دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 153 · 75 hadiths · Page 2 of 4

5065Mishkaat-al-Masabih

پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو

وعن عمرو بن ميمون الأودي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرجل وهو يعظه اغتنم خمسا قبل خمس شبابك قبل هرمك وصحتك قبل سقمك وغناك قبل فقرك وفراغك قبل شغلك وحياتك قبل موتك . رواه الترمذي مرسلا

حضرت عمر بن میمون اودی (تابعی (رح) ) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو! یعنی پانچ حالتیں ایسی ہیں کہ جب وہ موجود ہوں تو ان کو ان پانچ حالتوں سے غنیمت سمجھو جو زمانہ آئندہ میں پیش آنے والی ہیں (١) بڑھاپے سے پہلے جوانی کو یعنی اپنے اس زمانہ کو غنیمت جانو اور اس سے پورا فائدہ اٹھاؤ جس میں تمہیں عبادت و طاعات کی انجام دہی اور اللہ کے دین کو پھیلانے کی طاقت وہمت میسر ہو۔ قبل اس کے کہ تمہارے جسمانی زوال کا زمانہ آجائے اور تم عبادت وطاعت وغیرہ کی انجام دہی میں ضعف و کمزوری محسوس کرنے لگو (٢) بیماری سے پہلے صحت کو یعنی ایمان کے بعد جو چیز سب سے بڑی نعمت ہے وہ صحت و تندرستی ہے، لہٰذا اپنی صحت و تندرستی کے زمانہ میں اگرچہ وہ بڑھاپے کے دور ہی میں کیوں نہ ہو، یعنی دینی و دنیاوی بھلائی و بہتری کے لئے جو کچھ کرسکتے ہو کر گزرو، (٣) فقرو افلاس سے پہلے تونگری و خوشحالی کو (یعنی تمہیں جو مال و دولت نصیب ہے قبل اس کے کہ وہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے یا موت کا پنجہ تمہیں اس سے جدا کردے تم اس کو عبادت مالیہ اور صدقات و خیرات میں خرچ کرو اور اس دولتمندی و خوشحالی کو ایک ایسا غنیمت موقع سمجھو جس میں تم اپنی اخروی فلاح وسعادت کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہو۔ (٤) مشاغل وتفکرات میں مبتلا ہونے سے پہلے وقت کی فراغت و اطمینان کو۔ (٥) موت سے پہلے زندگی کو، اس روایت کو ترمذی نے بطریق ارسال نقل کیا ہے۔ تشریح اغتنم کا لفظ اغتنام سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں غنیمت کا مال لینا۔ اور غنیمت اصل میں تو اس مال کو کہتے ہیں جو مسلمانوں نے لڑ کر اور حملہ کر کے حربی کافروں سے حاصل کیا ہو، لیکن اس لفظ کا اطلاق اس چیز پر بھی ہوتا ہے جو کسی محنت ومشقت کے بغیر ہاتھ لگی ہو۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جوانی، صحت، دولت فراغت وقت اور زندگی ایسی چیزیں ہیں جو ہمیشہ ساتھ نہیں دیتیں۔ جوانی کے بعد بڑھاپے، صحت کے بعد بیماری، دولت کے بعد محتاجگی، فراغت وقت کے بعد تفکرات ومشاغل اور زندگی کے بعد موت کا پیش آنا لازمی امر ہے، لہٰذا جب تک یہ چیزیں پیش نہ آئیں موقع غنیمت جانو اور اس میں اپنی دنیاوی و اخروی بھلائی و بہتری کے لئے جو کچھ کرسکتے ہو اس سے غفلت اختیار نہ کرو۔

5066Mishkaat-al-Masabih

غنیمت کے موقعوں سے فائدہ نہ اٹھانا اپنے نقصان وخسران کا انتظار کرنا ہے

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ما ينتظر أحدكم إلا غنى مطغيا أو فقرا منسيا أو مرضا مفسدا أو هرما مفندا أو موتا مجهزا أو الدجال فالدجال شر غائب ينتظر أو الساعة والساعة أدهى وأمر رواه الترمذي والنسائي

حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے کوئی شخص تونگری کا انتظار کرتا رہتا ہے جو گنہگار کرنے والی اور امرونہی کی حدود سے متجاوز کرنے والی ہے یا فقر و افلاس کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ جو طاعت حق کو بھلا دینے والا ہے (یعنی فقروافلاس میں مبتلا ہونے والا شخص بھوک وبرہنگی کے مصائب میں گرفتار ہو کر اور ضروریات زندگی کی فراہمی کے چکر میں پھنس کر اللہ کی عبادت وطاعت سے غافل ہوجاتا ہے، بیماری کا انتظار کرتا رہتا ہے جو (اپنی سختی وشدت کی وجہ سے) بدن کو (یا کمزور یاسستی کے سبب دینی زندگی کو) تباہ کردینے والی ہے، یا سخت بڑھاپے کا انتطار کرتا رہتا ہے جو بےعقل و بدحو اس اور بےہودہ گو بنا دیتا ہے، یا موت کا انتظار کرتا ہے جو ناگہا کام تمام کردیتی ہے (کہ بعض وقت توبہ کرنے کا موقع بھی نہیں دیتی) یا دجال کا انتظار کیا جاتا ہے اور وہ آخر زمانہ میں ظاہر ہوگا، یا وہ قیامت کا انتظار کرتا رہتا ہے جو حوادث، آفات میں سب سے زیادہ سخت وشدید ہے۔ (ترمذی، نسائی) تشریح حدیث کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو فرصت و فراغت اور کچھ کرلینے کا موقع نصیب ہوتا ہے وہ اس کو غنیمت نہیں جانتا اور اس طرح گویا وہ اس وقت کا منتظر رہتا ہے جب وہ موقع ہاتھ سے نکل جائے اور ایسی صورت حال پیش آجائے جو اس کو ان بھلائیوں اور سعادتوں سے محروم کردے جن سے وہ بس اسی گزرے ہوئے زمانہ میں بہرہ مند ہوسکتا ہے، مثلاً اگر کوئی شخص فقروافلاس میں مبتلا ہوتا ہے تو چاہئے تو یہ کہ وہ اس حالت کو اپنے لئے غنیمت جانے اور یہ سمجھے کہ مال و دولت کی وجہ سے جو خرابیاں اور برائیاں پیدا ہوجاتی ہیں ان سے اللہ نے بچا رکھا ہے اور اس وقت یہ موقع نصیب ہوتا ہے کہ اپنی موجودہ حالت پر صبر و استقامت کی راہ اختیار کر کے اللہ کا صابر بندہ بن جاؤں، لیکن اس کے بجائے وہ اپنی حالت فقر کا شاکی ہو کر مال ومتاع کا طلبگار ہوتا ہے اس کا نفس اس کو تونگری ومالداری کے پیچھے کھینچے کھینچے پھرتا ہے اور وہ گویا اس مال و دولت کی خواہش رکھتا ہے جس کا نشہ سرکشی میں مبتلا اور راہ راست سے دور کردیتا ہے، اسی طرح جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال و دولت سے نوازتا ہے وہ اپنی اس مالداری کی حالت میں ادائیگی شکر سے بےپروا ہوتا ہے اور اس مال و دولت کو بھلائیوں کے کاموں میں خرچ کرنے کے بجائے ادھرادھر لٹا کر اللہ کی اتنی بڑی نعمت کی بےقدری کرتا ہے اور اپنے اس طرز عمل سے گویا فقروافلاس کی طرف جانا چاہتا ہے جو معاشی تفکرات وپریشانیوں میں مبتلا کر کے عبادات وطاعت سے غافل کردیتا ہے۔ اسی پر حدیث کے دوسرے جملوں کے مطلب کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ الفاظ انتظار کرتا رہتا ہے دراصل ان لوگوں کے حق میں تنبیہ وسرزنش کے طور پر ہیں جو دین کے کاموں میں غفلت وسستی اور عبادات و طاعات میں تقصیر و کوتاہی کرتے ہیں، گویا ان کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے رب کی عبادت و اطاعت اور اپنے دین کی خدمت کی راہ آخر کب اختیار کرو گے؟ اگر تم نے دین کی خدمت اور اپنے رب کی عبادت وطاعت اس وقت نہیں کی جب تمہیں قلت مشاغل و فراغت وقت اور جسمانی طاقت و توانائی کی صورت میں اس کا بہترین موقع نصیب ہے تو پھر اس وقت کس طرح کر پاؤ گے جب یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا؟ اور کثرت مشاغل اور ضعف بدن و خرابی صحت کی وجہ سے تم اس پر پوری طرح قادر نہیں رہو گے؟ تو کیا تم فائدہ کا موقع چھوڑ کر ٹوٹے کے وقت کے منتظر ہو اور اپنے نقصان و خسران کی راہ دیکھ رہے ہو۔

5067Mishkaat-al-Masabih

دنیا کی مذمت

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ألا إن الدنيا ملعونة ملعون ما فيها إلا ذكر الله وما والاه وعالم أو متعلم . رواه الترمذي وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یاد رکھو، دنیا ملعون ہے (یعنی دنیا کو بارگاہ الٰہی سے دھتکار دیا گیا ہے کیونکہ یہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے دور رکھتی ہے) اور جو چیز دنیا کے اندر ہے وہ بھی ملعون ہے (یعنی دنیا کی جو چیزیں ذکر اللہ سے غافل رکھتی ہیں ان کو بھی راندہ درگاہ قرار دے دیا گیا ہے) لہٰذا ذکر اللہ، اللہ کی پسندیدہ چیزیں، عالم اور متعلم (وہ چیزیں ہیں جن کو بارگاہ رب العزت میں مقبول قرار دیا گیا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح اس ارشاد گرامی کا مقصد، دنیا سے بےرغبت کرنا اور یہ تعلیم دینا ہے کہ دنیا کی جن چیزوں کو اللہ نے ناپسند کیا ہے جیسے تمام حرام و ناجائز امور، ان سے اجتناب کرو کہ مبادا ان چیزوں کو اختیار کرنے کی وجہ سے تم بھی راندہ درگاہ رب العزت قرار پاجاؤ گے اور جو چیزیں اللہ کے یہاں مقبول و پسندیدہ ہیں جیسے ذکر اللہ نیک کام اور تعلیم و تعلم وغیرہ ان کو اختیار کرو تاکہ تم بھی مقبول بارگاہ رب العزت قرار پاؤ اللہ کی پسندیدہ چیزوں سے۔ عبادات و طاعات اور تمام وہ چیزیں مراد ہیں جو اللہ کی خوشنودی کا باعث اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہیں! یا ماوالاہ (جس کا ترجمہ اللہ کی پسندیدہ چیزیں کیا گیا ہے) کے معنی یہ ہیں کہ وہ چیز جو ذکر اللہ کے قریب اور اس کے مشابہ ہو، جیسے انبیاء و اولیاء اور صلحاء کے حالات و فضائل کا ذکر اور اعمال صالحہ یا یہ معنی ہیں کہ وہ چیز جو ذکر اللہ کے تابع اور اس کے لوازم ومقتضیات میں سے ہے جیسے احکام الٰہی (اوامر ونواہی) کی اتباع و فرمانبرداری۔ لہٰذا ماوالاہ کے پہلے معنی ( جو ترجمہ میں نقل کئے گئے ہیں) مراد لینے کی صورت میں لفظ والاہ کا مادہ اشتقاق ولی ہوگا جس کے معنی محبت اور دوستی کے ہیں، دوسرے معنی مراد لینے کی صورت میں یہ لفظ گویا ولی سے مشتق ہوگا جس کے معنی متابعت کے ہیں۔ لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ اس ساری وضاحت کا تعلق اس امر کو تسلیم کرنے سے ہے کہ ذکر اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے نام کا ورد ہے جیسا کہ عام طور پر ذکر اللہ کا یہی مفہوم سمجھا جاتا ہے اور اگر ذکراللہ سے مراد ہر وہ عمل خیر ہو جو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی، اس کا تقرب حاصل کرنے اور اس کی عبادت کی نیت سے کیا جائے تو اس معنی کے اعتبار سے تمام ہی عبادتیں اور طاعتیں ذکراللہ کے مفہوم میں داخل ہوں گے اور پھر لفظ ماوالاہ سے وہ چیز مراد ہوں گی جو ذکر اللہ کے اسباب و ذرائع ہونے کی وجہ سے اس کا باعث اور معین و مددگار ہوتی ہے یہاں تک کہ بقدر کفاف کھانا پینا اور ضروریات زندگی کی دیگر چیزوں کا شمار بھی انہی اسباب میں ہوگا۔ اس صورت میں کہا جائے گا کہ بعد میں عالم اور متعلم کا ذکر تخصیص کے طور پر ہے۔

5068Mishkaat-al-Masabih

دنیا کے بے وقعت ہونے کی دلیل

وعن سهل بن سعد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو كانت الدنيا تعدل عند الله جناح بعوضة ما سقى كافرا منها شربة رواه أحمد والترمذي وابن ماجه

حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ دنیا اگر اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو اللہ تعالیٰ اس میں سے کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔ (احمد، ترمزی، ابن ماجہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس دنیا کی کچھ بھی وقعت ہوتی تو اس دنیا کی کوئی ادنیٰ ترین چیز بھی کافر کو نصیب نہ ہوتی، کیونکہ کافر، دشمن اللہ ہے اور ظاہر ہے کہ جو چیز کچھ بھی قدر و وقعت رکھتی ہے دینے والا وہ چیز اپنے کسی دشمن کو ہرگز نہیں دیتا، لہٰذا دنیا کے بےوقعت اور نہایت حقیر ہونے ہی کا سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ دنیا کافروں کو دیتا ہے لیکن اپنے پیارے بندوں کو نہیں دیتا، جیسا کہ ایک حدیث میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے مارویت الدنیا عن احد الا کانت خیرۃ لہ، دنیا (کے مال وجاہ) کا مستحق وہی شخص ہوتا ہے جس کے لئے دنیا ہی بہتر ہوتی ہے۔ نیز کفار وفجار جو دنیا میں زیادہ خوشحال ومتمول نظر آتے ہیں تو اس کا سبب بھی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں یہ دنیا بڑی ذلیل چیز ہے جس کو وہ اپنے دوستوں (نیک بندوں) کے لئے اچھا نہیں سمجھتا، بلکہ اس کو کوڑے کرکٹ کی طرح ان لوگوں (کفاروفجار) کے سامنے ڈال دیتا ہے جس سے اس کو نفرت ہے، چناچہ اس آیت کریمہ میں اسی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ لولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ لجعلنا لمن یکفر بالرحمن لبیوتہم سقفا من فضۃ، اگر یہ بات (متوقع) نہ ہوتی کہ (قریب قریب) تمام لوگ ایک ہی طریقہ کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہیں ہم ان کے لئے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی کردیتے۔ نیز قرآن کریم کی ان آیات (وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّلْاَبْرَارِ ) 3۔ آل عمران 198) اور (وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى) 42۔ الشوری 36) سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے۔

5069Mishkaat-al-Masabih

کمانے میں اتنا منہمک نہ رہو کہ اللہ سے غافل ہو جاؤ

وعن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تتخذوا الضيعة فترغبوا في الدنيا . رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ضیعہ کو اس طرح) اختیار نہ کرو کہ وہ دنیا کی طرف رغبت کا سبب بن جائے۔ (ترمذی، بیہقی) تشریح ضیعۃ سے مراد دنیاوی اسباب و سامان اور کمانے کے ذرائع ہیں جیسے صنعت و تجارت، زراعت، زمین و جائیداد اور باغ وگاؤں وغیرہ، حدیث کا حاصل یہ ہے کہ حصول معاش اور کمانے کے جو ذرائع خواہ وہ مذکورہ چیزیں ہوں یا ان کے علاوہ کچھ اور ہوں، ان میں اس طرح کی مشغولیت اور انہماک اختیار کرنا ممنوع ہے جس سے انسان عبادت الٰہی اور آخرت کی طرف اچھی طرح متوجہ نہیں رہتا بلکہ زیادہ طلبی کی حرص میں مبتلا ہو کر ہر وقت دنیاوی دھندوں میں مشغول رہتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ حدیث میں مذکورہ حکم اس شخص کے حق میں ہے جو حصول معاش کے دنیاوی اسباب و وسائل میں گرفتار ہو اور مسبب حقیقی (اللہ تعالیٰ ) کی طرف توجہ اور اس کی یاد سے بےپرواہ ہو اور حقوق اللہ وحقوق العباد کی ادائیگی سے باز رہے، اگر ایسا نہ ہو تو پھر حصول معاش کے جائز اسباب و ذرائع کو اختیار کرنے اور حلال دنیاوی دھندوں میں مشغول ہونے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ قرآن کریم کی اس آیت ( رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَاِيْتَا ءِ الزَّكٰوةِ ) 24۔ النور 37) کے جس طرح یہ معنی مراد لئے جاسکتے ہیں کہ قرآن نے ان الفاظ کے ذریعہ ان لوگوں کی تعریف وتحسین فرمائی ہے جو تجارت وبیع کی مشغولیت کو محض اس لئے اختیار نہیں کرتے کہ امور آخرت کی طرف ان کے متوجہ رہنے میں انہیں کوئی مانع پیش نہ آئے اسی طرح یہ معنی بھی مراد لئے جاسکتے ہیں کہ اس آیت میں دراصل ان لوگوں کی تعریف وتحسین فرمائی گئی ہے جو اپنی تجارت وغیرہ میں مشغول رہنے کے باوجود امور آخرت سے غافل نہیں ہوتے بلکہ اپنی دنیا کے ساتھ اپنی آخرت کے صلاح و فلاح کی طرف بھی متوجہ رہتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ مؤخرالذکر معنی ہی زیادہ موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ واقام الصلوۃ وایتاء الزکوۃ کے الفاظ کی مناسبت سے یہی مفہوم ہوتا ہے۔

5070Mishkaat-al-Masabih

دنیا کی محبت، آخرت کے نقصان کا سبب ہے

وعن أبي موسى قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أحب دنياه أضر بآخرته ومن أحب آخرته أضر بدنياه فآثروا ما يبقى على ما يفنى . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی دنیا کو دوست رکھتا ہے (اس قدر دوست رکھنا کہ اللہ کی محبت پر غالب آجائے) تو وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے (یعنی آخرت میں اپنے درجہ کو گھٹاتا ہے کیونکہ جب اس پر دنیا کی محبت غالب آجاتی ہے تو اس کا ظاہر و باطن ہمہ وقت دنیاوی امور میں مشغول ومنہمک رہتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ امور آخرت اور طاعت الٰہی کے لئے فراغت و موقع سے محروم رہتا ہے) اور جو شخص اپنی آخرت کو درست رکھتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے (کیونکہ وہ ہمہ وقت امور آخرت میں مشغول ومنہمک رہنے کی وجہ سے دنیاوی امور کی طرف متوجہ نہیں رہتا) پس (جب تم نے یہ جان لیا کہ دنیا اور آخرت کی دوستی ایک دوسرے کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی تو) تمہیں چاہئے کہ جو چیز فنا ہوجانے والی ہے یعنی دنیا، اس پر اس چیز کو ترجیح دو جو باقی رہنے والی ہے یعنی آخرت۔ (احمد، بیہقی)

5071Mishkaat-al-Masabih

مال وزر کا غلام بن جانے والے پر حضور ﷺ کی لعنت

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم لعن عبد الدينار ولعن عبد الدرهم . رواه الترمذي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص دینار کا غلام اور درہم کا غلام بن جائے وہ ملعون ہے یا یہ معنی ہیں کہ جو شخص دینار کا غلام اور درہم کا غلام بن جائے اس پر لعنت ہو (ترمذی) تشریح لعن کے معنی ہیں ہانک دینا، بھلائی سے محروم کردینا اور اللہ کی رحمت سے دور کردینا! حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مال وزر اور روپیہ پیسہ کی محبت میں اس طرح گرفتار ہوجائے کہ ان کی وجہ سے اللہ کی عبادت وطاعت سے بعد اختیار کرلے تو وہ گویا مال وزر اور روپیہ پیسہ کا غلام ہے۔ اور ایسا شخص، تمام بھلائیوں سے محروم، رحمت الٰہی سے دور اور راندہ درگاہ رب العزت قرار دیا جاتا ہے۔

5072Mishkaat-al-Masabih

جاہ ومال کی حرص دین کے لئے نہایت نقصان دہ ہے

وعن كعب بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لها من حرص المرء على المال والشرف لدينه رواه الترمذي والدارمي

حضرت کعب بن مالک ؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو بھوکے بھیڑئیے جن کو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے، اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ انسان کی حرص، جو مال وجاہ کے تئیں ہو، اس کے دین کو نقصان پہنچاتی ہے۔ (ترمذی، دارمی) تشریح دین کو گویا بکری کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے اور حرص کا مشابہ بھیڑئیے کو قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا مطلب یہ ہوا کہ اگر دو بھوکے بھیڑیوں کو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے تو وہ بھی اس ریوڑ کو اس طرح تباہ نہیں کرتے جس طرح کہ ایک انسان کی حرص، اس کے دین کو خراب وتباہ کردیتی ہے۔ حدیث کی سند مشکوۃ کے نسخوں میں اس طرح منقول ہے جیسا کہ اوپر نقل کی گئی ہے یعنی عن کعب ابن مالک عن ابیہ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس روایت کو حضرت کعب بن مالک ؓ نے اپنے والد سے اور انہوں نے آنحضرت ﷺ سے نقل کیا ہے حالانکہ حقیقت میں یہ بات صحیح نہیں ہے اور بربناء سہو وخطا یہ سند اس طرح نقل ہوئی ہے کیونکہ حضرت کعب بن مالک ؓ کے والد کو اسلام کی سعادت نصیب ہی نہیں ہوئی تھی اور ظاہر ہے کہ ان کا آنحضرت ﷺ سے کسی حدیث کو نقل کرنا کوئی معنی ہی نہیں رکھتا، لہٰذا یہ سند صحیح طور پر یوں ہے عن ابن کعب ابن مالک عن ابیہ یعنی ابن کعب اپنے والد حضرت کعب ابن مالک سے روایت کرتے ہیں۔ چناچہ جامع ترمذی میں یہ سند اسی طرح نقل کی گئی ہے اور مشکوۃ کے بعض نسخوں میں بھی اس طرح منقول ہے پس اس حدیث کے اصل راوی حضرت کعب ابن مالک ؓ ہیں جو مشہور صحابی ہیں اور ان یعنی صحابہ ؓ میں سے ایک ہیں جو غزوہ تبوک میں شریک ہونے سے باز رہے تھے اور جن کا قصہ بہت مشہور ہے۔

5073Mishkaat-al-Masabih

ضرورت سے زیادہ تعمیر پر روپیہ خرچ کرنا لاحاصل چیز ہے

وعن خباب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما أنفق مؤمن من نفقة إلا أجر فيها إلا نفقته في هذا التراب . رواه الترمذي وابن ماجه

حضرت خباب ؓ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مسلمان (اپنی معیشت کے مصارف میں) جو کچھ خرچ اخراجات کرتا ہے اس کو اس کا ثواب دیا جاتا ہے علاوہ اس خرچ کے جو اس مٹی میں کرتا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ مکان وغیرہ کی تعمیر میں جو کچھ خرچ ہوتا ہے اس پر کوئی اجروثواب نہیں ملتا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کہ وہ تعمیر، و حاجت سے زائد ہو، ورنہ اپنی حاجت کے بقدر گھر بنانا، ضروریات زندگی میں شامل ہے اور اس کی تعمیر پر صرف کیا جانے والا روپیہ پیسہ ضائع نہیں ہوجاتا، اسی طرح ہی خیروبھلائی کے مکانات جیسے مساجد ومدارس اور ان جیسی دوسری عمارتوں کا معاملہ بھی مذکورہ حکم سے مستثنی ہے کہ ان کا بنانا مستحب ومستحسن ہے۔

5074Mishkaat-al-Masabih

ضرورت سے زیادہ تعمیر پر روپیہ خرچ کرنا لاحاصل چیز ہے

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم النفقة كلها في سبيل الله إلا البناء فلا خير فيه . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (ضروریات زندگی کے) تمام مصارف اللہ کی راہ میں (خرچ کرنے کے برابر) ہیں (یعنی انسان اپنی اور اپنے متعلقین کی ضروریات پر جو کچھ خرچ کرتا ہے اس کو اس کا ثواب ملتا ہے بشرطیکہ تقرب الٰہی کی نیت سے خرچ کرے) البتہ (ضرورت و حاجت سے زائدہ) تعمیر پر خرچ کرنا کوئی نیکی اور ثواب نہیں رکھتا۔ اس حدیث کو امام ترمذی (رح) نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح ضرورت سے زائد تعمیر پر خرچ کرنا اسراف ہے اور اللہ تعالیٰ اسراف کو پسند نہیں کرتا، اس کے برخلاف دیگر ضرورت پر بہ نیت تقرب الٰہی جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے۔ اس میں اسراف کا شائبہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ خرچ لوگوں کو کھلانے اور عطاوبخشش کی قسم سے ہوتا ہے۔ خواہ وہ مستحق ہوں یا غیر مستحق اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں یعنی کھلانے اور عطاء و بخشش سے خوش ہوتا ہے۔

5075Mishkaat-al-Masabih

بلاضرورت عمارت بنانے پر وعید

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج يوما ونحن معه فرأى قبة مشرفة فقال ما هذه ؟ قال أصحابه هذه لفلان رجل من الأنصار فسكت وحملها في نفسه حتى إذا جاء صاحبها فسلم عليه في الناس فأعرض عنه صنع ذلك مرارا حتى عرف الرجل الغضب فيه والإعراض فشكا ذلك إلى أصحابه وقال والله إني لأنكر رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالوا خرج فرأى قبتك . فرجع الرجل إلى قبته فهدمها حتى سواها بالأرض . فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فلم يرها قال ما فعلت القبة ؟ قالوا شكا إلينا صاحبها إعراضك فأخبرناه فهدمها . فقال أما إن كل بناء وبال على صاحبه إلا ما لا إلا ما لا يعني ما لا بد منه . رواه أبو داود

حضرت انس ؓ کہتے ہی کہ ایک روز رسول کریم ﷺ (کہیں جانے کے لئے) باہر نکلے۔ ہم صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھی، آپ ﷺ نے راستہ میں ایک بلند قبہ کو دیکھا تو تحقیر ونفرت کے لہجہ میں فرمایا کہ یہ قبہ کیا ہے؟ (یعنی یہ ناپسندیدہ عمارت کس نے بنائی ہے؟ ) صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یہ قبہ فلاں شخص نے بنایا ہے جو ایک انصاری ہے۔ آپ ﷺ (یہ سن کر) خاموش رہے اور (کچھ فرمایا تو نہیں لیکن) اس بات کو (ناگواری اور غصہ کے طور پر) اپنے دل میں رکھا یہاں تک کہ جب اس قبہ کا مالک آپ ﷺ کی خدمت میں آیا ور اس نے لوگوں کی موجوگی میں آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا (یعنی یا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب ہی نہیں دیا یا جواب تو دیا لیکن اس سے منہ پھیرلیا تاکہ اسے تنبیہ ہوجائے اور دوسرے لوگوں کو بھی تنبیہ ہوجائے) آنحضرت ﷺ نے ایسا کئی مرتبہ کیا (کہ وہ شخص آپ ﷺ کو سلام کرتا اور آپ ﷺ اس کا جواب نہ دیتے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے) آخرکار اس شخص نے (ان) صحابہ ؓ سے (کہ جو حضور ﷺ کے خاص مصاحب اور ہم نشین تھے اس امر کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ بخدا، میں ایسا دیکھ رہا ہوں جیسے رسول کریم ﷺ مجھ سے ناآشنا ہوں (یعنی میں رسول کریم ﷺ کے چہرہ مبارک پر جس غضب وغصہ کے آثار دیکھ رہا ہوں وہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے اور مجھے اس کا سبب بھی معلوم نہیں کہ آپ ﷺ کیوں اتنا سخت ناراض ہیں؟ ) ان صحابہ ؓ نے اس کو بتایا کہ (ایک دن) حضور ﷺ ادھر (تمہاری طرف) تشریف لے گئے تھے اور (جب وہاں) تمہارے قبہ کو دیکھا (تو ناراض ہوگئے تھے) اس شخص (نے یہ سنا تو فوراً ) اپنے قبہ کی طرف گیا اور اس کو ڈھا دیا یہاں تک کہ زمین کے برابر کردیا۔ (اس واقعہ کے بعد) ایک دن رسول کریم ﷺ پھر ادھر تشریف لے گئے اور قبہ کو وہاں نہیں دیکھا تو دریافت فرمایا کہ وہ قبہ کیا ہوا؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ قبہ بنانے والے نے اپنے تئیں آپ ﷺ کی بےالتفاتی اور ناراضگی کا ہم سے شکوہ کیا تھا اور اس کا سبب دریافت کیا تو ہم نے اس کو صورت حال سے آگاہ کردیا تھا (کہ حضور ﷺ تم سے اس لئے ناراض ہیں کہ تم نے اس قبہ کی صورت میں ایک ناپسندیدہ تعمیر کرائی ہے) چناچہ اس شخص نے اس قبہ کو ڈھا دیا ہے تب آپ ﷺ نے (اس عمار کی ناپسندیدگی اور اپنی ناراضگی کا سبب بیان کرنے کے لئے) فرمایا کہ یاد رکھو! یہ عمارت اپنے بنانے والے کے لئے آخرت میں وبال یعنی عذاب کا سبب بنے گی الا مالا الا مالا یعنی علاوہ اس چیز کے، کہ جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔ (ابو داؤد) تشریح وبال کے اصل معنی بوجھ، سختی اور مکروہ کے ہیں، حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو عمارت بنائی جاتی ہے وہ آخرت میں اپنے مالک کے لئے عذاب کا سبب بنتی ہے، لیکن واضح رہے کہ یہ حکم اس عمارت کے حق میں ہے جو ضرورت و حاجت سے زائد ہو، اظہار شان و شوکت اور محض عیش و عشرت کے لئے بنائی گئی ہو، ورنہ تو وہ عمارت جو اپنے اور اپنے متعلقین کی رہائشی ضروریات کے بقدر ہو یا جو عمارت خیروبھلائی کے امور کے لئے ہو جیسے مساجد ومدارس اور خانقاہیں وغیرہ، وہ مذکورہ وعید سے مستثنی ہیں، اسی طرح ہر وہ چیز کہ جو انسان کی جسمانی توانائی کو باقی رکھنے اور لباس ورہائش کے طور پر ضروریات زندگی کا درجہ رکھتی ہو، آخرت میں کسی وبال کا باعث نہیں بنے گی۔ بیہقی نے بھی حضرت انس ؓ سے بطریق مرفوع یہ روایت نقل کی ہے کہ مسجد (اور خیر و بھلائی کے کام میں آنے والی دیگر عمارتوں کے علاوہ، ہر عمارت اپنے مالک پر قیامت کے دن وبال ہوگی، اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ایسی عمارت کہ رہائشی ضروریات سے زائد اور اظہار شان شوکت کے لئے ہو، اسی طرح طبرانی نے حضرت واثلہ ؓ سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ ہر عمارت وبال ہے علاوہ اس عمارت کے جو بس اس قدر ہو اور یہ فرماکر اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کے ذریعہ اشارہ فرمایا (یعنی یہ اشارہ فرمایا کہ جو عمارت بہت مختصر اور محض رہائشی ضروریات کے بقدر ہو وہ وبال نہیں ہے) نیز ہر علم، قیامت کے دن وبال ہوگا، علاوہ اس علم کے جس پر عمل کیا جائے۔

5076Mishkaat-al-Masabih

کفایت وقناعت کی نصیحت

وعن أبي هاشم بن عتبة قال عهد إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إنما يكفيك من جمع المال خادم ومركب في سبيل الله . رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه . وفي بعض نسخ المصابيح عن أبي هاشم بن عتيد بالدال بدل التاء وهو تصحيف

حضرت ابوہاشم بن عتبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا۔ دنیا کے تمام مال میں سے جو کچھ تمہارے لئے کافی ہے وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ تمہارے پاس ایک خادم ہو اور ایک سواری ہو جو اللہ کی راہ میں کام (یعنی اگر تم دنیاوی چیزوں میں سے کچھ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہو تو بس یہ دو چیزیں رکھ کہ سواری کے جانور کے ذریعہ جہاد، حج اور حصول علم کے لئے سفر کرسکو اور خادم اس سفر میں تمہاری خدمت کرے، دنیا کے اموال میں سے ان دو چیزوں سے زائد کچھ نہ رکھو بلکہ صرف کر ڈالو، حاصل یہ کہ اس ارشاد کا مقصود اس امر کی تلقین کرنا ہے کہ بقدر ضرورت مال و اسباب پر اکتفا و قناعت کی جائے اور ان میں سے بھی ان چیزوں کو اختیار کیا جائے جو راہ آخرت کا توشہ ہیں۔ (اس روایت کو احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے)۔ اور مصابیح کے بعض نسخوں میں حدیث کی سند عن ابی ہاشم ابن عتبد سے منقول ہے یعنی عتبۃ میں تاء کی بجائے دال ہے اور یہ غلط ہے جو کسی راوی کے سہو کا نتیجہ ہے (گویا صحیح ہاشم ابن عتبۃ ہی ہے)۔

5077Mishkaat-al-Masabih

ضروریات زندگی کی مقدار کفایت اور اس پر انسان کا حق

وعن عثمان بن عفان رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ليس لابن آدم حق في سوى هذه الخصال بيت يسكنه وثوب يواري به عورته وجلف الخبز والماء . رواه الترمذي

حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ ابن آدم ان چیزوں کے علاوہ اور کسی چیز پر اپنا حق نہیں رکھتا، ایک تو گھر کہ جس میں وہ رہائش اختیار کرے (یعنی ایسا گھر جو رہائشی ضروریات کے بقدر ہو کہ جو سردی گرمی سے محفوظ رکھ سکے) دوسرے کپڑا، کہ جس سے وہ اپنا ستر ڈھانکے، تیسرے بغیر سال کے خشک روٹی (کہ جس سے وہ اپنی بھوک دفع کرسکے) اور چوتھے پانی کہ جس سے وہ اپنی پیاس بجھا سکے۔ (ترمذی) تشریح حق سے مراد وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لئے واجب کی گئی ہے اور جس پر آخرت میں کوئی سوال و مواخذہ نہیں ہوگا، یعنی اللہ تعالیٰ نے دنیا کی جن چیزوں کو ضروریات زندگی کے طور پر بنایا ہے ان کو انسان اسی قدر حاصل کرنے اور اس سے بہرہ مند ہونے کا حقدار و مجاز ہے جس قدر کہ اس کی ضروریات کے لئے کافی ہو چناچہ جو شخص ان چیزوں کو حلال وسائل ذرائع سے حاصل کرے گا اور بقدر ضرورت پر اکتفاء و قناعت کرے گا اس سے آخرت میں ان چیزوں کے بارے میں کوئی سوال ومواخذہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ بقدر ضرورت مذکورہ چیزیں ان لوازمات میں سے ہیں جن کے بغیر نفس انسانی کے لئے کوئی چارہ نہیں ہے، ہاں ان کے علاوہ دنیا کی اور جو چیزیں ہیں یا انہی چیزوں کی ضرورت سے زائد جو مقداریں ہیں وہ سب لوازمات زندگی میں سے نہیں ہیں۔ بلکہ لذات نفس میں سے ہیں اور ان کے بارے میں آخرت میں یقینا مواخذہ و مطالبہ کیا جائے گا۔ جلف (جیم کے زیر اور لام کے جزم کے ساتھ) سے مراد ہے بغیر سالن کے خشک موٹی روٹی، ایک روایت میں یہ لفظ جلف (جیم کے زبر کے ساتھ) بھی منقول ہے جو جلفۃ کی جمع ہے اور جس کے معنی ہیں خش روٹی کا ٹکڑا، کہ جس کے ذریعہ بھوک کو دفع کیا جائے۔

5078Mishkaat-al-Masabih

خدا اور لوگوں کی نظر میں محبوب بننے کا طریقہ

وعن سهل بن سعد قال جاء رجل فقال يا رسول الله دلني على عمل إذا أنا عملته أحبني الله وأحبني الناس . قال ازهد في الدنيا يحبك الله وازهد فيما عند الناس يحبك الناس رواه الترمذي وابن ماجه

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے (بارگاہ رسالت میں) حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھ کو کوئی ایسا عمل بتا دیجئے کہ میں جب اس کو اختیار کروں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت رکھے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں؟ حضور ﷺ نے فرمایا۔ دنیا سے زہد اختیار کرو (یعنی دنیا کی محبت میں گرفتار نہ ہو، اس کی فضولیات سے اعراض کرو اور امور آخرت کی طرف متوجہ رہو) اگر تم ایسا کرو گے تو گویا تم اس چیز سے نفرت کرنے والے ہوں گے جس سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے اور اس کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ تم سے محبت رکھے گا اور اس چیز کی طرف رغبت نہ کرو جو لوگوں کے پاس ہے (یعنی جاہ و دولت) لوگ تم سے محبت کریں گے۔ (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح کسی چیز کی طرف خواہش و میلان نہ رکھنے کو زہد کہتے ہیں اور کامل وصادق زہد یہ ہے کہ دنیا کی لذات میسر ہونے کے باوجود ان سے بےرغبتی اختیار کی جائے، چناچہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس شخص کے بارے میں زہد تصور ہی نہیں ہوسکتا جو نہ مال و دولت رکھتا ہو اور نہ جاہ وحشم کا مالک ہو، بلکہ حقیقت کے اعتبار سے زاہد وہی شخص ہے جو مال و دولت اور جاہ وحشم کا مالک ہونے کے باوجود ان کی لذات سے دور رہے، منقول ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابن مبارک (رح) کو یا زاہد کہہ کر مخاطب کیا تو انہوں نے فرمایا کہ زاہد تو بس حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ تھے جن کے دامن میں دنیا کھنچی آتی تھی مگر اس کے باوجود وہ دنیاوی لذات سے ترک تعلق رکھتے تھے اور ہمارے پاس کیا رکھا ہے کہ ہم زہد اختیار کریں گے، حاصل یہ کہ اصل میں زہد یہ ہے کہ لوازمات دنیا میں کھانے پینے اور پہننے کی فراوانی کے باوجود بقدر ضرورت پر قناعت کی جائے اور فضولیات کو ترک کیا جائے۔

5079Mishkaat-al-Masabih

دنیا کے عیش وآرام سے حضور ﷺ کی بے رغبتی

وعن ابن مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم نام على حصير فقام وقد أثر في جسده فقال ابن مسعود يا رسول الله لو أمرتنا أن نبسط لك ونعمل . فقال ما لي وللدنيا ؟ وما أنا والدنيا إلا كراكب استظل تحت شجرة ثم راح وتركها . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه

حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ بورئیے پر سوئے اور سو کر اٹھے تو آپ ﷺ کے جسم مبارک پر بورئیے کے نشان پڑے ہوئے تھے (یہ دیکھ کر) حضرت ابن مسعود ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم آپ ﷺ کے لئے نرم بستر بچھا دیں اور اچھے کپڑوں کا انتظام کردیں (تاکہ آپ ﷺ اس سخت بورئیے پر لیٹنے سے بےآرامی محسوس نہ کریں) حضور ﷺ نے فرمایا (عزیز) مجھ کو اس دنیا (کے عیش و آرام) سے اور اس دنیا کو مجھ سے کیا سروکار؟ میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی سوار کسی درخت کے نیچے سایہ کی تلاش میں آئے اور وہاں کچھ دیر تک سایہ سے فائدہ اٹھا نے کے لئے) اپنی سواری ہی پر کھڑا رہے اور پھر اس درخت کو وہیں چھوڑ کر اپنی منزل کی طرف چل دے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ) تشریح مالی وللدنیا میں حرف ما، نفی کے لئے ہے اور اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو مجھے اس دنیا کے ساتھ کچھ الفت ہے اور نہ اس دنیا کو میرے ساتھ کوئی محبت و الفت ہے کہ میں اس دنیا کے تئیں کوئی رغبت و چاہت رکھوں، اس کا عیش و آرام چاہوں اور اس کی بےآرامی سے بچنے کے لئے اس کی آرام دہ چیزوں جیسے نرم و گدیلے بستر اور نفیس واعلیٰ کپڑوں وغیرہ کا مالک بنوں۔ ویسے اس حرف ما کو استفہامیہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے (جیسا کہ ترجمہ میں اسی کو ملحوظ رکھا گیا ہے) اور اس صورت میں جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ مجھ کو اس دنیا سے کون سی الفت، محبت ہے یا اس دنیا کی طرف میری رغبت ومیلان سے یا میری طرف اس دنیا کی رغبت والفت سے مجھے کون سی نفع بخش چیز حاصل ہوگی؟ کیونکہ میں تو آخرت کا طلبگار ہوں اور دنیا اس آخرت کی سوکن اور ضد ہے۔ درخت کے سایہ سے فائدہ اٹھانے کے ضمن میں خاص طور پر سوار ہی کا ذکر کرنا اس درخت کے نیچے اس کے ٹھہرنے کی مدت کے قلیل ہونے اور جلد ہی وہاں سے رخصت ہوجانے کی بناء پر ہے، یعنی یہ بات سب جانتے ہیں کہ کسی درخت کے سایہ سے فائدہ اٹھانے والا اگر کوئی سوار مسافر ہو اور وہ اپنی سواری سے اترے بغیر اس درخت کے نیچے کھڑا ہے تو وہ وہاں زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکتا۔ بلکہ بہت قلیل عرصہ کے لئے اس سایہ میں کھڑا رہ کر آگے چل دیتا ہے۔ نیز سوار کی مثال بیان کرنے سے اس طرف بھی اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جس طرح کسی مسافر کی منزل مقصود جب دور ہوتی ہے تو وہ دوران سفر کسی راحت و آرام کی زیادہ پرواہ کئے بغیر زیادہ سے زیادہ راستہ طے کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہاں وہاں زیادہ ٹھہر کر اپنا وقت برباد نہیں کرتا اسی طرح ہم بھی اس دنیا میں ایک مسافر کی طرح ہیں کہ ہماری منزل مقصود یعنی آخرت بہت دور ہے اور اس کا راستہ کٹھنائیوں سے بھرا ہوا ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی راہ آخرت کو زیادہ سے زیادہ طے کرنے کی سعی و اہتمام کریں اور کسی بھی ایسی چیز کی طرف ملتفت اور مائل نہ ہوں جو منزل مقصود کی طرف ہمارے سفر میں رکاوٹ بن سکے۔

5080Mishkaat-al-Masabih

قابل رشک زندگی

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال أغبط أوليائي عندي لمؤمن خفيف الحاذ ذو حظ من الصلاة أحسن عبادة ربه وأطاعه في السر وكان غامضا في الناس لا يشار إليه بالأصابع وكان رزقه كفافا فصبر على ذلك ثم نقد بيده فقال عجلت منيته قلت بواكيه قل تراثه . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه

حضرت ابوامامہ ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ میرے نزدیک (یعنی میرے دین و مذہب کے اعتبار سے) میرے دوستوں (تمام مومنین) میں نہایت قابل رشک (یعنی اموال کے اعتبار سے سب سے اچھا اور مال و دولت کے اعتبار سے سب سے افضل) وہ مومن جو سبکسار ہے، نماز سے بہت زیادہ بہرہ مند ہوتا ہے اور اپنے رب کی سب ہی عبادتیں خوبی کے ساتھ کرتا ہے (اور جس طرح ظاہر میں عبادت کرتا ہے اسی طرح) مخفی طور پر (خلوت میں بھی) طاعت الٰہی میں مشغول رہتا ہے، لوگوں میں گمنام ہے کہ اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ نہیں کیا جاتا (یعنی اپنے علم وعمل کے سبب لوگوں میں مشہور و معروف نہیں ہے بلکہ نہایت بےنفسی کے ساتھ گوشہ گمنامی میں رہ کر علم وعمل کے ذریعہ دین وملت کی خدمت کرتا ہے) نیز اس کی روزی (یعنی ضروریات زندگی کا خرچ) بقدر کفایت ہے اور اسی پر صابر وقانع ہے۔ یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کے ذریعہ چٹکی بجائی اور فرمایا اس کی موت بس یوں (چٹکی بجاتے) اپنا کام جلد پورا کرلیتی ہے اور اس کی موت پر رونے والی عورتیں بھی کم ہوتی ہیں اور اس کا ترکہ بھی بہت مختصر (یعنی نہ ہونے کے برابر) ہوتا ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ) تشریح حاذ کے معنی سواری کی پشت کے ہیں اور قاموس کے مطابق خفیف الحاذ کا مطلب قلیل المال والعیال خفیف الحاذ کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جو زیادہ اہل و عیال کو بوجھ اور مال و دولت کی گرانباری نہ رکھتا ہو۔ صراح میں یہ لکھا ہے کہ خفیف الحاذ کے معنی ہلکی پیٹھ کے ہیں یعنی وہ شخص جو زیادہ اہل و عیال اور مال و دولت کے جھمیلوں سے فارغ ہو بہرحال دونوں ہی صورتوں میں ایسا شخص چونکہ دنیاوی تفکرات مشغولیات سے عاری ہوتا ہے اور فراغ قلب ووقت رکھتا ہے اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت وطاعت اور دین وملت کی خدمت میں اچھی طرح مشغول رہتا ہے اور از قسم علائق کوئی چیز اس کی راہ عبادت و خدمت میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ نماز سے بہت زیادہ بہرہ مند ہوتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حضور قلب اور مناجات مع اللہ کے ساتھ نماز بہت زیادہ پڑھتا ہے اور اپنا زیادہ تر وقت عبادت الٰہی میں صرف کرتا ہے کیونکہ اہل و عیال اور دنیاوی جھمیلوں سے بہت کم تعلق رکھنے اور قلت مشغولیت کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ نماز و عبادت ہی کی طرف متوجہ رہتا ہے، بلکہ نماز و عبادت میں اس کو حضور قلب بھی بہت زیادہ حاصل ہوتا ہے چناچہ حقیقی درویش اور اللہ رسیدہ لوگ دنیاوی علائق و تعلقات سے کنارہ کشی اس لئے اختیار کرتے ہیں تاکہ نماز و عبادت الٰہی میں زیادہ سے زیادہ حضور قلب حاصل کرسکیں۔ لوگوں میں گمنام ہے میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ عبادت و ریاضت کے لئے لوگوں کے درمیان بودوباش ترک نہیں کرتا بلکہ ان کے درمیان رہ کر ہی عبادت و ریاضت اور دین وعلم کی خدمت میں خاموشی کے ساتھ مشغول رہتا ہے اور اپنے آپ کو عام شہرت سے بچائے رکھتا ہے گویا اس جملہ سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ اپنے کو عام شہرت سے بچانے کے لئے لوگوں کے درمیان سے چلا جاتا ہے اور سب سے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے کیونکہ عام لوگوں کے درمیان بودوباش ترک کردینا اور کنارہ کشی اختیار کرلینا بجائے خود موجب شہرت ہے، نیز اس جملہ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ لوگوں سے مراد عوام الناس ہیں، چناچہ خواص یعنی اولیاء وصلحاء کے درمیان اس کا متعارف ہونا کہ جن کا وہ ہمنشین رہتا ہے، اس کے مذکورہ مرتبہ کے منافی نہیں ہے۔ یہ بات بعد کے جملہ ولا یشاء الیہ الخ سے بھی مفہوم ہوتی ہے۔ لقد بیہ، کے اصل معنی تو یہ ہیں کہ آپ نے اپنے انگوٹھے کے پورے کو اپنی بیچ کی انگلی کے پورے پر مارہ جس سے نکلی ہوئی آواز کو سنا گیا۔ اور حاصل یہ کہ جس طرح عام طور پر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ کسی بات پر اظہار حیرت وتعجب کے لئے یا کسی کام کی مدت کو کم سے کم بیان کرنے کے لئے چٹکی بجا کر کہتے ہیں کہ فلاں کا بس یوں چٹکی بجاتے ہوگیا اسی طرح حضور ﷺ نے بھی مذکورہ مومن کا حال بیان فرمایا کہ وہ دنیا میں اپنی مذکورہ حالت و کیفیت کے ساتھ زندہ رہتا ہے کہ موت اس کے تشتہ جسم وجان کو چند دن کے بعد ختم کردیتی ہے اور وہ فتنہ وآشوب سے بھرے ہوئے اس عالم سے بہت جلد انتقال کرجاتا ہے اور یہاں کی آفات سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات پا جاتا ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ ایسا مومن چونکہ اس دنیا سے بہت کم تعلق رکھتا ہے اور شوق آخرت اس پر غالب ہوتا ہے اس لئے وقت موعود آنے پر وہ نہایت آسانی اور سکون کے ساتھ بہت جلد اپنی جان، آفرین کے سپرد کردیتا ہے۔

5081Mishkaat-al-Masabih

دنیا سے آنحضرت ﷺ کی بے رغبتی

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عرض علي ربي ليجعل لي يطحاء مكة ذهبا فقلت لا يارب ولكن أشبع يوما وأجوع يوما فإذا جعت تضرعت إليك وذكرتك وإذا شبعت حمدتك وشكرتك . رواه أحمد والترمذي

حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میرے رب نے میرے سامنے اس امر کو ظاہر کیا کہ وہ میرے لئے مکہ کے سنگریزوں کو سونا بنادے، لیکن میں نے عرض کیا کہ میرے پروردگار، مجھ کو اس چیز کی قطعا خواہش نہیں ہے میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ ایک روز پیٹ بھر کر کھاؤں اور ایک روز بھوکا رہوں کہ جب میں بھوکا رہوں تو تیرے حضور گڑ گڑاؤں، اپنی عاجزی بیان کروں اور تجھے یاد کروں اور جب میں شکم سیر ہوں تو تیری حمدوتعریف کروں اور تیر شکر ادا کروں۔ (احمد، ترمذی) تشریح آنحضور ﷺ کے لئے اللہ تعالیٰ کی مذکورہ پیش کش یا تو حسی و ظاہری طور پر تھی یا معنوی یعنی باطنی طور پر اور یہ دوسری مراد زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اس صورت میں آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھ سے مشورہ فرمایا اور مجھے اختیار دیا کہ چاہے آپ ﷺ اس دنیا میں وسعت وفراخی اور یہاں کے مال وزر کی فراوانی کو پسند کریں اور چاہے دنیا سے بےرغبتی اختیار کر کے توشہ آخرت کی فکر میں لگے رہیے اور وہاں کے حساب و عذاب سے نجات کی راہ اختیار کرلیجئے۔، لہٰذا میں نے دنیا کو ٹھکرا دیا اور آخرت کو پسند کرلیا۔ بطحاء اور ابطح اس کشادہ نالہ کو کہتے ہیں جس سے پانی گزرتا ہے اور جس میں ریب اور سنگریزے جمع ہوجاتے ہیں۔ مکہ کے سنگریزوں کو سونا بنانے سے مراد یہ تھی کہ مکہ کے اطراف میں جو نالے اور پانی کے نک اس کے راستے ہیں ان سب کو سونے سے بھر دیا جائے یا یہ کہ ان نالوں میں جو سنگریزے ہیں ان کو سونے میں تبدیل کردیا جائے اور یہ دوسری مراد زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ ایک دوسری حدیث میں یوں فرمایا گیا ہے کہ (اگر آپ ﷺ چاہیں تو اللہ تعالیٰ ) مکہ کے پہاڑوں کو سونے میں تبدیل کردے۔ حدیث کے آخری جملوں کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے لئے دنیاوی وسعت وفراخی اور خوشحالی کی پیش کش کے باوجود میں نے دنیا کے مال وزر کو ٹھکرادیا اور فقر کو اختیار کرلیا کہ اگر ایک روز شکم سیر رہوں تو دوسرے روز بھوکا رہو اور اس طرح صبر اور شکر دونوں کی فضیلت پاؤں۔ اس ارشاد گرامی کے ذریعے حضور ﷺ نے گویا امت کو تعلیم و تلقین فرمائی کہ اگرچہ دولتمندی بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے لیکن اس کی آفات بھی بہت ہیں اور انسان دولتمندی کی حالت میں زیادہ گمراہ ہوتا ہے لہٰذا فقروقناعت کو اختیار کرنا زیادہ موزوں ہے اس لئے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ غنا یعنی دولتمندی کے مقابلہ میں فقر افضل ہے۔

5082Mishkaat-al-Masabih

دنیا کی اصل نعمتیں

وعن عبيدالله بن محصن قال قال رسول الله صلى الله عليه من أصبح منكم آمنا في سربه معافى في جسده عنده قوت يومه فكأنما حيزت له الدنيا . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب

حضرت عبیداللہ ابن محصن ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنی جان کی طرف سے بےخوف ہو (ظاہری طور پر بھی اور باطنی طور پر بھی اس کا بدن درست وباعافیت ہو اور اس کے پاس (حلال ذریعہ سے حاصل کیا ہوا) ایک دن کی بقدر ضرورت خوراک کا سامان ہو تو گویا اس کے لئے تو کم دنیا (کی نعمتیں) جمع کردی گئی ہیں۔ (اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے)۔ تشریح وہ اپنی جان کی طرف سے بےخوف ہو کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اپنے کسی دشمن کی طرف سے کسی نقصان وضرر کا خدشہ نہ ہو یا یہ کہ برے کاموں سے بچنے اور اپنی لغزشوں پر اللہ سے توبہ کرلینے کی وجہ سے ان آفات سے بےخوف ہو، جو عذاب الٰہی کے طور پر نازل ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ لفظ سرب سین کے زیر اور راء کے جزم کے ساتھ (یعنی سرب) زیادہ مشہور ہے۔ جو نفس، راستہ، حال اور دل، ان سب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اگر یہاں حدیث میں اس لفظ سے ان سب چیزوں کو مراد لیا جائے تو یہ بھی منشاء حدیث کے مناسب ہوگا، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جو شخص اس حال میں صبح کو اٹھے کہ اس کو مذکورہ چیزوں کے بارے میں کسی نقصان وضرر کا کوئی خوف و خدشہ نہ الخ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ لفظ سین اور راء دونوں کے زبر کے ساتھ ہے جس کے معنی خانہ زیر زمین کے ہیں یعنی وہ بل و سوراخ جو وحشی جانوروں، جیسے چوہے وغیرہ کا مسکن ہوتے ہیں، اگر اس قول کو صحیح مان لیا جائے، یہ معنی بھی منشاء حدیث کے منافی نہیں ہوتے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوا کہ جو شخص اس حال میں صبح کو اٹھے کہ اس کے گھر کے بلوں اور سوراخوں میں رہنے والے چوہوں اور لومڑیوں وغیرہ کی طرف سے کہ جو آفات زمانہ میں سے ہیں اس کو کسی نقصان وضرر کا کوئی خوف و خدشہ نہ ہو الخ۔

5083Mishkaat-al-Masabih

کھانا زیادہ سے زیادہ کتنا کھایا جائے

وعن مقدام بن معدي كرب قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما ملأ آدمي وعاء شرا من بطن بحسب ابن آدم أكلات يقمن صلبه فإن كان لا محالة فثلث طعام وثلث شراب وثلث لنفسه . رواه الترمذي وابن ماجه

حضرت مقدام ابن معدیکرب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا انسان (اگر اپنے پیٹ کو حد سے زیادہ بھر لے تو اس) نے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہی بھرا (کیونکہ پیٹ کو زیادہ بھرنے سے جو برائیاں اور خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان کا کوئی شمار نہیں، ابن آدم کے لئے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پشت کی ہڈی کو سیدھا اور کھڑا رکھیں تاکہ وہ اطاعت الٰہی کی بجاآوری اور بقدر ضرورت اپنی معاشی جدوجہد کو جاری رکھنے پر قادر رہ سکے، ہاں اگر ضروری ہو یعنی کوئی پیٹ بھرنا ہی چاہتا ہو اور کھانے کی کم سے کم مقدار کفایت پر قناعت نہ کرسکتا ہو تو اس کو چاہئے کہ پیٹ کے تین حصے کرے ایک حصہ کھانے کے لئے ہو ایک حصہ پانی کے لئے ہو اور ایک حصہ سانس کی آمدورفت کے لئے خالی چھوڑ دے تاکہ دم گھٹنے کی وجہ سے ہلاکت میں مبتلا نہ ہوجائے (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح جیسا کہ طیبی (رح) نے لکھا ہے، حدیث کا مطلب یہ ہے کہ واجب تو یہ ہے کہ کھانے کے معاملہ میں اس حد سے تجاوز نہ کیا جائے جو پیٹھ کو قائم رکھنے یعنی جسمانی توانائی کو برقرار رکھنے کے لئے کافی ہو اور یہ بھی اس لئے تاکہ اللہ کے احکام بجالانے کی طاقت وقدرت حاصل رہے، ہاں اگر کوئی شخص اس حد کفایت پر قناعت نہ کرسکے اور وہ اس حد سے تجاوز کرے یعنی زیادہ مقدار میں کھانے کی خواہش رکھے تو وہ بھی بس اسی قدر زیادہ کھائے جو پیٹ کے تین حصوں میں سے ایک حصے کو بھر دے، باقی دو حصوں میں سے ایک حصہ پانی کے لئے اور ایک حصہ خالی رہنا چاہئے اپنی خوراک کی مقدار میں اس آخری حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ اس حدیث میں پہلے تو پیٹ کو ان معمولی برتنوں کی طرح ایک برتن قرار دیا گیا ہے جو گھر کی ضروریات میں کام آتے ہیں اور اس طرح یہ اشارہ فرمایا گیا کہ پیٹ ایک بےحیثیت چیز ہے، پھر یہ واضح فرمایا کہ برتنوں میں بھی (یہ پیٹ) گویا سب سے برا برتن ہے کیونکہ عام طور پر تمام برتن انہی کاموں میں استعمال کئے جاتے ہیں جن کے لئے ان کو بنایا گیا ہے، اس طرح پیٹ کا اصل موضوع یہ ہے کہ اس میں خوراک کی بس اتنی مقدار ڈالی جائے جو جسمانی توانائی کو باقی رکھنے کے لئے ضروری ہو اور اگر اس کو ضرورت سے زیادہ بھرا جائے تو نہ صرف اس کے مقصد سے تجاوز ہوگا بلکہ اس کی وجہ سے ایسی برائیاں اور خرابیاں پیدا ہوں گی جو دین ودنیا دونوں کو نقصان پہنچائیں گی اس اعتبار سے پیٹ گویا سب سے برا برتن ہوا۔ بھوک کے دس فوائد بھوک بظاہر بڑا بھیانک لفظ ہے اور آج کی دنیا کا نہایت سنگین مسئلہ ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ اگر بھوک کا تعلق قوت لایموت تک کے فقدان سے ہو اور کوئی انسان نان جویں کی اس مقدار سے بھی محروم رہے جس کا بقاء زندگی کے لئے پیٹ میں پہنچنا ضروری ہے تو واقعۃ وہ بھوک انسان کے لئے پیغام اجل سے کم نہیں، لیکن اگر بھوک سے مراد کم کھانا، یا وقتا فوقتا فاقہ ہو، تو وہ بھوک بھی ہماری اس دنیا کے نقطہ نظر سے چاہے کتنا ہی سنگین مسئلہ ہو مگر حقیقت میں اس بھوک کے جو فوائد ہیں علامہ طیی (رح) اور روحانی نقطہ نظر سے ہیں ان کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بعض حضرات نے ان فوائد کو بڑی جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے، چناچہ ایک اونچے درجہ کے اسلامی محقق اور عارف باللہ حضرت شیخ ابوحامد (رح) نے لکھا ہے کہ بھوک میں دس فوائد پوشیدہ ہیں۔ اول یہ کہ قلب اور بصارت کی صفائی حاصل ہوتی ہے کیونکہ پیٹ کا بھرا ہوا ہو ہونا طبیعت کو سست وکند، قلب کو بوجھل اور دماغ پر انجارات کو غلبہ کردیتا ہے، دوسرے یہ کہ قلب میں رقت ونرمی اور پاکیزگی آتی ہے اور اس کی وجہ سے دل یاد الٰہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے، تیسرے یہ کہ طبیعت ومزاج میں انکسار پیدا ہوتا ہے اور اس تکبر وحرص اور عشرت پسندی کا خاتمہ ہوتا ہے جو طغیان و سرکش کا مبداء ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کا نفس، جس قدر انکسار پسند بھوک کی حالت میں ہوتا ہے کہ اس قدر انکسار اور کسی چیز سے پیدا نہیں ہوتا۔ چوتھے یہ کہ عذاب الٰہی آفات وبلاء قدرت اور اہل بلاء فراموش نہیں ہوتے، چناچہ جو لوگ ہر وقت اپنا پیٹ بھرا رکھتے ہیں وہ نہ تو بھوک کی ازیت کو محسوس کرسکتے ہیں اور نہ بھوکوں کو یاد کرسکتے ہیں۔ پانچویں یہ کہ نیند کا غلبہ کم ہوتا ہے اور بیداری کی کیفیت طاری رہتی ہے، کیونکہ جو شخص پیٹ کو کھانے سے بھر لیتا ہے وہ پانی بھی بہت پیتا ہے، زیادہ پانی پینا، نیند کی زیادتی کا سبب ہوتا ہے اور نیند کی زیادتی نہ صرف یہ کہ عبادت وطاعت، جیسے تہجد وغیرہ کو فوت کرتی ہے، طبیعت کو مکدر اور دل کو سخت بناتی ہے بلکہ زیادہ سونا، گویا عمر کو ضائع کرنا ہے اور ظاہر ہے کہ عمر، بہت اعلی جوہر ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے عطا نہیں کیا ہے کہ اس کو بیکار گنوایا جائے بلکہ اس کو انسان کے حق میں راس المال بنایا ہے تاکہ وہ اس کے ذریعہ اپنے دینی و دنیاوی معاملات کی صلاح و فلاح کے امور انجام دے۔ علاوہ ازیں نیند ایک طرح کی موت ہے۔ لہٰذا اپنے اوپر نیند کو غالب رکھنا گویا عمر کو چھوٹی کرنا۔ چھٹے یہ کہ عبادت وطاعت کی پابندی وہمیشگی حاصل ہوتی ہے کیونکہ جو شخص زیادہ کھاتا ہے اس کے اوقات کا زیادہ حصہ کھانے پینے کی مشغولیت میں صرف ہوتا ہے مثلاً اس کو کچھ وقت تو بازار سے سودا سلف لانے اور اشیاء خوراک کی فراہمی میں لگانا پڑتا ہے، کچھ وقت کھانے کی تیاری میں صرف ہوتا ہے، کھانا کھاتے وقت بھی کافی وقت دینا پڑتا ہے اور پھر کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے اور کھانے کے بعد منہ کی صفائی اور خلال کرنے اور بار بار پانی کے لئے پانی کی جگہ آنے جانے جیسے کاموں میں بھی کافی وقت صرف ہوتا ہے، غرضیکہ بہت ہی وقت کا خرچ ہے اور اگر ان اوقات کو کھانے پینے کی مشغولیات سے بچا کر عبادت وطاعت اور ذکر ومناجات میں لگائے تو کہیں زیادہ فائدہ حاصل کرے۔ مشہور عالم اور بزرگ حضرت علامہ تستری (رح) کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے حضرت علی جرجانی (رح) کو ستو پھانکتے دیکھا تو عرض کیا کہ حضرت ایسی کون سی وجہ پیش آگئی جو آپ ستو پھانک رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ بھئی کیا پوچھتے ہو، میں نے ایک دن حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ ایک چپاتی کھانے کے دوران اتنا وقت صرف ہوتا ہے جتنا کہ ستر تسبیحات پڑھنے میں (میں نے سوچا کہ اس طرح تو روٹیاں کھانے میں بہت وقت لگتا ہے اور اس وقت کو بچا کر دوسرے مفید کاموں میں صرف کیا جاسکتا ہے) لہٰذا میں نے روٹیاں کھانے چھوڑ دیں اور چالیس برس سے ایک چپاتی بھی نہیں کھائی ہے بلکہ بھوک کی شدت کم کرنے کے لئے وقتا فوقتا ستو پھانک لیا کرتا ہوں۔ ساتویں یہ کہ کم کھانے کی وجہ سے بدن کی صحت و تندرستی بحال رہتی ہے اور امراض کا دفعیہ ہوتا ہے کیونکہ اکثر امراض کا سبب کھانے کی زیادتی اور کھانے پینے میں بےاعتدالی ہوتی ہے، پھر زیادہ کھانے کی وجہ سے امراض صرف پیدا نہیں ہوتے بلکہ وہ عبادت سے باز رکھتے ہیں اور تشویش وفکر میں مبتلا کردیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وقت کا بڑا حصہ، حکیم ڈاکٹر کے پاس آنے جانے، علاج معالجہ کرنے اور دواء وغیرہ کی فراہمی میں صرف ہوتا ہے اور سب چیز جو محنت مشقت اور پریشانی برداشت کرنا پڑتی ہے وہ اس کے علاوہ ہوتی ہے لہٰذا انسان اگر کم کھانے اور وقتا فوقتا فاقہ کرتا رہے تو ان پریشانیوں سے نجات مل جائے۔ آٹھویں یہ کہ حصل معاش کی جدوجہد اور روزی کمانے کی محنت مشقت زیادہ نہیں کرنا پڑتی، کیونکہ جو شخص کم کھانے کی عادت ڈال لیتا ہے اس کے لئے تھوڑی سی محنت مشقت سے حاصل کیا ہوا تھوڑا سا مال و اسباب بھی کافی ہوجاتا ہے، نویں یہ کہ ایثار و احسان اور صدقہ و خیرات کے داعیہ کو پورا کرنے پر آسانی سے قدرت حاصل ہوتی ہے، یعنی کم کھانے کی صورت میں جو کھانا اپنی خوراک سے بچ جاتا ہے اس کو غریب و مسکین اور فقیر و محتاج کو بطور صدقہ دینا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ اور ظاہر ہے کہ صدقہ و خیرات کرنے والا شخص قیامت کے دن اپنے اس صدقہ و خیرات کے سایہ میں رحمت الٰہی سے بہرہ مند ہوگا، نیز یہ حقیقت بھی سامنے آنی چاہئے کہ انسان جو کچھ خود کھاتا پیتا ہے اس کو تو وہ گویا بیت الخلاء میں جا کر جمع کردیتا ہے اور جو کچھ فقیر و محتاج پر صدقہ و خیرات کرتا ہے اس کو اپنے لئے ذخیرہ آخرت کردیتا ہے کہ وہ وہاں سے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت جزاء پائے گا۔ اور دسواں یہ کہ جو بھوک کے مذکورہ بالا فائدوں میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ان خواہشات و جذبات کی بیخ کنی ہوتی ہے جو انسان کو ہر طرح کے گناہ پر ابھارتے ہیں اور نفس امارہ پر غلبہ وقابو حاصل ہوجاتا ہے، کیونکہ کم کھانا ہر طرح کی نفسانی خواہش کو مارتا ہے اور شہوانی خواہشات کو مضمحل کردیتا ہے اور یہ بات کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ دین ودنیا کی تمام سعادتیں اور بھلائیاں اس امر میں پوشیدہ ہیں کہ انسان اپنے نفس کا مالک اور اس پر قابو یافتہ ہو اور ہر طرح کی شقاوت و بدبختی اس میں پوشیدہ ہے کہ انسان اپنے نفس کا غلام بن جائے اور خود پر اس کو قابو دے دے۔

5084Mishkaat-al-Masabih

لمبی ڈکار لینے کی ممانعت

وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يتجشأ فقال أقصر من جشائك فإن أطول الناس جوعا يوم القيامة أطولهم شبعا في الدنيا . رواه في شرح السنة . وروى الترمذي نحوه

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کو ڈکارتے سنا تو اس سے فرمایا کہ اپنی ڈکار کو روکو (یعنی اتنا زیادہ نہ کھایا کرو کہ لمبی لمبی ڈکاریں آنے لگیں) اس لئے کہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے بڑا بھوکا وہ ہوگا جو دنیا میں ان میں سب سے بڑے پیٹ والا ہوگا۔ یعنی جو شخص اس دنیا میں بہت زیادہ کھانے والا ہوگا اس کو قیامت کے دن بھی بہت زیادہ بھوک لگے گی۔ جس کی وجہ سے وہ نہایت پریشانی میں مبتلا ہوگا۔ (بغوی نے بھی اسی طرح کی روایت نقل کی ہے) تشریح حدیث میں صحابی ؓ کے ڈکارنے کا ذکر ہے ان کا نام وہب ابن عبداللہ تھا اور ان کا شمار چھوٹی عمر والے ان صحابہ ؓ میں ہوتا ہے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بالغ نہیں ہوئے تھے، خود ان کا بیان ہے کہ ایک دن میں نے گوشت کا ثرید کھایا اور ڈکاریں لیتا ہوا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ اپنی ڈکاروں کو روکو۔ اور اس کے بعد وہی الفاظ ارشاد فرمائے وجہ اوپر نقل کئے گئے ہیں مذکورہ ارشاد میں ڈکار لینے کی جو ممانعت فرمائی گئی ہے اس کا مقصد، جیسا کہ حدیث کے آخری جزو سے واضح ہوتا ہے، اتنا زیادہ کھانے سے منع کرنا ہے جس سے پیٹ ضرورت سے زیادہ بھر جائے۔ اور جو لمبی لمبی ڈکاریں لینے کا باعث بنتا ہے۔ منقول ہے کہ حضرت وہب بن عبداللہ نے حضور ﷺ کی مذکورہ ممانعت کے بعد تا زندگی کبھی بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔ اگر رات میں کھالیتے تو دن میں نہیں کھاتے اور جب دن میں کھالیتے تو رات میں نہیں کھاتے۔