فضائل قرآن کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 48 · 109 hadiths · Page 5 of 6

2197Mishkaat-al-Masabih

سورت فاتحہ کے فضائل اور اس کی تاثیر

صحاح ستہ میں یہ روایت آتی ہے کہ جب کسی شخص کو بچھو یا سانپ کاٹ لیتا تھا یا کوئی مرگی میں مبتلا ہوتا تھا یا کوئی دیوانہ ہوجاتا تھا تو نبی کریم ﷺ کے صحابہ سورت فاتحہ پڑھ کر اس شخص پر دم کیا کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ اس عمل کو پسند فرماتے تھے۔ دارقطنی اور ابن عساکر حضرت زید بن سائب ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سورت فاتحہ پڑھ کر ان پر دم کیا اور یہ سورت پڑھنے کے بعد اپنے دہن مبارک کا لعاب ان کے جسم کے اس حصہ پر ملا جہاں درد تھا۔ بزار نے اپنی مسند میں حضرت انس بن مالک ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنا پہلو اپنے بچھونے پر رکھا (یعنی سونے کے لئے اپنے بستر پر گیا) اور پھر اس نے سورت فاتحہ اور قل ہو اللہ احد پڑھ کر اپنے اوپر دم کیا تو وہ ہر آفت و بلاء سے محفوظ ہوگیا الاّ یہ کہ اس کی موت کا وقت آپہنچا ہو یعنی موت سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ عبد حمید نے اپنی مسند میں حضرت ابن عباس ؓ سے بطریق مرفوع یہ روایت نقل کی ہے کہ فاتحۃ الکتاب ( سورت فاتحہ) باعتبار ثواب کے دو تہائی قرآن کے برابر ہے، ابوشیخ طبرانی، ابن مردویہ، دیلمی اور ضیاء مقدسی روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ مجھے گنج العرش (عرش کے خزانہ) سے چار چیزیں عطا کی گئی ہیں اس خزانہ سے ان چار چیزوں کے علاوہ اور کوئی چیز دوسرے کو نہیں دی گئی ہے اور وہ چار چیزیں ہیں۔ (١) ام الکتاب ( سورت فاتحہ) (٢) آیۃ الکرسی (٣) سورت بقرہ کی آخری آیتیں (٤) سورت کوثر۔ ابونعیم اور دیلمی نے حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا سورت فاتحہ اس چیز سے کفایت کرتی ہے کہ قرآن کی اور کوئی سورت و آیت کفایت نہیں کرتی اور اگر سورت فاتحہ کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور باقی تمام قرآن کو دوسرے پلڑے میں رکھیں تو یقیناً سورت فاتحہ سات قرآن کے برابر ہو۔ حضرت ابوعبید فضائل قرآن میں حسن بصری سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے سورت فاتحہ پڑھی اس نے گویا توریت و انجیل زبور اور قرآن کو پڑھا۔ تفسیر وکیع، کتاب، المصاحف ابن ابناری، کتاب، العظمہ، ابوالشیخ اور حلیۃ الاولیاء ابونعیم میں منقول ہے کہ ابلیس ملعون کو نوحہ و آہ وزاری کرنے اور اپنے سر پر خاک ڈالنے کا چار مرتبہ اتفاق ہوا ہے اول تو اس وقت جب کہ اس کو ملعون قرار دیا گیا دوسرے اس وقت جب کہ اسے آسمان و زمین پر ڈالا گیا تیسرے اس وقت جب کہ نبی کریم ﷺ کو خلعت نبوت سے نوازا گیا اور چوتھے اس وقت جب کہ سورت فاتحہ نازل ہوئی۔ ابوشیخ نے کتاب الثواب میں لکھا ہے کہ جس شخص کو کوئی حاجت درپیش ہو تو اسے چاہئے کہ وہ سورت فاتحہ پڑھے اور اس کے بعد اپنی حاجت کے لئے دعا کرے (انشاء اللہ اس کی حاجت پوری ہوگی) ثعلبی حضرت شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے درد گردہ کی شکایت کی انہوں نے اس شخص سے کہا کہ تمہیں چاہئے کہ اساس القرآن پڑھ کر درد کی جگہ دم کرو (انشاء اللہ شفا ہوگی) اس شخص نے پوچھا کہ اساس القرآن کیا ہے؟ شعبی نے فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب یعنی سورت فاتحہ۔ مشائخ کے مجرب اعمال میں یہ مذکور ہے کہ سورت فاتحہ اسم اعظم ہے اس سورت کو ہر مطلب و حاجت کے لئے پڑھنا چاہئے اس سلسلے میں اس سورت کو پڑھنے کے دو طریقے منقول ہیں اول یہ کہ اس سورت کو فجر کی سنت و فرض نماز کے درمیان چالیس دن تک اکتالیس مرتبہ اس طرح پڑھا جائے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے میم کو الحمد کے لام کے ساتھ ملا یا جائے یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین الآیۃ۔ اس سورت کو مقرر بالا دن تک مذکورہ بالا طریقہ سے پڑھنے کے بعد مطلوب انشاء اللہ حاصل ہوگا اگر کسی مریض یا سحر زدہ کی شفا منظور ہو تو مذکورہ بالا طریقہ سے یہ سورت پڑھ کر پانی پر دم کر کے اس مریض یا سحر زدہ کو پلایا جائے انشاء اللہ شفا حاصل ہوگی۔ دوم یہ کہ نوچندی اتوار کو فجر کی سنت و فرض نماز کے درمیان میم کو لام کے ساتھ ملانے کی قید کے بغیر ستر مرتبہ یہ سورت پڑھے بعد ازاں ہر روز اسی وقت پڑھے مگر اس طرح کہ ہر روز مذکورہ تعداد میں سے دس مرتبہ کم کر دے یعنی نوچندی اتوار کو ستر مرتبہ، دوسرے روز ساٹھ مرتبہ تیسرے روز پچاس مرتبہ، اس طرح دس دس بار کم کرتا جائے تاآنکہ ہفتہ کے روز ختم ہوجائے اگر پہلے مہینہ میں مطلب حاصل ہوجائے تو فبہا ورنہ دوسرے اور تیسرے مہینہ میں اسی طرح پڑھے۔ امراض مزمنہ پرانے امراض کی شفاء کے لئے اس سورت کو چینی کے پیالے یا پلیٹ پر گلاب، مشک اور زعفران سے لکھ کر پلانا ایک مجرب عمل ہے اسی طرح دانتوں کے درد، شکم اور دوسرے دردوں میں سات مرتبہ سورت فاتحہ پڑھ کر دم کرنا بھی مجرب ہے۔

2198Mishkaat-al-Masabih

فضائل سورت بقرہ

سورت بقرہ کی فضیلت بھی بہت زیادہ منقول ہے صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک ؓ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ ہم میں سے جو شخص سورت بقرہ اور سورت آل عمران پڑھ لیتا تھا تو ہم اس کے مرتبہ باعتبار جاہ و عظمت کے بہت بلند ہوجاتا تھا چناچہ اس بات کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لشکر کو کہیں بھیجنا چاہتے تھے اس لشکر کے امیر کے تعین میں تردد پیدا ہو رہا تھا آپ ﷺ اس مقررہ لشکر کے ہر فرد کو بلا کر اس سے پوچھتے تھے کہ تم قرآن کی کون سی سورت یاد رکھتے ہو؟ اسے جو سورت یاد ہوتی وہ بتادیتا یہاں تک کہ نوبت ایک جوان تک پہنچی جو عمر میں سب سے چھوٹا تھا آپ ﷺ نے اس سے بھی دریافت فرمایا کہ تم قرآن کی کون سی سورت یاد رکھتے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سوت اور سورت البقرہ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا تم سورت بقرہ بھی یاد رکھتے ہو۔ اس نوجوان نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اس لشکر کے تم ہی امیر مقرر کئے گئے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں یہ روایت نقل کی ہے کہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے سورت بقرہ کو اس کے حقائق نکات کے ساتھ بارہ برس کے عرصہ میں پڑھا اور جس روز انہوں نے یہ سورت ختم کی اس دن ایک اونٹ ذبح کیا اور بہت زیادہ کھانا لا کر آنحضرت ﷺ کے صحابہ کو کھلایا۔ اس سلسلہ میں حضرت ابن عمر ؓ سے بھی منقول ہے کہ انہوں نے آٹھ برس تک اس سورت کو پڑھنے میں اپنے آپ کو منہمک رکھا۔ آٹھ برس کے بعد انہوں نے یہ سورت ختم کی غرضیکہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کے نزدیک اس سورت کو جو عظمت و فضیلت حاصل تھی وہ کسی اور سورت کو حاصل نہیں تھی۔ اس سورت کے مجرب خواص میں یہ ہے کہ جس موسم میں بچوں کو چیچک نکلتی ہے اس وقت جس بچے کی عافیت منظور ہو تو اس بچہ کو روبرو نہار منہ اس سورت کو تجوید کے ساتھ پڑھ کر اس پر دم کیا جائے وہ بچہ بھی نہار منہ ہونا چاہئے انشاء اللہ اس سال اس بچہ کو چیچک نہیں نکلے گی اگر نکلے گی بھی تو انجام بخیر ہوگا لیکن شرط یہ ہے کہ جس وقت اس سورت کو پڑھنا شروع کیا جائے تو اڑھائی پاؤ چاول اور اس پر دہی و کھانڈ ڈال کر اسے اسی مجلس میں کسی مستحق کو کھانے کے لئے دے دیا جائے۔

2199Mishkaat-al-Masabih

فضائل آیات سورت کہف

درمنثور میں منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کرے گا وہ دجال کے فتنہ سے بچایا جائے گا اسی طرح وہ شخص بھی دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا جو اس سورت کی آخری دس آیتیں یاد کرے گا جو شخص سوتے وقت سورت کہف کی دس آیتیں پڑھ لیا کرے گا وہ فتنہ دجال سے بچایا جائے گا و اور جو شخص سوتے وقت اس سورت کا آخری حصہ پڑھے گا تو اس کے لئے قیامت کے دن اس کی قرأت کے نزدیک سے اس کے قدم تک نور ہی نور ہوگا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن سورت کہف پڑھتا ہے تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک (کے صغیرہ گناہوں) کا کفارہ ہوجاتا ہے اسی طرح ایک روایت میں یہ ہے کہ جس گھر میں سورت کہف پڑھی جاتی ہے اس رات کو اس گھر میں شیطان داخل نہیں ہوتا۔

2200Mishkaat-al-Masabih

فضائل سورت ملک اور سورت یٰس وغیرہ

نبی کریم ﷺ کا رشاد گرامی ہے کہ جس شخص نے عشاء کے بعد چار رکعتیں پڑھیں اس طرح کہ پہلے دو رکعتوں میں قل یا ایہا الکافرون اور قل ہو اللہ احد پڑھے اور اس کے بعد دو رکعتوں میں تبارک الذی اور الم تنزیل السجدہ تو اس کے لئے چار رکعتوں کا ثواب ایسی چار رکعتوں کے ثواب کے برابر لکھا جاتا ہے جو لیلۃ القدر میں پڑھی جائیں اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ جس شخص نے مغرب و عشاء کے درمیان سورت تبارک الذی اور الم تنزیل السجدہ پڑھی تو گویا اس نے لیلۃ القدر میں شب بیداری کی۔ ایک اور روایت میں حضرت کعب ؓ سے منقول ہے کہ جس شخص نے رات میں الم تنزیل السجدہ اور تبارک الذی پڑھی اس کے لئے ستر نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اس کی ستر برائیاں دور کی جاتی ہیں اور اس کے ستر درجات بلند کئے جاتے ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ جس شخص نے رات میں الم تنزیل السجدہ اور تبارک الذی پڑھی اللہ تعالیٰ اس کے لئے لیلۃ القدر کے ثواب کی مانند ثواب لکھتا ہے۔ ابن خریس، ابن مردویہ اور بیہقی حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تورات میں سورت یٰس کا نام معمہ رکھا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت اپنے پڑھنے والے کے لئے دنیا وآخرت کی تمام نیکیوں اور بھلائیوں پر مشتمل ہے اپنے پڑھنے والے سے دنیا وآخرت کی مصیبت دفع کرتی ہے اور اس سے آخرت کی ہولناکی دور کرے گی۔ اور اس کا نام رافعہ یا (دافعہ)، خافضہ یا (قاضیہ) بھی رکھا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت مومنین کو بلند مرتبہ بناتی ہے اور کافروں کو پست کرتی ہے نیز اپنے پڑھنے والے سے ہر برائی دفع کرتی ہے اور اس کی ہر حاجت پوری کرتی ہے جو شخص اسے پڑھتا ہے تو وہ اس کے حق میں بیس حج کے برابر ہوتی ہے جو شخص اسے سنتا ہے تو وہ اس کے حق میں ایسے دینار کے برابر ہوتی ہے جسے وہ اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد میں) خرچ کرے اور جو شخص اسے لکھ کر پیتا ہے تو وہ اس کے پیٹ میں ہزار دائیں، ہزار نور، ہزار برکتیں اور ہزار رحمتیں داخل کرتی ہے اور اس میں سے ہر کینہ اور ہر دکھ درد نکال باہر کرتی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں اس بات کو پسند کرتا ہوں اور دوست رکھتا ہوں کہ سورت یٰس میری امت کے ہر فرد بشر کے دل میں ہو (یعن ہر شخص کو یاد ہو) اور آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ہر رات میں سورت یٰس پڑھنے پر مداومت کی (یعنی وہ روزانہ رات میں اسے پڑھتا رہے) اور پھر وہ مرجائے تو اسے شہادت کی موت نصیب ہوتی ہے۔ نیز رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دن کے ابتدائی حصہ میں سورت یٰس پڑھی اس کی حاجتیں پوری کی جاتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص سورت یٰس صبح کے وقت پڑھتا ہے اسے شام تک اس دن کی آسانیاں عنایت کی جاتی ہیں اور جس شخص نے شب کے ابتدائی حصہ میں اس کو پڑھا اسے صبح تک اس رات کی آسانیاں عطا کی جاتی ہیں۔ بیہقی نے حضرت ابوقلابہ (رح) سے جو جلیل القدر تابعین میں سے ہیں ان کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جس شخص نے سورت یٰس پڑھی اس کی مغفرت کی جاتی ہے جس شخص نے یہ سورت بھوک کی حالت میں پڑھی وہ سیر ہوجاتا ہے جس شخص نے اس حالت میں پڑھی کہ وہ راستہ بھول گیا ہے تو اپنا راستہ پا لیتا ہے جس شخص نے اس حالت میں پڑھی کہ اس کا جانور جاتا رہا تو وہ اپنا جانور پا لیتا ہے جس شخص نے کھانے کے وقت اس حالت میں پڑھی کہ اسے کھانے کی کمی کا خوف ہے تو اس کا کھانا کافی ہوجاتا ہے جس شخص نے اسے میت یا قریب المرگ کے پاس پڑھا تو اس میت یا قریب المرگ پر آسانی ہوجاتی ہے جس شخص نے اسے کسی ایسی عورت پر پڑھا جو ولادت کی شدید تکلیف میں مبتلا ہے تو اس کے لئے ولادت میں آسانی کردی جاتی ہے اور جس شخص نے یہ سورت پڑھی اس نے گویا پورآ قرآن گیارہ مرتبہ پڑھا اور یاد رکھو ہر چیز کا دل ہوتا ہے قرآن کا دل سورت یٰس ہے۔ مقبری کہتے ہیں کہ اگر کسی قسم کا کوئی خوف ہو حکومت وقت کا کوئی نقابل برداشت یا غلط مطالبہ ہو کسی دشمن کی طرف سے ایذاء رسانی کا اندیشہ ہو تو سورت یٰس پڑھو انشاء اللہ اس کی برکت کی وجہ سے تم ہر قسم کے خوف و اندیشہ سے محفوظ رہو گے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جس نے جمعہ کے دن سورت یٰس اور والصافات پڑھی اور پھر اللہ سے کوئی چیز مانگی تو اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عنایت فرمائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کا نماز سے فارغ ہونا اس بات سے پہچانتے تھے کہ آپ ﷺ نماز کے بعد یہ آیت (سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ ) 37۔ الصافات 180) آخر آیت تک پڑھتے تھے۔ نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز کے بعد یہ آیت (سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ ) 37۔ الصافات 180) آیت تک تین مرتبہ پڑھی تو بلاشک اس نے پورے پیمانہ کے ساتھ (یعنی بھر پور) ثواب حاصل کیا۔ آپ ﷺ یہ بھی فرماتے تھے کہ جس شخص کے لئے یہ بات خوش کن ہو کہ وہ قیامت کے روز بھرپور ثواب کا حق دار ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی مجلس کے آخر میں جب کہ وہ اٹھنے کا ارادہ کرے یہ آیت یعنی سبحان ربک الخ پڑھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے سبع طُوَل (یعنی وہ سات بڑی سورتیں جو ابتداء قرآن میں مذکور ہیں) تورات کی جگہ دی ہیں۔ الرآت سے طواسین تک انجیل کی جگہ دی ہیں طواسین اور حامیمون کے درمیان کی سورتیں زبور کی جگہ دی ہیں اور حامیمون سے وہ مفصل (قرآن کی آخری سورتوں) کے ذریعہ مجھے امتیاز و فضیلت بخشی ہے مجھ سے پہلے کسی نبی نے ان سورتوں کو نہیں پڑھا (یعنی ان سورتوں کے مضامین صرف مجھے ہی عنایت فرمائے گئے ہیں اور کسی نبی کو اس سے سرفراز نہیں کیا گیا ہے)۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہر چیز کا خلاصہ ہوا کرتا ہے قرآن کا خلاصہ حامیمون ہیں حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے بطریق مرفوع منقول ہے کہ حامیمون جنت کے باغات میں سے باغ ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ حامیمون سات ہیں یعنی ایسی سورتوں کی تعداد سات ہے جن کے شروع میں حم ہے اور دوزخ کے دروازے بھی سات ہیں ان میں سے ہر حم قیامت میں دوزخ کے ہر دروازے پر کھڑی رہے گی اور ہر ایک عرض کرے گی کہ اے پروردگار! اس دروازے کے ذریعہ اس شخص کو دوزخ میں داخل نہ کر جو مجھ پر ایمان رکھتا تھا اور مجھ کو پڑھتا تھا۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا جس طرح ہر درخت کا پھل ہوتا ہے اسی طرح قرآن کا پھل حامیمون ہیں وہ باغ ہیں ارزانی کرنے والے، سیر کرنے والے، تجارت کی جگہ، لہٰذا جس شخص کو یہ بات پسندیدہ اور محبوب ہو کہ وہ جنت کے باغات میں خوشہ چینی کرے تو اسے چاہئے کہ وہ حامیمون پڑھے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب تک تبارک الذی اور حم السجدہ نہ پڑھ لیتے تھے سوتے نہیں تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص جمعہ کی شب میں حم الدخان اور یٰس پڑھتا ہے تو وہ اس حالت میں صبح کرتا ہے کہ اس کی بخشش ہوچکی ہوتی ہے۔ ایک دوسری روایت میں فرمایا ہے جو شخص جمعہ کی شب میں یا جمعہ کے دن حم الدخان پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے نیز ایک روایت یہ ہے جو شخص جمعہ کی رات میں سورت دخان پڑھتا ہے تو وہ اس حالت میں صبح کرتا ہے کہ اس کی مغفرت ہوچکی ہوتی ہے۔ اور اس کا نکاح حور عین سے کیا جائے گا۔ اور جو شخص رات میں سورت دخان پڑھتا ہے اس کے پہلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے الم تنزیل، یٰس اقتربت الساعۃ اور تبارک الذی پڑھی یہ سورتیں اس کے لئے نور ہوں گی اور شیطان و شرک سے پناہ بن جائیں گی نیز قیامت کے دن اس کے درجات بلند کئے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر رات میں اقتربت الساعۃ پڑھے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کا منہ چودہویں رات کے چاند کی مانند روشن ہوگا۔ نیز رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ سورت اذا وقعت اور رحمن پڑھنے والا زمین و آسمان میں رہنے والوں کے درمیان ساکن الفردوس کے نام سے پکارا جاتا ہے یعنی وہ خوش نصیب جنت الفردوس میں کہ جو سب سے اعلیٰ جنت ہے رہے گا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سورت الواقعہ سورت الغنی ہے لہٰذا اسے پڑھو اور اپنی اولاد کو سکھاؤ اور ایک روایت میں ہے کہ اسے اپنی بیویوں کو سکھلاؤ۔ حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ عورتوں سے کہا کرتی تھیں کہ تم میں سے کسی کو سورت واقعہ پڑھنے سے کوئی چیز روک نہ دے۔ منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا کہ وہ جب سونے کے لئے اپنے بستر پر جائے تو سورت حشر پڑھے۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شیطان سے پناہ مانگے اور پھر تین مرتبہ سورت حشر کا آخری حصہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے بھیجتا ہے جو اس شخص سے جن وانس کے شیاطین کو دور رکھتے ہیں اگر وہ یہ رات میں پڑھتا ہے تو وہ فرشتے ان شیاطین کو شام تک دور رکھتے ہیں نیز آپ ﷺ کا راشاد گرامی ہے کہ جس شخص نے سورت حشر کی آخری آیتیں دن میں یا رات میں پڑھیں اور اس دن میں یا رات میں مرگیا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں اس بات کو پسندیدہ اور محبوب رکھتا ہوں کہ میری امت کے ہر فرد و بشر کے دل میں تبارک الذی ہو (یعنی ہر شخص کو یہ سورت یاد ہو) اور حضرت عکرمہ بن سیان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اسماعیل کے سامنے قرآن پڑھا جب میں سورت والضحیٰ پر پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ سورت والضحیٰ کے بعد آخر تک ہر سورت کے ختم ہونے کے بعد اللہ اکبر کہو اس لئے کہ جب میں نے حضرت عبداللہ بن کثیر کے سامنے قرآن کریم پڑھا اور میں سورت والضحیٰ پر پہنچا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس سورت کے بعد قرآن کریم کے آخر تک ہر سورت کے ختم ہونے کے بعد اللہ اکبر کہو، نیز حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اس بات کا حکم دیا ہے، چناچہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مجھے اس بات کا حکم حضرت ابی بن کعب ؓ نے دیا اور حضرت ابی ؓ نے مجھے بتایا کہ انہیں رسول کریم ﷺ نے اس بات کا حکم دیا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اذازلزلت آدھے قرآن کے برابر ہے والعادیات بھی آدھے قرآن کے برابر ہے، نیز آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص رات میں ہزار آیتیں پڑھا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ ہنستا ہوگا عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! ہزار آیتیں پڑھنے کی طاقت کون رکھتا ہے آپ نے فرمایا بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر الہکم التکاثر آخر سورت تک پڑھے اور پھر فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! یہ سورت ہزار آیتوں کے برابر ہے۔ ابوالشیخ نے عظمت میں اور ابومحمد سمرقندی نے قل ہو اللہ احد کے فضائل میں حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ خیبر کے یہودی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے ابوالقاسم! اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو نور حجاب سے آدم کو حماء مسنون یعنی سڑی ہوئی کیچڑ سے ابلیس کو شعلہ آگ سے آسمان کو دھوئیں سے اور زمین کو پانی کے جھاگ سے پیدا کیا لہٰذا اب آپ اپنے رب کے بارے میں بتائیے کہ اللہ تعالیٰ کس چیز سے پیدا ہوا؟ نبی کریم ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا، تاکہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس یہ سورت یعنی قل ہو اللہ احد لائے جس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد آپ ان سے کہہ دیجئے اللہ ایک ہے نہ اس کے اصول ہیں نہ فروع اور نہ اس کا کوئی شریک ہے اللہ الصمد اللہ تعالیٰ بالکل بےپرواہ اور مستغنی ہے نہ تو وہ کھتا ہے نہ پیتا ہے اور نہ اسے کسی چیز کی حاجت و ضرورت ہے یہ ساری سورت آپ نے پڑھ کر سنا دی، چناچہ اس سورت میں نہ جنت کا ذکر ہے اور نہ دوزخ کا نہ حلال چیزوں کا ذکر ہے اور نہ حرام کا بلکہ اس سورت کو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ لہٰذا یہ سورت خاص طور پر اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ یعنی اس سورت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات وصفات اور وحدانیت کی حقیقت بتائی ہے اس لئے جس شخص نے اس سورت کو تین مرتبہ پڑھا گویا اس نے تمام وحی یعنی پورا قرآن پڑھ لیا، جس شخص نے اس سورت کو تیس مرتبہ پڑھا ہو اس دن میں دنیا میں کوئی شخص اس کی فضیلت کے برابر نہیں ہوگا علاوہ اس شخص کے جس نے اس سے بھی زیادہ پڑھا ہو جس شخص نے اس سورت کو دو بار پڑھا ہو وہ جنت الفردوس میں رہے گا اور جو شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اسے تین مرتبہ پڑھے تو اس سے فقر و محتاجگی دور رہتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک رات رسول کریم ﷺ نے اس طرح گزاری کہ تمام رات صبح تک اس سورت کو بار بار پڑھتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے قل ہو اللہ احد پڑھی اس نے گویا تہائی قرآن پڑھا ایک اور روایت میں ہے کہ جس شخص نے سورت اخلاص کو دو سو مرتبہ پڑھا اس کے دو سو برسوں کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں (یعنی اس کے بہت ہی زیادہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) اور ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے قل ہو اللہ احد پچاس مرتبہ پڑھی اس کے پچاس برس کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ایک روایت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ہر روز دو مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھی اس کے لئے ڈیڑھ ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس سے پچاس برس کے گناہ دور کئے جاتے ہیں الاّ یہ کہ اس پر دین کوئی قرض ہو۔ ابن سعید، ابن خریس، ابویعلیٰ اور بیہقی دلائل میں حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ملک شام میں تھے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد ﷺ! معاویہ ابن معاویہ مزنی ؓ (صحابی) کا انتقال ہوگیا ہے کیا آپ ﷺ جانتے ہیں کہ ان کی نماز جنازہ پڑھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! چناچہ حضرت جبرائیل نے اپنا بازو زمین پر مارا جس سے ان کے لئے ہر چیز پست ہو کر زمین کی سطح سے مل گئی یہاں تک کہ معاویہ کا جنازہ بلند ہو کر سامنے نظر آنے لگا اور نبی کریم ﷺ نے ان کی نماز جنازہ فرشتوں کی دو صفوں میں پڑھی اور ہر صف میں چھ لاکھ فرشتے تھے۔ حضرت جبرائیل نے کہا کہ قل ہو اللہ احد کے پڑھنے نے وہ اس سورت کو ہر وقت کھڑے بیٹھے آتے جاتے اور سوتے (یعنی لیٹے لیٹے) پڑھا کرتے تھے۔ ایک اور روایت میں حضرت انس ؓ ہی سے منقول ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ تبوک میں تھے ایک دن آفتاب طلوع ہوا تو اس میں ایسی روشنی وشعاع اور ایسا نور تھا کہ ہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، چناچہ نبی کریم ﷺ سورج کی اس روشنی و نور کے بارے میں اظہار تعجب ہی فرما رہے تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل تشریف لے آئے ان سے پوچھا کہ سورج کے لئے ایسا کیا سبب پیش آیا کہ میں اس کو ایسی روشنی ونور کے ساتھ دیکھ رہا ہوں کہ پہلے کبھی اس طرح طلوع ہوتے نہیں دیکھا؟ انہوں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ آج مدینہ میں معاویہ ابن معاویہ لیثی کا انتقال ہوگیا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ستر ہزار فرشتے بھیجے تاکہ وہ ان نماز جنازہ پڑھیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ اے جبرائیل! اس فضیلت و کر امت کا سبب کیا ہے حضرت جبرائیل نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ قل ہو اللہ احد بہت زیادہ پڑھتے تھے کھڑے بیٹھے چلتے اور دن و رات کے دوسرے اوقات میں اس سورت کو بہت زیادہ پڑھتے تھے کیونکہ یہ سورت آپ کے رب کی نسبت ہے جو شخص اس سورت کو پچاس مرتبہ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچاس ہزار درجے بلند کرتا ہے اور اس سے پچاس ہزار برائیاں دور کرتا ہے نیز اس کے لئے پچاس ہزار نیکیاں لکھتا ہے اور جو شخص اس سے بھی زیادہ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بھی زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے پھر جبرائیل نے کہا کہ کیا میں آپ کے لئے زمین سمیٹ لوں تاکہ آپ ان کی نماز جنازہ پڑھ سکیں؟ آپ نے کہا ہاں۔ چناچہ آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن کو جو شخص تکمیل ایمان کی خاطر اختیار کرے تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا داخل ہوگا اور جس بھی حور عین سے چاہے گا نکاح کرے گا۔ (١) اپنے قاتل کو معاف کرے (٢) دین خفیہ ادا کرے (٣) ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھے۔ (یہ سن کر) حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ اگر ان میں سے کوئی ایک چیز بھی اختیار کرے گا تو مذکورہ بالا ثواب سعادت کا حقدار ہوگا۔ رسول کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جو شخص روزانہ پچاس مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھے تو اسے قیامت کے دن اس کی قبر سے اس طرح بلایا جائے گا کہ اے اللہ کے مدح کرنے والے جنت میں داخل ہوجا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہنا بھول جائے تو اسے چاہئے کہ جب وہ کھانے سے فارغ ہو تو قل ہو اللہ احد پڑھ لے نیز رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت قل ہو اللہ احد پڑھتا ہے تو نہ صرف یہ کہ اس کے گھر والوں سے بلکہ ہمسایوں سے بھی فقر و محتاجگی دور ہوتی ہے ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک دن حضرت جبرائیل بڑی اچھی صورت میں شاداں وفرحاں میرے پاس ائے اور کہنے لگے کہ اے محمد! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہر ذات کے لئے سلسلہ نسب ہوتا ہے میرا نسب قل ہو اللہ احد ہے لہٰذا آپ کی امت میں سے جو شخص میرے پاس اس حال میں آئے گا کہ اس نے کبھی قل ہو اللہ احد ہزار بار پڑھی ہوگی تو میں اسے اپنا نشان عطا کروں گا۔ اسے اپنے عرش کے قریب رکھوں گا اور ایسے ستر آدمیوں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کروں گا جو مستوجب عذاب ہوں گے اور اگر میں نے اپنے اوپر یہ واجب نہ کرلیا ہوتا کہ آیت (کل نفس ذائقۃ الموت (یعنی میں نے یہ کلیہ نہ بنادیا ہوتا کہ ہر جاندار موت کا مزہ ضرور چکھے گا) تو میں اس کی روح قبض نہ کرتا۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص نماز جمعہ کے بعد قل ہو اللہ احد، قل اعوذ براب الفلق اور قل اعوذ برب الناس سات سات مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اسے دوسرے جمعہ تک برائیوں سے پناہ میں رکھتا ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ جس شخص نے قل ہو اللہ احد ہزار مرتبہ پڑھی تو اس کا یہ پڑھنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس بات سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے کہ وہ فی سبیل اللہ (یعنی جہاد میں) ایک ہزار گھوڑے مع لگام و زین کے دے۔ حضرت کعب احبار ؓ کہتے ہیں کہ جو شخص قل ہو اللہ احد پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گوشت کو آگ پر حرام کردیتا ہے، نیز کعب احبار ؓ سے یہ بھی منقول ہے کہ جو شخص روزانہ رات ودن میں دس بار قل ہو اللہ احد اور آیۃ الکرسی پڑھنے پر مواظبت کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو وہ عطا فرماتا ہے۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ جس شخص نے اس سورت کو ہزار مرتبہ پڑھا اس نے اپنا نفس اللہ تعالیٰ سے خرید لیا یعنی وہ آگ سے محفوظ ہوگیا، اسی طرح ایک روایت میں یوں ہے کہ جو شخص اس سورت کو دو سو مرتبہ پڑھتا ہے تو اسے پانچ سو برس کی عبادت کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔ ایک روایت میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ جب آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کا نکاح حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ کیا تو آپ ﷺ نے پانی منگا کر اس میں کلی کی پھر اسے اپنے گھر میں لے گئے اور اس پانی کو ان کے گریبان میں اور ان کے دونوں مونڈھوں کے درمیان چھڑکا نیز قل ہو اللہ احد، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر انہیں اللہ کی پناہ میں دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے فجر کی نماز کے بعد کسی سے بات چیت کرنے سے پہلے ستر مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھی تو اس دن اس کی طرف سے پچاس صدیقین کے عمل اوپر پہنچائے جاتے ہیں۔

2201Mishkaat-al-Masabih

قرآن کی خبر گیری کرو

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تعاهدوا القرآن فوالذي نفسي بيده لهو أشد تفصيا من الإبل في عقلها

حضرت ابوموسیٰ اشعری راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرآن کی خبر گیری کرو (یعنی قرآن برابر پڑھتے رہو تاکہ بھولو نہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے قرآن سینوں سے اتنی جلدی نکل جاتا ہے کہ اونٹ بھی اتنی جلدی اپنی رسی سے نہیں نکلتا۔ (بخاری ومسلم) تشریح یعنی اگر اونٹ کا نگہبان ومالک اپنے اونٹ کی طرف سے غفلت برتے تو اونٹ رسی سے نکل بھاگتا ہے اسی طرح اگر قرآن کریم برابر نہ پڑھا جاتا رہا تو وہ اونٹ سے بھی جلدی سینہ سے نکل جاتا ہے یعنی جلدی بھول جاتا ہے۔

2202Mishkaat-al-Masabih

قرآن کے بارے میں ایک ادب

وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بئس مالأحدهم أن يقول : نسيت آية كيت وكيت بل نسي واستذكروا القرآن فإنه أشد تفصيا من صدور الرجال من النعم . متفق عليه . وزاد مسلم : بعقلها

حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ کسی شخص کے لئے یہ بات بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ وہ اس طرح کہے کہ بھلایا گیا اور قرآن کریم برابر یاد کرتے رہا کرو کیونکہ وہ لوگوں کے دل سے جانوروں سے بھی جلد نکل جاتا ہے (بخاری ومسلم) مسلم کی روایت میں لفظ بعقلہا بھی ہے یعنی ان جانوروں سے بھی جلد جو اپنی رسی جلد اپنی میں بندھے ہوئے ہوں۔ تشریح یہاں ایک ادب سکھایا جا رہا ہے اگر کسی شخص کو قرآن کریم کی کوئی سورت یا آیت یاد نہ رہے تو وہ اس کا اظہار کیونکہ کرے؟ ایسے موقع پر یہ کہنا کہ میں بھول گیا ہوں اس لئے منع ہے کہ اس طرح کہنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے قران پڑھنا چھوڑ دیا اور بےپروائی کے سبب بھول گیا جو ظاہر ہے کہ قرآن کی شان عظمت کے منافی اس طرح کہنا کہ بھولایا گیا ہوں گویا اس سعادت ونعمت کے حصول میں اپنی تقصیر و کوتاہی اور حسرت کا اظہار ہے جو صحیح ہے۔

2203Mishkaat-al-Masabih

صاحب قرآن کی مثال

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إنما مثل صاحب القرآن كمثل صاحب الإبل المعقلة إن عاهد عليها أمسكها وإن أطلقها ذهبت

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا صاحب قرآن (قرآن پڑھنے والے) کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی سی ہے اگر وہ اس اونٹ کی خبر گیری کرتا ہے تو وہ بندھا اور رکا رہتا ہے اور اگر اسے چھوڑ دیتا ہے تو وہ جاتا رہتا ہے اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن کریم برابر نہ پڑھے اور یاد نہ کرتا رہے تو قرآن اس کے سینہ سے نکل جاتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

2204Mishkaat-al-Masabih

جبت تک دل لگے قرآن پڑھو

وعن جندب بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرؤوا القرآن ما ائتلفت عليه قلوبكم فإذا اختلفتم فقوموا عنه

حضرت جندب بن عبداللہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرآن اس وقت تک پڑھو جب تک کہ تمہارے دل کی خواہش ہو جب آپس میں اختلاف ہو (یعنی زیادہ پڑھنے سے ملال اور دل گرفتگی محسوس ہو) یعنی قرآن پڑھنا موقوف کردو۔ (بخاری ومسلم) تشریح ابن ملک کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی تلاوت وقرأت میں اسی وقت تک مصروف رہنا چاہئے جب تک دل لگے دل نہ لگنے کی صورت میں قرآن کریم نہ پڑھنا بغیر حضور دل کے پڑھنے سے افضل ہے، لیکن یہاں اس حدیث سے یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ عادی بنے اور اپنے نفس کو ریاضت میں ڈالے تاکہ زیادہ سے زیادہ دیر تک پڑھنے سے طبیعت ملول نہ ہو بلکہ زیادہ خوشی و فرحت محسوس ہو کیونکہ کاہل اور آسودہ دل جو ریاضت کی عادت نہیں ڈالتے جلدی ہی ملول ہوجاتے ہیں چناچہ بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ ایک ہی سپارہ پڑھنے میں اپنی طبیعت پر بار محسوس کرنے لگتے ہیں اور ملول ہوجاتے ہیں جب کہ وہ لوگ جو ریاضت کے عادی ہوتے ہیں ایک سیارہ بلکہ اس سے بھی زیادہ اتنے ذوق وشوق کے ساتھ پڑھتے ہیں جب کہ نہ تو ان کی طبیعت پر ذرا سا بھی بار ہوتا ہے اور نہ وہ ملول ہوتے ہیں۔

2205Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی قرأت

وعن قتادة قال : سئل أنس : كيف كانت قراءة النبي صلى الله عليه و سلم فقال : كانت مدا مدا ثم قرأ : بسم الله الرحمن الرحيم يمد ببسم الله ويمد بالرحمن ويمد بالرحيم . رواه البخاري

حضرت ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت انس ؓ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ﷺ کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا کہ آپ کی قرأت درازی کے ساتھ ہوتی تھی پھر انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر بتایا کہ اس طرح بسم اللہ دراز کرتے تھے (یعنی بسم اللہ الہ کے الف کو الف کے مقصود کے بقدر کھینچتے تھے، رحمن کو دراز کرتے تھے (یعنی اس کے الف کو بھی کھینچتے تھے) اور رحیم کو دراز کرتے تھے (یعنی رحیم کی یا کو اصلی یا عرضی مد کرتے تھے۔ (بخاری) تشریح آپ کی قرأت درازی کے ساتھ ہوتی تھی۔ کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ حروف مد اور لین کو بقدر معروف مد کرتے تھے جو ارباب وقوف (یعنی ارباب تجوید) کے قواعد و شرائط کے مطابق ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حروف تین ہیں واؤ، الف، یا، چناچہ اس بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ جب ان کے بقدر ہمزہ ہو تو الف کے بقدر ان کو مد کرنا چاہئے بعض حضرات کہتے ہیں کہ دو الف سے پانچ الف تک کے بقدر مد کرنا چاہئے۔ بقدر الف سے درازگی آواز مراد ہے جب کہ کہا جائے با یا تا۔ اور اگر حروف مد کے تشدید ہو تو بقدر چار الفوں کے مد کرنا چاہئے اتفاقا جیسے دابۃ اور ان کے بعد حرف ساکن ہو تو بقدر دو الفوں کے مد کرنا چاہئے اتفاقا جیسے مار اور یعلمون اور ان کے بعد مذکورہ بالا حروف کے علاوہ حرف ہو تو مد نہیں کرنا چاہئے صرف اسی آواز پر اکتفاء کرنا چاہئے جو اس حرف کے نکلنے کے بقدر ہو جیسے ایاک یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ بسم اللہ میں جو مد ہوتے ہیں وہ سب اسی قبیل سے ہیں۔

2206Mishkaat-al-Masabih

خدا کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ آواز

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أذن الله لشيء ما أذن لنبي يتغنى بالقرآن

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جس طرح پسندیدگی کے ساتھ نبی ﷺ کی آواز کو سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کریم کو خوش گوئی کے ساتھ پڑھتے ہیں اس طرح کوئی اور آواز نہیں سنتا۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ یوں تو نبی ﷺ کی آواز بذات خود ہر بشر کی آواز سے عمدہ اور شیریں ہوتی ہے مگر جب نبی ﷺ قرآن کریم خوش گوئی یعنی تجوید و ترتیل کے ساتھ پڑھتے ہیں تو اس وقت ان کی آواز کائنات کی ہر آواز سے لطیف و شیریں ہوتی ہے اور ایسا کیوں نہ ہو؟ اللہ کا کلام اور اللہ کا رسول اسے پڑھ رہا ہو تو ظاہر ہے کہ کائنات کا ایک ایک ذرہ جاندار ہی نہیں غیر جاندار بھی وجد میں آجاتا ہے اسی بات کو فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ رب العزت اس آواز کو جتنا پسند کرتا ہے اور اسے جس طرح قبول کرتا ہے اس کی یہ پسندیدگی اور مقبولیت کائنات کو کسی بھی ایسی چیز کو حاصل نہیں ہوتی جس میں آواز ہوتی ہے اور جو سنی جاتی ہے۔

2207Mishkaat-al-Masabih

خدا کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ آواز

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أذن الله لشيء ما أذن لنبي حسن الصوت بالقرآن يجهر به

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کے لئے کان نہیں رکھتا یعنی کسی بھی چیز کی آواز کو قبول نہیں کرتا جیسا کہ وہ قرآن پڑھتے وقت نبی ﷺ کی خوش گوئی کے لئے کان رکھتا ہے یعنی اسے پسند و قبول کرتا ہے جب کہ نبی بآواز بلند قرآن کریم پڑھتے ہیں۔ (بخاری ومسلم)

2208Mishkaat-al-Masabih

قرآن کریم اور خوش گلوئی

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس منا من لم يتغن بالقرآن . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ شخص ہمارے کامل طریقہ پر چلنے والا نہیں ہے جو قرآن کریم خوش گوئی کے ساتھ نہ پڑھے۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کو خوش گوئی اور خوش آوازی کے ساتھ پڑھنا چاہئے بشرطیکہ حروف، حرکات مد، تشدید یا اسی طرح اور کسی چیز میں تغیر پیدا نہ ہو، اسی طرح راگ کے طور پر بھی نہ ہو، بلکہ اس بارے میں تو مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص قصدا قرآن کریم راگ کے انداز میں پڑھے گا وہ فعل حرام کا مرتکب ہوگا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

2209Mishkaat-al-Masabih

قرآن کریم کی سماعت

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على المنبر : اقرأ علي . قلت : أقرا عليك وعليك أنزل ؟ قال : إني أحب أن أسمعه من غيري . فقرأت سورة النساء حتى أتيت إلى هذه الآية ( فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا ) قال : حسبك الآن . فالتفت إليه فإذا عيناه تذرفان

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے اس وقت جب کہ آپ ﷺ منبر پر تھے مجھ سے فرمایا کہ میرے سامنے قرآن کریم پڑھو، میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کے سامنے میں قرآن کریم پڑھوں؟ حالانکہ قرآن کریم ﷺ آپ پر اتارا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اسے پسند کرتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی دوسرے سے قرآن سنوں! حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ چناچہ میں نے سورت نساء پڑھنی شروع کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا آیت (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰ ؤُلَا ءِ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء 41) بھلا اس (قیامت کے) دن یہود وغیرہ کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ بلائیں گے (یعنی ہر امت کا نبی اس دن اپنی امت کے فعال و احوال کی گواہی دے گا) اور ہم آپ ﷺ کو اس امت کا گواہ بنا کر بلائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا بس اب رک جاؤ (کیونکہ میں اس آیت میں مستغرق ہوتا ہوں) پھر جب میں آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہوا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ﷺ کی مقدار میں آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں (بخاری ومسلم) تشریح حضرت ابن مسعود ؓ کی عرض کہ قرآن آپ پر اتارا گیا کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم چونکہ خود آپ ﷺ پر نازل ہوا ہے اس لئے قرآن کریم پڑھنا بھی آپ ﷺ ہی کا حق ہے اور یہ جس طرح اتارا گیا ہے اسی طرح آپ ﷺ اسے پڑھ سکتے ہیں کسی اور کی کیا مجال کہ وہ آپ ﷺ کے سامنے قرآن کریم پڑھے۔ اس کے جواب میں آپ ﷺ کے ارشاد گرامی میں اسے پسند کرتا ہوں الخ کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے جب کہ میری خواہش یہ ہوتی ہے کہ میں کسی دوسرے سے قرآن سنوں اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جس میں عارف پر حالت سکون طاری ہوتی ہے جیسا کہ کہا گیا ہے من عرف اللہ کل لسانہ (یعنی جس نے اللہ کو پہچانا اس کی زبان خاموش ہوگئی) اس کے برخلاف عارف کی ایک اور حالت ہوتی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ من عف اللہ طال لسانہ یعنی جس نے اللہ کو پہچانا اس کی زبان کھل جاتی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ بعض وقت تو عارف حالت تحیر واستغراق میں ہوتا ہے کہ سکونت اختیار کرتا ہے اور بعض وقت ہوشیار رہتا ہے کہ اس وقت وہ حقائق و معارف وغیرہ بیان کرتا ہے۔ دوسرے سے قرآن سننے میں ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ قرآنی آیات کے مفہوم و معانی خوب اچھی طرح سمجھ میں آتے ہیں غور و فکر اور محویت کمال درجہ کی حاصل ہوتی ہے۔ سورت نساء کی حدیث میں مذکورہ آیت کا مقصد چونکہ قیامت کے دن کو یاد دلانا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ اس دن کی ہولناکی اور اپنی امت کے ضعف کا خیال کر کے روئے، یہ اس بات کی بیّن علامت اور دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی امت پر بڑے شفیق و عنایت فرما ہیں۔ صلی اللہ علیہ الف الف صلوۃ کلما ذکرہ الذاکرون وکلما غفل عن ذکر الغافلون۔

2210Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابی بن کعب کی سعادت

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي بن كعب : إن الله أمرني أن أقرأ عليك القرآن قال : آلله سماني لك ؟ قال : نعم . قال : وقد ذكرت عند رب العالمين ؟ قال : نعم . فذرفت عيناه . وفي رواية : إن الله أمرني أن أقرأ عليك ( لم يكن الذين كفروا ) قال : وسماني ؟ قال : نعم . فبكى

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں؟ حضرت ابی ؓ نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام آپ کے سامنے لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ حضرت ابی ؓ نے کہا کہ دونوں جہاں کے پروردگار کے ہاں میرا ذکر کیا گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں۔ یہ سنتے ہی حضرت ابی بن کعب ؓ کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابی ؓ سے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے سورت لم یکن الذین کفروا پڑھو۔ حضرت ابی ؓ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں۔ (یہ سنتے ہی حضرت ابی ؓ رو پڑے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حضرت ابی بن کعب ؓ تمام صحابہ میں سب سے بڑے قاری تھے چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کے اسی امتیاز وشرف کو صحابہ کے سامنے اسی طرح بیان کیا کہ اقرأکم (تم میں سب سے بڑے قاری ابی ہیں) حضرت ابی ؓ کے قول اللہ سمانی لک کا مطلب یہ تھا کہ کیا خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے میرا ہی نام لیا ہے اور انہوں نے یہ بات اپنی عاجزی و انکساری کے اظہار اور اپنی گمنامی کی وجہ سے کہی کہ میں اس لائق کہاں ہوں کہ پروردگار بطور خاص میرا نام لے کر آپ کو حکم دے یا پھر انہوں نے یہ بات از راہ ذوق ولذت کے کہی اور اپنی اس عظیم سعادت وشرف کا اظہار کیا کہ اللہ نے مجھے یہ عظیم مرتبہ بخشا۔ یہ عظیم شرف سن کر حضرت ابی ؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجانا خوشی کی وجہ سے تھا ایسی خوشی جو حقیقی عاشق کو محبوب کے وصال اور محبوب کی کرم فرمائی کے وقت حاصل ہوتی ہے ایسی صورت میں قلب کا حزن و ملال سکون پا کر آنکھوں کی راہ سے نکل پڑتا ہے۔ خاص طور پر سورت لم یکن ہی کو پڑھنے کا حکم اس لئے ہوا کہ یہ سورت الفاظ کے اعتبار سے بہت مختصر بھی ہے اور اس میں فوائد بھی بہت زیادہ ہیں کیونکہ اس سورت میں دین کے اصول، وعد وعید اور اخلاص وغیرہ کے اعلیٰ مضامین مذکورہ ہیں۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ماہر قرآن اور اہل علم وفضل کے سامنے قرآن پڑھنا مستحب ہے اگرچہ قاری سننے والے سے افضل نہ ہو۔

2211Mishkaat-al-Masabih

دارالحرب میں قرآن لے جانے کی ممانعت

وعن ابن عمر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يسافر بالقرآن إلى أرض العدو . متفق عليه . وفي رواية لمسلم : لا تسافروا بالقرآن فإني لا آمن أن يناله العدو

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دشمن ملک یعنی دارالحرب کی طرف قرآن لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا قرآن لے کر سفر نہ کرو اس لئے کہ مجھے یہ اطمینان نہیں ہے کہ دشمن اسے چھین لے اور پھر وہ اس کی بےحرمتی کرے۔ تشریح یہاں ایک بڑا لطیف اشکال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں قرآن کریم مصحف میں تو لکھا ہوا تھا نہیں پھر آپ ﷺ نے یہ کیسے فرمایا کہ قرآن لے کر سفر نہ کیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے زمانہ میں اگرچہ پورا قرآن مصحف میں لکھا ہوا نہیں تھا مگر پھر بھی جو کچھ نازل ہوتا تھا اسے لوگ اپنے اپنے صحیفوں میں لکھ لیتے تھے اور ظاہر ہے کہ وہ قرآن ہی کے حکم میں تھا۔ یا یہ کہ آپ ﷺ نے یہ بات بطور پیش گوئی فرمائی کہ میرے بعد جب قرآن کریم کو مکمل طور پر یک جا جمع کر کے مصحف کی شکل دے دی جائے تو اسے لوگ لے کر کفار کے ملک میں نہ جائیں کہ مبادا وہ کفار کے ہاتھ لگ جائے اور وہ اس کی بےحرمتی کریں۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ دارالکفر میں اپنے ساتھ قرآن لے جانا مکروہ ہے نیز مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کافر کو کوئی خط وغیرہ لکھے تو اس میں آیت لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ہرقل کو جو مکتوب بھیجا تھا اس میں یہ آیت ( تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَا ءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِه شَيْ ً ا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ) 3۔ آل عمران 64) لکھی تھی۔

2212Mishkaat-al-Masabih

غرباء مہاجرین کو بشارت

عن أبي سعيد الخدري قال : جلست في عصابة من ضعفاء المهاجرين وإن بعضهم ليستتر ببعض من العري وقارئ يقرأ علينا إذ جاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام علينا فلما قام رسول الله صلى الله عليه و سلم سكت القارئ فسلم ثم قال : ما كنتم تصنعون ؟ قلنا : كنا نستمع إلى كتاب الله قال فقال : الحمد لله الذي جعل من أمتي من أمرت أن أصبر نفسي معهم . قال فجلس وسطنا ليعدل بنفسه فينا ثم قال بيده هكذا فتحلقوا وبرزت وجوههم له فقال : أبشروا يا معشر صعاليك المهاجرين بالنور التام يوم القيامة تدخلون الجنة قبل أغنياء الناس بنصف يوم وذاك خمسمائة سنة . رواه أبو داود

حضرت ابوسعید ؓ خدری کہتے ہیں کہ میں ایک دن غرباء مہاجرین (یعنی اصحاب صفہ) کی ایک جماعت کے درمیان بیٹھا تھا ان میں سے کچھ ننگے بدن ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھیوں کی اوٹ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص ہمارے سامنے قرآن پڑھ رہا تھا کہ اچانک نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے پڑھنے والے نے جب نبی کریم ﷺ کو کھڑے ہوئے دیکھا تو وہ چپ ہوگیا اس وقت آپ ﷺ نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا کہ تم لوگ کیا کر رہے ہو۔ ہم نے عرض کیا کہ ہم کتاب اللہ سن رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے میری امت میں وہ لوگ پیدا کئے جن کے بارے میں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان کے ساتھ بیٹھوں۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ فرما کر آپ ﷺ ہمارے درمیان بیٹھ گئے (یعنی کسی خاص شخص کے پہلو میں نہیں بیٹھے) تاکہ آپ ﷺ کی ذات اقدس کا تعلق ہم سب کے ساتھ یکساں رہے پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اس طرح اشارہ کیا (کہ حلقہ بنا کر بیٹھ جاؤ) سب لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کے منہ آپ کی طرف ہوگئے اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا اے مہاجرین کے مفلس گروہ تمہیں خوش خبری ہو اس بات کی کہ قیامت کے دن تمہیں بھر پور نور حاصل ہوگا اور تم دولت مند طبقے سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوگئے اور آدھا دن پانچ سو برس کے برابر ہوگا۔ (ابو داؤد) تشریح وان بعضہم الخ کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس اپنے ساتھی کی بہ نسبت کم کپڑا تھا وہ اپنے اس ساتھی کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا تاکہ کپڑا کم ہونے کی وجہ سے اس کا بند نظر نہ آسکے، چناچہ ننگے بدن سے مراد ستر کے علاوہ جسم کے بقیہ حصہ کا کپڑے سے عاری ہوتا ہے اور ستر کے علاوہ جسم کے بقیہ حصہ کو بھی عام نظروں سے بچانے کی وجہ نہ صرف یہ ہے کہ ان مقدس ہستیوں کا کمال شرم و حیاء کے درجہ پر ہونا تھا بلکہ یہ بات انسانی آداب و معاشرت کے خلاف ہے کہ جسم کے اس حصہ کو عام نظروں میں کھلا رہنے دیا جائے جو عام طور پر کھلا نہیں رہتا۔ اس صورت حال کو یہاں بیان کرنے کا مقصد صحابہ کی اس مقدس جماعت کے فقر و افلاس کا اظہار ہے کہ وہ اپنے بدن کو چھپانے کے لئے پورے طور پر کپڑا بھی نہیں رکھتے تھے اسی لئے وہ مجلس میں ایک دوسرے سے مل کر بیٹھتے تھے تاکہ ایک طرح کی پوشیدگی حاصل ہوجائے۔ اس وقت آپ نے ہمیں سلام کیا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جو شخص قرآن پڑھ رہا ہو اسے سلام نہ کرنا چاہئے جب وہ خاموش ہوجائے اس وقت سلام کیا جائے جیسا کہ فقہ کا مسئلہ ہے اسی لئے علماء لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قرآن پڑھنے والے کو سلام کرے تو اس کے سلام کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔ صحابہ کو قرآن کی سماعت میں مشغول دیکھنے کے باوجود آپ ﷺ نے ان سے یہ بات کی کہ تم کیا کر رہے ہو۔ جان بوجھ کر اس لئے پوچھی تاکہ ان کا جواب سن کر انہیں یہ عظیم بشارت و خوشخبری سنائیں۔ امرت ان اصبر نفسی الخ اس آیت کریمہ طرف اشارہ ہے۔ آیت (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَه وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَه عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ وَكَانَ اَمْرُه فُرُطًا) 18۔ الکہف 28) (اور آپ ﷺ اپنے کو ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنے میں مقید کرلیجئے جو صبح وشام یعنی ہمیشہ اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضا جوئی کے لئے کرتے ہیں اور دنیوی زندگانی کی رونق کے خیال سے آپ ﷺ کی آنکھیں (یعنی توجہات) ان سے ہٹنے نہ پائیں اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانئے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہش پر چلتا ہے اور اس کا یہ حال حد سے گزر گیا ہے راوی کے یہ الفاظ لیعدل الخ کا مطلب ہے کہ تاکہ آپ ﷺ اپنے آپ کو ہمارے درمیان بٹھانے کے معاملہ میں ہم سب کے ساتھ عدل کا معاملہ کریں تاکہ آپ ﷺ کا قرب سب کے ساتھ یکساں رہے یعنی اگر آپ ﷺ کسی شخص کے پاس بیٹھ جاتے تو بقیہ لوگوں کو اس کی خوش بختی پر رشک آتا اور سب کی خواہش یہی ہوتی کہ آپ میرے پاس ہی بیٹھیں اس لئے آپ ﷺ کسی ایک شخص کے پاس بیٹھنے کی بجائے درمیان میں بیٹھے تاکہ قرب کی سعادت سب کو یکساں طور پر حاصل ہو۔ علامہ طیبی نے اس جملہ کے معنی یہ لکھے ہیں کہ آپ ہمارے درمیان اس لئے بیٹھے تاکہ آپ ﷺ ہمارے درمیان برابری کریں اور اپنی ذات کو ہم سب سے ممتاز ونمایا کریں۔ سب لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے کا مطلب یہ ہے کہ سب آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک کے سامنے حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اسی طرح ان سب کے منہ آپ کی طرف ہوگئے کا مطلب یہ ہے کہ سب لوگ آپ ﷺ کے سامنے اس طرح بیٹھے کہ آنحضرت ﷺ سب کا چہرہ دیکھتے ہیں۔ قیامت کے دن تمہیں بھرپور نور حاصل ہوگا سے اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے دن سرمایہ دار اور دولت مند طبقہ (دنیا دار) کو بھر پور نور حاصل نہیں ہوگا کیونکہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے آخرت کو درست رکھا اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا اور جس نے اپنی دنیا کو دوست رکھا اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا لہٰذا جو چیز فنا ہوجانے والی ہے (یعنی دنیا) اس کے مقابلہ میں اس چیز (یعنی آخرت) کو اختیار کرو جو باقی رہنے والی ہے۔ اور تم دولت مند طبقہ سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہو گے۔ اس بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ یہاں فقراء سے وہ فقراء مراد ہیں جو صالح اور صابر ہوں، اسی طرح دولت مند سے وہ دولت مند مراد ہیں جو صالح و شاکر اور اپنے مال کا حق (یعنی صدقات و زکوٰۃ وغیرہ) ادا کرنے والے ہوں انہیں میدان حشر میں کھڑا کیا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم نے مال کہاں سے اور کن ذریعوں سے حاصل کیا اور تم نے اس مال کو کہاں کہاں خرچ کیا، وہ اس حساب کتاب میں مصروف ہوں گے کہ فقراء جنت میں داخل بھی ہوجائیں گے۔ اس سے ایک بات معلوم ہوئی کہ قیامت کے روز اللہ کے فضل و کرم سے اور اس کی رحمت میں فقراء کا حصہ دولت مند طبقہ کے حصے سے زیادہ ہوگا کیونکہ دولت مند طبقہ نے تو دنیا میں راحت و نصرت پائی تھی جبکہ فقراء محروم رہے تھے۔

2213Mishkaat-al-Masabih

تجوید وترتیل سے قرآن پڑھنے کا حکم

وعن البراء بن عازب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : زينوا القرآن بأصواتكم . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه والدارمي

حضرت براء بن عازب ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرآن کو اپنی آواز کے ذریعہ زینت دو۔ (احمد و ابوداؤد وابن ماجہ ودارمی) تشریح زینت دینے سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم کو تجوید و ترتیل اور آواز کی نرمی و اطاعت کے ساتھ پڑھا جائے یہ بات پہلے بھی بتائی جا چکی ہے اور اب پھر جان لیجئے کہ راگ میں قران کو اس طرح پڑھنا کہ حروف یا حرکات میں کمی و زیادتی ہو حرام ہے اس طرح قرآن پڑھنے والا شخص فاسق ہوتا ہے اور سننے والا گنہگار نیز ایسے شخص کو اس طرح قرآن پڑھنے سے منع کرنا واجب ہے کیونکہ یہ ایک بہت بڑی بدعت ہے۔

2214Mishkaat-al-Masabih

قرآن بھول جانے پر وعید

وعن سعد بن عبادة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه إلا لقي الله يوم القيامة أجذم . رواه أبو داود والدارمي

حضرت سعد بن عبادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قرآن کریم پڑھ کر بھول جائے تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہوگا۔ (ابوداؤد، دارمی) تشریح حنفیہ کے ہاں بھول جانے سے مراد یہ ہے کہ دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکے جب کہ حضرت امام شافعی (رح) کے ہاں اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے قرآن حفظ کیا پھر اسے بھول گیا کہ حفظ نہ پڑھ سکے یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پڑھنا چھوڑ دے خواہ بھولے یا نہ بھولے۔ حضرت مولانا شاہ محمد اسحق فرمایا کرتے تھے کہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ استعداد والے کا بھولنا تو یہ ہے کہ یاد کئے ہوئے کو بغیر دیکھے نہ پڑھ سکے اور غیر استعداد والے کو بھولنا یہ ہے کہ دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کو سیکھنے اور یاد کرنے کے بعد بھولنا بہت گناہ ہے لہٰذا چاہئے کہ قرآن کے بارے میں تغافل و کوتاہی کا راستہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ قرآن کو ہمیشہ اور بہت پڑھتے رہنا چاہئے۔

2215Mishkaat-al-Masabih

تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنے کا مسئلہ

وعن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لم يفقه من قرأ القرآن في أقل من ثلاث . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے تین رات سے کم میں قرآن پڑھا یعنی ختم کیا اس نے قرآن کو اچھی طرح نہیں سمجھا۔ (ترمذی، ابوداؤد، دارمی) تشریح علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ یہاں یہ مراد ہے کہ جس شخص نے تین دن یا تین رات سے کم میں قرآن ختم کیا وہ قرآن کے ظاہری معنی تو سمجھ سکتا ہے لیکن قرآن کے حقائق و معارف اور دقائق ونکات تک اس کو رسائی بھی نہیں ہوتی کیونکہ ان چیزوں کو سمجھنے کے لئے تین دن تو بہت دور کی چیز ہے بڑی سے بڑی عمریں ناکافی ہوتی ہیں نہ یہ بلکہ اس مختصر سے عرصہ میں تو کسی ایک آیت یا ایک کلمہ کے حقائق و نکات بھی سمجھ میں نہیں آسکتے نیز یہاں نفی سے مراد سمجھنے کی نفی ہے نہ کہ ثواب کی نفی یعنی ثواب تو ہر صورت میں ملتا ہے پھر یہ کہ لوگوں کی سمجھ میں بھی تفاوت وفرق ہے بعض لوگوں کی سمجھ زیادہ پختہ ہوتی ہے وہ کم عرصہ میں بھی قرآنی حقائق ودقائق کو سمجھ لیتے ہیں جب کہ بعض لوگوں کی سمجھ بہت ہی کم ہوتی ہے جن کے لئے طویل عرصہ بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ سلف میں سے بعض لوگوں نے اس حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کیا ہے چناچہ ان لوگوں کا معمول یہ تھا کہ وہ ہمیشہ تین ہی دن میں قرآن ختم کرتے تین دن سے کم میں ختم کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے جب کہ دوسرے لوگ اس کے برخالف عمل کرتے تھے چناچہ بعض لوگ تو ایک رات دن میں ایک بار اور بعض لوگ دو دو بار اور بعض لوگ تین تین بار قرآن ختم کرتے تھے بلکہ بعض لوگوں کے بارے میں تو یہاں تک ثابت ہے کہ وہ ایک رکعت میں ایک قرآن ختم کرتے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے یا تو اس حدیث کے بارے میں یہ خیال کیا ہو کہ اس کا تعلق باعتبار اشخاص کے مختلف ہے یعنی اس حدیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو کم فہم ہوتے ہیں اور جو اگر تین دن سے کم میں قرآن ختم کریں تو اس کے ظاہر معنی بھی نہ سمجھ سکتے ہوں پھر ان کے نزدیک بات یہ ہو کہ اس حدیث میں فہم کی نفی ہے اور اس صورت میں ظاہر ہے کہ جتنی بھی کم سے کم مدت میں قرآن ختم کیا جائے ثواب ملے گا۔ بعض لوگ دو مہینے میں ایک قرآن ختم کرتے تھے بعض لوگ ہر مہینے میں بعض لوگ دس دن میں اور بعض لوگ سات دن میں ایک قرآن ختم کردیتے تھے چناچہ اکثر صحابہ وغیرہم کا یہی معمول تھا کہ وہ سات دن میں قرآن ختم کرتے تھے۔ بخاری ومسلم کی ایک روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے فرمایا کہ قرآن سات میں ختم کرو اور اس پر زیادتی نہ کرو۔

2216Mishkaat-al-Masabih

ختم الاحزاب کیا ہے

مشائخ و عارفین کی اصطلاح میں سات دن میں قرآن ختم کرنے کا ختم الاحزاب کہتے ہیں ملا علی قاری (رح) کہتے ہیں ملا علی قاری وضاحت کے پیش نظر ختم الاحزاب کی سب سے صحیح ترتیب فمی بشوق ہے ملا علی قاری نے فمی بشوق کو ختم الاحزاب کی صحیح ترتیب اس لئے کہا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ختم الاحزاب (سات دن میں قرآن ختم کرنے کا طریقہ) یہ ہے کہ جمعہ کے روز ابتداء قرآن سے سورت مائدہ کے آخر تک پڑھا جائے شنبہ کے روز سورت انعام سے سورت توبہ کے آخر تک، اتوار کو سورت یونس سے سورت مریم کے آخر تک، پیر کو سورت طہ سے سورت قصص کے آخر تک، منگل کو سورت عنکبوت سے سورت ص کے آخر تک بدھ کو سورت زمر سے سورت رحمن کے آخر تک اور جمعرات کو سورت واقعہ سے آخر قرآن تک پڑھا جائے۔ اکثر حاجات کی تکمیل کے لئے مجرب بتایا گیا ہے نیز اس ترتیب کے ساتھ قرآن پڑھنے کے بارے میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ ابتداء جمعہ کے روز سے کی جائے بہرکیف مذکورہ بالا بحث کا حاصل یہ ہوا کہ فمی بشوق کی ترتیب کے ساتھ ختم قرآن اور چیز ہے اور ختم الاحزاب دوسری چیز ہے جب کہ ملا علی قاری کے قول کے مطابق ختم الاحزاب اور فمی بشوق کی ترتیب دونوں ایک ہی چیزیں ہیں۔ اب یہ سمجھئے کہ فمی بشوق اور اس کی ترتیب کیا ہے؟ فمی بشوق کی ترتیب کے ساتھ قرآن ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی سات منزلیں سات دن میں اس طرح پڑھی جائیں کہ ان کے شروع میں فمی بشوق کے حروف واقع ہوں یعنی ف سے سورت فاتحہ کی طرف اشارہ ہے میم سے سورت مائدہ کی طرف، ی سے سورت یونس کی طرف، ب سے سورت بنی اسرائیل کی طرف، ش سے سورت شعراء کی طرف، واؤ سے سورت والصافات کی طرف اور ق سے سورت ق کی طرف اشارہ ہے اس طرح ان حروف کے مجموعہ کا نام ہے فمی بشوق، قرآن ختم کرنے کی یہ ترتیب حضرت علی ؓ کی طرف منسوب ہے کہ وہ اسی ترتیب سے قرآن ختم کرتے تھے۔ اب پھر حدیث کے مفہوم کی طرف آئیے اس بارے میں نووی کا قول یہ ہے کہ حدیث کا حکم باعتبار اشخاص کے مختلف ہے یعنی وہی بات کہ اس کا تعلق کم فہم اور کم علم لوگوں سے ہے لہٰذا جو لوگ قرآنی علوم و معارف پر نظر رکھتے ہوں اور قرآن کے دقائق و معارف سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو وہ اسی قدر اقتصار کرسکتے ہیں کہ جب وہ قرآن پڑھیں تو پڑھتے وقت قرآن کی آیات کا کمال فہم بھی انہیں حاصل ہوتا رہے جو شخص علم کی توسیع و اشاعت یا لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے یا اسی قسم کے دوسرے کاموں میں مشغول رہتا ہو تو وہ اتنا ہی پڑھنے پر اکتفاء کرے جس سے اس کے اصل کاموں میں حرج واقع نہ ہوتا ہو، اسی طرح جو شخص تحصیل علم یا اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی فراہم کرنے میں منہمک رہتا ہو، اس کے لئے بھی یہی حکم ہے مذکورہ بالا لوگوں کے علاوہ اشخاص کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ جتنا زیادہ پڑھ سکیں پڑھیں بشرطیکہ زیادہ پڑھنا اکتاہٹ اور الفاظ کی تیز ادائیگی کی حد تک نہ پہنچ جائے۔