قرآن بآواز بلند پڑھنا افضل ہے یا آہستہ
وعن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجاهر بالقرآن كالجاهر بالصدقة ولامسر بالقرآن كالمسر بالصدقة . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب
حضرت عقبہ بن عامر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بآواز بلند قرآن کریم پڑھنے والا شخص ظاہری صدقہ دینے والے کی طرح ہے اور آہستہ قرآن پڑھنے والا شخص چھپا کر صدقہ دینے والے کی طرح ہے۔ (ترمذی ابوداؤد، نسائی) اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
چھپا کر صدقہ دینا ظاہری طور پر صدقہ دینے سے افضل ہے لہٰذا حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ اسی طرح قرآن کریم آہستہ پڑھنا بآواز بلند پڑھنے سے افضل ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ جس طرح آہستہ قرآن پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں احادیث منقول ہیں اسی طرح بآواز بلند قرآن پڑھنے کی فضیلت کے سلسلہ میں احادیث منقول ہیں لہٰذا دونوں طرح کی احادیث میں مطابقت یہ ہے کہ آہستہ آواز سے پڑھنا تو اس شخص کے حق میں افضل ہے جو ریار سے بچنا چاہتا ہو اور بآواز بلند پڑھنا اس شخص کے حق میں افضل ہے جو ریاء میں مبتلا ہونے کا خوف نہ رکھتا ہو بشرطیکہ اس طرح دوسروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے بایں طور کہ لوگ سنتے ہیں جس سے انہیں ثواب ملتا ہے یا دوسرے لوگ قرآن سن سن کر سیکھتے ہیں یا یہ کہ دوسروں کو پہنچتا ہے بایں طور کہ لوگ سنتے ہیں جس سے انہیں ثواب ملتا ہے کہ بآواز قرآن پڑھنا شعار دین اور اللہ کے کلام کا برملا اظہار ہے پڑھنے والے کے دل کو بیداری حاصل ہوتی ہے اس کا دھیان کسی اور طرف نہیں بٹتا، اس کے دل کی غفلت کو دور کرتا ہے، نیند کا غلبہ کم کرتا ہے اور یہ کہ دوسروں کو عبادت کا شوق دلاتا ہے، بہرکیف ان فوائد میں سے ایک فائدہ بھی پیش نظر ہو تو پھر اس صورت میں بآواز بلند پڑھنا ہی افضل ہوگا۔
قرآن کی کامل پیروی کی تاکید
وعن صهيب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما آمن بالقرآن من استحل محارمه . رواه الترمذي وقال : هذا حديث ليس إسناده بالقوي
اور صہیب ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ شخص قرآن پر ایمان نہیں لایا جو اس کے حرام کو حلال جانے امام ترمذی نے اس رایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کی اسناد قوی نہیں ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس چیز کو حرام کہا ہے اگر کوئی شخص اسے حلال جانے تو وہ کھلم کھلا کافر ہوگیا جب وہ کافر ہوگیا تو پھر قرآن پر اس کا ایمان کیسا، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص قرآن پر کامل ایمان نہیں لایا جو ان چیز کے حلال کا سا معاملہ کرے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے یعنی وہ قرآن میں مذکور حرام و ممنوع چیزوں کا ارتکاب کرے۔
وعن الليث بن سعد عن ابن أبي مليكة عن يعلى بن مملك أنه سأل أم سلمة عن قراءة النبي صلى الله عليه و سلم فإذا هي تنعت قراءة مفسرة حرفا حرفا . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي
حضرت لیث ابن سعد حضرت ابن ابی ملیکہ سے نقل کرتے ہیں اور وہ حضرت یعلیٰ بن مملک کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ سے نبی کریم ﷺ کی قرأت کے بارے میں پوچھا کہ آپ ﷺ قرآن کریم کس طرح پڑھتے تھے حضرت ام سلمہ ؓ نے آپ ﷺ کی قرأت کو واضح طور پر اور ایک ایک حرف کر کے بیان کیا۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ قرآن کریم اس طرح پڑھتے تھے کہ آپ ﷺ کی قرأت کے حروف کو اگر کوئی شمار کرنا چاہتا تو یہ ممکن تھا گویا آپ ﷺ خوب ترتیل سے تجوید کے طور پر پڑھتے تھے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ ؓ کے بارے میں منقول الفاظ دونوں احتمال رکھتے ہیں یا تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کی قرأت کی کیفیت کو الفاظ میں بیان کی یا یہ کہ انہوں نے قرآن کریم اسی طرح پڑھ کر سنایا جس طرح کہ آپ ﷺ پڑھا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے بغیر ترتیل کے سارے قرآن کو پڑھنے کی بہ نسبت صرف ایک سورت ترتیل کے ساتھ پڑھنا میرے نزدیک محبوب و پسندیدہ ہے۔
وعن ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن أم سلمة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقطع قراءته يقول : الحمد لله رب العالمين ثم يقف ثم يقول : الرحمن الرحيم ثم يقف . رواه الترمذي وقال : ليس إسناده بمتصل لأن الليث روى هذا الحديث عن ابن أبي مليكة عن يعلى بن مملك عن أم سلمة وحديث الليث أصح
ابن جریج حضرت ابن ملیکہ رحمہما اللہ سے اور وہ حضرت ام سلمہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی قرأت علیحدہ علیحدہ ہوتی تھی الحمدللہ رب العالمین پڑھتے اور پھر ٹھہرتے پھر الرحمن الرحیم پڑھتے اور ٹھہرتے امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند متصل نہیں ہے کیونکہ اس کا اصل سلسلہ سند یہ ہے حضرت ابن ملیکہ نے نقل کیا حضرت یعلی بن مملک سے اور انہوں نے نقل کیا حضرت ام سلمہ ؓ سے (جیسا کہ پہلی حدیث کا سلسلہ سند ہے) اور حضرت لیث کی حدیث جو پہلے گزری زیادہ صحیح ہے۔
تشریح
بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال نہیں ہے اہل بلاغت اس روایت کو قبول نہیں کرتے کیونکہ از روئے قاعدہ وقف تام مالک یوم الدین پر ہے اسی لئے امام ترمذی نے فرمایا کہ اس بارے میں زیادہ صحیح حدیث حضرت لیث کی ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک اس قسم کی آیتوں میں کہ جو آپس میں ایک دوسرے سے مربوط و متعلق ہیں وصل اولیٰ ہے جب کہ جزری کا قول ہے کہ وقت مستحب ہے ان کی دلیل یہی حدیث ہے دیگر شوافع کا مسلک بھی یہی ہے کہ اس حدیث کے بارے میں جمہور کی طرف سے یہ جواب دیا ہے کہ وقف اس لئے تھا کہ آپ ﷺ سننے والوں کو یہ بتادیں کہ ان آیتوں کی ابتداء کہاں سے ہے۔
قرآن محض خوش آوازی کا نام نہیں
عن جابر قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ونحن نقرأ القرآن وفينا الأعرابي والأعجمي قال : اقرؤوا فكل حسن وسيجيء أقوام يقيمونه كما يقام القدح يتعجلونه ولا يتأجلونه . رواه أبو داود والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے جب کہ ہم قرآن کریم پڑھ رہے تھے ہم میں دیہاتی لوگ اور عجمی بھی تھے آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ پڑھو! تم میں سے ہر شخص اچھا پڑھتا ہے یاد رکھو ایک ایسی جماعت پیدا ہونے والی ہے جس کے افراد قرآن کریم کو اس طرح سیدھا کریں گے جس طرح تیر سیدھا کیا جاتا ہے اور اس کا بدلہ جلد ہی دنیا ہی میں حاصل کرنا چاہیں گے۔ آخرت کے لئے کچھ نہ چھوڑیں گے۔ (ابوداؤد، بیہقی)
تشریح
عجمی ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اہل عرب میں سے نہ ہوں چناچہ حضرت جابر ؓ جس مجلس کا ذکر کر رہے ہیں اس میں ایسے صحابہ بھی تھے جن کا تعلق عرب سے نہیں تھا بلکہ وہ فارسی و حبشی تھے جیسے حضرت سلمان، حضرت صہیب اور حضرت بلال وغیرہ ؓ اگرچہ اس مجلس میں موجود دیہاتی لوگوں کی قرأت عجمی لوگوں کی قرأت کی مانند نہیں تھی مگر اس کے باوجود آنحضرت ﷺ نے ان سے کہا کہ تم میں سے سب کی قرأت اچھی اور لائق ثواب ہے کیونکہ تم نے دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دی ہے اگر تم نے اپنی زبانوں اور اپنی آوازوں کو آراستہ نہیں کیا ہے تو اس میں تمہارے لئے کوئی ضرر نہیں۔ جب کہ تمہارے بعد ایک ایسی جماعت پیدا ہونے والی ہے جس کے افراد قرآن کو اس طرح سیدھا کریں گے جس طرح تیر سیدھا کیا جاتا ہے یعنی اپنی آوازوں کو اور قرآنی کلمات والفاظ کو خوب سنواریں گے اور مخارج کی ادائیگی میں بہت زیادہ تکلف سے کام لیں گے اور ان کی یہ تمام سعی کوشش آخرت کے لئے نہیں ہوگی بلکہ اپنی شہرت، اپنی عزت و فخر و غرور اور دنیا کو دکھانے سنانے کے لئے ایسا کریں گے۔ لہٰذا حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہی ہے کہ ایسے لوگ محض دنیاوی فائدہ کے لئے قرآن پڑھیں گے آخرت کے ثواب سے کچھ غرض نہیں رکھیں گے اس طرح دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں گے، یا یوں کہئے کہ دین کو دنیا کے بدلے میں بیچیں گے۔ حاصل یہ کہ قرآن پڑھنے کے بارے میں خلوص، غور و فکر اور معانی آیات میں استغراق ہی کو اولیت کا مقام حاصل ہونا چاہئے محض مخارج والفاظ کی صحیح ادائیگی اور خوش آوازی وخوش گلوئی کے ساتھ پڑھنا ہی کچھ کام نہیں آئے گا۔
قرآن محض خوش آوازی کا نام نہیں
وعن حذيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرؤوا القرآن بلحون العرب وأصواتها وإياكم ولحون أهل العشق ولحون أهل الكتابين وسيجي بعدي قوم يرجعون بالقرآن ترجع الغناء والنوح لا يجاوز حناجرهم مفتونة قلوبهم وقلوب الذين يعجبهم شأنهم . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت حذیفہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تم قرآن کریم اہل عرب کی طرح اور ان کی آوازوں کے مطابق پڑھو اہل عشق اور اہل کتاب کے طریق کے مطابق پڑھنے سے بچو میرے بعد ایک جماعت پیدا ہوگی جس کے افراد راگ اور نوحہ کی طرح آواز بنا کر قرآن پڑھیں گے۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ قرآن ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا (یعنی ان کا پڑھنا قبول نہیں ہوگا) نیز ان کی قرأت سن کر خوش ہونے والوں کے قلوب فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ (بیہقی، رزین)
تشریح
اہل عرب بلاتکلف اور برجستہ قرآن کریم پڑھتے ہیں۔ ان کی آواز ان کے دل کی امنگ سے ہم آہنگ ہوتی ہے ان کے سامنے موسیقی وغیرہ کی طرح کے قواعد نہیں ہوتے، نہ وہ خواہ مخواہ کا تکلف کر کے اپنی آواز اور اپنا لہجہ بنا کر کوشش کرتے ہیں اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ ہر مسلمان کو چاہئے وہ قرآن کریم اسی خالص لہجہ اور آواز میں پڑھے جو قرآن کی عظمت شان اور حقیقت کے مطابق ہے اور وہ اہل عرب کا لہجہ ہے۔ اس جملہ بلحون العرب واصواتہا میں لفظ اصوا تھا عطف تفسیر کے طور پر ہے۔ اہل عشق اور اہل کتاب کے طریقہ کے مطابق الخ سے یہ مراد ہے کہ جس طرح عشاق اور شعراء اپنی نظمیں وغزلیں اور اشعار آواز بنا کر اور ترنم و سر کے ساتھ پڑھتے ہیں اور موسیقی اور راگ کے قواعد کی رعایت کرتے ہیں تم اس طرح قرآن کریم نہ پڑھو چونکہ یہود و نصاریٰ بھی اپنی کتابوں کو اسی طرح غلط طریقوں سے پڑھتے تھے اس لئے ان کی مانند پڑھنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔ ان کے قلوب فتنہ میں مبتلا ہوں۔ کا مطلب یہ ہے کہ وہ حب دنیا میں مبتلا ہوں گے اور لوگ چونکہ ان کی آوازوں کو اچھا کہیں گے اس لئے وہ اور زیادہ گمراہی میں پھنسے ہوں گے اسی طرح ان کی آوازوں کو سن کر خوش ہونے والے اور ان کو اچھا کہنے والے بھی ایک غلط بات اور غلط کام کو اچھا سمجھنے کی وجہ سے ضلالت میں مبتلا ہوں گے۔
قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم
وعن البراء بن عازب رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : حسنوا القرآن بأصواتكم فإن الصوت الحسن يزيد القرآن حسنا . رواه الدارمي
حضرت براء بن عازب ؓ راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن کو اپنی اچھی آواز یعنی ترتیل وخوش آوازی کے ساتھ پڑھ کیونکہ اچھی آواز قرآن کا حسن زیادہ کرتی ہے۔ (دارمی)
وعن طاووس مرسلا قال : سئل النبي صلى الله عليه و سلم : أي الناس أحسن صوتا للقرآن ؟ وأحسن قراءة ؟ قال : من إذا سمعته يقرأ أرأيت أنه يخشى الله . قال طاووس : وكان طلق كذلك . رواه الدارمي
حضرت طاؤس بطریق ارسال نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ قرآن پڑھنے کے سلسلہ میں از روئے آواز کون شخص سب سے بہتر ہے اور پڑھنے میں بھی (یعنی از روئے ترتیلی و ادائیگی) الفاظ کون شخص سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ شخص کہ جس کو تم پڑھتے ہوئے سنو تو تمہارا گمان ہو کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے۔ حضرت طاؤس کہتے ہیں کہ حضرت طلق میں یہی بات تھی کہ قرآن پڑھتے تو محسوس ہوتا کہ خشیت الٰہی ان پر غالب ہے۔ (دارمی)
تشریح
آنحضرت ﷺ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن کریم پڑھ رہا ہو اور اس کے پڑھنے سے تمہارے دل پر اثر ہو رہا ہو یا یہ کہ شخص کے بارے میں یہ ظاہر ہو کہ وہ قرآن کریم پڑھتے وقت اللہ سے ڈر رہا ہے مثلا اس کے چہرہ کا رنگ خوف الٰہی سے متغیر ہو رہا ہو وہ زیادہ رو رہا ہو تو سمجھو کہ قرآن پڑھنے والوں میں اپنی آواز اور اپنی قرأت کے موثر ہونے کے اعتبار سے سب سے بہتر وہی ہے۔ حضرت طلق ایک جلیل القدر تابعی ہیں جب وہ قرآن کریم پڑھتے تھے تو خوف الٰہی ان پر طاری رہتا تھا۔ ان کے بارے میں مولف مشکوۃ نے لکھا ہے کہ وہ صحابی ہیں ( رض)
قرآن کے بارے میں چند احکام
وعن عبيدة المليكي وكانت له صحبة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أهل القرآن لا تتوسدوا القرآن واتلوه حق تلاوته من آناء الليل والنهار وأفشوه وتغنوه وتدبروا ما فيه لعلكم تفلحون ولا تعجلوا ثوابه فإن له ثوابا . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت عبید ملی کی ؓ جو آنحضرت ﷺ کے ایک صحابی تھے راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے اہل قرآن! قرآن سے تکیہ نہ کرو اور رات و دن میں پڑھتے رہا کرو جیسا کہ اس کو پڑھنے کا حق ہے قرآن کو ظاہر کرو اسے خوش آوازی کے ساتھ پڑھو جو کچھ اس میں مذکور ہے اس میں غور و فکر کرو تاکہ تمہارا مطلوب (آخرت) حاصل ہو اور اس کا ثواب حاصل ہونے میں جلد بازی نہ کرو (یعنی دنیا ہی میں اس کا اجر حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو) کیونکہ آخرت میں اس کا بڑا اجر ہے۔ (بیہقی)
تشریح
قرآن سے تکیہ نہ کرو، کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پڑھنے اور اس کے حقوق کی ادائیگی سے غفلت نہ برتو بلکہ برابر قرآن پڑھتے رہا کرو اور اس کا حق بھی ادا کرو بایں طور کہ اس کے حروف اچھی طرح ادا کرو اور اس کے معانی سمجھو اور اس پر عمل کرو۔ علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن پر تکیہ لگانا یعنی اس پر سہارا دے کر بیٹھنا یا لیٹنا اس کی طرف پاؤں پھیلانا، اس پر کوئی چیز رکھنا اس کی طرف پیٹھ کرنا، اس کو روندنا اور اس کو پھینکنا یہ سب چیزیں حرام ہیں، قرآن سے فال نکالنا مکروہ ہے بعض مالکیہ کے نزدیک یہ بھی حرام ہے۔ جیسا کہ اس کو پڑھنے کا حق ہے۔ قرآن کریم پڑھتے وقت چار باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے اول تو یہ کہ الفاظ کو درست اور صحیح ادا کیا جائے دوسری بات یہ کہ مفہوم ومعانی سمجھنا چاہئے تیسری بات یہ کہ مفہوم ومعانی کا مقصد سمجھنا چاہئے اور چوتھی بات یہ کہ جو کچھ پڑھا جائے اس پر عمل کیا جائے۔ قرآن کو ظاہر کرو۔ یعنی قرآن کریم بآواز بلند پڑھو تاکہ دوسرے لوگ سنیں اور انہیں قرآن پڑھنے کا شوق ہو، قرآن کریم دوسرے لوگوں کو پڑھاؤ سکھاؤ۔ قرآن کریم پر عمل کرو اور اپنی زندگی اسی کے مطابق سنوارو، قرآن کریم لکھو اور اس کی نشر و اشاعت کا اہتمام کرو اور قرآن کریم کی تعظیم کرو۔ جو کچھ اس میں مذکور ہے اس میں غور و فکر کرو، کا مطلب یہ ہے کہ جو آیتیں تنبیہ، وعید اور آخرت کی ہولناکی کے بارے میں ہیں ان آیتوں میں خوب غور و فکر کرو تاکہ دنیا سے بےرغبتی ہو اور آخرت کی طرف میلان ہو۔