فضائل قرآن کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 48 · 109 hadiths · Page 4 of 6

2177Mishkaat-al-Masabih

سب سے عظیم الشان سورت

وعن أيفع بن عبد الكلاعي قال : قال رجل : يا رسول الله أي سورة القرآن أعظم ؟ قال : ( قل هو الله أحد ) قال : فأي آية في القرآن أعظم ؟ قال : آية الكرسي ( الله لا إله إلا هو الحي القيوم ) قال : فأي آية يا نبي الله تحب أن تصيبك وأمتك ؟ قال : خاتمة سورة البقرة فإنها من خزائن رحمة الله تعالى من تحت عرشه أعطاها هذه الأمة لم تترك خيرا من يخر الدنيا والآخرة إلا اشتملت عليه . رواه الدارمي

حضرت ایفع بن عبدالکلاعی ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قرآن مجید میں (صفات باری تعالیٰ کے بیان کے سلسلہ میں) سب سے عظیم الشان سورت کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا قل ہو اللہ احد اس نے عرض کیا کہ قرآن کریم میں سب سے عظیم الشان آیت کون سی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا آیت الکرسی (اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ اَلْ حَيُّ الْقَيُّوْمُ ) 2۔ البقرۃ 255) اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! وہ کون سی آیت ہے جس کے بارے میں آپ ﷺ پسند کرتے ہیں کہ وہ (یعنی اس کا ثواب اور اس کا فائدہ) آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی امت کو پہنچے؟ آپ ﷺ نے فرمایا سورت بقرہ کا آخری حصہ، بیشک وہ آخری آیتیں اللہ کی رحمت کے خزانوں میں عرش کے نیچے سے اتری ہیں جو اس امت کو عطا کی گئی ہیں اور دنیا و آخرت کی ایسی کوئی بھلائی نہیں ہے جو اس میں نہ ہو۔ (ترمذی) تشریح گزشتہ صفحات میں ایک حدیث گزری ہے جس میں سورت فاتحہ کو بہت بڑی اور سب سے عظیم الشان سورت فرمایا گیا ہے جب کہ یہاں قل ہو اللہ احد کو سب سے عظیم الشان سورت فرمایا جا رہا ہے۔ اگرچہ ان دونوں حدیثوں میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے حالانکہ حقیقت میں دونوں میں کوئی تضاد اور منافات نہیں ہے کیونکہ سورت فاتحہ اس اعتبار سے عظیم الشان ہے کہ وہ اللہ کی حمد، دعا اور عبادت پر مشتمل ہے نیز وہ قرآن کا خلاصہ ہے اور سورت قل ہو اللہ احد اس اعتبار سے سب سے عظیم الشان ہے کہ اس میں اللہ رب العزت کی صفت وحدانیت بہت عمدہ ہے اور بلیغ انداز میں بیان کی گئی ہے۔ سورت بقرہ کا آخری حصہ سے اٰمن الرسول سے آخر سورت تک کی آیتیں مراد ہیں اسی موقع پر سائل کے جواب میں آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا حاصل یہ تھا کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں اور میرے نزدیک یہ چیز محبوب ہے کہ سورت بقرہ کے آخری حصہ کی ان آیتوں کا ثواب اور ان کی برکت مجھے اور میری امت کو باقی تمام قرآن کی برکت و فائدہ سے پہلے پہنچے کیونکہ یہ آیتیں دین و دنیا کی تمام بھلائیوں پر حاوی ہیں چناچہ ان تمام آیتوں میں اٰمن الرسول سے اشارہ ہے اسلام و احکام کی اطاعت و پابندی کی طرف والیک المصیر سے اشارہ ہے آخرت میں جزائے عمل کی طرف اور لایکلف اللہ نفسا الخ سے اشارہ ہے منافع دنیوی و اخروی کی طرف۔

2178Mishkaat-al-Masabih

سورت فاتحہ شفا ہے

وعن عبد الملك بن عمير مرسلا قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في فاتحة الكتاب شفاء من كل داء . رواه الدارمي والبيهقي في شعب الإيمان

حضرت عبدالملک بن عمیر ؓ بطریق ارسال روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سورت فاتحہ ہر بیماری کے لئے شفاء ہے۔ (دارمی، بیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص سورت فاتحہ کو ایمان و یقین اور اعتقاد کے ساتھ پڑھے تو اس کی برکت سے دینی دنیاوی، ظاہری و باطنی غرض ہر قسم کی بیماری و مصیبت سے شفا و نجات حاصل ہوتی ہے۔ علماء لکھتے ہیں کہ کسی بھی قسم کے جسمانی و روحانی مرض میں سورت فاتحہ لکھ کر اسے چاٹنا، پینا یا لٹکانا فائدہ پہنچاتا ہے اور مریض کو سکون حاصل ہوتا ہے۔

2179Mishkaat-al-Masabih

آل عمران کی آخری آیتوں کی فضیلت وبرکت

وعن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال : من قرأ آخر آل عمران في ليلة كتب له قيام ليلة . رواه الدارمي

حضرت عثمان بن عفان ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص رات میں آل عمران کا آخری حصہ پڑھے تو اس کے لئے قیام لیل (یعنی شب بیداری) کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ تشریح آل عمران کے آخری حصہ سے (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ ) 3۔ آل عمران 190) سے آخر سورت تک کی آیتیں مراد ہیں۔ رات کا مطلب رات کا ابتدائی حصہ بھی ہوسکتا ہے اور آخری حصہ بھی یعنی چاہئے تو ابتداء شب میں ہی آیتیں پڑھے چاہے شب کے آخری حصہ میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ جب نماز تہجد کے لئے اٹھتے تو اس وضو وغیرہ سے پہلے یہ آیتیں پڑھا کرتے تھے۔

2180Mishkaat-al-Masabih

آل عمران جمعہ کے دن پڑھنے کی برکت

وعن مكحول قال : من قرأ سورة آل عمران يوم الجمعة صلت عليه الملائكة إلى الليل . رواه الدارمي

حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جو شخص جمعہ کے دن سورت آل عمران پڑھتا ہے تو اس کے لئے رات تک فرشتے دعا اور استغفار کرتے ہیں (یہ دونوں روایتیں دارمی نے نقل کی ہیں)

2181Mishkaat-al-Masabih

سورت بقرہ کی آخری آیتیں عورتوں کو سکھانے کا حکم

وعن جبير بن نفير رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله ختم سورة البقرة بآيتين أعطيتهما من كنزه الذي تحت العرش فتعلموهن وعلموهن نساءكم فإنها صلاة وقربان ودعاء . رواه الدرامي مرسلا

حضرت جبیر بن نفیر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورت بقرہ کو دو آیتوں (یعنی امن الرسول سے آخرت تک) 2۔ البقرۃ 190) پر ختم فرمایا ہے یہ دو آیتیں مجھے اس خزانے سے عطا فرمائی گئی ہیں جو عرش کے نیچے ہے لہٰذا ان آیتوں کو تم سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھلاؤ کیونکہ وہ آیتیں رحمت ہیں (خدا کے قرب) کا ذریعہ ہیں اور تمام دینی و دنیاوی بھلائیوں کے حصول کے لئے دعا ہیں (اس روایت کو دارمی نے بطریق ارسال نقل کیا ہے)

2182Mishkaat-al-Masabih

جمعہ کے دن سورت ہود پڑھنے کا حکم

وعن كعب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اقرؤوا سورة هود يوم الجمعة . رواه الدرامي مرسلا

حضرت کعب ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن سورت ہود پڑھا کرو۔ (دارمی)

2183Mishkaat-al-Masabih

جمعہ کے دن سورت کہف پڑھنے کی برکت

وعن أبي سعيد رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ سورة الكهف في يوم الجمعة أضاء له النور ما بين الجمعتين . رواه البيهقي في الدعوات الكبير

حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن سورت کہف پڑھتا ہے تو اس کے لئے (یعنی اس کے دل میں ایمان و ہدایت کا) نور دوسرے جمعہ تک روشن رہتا ہے بیہقی نے اس روایت کو دعوات کبیر میں نقل کیا ہے۔

2184Mishkaat-al-Masabih

الم تنزیل پڑھنے کی برکت

وعن خالد بن معدان قال : اقرؤوا المنجية وهي ( آلم تنزيل ) فإن بلغني أن رجلا كان يقرؤها ما يقرأ شيئا غيرها وكان كثير الخطايا فنشرت جناحها عليه قالت : رب اغفر له فإنه كان يكثر قراءتي فشفعها الرب تعالى فيه وقال : اكتبوا له بكل خطيئة حسنة وارفعوا له درجة . وقال أيضا : إنها تجادل عن صاحبها في القبر تقول : اللهم إن كنت من كتابك فشفعني فيه وإن لم أكن من كتابك فامحني عنه وإنها تكون كالطير تجعل جناحها عليه فتشفع له فتمنعه من عذاب القبر وقال في ( تبارك ) مثله . وكان خالد لا يبيت حتى يقرأهما . وقال طاووس : فضلتا على كل سورة في القرآن بستين حسنة . رواه الدارمي

حضرت خالد بن معدان سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا (رات کے ابتدائی حصہ میں) اس سورت کو پڑھا کرو جو (قبر و حشر کے) عذاب سے نجات دینے والی ہے اور وہ سورت الم تنزیل ہے کیونکہ (صحابہ سے) مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص تھا جو یہی سورت پڑھا کرتا تھا وہ اس سورت کے علاوہ اور کچھ نہیں پڑھتا تھا (یعنی اس سورت کے علاوہ اور کسی چیز کو ورد نہیں قرار دیا تھا) اور وہ شخص بہت زیادہ گنہگار تھا، چناچہ (جب اس شخص کا انتقال ہوا تو) اس سورت نے اس پر اپنے بازو پھیلا دئیے اور فریاد کی کہ اے میرے پروردگار! اس شخص کی بخشش فرما کیونکہ یہ مجھے بہت زیادہ پڑھا کرتا تھا۔ حق تعالیٰ نے اس شخص کے حق میں اس سورت کی شفاعت قبول فرمائی اور فرشتوں کو حکم دیا کہ (اس کے نامہ اعمال میں) اس کے ہر گناہ کے بدلہ نیکی لکھ دو اور اس کے درجات بلند کردو، آنحضرت ﷺ یہ بھی فرماتے تھے کہ بیشک یہ سورت اپنے پڑھنے والے کی طرف سے قبر میں جھگڑتی ہے کہ یا الٰہی! اگر میں تیری کتاب (قرآن کریم) میں سے ہوں جو لوح محفوظ میں لکھا ہے تو اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما اور اگر (بفرض محال) میں تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو مجھے اس میں سے مٹا دے۔ نیز حضرت خالد نے فرمایا یہ سورت (قبر میں) ایک پرندہ کی مانند آئے گی اور اس پر اپنے بازو پھیلا کر اس کے لئے (اللہ تعالیٰ سے) شفاعت کرے گی۔ حضرت خالد نے سورت تبارک الذی بیدہ الملک کے بارے میں بھی یہی کہا ہے کہ (اس سورت کی بھی یہی تاثیر اور برکت ہے) حضرت خالد کا معمول یہ تھا کہ وہ دونوں سورتیں پڑھے بغیر نہیں سوتے تھے۔ حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ ان دونوں سورتوں کو قرآن کریم کی ہر سورت پر ساٹھ نیکیوں کے ساتھ فضیلت بخشی گئی ہے۔ (دارمی یعنی ان دونوں روایتوں کو ایک حضرت خالد سے اور دوسری حضرت طاؤس سے منقول ہے، دارمی نے نقل کیا ہے)۔ تشریح حضرت خالد ایک جلیل القدر تابعی ہیں ستر صحابہ سے ملاقات اور صحبت کا شرف حاصل ہے اسی طرح حضرت طاؤس بھی مشاہیر تابعین میں سے ہیں لہٰذا حضرت خالد اور حضرت طاؤس دونوں سے منقول مذکورہ بالا روایتیں اگرچہ مرسل ہیں (کہ یہاں صحابی کا واسطہ ذکر نہیں کیا گیا ہے) لیکن حکم میں مرفوع ہی کے ہیں کیونکہ اس قسم کی باتیں صرف آنحضرت ﷺ ہی سے معلوم ہوسکتی ہیں جو صحابہ کے ذریعہ تابعین تک پہنچتی ہیں اس لئے یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ یہ دونوں حضرات کے اپنے اقوال نہیں بلکہ مرفوع روایتیں ہیں۔ اس پر اپنے بازو پھیلا دئیے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سورت یا اس کا ثواب پرندہ کی صورت اختیار کر گیا اور اپنے بازو اپنے پڑھنے والے پر پھیلا دئیے تاکہ اس پر سایہ کرلے یا یہ کہ اس نے اپنی رحمت کے بازو پھیلا دئیے یعنی اسے اپنی پناہ میں لے لیا اور اس کی طرف سے شفاعت و وکالت کی۔ قبر میں جھگڑتی ہے کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس سورت کو پڑھتا ہے مداومت کے ساتھ تو یہ سورت اس کے لئے عذاب کی تخفیف یا قبر میں فراخی و وسعت یا اسی قسم کی دوسری آسانی و سہولت کی شفاعت و سفارش کرتی ہے۔ حضرت طاؤس کی روایت کے یہ الفاظ ان دونوں سورتوں کو قرآن کی ہر سورت پر فضیلت دی گئی ہے۔ اس صحیح روایت کے منافی نہیں ہے کہ سورت بقرہ، سورت فاتحہ کے بعد قرآن کی تمام سورتوں سے افضل ہے کیونکہ سورت بقرہ کی فضیلت اس اعتبار سے ہے کہ اس میں بہت عمدہ اور اعلیٰ مضامین مذکور ہیں اور ان دونوں سورتوں کو اس جہت و اعتبار سے فضیلت حاصل ہے کہ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہیں۔

2185Mishkaat-al-Masabih

سوۃ یٰسین پڑھنے کی فضیلت

وعن عطاء بن أبي رباح قال : بلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ ( يس ) في صدر النهار قضيت حوائجه رواه الدارمي مرسلا

حضرت عطاء بن ابی رباح (تابعی) کہتے ہیں کہ مجھ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص دن کے ابتدائی حصہ میں سورت یٰسین پڑھتا ہے تو اس کی (دینی و دنیوی) حاجتیں پوری کی جاتی ہیں۔ (دارمی نے اس روایت کو بطریق ارسال نقل کیا ہے)۔

2186Mishkaat-al-Masabih

قریب المرگ کے سامنے یٰس کا پڑھنا

وعن معقل بن يسار المزني رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ ( يس ) ابتغاء وجه الله تعالى غفر له ما تقدم من ذنبه فاقرؤوها عند موتاكم . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت معقل بن یسار ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ رب العزت کی رضا و خوشنودی کی طلب میں سورت یٰسین پڑھتا ہے تو اس کے وہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں جو اس نے پہلے کئے ہیں لہٰذا اس سورت کو اپنے مردوں کے سامنے پڑھو۔ (بیہقی) تشریح گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں کہ وہ اس سورت کی برکت سے بخش دئیے جاتے ہیں اسی طرح کبیرہ گناہ بھی بخشے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی بےپایاں رحمت شامل حال ہو۔ مردوں سے مراد قریب المرگ ہیں، مطلب یہ ہے کہ جو شخص قریب المرگ ہو اس کے سامنے سورت یٰسین پڑھنی چاہئے تاکہ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اس کو سنے اور اس کے معانی کی طرف اس کی توجہ ہو اس طرح اس کا سننا اس کے پڑھنے کے حکم میں ہوجائے گا جو اس کی مغفرت و بخشش کا سبب ہوگا۔ یا پھر مردوں سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سورت کو اپنی میت کی مغفرت و بخشش کی زیادہ احتیاج ہوتی ہے۔

2187Mishkaat-al-Masabih

سورت بقرہ قرآن کی رفعت ہے

وعن عبد الله بن مسعود أنه قال : إن لكل شيء سناما وإن سنام القرآن سورة البقرة وإن لكل شيء لبابا وإن لباب القرآن المفصل . رواه الدارمي

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ ہر چیز کے لئے رفعت و بلندی ہوتی ہے اور قرآن کی رفعت و بلندی سورت بقرہ ہے ہر چیز کا خلاصہ (حاصل مقصد) ہوتا ہے اور قرآن کا خلاصہ مفصل ہے۔ (دارمی) تشریح سورت بقرہ قرآن کریم کی رفعت و بلندی اس لئے ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ قرآن کی سورتوں میں سب سے بڑی ہے بلکہ اس سورت میں بہت زیادہ احکام مذکور ہیں۔ پہلے بھی کئی مقامات پر بتایا جا چکا ہے، مفصل یا مفصلات سورت حجرات سے ختم قرآن یعنی سورت ناس تک کی سورتوں کو کہا جاتا ہے، یہ سورتیں پورے قرآن کا خلاصہ اس طور پر ہیں کہ قرآن کریم کے جو مضامین اختصار اور اجمالی طور پر متفرق سورتوں میں ہیں وہ ان سورتوں میں یکجا اور تفصیلی طور پر بیان فرمائے گئے ہیں اسی لئے ان سورتوں کو مفصل کہنے کی وجہ تسمیہ بھی بہت خوب ہے۔

2188Mishkaat-al-Masabih

قرآن کی زینت سورت رحمٰن

وعن علي رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لكل شيء عروس وعروس القرآن الرحمن . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر چیز کے لئے زینت ہوتی ہے اور قرآن کریم کی زینت سورت رحمٰن ہے۔ تشریح سورت رحمٰن کو قرآن کریم کی زینت اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اس میں دنیا و آخرت کی نعمتوں کا بیان ہے حوروں کے اوصاف کا بیان ہے جو جنت کی دلہنیں ہیں اور ان حوروں کے زیورات وغیرہ کا بیان ہے۔

2189Mishkaat-al-Masabih

سورت واقعہ کی تاثیر

وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ سورة الواقعة في كل ليلة لم تصبه فاقة ابدا . وكان ابن مسعود يأمر بناته يقرأن بها في كل ليلة . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص شب میں سورت واقعہ پڑھتا ہے وہ کبھی بھی فاقہ کی حالت کو نہیں پہنچتا حضرت ابن مسعود ؓ اپنی صاحبزادیوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ ہر شب میں یہ سورت پڑھا کریں۔ (ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے)۔ تشریح فاقہ کے معنی ہیں محتاجگی اور حاجت مندی۔ لہٰذا اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص روزانہ رات میں سورت واقعہ پڑھتا ہے اس کے لئے محتاجگی، نقصان و پریشانی کا باعث نہیں بنتی اس وجہ سے کہ اسے صبر و قناعت کی دولت فرما دی جاتی ہے یا یہ کہ ایسے شخص کو دل کی محتاجگی نہیں ہوتی یعنی ظاہری محتاجگی کے باوجود اس کا دل مستغنی ہوتا ہے کیونکہ اس کے قلب میں وسعت و فراخی عطا کی جاتی ہے، معرفت الٰہی حاصل ہوتی ہے اور توکل و اعتماد کا سرمایہ اس کے قلب و روح میں طمانیت پیدا کردیتا ہے اور اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص اس سورت کے معانی و مفہوم سے استفادہ کرتا ہے۔ بہرکیف اتنی بات جان لینی چاہئے کہ شارع نے بعض ان عبادات و نیکیوں کی طرف رغبت دلائی ہے جو نہ صرف یہ کہ اخروی طور پر باعث فلاح وسعادت ہوتی ہیں بلکہ ان دنیاوی امور میں بھی نافع اور موثر بنتی ہیں جن کا حصول دین کے لئے ممد و معاون ہوتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ بہر صورت کسی نہ کسی طرح عبادت اور نیک کاموں میں مصروف رہیں۔

2190Mishkaat-al-Masabih

سورت اعلیٰ کی فضیلت

وعن علي رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجب هذه السورة ( سبح اسم ربك الأعلى ) رواه أحمد

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اس سورت یعنی سبح اسم ربک الاعلیٰ کو بہت محبوب رکھتے تھے۔ (احمد) تشریح آنحضرت ﷺ سورت اعلیٰ یعنی سبح اسم ربک الاعلیٰ کو اس لئے بہت زیادہ محبوب رکھتے تھے کہ اس میں یہ آیت (اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى 18 صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى 19) 87۔ الاعلی 18۔ 19) ہے جو قرآن کریم کی حقانیت و صداقت پر شاہد اور مشرکین و اہل کتاب کے خیالات و اعتقادات کی بہت مضبوط تردید ہے۔ حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں کیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس میں تمام مثالیں بیان کی گئی ہیں مثلا کہا گیا ہے کہ اے مسلط! گرفتار نفس اور فریب خوردہ بادشاہ میں نے تجھے دنیا میں اس لئے نہیں بھیجا کہ تو دنیا جمع کرنے لگے بلکہ میں نے تجھے دنیا میں اس لئے بھیجا تھا کہ تو مظلوموں کی بد دعا سے بچے کیونکہ میں مظلوموں کی بد دعا رد نہیں کرتا خواہ مظلوم کافر ہی کیوں نہ ہو سلیم الطبع اور عقل مند انسان کے لئے لازم ہے کہ جب تک اس میں عقل ہو وہ اپنے لئے چار اوقات مقرر کرے ایک وقت میں تو وہ اپنے رب سے مناجات کرے، دوسرے وقت میں اپنے نفس کا محاسبہ کرے، تیسرے وقت میں اللہ کی صفت وقدرت میں غور و فکر کرے اور چوتھے وقت میں اپنی حاجت مثلا کھانے پینے وغیرہ میں مشغول رہے۔ عقل مند کے لئے لازم ہے کہ وہ صرف تین چیزوں کی طمع کرے (١) معاد (آخرت) کے لئے زاد راہ تیار کرنے کی (٢) یا اپنی معاش کی اصلاح کی (٣) یا غیر حرام سے لذت و نفع حاصل کرنے کی۔ عقلمند کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے زمانہ پر نظر رکھنے والا ہو اپنے حال کی طرف متوجہ ہو اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا ہو (یاد رکھو) جس شخص نے اپنے کلام کا اپنے اعمال سے محاسبہ کیا اس کا کلام زیادہ نہیں ہوگا وہ صرف وہی کلام کرے گا جو ضروری ہو۔ حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اچھا حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں کیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس میں عبرتیں یعنی ڈرانے کی باتیں تھیں مثلا اس میں یہ کہا گیا ہے کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو موت پر یقین رکھتا ہے مگر اس کے باوجود (وہ اپنی دنیاوی زندگی کے عیش و عشرت پر) خوش بھی ہوتا ہے۔ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو دوزخ کی آگ پر یقین رکھتا ہے مگر وہ پھر بھی ہنستا ہے۔ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے مگر وہ پھر بھی (طلب معاش کے سلسلہ میں) رنج و غم اٹھاتا ہے مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو دنیا اور اس کے انقلابات کو دیکھتا ہے اور پھر بھی اس سے مطمئن رہتا ہے اور مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو کل (قیامت) کے دن کے حساب پر یقین رکھتا ہے اور پھر بھی عمل نہیں کرتا۔

2191Mishkaat-al-Masabih

جامع سورت

وعن عبد الله بن عمرو قال : أتى رجل النبي صلى الله عليه و سلم فقال أقرئني يا رسول الله فقال : اقرأ ثلاثا من ذوات ( الر ) فقال : كبرت سني واشتد قلبي وغلظ لساني قال : فاقرأ ثلاثا من ذوات ( حم ) فقال مثل مقالته . قال الرجل : يا رسول الله أقرئني سورة جامعة فأقرأه رسول الله صلى الله عليه و سلم ( إذا زلزلت الأرض ) حتى فرغ منها فقال الرجل : والذي بعثك بالحق لا أزيد عليها أبدا ثم أدبر الرجل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أفلح الرويجل مرتين . رواه أحمد وأبو داود

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے پڑھائیے! آپ ﷺ نے فرمایا قرآن کریم کی ان سورتوں میں سے کہ جن کے شروع میں الر ہے پڑھو۔ اس نے عرض کیا میری عمر زیادہ ہوچکی ہے اور دل میرا سخت ہوگیا ہے (یعنی میرے قلب پر حافظہ کی کمی اور نسیان کا غلبہ ہے) نیز میری زبان موٹی ہے (یعنی کلام اللہ خصوصا! بڑی سورتیں میں یاد نہیں کرسکتا) آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم وہ سورتیں نہیں پڑھ سکتے تو ان سورتوں میں سے تین سورتیں پڑھو جن کے شروع میں حم ہے (کیونکہ یہ سورتیں ان سورتوں کی نسبت چھوٹی ہیں) اس شخص نے پھر وہی کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے کوئی جامع سورت پڑھائیے (یعنی کوئی ایسی سورت بتائیے جس میں بہت سی باتیں جمع ہوں) چناچہ آپ ﷺ نے اسے سورت اذا زلزلت پڑھائی جب آپ ﷺ (پوری سورت پڑھا کر) اس سے فارغ ہوئے اس شخص نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں (اس سورت پر عمل کرنے کے سلسلہ میں) اس پر کبھی بھی زیادتی نہیں کروں گا۔ پھر اس شخص نے پیٹھ پھیری (یعنی جب واپس ہوگیا) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے مراد حاصل کرلی یہ آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا۔ (احمد، ابوداؤد ) تشریح جن سورتوں کی ابتداء لفظ الر سے ہوتی ہے ان کی تعداد پانچ ہے ان سورتوں کے بارے میں آپ ﷺ نے سائل سے فرمایا کہ ان میں سے کوئی بھی تین سورتیں پڑھ لیا کرو۔ سورت اذا زلزلت کو سورت جامعہ (جامع سورۃ) اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اس سورت میں یہ ایک آیت (فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَه۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَه۔ ) 99۔ الزلزلہ 7-8) (تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا)۔ اس آیت میں وہ تمام چیزیں آگئی ہیں جن کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جن کے مجموعہ کا نام ہے خیر و بھلائی اور وہ تمام چیزیں بھی اس میں شامل ہیں جن سے بچنے کا حکم دیا ہے جن کے مجموعہ کا نام ہے شر و برائی۔

2192Mishkaat-al-Masabih

الہٰکم التکاثر کی فضیلت

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا يستطيع أحدكم أن يقرأ ألف آية في كل يوم ؟ قالوا : ومن يستطيع أن يقرأ ألف آية في كل يوم ؟ قال : أما يستطيع أحدكم أن يقرأ : ( ألهاكم التكاثر ) ؟ ) رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ روزانہ ایک ہزار آیتیں پڑھا کرے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کون شخص اس بات پر قادر ہوسکتا ہے کہ وہ ہمیشہ روزانہ ایک ہزار آیتیں پڑھتا رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا کوئی شخص اس بات پر قادر نہیں ہوسکتا کہ وہ روزانہ الہٰکم التکاثر پڑھ لیا کرے۔ (بیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ یہ سورت پڑھ لیا کرے تو اسے ایک ہزار آیتوں کا ثواب ملے گا کیونکہ اس سورت میں دنیا سے بےرغبتی دلائی گئی ہے اور آخرت کی طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دی گئی ہے۔

2193Mishkaat-al-Masabih

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی تاثیر

وعن سعيد بن المسيب مرسلا عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ ( قل هو الله أحد ) عشر مرات بني له بها قصر في الجنة ومن قرأ عشرين مرة بني له بها قصران في الجنة ومن قرأها ثلاثين مرة بني له بها ثلاثة قصور في الجنة . فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : والله يا رسول الله إذا لنكثرن قصورنا . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الله أوسع من ذلك . رواه الدارمي

حضرت سعید بن مسیب ؓ بطریق ارسال نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سورت قل ہو اللہ احد دس بار پڑھے تو اس کی وجہ سے جنت میں اس کے لئے ایک محل بنایا جاتا ہے جو شخص اس کو بیس مرتبہ تو اس کی وجہ سے جنت میں اس کے لئے دو محل بنائے جاتے ہیں اور جو شخص اس کو تیس مرتبہ پڑھے تو اس کی وجہ سے جنت میں اس کے لئے تین محل بنائے جاتے ہیں۔ (لسان ببوت سے یہ بشارت سن کر) حضرت عمر بن خطاب ؓ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول پھر تو اب ہم (جنت میں) اپنے بہت زیادہ محل بنالیں گے (یعنی جب اس سورت کو پڑھنے کی یہ برکت اور اس کا یہ ثواب ہے تو پھر ہم اب اس سورت کو بہت زیادہ پڑھیں گے تاکہ اس کی وجہ سے جنت میں ہمارے لئے بہت زیادہ محل بنیں) رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس سے بھی بہت زیادہ فراخ ہے۔ (یعنی اس سورت کی فضیلت اور اس کا ثواب بہت عظیم اور بہت وسیع ہے لہٰذا اس بشارت پر تعجب نہ کرو بلکہ اس کے حصول کی کوشش کرو اور اس کی طرف راغب ہو)۔ (دارمی)

2194Mishkaat-al-Masabih

رات میں قرآن پڑھنے کا اثر

وعن الحسن مرسلا : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ في ليلة مائة آية لم يحاجه القرآن تلك الليلة ومن قرأ في ليلة مائتي آية كتب له قنوت ليلة ومن قرأ في ليلة خمسمائة إلى الألف أصبح وله قنطار من الأجر . قالوا : وما القنطار ؟ قال : اثنا عشر ألفا . رواه الدرامي

حضرت حسن ؓ بطریق ارسال نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص رات میں قرآن کی سو آیتیں پڑھے تو رات میں قرآن اس سے نہیں جھگڑے گا جو رات میں دو سو آیتیں پڑھے تو اس کے لئے شب بیداری کا ثواب لکھا جاتا ہے اور جو شخص رات میں پانچ سو سے ہزار تک آیتیں پڑھے تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لئے قنطار کے بقدر ثواب لکھا جا چکا ہوتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ قنطار کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا بارہ ہزار (درہم یا دینار)۔ (دارمی) تشریح قرآن اس سے نہیں جھگڑے گا کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن نہیں پڑھتا اور اس سے تعلق نہیں رکھتا تو قرآن اس کا دشمن ہوجاتا ہے اور اس پر لعنت و ملامت کرتا ہے لہٰذا رات میں قرآن کی سو آیتیں پڑھنا اس رات میں قرآن کی دشمنی کے دفعیہ اور اس کے حق کی ادائیگی کے لئے کافی ہے۔ اس موقع پر اتنی بات بھی جان لینی چاہئے کہ قرآن کا جھگڑنا یعنی قرآن کی لعنت و ملامت دو سبب سے ہے ایک تو قرآن نہ پڑھنے کی وجہ سے دوسرے قرآن پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے، پس اگر قرآن کی لعنت و ملامت قرآن نہ پڑھنے کی وجہ سے ہوگی تو وہ پڑھنے سے دفع ہوجائے گی اور اگر قرآن کی لعنت و ملامت قرآن پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہوگی تو وہ لعنت و ملامت باقی رہے گی جب تک کہ وہ عمل نہ کرے جب قرآن پر عمل کرے گا تو اس کی لعنت و ملامت بھی ختم ہوجائے گی، حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن پڑھے گا اور اس پر عمل بھی کرے گا تو وہ قرآن کی دشمنی اور اس کی لعنت و ملامت سے کلیۃ محفوظ رہے گا بلکہ قرآن ایسے شخص کے حق میں شفاعت سفارش بھی کرے گا اور اگر ایک بات میں بھی قصور و کوتاہی ہوگی تو قرآن کی دشمنی بھی باقی رہے گی اور لعنت و ملامت بھی ختم نہیں ہوگی۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قرأت قرآن ہر شخص پر واجب ہے اگر کوئی شخص قرآن نہیں پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے جھگڑے گا، لہٰذا جھگرنے کی نسبت قرآن کی طرف مجازی ہے حقیقت میں وہ اللہ کا جھگڑنا ہوگا یعنی قرآن نہ پڑھنے والے پر براہ راست اللہ کی لعنت ہوگی۔ قنطار کے بقدر، کا مطلب قنطار کی تعداد کے برابر یا قنطار کے وزن کے برابر، بہرکیف یہاں مراد یہ ہے کہ حدیث میں مذکور تعداد میں قرآن کی آیتیں پڑھنے والا شخص بہت ہی زیادہ ثواب پاتا ہے۔

2195Mishkaat-al-Masabih

کچھ سورتوں کے فضائل

گزشتہ صفحات میں جو احادیث گزری ہیں ان میں کچھ سورتوں اور آیتوں کے فضائل بیان کئے جا چکے ہیں یہ باب ختم ہو رہا ہے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اب بعض سورتوں کے فضائل تفصیل کے ساتھ بیان کر دئیے جائیں جنہیں تفسیر عزیزی اور درمنثور نے نقل کیا ہے تاکہ ان فضائل کو پڑھنے کے بعد مسلمانوں کا دل خوش ہو کہ وہ زیادہ سے زیادہ راغب اور سرگرم ہو کر اس عظیم نعمت کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اس طرح وہ دنیا کی فلاح وسعادت سے بہرہ ور ہو سکیں۔

2196Mishkaat-al-Masabih

بسم اللہ کی برکت

حضرت مولانا عبدالعزیز (رح) لکھتے ہیں کہ مفسرین نے کہا جب طوفان نوح نے اس دنیا کو اپنے خوفناک عذاب کے چنگل میں گھیر لیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی کشتی میں سوار ہوئے تو وہ بھی خوف غرق سے ہراساں ولرزاں تھے انہوں نے غرق سے نجات پانے اور اس عذاب الٰہی سے محفوظ رہنے کے لئے بسم اللہ مجریہا ومرسہا کہا اس کلمہ کی برکت سے ان کی کشتی غرقابی سے محفوظ وسالم رہی مفسرین کہتے ہیں کہ جب اس آدھے کلمہ کی وجہ سے اتنے ہیبت ناک طوفان سے نجات حاصل ہوئی تو جو شخص اپنی پوری عمر اس پورے کلمہ یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم سے اپنے ہر کام کی ابتداء کرنے کا التزام کرے وہ نجات سے کیونکر محروم رہ سکتا ہے؟ علماء لکھتے ہیں کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم میں انیس حروف ہیں دوزخ کے موکل بھی انیس ہیں لہٰذا بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ہر حرف کے ذریعہ ان میں سے ہر ایک کی بلا دفع ہوسکتی ہے نیز علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ دن رات کو چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں پانچ گھنٹوں کے لئے تو پانچ وقت کی نمازیں مقرر فرمائی گئیں اور بقیہ انیس گھنٹوں کے لئے یہ انیس حروف عطا فرمائے گئے تاکہ ان انیس گھنٹوں میں ہر نشست و برخاست ہر حرکت و سکون اور ہر کام کے وقت ان انیس حروف کے ذریعہ برکت و عبادت حاصل ہو یعنی ان حروف بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کی برکت سے یہ انیس گھنٹے بھی عبادت میں لکھے جائیں۔ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ سورت برأت کو جو قتل کفار کے حکم پر مشتمل ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم سے خالی رکھا گیا ہے کیونکہ یہ کلمہ رحمت ہے جو موقع کا مقتضی نہیں ہے اسی طرح جانور کو ذبح کرتے وقت بھی صرف بسم اللہ اللہ اکبر کہنا مقرر فرمایا گیا ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے کیونکہ ذبح کی صورت قہر عذاب کی شکل ہے اور یہ کلمہ رحمت (یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم) اس کا محل اور اس کا مقتضی نہیں لہٰذا جو شخص اس کلمہ رحمت یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم پر ہر وقت اور ہر آن مداومت کرتا ہے جس کا اولیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ ہر روز ستر مرتبہ فرض نماز میں یہ کلمہ اپنی زبان پر جاری کرتا ہے کہ وہ شخص غضب و عذاب سے محفوظ اور ثواب سے محظوظ ہوگا۔ اس آیت یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم کے خواص میں سے یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو اسے چاہئے کہ وہ بسم اللہ کہہ کر جائے تاکہ اس کی وجہ سے اس کی شرم گاہ اور جنات کے درمیان پردہ واقع ہوجائے کوئی شخص بسم اللہ کہہ کر بیت الخلاء جاتا ہے تو اس کا خاصہ یہ ہے کہ جنات کی نظر اس کی شرمگاہ کی طرف نہیں جاتی، لہٰذا جب اس کی تاثیر یہ ہے کہ یہ آیت انسان اور اس کے دنیاوی دشمن جنات کے درمیان پردہ بن جاتی ہے تو امید ہے کہ یہ ایک مسلمان اور عذاب عقبی کے درمیان بھی یقیناً پردہ بن کر حائل ہوگی۔