ عناصر سے محفوظ ومامون رکھا جاتا ہے اور پھر جب وہ اس دنیا کی زندگی کو پورا کر کے آخرت میں پہنچے گا تو اس کو وہاں بھی ان نیک کاموں کا پورا پورا اجر وثواب ملے گا۔ اس کے برخلاف جب کافر اچھے اعمال کرتا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہو جیسے فقیر و محتاج کو کھانا کھلانا اور اس کی مدد کرنا، یتیم اور بیواؤں کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنا اور اس طرح کے دوسرے فلاح ورفاہی کے کام تو اس کے ان اچھے کاموں کا پورا بدلہ اس کو دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، جب کہ آخرت میں وہ ان اچھے کاموں کا کوئی اجروثواب پانے کا مستحق نہیں ہوگا۔ رہی یہ بات کہ جس طرح مومن کو دنیا میں اپنے اچھے کاموں کا بدلہ اچھا ملتا ہے اسی طرح کیا اس کو دنیا میں برے کاموں کی سزا بھی ملتی ہے؟ تو اس کا جواب اثبات میں ہوگا کہ حق تعالیٰ اپنے جس بندہ کو آخرت کے عذاب وشدائد سے بچانا چاہتا ہے اس کو اس کی برائیوں کی سزا اس دنیا میں دے دیتا ہے۔ چناچہ ایک دوسری حدیث میں منقول ہے کہ مومن کو اس کے برے کاموں کا بدلہ دنیا میں مختلف قسم کے مصائب وآلام اور تکالیف وپریشانیوں کی صورت میں دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کے نامہ اعمال میں ایسی کوئی برائی نہیں ہوگی جس پر وہ عذاب کا مستوجب قرار پائے۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کو احمد اور ابن حبان نے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ من یعمل سوء یجز بہ نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ اگر ایسا ہے کہ بندہ سے جو بھی برائی صادر ہوگی اس کی وجہ سے اس کو آخرت میں ضرور سزا دی جائے گی اور ظاہر ہے کہ دنیا میں ہر بندے سے چھوٹی یا بڑی کوئی نہ کوئی برائی ضرور صادر ہوتی ہے) تو پھر نجات پانے والا کون شخص ہوگا؟ حضور ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تمہیں بخشے، کیا تم غمگین نہیں ہوتے، کیا تم رنج والم نہیں اٹھاتے، کیا تم بیمار نہیں ہوتے اور کیا تمہیں کوئی آفت یا بلا نہیں پہنچتی؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! ﷺ حضور ﷺ نے فرمایا (تو یاد رکھو) یہ چیز (یعنی تمہارا کسی تکلیف و مصیبت اور رنج والم میں مبتلا ہونا) دراصل تمہارے حق میں اس برائی کی سزا اور بدلہ ہے جو تم سے صادر ہوجاتی ہے۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : حجبت النار بالشهوات وحجبت الجنة بالمكاره . متفق عليه . إلا أن عند مسلم : حفت . بدل حجبت
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ دوزخ کی آگ شہوتوں یعنی خواہشات لذات سے ڈھانکی گئی ہے اور جنت سختیوں اور مشقتوں سے ڈھانکی گئی ہے اس روایت کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے لیکن مسلم کی روایت میں حجبت (یعنی ڈھانکی گئی ہے کہ بجائے) حفت (یعنی گھیری گئی ہے) کا لفظ ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ وہ محنت ومشقت اور سختی و پریشانی پر جو طاعت و عبادت کی مداومت و پابندی اور نفسانی خواہشات ولذات سے اجتناب کی وجہ سے اٹھانا پڑتی ہے، گویا بہشت کا پردہ ہے اور جو چیز پردے کے پیچھے ہوتی ہے اس تک پہنچنے کے لئے پہلے پردہ تک پہنچنا اور اس کو اٹھانا ضروری ہوتا ہے اس لئے اگر جنت تک پہنچنا چاہتے ہو تو پہلے اس کے پردے کو اٹھاؤ یعنی احکام الٰہی کی اتباع اور نفس کی خواہشات سے اجتناب کی محنت اور سختی برداشت کرو، جب ان باتوں کو اختیار کرو گے تب کہیں جنت تک رسائی ہوگی۔ اسی طرح نفس کی خواہشات ولذژات گویا دوزخ کا پردہ ہیں۔ جو شخص اس پردہ کو ہٹائے گا یعنی نفس کی اتباع اور خواہش پرستی کا ارتکاب کرے گا وہ دوزخ تک پہنچ جائے گا۔ واضح رہے کہ حدیث میں شہوات کا جو لفظ استعمال فرمایا گیا ہے اس کا تعلق نفس کی ان خواہشات ولذات سے ہے جو حرام چیزوں جیسے شراب نوشی، زنا اور غیبت وغیرہ کا ارتکاب کراتی ہیں، ورنہ جہاں تک مباح خواہشات ولذات کا تعلق ہے وہ نہ تو دوزخ میں لے جانے کا باعث بنتی ہیں اور نہ جنت میں داخل ہونے سے روکتی ہیں، اگرچہ نفس کی مباح خواہشات ولذات کا اتباع بھی بندہ کو قرب اور ولایت کے مقام سے دور کردیتا ہے۔ حدیث کی مذکورہ بالا وضاحت سے یہ بات بھی صاف ہوجاتی ہے کہ ایک روایت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ العلم حجاب اللہ (یعنی علم اللہ تعالیٰ کا پردہ ہے) تو اس کے کیا معنی ہیں، چناچہ اس جملہ کا مطلب بھی یہی ہے کہ علم، گویا اللہ اور بندے کے درمیان پردہ ہے، جو شخص علم حاصل کرتا ہے وہ گویا اس پردہ کو اٹھا دیتا ہے اور جب وہ پردہ اٹھ جاتا ہے تو اللہ کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔
مال وزر کا غلام بن جانے والے کی مذمت
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تعس عبد الدينار وعبد الدرهم وعبد الخميصة إن أعطي رضي وإن لم يعط سخط تعس وانتكس وإذا شيك فلا انتقش . طوبى لعبد آخذ بعنان فرسه في سبيل الله أشعث رأسه مغبرة قدماه إن كان في الحراسة كان في الحراسة وإن كان في الساقة كان في الساقة وإن استأذن لم يؤذن له وإن شفع لم يشفع . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہلاک ہو وہ شخص جو دینار کا غلام ہو، درہم کا غلام ہو اور چادر کا غلام ہو (یعنی اس شخص کے لئے آخرت میں ہلاکت و تباہی مقدر ہے جس نے مال و دولت کے حصول کو اپنا مقصد زندگی بنالیا ہو، دنیاوی عیش وتمول کو معبود جبار کی رضا و خوشنودی پر ترجیح دیتا ہے اور طلب مال و حصول زر کی راہ میں ناجائز و حرام وسائل و ذرائع اختیار کرنے سے باز نہ رہتا ہو اور پھر جو کچھ کماتا ہو اس کو از راہ بخل جمع کردیتا ہو کہ نہ اس مال کے حقوق کو ادا کرتا ہو نہ اللہ کی راہ میں اور اللہ کی خوشنودی کے لئے اس کو خرچ کرتا ہو اور اس کے ساتھ ہی اپنی شان و شوکت اور بڑائی جتانے کے لئے لباس فاخرہ زیب تن کرتا ہو اور ناروا اطور پر زیب وزینت میں مبتلا ہو اور ایسے شخص کی علامت یہ ہے کہ) جب اس کو (مال و دولت اور لباس فاخرہ) ملے تو خوش اور راضی ہو اور اگر نہ ملے تو ناراض وناخوش ہو (گویا اس کی طبیعت کا میلان ہمیشہ لوگوں کے مال وزر کی طرف رہتا ہو اور ہر وقت اس حرص میں مبتلا رہتا ہے کہ فلاں شخص سے فلاں چیز حاصل ہوجائے، چناچہ اگر لوگ اس کی حرص و تمنا کو پورا کرتے ہیں تو وہ ان سے خوش رہتا ہے اور اگر ان کی طرف سے اس کی اس حرص وطمع کی تکمیل نہیں ہوتی تو ان سے ناخوش و ناراض ہوجاتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس دینے یا نہ دینے کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہو، یعنی اگر اللہ تعالیٰ اس کی خواہش کے مطابق اس کو مال و دولت اور سامان تعیش عطا کرتا ہے تو وہ اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اس کی خواہش وحرص کو پورا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے تئیں اپنی ناراضگی ظاہر کرتا ہے) ایسے شخص کی اس مذموم خصلت کی وجہ سے گویا حضور ﷺ نے مکرر بددعا فرمائی کہ ہلاک ہو ایسا شخص اور ذلیل وسرنگوں ہو! اور (دیکھو) جب اس شخص کے پاؤں میں کانٹا لگ جائے تو کوئی اس کو نہ نکالے (گویا تہدید و تنبیہ کے طور پر ایسے شخص کے حق میں مسلمانوں کو آگاہ فرمایا گیا کہ اگر ایسی مذموم خصلت رکھنے والا شخص کسی آفت و پریشانی میں مبتلا ہوجائے تو کوئی اس کی مدد و اعانت نہ کرے۔ دنیا داروں اور حرص وطمع کے غلام لوگوں کی اس بدحالی کو ذکر کرنے کے بعد حضور ﷺ نے چاہا کہ ان کے مقابلہ پر ان طالبان دین اور زاہدان دنیا کا بھی ذکر فرمائیں جو آخرت کی فلاح حاصل کرنے اور دین کو سربلند کرنے کے لئے محنت ومشقت اور جہاد کے ذریعہ اللہ کی راہ میں مشغول رہتے ہیں، دنیا سے بےنیازی برتتے ہیں، ظاہری زینت و آرائش سے دور رہتے ہیں اور اہل دنیا کے طور طریقوں سے اپنے کو الگ رکھتے ہیں اور اس وجہ سے ظاہر پرستوں کی نظر میں نہایت کمتر و حقیر معلوم ہوتے ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا) سعادت وخوش بختی ہے اس بندے کے لئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے کھڑا ہے، اس کے سر کے بال پراگندہ اور قدم غبار آلود ہیں، اگر اس کو لشکر کی اگلی صفوں کے آگے نگہبانی پر مامور کیا جاتا ہے تو پوری طرح نگہبانی کرتا ہے (کہ کسی بھی وقت اپنی ذمہ داری کی انجام دہی سے نہ غافل رہتا ہے اور نہ سوتا ہے بلکہ ہر وقت پوری ہوشیاری و چستی کے ساتھ نگہبانی کرتا ہے) اور اگر اس کو لشکر کے پیچھے رکھا جاتا ہے تو لشکر کے پیچھے ہی رہتا ہے (یعنی وہ امیر لشکر اور مسلمانوں کی پوری تابعداری کرتا ہے کہ اس کو جس جگہ مامور کیا جاتا ہے وہیں اپنا فرض انجام دیتا ہے اور اس سے جو کچھ کہا جاتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے، تکبر اور ضدواصرار نہیں کرتا) اور (خدا کے نزدیک اپنے اس مرتبہ وسعادت کے باوجود اپنے معاشرہ میں اس قدر سادگی، جاہ ومال اور شان و شوکت سے اس قدر بےنیازی اور اس قدر انکساری کے ساتھ رہتا ہے کہ دنیا دار اس کو کوئی وقعت و اہمیت نہیں دیتے یہاں تک کہ) اگر وہ لوگوں کی محفلوں میں شریک ہونا چاہتا ہے تو اس کو شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر کسی کی سفارش کرتا ہے تو اس کی سفارش قبول نہیں کی جاتی۔
تشریح
دینار و درہم کا غلام اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ مال و دولت کے سلسلہ میں جو چیز مذموم ہے وہ اس مال و دولت کی محبت اور دنیا داری میں مبتلا ہونا ہے، چناچہ یہ خصلت (یعنی مال و دولت اور دنیا کی محبت میں گرفتارہونا) انسان کو مال کا بندہ بنا دیتی ہے کہ اس کی ہر سعی اور جدو جہد کا محور، اس کی ہر تمنا و خواہش کا مرکز اور اس کے ہر فعل وعمل کی بنیاد صرف مال و زر ہوتا ہے اس سے واضح ہوا کہ مال داری اور دولت مندی بذات خود کوئی مذموم چیز نہیں ہے، کسی شخص کے پاس خواہ کتنا ہی مال و زر ہو اور وہ کتنا بڑا دولت مند ہو، اگر وہ دولت کی محبت میں گرفتار نہیں ہے تو اس کو برا نہیں کہیں گے۔ حدیث میں مال و دولت کے تعلق سے دینار اور درہم ہی کا ذکر اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ یہ دونوں چیزیں (جن کو سونا چاندی یا روپیہ پیسہ بھی کہا جاسکتا ہے) زر نقد ہیں کہ لین دین اور خریدو فروخت میں انہیں کا اعتبار ہوتا ہے اور ان کے ذریعہ ہی تمام جائز و ناجائز مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے، اسی طرح اسباب معیشت میں صرف چادر کا ذکر اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ اصل میں خمیصہ اس خط دار چادر کو کہتے ہیں جو اس زمانہ میں لباس فاخرہ کا سب سے اعلی مظہر سمجھی جاتی تھی اور اس کے استعمال سے عام طور پر تکبرورعونت اور نمود ونمائش کا جذبہ پیدا ہوتا تھا، نیز لوگ اس چادر کو اس قدر پسند کرتے تھے کہ اس کو اپنے سے جدا کرنا بھی ان کو گوارہ نہیں ہوتا تھا، لہٰذا اس زمانہ کے دنیادار اس چادر کی خواہش وطلب اور اس کی محبت میں اس قدر گرفتار ہوتے تھے کہ جیسے انہوں نے اس چادر کی غلامی اختیار کرلی ہو۔ نقش اور انتقاش کے معنی ہیں پیر سے کانٹا نکالنا لہٰذا واذا شیک فلا انتقش کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مال و دولت اور روپیہ پیسہ کا غلام بن جائے کہ نہ تو وہ ناجائز اور حرام وسائل و ذرائع سے کمانا اور دولت جوڑنا ترک کرتا ہو اور نہ اپنے روپیہ پیسہ کو حقداروں پر اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہو تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس کے ساتھ تعاون اور اس کی پشت پناہی سے گریز کریں۔ اور جب وہ کسی آفت میں پھنسے تو اس کی کوئی مدد نہ کریں، اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہئے کہ پیر سے کانٹا نکالنا چونکہ مدد کرنے کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے لہٰذا اس سب سے ادنیٰ درجہ کی مدد سے بھی منع کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر اس کو کوئی اس سے بھی بڑا حادثہ پیش آجائے اور اس سے بھی زیادہ سخت حالات سے دوچار ہو تو اس کی مدد نہ کرنا بطریق اولیٰ جائز بلکہ مطلوب ہوگا۔ یہ بات بھی واضح کردینا ضروری ہے کہ حدیث کے لفظ تعس کا یہ ترجمہ کہ ہلاک ہو وہ شخص الخ اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد کی مراد ایسے شخص کے حق میں بد دعا کرنا ہے، چناچہ مذکورہ ترجمہ کے پیش نظر اور شارحین کی اتباع کی بناء پر نقل کیا گیا ہے اور اگر یہ مراد لیا جائے تو حضور ﷺ نے اس لفظ کے ذریعہ اس شخص کے حق میں بد دعا نہیں فرمائی بلکہ اس بد ترین خصلت کی مذمت اور اس خصلت کو اختیار کرنے والوں کو دنیاوی اور اخروی ذلت و خواری اور ان کے برے انجام کو بطور خبر ظاہر فرمایا تو اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ ہلاک ہوا وہ شخص الخ اور یہ مراد بھی حدیث کے مغائر نہیں ہوگی۔
مالداری بذات خود کوئی بری چیز نہیں ہے
وعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن مما أخاف عليكم من بعدي ما يفتح عليكم من زهرة الدنيا وزينتها . فقال رجل : يا رسول الله أو يأتي الخير بالشر ؟ فسكت حتى ظننا أنه ينزل عليه قال : فمسح عنه الرحضاء وقال : أين السائل ؟ . وكأنه حمده فقال : إنه لا يأتي الخير بالشر وإن مما ينبت الربيع ما يقتل حبطا أو يلم إلا آكلة الخضر أكلت حتى امتدت خاصرتاها استقبلت الشمس فثلطت وبالت ثم عادت فأكلت . وإن هذا المال خضرة حلوة فمن أخذه بحقه ووضعه في حقه فنعم المعونة هو ومن أخذه بغير حقه كان كالذي يأكل ولا يشبع ويكون شهيدا عليه يوم القيامة . متفق عليه
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے (صحابہ ؓ اور ان کے ذریعہ عام مسلمانوں کو مخابط کر کے) فرمایا۔ اپنی وفات کے بعد تمہارے بارے میں مجھے جن چیزوں کا خوف ہے ( کہ تم ان میں مبتلا ہوجاؤگے ( ان میں سے ایک چیز دنیا کی تروتازگی اور زینت بھی ہے (جو ملکی فتوحات و اقتدار کی صورت میں) تم کو حاصل ہوگی۔ یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ، کیا بھلائی اپنے ساتھ برائی بھی لائے گی؟ (یعنی ملکی فتوحات و اقتدار کی وجہ سے ہم مسلمانوں کو جو مال غنیمت اور سازوسامان حاصل ہوگا وہ تو ہمارے حق میں اللہ کی نعمت ہوگی اور ویسے بھی جائز وسائل و ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت اور رزق وغیرہ کی وسعت وفراخی ایک اچھی چیز ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت اور ایک اچھی چیز ہمارے لئے برائی وفتنہ اور ترک طاعات کا سبب و ذریعہ بن جائے؟ ) حضور ﷺ (یہ سن کر) خاموش رہے (اور انتظار کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئے تو جواب دیں) یہاں تک کہ ہم نے محسوس کیا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ (تھوڑی دیر کے بعد) حضور ﷺ نے اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھا (جو نزول وحی کے وقت آتا تھا) اور پھر فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے جس نے سوال کیا تھا؟ گویا آپ ﷺ نے سائل کے سوال کی تحسین فرمائی (کیونکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ اس شخص نے جو سوال کیا ہے اور اب اس کا جو جواب دیا جائے گا اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا) اور اس کے بعد فرمایا حقیقت یہ ہے کہ بھلائی اپنے ساتھ برائی نہی لاتی (یعنی جائز ذرائع سے مال و دولت کا حاصل ہونا اور رزق میں وسعت وفراخی اور خوشحالی کا نصیب ہونا بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے اور اس کی وجہ سے کوئی برائی پیشن نہیں آتی، بلکہ اصل میں برائی کا پیش آنا ان عوارض کی وجہ سے ہوتا ہے جو دولتمندی اور خوشحالی کے وقت لاحق ہوجاتے ہیں جیسے بخل واسراف اور حد اعتدال سے تجاوز کرنا اور اس کی مثال موسم بہار ہے جو زمین کے پیٹ سے گھاس وغیرہ اگاتا ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے تو اچھا اور فائدہ مند ہوتا ہے، البتہ اس سے ضرور نقصان اس وقت پہنچتا ہے جب کوئی چوپایہ اس کو ضرورت سے زائد کھائے اور بسیار خوری کے سبب ضرور ہلاکت میں مبتلا ہوجائے، چناچہ خود حضور ﷺ نے اس مثال کو یوں بیان فرمایا کہ) موسم بہار میں جو سبزہ اگاتا ہے (وہ حقیقت میں تو بھلائی و فائدہ کی چیز ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کوئی نقصان و برائی لے کر زمین کے پیٹ سے نہیں اگتا مگر) وہ جانور کو اس کا پیٹ پھلا کر مار دیتا ہے یا (اگر وہ مرتا نہیں تو) مرنے کے قریب پہنچ جاتا ہے (یعنی جو جانور اس سبزہ کو کھانے میں حد سے تجاوز کرجاتا ہے وہ اس سبزہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے فعل یعنی زیادہ کھانے کی وجہ سے ضرور ہلاکت میں مبتلا ہوجاتا ہے) یہ کہ کھانے والے جانور نے اس سبزہ کو اس طرح کھایا کہ (جب بسیار خوری کی وجہ سے) اس کی دونوں کو کھیں پھول گئیں تو وہ سورج کے سامنے بیٹھ گیا (جیسا کہ جانور کی عادت ہوتی ہے کہ بدہضمی کی وجہ سے اس کا پیٹ پھول جاتا ہے تو وہ دھوپ میں بیٹھ جاتا ہے اور اس کا پیٹ گرمی پاکر نرم ہوجاتا ہے اور اس میں جو کچھ ہوتا ہے باہر نکل جاتا ہے اور پھر (جب) پتلا گوبر اور پیشاب کر کے (اس نے اپنا پیٹ ہلکا کرلیا تو) چراگاہ کی طرف چلا گیا اور سبزہ چرنے لگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا یہ مال وزر بڑا سرسبز، تروتازہ اور نرم ودلکش ہے (کہ بظاہر آنکھوں کو بہت بھاتا ہے، طبیعت کو بہت اچھا لگتا ہے جس کی وجہ سے دل چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ حاصل ہو) لہٰذا جو شخص دنیا کے مال وزر کو حق کے ساتھ (یعنی بوقت ضرورت اور جائز وسائل و ذرائع سے) حاصل کرے اور اس کو اس کے حق میں (یعنی اس کے اچھے مصارف میں کہ خواہ واجب ہو یا مستحب) خرچ کرے تو وہ مال وزر اس کے حق میں (دین کا) بہترین مددگار ثابت ہوتا ہے اور جو شخص اس مال وزر کو حق کے بغیر یعنی ناجائز طور پر حاصل کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا رہتا ہے اور شکم سیر نہیں ہوتا اور وہ مال وزر قیامت کے دن اس کے بارے میں (اس کے اسراف اور اس کی حرص وطمع کا) گواہ ہوگا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے ابتدائی جملوں کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے بارے میں مجھے خدشہ ہے کہ جب تم دنیا کے ملکوں اور شہروں کو فتح کرکے اپنے تسلط و اقتدار کا جھنڈا لہراؤ گے اور اس کے نتیجہ میں تمہیں مال و دولت کی فراوانی اور خوشحالی نصیب ہوگی تو یہ چیز تمہیں عبادت وطاعت اور نیک اعمال سے باز رکھنے کی کوشش کرے گی، نفع پہنچانے والے علوم (یعنی دینی علوم وفنون) سے لاپرواہ بنادے گی اور عجب وتکبر، گھمنڈ و غرور، شان شوکت کا اظہار اور جاہ ومال سے محت جیسی برائیاں تمہارے اندر پیدا ہوجائیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ تم آخرت کی زندگی کی فکر کرنے اور موت کے لئے تیاری کرنے کی بجائے دنیاوی امور میں پھنس کر رہ جاؤ گے۔ پھر چراگاہ کی طرف چلا گیا اور سبزہ چرنے لگا یعنی جب وہ جانور ضرورت سے زیادہ کھالیتا ہے اور بدہضمی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اپنے طریقہ سے بدہضمی کا علاج کرتا ہے اور اپنے پیٹ کو صاف کر کے دوبارہ سبزہ چرنے لگتا ہے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جو انسانی خمیر میں شامل حرص و خواہشات کے غلبہ کی وجہ سے بعض وقت اعتدال کی راہ سے بھٹک کر حد سے تجاوز کرجاتا ہے اور پھر ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے لیکن اپنے طرز عمل سے جلد ہی رجوع کرلیتا ہے اور مسقتل طور سے بےاعتدالی و گناہ کی راہ پر قائم نہیں رہتا بلکہ آفتاب ہدایت کی روشنی اس کو راہ راست کی طرف متوجہ کردیتی ہے اور ندامت و توبہ کے ذریعہ اپنے نفس کو بےاعتدالی اور گناہ کی غلاظت سے پاک کر کے گویا اپنا علاج کرلیتا ہے۔ اس کے برخلاف پہلی قسم کی کہ جس کو وہ جانور کو اس کا پیٹ پھلا کر مار دیتا ہے کے ذریعہ بیان فرمایا اس شخص کی حالت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو نفس کی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے، گناہ و معصیت پر قائم رہتا ہے اور اسی حالت میں مرجاتا ہے، یہاں تک کہ اس کو توبہ وانابت اور رجوع و استغفار کی توفیق بھی نصیب نہیں ہو پاتی۔ ان دونوں قسموں پر غور کرنے سے ایک اور قسم سامنے آتی ہے جس کا تعلق اس شخص سے ہے جو سرے سے بےاعتدالی اور گناہ کی راہ اختیار نہیں کرتا اور نفس کی خواہشات اور ناروا تمناؤں کا اسیر نہیں ہوتا بلکہ دنیا سے بےپرواہ ہوتا ہے اور اپنی تمام تر توجہ آخرت کے مفاد کی طرف مبذول رکھتا ہے، لہٰذا پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو اصطلاحی طور پر ظالم سے موسوم کیا جاتا ہے، دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو مقتصد یعنی میانہ رو کہا جاتا ہے اور تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو سابق یعنی بھلائیوں کو اختیار کرنے میں سبقت لے جانے والا کہا جاتا ہے۔ پس جو شخص سابق ہوتا ہے وہ سرے سے اپنے ہاتھوں کو گناہ سے آلودہ ہی نہیں کرتا، جو شخص مقتصد ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھوں کو گناہ سے آلودہ تو کرتا ہے لیکن ان کو پھر دھو ڈالتا ہے اور جو شخص ظالم ہوتا ہے وہ ہاتھ آلودہ ہی اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ مذکورہ مثال اور اس کی مطابقت کو بیان کرنے کے بعد حضور ﷺ نے یہ مال وزر بڑا سرسبز تازہ اور نرم ودلکش ہے سے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ دنیا کے مال وزر، اس کے تئیں محبت اور اس کے مصارف کے تعلق سے انسانوں کے حالات و خیالات مختلف ہوتے ہیں کہ کچھ لوگ تو وہ ہوتے ہیں جو محض ضرورت و حاجت کے بقدر ہی مال و اسباب کے حصول پر اکتفا کرتے ہیں اور اس کے حصول کے لئے بھی جائز و درست وسائل و ذرائع اختیار کرتے ہیں، نیز ان کے پاس جو مال و اسباب اور روپیہ پیسہ ہوتا ہے اس کو وہ اچھے مصارف میں خرچ کرتے ہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مال و دولت ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ ان کی حرص وطمع کسی بھی حد پر قناعت نہیں کرتی، وہ نہ صرف یہ کہ ضرورت و احتیاج سے زائد مال وز حاصل کرنے کی سعی و کوشش کرتے ہیں اور اس کو جوڑنے میں لگے رہتے ہیں بلکہ اس کے حصول میں جائز و ناجائز کے درمیان کوئی تمیز نہیں کرتے، سخت سے سخت برائی کا ارتکاب کرکے اور حرام ذرائع کو اختیار کرکے دولت سمیٹتے رہتے ہیں، علاوہ ازیں ان کے پاس جو مال و دولت اور روپیہ پیسہ ہوتا ہے اس کو حقداروں پر اور ان مصارف میں خرچ نہیں کرتے جو اللہ کی خوشنودی کا باعث ہوتے ہیں اور مال و دولت کے تئیں ان کی یہ حرص وطمع ان کو اس شخص کی مانند بنادیتی ہے جو کھاتا رہتا ہے مگر غلبہ حرص کی وجہ سے کبھی شکم سیر نہیں ہوتا یا ان کی حالت اس شخص کی سی ہوجاتی ہے جو استسقاء کا مریض ہوتا ہے کہ کسی وقت بھی سیراب نہیں ہوتا اور جتنا پانی پیتا ہے اسی قدر پیاس بھڑکتی ہے اور پیٹ پھولتا جاتا ہے۔ ایک عارف کی نظر میں دنیا کی مثال بڑے پایہ کے بزرگ اور عارف باللہ حضرت خواجہ عبیداللہ نقشبندی (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا یہ دنیا سانپ کی مانند ہے، لہٰذا جو شخص اس کا منتر جانتا ہے اس کے لئے تو دنیا کو حاصل کرنا جائز ہے لیکن دوسروں کے لئے جائز نہیں جب لوگوں نے یہ سنا تو عرض کیا کہ حضرت! اس کا منتر کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا اس بات کا علم ہونا کہ اس (ادنی کے مال و دولت) کو کہاں سے اور کس طرح حاصل کر رہا ہے اور کہا خرچ کر رہا ہے
دنیا کی طرف راغب ہونا تباہی وبربادی کی طرف راغب ہونا ہے
وعن عمرو بن عوف قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فوالله لا الفقر أخشى عليكم ولكن أخشى عليكم أن تبسط عليكم الدنيا كما بسطت على من كان قبلكم فتنافسوها كما تنافسوها وتهلككم كما أهلكتهم . متفق عليه
حضرت عمروبن عوف ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ کی قسم مجھے تمہارے فقروافلاس کا کوئی ڈر نہیں ہے (کیونکہ فقروافلاس کی حالت میں دین کی سلامتی کا امکان غالب ہوتا ہے اور یہ چیز تمہارے حق میں زیادہ سود مند ہے) بلکہ میں اس سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر کشادہ کی جائے گی (اور تم مالداروں کا طور طریقہ اختیار کر کے مختلف قسم کی آفتوں اور بلاؤں کے ذریعہ ہلاکت و تباہی میں مبتلا ہوجاؤگے) جیسا کہ ان لوگوں پر دنیا کشادہ کی گئی تھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں (اور وہ مال و دولت کی بےحد رغبت و محبت رکھنے کی وجہ سے فقراء اور مساکین پر رحم نہیں کھاتے تھے اور ان کی مدد واعانت سے گریز کرتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو تباہ و برباد کردیا گیا) چناچہ تم دنیا کی طرف رغبت کرو گے (یعنی دنیا کو اختیار کرو گے اور اس کی طرف نہایت رغبت رکھوگے کہ ایک دوسرے سے مال و دولت اور جاہ و حکومت حاصل کرنے کے لئے لڑائی جھگڑا شروع کردو گے) جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں نے اس کی طرف رغبت کی تھی اور پھر یہ دنیا تم کو اسی طرح تباہ و برباد کردے گی جس طرح ان کو تباہ و برباد کرچکی ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مال و دولت کی وہ فراخی وآسودگی جو دنیا کا گرویدہ بناتی ہے، حرص وطمع میں مبتلا کرتی ہے، جوڑنے سمیٹنے اور ذخیرہ اندوزی کا خوگر کرتی ہے چونکہ انسان کو اخلاقی و روحانی طور پر تباہ و برباد کردیتی ہے اور اخروی ہلاکت کا مستوجب بنادیتی ہے اس لئے حضور ﷺ نے مسلمانوں کی دنیاوی خوشحال وآسودگی اور مالداری سے اپنے خوف کا اظہار فرمایا! یا آپ ﷺ نے اس دنیاوی نفع وآسودگی اور خوشحالی کے تئیں خوف کا اظہار فرمایا جو باہمی مخالفت ونزاع، سماجی استحاصل ولوٹ گھسوٹ اور محض دنیاوی اقتدار کے لئے جنگ وجدل اور قتل و قتال کے نتیجہ میں حاصل ہو۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں فقر سے مراد ان تمام چیزوں سے تہی دست ہونا ہے جن کی ایک انسانی زندگی کو احتیاج ہوتی ہے اور جن پر ضروریات دین کی تکمیل اور بنیادی اسباب معیشت کا انحصار ہوتا ہے۔ اسی طرح غنا یعنی دنیاوی فراخی وآسودگی سے مراد دنیا کی چیزوں کا اس قدر حاصل ہونا ہے جو مقدار کفایت و ضرورت سے زائد ہوں جس کی وجہ سے انسان حق تعالیٰ کی عبادت و اطاعت سے غافل ہوجاتا ہے اور تمردو سرکشی اختیار کرلیتا ہے۔
رزق کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی دعا
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا وفي رواية كفافا . متفق عليه
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے یہ دعا فرمائی اے اللہ! تو آل محمد ﷺ کو بقدر قوت، رزق عطا فرما اور ایک روایت میں (قوت کے بجائے) کفاف کا لفظ ہے (بخاری ومسلم)
تشریح
ملاعلی قاری کے مطابق آل سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذریت (اولاد) اور اہل بیت ہیں یا امت کے وہ لوگ مراد ہیں جو آپ ﷺ کے سچے تابعدار اور محبوب ہوں۔ اور حضرت شیخ عبدالحق (رح) نے یہ لکھا ہے کہ آل سے مراد آپ ﷺ کی امت کے تمام افراد اور متبعین مراد ہیں جیسا کہ لفظ آل کے اصل معنی یہی مراد لئے جاتے ہیں اور اگر اہل و عیال ہی کو مرادلیا جائے تو بھی قیاس اور دلالت کو بنیاد بنا کر ان (اہل و عیال) کے علاوہ امت کے باقی افراد کو بھی اس دعا میں شامل قرار دیا جائے گا۔ قوت کھانے پینے کی اس محدود مقدار کو کہتے ہیں جو زندگی کو باقی اور جسمانی توانائی کو برقرار رکھے اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ کھانے پینے کی وہ محدود مقدار قوت کہلاتی ہے جو جان کو بچائے اور بطور رزق کافی ہو کفاف بنیادی ضروریات زندگی کی اس مقدار کو کہتے ہیں جو کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے محفوظ باز رکھے۔ نیز بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ قوت اور کفاف کے ایک ہی معنی ہیں اور زیادہ صحیح بات بھی یہی ہے کہ دوسری روایت کا لفظ کفاف دراصل پہلی روایت کے لفظ قوت کی وضاحت ہے اور اس لفظ کے ذریعہ اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اسباب معیشت اور ضروریات زندگی کی کم سے کم مقدار پر اکتفا کرنا اولیٰ ہے، واضح رہے کہ حق تعالیٰ نے حضور ﷺ کی اس دعا کو اپنے ان بندوں کے حق میں قبول فرمایا جنہیں اس نے اپنا پیارا اور برگزیدہ بنانا چاہا۔ اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہئے کہ کفاف یعنی خوراک کی بقدر کفایت مقدار، کوئی متعین اور آخری نہیں، بلکہ اس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں اور اس فرق واختلاف کا مدار اشخ اس، زمانہ اور حالات کی عدم یکسانیت پر ہے، مثلا ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو قلیل کھانے کی عادت رکھتا ہے بایں طور کہ وہ دو تین دن یا اس سے زائد بھوکا رہ سکتا ہے، ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو دن بھر میں دو تین بار کھانے کی عادت رکھتا ہے، کوئی شخص کم یا زیادہ اہل و عیال رکھتا ہے اور کوئی شخص سرے سے عیالدار ہی نہیں ہوتا، اسی طرح بعض حالات اور بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں کھانے پینے کی تھوڑی سی مقدار بھی کافی ہوجاتی ہے جیسے قحط کا زمانہ، تنگدستی کی حالت اور ضعف و کمزوری یا مرض کا لاحق ہنا، اس کے برخلاف خوشحالی وآسودگی اور قوت و توانائی کی حالت میں کھانے پینے کی زیادہ خواہش ہوتی ہے غرضیکہ کفاف کی مقدار کو منضبط نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کا دارومدار وقت و حالات و ضروریات پر ہوتا ہے کہ جو شخص جس حیثیت کا اور جس حالت میں ہوتا ہے اس کے حق میں کفاف کی مقدار اسی کے مطابق ہوتی ہے۔ البتہ مستحسن اور مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے کھانے پینے کی ضروریات کو بس اسی مقدار تک محدود رکھنا چاہئے جو زندگی کی بقاء کے لئے ناگزیر اور جسمانی قوت توانائی کی برقراری کے لئے ضروری ہو کہ جس سے عبادات و طاعات پر قدرت حاص رہے اور معمولات زندگی فوت نہ ہوں۔ اس حدیث میں گویا مسلمانوں کو اس امر پر متنبہ کرنا مقصود ہے کہ وہ حصول معاش کی جدوجہد کی ضروریات زندگی کی اس مقدار تک محدود رکھیں جو کفاف کہلاتی ہے اور ضرورت سے زیادہ اسباب معیشت مہیا کرنے کی محنت ومشقت برداشت نہ کریں نیز حد اعتدال سے تجاوز کر کے اور حرص وہوس میں مبتلا ہو کر اپنی روحانی و اخلاقی زندگی کو مضمحل نہ کریں۔ علماء نے لکھا ہے کہ فقر اور غنا دونوں سے کفاف افضل ہے، اگرچہ بعض حالتوں میں غنا یعنی مال و دولت کی کثرت بھی ایک طرح کی فضیلت رکھتی ہے بشرطیکہ اس کثرت کی وجہ سے حاصل ہونے والی خوشحالی وآسودگی کسی بھی صورت میں دینی گمراہی، اخروی نقصان و خسران اور دنیا کی محبت وچاہ کا موجب نہ بنے بلکہ خیر و بھلائی اور عبادات و طاعات کی راہ زیادہ سے زیادہ اختیار کرنے میں مددگار ہو۔
وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : قد أفلح من أسلم ورزق كفافا وقنعه الله بما آتاه . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ شخص فلاح ونجات کو پہنچ گیا جس نے اسلام قبول کیا (یا اسلم سے مراد یہ ہے کہ اس نے قضاوقدر الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کیا) اس کو (حلال و جائز ذرائع سے) بقدر کفاف رزق دیا گیا (یعنی اس کو بس اتنا رزق ملا جو اس کی ضروریات زندگی کے لئے کافی ہوگیا اور وہ غیر اللہ کے آگے ہاتھ پھیلانے کا ضرورتمند نہیں رہا) اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اس چیز پر کہ جو اس کو دی گئی ہے قناعت بخشی (اور اس کو تقدیر پر راضی اور مطمئن کیا۔ (مسلم)
مال ودولت میں انسان کا اصل حصہ
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يقول العبد : مالي مالي . وإن ماله من ماله ثلاث : ما أكل فأفنى أو لبس فأبلى أو أعطى فأقتنى . وما سوى ذلك فهو ذاهب وتاركه للناس . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بندہ کہتا رہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال (یعنی جو شخص مالدار اور دولت مند ہوتا ہے وہ اپنے مال و دولت پر بہت فخر کرتا ہے اور دوسرے پر یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ میرے پاس مال و دولت ہے) اور حقیقت یہ ہے کہ اس کو اس مال و دولت میں سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ فی الجملہ تین چیزیں ہیں (اور ان تین چیزوں میں سے بھی صرف ایک چیز ایسی ہے جو اس کے لئے حقیقی نفع بخش اور باقی رہنے والی ہے، جب کہ بقیہ دو چیزیں ایسی ہیں جن کا تعلق دنیا سے ہے اور جو فنا ہوجانے والی ہے) ایک تو وہ چیز جس کو اس نے کھالیا اور ختم کردیا، دوسری وہ چیز جس کو اس نے پہن لیا اور بوسیدہ کردیا یعنی اتار کر پھینک دیا اور تیسری وہ چیز جس کو اس نے اللہ کی راہ میں دیا اور (آخرت کے لئے) ذخیرہ کرلیا، ان تینوں کے سوا اور جو کچھ ہے (جیسے زمین، جائیداد، مویشی، نوکر چاکر، روپیہ پیسہ اور دیگر قیمتی چیزیں وہ) سب ایسی ہیں جن کو وہ لوگوں کے لئے چھوڑ کر (اس دنیا سے) چلا جانے والا ہے۔ (مسلم)
تشریح
اس ارشاد گرامی میں اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ انسان محنت ومشقت کرکے دنیا کماتا ہے، مال و دولت حاصل کرتا ہے اور زمین و جائیداد بناتا ہے، پھر اس مال و دولت اور زمین جائیداد پر فخر کرتا ہے اپنے کو ایک بڑا آدمی ظاہر کرتا ہے اور لوگوں پر اپنی امارت و ثروت کا سکہ جمانے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ اس بات کو محسوس نہیں کرتا کہ اول تو اس مال و دولت اور زمین جائیداد کا وبال بہت سخت ہے اور اس کی جواب دہی نہایت مشکل ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے پاس جو کچھ مال و دولت اور زمین جائیداد ہے اس سے خود اس کی ذات کو بہت معمولی فائدہ پہنچتا ہے اور یہ چیزیں بہت کم عرصہ تک اس کا ساتھ دینے والی ہیں، چناچہ حضور ﷺ نے بڑے نفسیاتی طریقہ پر واضح فرمایا کہ مال و دولت میں انسان کا اصل حصہ اور اس کا فی الجملہ فائدہ بس اتنا ہوتا ہے کہ وہ کچھ چیزوں کو تو کھاپی کر ختم کردیتا ہے۔ کچھ چیزوں کو پہن برت کر پرانا کردیتا ہے اور اگر اسے توفیق ہوتی ہے تو کچھ چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کر کے ان کو اپنے لئے ذخیرہ آخرت بنالیتا ہے، باقی تمام مال و اسباب، ساری زمین جائیداد اور سب روپیہ پیسہ وغیرہ دوسروں کے لئے چھوڑ کر دنیا سے چلا جاتا ہے۔ مذکورہ بالا تینوں صورتوں میں سے آخری صورت (یعنی اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا) بیشک ایسی چیز ہے جو انسان کو اس کے مال و دولت سے سب سے بیش قیمت اور ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والا نفع پہنچاتی ہے اور اگر اس اصل نفع کے لئے مال و دولت کو حاصل کیا جائے اور اس کو جمع کیا جائے تو یہ یقینا سمجھ میں آنے والی بات ہوگی ورنہ محض چند روزہ دنیاوی اور جزوی منافع کے لئے مال و دولت جمع کرنا اور اس کی وجہ سے اپنی بڑائی کا اظہار کرنا بےحقیقت بات ہوگی، چناچہ اس ارشاد گرامی کے ان الفاظ او اعطی فاقتنی کے اس کو اللہ کی خوشنودی کے لئے فقراء و غرباء اور حاجتمندوں پر خرچ کرے تاکہ اس کا ثواب جمع ہوتا رہے اور پھر حاجت کے دن (روز حشر) کام آئے۔
مرنے کے بعد نہ اہل وعیال ساتھی ہوں گے اور نہ جاہ ومال
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يتبع الميت ثلاثة : فيرجع اثنان ويبقى معه واحد يتبعه أهله وماله وعمله فيرجع أهله وماله ويبقى عمله . متفق عليه
حضرت انس ؓ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا میت کے ساتھ (قبر تک) تین چیزیں جاتی ہیں، ان میں سے دو چیزیں تو (اس کو اکیلا چھوڑ کر) واپس آجاتی ہیں اور ایک چیز اس کے ساتھ رہ جاتی ہے، چناچہ اس کے متعلقین (جیسے اولاد، عزیز و اقارب، دوست و احباب اور جان پہچان کے لوگ) اور اس کے اموال (جیسے نوکر چاکر، پلنگ، جانور، گاڑی وغیرہ اور اسی طرح کے اسباب) اور اس کے اعمال اس کے ساتھ جاتے ہیں۔ ان تینوں میں سے متعلقین اور مال تو (اس کو تنہا چھوڑ کر) واپس آجاتے ہیں اور اس کے اعمال اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اعمال سے مراد وہ ثواب و عذاب ہے جو ہر اچھے برے عمل پر مرتب ہوتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ انسان جب اس دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کی پہلی منزل (قبر) میں پہنچتا ہے تو وہاں سے وہ مرحلہ شروع ہوجاتا ہے جہاں سے عزیزواقارب، دوست، احباب، مال و دولت اور جاہ وحشم سب ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور صرف وہ اعمال اس کے ساتھ رہ جاتے ہیں جو اس نے دنیا میں کئے تھے۔ شاید اسی لئے کہا گیا ہے کہ القبر صندوق العمل یعنی قبر اعمال کا صندوق ہے۔
اپنے مال کو ذخیرہ آخرت بناؤ
وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أيكم مال وارثه أحب إليه من ماله ؟ قالوا : يا رسول الله ما منا أحد إلا ماله أحب إليه من مال وارثه . قال : فإن ماله ما قدم ومال وارثه ما أخر . رواه البخاري
حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے (صحابہ ؓ کو مخاطب کر کے) فرمایا کہ تم میں وہ کون شخص ہے جو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کے مال کو پسند کرتا ہو کہ اس کا مال اور روپیہ پیسہ خود اس کے لئے نہ ہو بلکہ اس کے وارثوں کے لئے ہو؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہم میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کے مال کو پسند کرتا ہو۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ (تو سنو) حقیقت میں اس کا مال وہ ہے جس کو اس نے (صدقہ و خیرات وغیرہ کے ثواب کی صورت میں) آگے بھیج دیا ہے اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جس کو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ (بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر لوگ واقعۃ اس بات کو زیادہ پسند کرتے ہیں کہ ان کے پاس جو مال و دولت ہے اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ انہی کو پہنچے تو چاہئے تو یہ کہ وہ اس مال و دولت کو یہاں دنیا میں جمع کرنے اور یہیں چھوڑ جانے کے بجائے آخرت میں کام آنے کے لئے آگے بھیجیں، جس کی صورت یہ ہے کہ اس کو صدقہ و خیرات اور نیک کاموں میں خرچ کر کے زیادہ سے زیادہ ثواب کمائیں، لیکن عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ لوگ اپنے مال و دولت اور روپیہ پیسہ کو جوڑ جوڑ کر جمع کرتے ہیں، صدقہ و خیرات کرنے اور حقداروں کا حق دینے سے گریز کرتے اور بخل کرتے ہیں اور اس طرح اس کو آگے بھیجنے کے بجائے ورثاء کے لئے یہیں دنیا میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مال و دولت کو اپنے لئے زیادہ پسند نہیں کرتے بلکہ اپنے ورثاء کے لئے زیادہ پسند کرتے ہیں تاہم واضح رہے کہ اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس شخص کے پاس جو کچھ مال و دولت اور اثاثہ ہو وہ ان سب کو اللہ کی راہ میں خرچ کردے اور اپنے ورثاء کے لئے کچھ بھی چھوڑ کر نہ جائے، بلکہ اصل مقصد اس بات کی طرف راغب کرنا ہے کہ مال دار لوگ بخل وامساک کا طور طریقہ نہ اپنائیں اور فقراء و مساکین کی امداد واعانت سے گریز نہ کریں بلکہ اپنے مال و دولت اور اپنے روپیہ پیسہ کا کچھ حصہ اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کریں، چناچہ اپنے مال و دولت کے کچھ حصے کو صدقہ وخٰرات کرنے اور فقراء و مساکین اور نیک کاموں کے لئے وصیت کرنے کے بعد کہ جس کی زیادہ سے زیادہ مقدار تہائی حصہ ہے، باقی کو ورثاء کے لئے چھوڑنا افضل ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ اپنے ورثاء کو تونگر چھوڑ کر جانا اس سے بہتر ہے کہ اپنا سارا مال وزر اللہ کی راہ میں خرچ کر کے دنیا سے رخصت ہوجائے اور اس کے ورثاء اپنی ضروریات کے لئے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔
مالدار کے حق میں اس کا اصل مال وہی ہے جو اس کے کام آئے
وعن مطرف عن أبيه قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقرأ : ( ألهاكم التكاثر ) قال : يقول ابن آدم : مالي مالي . قال : وهل لك يا ابن آدم إلا ما أكلت فأفنيت أو لبست فأبليت أو تصدقت فأمضيت ؟ ؟ . رواه مسلم
حضرت مطرف (رح) (تابعی) اپنے والد ماجد (حضرت عبداللہ بن شخیر ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ الہکم التکاثر پڑھ رہے تھے (جس کے معنی یہ ہیں کہ اے لوگو! تم آپس میں اپنی ثروت وامارت پر فخروناز کرنے کے سبب آخرت کے خوف سے بےپرواہ ہوگئے ہو) چناچہ حضور ﷺ نے (تکاثر یعنی آپس میں ثروت وامارت پر فخر کرنے کی وضاحت میں) فرمایا ابن آدم میرا مال، میرا مال کہتا ہے (یعنی جس کے پاس زیادہ مال ہوتا ہے وہ لوگوں پر جتاتا رہتا ہے کہ میں اتنا بڑا مالدار ہوں، میرے پاس اتنی زیادہ دولت ہے) پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ (لوگوں کا اپنے مال ومتاع پر فخر کرنا بالکل بےحقیقت بات ہے، واقعہ یہ ہے کہ) اے ابن آدم! تجھے تیرے مال سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے اور تو جتنا فائدہ اٹھاتا ہے وہ بس اتنا ہے کہ تو کچھ چیزوں کو کھالیتا ہے اور اس کو ختم کردیتا ہے، کچھ چیزوں کو پہنتا ہے اور ان کو بوسیدہ کردیتا ہے اور کچھ چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیتا ہے اور اس کو آخرت کے لئے ذخیرہ بنالیتا ہے۔ (مسلم)
حقیقی دولت، دل کا غناء ہے
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ليس الغنى عن كثرة العرض ولكن الغنى غنى النفس متفق عليه . الفصل الثاني
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اصل تونگری و دولت مندی یہ نہیں ہے کہ اپنے پاس بہت زیادہ مال ومتاع ہو بلکہ حقیقی تونگری ودولتمندی جس چیز کا نام ہے وہ نفس یعنی دل کا تونگر وغنی ہونا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
دل کا غنی ہونا یہ ہے کہ جو کچھ حاصل ہو اس پر قناعت کرے، مال و دولت اور مالداروں سے بےنیازی وبے پروائی برتے اور بلند حوصلگی اور عالی ہمتی کا مالک ہو کہ نہ تو حرص وطمع میں مبتلا ہو اور نہ کسی کے آگے دست سوال دراز کرے، چناچہ جو شخص ایسا ہو کہ اس کا دل مال و دولت حاصل کرنے اور جوڑنے ٹورنے لگا رہے اور کثرت مال کی طلب وحرص میں مبتلا ہو تو وہ حقیقت میں فقیر و محتاج ہے، خواہ ظاہر میں کتناہی مالدار کیوں نہ ہو اور جو شخص قوت کفاف پر قانع وراضی ہو اور زیادہ طلبی وحرص سے دور رہے۔ وہ اصل میں تونگر وغنی ہے اگرچہ ظاہر میں اس کے پاس کچھ بھی ہو۔ اسی حقیقت کو شیخ سعدی (رح) نے یوں بیان کیا ہے تونگری بدل است نہ بمال بزگی بعقل است نہ بسال بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ غنی النفس (یعنی نفس کے غنی ہونے) سے مراد یہ ہے کہ وہ علمی کمالات حاصل ہوں جن کے بغیر انسان کی روحانی اخلاقی زندگی نہ تو محفوظ رہتی ہے اور اس کو آسودگی و عظمت حاصل ہوتی ہے، گویا اصل خوش بختی و دولت اور تونگری کا مدار روحانی وعملی کمالات پر ہے نہ کہ مال ومتاع کی کثرت پر، جیسا کہ کسی نے کہا ہے تونگر نہ بمال است نزد اہل کمال کہ مال تالب گوراست بعد ازاں اعمال اور بعض ارباب نے یوں کہا ہے رضینا قسمۃ الجبار فینا لنا علم وللجہال مال حق تعالیٰ نے ہماری قسمت میں جو کچھ لکھدیا ہے ہم اس پر راضی و مطمئن ہیں ہمارے لئے علم کی دولت ہے اور دشمنوں کے لئے دنیاوی مال ہے فان المال یفنی عن قریب وان العلم یبقی لایزال بس اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیاوی مال بہت جلد فنا ہونے والا ہے۔ جب کہ علم کی دولت یقینا ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ یہ بات معلوم ہی ہے کہ دنیاوی مال ومتاع ان لوگوں کی میراث ہے جو اللہ کے نزدیک سخت مبغوض اور مردود ہیں، جیسے فرعون، قارون اور تمام کفار وفجار وغیرہ، جب کہ انبیاء، علماء اور اولیاء کی میراث علم و اخلاق کی دولت ہے، لہٰذا دنیادار شخص ظاہری مال ومتاع حاصل کرکے راضی و مطمئن ہوتا ہے اور دیندار شخص علم کی دولت پاکر خوش اور مطمئن ہوتا ہے۔
پانچ بہترین باتوں کی نصیحت
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أخذ عني هؤلاء الكلمات فيعمل بهن أو يعلم من يعمل بهن ؟ قلت أنا يا رسول الله فأخذ بيدي فعد خمسا فقال اتق المحارم تكن أعبد الناس وارض بما قسم الله لك تكن أغنى الناس وأحسن إلى جارك تكن مؤمنا وأحب للناس ما تحب لنفسك تكن مسلما ولا تكثر الضحك فإن كثرة الضحك تميت القلب . رواه أحمد والترمذي وقال هذا حديث غريب
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کون شخص ہے جو مجھ سے پانچ باتوں کو سیکھے اور پھر ان پر عمل کرے یا اس شخص کو سکھائے جو ان پر عمل کرنے والا ہو۔ (حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ وہ شخص میں ہوں۔ حضور ﷺ نے (یہ سن کر) میرا ہاتھ پکڑا اور وہ پانچ باتیں گنائیں اور (اس طرح) بیان فرمایا۔ (١) تم ان چیزوں سے بچو، جن کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے اگر تم ان سے بچو گے تو تم لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار بندہ ہوگے۔ (٢) تم اس چیز پر راضی وشاکر رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسمت میں لکھ دیا ہے، اگر تم تقدیر الٰہی پر راضی و مطمئن رہو گے تو تمہارا شمار تونگر ترین لوگوں میں ہوگا، یعنی جب بندہ اپنے مقسوم پر راضی و مطمئن ہوجاتا ہے اور طمع وحرص سے پاک ہو کر زیادہ طلبی کی احتیاج نہیں رکھتا تو وہ مستغنی اور بےنیاز ہوجاتا ہے تونگری کا اصل مفہوم بھی یہی ہے۔ (٣) تم اپنے ہمسایہ سے اچھا سلوک کرو (اگرچہ تمہارے ساتھ برا سلوک کرے) اگر تم ایسا کروگے تو تم کامل مومن سمجھے جاؤگے۔ (٤) تم زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرو، کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ (اور اللہ کی یاد سے غافل) بنا دیتا ہے (اگر تم زیادہ ہنسنے سے اجتناب کرو گے تو تمہارا دل روحانی بالیدگی وتروتازگی اور نور سے بھرا رہے گا اور ذکر اللہ کے ذریعہ اس کو زندگی و طمانیت نصیب ہوگی) اس روایت کو احمد نے نقل کیا ہے اور (ترمذی نے) کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
حدیث کے ابتدائی جملوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ علم، بذات خود افضل اشرف ہے کہ کسی شخص کا محض علم کا حاصل ہونا اس کی فضیلت کی دلیل ہے، ہاں اگر اس علم پر عمل پیرا ہونے کی دولت بھی نصیب ہوجائے تو اس سے بڑی کوئی سعادت ہی نہیں کہ علم کا اصل مقصود حاصل ہوجاتا ہے، لیکن اگر کوئی عالم اپنے علم پر خود تو عمل نہ کرے البتہ تعلیم و تلقین کے ذریعہ اس علم کی روشنی دوسرے تک پہنچائے اور سیدھی راہ دکھانے کا فریضہ انجام دے تو اس کو اس صورت میں بھی ثواب ملتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بےعمل عالم کا لوگوں کو نیکی و بھلائی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا درست ہے۔ محارم کے مفہوم میں ہر طرح کی ممنوع چیزوں کو اختیار کرنا اور جن چیزوں کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کو ترک کرنا شامل ہے لہٰذا تم محارم یعنی ان چیزوں سے بچو جن کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف ممنوع اور حرام چیزوں سے اجتناب کرو بلکہ شریعت نے جن چیزوں کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ان کو ترک کرنے سے بھی اجتناب کرو۔ محارم سے اجتناب کرنے والے کو سب سے زیادہ عبادت گزار بندہ اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ محارم سے اجتناب کرنا گویا ان فرائض سے عہدہ برآ ہونا ہے جو حق تعالیٰ نے عائد کئے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ فرائض کو پورا کرنے سے افضل کوئی عبادت نہیں ہے، جب کہ عام لوگ فرائض کو ترک کرتے ہیں یا ان کی طرف کم توجہ دیتے ہیں اور کثرت نوافل میں مشغول رہتے ہیں اور اس طرح وہ گویا اصول اور بنیاد کو تو ضائع کرتے ہیں اور فروعات و فضائل کو اختیار کرتے ہیں، مثلا بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص پر روزوں کی قضا واجب ہوتی ہے مگر وہ اس قضا کو ادا کرنے کی طرف سے تو غافل رہتا ہے میں البتہ حصول علم اور فضل عبادات میں مشغول رہنے کو ترجیح دیتا ہے، یا ایک شخص پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے یا لوگوں کے مالی حقوق اس کے ذمہ ہوتے ہیں مگر وہ زکوٰۃ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف تو کوئی توجہ نہیں دیتا البتہ فقراء و مساکین پر خرچ کرنا اور مساجد ومدارس کی تعمیر واعانت یا اسی طرح کے دوسرے نافلہ امور میں پورے زوق وشوق کے ساتھ اپنا مال خرچ کرتا ہے۔ تقدیر الٰہی پر راضی و مطمئن ہونا اور اپنے مقسوم پر صابر وشاکر رہنا، بڑا اونچا مرتبہ ہے، جس شخص کو یہ مقام نصیب ہوجاتا ہے وہ حرص وطمع سے پاک رہتا ہے، زیادہ طلبی سے اپنا دامن چھپاتا ہے اور قلبی استغنا و تونگری کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارہ نہیں کرتا۔ منقول ہے کہ ایک شخص نے مشہور بزرگ حضرت سید ابوالحسن شاذلی سے کیمیا کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ (کیمیا) دو باتوں میں پوشیدہ ہے۔ ایک تو یہ کہ تم مخلوق کو نظر سے گرادو (یعنی غیر اللہ کو حاجت روا اور مشکل کشا بنانے کے قابل نہ سمجھو اور اللہ کے سوا کسی اور سے اپنی حاجت کو وابستہ نہ کرو) او دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ سے بھی یہ امید وابستہ نہ کرو کہ وہ تمہیں اس چیز کے علاوہ کچھ اور بھی دے جو اس نے تمہاری قسمت میں لکھ دی ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) نے فرمایا۔ اے انسان اس بات کو جان لے کہ جو چیز تیری قسمت میں لکھی جاچکی ہے وہ ہر حال میں تجھے ملے گی، خواہ تو طلب وسوال کی راہ اختیار کر یا اس راہ کو ترک کردے اور جو چیز تیری قسمت میں نہی لکھی ہے وہ تجھ کو کسی حالت میں نہیں ملے گی۔ خواہ تو اس کی طلب کی کتنی ہی حرص رکھے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے کتنی ہی سعی و کوشش اور محنت ومشقت برداشت کرے، لہٰذا (تجھے جو کچھ مل جائے) اس پر شاکر وصابر رہ، ہر حالت میں جائز و حلال چیز کو حاصل کرنا ضروری سمجھ اور اپنے مقسوم پر راضی و مطمئن رہ تاکہ رب ذوالجلال تجھ سے راضی وخوش رہے۔ تم جس چیز کو اپنے لئے پسند کرتے ہو کا مطلب یہ ہے کہ دین ودنیا کی بہتری و بھلائی کی جس چیز کو تم خاص طور پر اپنے لئے پسند کرتے ہو اس چیز کو دوسروں کے لئے بھی پسند کرو، یہاں تک کہ کافر کے لئے ایمان کو اور فاجر کے لئے توبہ وانابت کو پسند کرو۔
دنیاوی تفکرات اور غم روزگار کی پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله يقول ابن آدم تفرغ لعبادتي أملأ صدرك غنى وأسد فقرك وإن لا تفعل ملأت يدك شغلا ولم أسد فقرك . رواه أحمد وابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لئے تو اپنے دل کو اچھی طرح مطمئن و فارغ کرلے، میں تیرے سینے کو استغناء سے بھردوں گا (یعنی تیرے دل کو علوم و معارف کی دولت سے مالا مال کردوں گا، (جس کے سبب تو غیر اللہ سے بےنیاز ومستغنی ہوجائے گا) اور تیرے لئے فقروافلاس کی راہ کو بند کردوں گا۔ اگر تو نے ایسا نہ کیا (یعنی میں نے جو یہ حکم دیا ہے کہ دنیا سے بےپروائی اختیار کر کے اپنے رب کی عبادت کی طرف متوجہ رہ، کہ یہ چیز دنیا وآخرت دونوں جگہ فائدہ پہنچاتی ہے، اگر تو نے اس حکم سے اعراض کی اور اپنے قوائے فکروعمل کو میری عبادت میں مشغول رکھنے کے بجائے صرف دنیاوی امور اور اپنے نفس کی خواہشات کی تکمیل میں مشغول ومنہمک رکھا) تو میں تیرے ہاتھوں اور دیگر قوائے عمل کو طرح طرح کے تفکرات اور مشاغل سے بھردوں گا اور تیرے فقر و احتیاج کو دور نہیں کروں گا (احمد وابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ فقر و افلاس اور تفکرات وآلام کے بادل محض اس طور سے نہیں پوچھتے کہ اپنے تمام اوقات کو طلب معاش اور حصول مال کی جدوجہد اور محنت ومشقت میں صرف کرے اور ہر لمحہ دنیاوی امور ومشاغل میں سرگرداں رہے، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اس کی صورت میں تمام پریشانیاں اور سرگردانیاں اپنی جگہ باقی رہتی ہیں جب کہ عبادت الٰہی کے لئے اپنے قوائے فکر وعمل اور اوقات کو دنیاوی فکرات مشاگل سے فارغ رکھنا کشائش حالات کا ضامن بھی ہے اور غیر اللہ سے استغناء وبے نیازی کے حصول کا باعث بھی، اس بات بات کو دوسرے لفظوں میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے ہر وقت غم روزگار کی الجھنوں کو اپنے اوپر مسلط رکھنے اور طلب زر کی راہ میں ناروا محنت ومشقت کی صعوبتوں اور تفکرات میں پھنس کر اپنے آپ کو تعب وغم میں مبتلا رکھنے کی وجہ سے اس مقدار سے زائدہ تو کچھ حاصل ہونے سے رہا، جو ازل سے قسمت میں لکھ دی گئی ہے البتہ الٹا اثر یہ ضرور ہوگا کہ عبادت الٰہی کو ترک کرنے کے سبب قلبی استغناء کی دولت سے بھی محروم ہوجائے گا۔
وعن جابر قال ذكر رجل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم بعبادة واجتهاد وذكر آخر برعة فقال النبي صلى الله عليه وسلم لا تعدل بالرعة . يعني الورع . رواه الترمذي
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو کثرت کے ساتھ عبادت وطاعت میں مشغول رہتا ہے اور اس میں بہت زیادہ سعی و اہتمام کرتا ہے (اگرچہ وہ گناہوں سے بہت کم اجتناب کرتا ہے) اور ایک دوسرے شخص کے بارے میں ذکر کیا گیا جو پرہیز گاری کو اختیار کرتا ہے (چنانچہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ پہلا شخص افضل ہے یا دوسرا شخص؟ ) تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ (پرہیزگاری کے بغیر) کثرت عبادت وطاعت اور اس میں سعی و اہتمام کرنے کو پرہیز گاری کے برابر نہ ٹھہراؤ (اگرچہ اس پرہیز گاری کے ساتھ عبادت وطاعت کی اس قدر کثرت اور سعی اور اہتمام شامل نہ ہو۔ (ترمذی)
تشریح
یعنی الورع کے الفاظ اصل حدیث کا جزو نہیں ہیں بلکہ کسی راوی کا اپنا قول ہے جس نے ان الفاظ کے ذریعہ رعۃ کی وضاحت کی ہے کہ اس لفظ سے مراد ورع ہے۔ واضح رہے کہ ورع سے مراد تقویٰ ہے یعنی حرام چیزوں سے بچنا اور جس کے مفہوم میں عبادات واجبہ کو ادا کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص عبادت و طاعات تو زیادہ کرے لیکن گناہوں سے اجتناب کے معاملہ میں کمزور ہو وہ اس شخص سے افضل نہیں ہوسکتا جو پرہیز گاری کو اختیار کئے ہوئے ہو، اگرچہ اس کے ہاں عبادت وطاعت کی کثرت اور اس میں زیادہ سعی و اہتمام نہ ہو۔