دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 153 · 75 hadiths · Page 3 of 4

5085Mishkaat-al-Masabih

مال ودولت ایک فتنہ ہے

وعن كعب بن عياض قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن لكل أمة فتنة وفتنة أمتي المال . رواه الترمذي

حضرت کعب ابن عیاض ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (حق تعالیٰ کی طرف سے) ہر امت کے لئے (کوئی نہ کوئی) فتنہ و آزمائش ہے (جس میں اس امت کے لوگوں کو مبتلا کر کے ان کو آزمایا جاتا ہے) چناچہ میری امت کے لئے جو چیز فتنہ آزمائش ہے وہ مال و دولت ہے یعنی اللہ تعالیٰ میری امت کے لوگوں کو مال و دولت دے کر یہ آزمانا چاہتا ہے کہ وہ راہ مستقیم اور حد اعتدال پر قائم رہتے ہیں یا نہیں۔ (ترمذی)

5086Mishkaat-al-Masabih

جو مالدار صدقہ وخیرات کے ذریعہ آخرت کے لئے کچھ نہیں کرتے ان کے بارے میں وعید

وعن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال يجاء بابن آدم يوم القيامة كأنه بذج فيوقف بين يدي الله فيقول له أعطيتك وخولتك وأنعمت عليك فما صنعت ؟ فيقول يا رب جمعته وثمرته وتركته أكثر ما كان فارجعني آتك به كله . فيقول له أرني ما قدمت . فيقول رب جمعته وثمرته وتركته أكثر ماكان فارجعني آتك به كله . فإذا عبد لم يقدم خيرا فيمضي به إلى النار . رواه الترمذي وضعفه

حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ابن آدم کو اس طرح حقارت و ذلت کے ساتھ) پیش کیا جائے گا گویا کہ وہ بکری کا بچہ ہے، پھر اس کو اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ (فرشتہ کی وساطت سے یا خود براہ راست زبان قال یا زبان حال سے) اس سے فرمائے گا کہ میں نے (دنیا میں) تجھ کو زندگانی، عمل و دانش، صحت و تندرستی اور امن و عافیت جیسی نعمت عطاء کی تھی (مال و دولت، حشم وخدم اور جاہ وعزت جیسی چیزوں کا مالک) بنایا تھا اور (اس سے بڑی) نعمت (یہ) عطا کی تھی (کہ اپنی کتاب نازل کی، اپنا رسول ﷺ بھیجا اور ہدایت و راستی کا نور پھیلایا) پس تو نے کیا کام کیا؟ یعنی کیا تو نے ان چیزوں کے حقوق ادا کئے اور ان سب نعمتوں کا شکر گزار رہا؟ ابن آدم عرض کرے گا، میرے پروردگار! میں نے تو بس یہ کیا کہ تجارت اور کاروبار کے ذریعہ مال و دولت جمع کرنے اور اس کو بڑھانے میں لگا رہا اور مرتے وقت اس کو دنیا میں اس سے زیادہ چھوڑ کر آیا جتنا کہ میری زندگی کے دنوں میں پہلے میرے پاس تھا اور اب آپ مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج دیجئے تاکہ میں اس تمام مال و دولت کو آپ کی راہ میں خرچ کروں اور اس کا ثواب لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ یہ تو ممکن نہیں کہ تمہیں دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے اور تم جو مال و دولت دنیا میں چھوڑ کر چلے آئے تھے وہ بھی اب تمہارے لئے کار گر نہیں ہے، ہاں اگر تم نے (اس مال و دولت میں سے کچھ حصہ بھی صدقہ و خیرات کیا ہو اور ثواب کی صورت میں) اس کو آگے یہاں آخرت میں بھیجا ہو تو مجھے اس کو دکھلاؤ۔ لیکن اس نے چونکہ اس مال و دولت سے کچھ بھی حصہ آخرت کے کاموں میں خرچ نہیں کیا ہوگا اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر نہایت شرمندہ وخجل ہوگا اور جیسا کہ مجرموں کی عادت ہے کہ جب اپنے جرم میں پکڑے جاتے ہیں اور اپنی صفائی میں کوئی معقول عذر بیان نہیں کرسکتے تو بار بار ایک ہی بات کو جو پہلے کہہ چکے ہوتے ہیں، دہراتے رہتے ہیں، وہ ابن آدم بھی ایک تو اس وجہ سے اور دوسرے اپنی اس بات کا جواب نہ پانے کی وجہ سے دوبارہ وہ عرض کرے گا کہ میں تو بس مال و دولت کو جمع کرنے اور اس کو بڑھانے میں لگا رہا اور اس کو دنیا میں اس سے زیادہ چھوڑ کر آیا جتنا کہ پہلے تھا اور اب آپ مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج دیجئے تاکہ میں اس تمام مال و دولت کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ اس طرح یہ ظاہر ہوجائے گا کہ اس کو دنیا میں جو مذکورہ چیزیں دی گئی تھیں ان میں سے اس نے کوئی بھی بھلائی آگے (آخرت میں) نہیں بھیجی ہے لہٰذا اس کو دوزخ میں پہنچائے جانے کا حکم دیا جائے گا۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور اس کی اسناد کو ضعیف قرار دیا ہے (اگرچہ معنی کے لحاظ سے یہ بالکل صحیح ہے) تشریح طیبی (رح) نے کہا ہے کہ اس حدیث میں ابن آدم کی جس حالت کو ذکر کیا گیا ہے کہ جس بندہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مذکورہ چیزیں اور نعمتیں حاصل ہوں اور وہ ان کے ذریعہ آخرت کی بھلائی حاصل کرنے سے غافل رہے تو اس کی مثال اس غلام کی سی ہے جس کو اس کا آقابہت سا مال و اسباب اس مقصد کے لئے دے کہ وہ اس کے ذریعہ تجارت کر کے زیادہ سے زیادہ نفع کمائے مگر وہ غلام اپنے آقا کی مرضی اور اس کے حکم سے سرتابی کر کے اس سارے مال و اسباب کو لٹا کر تلف وضائع کردے یا ایسے کاروبار اور تجارت میں پھنسا دے جس کا حکم اس کو نہیں دیا گیا تھا تو ظاہر ہے کہ وہ غلام نہ صرف نااہل سمجھا جائے گا بلکہ مستوجب سرزنش بھی قرار پائے گا، ٹھیک اسی طرح وہ بندہ بھی نہایت ٹوٹے میں رہے گا اور مستوجب عذاب قرار دیا جائے گا۔ ابوحامد (رح) نے کہا ہے کہ یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ اگرچہ ہر بھلائی، ہر لذت اور ہر سعادت یہاں تک کہ ہر مطلوب، کو نعمت کہا جاتا ہے لیکن حقیق نعمت بس اخروی سعادت ہے اس کے علاوہ، کسی بھی چیز کو سعادت کہنا غلط ہے، بلکہ کسی دنیاوی چیز پر مجازا بھی سعادت کا اطلاق کرنا یعنی اس کو دنیوی سعادت کہنا بھی صحیح نہیں ہے، ہاں جو دنیاوی چیزیں اخروی سعادت کے حصول کا سبب و ذریعہ ہوں اور اس کی راہ میں کسی ایک واسطہ کئی واسطوں کے ساتھ معاون ومدد گار ہوں تو ان چیزوں کو نعمت کہنا صحیح ہوسکتا ہے اور یہ بھی اس وجہ سے کہ وہ چیز حقیقی نعمت تک پہنچا سکتی ہیں۔

5087Mishkaat-al-Masabih

ٹھنڈا پانی اور تندرستی، اللہ کی بڑی نعمت ہے

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أول ما يسأل العبد يوم القيامة من النعيم أن يقال له ألم نصح جسمك ؟ ونروك من الماء البارد ؟ . رواه الترمذي

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے نعمتوں کے بارے میں جو سوال کیا جائے گا وہ یہ ہوگا کہ کیا ہم نے تیرے بدن کو تندرستی عطا کی تھی اور تجھ کو ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا۔ (ترمذی) تشریح یوں تو ہر وہ چیز اللہ کی نعمت ہے جس سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑی نعمت تندرستی اور پانی ہے، اسی لئے قیامت کے دن سب سے پہلے انہی دونوں نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ایک بڑے بزرگ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے اپنے مرید سے فرمایا پانی ٹھنڈا کر کے پیا کرو کیونکہ ٹھنڈا پانی، اللہ کا شکر، دل کی گہرائیوں سے ادا کراتا ہے۔ نیز حضرت شیخ عبدالحق (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے اپنے والد ماجد (رح) کے بارے میں خوب یاد ہے کہ وہ جب بھی ٹھنڈا پانی پیتے بےخود ہوجاتے اور جب تھوڑی دیر تک اسی عالم بےخودی میں رہنے کے بعد اپنی حالت پر واپس آتے، تو فرماتے سبحان اللہ! یہ ٹھنڈا پانی بھی کیا چیز ہے اور اللہ نے اس کو کتنا بہترین جوہر بنایا ہے؟ اور اسی طرح کے عالم ذوق و توحید سے متعلق کلمات ارشاد فرماتے! حاصل یہ کہ پانی بذات خود تو بہت بڑی نعمت ہے ہی، لیکن ٹھنڈا پانی جو کیف ولذات اور جو فوائد اپنے اندر رکھتا ہے ان کی وجہ سے اس نعمت کا درجہ کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ قدرت نے پانی کو چیز تو ایسی عزیز اور اہم بنایا کہ زندگی کا مدار ہی اس پر ہے لیکن عام اتنا کیا کہ اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس موقع پر ایک بڑی دلچسپ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک بادشاہ کسی طرح بھٹک کر کہیں اور جنگل میں پہنچ گیا، وہاں اس کو پیاس لگی مگر آس پاس کہیں پانی کا نام ونشان تک نہیں تھا، پیاس کے ساتھ اس کا اضطراب بڑھتا رہا یہاں تک کہ مرنے کے بالکل قریب پہنچ گیا تو اچانک اس کے سامنے ایک عارف یا کوئی فرشتہ نمودار ہوا اور بولا کہ اگر میں تمہیں پانی پلادوں تو تم مجھے کیا دو گے؟ بادشاہ نے فوراً جواب دیا کہ اپنا آدھا ملک! اس غیبی انسان نے اس کو پانی پلادیا اور اس کے بعد اس کا پیشاب رک گیا۔ اس نے لاکھ چاہا کہ کسی طرح پیشاب کرلے، مگر مانراد رہا۔ اور سخت پریشانی میں مبتلا ہوگیا آخر کار پھر وہی غیبی انسان نمودار ہوا اور کہا کہ اگر میں تمہارے اس مرض کا علاج کردوں اور تمہارا پیشاب کھل جائے تو مجھے کیا انعام دو گے؟ بادشاہ نے کہا کہ باقی آدھا ملک بھی تمہیں ہی دے دوں گا۔ اس نے علاج کیا اور بادشاہ کا پیشاب کھل گیا۔ تب اسی غیبی انسان نے کہا کہ بادشاہ سلامت! آپ اپنا ملک خود سنبھالئے، مجھے اس کی حاجت نہیں ہے، لیکن اپنی سلطنت اور اپنے ملک کی حیثیت دیکھ لیجئے ( کہ ذرا سے پانی اور پیشاب کے لئے آپ نے تمام ملک و سلطنت کو قربان کرنے کا فیصلہ کرلیا، لہٰذا اتنی بےحیثیت چیز اور اس کی ظاہری چمک دمک پر کبھی گھمنڈ نہ کیجئے گا آخر میں ایک بات یہ ملحوظ رہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں تندرستی اور پانی دونوں نعمتوں کو ایک ساتھ ذکر کرنے میں گویا اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ دونوں اتنی عظیم الشان اور اہم نعمتیں ہیں کہ تمام ملک و سلطنت ایک طرف اور یہ دونوں نعمتیں ایک طرف۔

5088Mishkaat-al-Masabih

وہ پانچ نعمتیں جن کے بارے میں قیامت کے دن جواب دہی کرنی پڑے گی

وعن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا تزول قدما ابن آدم يوم القيامة حتى يسأل عن خمس عن عمره فيما أفناه وعن شبابه فيما أبلاه وعن ماله من أين اكتسبه وفيما أنفقه وماذا عمل فيما علم ؟ . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب

حضرت ابن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن انسان کے پاؤں سرکنے نہیں پائیں گے اور اس کو بارگاہ رب ذوالجلال میں اس وقت تک کھڑا رکھیں گے جب تک اس سے پانچوں باتوں کا جواب نہیں لے لیا جائے گا، چناچہ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں صرف کی، (بالخصوص یہ کہ) اس نے اپنی جوانی کو کس کام میں بوسیدہ کیا (یعنی جوانی گویا نیا لباس ہے جو رفتہ رفتہ پرانا ہوتا ہے) اس نے مال کو کہاں خرچ کیا (یعنی اپنے مال اور روپیہ پیسہ کو اچھے کاموں میں صرف کیا یا برے کاموں میں گنوایا) اور یہ کہ اس نے جو علم حاصل کیا تھا اس کے موافق عمل کیا یا نہیں؟ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح حضرت ابودرداء ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک دن انہوں نے حضرت عویمر سے فرمایا کہ عویمر (خیال کرو) قیامت کے دن تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تم سے سوال کیا جائے گا کہ آیا تم عالم تھے یا جاہل؟ اگر تم یہ جواب دو گے کہ میں عالم تھا تو پھر تم سے یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے جو کچھ علم حاصل کیا اس کے موافق کیا عمل کیا؟ اور اگر تم نے یہ جواب دیا کہ میں تو جاہل تھا، تو پوچھا جائے گا کہ تمہارے لئے جاہل رہنے کی کیا وجہ تھی اور تم نے علم کیوں نہیں حاصل کیا؟

5089Mishkaat-al-Masabih

برتری محض تقویٰ سے حاصل ہو سکتی ہے، رنگ ونسل سے نہیں

عن أبي ذر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له : إنك لست بخير من أحمر ولا أسود إلا أن تفضله بتقوى . رواه أحمد

حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان سے فرمایا۔ (ابو ذر! ) تم نہ تو سرخ رنگ والے سے بہتر ہو اور نہ سیاہ رنگ والے سے الاّ یہ کہ تم ان دونوں میں سے کسی سے تقویٰ کے اعتبار سے افضل ہو (احمد) تشریح مطلب یہ ہے کہ انسانی فضیلت و برتری، ظاہری شکل و صورت اور رنگ ونسل پر موقوف نہیں ہے بلکہ اس کا مدار دینی اخلاقی کردار کی عظمت اور تقویٰ پر ہے! واضح رہے کہ حدیث میں صرف دو رنگوں سرخ اور سیاہ کا ذکر اس بناء پر کیا گیا ہے کہ زیادہ تر لوگ انہی دو رنگ کے ہوتے ہیں اور زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ان دونوں رنگوں والوں سے مراد آقا اور غلام ہیں چناچہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ آقا گورے رنگ کا ہوتا ہے اور غلام کالے رنگ کا۔ طیبی (رح) نے حدیث کی وضاحت میں کہا ہے کہ یہاں سرخ سے مراد اہل عجم اور سیاہ رنگ سے مراد اہل عرب ہیں۔ چناچہ (اس زمانہ میں) اہل عرب، عجم والوں یعنی غیر عرب لوگوں کو احمر (سرخ) کہا کرتے تھے کیونکہ ان کے رنگ پر سرخی اور سفیدی غالب ہوتی تھی اور اہل عرب کو اسود (سیاہ) کہا جاتا تھا کیونکہ ان کی رنگت پختہ ہوتی تھی اور اس پر سیاہی اور سبزی کا غلبہ ہوتا تھا۔ نیز حضرت شیخ عبدالحق (رح) نے لکھا ہے کہ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ حقیقی فضیلت و برتری کا تعلق تقویٰ اور عمل صالح سے ہے اور تقویٰ وعمل صالح کے بغیر کسی بھی وصف وخصوصیت کی طرف نسبت کوئی فضیلت نہیں رکھتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم (یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے) یہ بات ملحوظ رہے کہ تقویٰ اپنے مراتب و درجات کے اعتبار سے کئی اقسام پر مشتمل ہے، سب سے ادنیٰ قسم یا سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ہر حالت میں شرک جلی سے اجتناب کیا جائے۔ اوسط درجہ یہ ہے کہ ہر قسم کے گناہ ہر طرح کی برائی ہر طرح کے لہو ولعب اور شرک خفی سے اجتناب کیا جائے۔ اور سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ہر لمحہ اللہ کے ساتھ تعلق وحضور رکھا جائے اور دل میں ماسویٰ اللہ کا خیال بھی نہ آنے دیا جائے۔

5090Mishkaat-al-Masabih

دنیا سے زہد وبے رغبتی کی فضیلت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما زهد عبد في الدنيا إلا أنبت الله الحكمة في قلبه وأنطق لسانه وبصره عيب الدنيا وداءها ودواءها وأخرجه منها سالما إلى دار السلام رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس بندہ نے دنیا میں (زائد از ضرورت و حاجت، دنیاوی مال وجاہ سے) زہد یعنی بےرغبتی اختیار کی، اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں حکمت یعنی معرفت و یقین کی دولت پیدا کی، اس کی زبان کو اس (حکمت) کے ساتھ گویا کیا اور اس کو دنیا کے عیوب (جیسے کثرت غم ورنج، قلت غناء خست شرکاء، سرعت فنا اور ذکر الٰہی سے دل کی غفلت وغیرہ کو یقین کی آنکھوں سے) دیکھنے والا کیا، نیز اس دنیا کی بیماری (یعنی دنیاوی محبت کی علت وسبب) اور (علم وعمل، صبروقناعت اور دنیا سے اجتناب وبے رغبتی اختیار کرنے اور تقدیر الٰہی پر راضی رہنے کی توفیق بخش کر) اس بیماری کا علاج بھی اس کو دکھایا اور (اس کے دنیا سے اعراض کرنے اور عقبی کی طرف متوجہ رہنے کے سبب) حق تعالیٰ نے اس کو دنیا (کی آفات وبلیات) سے سلامتی کے ساتھ دارالسلام میں پہنچا دیا۔ (بیہقی) تشریح دارالسلام سے مراد جنت ہے اور اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ بکمال تمام حقیقی سلامتی بس دار آخرت اور جنت ہی میں حاصل ہوگی۔ منقول ہے کہ ایک عارف درویش سے لوگوں نے پوچھا کہ کہئے، آپ کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ نے چاہا تو سلامتی ہے بشرطیکہ جنت میں پہنچ جاؤں۔

5091Mishkaat-al-Masabih

صلاح وفلاح کا انحصار خلوص ایمان پر ہے

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : قد أفلح من أخلص الله قلبه للإيمان وجعل قلبه سليما ولسانه صادقا ونفسه مطمئنة وخليقته مستقيمة وجعل أذنه مستمعة وعينه ناظرة فأما الأذن فقمع وأما العين فمقرة لما يوعى القلب وقد أفلح من جعل قلبه واعيا رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ وہ شخص فلاح یاب ہوا جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے (نفاق کی آمیزش سے پاک کرکے) ایمان کے لئے خالص و مخصوص کردیا، (یعنی اس کو ایمان خالص عطا کیا) اس کے دل کو (بغض وحسد اور تمام برے کاموں وبرے احوال، جیسے دنیا کی محبت اور مولیٰ اور عقبی سے بےپروائی وغیرہ سے) محفوظ وسالم رکھا! اس کی زبان کو راست گو بنایا، اس کے نفس کو (اللہ کے ذکر اور اس کے محبت کے ذریعہ مطمئن کیا (اور اس کو حق کا مطیع بنایا) اس کی خلقت و طبیعت کو (کجی و باطل کی طرف مائل اور افراط و تفرط میں مبتلا ہونے سے بچاکر) مستقیم اور سیدھا رکھا، اس کے کانوں کو (حق بات کا) سننے والا بنایا اور اس کی آنکھوں کو (وحدانیت کے دلائل ومشاہدات اور پروردگار کے نظام قدرت وصنعت کا) دیکھنے والا بنایا، بس کان تو قیف ہیں اور آنکھ اس چیز کو قائم اور ثابت رکھنے والی ہے جس کو دل محفوظ کرتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ شخص فلاح یاب ہوا جس کے دل کو اللہ نے یا خود اس شخص نے اپنے دل کو (حق بات اور برحق چیزوں کا) محافظ بنایا۔ (احمد، بیہقی) تشریح قمع کے معنی قیف کے ہیں اور قیف ٹونٹی دار یا نلکی دار ظرف کی صورت میں اس آلہ کو کہتے ہیں جس کو بوتلوں وغیرہ کے منہ پر رکھ کر ان میں کوئی رقیق چیز جیسے تیل وغیرہ بھرتے ہیں۔ پس کان تو قیف ہیں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قیف کے ذریعہ کوئی رقیق چیز بوتلوں وغیرہ میں ڈالی جاتی ہے اسی طرح کان وہ ذریعہ ہے جو حق بات کو انسان کے قلب و دماغ میں اتارتا ہے بایں طور کہ کان اس بات کو سنتا ہے اور قلب و دماغ اس کو قبول کرتے ہیں۔ اور آنکھ اس چیز کو قائم اور ثابت رکھنے والی ہے الخ۔ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جن چیزوں کو آنکھیں دیکھتی ہیں دل ان کا ظرف ہوتا ہے یا وہ چیزیں دل کو اپنا ظرف بناتی ہیں کہ وہ آنکھوں کے ذریعہ دل میں داخل ہوتی ہے! گویا جس طرح کان، حق بات کو دل تک پہنچاتا ہے اس طرح نظر آنے والے حقائق آنکھوں کی راہ سے دل میں داخل ہوتے ہیں اور اس کے اندر قائم وثابت رہتے ہیں! حدیث کے آخری جزء میں گویا ان دونوں چیزوں کا نتیجہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جس شخص نے حق بات کو سن کر اور برحق چیزوں کو دیکھ کر انہیں اپنے دل میں اتار لیا اور ان کی محافظت کی یعنی بہر صورت حق پر عامل رہا تو وہ فلاح یاب قرار پائے گا۔

5092Mishkaat-al-Masabih

کفار وفجار کو دنیاوی مال ودولت کا ملنا گویا انہیں بتدریج عذاب تک پہنچانا ہے

وعن عقبة بن عامر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : إذا رأيت الله عز وجل يعطي العبد من الدنيا على معاصيه ما يحب فإنما هو استدراج ثم تلا رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( فلما نسوا ماذكروا به فتحنا عليهم أبواب كل شيء حتى إذا فرحوا بما أوتوا أخذناهم بغتة فإذا هم مبلسون ) رواه أحمد

حضرت عقبہ بن عامر ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو اس کے گناہ و معصیت میں مبتلا ہونے کے باوجود اس کی محبوب ترین چیزیں (یعنی دنیاوی مال و دولت اور جاہ و حشمت وغیرہ) دیتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ (یعنی اس کو اس کی محبوب ترین چیزیں دینا) استدراج ہے۔ اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے استشہاد کے طور پر یہ آیت تلاوت فرمائی (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِه فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَا اُوْتُوْ ا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ ) 6۔ الانعام 44) جب کافر اس نصیحت کو بھول گئے جو انہیں کی گئی تھی (یعنی اللہ تعالیٰ کا عہد، یا یہ کہ جب انہوں نے حق تعالیٰ کی نافرمانی کی) تو ہم نے ان پر (دنیا کی نعمتوں کی) ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں پر خوش ہوئے جو انہیں دی گئی تھیں (یعنی جاہ ومال صحت و خوشحالی اور درازیئ عمر اور دیگر نعمتیں) تو ہم نے ان کو (اپنے عذاب میں) پکڑ لیا اور وہ نہایت حیران و ششدر رہ گئے رواہ احمد) تشریح لغت میں استدراج کے معنی ہیں درجہ بدرجہ سے جانا! جیسے کسی کو اوپر پہنچانے کے لئے زینہ کی ایک پیڑی پر چڑھا جائے پھر دوسری پیڑی پر چڑھا جائے اور پھر تیسری پیڑی پر، اسی طرح یکے بعد دیگرے ایک ایک پیڑی پر چڑھاتے ہوئے اس کو آخرت لے جایا جائے! اور بندہ کے حق میں اللہ تعالیٰ کا استدراج یہ ہے کہ جب کوئی انسان گناہ و معصیت میں مبتلا ہو تو اس کو دنیا کی خوش کن نعمت عطا کرے یا اس کی کوئی بات یا خواہش پوری کردے اور پھر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے تاکہ وہ انسان یہ گمان کرے کہ یہ میرے حق میں پروردگار کی طرف سے لطف و کرم ہے، چناچہ اپنی کھال میں مست رہے کہ نہ تو اپنی بدعملیوں سے توبہ کرنے کی طرف متوجہ ہو اور نہ اپنے گناہ پر استغفار کرے اور پھر ایک دم عذاب الٰہی میں پکڑا جائے پس یہ گویا حق تعالیٰ کی طرف سے اس بندہ کو بتدریج عذاب کی طرف لے جانا ہے جیسا کہ کسی کو درجہ بدرجہ چڑھا کر اوپر لے جایا جائے اور پھر اچانک اس کو وہاں سے نیچے پھینک دیا جائے۔ حاصل یہ کہ جس گناہ گار یا کافر کو دنیا کی ترقی یا بھلائی حاصل ہوجائے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ حق تعالیٰ اس کو نواز رہے ہیں بلکہ اس حقیقت کو ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اس کی تمام تر دنیاوی ترقی و کامیابی دراصل اس کو بتدریج اس مرحلہ تک پہنچانا ہے جہاں اچانک عذاب الٰہی اس کو تباہ و برباد کردے گا۔، خواہ وہ مرحلہ کتنے ہی طویل عرصہ کے بعد آئے۔

5093Mishkaat-al-Masabih

اہل زہد کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ قلیل مقدار میں بھی اپنے پاس دنیاوی مال رکھیں

وعن أبي أمامة أن رجلا من أهل الصفة توفي وترك دينارا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كية قال : ثم توفي آخر فترك دينارين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كيتان رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ اصحاب صفہ میں سے ایک شخص نے وفات پائی اور ایک دینار کی صورت میں اپنا ترکہ چھوڑا رسول کریم ﷺ نے (جب اس دینار کو دیکھا تو) فرمایا کہ یہ دینار (اس شخص کی پیشانی، پشت اور پہلو پر) ایک داغ ہے حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ پھر (کچھ دنوں بعد) صفہ والوں میں سے ایک اور شخص نے وفات پائی اور اس نے اپنے ترکہ میں دو دینار چھوڑے، رسول کریم ﷺ نے (ان دیناروں کو دیکھ کر فرمایا۔ یہ دو دینار دو داغ ہیں۔ (احمد، بیہقی) تشریح صفہ والے ان غریب اور گھر بار نہ رکھنے والے صحابہ ؓ کی جماعت کو کہتے ہیں جو مستقل طور پر صفہ مسجد میں رہا کرتی تھی اور صفہ مسجد دراصل مسجد نبوی ﷺ سے متصل ایک مسقف (چھت دار) جگہ تھی اور بالکل شروع میں، جب کہ مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس تھا یہی جگہ مسجد کے طور پر استعمال ہوتی تھی، لیکن جب کچھ عرصہ بعد کعبۃ اللہ کو قبلہ قرار دیا گیا تو اس جگہ کو اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا اور اس کے برابر میں مسجد نبوی ﷺ بنائی گئی! صحابہ ؓ کی جو مقدس جماعت صفہ میں رہتی تھی وہ ستر اسی نفر پر مشتمل تھی۔ یہ تعداد مختلف اوقات میں کم و زیادہ بھی ہوتی رہتی تھی، ان صحابہ ؓ کا چونکہ نہ کوئی مکان تھا نہ ان کے پاس کچھ مال و اسباب تھا اور نہ کوئی کاروبار زندگی اور اہل و عیال رکھتے تھے اس لئے وہ کامل زہد اختیار کئے ہوئے تھے اور اللہ کی ذات پر توکل و اعتماد کے سہارے اس جگہ پڑے رہتے تھے اور ہمہ وقت ذکر وشغل، ریاضت و مجاہدہ اور تلاوت قرآن مجید میں مشغول اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث پاک کو یاد و محفوظ کرنے میں منہمک رہ کر ہمہ وقت انوار و برکات حاصل کرتے رہتے تھے، ان حضرت کو اضیاف اللہ (اللہ کے مہمان) کہا جاتا ہے! جو صحابہ ؓ استطاعت رکھتے تھے وہ ان کی خدمت کیا کرتے تھے، ان کی ضروریات زندگی کی فراہمی میں حتی الامکان سعی کرتے تھے، کچھ کو ان کی جگہ پر نہایت عزت و احترام کے ساتھ کھانے پینے کا سامان پہنچاتے، کچھ کو بطور مہمان اپنے گھر لے جاتے اور وہاں ان کی میزبانی کے فرائض انجام دیتے اور ان میں سے کتنے ہی حضرات ایسے تھے جو آنحضرت ﷺ کی خصوصی عنایات و توجہ سے بہرہ مندہ ہوتے تھے اور سرکار رسالت پناہ ﷺ کے آستانہ پاک سے کھانا کھاتے تھے اور اسی وجہ سے کبھی کبھی آنحضرت ﷺ کے ایسے معجزات کے صادر ہونے کا باعث بھی بنتے تھے جس سے تھوڑا سامان خوراک حیرت انگیز طور پر سب کے لئے کافی ہوجاتا تھا، مثال کے طور پر، کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ دودھ کا صرف ایک پیالہ، جو ایک شخص کی بھی غذائی ضرورت کے لئے کافی ہوجانے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اعجاز نبوی ﷺ کے طفیل ان سب حضرات کو شکم سیر کردیتا تھا! آنحضرت ﷺ کو حکم الٰہی تھا کہ آپ ﷺ ان حضرات کے درمیان تشریف رکھا کریں، چناچہ آپ ﷺ ان حضرات کو وقتا فوقتا اپنے حضور شرف یابی سے نوازتے رہتے تھے اور کسی وقت بھی انہیں اپنی بیچارگی اور لاچاری کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے۔ آپ ﷺ ان سے فرمایا کرتے تھے کہ (تم لوگ اپنے کو تنہا اور بےکس مت سمجھو) میں تم میں ہی سے ہوں۔ نیز ان کو یہ بشارت دیتے کہ آخرت میں تم میرے ساتھ رہو گے اور میرے ہمراہ جنت میں جاؤگے! مشہور صحابی حضرت ابوہریرہ ؓ بھی انہی (صفہ والے) صحابہ میں سے تھے، ؓ۔ واضح رہے کہ صوفیاء کی جماعت کو (زہد و توکل اور دنیا سے ترک تعلق) اہل صفہ کے ساتھ مشابہت و مناسبت حاصل ہے اور اگرچہ لفظ صوفیہ کو صفہ سے مشتق قرار دینا اور یہ کہنا کہ مسلک زہد و توکل اختیار کرنے والے کو صوفی کہنا لفظ صفہ کی بنیاد پر ہے، ایک غیر حقیقی بات ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ معنوی طور پر صوفیاء کی نسبت اہل صفہ کی طرف کی جاسکتی ہے۔ اب اصل حدیث کی طرف آئیے! اہل صفہ میں سے وفات پانے والے حضرات کا اپنے پیچھے دینار چھوڑ جانا اور اس پر آنحضرت ﷺ کا وعید بیان فرمانا اس بنیاد پر تھا کہ اگرچہ حاجت و ضرورت کے تحت ایک دینار یا دو دینار جیسا معمولی سا دنیاوی مال بچا کر رکھنا اور جمع کرنا شرعی طور پر گناہ کا موجب نہیں ہے اور نہ یہ کوئی ایسی بات ہے جس کو غیر مناسب قرار دیا جاسکے بلکہ اگر کوئی شخص ادائے حقوق (مثلاً زکوٰۃ وغیرہ کی ادائیگی) کے بعد پورا خزانہ بھی جمع کرلے اور دنیا بھر کا مال و اسباب اپنے پاس رکھے تو اس کو خلاف شرع نہی کہیں گے الاّ یہ کہ کوئی شخص اس طرح مال وزر کا انبار لگائے اور جمع کرے کہ نہ تو اس کی زکوٰۃ ادا کرے اور نہ دوسرے مال حقوق کی ادائیگی کا لحاظ رکھے تو بیشک یہ ممنوع ہوگا، لیکن اس حقیقت کے باوجود اس سے انکار نہی کیا جاسکتا کہ اہل زہد اور تارکان دنیا جو سب کچھ چھوڑ کر، سب سے آنکھیں بند کر کے اور اہل فقر کی محبت کر کے باب توکل وفقر پر بیٹھتے ہیں ان کی شان جداگانہ ہے، ان کے پاس ضرورت سے زائد دنیاوی مال و اسباب کی حقیر سے حقیر مقدار کا بھی ہونا غیرموزوں ہے۔ لہٰذا حضور ﷺ کا مذکورہ ارشاد گویا فقروتجرد کے اس وعدے کے خلاف سخت تنبیہ وسرزنش کے طور پر ہے جو حقیقت حال سے مطابقت نہ رکھے۔ اور غالباً اسی وجہ سے راوی نے ان دونوں حضرات کے ذکر میں یہ نہیں کہا کہ اصحاب میں سے ایک شخص نے وفات پائی۔ بلکہ یہ کہا کہ اصحاب صفہ میں سے ایک شخص نے وفات پائی گویا انہوں نے ان دونوں صحابیوں کی طرف صفہ کی نسبت خاص طور پر کی تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ اگر کوئی دوسرا صھابی ؓ اپنے ترکہ میں ایک یا دو دینار چھوڑ کر وفات پاتا تو یہ کوئی اہم بات نہیں تھی لیکن یہ ان اصحاب صفہ میں سے دو شخصوں کا ذکر ہے جن کی شخصیات کا امتیاز ہی زہد وفقر تھا، لہٰذا ان اصحاب صفہ کی صحبت ومعیت میں رہنا اور خود کو ان کی امتیازی خصوصیت (یعنی زہد وفقر اور توکل) کا حامل قرار دینا، مطلق درہم و دینار جمع کرنے کے منافی ہے۔ ملا علی قاری (رح) نے اس حدیث کی وضاحت میں ایک دوسرے رخ سے بحث کی ہے، ان کے منقولات کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں صحابہ ؓ کے بارے میں جو یہ وعید بیان فرمائی وہ اس امر کے پیش نظر تھی کہ وہ دونوں صحابہ ؓ دراصل ان خستہ ھال و مسکین لوگوں (یعنی اصحاب صفہ) میں سے تھے جن کے فقروفاقہ کی وجہ سے ان پر دوسرے لوگ اپنا مال خیرات کرتے تھے اور اللہ واسطے ان کو کھلاتے پلاتے تھے، اس طرح وہ دونوں حضرات یا تو ازروئے مال یا ازروئے حال بمنزلہ سائلین کے تھے اور جیسا کہ معلوم ہے، کسی بھی شخص کے لئے یہ قطعا حلال نہیں ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دن کا بھی بقدر کفاف کھانے پینے کا سامان ہو تو وہ دست سوال دراز کرے، لہٰذا وہ دنوں حضرات اپنے پاس دینار ہونے کے باوجود ان چیزوں میں سے جو کچھ کھاتے پیتے تھے جو دوسرے لوگ صدقہ وخیرت کے طور پر ان کے پاس لاتے تھے، وہ گویا ان کے حق میں حرام تھا۔ اسی طرح یہ مسئلہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جو شخص اپنے آپ کو فقراء و مساکین کی صورت میں ظاہر کرے، مثلاً پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور خستہ حالی کے ساتھ رہے یا صوفیاء یا مشائخ کی وضع قطع اختیار کرے اور اس کے پاس از قسم نقد یا مثل نقود (یعنی سونا، چاندی، درہم و دینار یا نوٹ اور روپیہ پیسہ وغیرہ) کچھ ہو اور اس کے باوجود لوگوں کے ہاتھ میں سے وہ چیز لے لے اور قبول کرلے جو کسی کو صدقہ و خیرات کے طور پر دینے کے لئے ہو اور پھر وہ اس چیز کو کھائے پئے یا اپنے مصرف میں لائے تو وہ چیز اس کے حق میں حرام ہوگی۔ اسی طرح وہ شخص اپنے آپ کو عالم یا صالح یا شریف ظاہر کرے اور حقیقت کے اعتبار سے وہ ایسا نہ ہو اور لوگ اس کو اس کے علم یا شرافت کی وجہ سے کچھ دیں تو ان کی دی ہوئی وہ چیز اس کے حق میں حرام ہوگی۔ منقول ہے کہ مشہور بزرگ حضرت شیخ ابواسحق گا ذروئی نے ایک فقراء کو ایک ایسے کھانے پر دیکھا جو مستحقین کے لئے تیار کیا گیا تھا، تو انہوں نے ان فقرا سے فرمایا تم لوگ حرام کھا رہے ہو؟ ان سب فقراء نے یہ سن کر کھانے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، اس کے بعد حضرت شیخ (رح) نے فرمایا دیکھو یہ کھانا صرف ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کے پاس از قسم دنیاوی مال کچھ بھی نہ ہو، لہٰذا تم سے جو شخص ایسا ہو وہ تو اس کھانے کو کھائے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا نہ کھائے، چناچہ اس کھانے کو کچھ نے کھایا اور کچھ وہاں سے ہٹ گئے۔ (یہ دیکھ کر) حضرت شیخ (رح) نے فرمایا۔ سبحان اللہ کھانا تو ایک ہی ہے لیکن کچھ لوگوں کے لئے حلال ہے اور کچھ لوگوں کے لئے حرام۔ اس سے واضح ہوا کہ وہ اوقاف کہ جو محض فقراء کے لئے ہیں ان کی آمدنی اور ان کے وسائل کو کسی بھی ایسے شخص کا اپنے مصرف میں لانا مطلقا حلال نہی ہے جو شرعی طور پر غنی ہو۔ چناچہ ان مکانات اور کمروں میں جو فقراء و مساکین کے لئے وقف ہیں ایسے لوگوں کا مفت رہائش اختیار کرنا حرام ہے جو فقیر و مسکین نہ ہو جیسا کہ علامہ ابن ہمام (رح) نے صراحت کی ہے کہ غنی پر حرام ہے کہ وہ خانقاہوں کے وقف حجروں میں مفت رہائش اختیار کرے۔ لہٰذا اس قول کو قابل اعتبار نہیں سمجھنا چاہئے جس کا حاصل یہ ہے کہ حرمین شریفین کے اوقاف فقیر وغنی ہر ایک کے لئے ہیں کیونکہ اگر اس بات کو صحیح بھی مان لیا جائے کہ واقعۃً وقف کرنے والوں نے ان اوقاف کو عام رکھا تھا تو بھی ان اوقاف سے غنی کو فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہوگا۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک غنی کے حق میں کسی چیز کو وقف کرنا صحیح نہیں ہے جب کہ وہ غیر محصور ہو۔

5094Mishkaat-al-Masabih

دنیاوی مال واس جمع کرنے سے گریز کرو

وعن معاوية أنه دخل على خاله أبي هاشم بن عتبة يعوده فبكى أبو هاشم فقال : ما يبكيك يا خال ؟ أوجع يشئزك أم حرص على الدنيا ؟ قال : كلا ولكن رسول الله عهد إلينا عهدا لم آخذ به . قال : وما ذلك ؟ قال : سمعته يقول : إنما يكفيك من جمع المال خادم ومركب في سبيل الله . وإني أراني قد جمعت . رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه

حضرت معاویہ بن سفیان ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک دن اپنے ماموں حضرت ابوہاشم بن عتہ ؓ کے پاس ان کی عیادت کو گئے تو حضرت ابوہاشم ان کو دیکھ کر رونے لگے، حضرت معاویہ ؓ نے پوچھا کہ ماموں جان آپ کیوں روتے ہیں؟ کیا بیماری کی شدت نے آپ کو قلق و اضطراب میں مبتلا کردیا ہے یا دنیا کی حرص و تمنا نے؟ انہوں نے فرمایا عزیز من! تم نے جو کچھ کہا ہے ایسا ہرگز نہی ہے، بلکہ قلق و اضطراب کا باعث یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ہم کو ایک وصیت کی تھی اور میں اس پر عمل کرنے سے قاصر رہا ہوں! معاویہ نے پوچھا کہ وہ وصیت کیا تھی؟ انہوں نے کہا، میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تمہارے لئے دنیا کے مال میں سے بس اسقدر جمع کرنا کافی ہے کہ تمہارے پاس ایک خادم ہو اور اللہ کی راہ میں لڑنے کے لئے ایک سواری ہو۔ اور میرا خیال ہے کہ میں نے ان دونوں چیزوں سے کہیں زیادہ مال و اسباب اپنے پاس رکھا ہے۔ (احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) تشریح لفظ ارانی مفہوم کے اعتبار سے اظن کے معنی میں ہے یعنی میں گمان کرتا ہوں اور بعض نسخوں میں یہ لفظ ہمزہ کے زبر کے ساتھ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ میں دیکھتا ہوں یا میں جانتا ہوں۔

5095Mishkaat-al-Masabih

آخرت کی دشوار گزار راہ سے آسانی کے ساتھ گزرنا چاہتے ہو تو مال ودولت جمع نہ کرو

وعن أم الدرداء قالت قلت لأبي الدرداء مالك لا تطلب كما يطلب فلان ؟ فقال إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن أمامكم عقبة كؤودا لا يجوزها المثقلون . فأحب أن أتخفف لتلك العقبة

حضرت ام درداء ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن میں نے اپنے شوہر حضرت ابودرداء ؓ سے کہا آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ (حضور ﷺ سے یا صحابہ ؓ سے) مال و اسباب اور منصب نہیں مانگتے جیسا کہ فلاں فلاں لوگ مانگتے ہیں؟ حضرت ابودرداء ؓ نے یہ سن کر کہا کہ میں کسی سے مال و دولت کی خواہش کرنے اور اس کو جمع کرنے سے اس لئے گریز کرتا ہوں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے (یاد رکھو) تمہارے سامنے ایک دشوار گذار گھاٹی ہے اس سے وہ لوگ آسانی اور سہولت کے ساتھ نہیں گزر سکتے جو گرانبار ہیں۔ چناچہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ مال و دولت طلب کرنے سے گریز کر کے اور کم سے کم دنیاوی مال و اسباب پر صبر و قناعت کر کے ہلکار ہوں تاکہ اس گھاٹی سے آسانی و سہولت کے ساتھ گزر سکوں۔ تشریح دشوار گذار گھاٹی سے مراد موت، قبر، حشر اور ان کے سلسلہ میں پیش آنے والی ہولناکیاں اور شدائد ہیں۔ اور گرانبار سے مراد وہ لوگ ہیں جو مال و دولت، منصب وجاہ اور دنیاوی ترفع و خوشحالی کا بوجھ اپنے کاندھوں پر رکھتے ہیں، حضور ﷺ کے ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ مومن کی دنیاوی زندگی اور اس کی ابدی قرار گاہ (جنت) کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ ایک دشوار گذار گھاٹی سے گزرنے کے بعد ہی طے ہوتا ہے کہ اور ظاہر ہے کہ جس شخص کو اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے کسی دشوار گذار گھاٹی سے گزرنا ہوتا ہے وہ اپنے ساتھ کوئی بوجھ نہیں رکھتا اور زیادہ سے زیادہ ہلکا رہ کر ہی آسانی کے ساتھ اس گھاٹی سے گزر سکتا ہے۔ لہٰذا اگر تم اپنی آخری منزل یعنی جنت تک آسانی کے ساتھ پہنچنا چاہتے ہو تو خود کو دنیا کے مال و اسباب اور جاہ وحشم کی گرانباری سے ہلکا رکھو تاکہ تمہارے اور جنت کے درمیان جو دشوار گزار گھاٹی ہے اس کو طے کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے اور اسی لئے کہا گیا ہے فازالمخفون وہلک المثقلون یعنی سب سر لوگ کامیاب ہوئے اور گرانبار لوگ ہلاکت میں پڑگئے۔

5096Mishkaat-al-Masabih

دنیا داری سے اجتناب کرو

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم هل من أحد يمشي على الماء إلا ابتلت قدماه ؟ قالوا لا يا رسول الله قال كذلك صاحب الدنيا لا يسلم من الذنوب . رواهما البيهقي في شعب الإيمان

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن، مجلس نبوی ﷺ میں موجود صحابہ سے رسول کریم ﷺ نے پوچھا کیا کوئی شخص پانی پر اس طرح چل سکتا ہے کہ اس کے پاؤں تر نہ ہوں؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ایسا تو ممکن نہیں حضور ﷺ نے فرمایا۔ یہی حال دنیا دار کا ہے کہ وہ گناہوں سے محفوظ و سلامت نہیں رہتا۔ (ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے) تشریح جس شخص پر دنیا کی محبت غالب ہو، وہ تو کسی حالت میں بھی دنیا داری کے ساتھ گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا اور جس شخص پر گو دنیا کی محبت غالب نہ ہو لیکن اس کا بھی مال و دولت اور دنیاوی امور میں مبتلا ہونا اس کے دامن کو عام طور پر گناہوں سے آلودہ ہونے سے محفوظ نہیں رکھتا۔ اس ارشاد گرامی کا حاصل دولتمندوں اور مالداروں کو سخت خوف دلانا اور زہد دنیا کی طرف راغب کرنا ہے نیز اس امر کو بھی واضح کرنا مقصود ہے کہ ہر حالت میں آخرت کے نفع و نقصان کو دنیا کے نفع و نقصان پر ترجیح دینا چاہئے دنیاوی مال و دولت کے حامل وطلب گار کے لئے یہی احساس کافی ہونا چاہئے کہ آخرت کا نقصان و خسران فقر کی بہ نسبت مالداری میں زیادہ پوشیدہ ہے اور فقر کی یہی فضیلت کیا کم ہے کہ فقراء (جنہوں نے اپنے فقر و افلاس پر صبر و قناعت اختیار کیا ہوگا) جنت میں مالداروں سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور ﷺ کو دنیوی امور سے اجتناب اور اخروی امور میں انہماک کا حکم

5097Mishkaat-al-Masabih

دنیا داری سے اجتناب کرو

وعن جبير بن نفير رضي الله عنه مرسلا قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أوحي إلي أن أجمع المال وأكون من التاجرين ولكن أوحي إلي أن ( سبح بحمد ربك وكن من الساجدين . واعبد ربك حتى يأتيك اليقين ) . رواه في شرح السنة وأبو نعيم في الحلية عن أبي مسلم

حضرت جبیر بن نفیر (تابعی) (رح) بطریق ارسال روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ مجھ پر یہ وحی نازل نہیں ہوئی ہے کہ میں مال و دولت جمع کروں اور تاجر بنوں بلکہ مجھ پر یہ وحی نازل ہوئی ہے کہ آپ ﷺ اپنے پروردگار کی حمدوتعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کیجئے اور سجدہ کرنے والوں (یعنی نمازیوں) میں سے بنیں۔ نیز اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی دنیاوی زندگی کا آخری وقت آجائے۔ اس حدیث کو بغوی نے شرح السنہ میں اور ابونعیم نے کتاب حلیہ میں ابومسلم سے نقل کیا ہے۔

5098Mishkaat-al-Masabih

امور خیر کی نیت سے دنیا حاصل کرنے کی فضیلت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من طلب الدنيا حلالا استعفافا عن المسألة وسعيا على أهله وتعطفا على جاره لقي الله تعالى يوم القيامة ووجهه مثل القمر ليلة البدر . ومن طلب الدنيا حلالا مكاثرا مفاخرا مرائيا لقي الله وهو عليه غضبان . رواه البيهقي في شعب الإيمان وأبو نعيم في الحلية

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچنے اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے اور اپنے ہمسایہ کے ساتھ احسان کرنے کی خاطر جائز وسائل و ذرائع سے دنیا (کے مال و اسباب) کو حاصل کرے، وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا چہرہ (کمال نور اور نہایت مسرت و سرور کی وجہ سے) چودھویں رات کے چاند کی مانند (روشن ومنور) ہوگا۔ اور جو شخص مال و دولت میں اضافہ کرنے (اپنی امارت و دولت مندی کے ذریعہ غرباء و فقراء پر) فخر کرنے اور (محض اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لئے صدقہ و خیرات اور داد و دہش کی صورت میں) نام و نمود کے لئے (حرام وسائل و ذرائع تو الگ رہے) جائز وسائل و ذرائع سے (بھی) دنیا (کے مال و اسباب) کو حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوگا۔ اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں ابونعیم نے کتاب حلیہ میں نقل کیا ہے۔ تشریح سوچنے اور عبرت حاصل کرنے کی بات ہے کہ جب زیادہ مال و دولت جمع کرنے کی حرص، ایک دوسرے پر اظہار فخر اور نام و نمود کے لئے دنیا کمانے اور سامان دنیا حاصل کرنے میں حلال ذرائع اختیار کرنے والے کا یہ حشر ہوگا تو ان لوگوں کا کتنا برا انجام ہوگا جو مذکورہ بالا غیر شرعی مقاصد کے لئے حرام وسائل و ذرائع سے مال و دولت حاصل کرتے ہیں؟ چناچہ حضور ﷺ نے حدیث میں حرام مال کمانے والوں کا ذکر شاید اسی طرف اشارہ کرنے کے لئے نہیں فرمایا کہ یہ کام کسی مسلمان کا تو ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اول تو وہ مذکورہ مفاسد کی خاطر دنیا کمائے اور پھر وسائل و ذرائع بھی حرام و ناجائز اختیار کرے یا ایسے لوگوں کا ذکر اس لئے نہیں فرمایا کہ ان کا انجام بد حدیث کے انداز بیان اور طرز مضمون سے خود بخود واضح ہوجاتا ہے۔

5099Mishkaat-al-Masabih

خیر وشر کے خزانے اور ان کی کنجی

وعن سهل بن سعد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن هذا الخير خزائن لتلك الخزائن مفاتيح فطوبى لعبد جعله الله مفتاحا للخير مغلاقا للشر وويل لعبد جعله الله مفتاحا للشر مغلاقا للخير . رواه ابن ماجه

حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ خیر (یعنی مال و دولت کے انبار) خزانے ہیں اور ان خزانوں کے لئے کنجیاں ہیں (یعنی اللہ اپنے جن نیک اور مخیر بندوں کو مال و دولت سے نوازتا ہے وہ گویا ان خدائی خزانوں کی کنجیاں ہوتے ہیں کہ ان کے مالی عطیات اور صدقہ و خیرات کے ذریعہ فقیر و مفلس اور ضرورتمند بندگان اللہ فائدہ اٹھاتے ہیں) پس (دنیوی کامیابی اور ترقی اور اخروی فلاح وسعادت کی) بشارت ہو اس بندہ کو کہ جس کو اللہ نے خیر (یعنی نیکیوں و بھلائیوں اور مالی بخشش وعطاء) کے دروازے کھلنے اور برائی (یعنی بخل و خست اور ضرورتمندوں سے بےپروائی کے دروازے بند ہونے کا سبب و ذریعہ بنایا ہے اور دین و دنیا کی ہلاکت و تباہی ہے اس بندہ کے لئے جس کو اللہ نے برائی کے دروازے کھلنے اور خیر کے دروازے بند ہونے کا سبب و ذریعہ بنایا ہے یعنی جو مالدار اپنی دولت کو بڑھانے کے چکر میں رہتا ہے اور ضرورتمند بندگان اللہ کی خبر گیری اور امور خیر میں خرچ کرنے کی اہمیت سے بےپرواہ رہ کر گویا بخل و خست میں مبتلا ہوتا ہے اس کے لئے تباہی ہی تباہی ہے۔ (ابن ماجہ) تشریح مذکورہ بالا ترجمہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی اشعۃ اللہمعات ماخوذ ہے، جہاں تک ملا علی قاری (رح) کا تعلق ہے تو انہوں نے حدیث کی وضاحت اس طور پر کی ہے کہ ہذا الخیر میں خیر جنس خیر (یعنی ہر طرح کی بھلائی) مراد ہے، خزائن سے مراد خیر کی انواع کثیر ہیں یعنی وہ بھلائیاں مختلف انواع رکھتی ہیں اور ان کو اللہ کے بندوں کے درمیان اس طرح مخزون و مرکوز کیا گیا ہے جیسے خزانوں کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے لتلک الخزائن مفاتیح (ان خزانوں کے لئے کنجیاں ہیں) میں کنجیوں سے مراد اللہ کے ان نیک بندوں کے ہاتھ قوائے عمل ہیں جو اس روئے زمین پر امور کائنات میں تصرف و تسلط کے لئے اللہ کے وکیل و نائب کی حیثیت رکھتے ہیں مفتاحا للخیر خیر کی کنجی سے مراد، ان بندوں کا ان بھلائیوں اور نیکیوں کو اختیار کرنا اور پھیلانا ہے، خواہ وہ علم و عمل کو اختیار کرنے کی شکل میں ہو۔ اور مفتاحا للشر شر کی کنجی سے مراد خیر و بھلائی کے راستہ کو مسدود کرنا اور بدی و برائی کے راستہ کو کھولنا ہے اور اس برائی کے راستہ کا کھلنا خواہ کفر و شرک وتکبر و سرکشی اور بد عملی و فتنہ انگیزی کو اختیار کرنے کے ذریعہ ہو یا بخل و خست اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ بدسلوکی اختیار کرنے کی صورت میں ہو۔ امام راغب (رح) کہتے ہیں کہ خٰیر اس چیز کو کہتے ہیں جس کی طرف ہر انسان رغبت رکھتا ہے جیسے علم و عقل اور احسان و مہربانی وغیرہ اور اسی طرح ہر وہ چیز جو نفع پہنچاتی ہے اور جو چیز خیر کی ضد اور اس کے برعکس ہوتی ہے اس کو شر کہتے ہیں۔ نیز خیر و شر اگرچہ ایک دوسرے کی ضد اور مخالف ہیں مگر کبھی کبھی ان دونوں میں اتحاد ذاتی اور فرق اعتباری بھی ہوتا ہے یعنی ایک ہی چیز دو اعتبار سے خیر اور شر دونوں کی حامل بن سکتی ہے کہ ایک شخص کے حق تو وہ خیر و بھلائی کا ذریعہ ہو اور دوسرے شخص کے حق میں وہی چیز شر اور برائی کا سبب بن جائے جیسے مال ہی کی مثال لے لیجئے وہ ایک شخص مثلا عمر کے حق میں تو خیر کا ذریعہ ہوتا ہے جب کہ عمر نے اس کو جائز طور پر حاصل کیا ہو اور جائز مصارف میں اس کو خرچ کیا اور وہی مال ایک دوسرے شخص مثلاً زید کے حق میں شر کا سبب بن سکتا ہے جب کہ زید اس مال پر ناجائز طور سے تصرف و قبضہ کرے۔ اسی طرح علم کی مثال بھی ہے کہ ایک ہی وقت میں بعض لوگوں کی نسب سے اللہ اور بندہ کے درمیان حجاب بن جاتا ہے اور ان لوگوں پر عزاب الٰہی کا سبب ہوتا ہے جب کہ وہ لوگ اس علم سے ہدایت و راستی حاصل کرنے کی بجائے ضلالت و گمراہی میں پھنس جائیں اور وہی علم دوسرے لوگوں کے حق میں اللہ کی معرفت و قربت اور ایمان و یقین کا ذریعہ بنتا ہے جب کہ وہ لوگ اس علم سے ہدایت و راستی حاصل کریں اور اس کے صحیح تقاضوں پر عمل کریں! اسی پر اور عبادات کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ان میں سے بعض عبادتیں، عجب و غرور کی باعث ہوتی ہیں جب کہ ان کو اختیار کرنے والا ریاء و نمائش اور نام و نمود کا راستہ اختیار کرے اور بعض عبادتیں ایمانی و روحانی کیف و سرور اور نورانیت اور ذوق عبودیت کا باعث بنتی ہیں جب کہ ان کو اختیار کرنے والا اخلاص و للہیت کے جذبہ سے سرشار ہو! دنیاوی چیزوں مثلاً گھوڑے آلات حرب اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کے بارے میں بھی یہ بات ہے کہ کبھی تو یہ چیزیں دشمنان اللہ کے ساتھ جہاد کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں اور اس طرح سے بندہ کو جنت میں لے جانے کا وسیلہ ہوتی ہے اور کبھی یہی چیزیں فتنہ و فساد پھیلانے یہاں تک کہ اللہ کے نہایت نیک و برگزیدہ بندوں (جیسے انبیاء و اولیاء) کے قتل و خونریزی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور ان کی وجہ سے انسان دوزخ کے اسفل ترین درجہ میں پہنچ جاتا ہے۔

5100Mishkaat-al-Masabih

ضرورت سے زیادہ عمارت بنانے کے بارے میں وعید

وعن علي رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا لم يبارك للعبد في ماله جعله في الماء والطين

حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کسی بندہ کے مال و دولت میں برکت عطا نہیں ہوتی (یعنی اس کو اپنا مال اور روپیہ پیسہ بھلائی کے امور اور عقبی کو سنوارنے والی چیزوں میں خرچ کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی) تو وہ اس مال کو پانی اور مٹی میں ملا دیتا ہے یعنی اپنی دولت ضرورت سے زائد عمارتیں بنانے اور ان کی زینت و آرائش میں خرچ کرتا ہے

5101Mishkaat-al-Masabih

ضرورت سے زیادہ عمارت بنانے کے بارے میں وعید

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال اتقوا الحرام في البنيان فإنه أساس الخراب . رواهما البيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (لوگو) تم عمارتوں میں حرام مال لگانے سے پرہیز کرو، کیونکہ عمارتوں میں حرام مال لگانا (دین یا) اس عمارت کی خرابی کی بنیاد اور جڑ ہے ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا۔ تشریح مذکورہ ارشاد گرامی سے یہ مفہوم اخذ کیا جاتا ہے کہ اگر عمارتوں میں حلال مال لگایا جائے تو اس سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی اور بعض حضرات نے عمارتوں میں حرام مال لگانے سے پرہیز کرو کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ان حرام چیزوں کو اختیار کرنے سے اجتناب کرو جو عمارتیں بنانے کے سلسلہ میں پیش آتی ہیں! گویا اس اعتبار سے چیز وہی ضرورت سے زائد عمارت کا بنانا ہے۔ فی البنیان میں لفظ فی کے وہی معنی ہیں جو مثلاً اس جملہ کے ہیں کہ، اس زنجیر میں دو سیر لوہا ہے، ظاہر ہے کہ اس جملہ سے یہ مراد نہیں لیا جاتا کہ وہ زنجیر خالص دو سیر لوہا ہے۔ خرابی سے مراد دین کی خرابی اور آخرت کا نقصان ہے تاہم یہ احتمال بھی ہے کہ خود عمارت کی خرابی مراد ہو یعنی عمارت کا بنانا، گویا اس کی خرابی و تباہی کی بنیاد رکھنا ہے کہ بہر صورت جو عمارت بنے گی وہ انجام کار تباہ و برباد ہوگی جیسا کہ کہا جاتا ہے لدو للموت وابنوا للخراب یعنی پیدا کرو مرنے کے لئے اور عمارت بناؤ خراب ہونے کے لئے۔ بعض شارحین نے یہ کہا ہے کہ اس حدیث کا یہ مطلب بھی مراد لیا جاسکتا ہے کہ عمارتوں میں حرام امور اور گناہوں کے ارتکاب سے اجتناب کرو، یعنی عمارتیں اس لئے نہ بناؤ کہ ان میں فسق و فجور کے لئے اٹھنا بیٹھنا رکھو۔ اوباش لوگوں کے ساتھ مجلس بازی کرو اور ان کو ناجائز کاموں کا اڈہ بناؤ کیونکہ جس عمارت میں فسق و فجور کی گرم بازاری رہتی ہے اور اوباش لوگوں کی مجلسیں جمتی ہیں وہ آخرکار تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ ملا علی قاری (رح) نے اس جملہ کیونکہ عمارتوں میں حرام مال لگانا الخ کے دونوں احتمال بیان کئے ہیں ایک تو یہ کہ یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ (ضرورت سے زائد) تعمیر میں حلال مال لگانا جائز ہے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ حدیث مذکور جواز پر دلالت نہیں کرتی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ دوسرا احتمال باب کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔

5102Mishkaat-al-Masabih

مال ودولت جمع کرنا بے عقلی ہے

وعن عائشة رضي الله عنها عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الدنيا دار من لا دار له ومال من لا مال له ولها يجمع من لا عقل له . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

حضرت عائشہ ؓ رسول کریم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دنیا اس شخص کا گھر ہے جس کے لئے (آخرت میں) مال نہیں ہے، نیز مال و دولت وہی جمع کرتا ہے جس کو عقل نہیں ہوتی۔ (احمد، بیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا چونکہ فانی ہے اس لئے اس میں ٹھہرنا اور شادمانی کی زندگی اختیار کرنا ممکن نہیں ہے، لہٰذا جس شخص نے دنیا کو اپنا گھر سمجھا اور اس کے آرام و آسائش کو اصل شادمانی حیات جانا وہ ایسا شخص ہے کہ گویا اس کے لئے کوئی اور گھر نہیں ہے! اسی طرح اور مال اس شخص کا ہے کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو دنیا کا مال و اسباب حاصل ہو اور وہ اس کے مقصود اصلی یعنی بھلائیوں کے کام اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے امور میں خرچ نہ کرے، بلکہ دنیاوی لذات کے حصول اور نفسانی خواہشات کی تکمیل میں خرچ کرے۔ اس کا وہ مال گویا مالیت کے حکم سے خارج ہے کیونکہ اس نے اپنے مال کے اصل مقصد سے انحراف کر کے اور اس کو غیر مقصد مصارف میں خرچ کر کے ضائع کردیا۔ لہٰذا وہ اس شخص کی طرح ہوا جس کے پاس مال نہ ہو۔ مشکوۃ کے بعض حواشی میں یہ لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی کی مراد یہ ہے کہ دنیا کے گھر اور دنیا کے مال چونکہ بہت جلد فنا کے گھاٹ اتر جانے والی چیز ہے اور ان کی کوئی حیثیت و وقعت نہیں ہے اس لئے ان کو گھر اور مال کہنا ہی نہیں چاہئے، یہ مراد بھی حقیقت کے اعتبار سے پہلی وضاحت ہی سے ماخوذ ہے۔ حدیث کی ایک مراد یہ بھی بیان کی جاسکتی ہے کہ جس شخص نے دنیا کے گھر کو اپنا اصلی گھر قرار دیا اور اس پر مطمئن ہوگیا، یا جس نے اس گمان کے ساتھ دنیوی مال و دولت کو جمع کیا کہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ سب باقی رہنے والا اور ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ آیت (ان الذین لا یرجون لقائنا ورضوا بالحیوۃ الدنیا واطمأنوا بھا)۔ اور ایک جگہ یوں فرمایا ہے۔ آیت (یحسب ان مالہ اخلدہ)۔ تو وہ شخص آخرت میں گھر پانے اور وہاں کے غنا (یعنی نعمتوں) سے نوازے جانے کا مستحق نہیں ہوگا۔ مال و دولت وہی شخص جمع کرتا ہے الخ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص محض اس لئے مال و دولت جمع کرتا ہے کہ اس کو دنیا عزیز ہوتی ہے یا وہ اس مال و دولت کو ہمیشہ باقی رکھنے کی نیت رکھتا ہے اور یا محض دنیاوی لذات اور دنیاوی فائدوں کا حصول اس کے پیش نظر ہوتا ہے تو اس شخص کو عقل و دانش کا حامل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ حدیث کا اجمالی مفہوم یہ ہے کہ یہ دنیا اس قابل نہیں ہے کہ اس کو گھر سمجھا جائے ہاں جو شخص آخرت میں ملنے والے اپنے گھر سے محروم رہنا چاہتا ہے وہی اس دنیا کو اس قابل سمجھ سکتا ہے اسی طرح اس دنیا کی دولت کو وہی شخص دولت سمجھ سکتا ہے جو آخرت کی دولت سے محروم رہنا چاہتا ہے اور حاصل یہ کہ اس ارشاد گرامی کا مقصد گویا یہ احساس دلانا ہے کہ جن لوگوں کے لئے آخرت میں دار القرار (قرار گاہ) اور وہاں کی بےبہا دولت مقدر ہے ان کی نظر میں یہ دنیا اتنی حقیر اور اس قدر بےوقعت ہے کہ اس کے گھر اور اس کے مال و دولت کو گھر اور دولت کہا ہی نہیں جاسکتا۔

5103Mishkaat-al-Masabih

شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے

وعن حذيفة رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في خطبته الخمر جماع الإثم والنساء حبائل الشيطان وحب الدنيا رأس كل خطيئة . قال وسمعته يقول أخروا النساء حيث أخرهن الله . رواه رزين وروى اليهقي منه في شعب الإيمان عن الحسن مرسلا حب الدنيا رأس كل خطيئة

حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو ایک خطبہ کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا۔ یاد رکھو شراب پینا، گناہوں کو جمع کرنا ہے یعنی شراب چونکہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اس لئے شراب پینے سے طرح طرح کے گناہ سرزد ہوتے ہیں اور عورتیں شیطان کے جال ہیں اور دنیا کی محبت ہر گناہ کا سر ہے۔ حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عورتوں کو موخر کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو موخر کیا ہے، یعنی قرآن مجید میں جہاں بھی عورتوں کا ذکر آیا ہے مردوں کے بعد آیا ہے، اسی طرح گواہی، جماعت اور فضیلت مرتبہ میں ان کو مردوں کے بعد رکھا گیا ہے، لہٰذ اتم بھی ان چیزوں میں ان کو مقدم نہ کرو اور مردوں پر فضیلت نہ دو رزین نے یہ پوری روایت نقل کی ہے اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت حسن بصری (رح) سے بطریق ارسال روایت کا صرف یہ حصہ نقل کیا ہے کہ حب الدنیا رأس کل خطیئۃ۔ تشریح طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ الخمر الفواحش واکبر الکبائر من شربھا وقع علی امہ وخالتہ وعمتہ۔ (حضور ﷺ نے فرمایا) شراب بےحیائیوں کی جڑ ہے اور بڑے گناہوں میں سے ایک بہت بڑا گناہ ہے، جس شخص نے شراب نوشی کی اس نے (گویا) اپنی ماں، اپنی خالہ اور اپنی پھوپھی کے ساتھ ہم بستری کی۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو بت کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لئے کہا گیا تو اس نے انکار کردیا، پھر اس سے ایک آدمی کو قتل کرنے کے لئے کہا گیا تو اس نے اس کام سے بھی انکار کردیا، پھر اس کو ایک عورت کے ساتھ زنا کرنے کے لئے کہا گیا تو اس نے اس سے بھی انکار کردیا اور پھر جب اس سے شراب پینے کے لئے کہا گیا تو اس نے شراب پی لی پس اس شخص نے گویا شراب ہی نہیں پی، بلکہ اس نے ساری برائیوں کا ارتکاب کیا جن کی طرف اس کو بلایا گیا تھا اور اس نے انکار کردیا تھا۔ دنیا کی محبت ہر گناہ کا سر ہے کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا کی محبت ہی ہے جو انسان کو طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا کرتی ہے اور وہ اس محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ممنوعات اور گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس جملہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ ترک دنیا، ہر عبادت کا سر ہے، یعنی جو شخص دنیاوی لذات اور نفسانی خواہشات سے بےتعلق ہوجاتا ہے، وہ بس عبادت و اطاعت میں مشغول رہتا ہے اور ہر وقت اللہ کی رضا و خوشنودی کو سامنے رکھتا ہے، چناچہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ جس شخص نے دنیا کی محبت کو اختیار کرلیا اس کو تمام مرشدین و مصلحین بھی راہ راست پر نہیں لاسکتے اور جس شخص نے ترک دنیا کو پسند کرلیا اس کو تمام دنیا کے مفسد و گمراہ لوگ بھی راہ راست سے بھٹکا نہیں سکتے۔ طیبی (رح) کہتے ہیں کہ حدیث کے تینوں جملے نہایت جامع ہیں، یعنی ان کے دائرے میں اکثر گناہ آجاتے ہیں کیونکہ ان تینوں چیزوں (یعنی شراب، عورت اور دنیا کی محبت) میں سے ہر ایک علیحدہ علیحدہ بہت سارے گناہوں کی جڑ ہے۔

5104Mishkaat-al-Masabih

دو خوفناک چیزوں کا ذکر

وعن جابر رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسم إن أخوف ما أتخوف على أمتي الهوى وطول الأمل فأما الهوى فيصد عن الحق وأما طول الأمل فينسي الآخرة وهذه الدنيا مرتحلة ذاهبة وهذه الآخرة مرتحلة قادمة ولكل واحدة منهما بنون فإن استطعتم أن لا تكونوا بني الدنيا فافعلوا فإنكم اليوم في دار العمل ولا حساب وأنتم غدا في دار الآخرة ولا عمل . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنی امت کے بارے میں جن دو چیزوں سے بہت زیادہ ڈرتا ہوں، ان میں سے ایک تو خواہش نفس ہے، دوسرے (تاخیر عمل اور نیکیوں سے غفلت کے ذریعہ) درازی عمر کی آرزو ہے، پس نفس کی خواہش (جو حق کے مخالف اور باطل کے موافق ہوتی ہے) حق کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے سے روکتی ہے اور جہا تک درازی عمر کی آرزو کا تعلق ہے تو وہ آخرت کو بھلا دیتی ہے اور (یاد رکھو) یہ دنیا کوچ کر کے چلی جانے والی ہے اور آخرت کوچ کر کے آنے والی ہے (یعنی یہ دنیا لمحہ بہ لمحہ گزرتی چلی جا رہی ہے اور آخرت لمحہ بہ لمحہ تمہاری طرف چلی آرہی ہے) نیز ان دونوں (یعنی دنیا اور آخرت) میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں (یعنی کچھ لوگ تو وہ ہیں جو دنیا کے تابع و محکوم اور اس کی دوستی و چاہت رکھنے والے ہیں گویا وہ دنیا کے بیٹے ہیں اور کچھ لوگ وہی جو آخرت کے تابع و محکوم اور اس کے دوست و طلب گار ہیں گویا وہ آخرت کے بیٹے ہیں) لہٰذا اگر تم سے یہ ہو سکے کہ تم دنیا کے بیٹے نہ بنو تو ایسا ضرور کرو کہ (یعنی ایسے کام کرو اور ایسے راستے پر چلو کہ دنیا کا داؤ تم پر نہ چل سکے اور تم اس کی اتباع و فرمانبرداری اور اس کی محبت و چاہت کے دائرے سے نکل کر آخرت کے تابع و محکوم اور اس کے طلبگار بن جاؤ) کیونکہ تم آج دنیا میں ہو جو دارالعمل (عمل کرنے کی جگہ) ہے جہاں عمل کا حساب نہیں لیا جاتا (پس اس موقع کو غنیمت جانو اور اجل آنے سے پہلے عمل کرلو) جب کہ تم کل آخرت کے گھر میں جاؤ گے تو وہاں عمل کرنے کا کوئی موقع نہیں ملے گا (بلکہ وہاں صرف محاسبہ ہوگا)۔ (بیہقی) تشریح دنیا کوچ کر کے چلی جانے والی ہے کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا اپنے تمام سر و سامان کے ساتھ اس طرح فنا کی طرف جا رہی ہے کہ اس میں رہنے والوں کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا جس طرح کشتی کے اندر بیٹھا ہوا شخص کشتی کو چلتے ہوئے محسوس نہیں کرتا۔ حدیث کا یہ جملہ اور مابعد کا جملہ دراصل دنیا کے نہایت جلد گزرنے اور فناء ہوجانے کے مفہوم کو واضح کرتا ہے کیونکہ اگر آخرت اپنی جگہ قائم ہوتی اور صرف دنیا اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے اس کی طرف چلتی تو بھی یہ پوری گزر ہی جاتی اور اپنی عمر تمام کرلیتی اگرچہ اس کے سفر کو کچھ وقفہ اور مل جاتا مگر جب صورت حال یہ ہے کہ ادھر سے تو آخرت چلی آرہی ہے اور ادھر سے دنیا اس کی طرف کو چلی جا رہی ہے تو گویا وہ نقطہ کہ جہاں دنیا کا اختتام اور آخرت کی ابتدا ہونے والی ہے درمیان راہ میں ہی واقع ہوجائے گا اور مسافت بہت جلد ختم ہوجائے گی۔ جہاں عمل کا حساب نہیں لیا جاتا یہ بات ظاہر کے اعتبار سے اور فاسق و فاجر کی نسبت سے فرمائی گئی ہے ورنہ تو ایک روایت میں فرمایا گیا ہے کہ حاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا۔ اپنے نفسوں کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تم سے حساب لیا جائے۔