وعن علي رضي الله عنه قال ارتحلت الدنيا مدبرة وارتحلت الآخرة مقبلة ولكل واحدة منهما بنون فكونوا من أبناء الآخرة ولا تكونوا من أبناء الدنيا فإن اليوم عمل ولا حساب وغدا حساب ولا عمل . رواه البخاري
حضرت علی ؓ سے بطریق موقوف روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا یہ دنیا ادھر سے کوچ کر کے منہ پھیرے ہوئے چلی جا رہی ہے اور آخرت ادھر سے کوچ کر کے ہماری طرف منہ کئے آرہی ہے (یعنی دنیا کا ہماری طرف سے منہ پھیر کر اپنی فنا کی طرف بڑھنا اور آخرت کا اپنی بقا کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہونا ظاہر ہو رہا ہے) اور ان دونوں (دنیا و آخرت) میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں، پس تم (نیک عمل اختیار کر کے اور آخرت کی طرف متوجہ ہو کر) آخرت کے بیٹے بنوا اور آخرت سے بےپروا اور دنیا کی طرف راغب و متوجہ ہو کر دنیا کے بیٹوں میں سے نہ ہو، یاد رکھو! آج کا دن عمل کرنے کا ہے، حساب کا دن نہیں ہے (یعنی یہ دنیا دارالعمل ہے دارالحساب نہیں، یہاں بس زیادہ سے زیادہ نیک عمل کئے جاؤ) اور کل (قیامت) کا دن، حساب کا دن ہوگا، عمل کرنے کا نہیں اس روایت کو امام بخاری نے ترجمۃ الباب میں نقل کیا ہے۔
تشریح
ترجمۃ الباب سے مراد جامع بخاری کے ایک باب کا عنوان ہے، یعنی امام بخاری (رح) نے اس روایت کو اپنی کتاب کے ایک باب کے عنوان میں بغیر اسناد کے حضرت علی ؓ سے بطریق موقوف نقل کیا ہے، لیکن اس سے پہلے حضرت جابر ؓ کی جو روایت نقل کی گئی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علی ؓ کی اس روایت کی اصل مرفوع ہے، یعنی یہ حضور ﷺ ہی کا ارشاد ہے کیونکہ حضرت علی ؓ نے جو مضمون نقل کیا ہے وہ وہی ہے جو حضرت جابر ؓ کی روایت میں منقول ہے۔
وعن عمرو رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم خطب يوما فقال في خطبته ألا إن الدنيا عرض حاضر يأكل منه البر والفاجر ألا وإن الآحرة أجل صادق ويقضي فيها ملك قادر ألا وإن الخير كله بحذافيره في الجنة ألا وإن الشر كله بحذافيره في النار ألا فاعملوا وأنتم من الله على حذر واعلموا أنكم معروضون على أعمالكم فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره . للشافعي
حضرت عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے خطبہ میں ارشاد فرمایا اور اس خطبہ میں فرمایا۔ لوگو! خبر دار رہو! دنیا ایک ناپائیدار متاع ہے، اس میں سے نیک بھی کھاتا ہے اور بد بھی (یعنی اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ہر شخص کو رزق دیتا ہے خواہ وہ مومن ہو یا کافر اور خواہ مطیع ہو یا فاسق جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ آیت (وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا) خبردار رہو! آخرت واقعی مدت ہے جو سچی یعنی متحقق و ثابت ہے اور اس آخرت میں، ہر قسم کی قدرت رکھنے والا بادشاہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) فیصلہ صادر فرمائے گا یعنی وہ ثواب و عذاب کے ذریعہ نیک ذریعہ نیک و بد اور مومن و کفر کے درمیان فرق ظاہر کر دے گا خبردار رہو! تمام بھلائیاں اور خوبیاں اپنے انواع و اقسام کے ساتھ جنت میں ہیں، خبردار رہو! تمام برائیاں اور خرابیاں اپنے انواع و اقسام کے ساتھ دوزخ میں ہیں، خبردار رہو! پس تم نیک عمل کرو درآنحالیکہ تم پر اللہ کے حساب و عذاب کا خوف طاری ہو (یا یہ کہ نیک عمل کرو اور سارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، کہ تمہارے وہ نیک عمل قبول ہوتے ہیں یا نہیں اور اس بات کو یاد رکھو کہ اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے پس جو شخص ذرہ برابر بھی نیک کام کرتا ہے وہ آخرت میں یا دنیا میں اس کی جزاء پائے گا اور جو شخص ذرہ برابر بھی برا کام کرتا ہے وہ اس کی سزا پائے گا۔ (شافعی)
تشریح
انکم معرضون علی اعمالکم کا ترجمہ اگر یہ کیا جائے کہ تم اپنے اعمال کے سامنے کئے جاؤ گے۔ تو اس عبارت کے الٹے معنی مراد ہوں گے کہ قیامت کے دن تمہارے اعمال تمہارے سامنے حاضر کئے جائیں گے۔ ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم بارگاہ رب العزت میں اپنے اعمال کے مطابق پیش کئے جاؤ گے۔ لیکن زیادہ صحیح اور زیادہ واضح معنی کہ جو اوپر ترجمہ میں نقل کئے گئے ہیں یہی ہیں کہ تم اپنے اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اپنے ان اعمال کے مطابق جزاء یا سزا پاؤ گے جیسا کہ جب کوئی لشکر میدان جنگ سے واپس آتا ہے تو وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کی کاروائی کے ساتھ اپنے امیر کے سامنے پیش ہوتا ہے اور وہ امیر اس لشکر کے ہر فرد کے امور مفوضہ کی انجام دہی کو دیکھتا ہے اور اس کے مطابق ہر سپاہی کو انعام و سزا دیتا ہے۔
وعن شداد رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يا أيها الناس إن الدنيا عرض حاضر يأكل منها البر والفاجر وإن الاخرة وعد صادق يحكم فيها ملك عادل قادر يحق فيها الحق ويبطل الباطل كونوا من أبناء الآخرة ولا تكونوا من أبناء الدنيا فإن كل أم يتبعها ولدها
حضرت شداد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ لوگو! بلاشبہ یہ دنیا ایک ناپائیدار متاع ہے جس میں نیک و بد (یعنی مومن و کافر) دونوں کھاتے ہیں اور بلاشبہ آخرت ایک سچا اور یقینی طور پر پورا ہونے والا وعدہ ہے اس (آخرت) میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والا اور عدل و انصاف کرنے والا بادشاہ (اپنے حلم و فیصلہ کے ذریعہ) حق کو ثابت رکھے گا اور باطل کو مٹا دے گا (یعنی ثواب و عذاب کے ذریعہ اہل حق اور اہل باطل کو ایک دوسرے سے متمیز اور جدا کر دے گا) تم آخرت کے بیٹے بنو اور دنیا کے بیٹوں میں اپنا شمار نہ کراؤ، کیونکہ ہر ماں کا بیٹا اسی (ماں) کے تابع ہوتا ہے
تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم دنیا کے بیٹے بنو گے یعنی دنیا کی طلب گاری و محبت میں منہمک و مستغرق رہو گے تو دوزخ میں جاؤ گے کیونکہ باطل دنیا کا ٹھکانا دوزخ ہے اور اگر تم آخرت کے بیٹے بنو گے یعنی طلب آخرت اور اخروی امور کی انجام دہی میں مہمک و مستغرق رہو گے تو جنت میں جاؤ گے کیونکہ آخرت حقہ کی جگہ جنت ہے۔ یہ ملا علی قاری (رح) کے منقولات کا مفہوم ہے اور حضرت شیخ عبدالحق نے حدیث کے اختتام پر یہ لکھا ہے کہ پس جو شخص آخرت کا بیٹا ہوگا وہ آخرت کی اتباع کرے گا اور اس کے مطابق عمل کرے گا اور جو شخص دنیا کا بیٹا ہوگا وہ دنیا کی پیروی کرے گا اور اسی کے لئے کام کرے گا۔
وعن أبي الدرداء رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما طلعت الشمس إلا وبجنبتيها ملكان يناديان يسمعان الخلائق غير الثقلين يا أيها الناس هلموا إلى ربكم ما قل وكفى خير مما كثر وألهى رواهما أبو نعيم في الحلية
حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بھی آفتاب طلوع ہوتا ہے اس کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں جو منادی کرتے ہیں اور جن و انس کے علاوہ اور ساری مخلوق کو سناتے ہیں (یعنی ان کی منادی کو جنات اور انس نہیں سنتے، باقی ساری مخلوق سنتی ہے اور وہ منادی یہ ہوتی ہے) کہ لوگو! اپنے پروردگار کی طرف آؤ (یعنی اپنے پروردگار کے احکام کی اتباع کرو یا یہ معنی ہیں کہ ہر طرف سے بےتعلقی اختیار کر کے اپنے رب کی طرف رجوع کرو، جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے آیت (وتبتل الیہ تبتیلا) اور اس بات کو جان لو کہ جو مال قلیل ہو اور (دینی معاملات کے تکمیل یا زاد عقبی کے طور پر) کفایت کرے وہ اس مال سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو زیادہ ہو اور عبادت الٰہی سے باز اور اطمینان سکون کی زندگی سے محروم رکھے۔ ان دونوں روایتوں کو ابونعیم نے کتاب حلیہ میں نقل کیا ہے۔
تشریح
فرشتوں کی مذکورہ بالا منادی کا جنات و انسان کو نہ سنایا جانا شاید اس امر کی بناء پر ہے کہ وہ فریضہ کو غیب کی باتوں پر ایمان لانے اور عمل کرنے کے لئے جن و انس پر عائد کیا گیا ہے اس طرح سے بےاثر نہ ہوجائے، ہاں اس موقع پر یہ اشکال ضرور پیدا ہوسکتا ہے کہ یہ منادی اور اس کا مضمون اصل میں تو انسان ہی کو متنبہ کرنے کے لئے ہے اور جب انسان اس کو سن ہی نہیں سکتا تو وہ متنبہ کیسے ہوگا؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ اس آگاہی کا انحصار محض اپنے کان سے سننے ہی پر نہیں ہے بلکہ اس پر ہے کہ وہ آگاہی سے باخبر اور مطلع ہوجائے سو یہ بات مخبر صادق رسول کریم ﷺ کے خبر دے دینے اور اس آگاہی کے مضمون کو بیان کردینے سے حاصل ہوجاتی ہے، لہٰذا مذکورہ بالا مضمون جب اس حدیث کے ذریعہ انسان تک پہنچ گیا تو وہ اس سے حقیقتاً باخبر اور مطلع ہوگیا! رہی یہ بات کہ اس تنبیہ میں صرف انسان ہی کو مخاطب کیوں بنایا گیا، جنات کو بھی خطاب کیوں نہیں کیا گیا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں میں جو نوع، زیادہ مال و دولت کی نہایت حریص اور عقبی سے نہایت غافل ہے وہ نوع انسان ہی ہے، یہ صرف انسان ہے جو دنیا کے پیچھے اپنے خالق تک کو بھول جاتا ہے اور دنیا کا مال و متاع اس کو ذکر رب اور عبادت الٰہی کی طرف متوجہ ہونے سے باز رکھتا ہے لہٰذا انسان کو خاص طور پر مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ عقبی کے انجام کی طرف تمہاری یہ غفلت و لاپرواہی اور ذکر اللہ سے تمہارے اس اعراض کا سلسلہ کہاں تک جاری رہے گا؟ اپنی اخروی تباہی کے اس راستہ کو چھوڑ دو اور آؤ، عبادت رب اور ذکر الٰہی کے ذریعہ اس راہ راست کو اپنا لو جو تمہیں آخرت کے حسن انجام تک لے جائے گی۔
دنیاوی مال متاع کے تئیں انسان کی حرص
وعن أبي هريرة رضي الله عنه يبلغ به قال إذا مات الميت قالت الملائكة ما قدم ؟ وقال بنو آدم ما خلف ؟ . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت منقول ہے جس کو وہ رسول کریم ﷺ تک پہنچاتے (یعنی آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہیں جس کو حدیث مرفوع کہتے ہیں) کہ انہوں نے کہا (حضور ﷺ کا رشاد گرامی ہے کہ) جب کوئی شخص مرتا ہے تو فرشتے تو یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے آخرت کے لئے (اعمال خیر کی صورت میں) کیا بھیجا ہے اور لوگ یعنی مرنے والے کے ورثاء اور دیگر متعلقین وغیرہ) یہ پوچھتے ہیں کہ اس نے اپنے ترکہ میں کیا چھوڑا ہے؟ (گویا فرشتوں کی نظر تو اعمال پر ہوتی ہے اور لوگوں کی نظر دنیاوی مال و متاع پر لگی رہتی ہے) اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
وعن مالك رضي الله عنه أن لقمان قال لابنه يا بني إن الناس قد تطاول عليهم ما يوعدون وهم إلى الآخرة سراعا يذهبون وإنك قداستدبرت الدنيا منذ كنت واستقبلت الآخرة وإن دارا تسيرإليها أقرب إليك من دار تخرج منها . رواه رزين
حضرت امام مالک (رح) سے روایت ہے کہ مشہور حکیم لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا، میرے بیٹے! جس بات (یعنی مردوں کا دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جانا، حساب اور ثواب و عذاب وغیرہ) کا لوگوں سے وعدہ کیا کیا تھا، اس کی مدت (از آدم تا ایں دم) ان پر دراز ہوگئی حالانکہ لوگ آخرت کی طرف تیزی سے چلے جا رہے ہیں۔ اور میرے بیٹے! جس وقت تم پیدا ہوئے تھے اسی وقت سے تمہاری پیٹھ دنیا کی طرف اور تمہارا رخ آخرت کی طرف ہے (یعنی تم اپنی پیدائش کے دن سے گویا دنیا کو پیچھے چھوڑتے چلے آ رہے ہو اور آخرت کی طرف بڑھتے جا رہے ہو) اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جس گھر اور مقام کی طرف تم جا رہے ہو وہ تم سے اس گھر اور مقام کی بہ نسبت زیادہ قریب ہے جس کو تم چھوڑ کر جا رہے ہو (رزین)
تشریح
اس کی مدت ان پر دراز ہوگئی کا مطلب یہ ہے کہ قیامت آنے، امور آخرت اور اس جہان کی زندگی کے بارے میں جو خبر دی گئی ہے اور اس کا جو وعدہ کیا گیا ہے اس پر چونکہ ایک طویل مدت گزر گئی ہے اس لئے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وعدے کے پورے ہونے میں دیر ہوگئی ہے حالانکہ دیر کچھ نہیں ہوئی ہے بلکہ دنیا کا سفر جاری ہے اور لوگ ہر ساعت بلکہ ہر لمحہ اس یوم موعود اور آخرت کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کی خبر ان کو دی گئی ہے جیسا کہ کشتیوں کا کارواں اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہتا ہے اور بھری ہوئی کشتیوں میں بیٹھے ہوئے اہل کارواں راستہ گزرنے کا احساس نہیں کرتے! اسی بات کو اس جملہ، اور جس وقت تم پیدا ہوئے تھے الخ کے ذریعہ بیان کیا گیا۔ اس جملہ میں اگرچہ خاص طور پر بیٹے سے خطاب کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں اس سے مراد عام خطاب ہے کہ اس بات کا روئے سخن ہر انسان کی طرف ہے۔ روایت کے آخری جملہ سے اس بات کو ثابت کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص کسی جگہ کو چھوڑ کر نکلتا ہے تو اس کا ہر قدم اس جگہ سے دور ہوتا جاتا ہے اور جس جگہ کی طرف اس کا رخ ہوتا ہے اس سے قریب تر ہوتا رہتا ہے، لہٰذا جو بھی انسان اس دنیا میں اتا ہے وہ اپنی پیدائش کے دن سے آخرت کی طرف اپنا سفر شروع کردیتا ہے اور دنیا کو پیچھے چھوڑتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح گویا وہ ہر دن اور ہر لمحہ ایک ایسی مسافت کے درمیان ہے جس کو قطع کرتا رہتا ہے اور اس کے قریب ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک دن ایسا آئے گا جب وہ مسافت پوری ہوجائے گی اور وہ جس جانب رواں دواں ہے وہ وہاں پہنچ جائے گا! واضح رہے کہ حکیم لقمان کی اس نصیحت کا مقصد اس غفلت کا پردہ چاک کرنا ہے جس نے امور آخرت کی طرف سے بےپرواہ بنا رکھا ہے۔
وعن عبدالله بن عمرو رضي الله عنهما قال قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم أي الناس أفضل ؟ قال كل مخموم القلب صدوق اللسان . قالوا صدزق اللسان نعرفه فما مخموم القلب ؟ قال هو النقي التقي لا إثم عليه ولا بغي ولا غل ولا حسد . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون آدمی بہتر ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ہر وہ شخص جو مخموم دل اور زبان کا سچا ہو یہ سن کر صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ زبان کے سچے کو تم ہم جانتے ہیں (کہ زبان کا سچا اس شخص کو کہتے ہیں جو کبھی جھوٹ نہ بولے) لیکن مخموم دل سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ مخموم دل وہ شخص ہے جس کا دل پاک و صاف ہو، پرہیزگار ہو، اس میں کوئی گناہ نہ ہو، اس نے کوئی ظلم نہ کیا ہو، حد سے تجاوز نہ کیا ہو اور اس میں کدورت و کینہ اور حسد کا مادہ نہ ہو (ابن ماجہ، بیہقی)
تشریح
لفظ مخموم اصل میں خم سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں جھاڑو دینا کوڑے کرکٹ اور گندگی سے زمین و کنویں کو صاف کرنا۔ پس مخموم دل سے مراد وہ شخص ہے جس کا دل غیر اللہ کے غبار سے صاف ستھرا ہو اور برے اخلاق و احوال اور فاسد افکار و خیالات سے پاک ہو جو کو سلیم القلب کہا جاتا ہے اور جس کی تعریف اللہ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے آیت (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) اسی مراد کو حضور ﷺ نے لفظ نقی اور تقی کے ذریع واضح فرمایا چناچہ نقی کے معنی ہیں وہ شخص جس کا دل اور باطن غیر اللہ کی محبت سے پاک و صاف ہو اور نقی کے معنی ہیں فاسد و بیہودہ افکار و خیالات لغو عقائد اور برے اعمال و خیال سے بچنے والا۔ صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے جو مخموم القلب کے معنی دریافت کئے تو اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس وقت دریافت کرنے والے صحابہ ؓ کے ذہن میں لفظ مخموم کے لغوی معنی محفوظ نہیں ہوں گے کیونکہ آنحضرت ﷺ کبھی کبھی ایسے نادر الفاظ ارشاد فرماتے تھے کہ صحابہ ؓ عربی زبان پر پوری دستگاہ رکھنے اور فصاحت بلاغت کے رموز سے آشنا ہونے کے باوجود ان کا فہم ان الفاظ کے معنی تک نہیں پہنچاتا تھا چناچہ وہ حضور ﷺ سے ایسے الفاظ کے بارے میں دریافت کرلیا کرتے تھے۔ یا یہ کہ صحابہ ؓ لفظ مخموم کے معنی تو جانتے تھے لیکن قلب کی طرف اس لفظ کی اضافت اور اس کی مراد و معنی کا تعین ان کے فہم سے باہر تھا چناچہ انہوں نے دریافت کیا اور حضور ﷺ نے اس کی وضاحت فرما دی۔ یہ احتمال زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔
وہ چار باتیں جو دنیا کے نفع نقصان سے بے پرواہ بنا دیتی ہیں
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أربع إذا كن فيك فلا عليك ما فاتك من الدنيا حفظ أمانة وصدق حديث وحسن خليقة وعفة في طعمة . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ لوگو! چار چیزیں ایسی ہیں کہ اگر وہ تم میں پائی جائیں تو دنیا کے فوت ہونے نہ ہونے کا تمہیں کوئی غم نہیں ہونا چاہئے، ایک تو امانت کی حفاظت کرنا (یعنی حقوق کی حفاظت و ادائیگی کرنا اور ان کے حقوق کا تعلق خواہ پروردگار سے ہو یا بندوں سے اور یا اپنے نفس سے) دوسرے سچی بات کہنا، تیسرے اخلاق کا اچھا ہونا اور چوتھے کھانے میں احتیاط و پرہیزگاری اختیار کرنا (یعنی حرام و ناجائز کھانے سے پہیز کرنا اور زیادہ کھانے سے اجتناب کر کے بقدر حاجت و ضرورت پر اکتفا کرنا۔ (احمد، بیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس شخص کی زندگی ان چار چیزوں سے معمور ہوگئی تو گویا اس نے اخروی نعمتوں کی جڑ پکڑ لی، اس کے نفس نے روحانی عروج و کمال کا درجہ پا لیا، اس کا قلب و باطن منور ہوگیا اور ثواب آخرت اور بہشت کی لازوال نعمتوں کا ذریعہ اس کو حاصل ہوگیا، لہٰذا اس صورت میں اگر وہ دنیا بھر کی نعمتوں اور تمام مادی خواہشات و لذات سے محروم ہوجائے تو اس کو کوئی افسوس و غم نہیں ہونا چاہئے بلکہ ایک طرح سے اس کو اس محرومی پر مطمئن ہونا چاہئے کہ اگر دنیاوی نعمتیں اور لذتیں حاصل ہوتیں تو ان کی وجہ سے دینی معمولات اور عبادات و طاعات میں جمعیت خاطری اور حضور قلب، خلل و وحشت کا شکار ہوتے اور روحانی لطافت و نورانیت کا جمال مادی کثافت و ظلمت سے غبار آلود ہوجاتا۔
راست گفتاری ونیک کرداری کی اہمیت
وعن مالك رضي الله عنه قال بلغني أنه قيل للقمان الحكيم ما بلغ بك ما ترى ؟ يعني الفضل قال صدق الحديث وأداء الأمانة وترك ما لا يعنيني . رواه في الموطأ
حضرت امام مالک (رح) کہتے ہیں کہ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ جب لقمان حکیم سے یہ پوچھا گیا ہے کہ جس مرتبہ (یعنی فضیلت کے جس مقام) پر ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں اس تک آپ کو کسی چیز نے پہنچایا ہے؟ لقمان حکیم نے فرمایا۔ سچ بولنے نے (کہ میں نے سچائی کا دامن، کبھی نہیں چھوڑا، خواہ میں نے خود کوئی بات کہی ہو یا کسی کی کوئی بات نقل کی ہو ہمیشہ سچ بولنے پر عامل رہا) ادائیگی امانت نے (یعنی خواہ کوئی مالی معاملہ رہا ہو یا فعلی، میں نے ہمیشہ دیانت داری کو ملحوظ رکھا ہے) اور جو چیزیں میرے لئے بےفائدہ اور غیر ضروری ہیں ان کو ترک کردینے سے۔ (موطا)
تشریح
اس روایت سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اصل حکمت و دانائی، راست گفتاری و نیک کرداری ہے۔ چناچہ انسانی زندگی کے یہی وہ دو اعلی جوہر ہیں جن کو اختیار کر کے لقمان حکیم اپنے عظیم مرتبہ تک پہنچ گئے۔ لقمان حکیم کون تھے؟ لقمان حکیم، جن کی حکمت و دانائی آج بھی ضرب المثل ہے اور جن کا نام عقل و دانش کے اس پیکر کے طور پر لیا جاتا ہے جس سے دنیا کے بڑے بڑے حکماء بڑے بڑے مفتیین اور بڑے بڑے فلاسفر فیضان حاصل کرتے ہیں، دراصل مشہور پیغمبر حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بھانجے تھے اور بعض حضرات نے ان کو حضرت ایوب (علیہ السلام) کا خالہ زاد بھائی کہا ہے، علماء اسلام کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ خود پیغمبر تھے یا نہیں؟ تاہم یہ بات متفقہ طور پر مسلم ہے کہ وہ ایک عظیم حکیم و فلاسفر تھے اور ولایت کے درجہ پر فائز تھے، نیز منقول ہے کہ انہوں نے تقریبا ایک ہزار پیغمبروں کی خدمت میں حاضر باشی اختیار کی تھی اور ان سب کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا تھا، غالباً ان کی اس بےمثال حکمت و دانائی کا ایک بڑا راز یہ بھی ہے کہ ان کو اتنے زیادہ پیغمبروں سے فیضان حاصل کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی یہ روایت منقول ہے کہ لقمان، نہ تو پیغمبر تھے اور نہ کوئی بادشاہ بلکہ وہ ایک سیاہ فام غلام تھے اور بکریاں چرایا کرتے تھے، حق تعالیٰ نے ان کو مقبول بارگاہ رب العزت بنایا، انہیں حکمت و دانائی، جوان مردی اور عقل دانش سے نوازا اور اپنی کتاب قرآن کریم میں ان کا ذکر فرمایا۔
قیامت کے دن بندوں کے حق میں نیک اعمال کی شفاعت
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تجيء الأعمال فتجيء الصلاة قتقول يارب أنا الصلاة . فيقول إنك على خير . فتجيء الصدقة فتقول يارب أنا الصدقة . فيقول إنك على خير ثم يجيء الصيام فيقول يارب أنا الصيام . فيقول إنك على خير . ثم تجيء الأعمال على ذلك . يقول الله تعالى إنك على خير . ثم يجيء الإسلام فيقول يا رب أنت السلام وأنا الإسلام . فيقول الله تعالى إنك على خير بك اليوم آخذ وبك أعطي . قال الله تعالى في كتابه ( ومن يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه وهو في الآخرة من الحاسرين )
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن) اعمال (خداوند برتر و بزرگ کے حضور) آئیں گے۔ پس (سب سے پہلے) نماز پیش ہوگی اور عرض کرے گی کہ اے پروردگار! میں نماز ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ بیشک تو بھلائی ہے۔ پھر صدقہ یعنی زکوٰۃ پیش ہوگی اور عرض کرے گی کہ اے پروردگار! میں صدقہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بیشک تو بھلائی ہے۔ اور پھر روزہ پیش ہوگا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار میں روزہ ہوں اسی طرح یکے بعد دیگرے دوسرے اعمال جیسے حج جہاد اور طلب علم وغیرہ پیش ہوں گے اور ہر ایک عمل مذکورہ بالا الفاظ میں اپنا تعارف پیش کرے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو خیر پر ہے (گویا ہر نیک عمل اپنے تعارف کے ذریعہ بندوں کے حق میں جو شفاعت کرے گا اس کی قبولیت کو حق تعالیٰ موقوف رکھے گا اور ہر ایک کی درخواست کو نہایت ملائمت و نرمی اور مہربانی کے ساتھ ملتوی رکھے گا) پھر (سب سے آخر میں) اسلام پیش ہوگا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار تیرا نام سلام ہے کہ تیری ذات تمام عیوب و آفات اور ہر طرح نقص سے سالم و پاک ہے اور تو تمام بندوں کو ہر طرح کے خوف اور تمام سختیوں اور مصیبتوں سے سلامتی بخشنے والا ہے اور میں اسلام ہوں (کہ تیرے حضور عجز و نیاز کرنے والا اور تیرے احکام کا مطیع و فرمانبردار ہوں، نیز میرے بارے میں تو نے خود فرمایا ہے کہ آیت (ان الدین عند اللہ الاسلام) پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ بیشک تو بھلائی پر ہے، آج کے دن میں تیرے ہی سبب مواخذہ کروں گا اور تیرے ہی وسیلہ سے عطا کروں گا (یعنی آج جزا و سزا کے دن میں تجھے ہی اصل اور طاعت معصیت کے فیصلوں کا مدار قرار دیتا ہوں کہ جس نے تجھے اختیار نہیں کیا اور تیرے راستے پر نہیں چلا اس سے مواخذہ کروں گا اور اس کو عذات میں مبتلا کروں گا اور جس نے تجھے اختیار کیا اور تیرے راستہ پر گامزن رہا اس کو جزا وثواب دوں گا، لہٰذا تو جو کچھ چاہتا ہے ہمارے سامنے عرض کر، ہم تیری ہر سفارش و شفاعت قبول کریں گے) چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے آیت (ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وہو فی الاخرۃ من الخسرین)۔ یعنی جو شخص اسلام کے سوا کسی دین کو اختیار کرے گا اس سے وہ دین ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں ٹوٹے میں رہنے والوں میں سے ہے۔
تشریح
تجیء الاعمال کا مطب یہ کہ قیامت کے دن نیک اعمال بحضور رب ذوالجلال پیش ہوں گے اور دنیا میں جن لوگوں نے ان اعمال کو اختیار کیا ہوگا ان کے حق میں گواہی دیں گے اور ان کی شفاعت کریں گے، نیز جن لوگوں نے ان اعمال کو ترک کیا ہوگا ان کے خلاف احتجاج و شکایت کریں گے۔ رہی یہ بات کہ ان اعمال کے پیش ہونے کی کیا صورت ہوگی تو وہ ایک قوی احتمال یہ ہے کہ وہ اعمال اچھی صورتوں میں مشکل ہو کر پیش ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو نہایت پاکیزہ اور خوشنما صورتیں عطا فرمائے گا جیسا کہ بعض احادیث و آثار سے مفہوم ہوتا ہے اور یا یہ کہ حق تعالیٰ کی یہ قدرت پوری طرح ثابت ہے کہ وہ اعراض کو بالذات پیش کر دے اور ان کو قوت گویائی عطا فرمائے۔ حضرت شیخ عبدالحق (رح) نے حدیث کی وضاحت میں یہ لکھا ہے کہ نماز کا یہ تعارف پیش کرنا کہ میں نماز ہوں دراصل اس مفہوم کا حامل ہے کہ اے پروردگار! مجھ کو تیری بارگاہ میں جو عظمت و مرتبہ حاصل ہے کہ تو نے مجھے اپنے دین کا ستون فرمایا ہے اور اپنے نزدیک مقام عزت و قرب سے نوازا ہے اس پر اعتماد کرتے ہوئے اور بامید قبولیت تیری درگاہ لطف و کرم بندوں کے حق میں شفاعت کرنے حاضر ہوئی ہوں اور چونکہ تو نے یہ فرمایا ہے آیت (ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر) اس لئے جس طرح میں دنیا میں لوگوں کو فسق و فجور سے دور رکھنے والی تھی اسی طرح آج کے دن امید وار ہوں کہ لوگوں کو تیرے عذاب سے دور رکھوں اور تیرے غضب سے بچاؤں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نماز سے فرمائے گا کہ بیشک تو بھلائی اور صلاح و فلاح کی حامل ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نماز کی شفاعت کو قبول نہیں فرمائے گا بلکہ اس کی درخواست شفاعت کو موقوف ملتوی رکھے گا اور مذکورہ ارشاد کے ذریعہ اس توقف و التواء کو نہایت بلیغ و پاکیزہ انداز اور حسن کلام کے ذریعہ ظاہر کرے گا اور اس ارشاد کا مفہوم درحقیقت یہ ہوگا کہ اے نماز! اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے تجھ کو بہت بڑے مرتبہ کا حامل قرار دیا ہے اور تجھ میں جو فضل و شرف رکھا ہے وہ ایک حقیقت ہے اور بجائے خود ہے، لیکن جہاں تک شفاعت کا تعلق ہے تو یہ ایک دوسرا مرتبہ ہے جو تجھے حاصل نہیں ہے بلکہ یہ صفت و مرتبہ اس کو دیا گیا ہے جو تیری اور تیری ہم مثل عبادتوں کی بنیاد و مبنی ہے اور تمام اچھی صفات کا مجموعہ یعنی دین اسلام۔ اس موقع پر ایک لطیف نکتہ سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ مقام شفاعت پر کھڑا ہونا (یعنی قیامت کے دن بارگارہ رب العزت میں بندوں کے حق میں شفاعت کرنا) صرف اس ذات کو سزا وار ہے جو جامع کمالات ہے جیسا کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پاک کہ آپ ﷺ کے تمام اسماء صفات الٰہی کے مظہر ہیں، چناچہ شفاعت کا حق صرف آپ ﷺ کی ذات کو حاصل ہوگا، آپ کے علاوہ کوئی اور پیغمبر شفاعت کا دروازہ کھلوانے پر قادر نہیں ہوگا اسی طرح اعمال میں بھی صرف وہی عمل شفاعت کرنے کا مجاز ہوگا جو تمام صفات و کمالا کا جامع ہے یعنی اسلام، جیسا کہ حدیث کے آخری جز سے واضح ہوتا ہے۔ صدقہ کا یہ تعارف پیش کرنا کہ میں صدقہ ہوں اس مفہوم کا حامل ہوگا کہ پروردگار! میں اپنی عزت و فضیلت کا سہارا لے کر تیری بارگاہ میں شفاعت کرنے حاضر ہوا ہوں جس سے تو نے اپنے لطف و کرم کے طفیل مجھے نوازا ہے اور میرے حق میں فرمایا ہے کہ الصدقۃ تطفی غضب الرب اسی طرح روزہ کے اس تعارف کا کہ میں روزہ ہوں یہ مفہوم ہوگا کہ پروردگار! میں وہ عبادت یعنی روزہ ہوں جو اس مخصوص صفت و حیثیت کا حامل ہے کہ تو نے اس کی وہ خاص جزا رکھی ہے جس کو تیرے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا اور جس شخص نے اس کو اختیار کیا اور اس کے پورے حقوق کی رعایت ملحوظ رکھی اس کو تو نے بخشنے اور جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، لہٰذا میں اپنے اس فضیلت و خصوصیت کی بناء پر بامید قبولیت تیری بارگاہ میں درخواست شفاعت لے کر حاضر ہوا ہوں۔ اسلام اپنے تعارف کے سلسلے میں جو اسلوب و انداز اختیار کرے گا وہ مذکورہ بالا دیگر اعمال کے اسلوب تعارف سے مختلف ہوگا، چناچہ اس کو چونکہ باب شفاعت و اکرانے میں بہت دخل ہوگا اس لئے وہ اپنے تعارف اور اپنی درخواست کی ابتداء حق تعالیٰ شانہ کی حمد و تعریف اور اس کے تئیں اظہار تعظیم سے کرے گا جیسا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب مقام شفاعت پر کھڑے ہوں گے تو پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و تعریف اور تعظیم و ثنا بیان کریں گے اس کے بعد درخواست پیش کریں گے، لہٰذا اسلام حق تعالیٰ کے حضور پر یش ہو کر اس کو اس کے اسم مبارک سلام کے ذریعہ صدا دے گا اور اپنے آپ کو ایک مطیع و فرمانبردار ذات ظاہر کرے گا اور اس کے بعد درخواست شفاعت پیش کرے گا۔ ایک یہ احتمال بھی ہے کہ حدیث میں اسلام سے مراد دین اسلام نہ ہو بلکہ صفت رضاء تسلیم اور ترک اختیار مراد ہو جو اللہ کے برگزیدہ اور مقرب بندوں کے اعلیٰ مراتب میں سے ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حق میں اسلام کا ذکر اسی مفہوم میں کیا گیا ہے کہ فرمایا۔ آیت (اذ قال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العالمین) (یعنی جب ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب نے فرمایا کہ تابعداری اختیار کرو تو انہوں نے کہا کہ میں رب العالمین کا تابعدار ہوا)
دنیا کی طرف مائل کرنے والی چیزوں کو چھوڑ دو
وعن عائشة رضي الله عنها قالت كان لنا ستر فيه تماثيل طير فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا عائشة حوليه فإني إذا رأيته ذكرت الدنيا
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں (دروازے پر، یا بطور دیوار گیری) جو پردہ تھا اس پر پرندوں کی تصویریں بنی ہوتی تھیں چناچہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ عائشہ! اس پردہ کو بدل ڈالو، کیونکہ جب میں اس کو دیکھتا ہوں تو دنیا یاد آجاتی ہے۔
تشریح
حضور ﷺ نے اس پردے کو بدلنے کا حکم جس انداز سے دیا اور اس کی جو علت بیان فرمائی اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس سے پردے پر جو تصویریں تھیں وہ نمایاں نہیں تھیں بلکہ ان کے خطوط و نقوش اس قدر چھوٹے اور غیر واضح تھے کہ ان پر حقیقی معنی میں تصویر کا اطلاق نہیں ہوتا تھا، یا یہ کہ تصویر دار پردہ کا یہ واقعہ اس زمانہ کا ہے جب کہ تصویر کی حرمت نازل و نافذ نہیں ہوئی تھی۔ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان اسباب و اشیاء کو دیکھنا کہ جس کے ذریعہ دولتمند لوگ عیش و عشرت کی زندگی اختیار کرتے ہیں فقراء کے قلب کی حلاوت و طمانیت پر اثر انداز ہوتا ہے، لہٰذا عیش و عشرت کی چیزوں اور دنیا کی طرف مائل کرنے والی اشیاء کو نہ صرف یہ کہ اختیار نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان کی طرف نظر بھی نہیں اٹھانی چاہئے۔
وعن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه قال جاء رحل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال عظني وأوجز . فقال إذا قمت في صلاتك فصل صلاة مودع ولا تكلم بكلام تعذر منه غدا وأجمع الإياس مما في أيدي الناس
حضرت ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر کیا کہ (یا رسول اللہ! ﷺ مجھ کو کوئی ایسی نصیحت فرمائیے مختصر اور جامع ہو! حضور ﷺ نے فرمایا جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اس شخص کی طرح نماز پڑھو جو اللہ کے سوا ہر چیز یعنی مخلوق اور اپنے نفس کو رخصت کرنے اور چھوڑنے والا ہے (حاصل یہ کہ جب نماز پڑھو تو دنیا بھر سے اپنی توجہ اور اپنا خیال پھیر کر کامل اخلاص اور پوری توجہ کے ساتھ رب العالمین کی طرف متوجہ رہو) نیز اپنی زبان سے ایسی کوئی بات نہ نکالو جس کے سبب تمہیں کل (قیامت کے دن، اللہ کے حضور) عذر خواہی کرنی پڑے (یا یہ کہ عذر خواہی کا مفہوم، عموم پر محمول ہے یعنی کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکال جس کے سبب تمہیں اپنے دوستوں، رفقاء و متعلقین اور تمام مسلمانوں کے سامنے پشیمان ہونا پڑے اور معذرت کرنے کی ضرورت پیش آئے) اور اس چیز سے ناامید ہوجانے کا پختہ ارادہ کرلو جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، (یعنی اللہ نے تمہاری قسمت میں جتنا لکھ دیا ہے اور تمہیں جو کچھ دے دیا ہے اسی پر قناعت و کفایت کرو اور لوگوں کے مال و متاع سے اپنی امید وابستہ نہ کرو۔
تشریح
رخصت کرنے کے ایک معنی تو وہ ہیں جو اوپر ترجمہ میں بیان کئے گئے ہیں اور ممکن ہے کہ رخصت کرنے سے مراد حیات کو رخصت کرنا ہو، یعنی تم اس طرح نماز پڑھو کہ گویا وہ تمہاری آخری نماز ہے اور وہ وقت تمہاری زندگی کا آخری وقت ہے! چناچہ مشائخ کی وصیتوں اور نصائح میں یہ زریں ہدایت منقول ہے کہ طالب کو چاہئے کہ وہ اپنی ہر نماز میں یہ تصور کرے کہ بس یہ آخری نماز ہے! جب وہ اس تصور کے ساتھ نماز پڑھے گا تو یقینا اس نماز کو کامل اخلاص، پورے ذوق و شوق، حضور قلب اور تعدیل ارکان کے ساتھ ادا کرے گا۔ حدیث کے آخری الفاظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ دوسروں کے مال و متاع اور دولت پر نظر رکھنا اور ان سے امیدیں وابستہ کرنا قلبی فقر و افلاس کی علامت ہے، چناچہ قلب کا غنی ہونا اس پر منحصر ہے کہ لوگوں کے پاس جو کچھ مال و متاع اور دولت ہے اس سے اپنی امید منقطع کرلی جائے۔
وعن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال لما بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن خرج معه رسول الله صلى الله عليه وسلم يوصيه ومعاذ راكب ورسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي تحت راحلته فلما فرغ قال يا معاذ إنك عسى أن لا تلقاني بعد عامي هذا ولعلك أن تمر بمسجدي هذا وقبري فبكى معاذ جشعا لفراق رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم التفت فأقبل بوجهه نحو المدينة فقال إن أولى الناس بي المتقون من كانوا وحيث كانوا روى الأحاديث الأربعة أحمد
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول کریم ﷺ نے انہیں قاضی یا عامل بنا کر یمن روانہ فرمایا تو آپ ﷺ الوداوع کہنے کے لئے کچھ دور تک ان کے ساتھ گئے اور اس دوران آپ ﷺ ان کو تلقین و نصیحت کرتے رہے، نیز اس وقت معاذ ؓ تو اپنی سواری پر سوار تھے اور رسول اللہ ﷺ ان کی سواری کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ جب آپ ﷺ نصائح و ہدایت سے فارغ ہوئے تو فرمایا۔ معاذ میری عمر کے اس سال کے بعد شاید تم مجھ سے ملاقات نہیں کرسکو گے اور ممکن ہے کہ تم جب یمن سے واپس لوٹو گے تو مجھ سے ملاقات کرنے کے بجائے میری اس مسجد اور میری قبر سے گزرو۔ معاذ ؓ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کی جدائی کے غم میں رونے لگے اور رسول کریم ﷺ نے معاذ ؓ کی طرف سے منہ پھیر کر مدینہ کی جانب اپنا رخ کرلیا، پھر فرمایا میرے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو پرہیز گار ہیں خواہ وہ کوئی ہوں اور کہیں ہوں (یعی خواہ وہ کسی رنگ و نسل، کسی ملک و قوم اور کسی طبقہ و مرتبہ کے ہوں) ان چاروں روایتوں کو امام احمد (رح) نے نقل کیا ہے۔
تشریح
لفظ ماقبل گویا لفظ التفت کی وضاحت ہے، نیز معاذ ؓ کی طرف سے حضور ﷺ کے منہ پھیرنے کی وجہ شاید یہ تھی کہ آپ ﷺ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کو روتا ہوا دیکھیں کیونکہ اس صورت میں آپ ﷺ کا دل بھی بھر آتا اور بعید نہیں تھا کہ آپ ﷺ بھی رونے لگتے جس سے آپ ﷺ کے قلب مبارک پر غم کا احساس شدید تر ہوجاتا، نیز اس طرح آپ ﷺ نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ فرمایا کہ میری اس بات سے تمہارا غمگین ہونا اور رونا بالکل بجا، لیکن میرا اس دنیا کو چھوڑنا اور آخرت کا سفر اختیار کرنا ایک یقینی بات ہے۔ چناچہ ایک طرف تو آپ ﷺ نے اپنے مذکورہ فعل کے ذریعہ حضرت معاذ ؓ کو ڈھارس دی اور ان کو حادثہ فاجعہ کو قبول کرنے کے لئے تیار کیا اور دوسری طرف اپنے اشارہ کے ذریعہ ان کو آگاہ فرمایا کہ تم اس وقت مجھے اور مدینہ سے جدا ہو رہے ہو لیکن بعد میں تم مدینہ کو دیکھ کر لوگے البتہ مجھے دیکھنا تمہیں نصیب نہیں ہوگا۔، پھر آپ ﷺ نے اس طرف بھی اشارہ فرمایا کہ انبیاء اور اتقیا کے درمیان حقیقی رفاقت و قرب کا کیف بس اسی جہاں میں حاصل ہوگا جو دارالبقاء ہے وہاں جو شخص جس کا رفیق و ساتھی بن جائے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے لہٰذا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کو میری ہمیشہ کی رفاقت کا شرف مل جائے اور آخرت کی دائمی زندگی میں اس کو وہ مرتبہ نصیب ہو کہ جس کی وجہ سے اس کو میری شفاعت و قرب حاصل ہو تو اس کو چاہئے کہ تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرے، کیونکہ یہی وہ راہ ہے جس پر چل کر کوئی شخص میری قربت حاصل کرسکتا ہے۔ خواہ وہ کوئی ہوں اور کہیں ہوں جیسا کہ اوپر ترجمہ میں بھی وضاحت کی گئی ہے اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص میرا پسندیدہ میرا نزدیک اور میرا عزیز بننا چاہتا ہے اس کو لازم ہے کہ وہ متقی بنے، قطع نظر اس بات کے کہ وہ کس قبیلہ وقوم کا ہے، کس رنگ و نسل کا ہے اور کس ملک میں سکونت پزیر ہے، ایک شخص مکہ اور مدینہ میں میرا ہم شہر اور میرے قبیلہ و خاندان کا ہونے کے باوجود میرے قریب نہیں ہوسکتا جب کہ وہ پرہیز گاری اختیار کئے ہوئے نہ ہو اور ایک شخص مجھ سے بہت دور سکونت پذیر ہونے اور مجھ سے کوئی نسلی و قرابتی تعلق نہ رکھنے کے باوجود کہ وہ بصرہ میں ہو یا کوفہ میں، یمن میں ہو یا کسی اور دور دراز کے ملک میں، میرے بہت قریب و نزدیک ہوسکتا ہے جب کہ وہ پرہیز گاری پر عامل ہو اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک تو حضرت اویس قرنی (رح) تھے کہ ان کو کبھی بھی حضور کی زیارت تک نصیب نہیں ہوئی اور یمن میں سکونت پذیر رہے مگر چونکہ وہ تقویٰ اور پرہیز گاری کے درجہ کمال پر پہنچے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے کتنا عظیم مرتبہ پایا اور حضور ﷺ سے دور رہنے کے باوجود بارگاہ رسالت میں کس قدر قربت و نزدیکی کے حامل ہوئے، اس کے برخلاف ایک وہ لوگ تھے جن کا شمار مکہ اور مدینہ کے معزز ترین اور اشرف لوگوں میں ہوتا تھا حضور ﷺ ہی کے شہر میں رہتے تھے اور حضور ﷺ ہی کے قبیلہ و خاندان کے تھے مگر چونکہ ترک تقویٰ اختیار کئے ہوئے تھے اس لئے بارگاہ رسالت میں مقام قرب سے محروم رہے بلکہ حضور ﷺ کو تکالیف ایذاء پہنچانے کے سبب نہایت شقی اور بدبخت قرار پائے۔ پس حضور ﷺ نے مذکورہ ارشاد کے ذریعہ گویا حضرت معاذ ؓ کو تسلی دی کہ ہماری ظاہری جدائی کا غم نہ کھاؤ بلکہ تقویٰ کو اختیار کئے رہو اگر تم متقی رہے تو گو ظاہری اعتبار سے تم ہم سے جدا رہو گے مگر معنوی طور پر ہمارے ساتھ ہی رہو گے۔ طیبی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا مذکورہ ارشاد حضرت معاذ ؓ کو اپنی رحلت کی پیشگی اطلاع دینے کے بعد گویا ان کے حق میں تسلی کے طور پر تھا اور ان کو اس طرف متوجہ کرنا مقصود تھا کہ جب تم اپنے فرائض منصبی کو پورا کر کے یمن سے مدینہ واپس آؤ اور مجھے اس دنیا میں موجود نہ پاؤ تو اس وقت یہاں ان لوگوں کی اقتداء و اتباع کرنا جو اپنے تقویٰ و طہارت اور کمال دینداری کے سبب مجھ سے سب سے زیادہ نزدیک اور قریب ہیں، پھر طیبی کہتے ہیں کہ اس ارشاد میں جن لوگوں کی اقتداء اور و اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ان سے گویا بطور کنایہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ذات گرامی مراد تھی جن کو آنحضرت ﷺ کے بعد خلیفہ اول قرار پانا تھا، اس بات کی تائید حضرت جبیر ابن مطعم ؓ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس کا تعلق اسی طرح کے ایک واقعہ سے ہے جس میں حضور ﷺ نے اپنے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت کی طرف اشارہ فرمایا تھا، چناچہ اس روایت میں منقول ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور آپ ﷺ سے کسی مسئلہ میں گفتگو کی۔ حضور ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تم کسی اور وقت آنا تو میں تفصیل کے ساتھ تمہیں سمجھا دوں گا اس عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر میں کسی ایسی وقت آئی کہ (خدا نخواستہ) آپ ﷺ اس دنیا میں موجود نہ ہوئے تو میں کیا کروں گی؟ حضور ﷺ نے فرمایا۔ اگر تم ایسے وقت آئیں کہ میں اس دنیا میں نہیں رہا تو پھر تم ابوبکر ؓ کے پاس چلی جانا۔ گویا حضور ﷺ نے اس طرف صریحا اشارہ فرمایا کہ میرے بعد ابوبکر ؓ خلیفہ ہوں گے اور اس وقت مسلمانوں کے مقتداء وہی ہوں گے۔ بہرحال اس حدیث کا مقصد اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ اپنے تمام دینی و دنیاوی معاملات اور تمام ملکی و شرعی امر میں ہمہ وقت احتیاط وتقویٰ کو ملحوظ رکھنا چاہئے، نیز اس میں تمام امت کے لئے یہ تسلی بھی پوشیدہ ہے کہ جن لوگوں کو حضور ﷺ کا زمانہ اور آپ ﷺ کی خدمت و صحبت کا شرف حاصل نہیں ہوا ہے خواہ وہ کتنے ہی زمانہ کے بعد پیدا ہوں گے اگر وہ تقویٰ اختیار کریں گے تو انہیں بارگاہ رسالت میں تقرب حاصل ہوگا، اللہم ارزقنا ہذہ النعمۃ۔
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال تلا رسول الله صلى الله عليه وسلم ( فمن يرد الله أن يهديه يشرح صدره للإسلام ) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن النور إذا دخل الصدر انفسح . فقيل يا رسول الله هل لتلك من علم يعرف به ؟ قال نعم التجافي من دار الغرور والإنابة إلى دار الخلود والاستعداد للموت قبل نزوله
حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے آیت پڑھی (فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَه يَشْرَحْ صَدْرَه لِلْاِسْلَامِ ) 6۔ الانعام 125) یعنی اللہ تعالیٰ جس شخص کو ہدایت بخشنا چاہتا ہے (یعنی خاص ہدایت کہ جو اس کو مرتبہ اختصاص تک پہنچا دے تو اس کا سینہ اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے بایں طور کہ اس کو شرائع اسلام اخلاص کے ساتھ قبول کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے پھر حضور ﷺ نے گویا آیت کی تفسیر میں فرمایا جب ہدایت کا نور سینہ میں داخل ہوتا ہے تو سینہ فراخ اور کشادہ ہوجاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ کیا اس حالت و کیفیت کی کوئی علامت ہے جس سے اس کو پہچانا جاسکے؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں اس کی نشانی ہے، دارالغرور (دنیا سے) دور ہونا، آخرت کی طرف کہ جو ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والا جہان ہے، رجوع کرنا اور پوری طرح متوجہ رہنا اور مرنے سے پہلے مرنے کے لئے تیاری کرنا۔
تشریح
شرح صدر یعنی سینہ کا کھل جانا وہ نعمت ہے جو ہدایت و رستی اور تمام دینی و دنیاوی امور میں بہتری و بھلائی کا ذریعہ ہے، یہ کیسے معلوم ہو کہ فلاں شخص شرح صدر کی حالت کو پہنچ گیا ہے؟ اس کو پہچاننے کے لئے تین علامتیں بیان فرمائی گئی ہیں، ایک تو دار الغرور (دنیا) سے بعد یعنی زہد و قناعت اختیار کرنا کہ یہ جگہ مکر و فریب سے بھری ہوئی ہے اور شیطان اس کے ذریعہ لوگوں کو فریب دیتا ہے دوسرے دنیا کی طرف سے بےپرواہ ہو کر آخرت کی طرف ہمیشہ متوجہ رہنا اور ہر صورت میں اسی کی بہتری و بھلائی کو ملحوظ رکھنا اور تیسرے یہ کہ موت آنے سے پہلے موت کے لئے تیاری کرلینا یعنی توبہ وانابت کے ذریعہ اپنی لغزشوں اور گناہوں سے اظہار بیزاری کرنا، عبادات اور اچھے کاموں میں سبقت کرنا اور اپنے اوقات کو طاعات الٰہی میں مشغول رکھنا، جس شخص میں یہ تینوں باتین پائی جائیں تو جان لینا چاہئے کہ اس نے گویا تمام شرائع اسلام کو پورے یقین و اخلاص کے ساتھ قبول کرلیا ہے اور وہ اس مقام تک پہنچ گیا ہے جہاں احکام الٰہی کی بجا آوری مزاج و طبعیت پر گراں گزرنے کے بجائے روحانی و جسمانی کیف و سرور اور لذت بہم پہنچاتی ہے۔ واضح رہے کہ شرح صدر یعنی سینہ کی کشادگی سے مراد قلب میں قبول حق کی استعداد و صلاحیت کا پیدا ہوجانا ہے اور قلب مومن جو نور ہدایت سے پر ہو، وہ بذات خود بڑے عظیم رتبہ کا حامل ہے یہاں تک کہ اس کو عرش رب سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا یسعنی ارضی ولا سمائی ولکن یسعنی قلب عبدی المومن یعنی نہ تو میری زمین میری گنجائش رکھتی ہے اور نہ میرا آسمان لیکن میرے مومن بندے کا قلب میری گنجائش رکھتا ہے۔ دنیا کو دارالغرور یعنی دھوکے گھر، کہا گیا ہے کیونکہ بلا شبہ یہ دنیا مکر و فریب میں مبتلا کرنے اور دھوکا دینے والی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی عہد شکن نہیں ہے، لوگ اس کی محبت میں مبتلا ہو کر کیا کچھ نہیں کرتے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے کیسے کیسے پاپڑ نہیں بیلتے، لیکن آخر کار یہ کسی کی نہیں ہوتی اور ہر ایک کو دغا دیتی ہے، چناچہ قرآن کریم میں آگاہ فرمایا گیا ہے کہ آیت (ولا یغرنکم الحیوۃ الدنیا) یعنی دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے۔ جہاں تک اس دنیا کی حقیقت و ماہیت کا تعلق ہے تو اس میں بھی کوئی شبہ کرسکتا ہے کہ یہ دنیا خرابی و فساد اور رنج و محن کا گھر ہے اگرچہ اس کی ظاہری حالت ایک نعمت کی طرح معلوم ہوتی ہے اور اس کی مثال سراب کی سی ہے کہ دھوپ میں چمکنے والے ریگستانی ریت کو پانی سمجھ کر پیاسا اس کی طرف لپکتا ہے مگر جب قریب پہنچتا ہے تو اس کو حقیقت نظر آتی ہے اور سمجھتا ہے کہ میں دھوکہ میں مبتلا ہوگیا، بالکل اسی طرح بادشاہ و امراء دولتمند اور دنیا دار لوگ دنیا کی ظاہری چمک دمک کے دھوکے میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور جب حقیقت سامنے آتی ہے تو آنکھیں کھلتی ہیں مگر وقت گزر چکا ہوتا ہے اور حسرت و خسران کے سوا ان کے ہاتھ اور کچھ نہیں لگتا۔ موت آنے سے پہلے سے حیات مستعار کا وہ عرصہ مراد ہے جس میں انسان کچھ کرلینے کی صلاحیت و قوت رکھتا ہے یعنی صحت تندرستی کا زمانہ اور آخر درجہ میں وہ زمانہ بھی مراد ہوسکتا ہے جب موت کے مقدمات ظاہر ہوں گے اور زندگی کے خاتمہ کے ظاہری اسباب پیدا ہوجائیں اور وہ مرض و بیماری کا زمانہ ہے لیکن عمر کا وہ حصہ کہ جو انسان کو بالکل بیکار و ناکارہ بنا کر رکھ دیتا ہے یعنی بہت بڑھاپا کہ اس زمانہ میں نہ علم و معرفت حاصل کرنے کی طاقت رہتی ہے اور نہ عمل کرنے پر قدرت ہوتی ہے، اس وقت بےفائدہ حسرت و ندامت کے سوا اور کچھ نہیں ملتا، لہٰذا دانائی اسی میں ہے کہ اس زمانہ سے پہلے سفر آخرت کے لئے زاد راہ تیار کرلیا جائے۔
حکمت و دانائی کس کو عطا ہوتی ہے
وعن أبي هريرة وأبي خلاد رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إذا رأيتم العبد يعطى زهدا في الدنيا وقلة منطق فاقتربوا منه فإنه يلقى الحكمة . رواهما البيهقي في شعب الإيمان
حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابوخلاد ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ اس کو (دنیا سے) بےرغبتی اور (لغو و بیہودہ کلام سے اجتناب اور) کم گوئی عطا کی گئی ہے تو اس کی قربت و صحبت اختیار کرو کیونکہ اس کو حکمت و دانائی کی دولت دی گئی ہے۔ ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے (اور پہلی حدیث بہت سے طرق سے ثابت ہے۔
تشریح
بعض روایتوں میں آیا ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ زیادہ دانا مومن کون ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ مومن جو موت کو بہت یاد کرتا ہو اور موت کے بعد کی زندگی (یعنی آخرت) کے لئے بہت تیاری کرتا ہو۔ مذکورہ بالا حدیث میں لفظ حکمت نقل کیا گیا ہے اس سے مراد نیک کرداری اور راست گفتاری ہے۔ اور جس بندے کو اللہ تعالیٰ حکمت عطا فرماتا ہے اس کی بڑی فضیلت منقول ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے آیت (ومن یوتی الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا) یعنی جس شخص کو حکمت عطا کی گئی، گویا اس کو بہت زیادہ خیر و بھلائی دی گئی۔ بہرحال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص دنیا سے بےاعتنائی اور بےرغبتی اختیار کئے ہوئے ہو اور کم گوئی کی صفت سے متصف ہو وہ ایک ایسا مخلص و کامل عالم ہے جس کو اللہ نے نیک کرداری اور راست گفتاری کی دولت سے نواز دیا ہے اور وہ یقینا مرشد و مقتدا بننے کا اہل ہے کہ وہ بندگان اللہ کی تربیت و اصلاح اور رشد و ہدایت کی ذمہ داری کو پوری طرح انجام دے سکتا ہو، لہٰذا ہر ایک شخص پر واجب ہے کہ اس کی اطاعت و خدمت کرے، اسی کی صحبت و ہمنشینی اختیار کرے اور اس کے ساتھ ہم کلامی رکھے، بعض عارفین نے بہت خوب کہا ہے کہ اللہ کی صحبت اختیار کرو۔ اگر تم اس پر قادر نہ ہو سکو تو اس شخص کی صحبت و ہم نشینی اختیار کرو جو اللہ کے ساتھ صحبت رکھتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ وہ شخص وہی ہوسکتا ہے کہ جس میں کردار و احوال اور اقوال و افعال کے صحیح اور قابل اعتماد ہونے کی وہ علامت پائی جائے جو انشراح صدر کی علامت کے طور پر پچھلی حدیث میں بیان کی جا چکی ہے اور اس کی وہ حیثیت و شخصیت اس طرح ظاہر و ثابت ہوجائے کہ اس کی صحبت تمام دینی و دنیاوی معاملات پر بھلائی و بہتری کی صورت میں اثر انداز ہوتی ہو، وہ اپنے رفقاء اور معتقدین کو دنیاوی لذات سے کنارہ کش، تحصیل مال و جاہ سے بےرغبت اور مقدار حاجت و ضرورت سے زیادہ کی طلب و خواہش سے بےپرواہ بنا کر زاد عقبی کی طرف پہنچاتا ہو۔ ایسا شخص نہ صرف عالم و عارف کہلاتا ہے بلکہ انبیاء کا حقیقی وارثو خلیفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے عارف باللہ کی زیارت و خدمت اور اس کی صحبت و ہم نشینی کی نعمت عظمی سے سرفراز فرمائے (آمین ثم آمین)