وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تبارك وتعالى قرأ ( طه ) و ( يس ) قبل أن يخلق السموات والأرض بألف عام فلما سمعت الملائكة القرآن قالت طوبى لأمة ينزل هذا عليها وطوبى لأجواف تحمل هذا وطوبى لألسنة تتكلم بهذا . رواه الدارمي
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے ہزار برس پہلے سورت طہ اور سورت یٰس پڑھی جب فرشتوں نے قرآن (یعنی ان دونوں سورتوں کا پڑھنا) سنا تو کہنے لگے کہ خوش بختی ہو اس امت کے لئے جس پر یہ قرآن (یعنی دونوں سورتیں) اتاری جائیں گی خوش بختی ہو ان دلوں کے لئے جو انہیں قبول کریں گے (یعنی ان کو یاد کریں گے اور ان کی محافظت کریں گے) اور خوش بختی ہو ان زبانوں کے لئے جو انہیں پڑھیں گی۔ (دارمی)
تشریح
اللہ تعالیٰ نے ان سورتوں کو پڑھا کا مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے ان سورتوں کو فرشتوں کے سامنے ظاہر کیا اور ان کے سامنے ان سورتوں کی تلاوت کا ثواب بھی بیان کیا یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو یہ سورتیں سکھائیں اور سمجھائیں نیز مذکورہ سورتوں کے معانی و مطالب ان کو الہام کئے۔ علامہ ابن حجر کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ باقی تمام فرشتوں کے سامنے ان سورتوں اور ان کی فضیلت و عظمت جانیں۔ فلما سمعت الملائکہ القرآن میں قرآن سے مراد قرأت ہے یعنی ان فرشتوں نے ان سورتوں کا پڑھنا سننایا کہ قرآن سے مراد بھی سورت طہ اور سورت یٰس ہیں کیونکہ جس طرح کلام اللہ کے پورے مجموعہ کا نام قرآن ہے اسی طرح اس کے کسی جزء و حصہ کو بھی قرآن ہی کہا جاتا ہے لہٰذا قرآن جز اور کل دونوں کا نام ہے۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ ( حم ) الدخان في ليلة أصبح يستغفر له سبعون ألف ملك . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب وعمر بن أبي خثعم الراوي يضعف وقال محمد يعني البخاري هو منكر الحديث
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص رات میں حم الدخان (یعنی سورت دخان) پڑھتا ہے تو وہ اس حالت میں صبح کرتا ہے کہ ستر ہزار فرشتے اس کے لئے بخشش کی دعا مانگتے ہیں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس حدیث کے راوی عمر ابن ابی خثعم (روایت حدیث میں) ضعیف شمار کئے جاتے ہیں نیز محمد یعنی امام بخاری (رح) کہتے ہیں کہ وہ (عمر بن ابی خثعم) منکر الحدیث ہیں۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ ( حم ) الدخان في ليلة الجمعة غفر له . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب وهشام أبو المقدام الراوي يضعف
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص جمعہ کی رات میں حم الدخان پڑھتا ہے اس کی بخشش کی جاتی ہے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور ہشام ابوالمقدام روایت حدیث میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔
وعن العرباض بن سارية أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقرأ المسبحات قبل أن يرقد يقول : إن فيهن آية خير من ألف آية . رواه الترمذي وأبو داودورواه الدارمي عن خالد بن معدان مرسلا وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب
حضرت عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سونے سے پہلے مسبحات پڑھتے تھے کہ ان میں ایک آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے۔ ترمذی، ابوداؤد، نیز دارمی نے اس روایت کو خالد بن معدان سے بطریق ارسال نقل کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
مسبحات ان سورتوں کو کہتے ہیں جن کی ابتداء لفظ سبحان یا سَبَّحَ یا سَبِّحْ یا یُسَبِّحُ سے ہوتی ہے اور وہ سات سورتیں ہیں (١) سبحان الذی اسری بعبدہ الآیہ یعنی سورت بنی اسرائیل (٢) سورت حدید (٣) سورت حشر (٤) سورت صف (٥) سورت جمعہ (٦) سورت تغابن (٧) سورت اعلیٰ۔ ان میں ایک آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے کے بارے میں بعض فرماتے ہیں کہ وہ آیت (لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ ) 59۔ الحشر 21) ہے اور دوسرے بعض حضرات کہتے ہیں وہ آیت یہ ہے (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) 57۔ الحدید 3) لیکن حضرت علامہ طیبی کے نزدیک ان سورتوں میں کسی آیت کو متعین کر کے یہ بتانا بہت مشکل ہے کہ وہ فلاں آیت ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ جس طرح لیلۃ القدر یا ساعت جعمہ (یعنی جمع کے دن ساعت قبولیت) کے بارے میں کوئی تعین نہیں کیا جاسکتا اسی طرح یہ آیت بھی پوشیدہ ہے لہٰذا علماء لکھتے ہیں کہ علامہ طیبی کی بات ہی زیادہ صحیح ہے۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن سورة في القرآن ثلاثون آية شفعت لرجل حتى غفر له وهي : ( تبارك الذي بيده الملك ) رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرآن کریم میں ایک سورت ہے جس میں تیس آیتیں ہیں اس سورت نے ایک شخص کی شفاعت کی یہاں تک کہ اس کی بخشش کی گئی اور وہ سورت ملک تبارک الذی بیدہ الملک ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ)
تشریح
لفظ شفعت (اس سورت نے شفاعت کی) کے معنی میں دو احتمال ہیں ایک تو یہ کہ اس لفظ کے ذریعہ زمانہ ماضی کی خبر دی گئی ہے کہ ایک شخص سورت تبارک الذی پڑھا کرتا تھا اور اس سورت کی بہت زیادہ قدر کیا کرتا تھا چناچہ جب اس کا انتقال ہوا تو اس سورت نے بارگاہ حق میں اس کی سفارش کی جس کے نتیجہ میں اس شخص کو عذاب سے بچایا گیا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ شفعت مستقبل کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص یہ سورت پڑھے گا اس کے بارے میں یہ قیامت کے دن شفاعت و سفارش کرے گی اور حق تعالیٰ اس کی سفارش کو قبول فرمائے گا۔
وعن ابن عباس قال : ضرب بعض أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم خباءه على قبر وهو لا يحسب أنه قبر فإذا فيه إنسان يقرأ سورة ( تبارك الذي بيده الملك ) حتى ختمها فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هي المانعة هي المنجية تنجيه من عذاب القبر . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص نے اپنا خیمہ قبر پر کھڑا کرلیا مگر انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہاں قبر ہے چناچہ ناگہاں انہوں نے سنا کہ اس (قبر) میں ایک شخص تبارک الذی بیدہ الملک پڑھ رہا ہے یہاں تک کہ اس نے وہ سورت ختم کی اس کے بعد خیمہ کھڑا کرنے والا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو یہ واقعہ بتایا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سورت ملک منع کرنے والی اور نجات دینے والی ہے یہ سورت اپنے پڑھنے والے کو اللہ کے عذاب سے چھٹکارا دلاتی ہے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
جہاں یہ احتمال ہے کہ خیمہ کھڑا کرنے والے نے اس قبر میں مردے کو سورت ملک پڑھتے ہوئے نیند کی حالت میں سنا ہو وہیں یہ احتمال بھی ہے کہ جاگنے کی حالت میں سنا ہو بلکہ زیادہ صحیح یہی ہے۔ سورت ملک منع کرنے والی ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے یا گناہوں سے جو کہ عذاب قبر کا باعث بنتے ہیں بچانے والی ہے یا یہ کہ اپنے پڑھنے والے کو اس بات سے محفوظ رکھتی ہے کہ اسے یوم حشر میں کوئی اذیت و رنج نہ پہنچے۔
سونے سے پہلے آنحضرت ﷺ کا معمول کا وظیفہ
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان لا ينام حتى يقرأ : ( آلم تنزيل ) و ( تبارك الذي بيده الملك ) رواه أحمد والترمذي والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث صحيح . وكذا في شرح السنة . وفي المصابيح
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ الم تنزیل السجدہ اور تبارک الذی بیدہ الملک پڑھے بغیر نہیں سوتے تھے۔ (احمد، ترمذی، دارمی، ) امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اسی طرح محی السنۃ نے تو کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے لیکن مصابیح میں ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
امام ترمذی کے نزدیک تو یہ حدیث صحیح ہے اسی طرح امام محی السنۃ نے شرح السنۃ میں تو اسے صحیح کہا ہے لیکن مصابیح میں کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے گویا بظاہر ان کے قول میں تضاد نظر آتا ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے ان کے قول میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ کسی حدیث کا غریب ہونا اس کے صحیح ہونے کے منافی نہیں ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی حدیث فنی اور اصطلاحی طور پر غریب ہوتی ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ صحیح ہی ہوتی ہے۔
سورت اذا زلزلت، قل ہو اللہ اور قل یا ایہا الکافرون کی فضیلت
وعن ابن عباس وأنس بن مالك رضي الله عنهم قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إذا زلزلت ) تعدل نصف القرآن ( قل هو الله أحد ) تعدل ثلث القرآن و ( قل يا أيها الكافرون ) تعدل ربع القرآن . رواه الترمذي
حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت انس بن مالک ؓ دونوں راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سورت اذا زلزلت آدھے قرآن کے برابر ہے، سورت قل ہو اللہ تہائی قرآن کے برابر ہے اور سورت قل یا ایہا الکافروں چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ (ترمذی)
تشریح
قرآن کریم میں مبدأ اور معاد کو بیان کیا گیا ہے اور چونکہ اذا زلزلت میں معاد کا بہت عمدہ پیرایہ اور موثر انداز میں ذکر کیا گیا ہے اس لئے یہ سورت آدھے قرآن کے برابر ہوئی قل ہو اللہ کے تہائی قرآن کے برابر ہونے کی وجہ پہلی فصل کی حدیث نمبر ١٩ کی تشریح میں بیان ہوچکی ہے۔ قل یا ایہا الکافرون چوتھائی قرآن کے برابر بایں طور ہے کہ قرآن کریم میں تو حید، نبوت، احکام اور قصص یہ چار مضمون مذکور ہیں اور قل یا ایہا الکافرون میں توحید کا مضمون بہت اعلیٰ بیان ہے اس لئے یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہوئی۔
سورت حشر کی آخری تین آیتوں کی برکت
وعن معقل بن يسار عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قال حين يصبح ثلاث مرات : أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم فقرأ ثلاث آيات من آخر سورة ( الحشر ) وكل الله به سبعين ألف ملك يصلون عليه حتى يمسي وإن مات في ذلك اليوم مات شهيدا . ومن قالها حين يمسي كان بتلك المنزلة . رواه الترمذي والدارمي . وقال الترمذي : هذا حديث غريب
حضرت معقل بن یسار ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ یہ کہے اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم (میں اللہ تعالیٰ کی جو سننے والا جاننے والا ہے پناہ پکڑتا ہوں مردود شیطان سے) اور پھر سورة حشر کی آخری تین آیتیں یعنی (هُوَ اللّٰهُ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ 22 هُوَ اللّٰهُ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 23 هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِي ُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَا ءُ الْحُسْنٰى يُسَبِّحُ لَه مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 24) 59۔ الحشر 22-23-24) پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے متعین کرتا ہے جو اس کے لئے شام تک خیر و بھلائی کی توفیق کی دعا مانگتے ہیں اور اس کے گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں اور اگر وہ شخص اس دن میں مرجاتا ہے تو شہادت کی موت پاتا ہے اور جو شخص اس کو یعنی اعوذ با اللہ الخ اور ان آیتوں کو شام کے وقت پڑھے تو اس صبح تک یہ (مذکورہ بالا سعادت حاصل ہوتی ہے۔ (ترمذی، دارمی) امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
ہر روز دو سو مرتبہ قل ہو اللہ پڑھنے کی تاثیر
وعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ كل يوم مائتي مرة ( قل هو الله أحد ) محي عنه ذنوب خمسين سنة إلا أن يكون عليه دين . رواه الترمذي والدارمي وفي روايته خمسين مرة ولم يذكر إلا أن يكون عليه دين
حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر روز دو سو مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھے تو اس (کے نامہ اعمال میں) سے پچاس برس کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں الاّ یہ کہ اس پر دین ہو۔ (ترمذی، دارمی) ایک اور روایت میں (دو سو مرتبہ کی بجائے) پچاس مرتبہ کا ذکر ہے نیز اس روایت میں الاّ یہ کہ اس پر دین ہو کے الفاظ مذکور نہیں ہیں۔
تشریح
الا ان یکون علیہ دین (الا یہ کہ اس پر دین ہو) کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہی کہ دین کا گناہ نہیں مٹایا جائے گا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے ذمہ دین کی عدم ادائیگی کا گناہ ہوگا تو اس کے دوسرے گناہ بھی نہیں مٹائے جائیں گے یعنی اس صورت میں اس سورت کی قرأت تاثیر نہیں کرے گی۔ دین سے مراد حقوق العباد (بندوں کے حقوق) ہیں۔
سونے سے پہلے قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضیلت
وعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم : من أراد أن ينام على فراشه فنام على يمينه ثم قرأ مائة مرة ( قل هو الله أحد ) إذا كان يوم القيامة يقول له الرب : يا عبدي ادخل على يمينك الجنة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرے اور پھر اپنی داہنی کروٹ پہ لیٹ کر سو مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھے گا تو قیامت کے دن پروردگار اس سے فرمائے گا کہ اے میرے بندے جنت میں اپنی دائیں طرف داخل ہوجا (امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے)
تشریح
دائیں طرف کروٹ لیٹنا سنت ہے لہٰذا جس شخص نے سوتے وقت دائیں طرف کروٹ پر لیٹ کر قل ہو اللہ احد پڑھی تو ایک تو اس نے آنحضرت ﷺ کی اطاعت کی دوسرے اس نے ایسی سورت پڑھی جس میں اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں اس بناء پر ایسے شخص کو مذکورہ بالا سعادت کی بشارت دی گئی ہے۔ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جنت میں جو باغات اور محلات جنت کی دائیں طرف ہیں وہ ان باغات و محلات سے افضل ہوں گے جو جنت کی بائیں طرف ہیں۔
وعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم سمع رجلا يقرأ ( قل هو الله أحد ) فقال : وجبت قلت : وما وجبت ؟ قال : الجنة . رواه مالك والترمذي والنسائي
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو قل ہو اللہ احد پڑھتے سنا تو فرمایا کہ (اس کے لئے) واجب ہوگئی؟ میں نے عرض کیا کہ کیا چیز واجب ہوگئی؟ فرمایا جنت۔ (مالک، ترمذی، نسائی)
تشریح
جنت کا واجب ہونا محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے اس وعدے کے سبب ہے جو اس نے اپنے نیک اور اطاعت گزار بندوں کے بارے میں فرمایا ہے۔
قل یا ایہا الکافرون کی فضیلت
وعن فروة بن نوفل عن أبيه : أنه قال : يا رسول الله علمني شيئا أقوله إذا أويت إلى فراشي . فقال : اقرأ ( قل يا أيها الكافرون ) فإنها براءة من الشرك . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي
حضرت فروہ بن نوفل اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی چیز (یعنی آیت یا سورت) سکھلا دیجئے جسے میں اپنے بستر پر جا کر (یعنی سونے سے پہلے) پڑھ لیا کروں آپ ﷺ نے فرمایا قل یا ایہا الکافرون پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ سورت شرک سے بیزاری ہے (لہذا اسے پڑھ کر سوؤگے اور مروگے تو توحید پر مرو گے)۔ (ترمذی، ابوداؤد، دارمی)
وعن عقبة بن عامر قال : بينا أنا سير مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بين الجحفة والأبواء إذ غشيتنا ريح وظلمة شديدة فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يعوذ ب ( أعوذ برب الفلق ) و ( أعوذ برب الناس ) ويقول : يا عقبة تعوذ بهما فما تعوذ متعوذ بمثلهما . رواه أبو داود
حضرت عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ جحفہ اور ابواء (جو کہ مکہ اور مدینہ کے راستہ میں دو مقام ہیں) کے درمیان چلے جا رہے تھے کہ اچانک سخت آندھی اور شدید اندھیرے نے ہمیں آگھیرا چناچہ نبی کریم ﷺ نے اعوذ برب الفلق اور اعوذ برب الناس کے ذریعہ پناہ مانگنی شروع کی (یعنی یہ سورتیں پڑھنے لگے) اور مجھ سے (بھی) فرماتے کہ عقبہ ان دونوں سورتوں کے ذریعہ پناہ چاہو، جان لو کہ کسی پناہ چاہنے والے نے ان دونوں (سورتوں) کی مانند کسی چیز کے ذریعہ پناہ نہیں چاہی ہے ( کیونکہ آفات و بلاؤں کے وقت اللہ کی پناہ طلب کرنے کے سلسلے میں یہ دونوں سورتیں سب سے افضل ہیں)۔ (ابو داؤد)
وعن عبد الله بن خبيب قال : خرجنا في ليلة مطر وظلمة شديدة نطلب رسول الله صلى الله عليه و سلم فأدركناه فقال : قل . قلت ما أقول ؟ قال : ( قل هو الله أحد ) والمعوذتين حين تصبح وحين تمسي ثلاث مرات تكفيك من كل شيء . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي
حضرت عبداللہ بن خبیب فرماتے ہیں کہ ہم ایک سخت اندھیری اور بارش کی رات میں رسول کریم ﷺ کو ڈھونڈھتے ہوئے نکلے (یعنی آپ ﷺ کہیں تشریف لے جا رہے ہم بھی آپ کو ڈھونڈھتے ہوئے نکلے تاکہ آپ ﷺ کے ہمراہ جائیں) چناچہ ہم نے آپ کو پا لیا، آپ نے (اس وقت) فرمایا کہ پڑھو میں نے فرمایا کہ کیا پڑھوں! آپ نے فرمایا صبح اور شام کے وقت تین مرتبہ قل ہوا للہ احد، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ لیا کرو یہ تمہیں ہر چیز سے کفایت کریں گی (یعنی ہر آفت و بلاء کو دفع کریں گی۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی)
وعن عقبة بن عامر قال : قلت يا رسول الله اقرأ سورة ( هود ) أو سورة ( يوسف ) ؟ قال : لن تقرأ شيئا أبلغ عند الله من ( قل أعوذ برب الفلق ) رواه أحمد والنسائي والدارمي
حضرت عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں (پناہ چاہنے اور شر و برائی کے دفعیہ کے لئے) سورت ہود یا سورت یوسف پڑھ لیا کروں آپ ﷺ نے فرمایا تم اللہ کے نزدیک قل اعوذ برب الفلق سے زیادہ بہتر کوئی چیز (یعنی کوئی سورت یا آیت) ہرگز نہیں پڑھ سکتے۔ (احمد، نسائی، دارمی)
تشریح
لن تقرأ شیئا ابلغ عند اللہ کا مطلب یہ ہے کہ آفات و بلاؤں اور برائیوں سے پناہ چاہنے کے سلسلہ میں اس سورت یعنی قل اعوذ برب الفلق سے زیادہ کامل اور بہتر دوسری کوئی سورت نہیں ہے کیونکہ یہ سورت سب سے زیادہ کامل ہے جس میں ہر مخلوق کی برائی اور شر سے پناہ مانگی گئی ہے قل اعوذ برب الفلق من شر ما خلق (آپ کہئے کہ میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں تمام مخلوقات کے شر سے)۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پناہ چاہنے کے سلسلہ میں دونوں سورتیں یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس سے زیادہ کامل اور کوئی سورت نہیں ہے۔ ابن مالک کہتے ہیں کہ اس جملہ سے مقصود ان دونوں سورتوں کے ذریعہ پناہ طلب کرنے کی رغبت دلانا ہے گویا علامہ طیبی اور ابن مالک دونوں کے قول کا حاصل یہ ہے کہ اس ارشاد گرامی میں صرف ایک سورت یعنی قل اعوذ برب الفلق ذکر کی گئی ہے اور چونکہ قرینہ سے دوسری سورت یعنی قل اعوذ برب الناس بھی مفہوم ہوتی ہے اس لئے یہاں یہ دونوں سورتیں مراد ہیں۔
قرآن کی پیروی کرنے کا حکم
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعربوا القرآن واتبعوا غرائبه وغرائبه فرائضه وحدوده . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرآن کے معانی بیان کرو اور اس کے غرائب کی پیروی کرو اس کے غرائب سے اس کے فرائض اور اس کی حدود ہیں۔
تشریح
اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ قرآن کے غرائب کیا ہیں؟ چناچہ فرمایا کہ قرآن کے فرائض اور اس کی حدود، قرآن کے غرائب ہیں اب اس بات کو بھی سمجھ لیجئے کہ فرائض اور حدود سے مراد ہیں منہیات! یعنی وہ چیزیں جن کو کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، حاصل یہ کہ قرآن کی اطاعت و پیروی کا مطلب یہ ہے کہ قرآن نے جن چیزوں کو کرنے کا حکم دیا ہے ان کو کیا جائے اور جن چیزوں سے روکا ہے ان سے اجتناب کیا جائے۔
وعن عائشة رضي الله عنها : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : قراءة القرآن في الصلاة أفضل من قراءة القرآن في غير الصلاة وقراءة القرآن في غير الصلاة افضل من التسبيح والتكبير والتسبيح أفضل من الصدقة والصدقة أفضل من الصوم والصوم جنة من النار . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نماز میں قرآن کی قرأت نماز کے علاوہ قرآن پڑھنے سے افضل ہے اور نماز کے علاوہ قرآن کا پڑھنا تسبیح و تکبیر سے زیادہ ثواب رکھتا ہے اور تسبیح صدقہ (خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے) زیادہ ثواب رکھتی ہے اور صدقہ روزہ سے زیادہ ثواب رکھتا ہے اور روزہ دوزخ کی آگ سے ڈھال ہے۔
تشریح
جس طرح حالت نماز میں قرآن پڑھنا نماز کے علاوہ تلاوت قرآن سے افضل ہے اسی طرح جو نماز کھڑے ہو کر پڑھی جاتی ہے اس کی قرأت قرآن اس نماز کی قرأت قرآن سے افضل ہے جو بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے نماز کے علاوہ دوسرے اوقات میں تلاوت قرآن تسبیح و تکبیر اور دیگر اور دو اذکار سے افضل ہے کیونکہ قرآن کریم نہ صرف یہ کہ کلام الٰہی ہے بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام بھی مذکور ہیں۔ تسبیح و تکبیر و اراد و اذکار اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے سے افضل ہے اگرچہ مشہور یہ ہے کہ عبادت متعدی کہ جس کا فائدہ اپنی ذات کے علاوہ دوسروں کو بھی پہنچے (مثلا صدقہ) افضل ہے عبادت لازم (مثلا تسبیح اور اذکار) سے کہ جس کا فائدہ صرف اپنی ذات تک محدود رہتا ہے لیکن یہ بات ذکر کے علاوہ دوسری عبادات کے ساتھ مخصوص ہے ذکر اس سے مستثنی ہے کیونکہ اللہ کا ذکر سب سے بڑا اور سب سے افضل ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں فرمایا گیا ہے کہ ذکر اللہ کی راہ میں سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر اور افضل ہے۔ صدقہ روزے سے زیادہ ثواب رکھتا ہے۔ یعنی اللہ کی راہ میں اور اللہ کی خوشنودی کے لئے اپنا مال خرچ کرنا نفل روزہ سے افضل ہے کیونکہ صدقہ کا فائدہ متعدی ہے یعنی اس سے دوسرے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے جب کہ روزہ کا فائدہ صرف اپنی ذات تک محدود رہتا ہے لیکن روزہ کے سلسلہ میں یہ حدیث بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بنی آدم کے ہر عمل پر دس گنا ثواب ملتا ہے مگر روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا (یعنی روزہ کا ثواب لامحدود ہے) اس طرح ان دونوں روایتوں میں بظاہر اختلاف نظر آتا ہے کیونکہ پہلی روایت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ روزہ سے افضل ہے جب کہ اس دوسری روایت کا حاصل یہ ہے کہ روزہ صدقہ سے افضل ہے علماء لکھتے ہیں کہ اس وجہ مطابقت سے یہ ظاہری تضاد ختم ہوجاتا کہ فضیلت بایں اعتبار ہے کہ روزہ دار اللہ رب العزت کی صفت اختیار کرتا ہے بایں طور کہ وہ کھانے پینے سے باز رہتا ہے۔
ناظرہ تلاوت زبانی تلاوت سے افضل ہے
وعن عثمان بن عبد الله بن أوس الثقفي عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قراءة الرجل القرآن في غير المصحف ألف درجة وقراءته في المصحف تضعف عل ذلك إلى ألفي درجة . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت عثمان بن عبداللہ بن اوس ثقفی ؓ اپنے دادا (حضرت اوس) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کا بغیر مصحف (یعنی زبانی) قرآن پڑھنا ہزار درجہ ثواب رکھتا ہے اور مصحف میں (دیکھ کر) پڑھنے کا ثواب بغیر مصحف (یعنی زبانی) پڑھنے کے ثواب سے دو ہزار درجہ تک زیادہ کیا جاتا ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مصحف (قرآن مجید) میں دیکھ کر تلاوت کا ثواب زبانی تلاوت کے ثواب سے زیادہ ہوتا ہے اور اس میں ثواب کی زیادتی کی وجہ یہ ہے کہ مصحف میں دیکھ کر کی جانے والی تلاوت میں غور و فکر اور خشوع و خضوع زیادہ حاصل ہوتا ہے مصحف شریف کی زیارت نصیب ہوتی ہے اور مصحف کو ہاتھ لگایا جاتا ہے اسے اوپر اٹھایا جاتا ہے اس طرح نہ صرف یہ کہ قرآن کریم کی عظمت و احترام کا اظہار ہوتا ہے بلکہ جیسا کہ منقول ہے کہ قرآن کریم کی زیارت بھی عبادت ہے چناچہ اکثر صحابہ وتابعین مصحف میں دیکھ کر ہی تلاوت کیا کرتے تھے حضرت عثمان ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ ناظرہ تلاوت کی کثرت کی وجہ سے ان کے پاس دو قرآن خستگی کی حالت کو پہنچ گئے تھے۔
موت کی یاد اور قرآن کی تلاوت دل کی جلا کا باعث ہے
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذه القلوب تصدأ كما يصدأ الحديد إذا أصابه الماء . قيل يا رسول الله وما جلاؤها ؟ قال : كثرة ذكر الموت وتلاوة القرآن . روى البيهقي الأحاديث الأربعة في شعب الإيمان
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یاد رکھو یہ دل زنگ پکڑتے ہیں جیسا کہ پانی پہنچنے سے لوہا زنگ پکڑتا ہے۔ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! اس کی جلا کا کیا ذریعہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا موت کو زیادہ یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت (یہ چاروں روایتیں بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ گناہ و مصیبت کے صدور اور نیکیوں میں غفلت کی وجہ سے دل زنگ آلود ہوجاتا ہے لہٰذا دل کے جلا کا ذریعہ بتایا گیا ہے کہ موت کو کثرت سے یاد کرنے اور قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول رہنے سے دل کو جلا یعنی صفائی حاصل ہوجاتی ہے۔