فضائل قرآن کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 48 · 109 hadiths · Page 2 of 6

2137Mishkaat-al-Masabih

قل ہو اللہ کی فضیلت

وعن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيعجز أحدكم أن يقرأ في ليلة ثلث القرآن ؟ قالوا : وكيف يقرأ ثلث القرآن ؟ قال : قل هو الله أحد يعدل ثلث القرآن . رواه مسلم

حضرت ابودرداء ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ تہائی قرآن کیسے پڑھا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا آیت (قل ھو اللہ احد) تہائی قرآن کے برابر ہے۔ (جس شخص نے رات میں یہ سورت پڑھ لی گویا اس نے تہائی قرآن پڑھ لیا) (مسلم) امام بخاری نے اس روایت کو ابوسعید ؓ سے نقل کیا ہے۔ تشریح قرآن کریم میں بنیادی طور پر تین قسم کے مضمون مذکور ہیں (١) قصص۔ (٢) احکام (٣) تو حید، چونکہ سورت آیت (قل ھو اللہ احد) میں باری تعالیٰ کی توحید نہایت اونچے اور بلیغ انداز میں بیان ہے یا یوں کہئے کہ پورے قرآن مجید میں توحید کے بارے میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے سورت آیت (قل ھو اللہ احد) اس کا خلاصہ اور حاصل ہے اس لئے سورت قل ہو اللہ پڑھنا تہائی قرآن پڑھنے کے برابر ہے۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ آیت (قل ہو اللہ احد) کا ثواب تہائی قرآن کے اصل ثواب کے بقدر مضاعف کیا جاتا ہے (یعنی بڑھایا جاتا ہے) اس طرح ان دونوں اقوال میں ایک لطیف فرق پیدا ہوگیا ہے پہلے قول اور پہلی وضاحت کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص سورت قل ھو اللہ تین مرتبہ پڑھے تو یہ لازم نہیں آتا کہ اسے پورے قرآن کا ثواب ملے جب کہ دوسرے قول کے مطابق قل ہو اللہ تین مرتبہ پڑھنے سے ایک پورے قرآن کا اصل ثواب حاصل ہوجاتا ہے۔

2138Mishkaat-al-Masabih

قل ہو اللہ کی فضیلت

وعن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم بعث رجلا على سرية وكان يقرأ لأصحابه في صلاتهم فيختم ب ( قل هو الله أحد ) فلما رجعوا ذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : سلوه لأي شيء يصنع ذلك فسألوه فقال لأنها صفة الرحمن وأنا أحب أن أقرأ بها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أخبروه أن الله يحبه

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو امیر بنا کر ایک لشکر کے ساتھ بھیجا وہ شخص نماز میں اپنے رفقاء کی امامت کرتا تھا اور (اس کا معمول تھا کہ اپنی قرأت) قل ہو اللہ پر ختم کرتا تھا جب وہ لشکر کے لوگ واپس آئے تو انہوں نے اس کا تذکرہ آنحضرت ﷺ سے کیا آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اس شخص سے دریافت کرو کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ یہ اس لئے کرتا ہوں کہ اس سورت میں رحمن اللہ تعالیٰ کی صفت (وحدانیت) بیان کی گئی ہے اور میں اسے پسند کرتا ہوں کہ (اللہ کی صفت وحدانیت کے اظہار کے پیش نظر) اس سورت کو ہمیشہ پڑھتا رہوں، نبی کریم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ اس شخص کو خبر دو کہ اللہ تعالیٰ اس کو دوست رکھتا ہے (کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو دوست رکھتا ہے) (بخاری ومسلم) تشریح قل ہو اللہ پر ختم کرتا تھا، کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر نماز کی آخری رکعت میں سورت فاتحہ کے ساتھ قل ہو اللہ پڑھا کرتا تھا لیکن علامہ ابن حجر نے اس کی وضاحت یہ کی ہے کہ وہ شخص ہر رکعت میں سورت فاتحہ یا سورت فاتحہ اور دوسری سورت کے بعد قل ہو اللہ پڑھتا تھا، اس سلسلہ میں پہلی وضاحت ہی زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس صورت میں تمام علماء کے نزدیک نماز بلا کراہت ادا ہوجاتی ہے۔

2139Mishkaat-al-Masabih

قل ہو اللہ کی فضیلت

وعن أنس قال : إن رجلا قال : يا رسول الله إني أحب هذه السورة : ( قل هو الله أحد ) قال : إن حبك إياها أدخلك الجنة . رواه الترمذي وروى البخاري معناه

حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا ہے کہ یا رسول اللہ! میں اس سورت یعنی قل ہو اللہ کو دوست رکھتا ہوں (یعنی اسے اکثر پڑھتا رہتا ہوں) آپ ﷺ فرمایا کہ اس سورت سے تمہاری دوستی تمہیں جنت میں داخل کرے گی۔ (ترمذی) امام بخاری نے اس روایت کو بالمعنی نقل کیا ہے۔

2140Mishkaat-al-Masabih

معوذتین کی فضیلت

وعن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألم تر آيات أنزلت الليلة لم ير مثلهن قط ( قل أعوذ برب الفلق ) و ( قل أعوذ برب الناس ) رواه مسلم

حضرت عقبہ بن عامر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا آج کی رات ایسی عجیب آیتیں اتاری گئی ہیں کہ (پناہ طلب کرنے کے سلسلہ میں) ان کا کوئی جواب نہیں ہے اور وہ قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ہیں۔ (مسلم)

2141Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ رات میں قل ہو اللہ اور معوذتین پڑھ کر اپنے بدن پر دم کرتے تھے۔

وعن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا أوى إلى فراشه كل ليلة جمع كفيه ثم نفث فيهما فقرأ فيهما ( قل هو الله أحد ) و ( قل أعوذ برب الفلق ) و ( قل أعوذ برب الناس ) ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده يفعل ذلك ثلاث مرات وسنذكر حديث ابن مسعود : لما أسري برسول الله صلى الله عليه و سلم في باب المعراج إن شاء الله تعالى

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ روزانہ رات میں جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو (سونے سے پہلے) اپنے دونوں ہاتھ ملا کر ان پر دم کرتے اور پھر ان پر قل ہواللہ، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھتے اور پھر اپنے دونوں ہاتھ اپنے جسم پر جہاں تک ہوسکتا پھیرتے پہلے آپ ﷺ ہاتھ پھیرنا اپنے سر، منہ اور بدن کے آگے کے حصہ سے شروع کرتے ( اس کے بعد بدن کے دوسرے حصوں پر پھیرتے) آپ ﷺ یہ عمل (یعنی پڑھنا، دم کرنا اور بدن پر دونوں ہاتھوں کا پھیرنا) تین مرتبہ کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اپنے ہاتھوں پر دم تو پہلے کرتے تھے اور پڑھتے بعد میں تھے، چناچہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ آپ ﷺ یہ طریقہ اس لئے اختیار فرماتے تھے تاکہ ساحروں کی مخالفت ظاہر ہو کیونکہ وہ پہلے پڑھتے ہیں اور بعد میں دم کرتے ہیں بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے دم کرنے کا ارادہ کرتے پھر پڑھتے اور اس کے بعد دم کرتے وسنذکر حدیث ابن مسعود لما اسری برسول اللہ ﷺ فی باب المعراج انشاء اللہ تعالیٰ اور ابن مسعود ؓ کی حدیث لما اسری برسول اللہ ﷺ انشاء اللہ تعالیٰ ہم معراج کے باب میں ذکر کریں گے۔

2142Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن عرش کے نیچے تین چیزیں ہوں گی

عن عبد الرحمن بن عوف عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة تحت العرش يوم القيامة القرآن يحاج العباد له ظهر وبطن والأمانة والرحم تنادي : ألا من وصلني وصله الله ومن قطعني قطعه الله . رواه في شرح السنة

حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن عرش کے نیچے تین چیزیں ہوں گی ایک تو قرآن جو بندوں سے جھگڑے گا اور قرآن کے لئے ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔ عرش کے نیچے دوسری چیز امانت ہوگی تیسری چیز جو پکارے گی، خبردار! جس شخص نے مجھے بلایا (یعنی میرے حق کی رعایت کی بایں طور کہ میرے احکام کی فرمانبرداری کا جو حق اس پر ہے اس کو ادا کیا) تو اللہ تعالیٰ اسے بھی (اپنی رحمت کے ساتھ) ملائے گا اور جس شخص نے مجھے توڑا (یعنی میرے حق کو ادا نہیں کیا) توا للہ تعالیٰ بھی اس شخص کو توڑے گا (یعنی اس پر رحمت خاص متوجہ نہ ہوگی)۔ (شرح السنہ) تشریح عرش کے نیچے تین چیزیں ہوں گی سے دراصل اس بات کی طرف کنایہ ہے کہ قیامت کے روز ان تین چیزوں کو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں کمال قرب و اعتبار حاصل ہوگا اور حق سبحانہ و تعالیٰ ان کے حق کو اور ان کے ثواب کو جو ان کے اختیار کرنے والوں کو ملے گا ضائع نہیں کرے گا۔ بندوں سے جھگڑے گا کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی دنیاوی زندگی میں قرآن کی تعظیم نہ کی ہوگی اور اس پر عمل نہ کیا ہوگا قیامت کے روز قرآن کریم ان سے جھگڑے گا یعنی ان کو سزا دلوائے گا اور جن لوگوں نے اپنی دنیاوی زندگی میں قرآن کریم کی تعطیم بھی کی ہوگی اور اس پر عمل بھی کیا ہوگا تو قرآن ان کی طرف سے جھگڑے گا یعنی بارگاہ رب العزت میں ان کی طرف سے وکالت اور اس کی شفاعت کرے گا۔ قرآن کے لئے ظاہر بھی ہے کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن کریم میں احکام وغیرہ بیان کئے گئے ہیں ان کے معنی بالکل ظاہر اور واضح ہیں جن کو اکثر لوگ سمجھتے ہیں ان میں کسی غور و فکر اور تامل کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح باطن کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے کچھ معنی ایسے ہیں جنہیں سمجھنے کے لئے غور و فکر اور تفسیر و تامل کی ضرورت ہوتی ہے یا یوں کہئے کہ ان معنی کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا بلکہ خواص اور علماء ہی سمجھتے ہیں اس ارشاد گرامی سے گویا اس طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ قرآن پر عمل نہیں کرتے ان سے قیامت کے روز قرآن کے بارے میں ہر شخص کی سمجھ اور اس کے علم کے بقدر ہی مواخذہ ہوگا امانت سے حقوق اللہ اور حقوق العباد مراد ہیں کہ جن کی ادائیگی لازم ہے۔

2143Mishkaat-al-Masabih

قرآن کو ترتیل سے پڑھنے کی فضیلت

وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقال لصاحب القرآن : اقرأ وارتق ورتل كما كنت ترتل في الدنيا فإن منزلك عند آخر آية تقرؤها . رواه أحمد والترمذي أبو داود والنسائي

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن) صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور (بہشت کے درجوں پر) چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا پس تیری منزل اس آخری آیت پر ہوگی جسے تو پڑھے گا۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی) تشریح صاحب قرآن سے مراد وہ شخص ہے جو قرآن کریم کی ہمیشہ تلاوت بھی کرتا رہے اور اس پر عمل پیرا بھی ہو، وہ شخص مراد نہیں ہے جو تلاوت تو کرتا ہے مگر اس پر عمل نہ کرے بلکہ پہلے بتایا بھی جا چکا ہے کہ ایسا شخص کسی جزاء اور انعام کا مستحق تو کیا ہوگا، الٹا قرآن کی لعنت میں گرفتار ہوگا کیونکہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے، مگر اس پر عمل نہیں کرتا قرآن اس پر لعنت کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک یہ روایت پیش نظر رہنی چاہئے کہ جس شخص نے قرآن پر عمل کیا اس نے گویا ہمیشہ قرآن پڑھا اگرچہ حقیقت میں نہ پڑھا ہو اور جس شخص نے قرآن پر عمل نہیں کیا اس نے گویا قرآن پڑھا ہی نہیں اگرچہ حقیقت میں پڑھا ہو، حاصل یہ کہ قرآن کی محض تلاوت ہی کافی نہیں ہے بلکہ بنیادی چیز قرآن پر عمل کرنا ہے۔ پڑھتا جا اور چڑھتا جا۔ یعنی قرآن کریم پڑھتا جا اور پڑھی ہوئی آیتوں کے بقدر جنت کے درجات پر چڑھتا جا جتنی آیتیں تو پڑھے گا اتنے ہی درجات تک تیری رسائی ہوگی، ایک روایت میں منقول ہے کہ قرآن کریم کی جتنی آیتیں ہیں جنت کے اتنے ہی درجات ہیں لہٰذا اگر کوئی شخص پورا قرآن پڑھے گا تو وہ جنت کے سب سے اونچے درجات میں سے اس درجہ پر پہنچے گا جس کا وہ اہل اور جو اس کے لائق ہوگا۔ یہ بات پہلے ہی بتائی جا چکی ہے کہ آداب تلاوت قرآن کریم میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ یعنی ٹھہر ٹھہر کر اور لب و لہجہ کے پورے سکون و وقار کے ساتھ پڑھا جائے۔ چناچہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو حافظ قرآن کریم ترتیل کے ساتھ پڑھتے ہیں ان کا جنت میں بڑا مرتبہ ہوگا۔ قرآن کریم کی آیتوں کی تعداد کو فیوں کے اصول کے اعتبار سے جن کا فن قرأت اور اصول ہمارے اطراف میں مروج ہے چھ ہزار دو سو سینتیس ہے اس کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں مزید تفصیل و وضاحت کے لئے تجوید و قرأت کی کتابوں سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

2144Mishkaat-al-Masabih

قرآن سے خالی دل ویران گھر کی مانند ہے

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الذي ليس في جوفه شيء من القرآن كالبيت الخرب . رواه الترمذي والدارمي . وقال الترمذي : هذا حديث صحيح

حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کا دل قرآن سے خال ہو تو وہ (یا اس کا دل) ویران گھر کی طرح ہے۔ (ترمذی دارمی) امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ تشریح گھر کی رونق مکین سے ہے گھر کتنا ہی خوبصورت اور وسیع ہو اگر اس میں کوئی رہنے والا نہ ہو تو اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ گھر کی ویرانی، گھر کی قیمت اور اس کی اہمیت کو عام نظروں سے گرا دیتی ہے، اسی طرح انسان کا معاملہ ہے اگر انسان کا دل ایمان، قرآن کے نور سے خالی ہو تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے چناچہ مذکورہ بالا ارشاد گرامی کا مطلب یہی ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن بالکل نہیں جانتا اور نہ اس پر ایمان رکھتا ہے یا قرآن تو جانتا ہو مگر اس پر ایمان نہ رکھتا ہو تو وہ ویران گھر کی طرح ہے اور جو شخص قرآن پڑھنا جانتا ہے اسے پڑھتا ہے اور سمجھتا ہے نیز اس پر ایمان بھی رکھتا ہے تو اس کا باطن ایمان کے نور سے آباد ہے اب یہ فرق الگ رہا کہ جو شخص تھوڑا جانتا ہوگا اس کا باطن ایمان کی دولت سے تھوڑا آباد ہوگا اور جو شخص بہت جانتا ہوگا اس کا باطن بھی بہت آباد ہوگا۔

2145Mishkaat-al-Masabih

مشغولیت قرآن کا اثر

وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الرب تبارك وتعالى : من شغله القرآن عن ذكري ومسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين . وفضل كلام الله على سائر الكلام كفضل الله على خلقه . رواه الترمذي والدارمي والبيهقي في شعب الإيمان وقال الترمذي هذا حديث حسن غريب

حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ بزرگ و برتر فرماتا ہے کہ جس شخص کو قرآن کریم میرے ذکر اور مجھ سے مانگنے سے باز رکھتا ہے تو میں اس کو اس چیز سے بہتر عطا کرتا ہوں جو مانگنے والوں کو دیتا ہوں اور تمام کلاموں کے مقابلہ میں کلام اللہ کو وہی عظمت و بزرگی حاصل ہے جو اللہ رب العزت کو اس کی تمام مخلوقات پر بزرگی اور برتی حاصل ہے (لہٰذا قرآن کریم میں مشغول رہنے والے کو دوسری چیزوں میں مشغول رہنے والوں پر بھی اسی طرح برتری و بزرگی حاصل ہوتی ہے) (ترمذی دارمی بیہقی) امام ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تشریح اللہ رب العزت کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن یاد کرے، اس کے مفہوم و معنی کے سمجھنے اور جاننے اور قرآن کریم میں مذکورہ احکام و ہدایات پر عمل کرنے میں مشغول رہتا ہے اور اس کی یہ مشغولیت اس کو ان اذکار اور دعا سے جو کلام اللہ کے علاوہ باز رکھتی ہیں یعنی وہ قرآن کریم میں مشغولیت کی وجہ سے نہ تو مجھے یاد کرتا ہے اور نہ ہی مجھے سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے مانگنے والوں سے بھی زیادہ دیتا ہوں کیونکہ قرآن کے ساتھ درجہ کی مشغولیت اور انہماک درحقیقت اس بات کی ہوتی ہے کہ وہ شخص اپنی ہر خواہش اور اپنی ہر طلب کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر کے اس کے کلام پاک ہی سے تعلق قائم کئے ہوئے ہے لہٰذا اس کے اس عظیم جذبہ کے تحت اسے یہ اجر دیا جائے گا۔ اس موقع پر یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ حدیث قدسی کے شروع کے الفاظ تو یہ ہیں کہ من شغلہ القرا ان عن ذکری لہٰذا اس کا تقاضا یہ تھا کہ آخر میں بھی ذکر کرنے اور مانگنے والوں کو بیان کیا جاتا کہ میں اس چیز سے بہتر عطا کرتا ہوں جو ذکر کرنے والوں اور مانگنے والوں کو دیتا ہوں مگر یہاں صرف مانگنے والوں کا ذکر کیا گیا ہے ذکر کرنے والوں کا ذکر نہیں کیا گیا اس کی وجہ یہ کہ ذکر بھی درحقیقت (مانگنا) ہی ہے کیونکہ کریم کی حمد وثناء اور اس کے ذکر کا مقصود بھی یہی ہوتا ہے کہ مجھے کچھ عطا ہو اس لئے اس ارشاد کے آخر میں بھی مانگنے والوں کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے۔ حدیث کے آخری جملہ وفضل کلام اللہ الخ کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ یہ جملہ قدسی ہی کا تتمہ یعنی اللہ تعالیٰ ہی کا ارشاد ہے وہیں یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے بلکہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے اور یہی احتمال زیادہ صحیح ہے۔

2146Mishkaat-al-Masabih

قرآن کے ہر حرف کے عوض دس نیکیاں

وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ حرفا من كتاب الله فله به حسنة والحسنة بعشر أمثالها لا أقول : آ لم حرف . ألف حرف ولام حرف وميم حرف . رواه الترمذي والدارمي وقال الترمذي هذا حديث حسن صحيح غريب إسنادا

حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قرآن کا ایک حرف پڑھے گا تو اس کے لئے ہر حرف کے عوض ایک نیکی ہے جو دس نیکیوں کے برابر ہے (یعنی قرآن کے ہر حرف کے عوض دس نیکیاں ملتی ہیں) میں یہ نہیں کہتا کہ سارا الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے یعنی الم کہنے میں تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ (ترمذی، دارمی اور امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث سند کے اعتبار سے حسن صحیح غریب ہے)۔

2147Mishkaat-al-Masabih

قرآن سرچشمہ ہدایت ہے

وعن الحارث الأعور قال : مررت في المسجد فإذا الناس يخوضون في الأحاديث فدخلت على علي رضي الله عنه فأخبرته قال : أوقد فعلوها ؟ قلت نعم قال : أما إني قد سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ألا إنها ستكون فتنة . فقلت ما المخرج منها يا رسول الله قال : كتاب الله فيه نبأ ما كان قبلكم وخبر ما بعدكم وحكم ما بينكم وهو الفصل ليس بالهزل من تركه من جبار قصمه الله ومن ابتغى الهدى في غيره أضله الله وهو حبل الله المتين وهو الذكر الحكيم وهو الصراط المستقيم هو الذي لا تزيغ به الأهواء ولا تلتبس به الألسنة ولا يشبع منه العلماء ولا يخلق على كثرة الرد ولا ينقضي عجائبه هو الذي لم تنته الجن إذ سمعته حتى قالوا ( إنا سمعنا قرآنا عجبا يهدي إلى الرشد فآمنا به ) من قال به صدق ومن عمل به أجر ومن حكم به عدل ومن دعا إليه هدى إلى صراط مستقيم . رواه الترمذي والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث إسناده مجهول وفي الحارث مقال

حضرت حارث (رح) جو اعور (یعنی کانی آنکھ والے) تھے راوی ہیں کہ میں ایک دن کوفہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ لوگ بیکار و لایعنی گفتگو (یعنی قصے کہانیوں) میں مصروف ہیں (اور انہوں نے قرآن مجید کی تلاوت وغیرہ ترک کی ہوئی ہے) چناچہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں حاضر ہوا ور ان سے اس بارے میں بتایا، انہوں نے فرمایا کیا انہوں نے واقعی ایسا کیا ہے (کہ تلاوت قرآن مجید چھوڑ کر بیکار باتوں میں مصروف ہیں؟ ) میں نے کہا کہ جی ہاں! انہوں نے فرمایا تو پھر سن لو میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خبردار! فتنہ واقع ہوگا (یعنی لوگوں کے دینی افکار و عقائد میں اختلاف ہوگا، اعمال میں سست روی اور گمراہی پیدا ہوگی اور وہ گمراہ لوگ اسلام کے نام پر نت نئے مذاہب و نظریات کی داغ بیل ڈالیں گے) میں نے عرض کیا کہ حضرت ﷺ! پھر اس سے نجات پانے کا کیا راستہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کتاب اللہ (یعنی نجات کا راستہ قرآن پر عمل کرنے ہی سے ہاتھ لگے گا) جس میں تم سے پہلے لوگوں (یعنی پچھلی امتوں) کے حالات بھی ہیں اور ان باتوں کی خبر بھی دی گئی ہے جو تمہارے بعد واقع ہونے والی ہیں (یعنی قیامت کی علامات و احوال) اور اس قرآن میں وہ احکام بھی مذکورہ ہیں جو تمہارے درمیان (ضروری) ہیں (یعنی ایمان و کفر، اطاعت و گناہ حلال و حرام اور اسلام کے شرائع نیز آپس کے تمام معاملات وغیرہ کے بارے میں احکام بیان کئے گئے ہیں جو پوری انسانی برادری کے لئے ضروری ہیں) اور (یاد رکھو) وہ قرآن حق و باطل کے درمیان (اپنے احکام کے ذریعہ سے) فرق کرنے والا ہے وہ کوئی بیکار و لایعنی چیز نہیں ہے اور (یہ بھی کان کھول کر سن لو کہ) جس متکبر نے قرآن کو چھوڑ دیا اس کو اللہ تعالیٰ ہلاک کر ڈالے گا اور جو شخص اس قرآن کے علاوہ (کسی ایسی کتاب و علم سے کہ جو نہ قرآن سے مستنبط ہے اور نہ اسلامی شرائع و نظریات کے مطابق ہے) ہدایت و روشنی چاہے گا تو اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کر دے گا وہ قرآن اللہ کی مضبوط سیدھی رسی ہے (یعنی اللہ کے قرب اور اس کی معرفت کا سب سے قوی وسیلہ ہے) قرآن باحکمت ذکر اور بیان ہے، قرآن بالکل سیدھا اور صاف راستہ ہے (جس پر چل کر انسان اپنی تخلیق کا حقیقی مقصد پاتا ہے) قرآن وہ سرچشمہ ہدایت ہے جس کی اتباع کے نتیجہ میں خواہشات انسانی حق سے باطل کی طرف مائل نہیں ہوتیں اس کی زبان سے اور زبانیں نہیں ملتیں علماء اس سے (کبھی) سیر نہیں ہوتے (یعنی علماء و مفسرین اس کے تمام علوم و معارف پر حاوی نہیں ہوتے) اور قرآن مجید مزاولت (کثرت تلاوت) سے پرانا نہیں ہوتا اور نہ اس کے عجائب تمام ہوتے ہیں قرآن کریم وہ کلام ہے جس کو جنات نے سنا تو وہ ایک لمحہ توقف کئے بغیر کہہ اٹھے کہ ہم نے قرآن سنا جو ہدایت کی عجیب راہ دکھاتا ہے لہٰذا ہم اس پر ایمان لائے (یاد رکھو) جس شخص نے قرآن کے مطابق کہا اس نے سچ کہا اور جس نے اس پر عمل کیا اسے ثواب دیا جائے گا (یعنی وہی اقوال و نظریات صحیح اور قابل قبول ہیں جو قرآن کے عین مطابق ہیں اسی طرح ہدایت یافتہ بھی وہی شخص ہے جس نے قرآن کو سرچشمہ ہدایت جان کر اس پر عمل کیا) جس شخص نے (لوگوں کے درمیان) قرآن کے مطابق فیصلہ و انصاف کیا اور جس نے (لوگوں کو) اس (پر ایمان لانے اور اس پر عمل کرنے) کی طرف بلایا اس کو سیدھی راہ دکھائی گئی ہے (یعنی وہ ہدایت یافتہ ہے)۔ (ترمذی، دارمی اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند مجہول ہے اور اس کے راوی حارث اعور کے بارے میں کلام ہے (یعنی ان کے سچا ہونے میں شبہ کیا جاتا ہے۔ تشریح متکبر سے مراد منکر قرآن ہے یعنی وہ شخص جو قرآن پر ایمان نہیں لایا اور نہ اس نے قرآن پر عمل کیا اور ظاہر ہے کہ ایسا بدبخت شخص وہی ہوسکتا ہے جس کے قلب میں غرور تکبر اور تعصب کے جراثیم موجود ہوں۔ حدیث میں لفظ قصم کے معنی ہیں توڑ ڈالنا اور جدا کردینا اس لئے اس جملہ کا لفظی ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ جس متکبر نے قرآن چھوڑ دیا اللہ تعالیٰ اس کی گردن توڑ ڈالے گا لیکن عام طور پر اس کا ترجمہ یہی کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر ڈالے گا۔ کیونکہ مفہوم و حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ دونوں کا مطلب یہی ہے کہ جو شخص قرآن کا انکار کرے گا یا اس پر عمل نہیں کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے گا جس کا مآل کار ہلاکت و تباہی ہے بخلاف اس شخص کے کہ جو قرآن پر ایمان بھی لائے اور اس پر عمل بھی کرے اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے قریب کر دے گا اور اسے اعلیٰ مراتب و درجات عطا فرمائے گا۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ جس شخص نے قرآن کی کسی ایسی ایک آیت یا ایک کلمہ پر بھی عمل کرنا چھوڑ دیا جس پر عمل کرنا واجب ہے یا از راہ تکبر اس آیت یا کلمہ کی قرأت نہیں کی تو وہ شخص کافر ہوجاتا ہے ہاں اگر کوئی محض کسل و ضعف یا عجز کی وجہ سے قرآن کی تلاوت چھوڑ دے مگر اس کا قلب قرآن کی عظمت و حرمت کے اعتقاد سے پر ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں البتہ وہ ثواب سے محروم رہتا ہے۔ خواہشات انسانی حق سے باطل کی طرف مائل نہیں ہوتیں۔ اس پورے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن کی اتباع کرتا ہے اس کے احکام پر عمل کرتا ہے اور اپنی زندگی کے ہر موڑ پر قرآن کی رہنمائی و ہدایت کا طلب گار ہوتا ہے تو وہ ہر گمراہی اور ہر ضلالت سے محفوظ رہتا ہے توفیق الٰہی اسے اسی راستہ پر گامزن رکھتی ہے جو حق و ہدایت کی شاہراہ ہوتی ہے۔ اگر اس موقع پر یہ اشکال پیدا ہو کہ اہل بدعت اور روافض و خوارج یا موجودہ دور کے دوسرے فرقے وغیرہ بھی تو قرآن ہی سے استدلال کرتے ہیں اور قرآن ہی کی رہنمائی ہی کا دم بھرتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ گمراہی سے محفوظ نہیں ہوتے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہی بات محل نظر ہے کہ قرآن سے ان کا استدلال اور قرآن کی رہنمائی کا ان کا دعویٰ حقیقت پر مبنی بھی ہے یا نہیں۔ کیونکہ قرآن سے اس کا استدلال بالکل غلط زاویہ فکر سے ہوتا ہے وہ پہلے تو اپنے خیالات و نظریات کی ایک عمارت بنا لیتے ہیں پھر اس کی مضبوطی و استواری کے لئے قرآن کا سہارا لیتے ہیں اس طرح وہ قرآنی آیات کو ان کے حقیقی مفہوم و معانی سے الگ کر کے اپنے خیالات و نظریات پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس بات کو زیادہ وضاحت کے ساتھ یوں کہا جاسکتا ہے کہ اہل حق اپنے خیالات و عقائد کو قرآن کے تابع بناتے ہیں قرآن کی جو واضح ہدایات ہیں ان کی روشنی میں وہ اپنے اعتقادات کو آراستہ کرتے ہیں اس کے برخلاف گمراہ ذہن و فکر کے لوگ قرآن کو اپنے خیالات و نظریات کا تابع بناتے ہیں اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں قرآن سے استدلال کر کے ہی کہتے ہیں حالانکہ یہ غلط ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان لوگوں کی دلیلیں بایں طور بھی کامل نہیں ہوتیں کہ وہ اپنے ذہن میں یہ گمراہ کن تصور قائم کرے کہ اصل اور کامل رہنمائی صرف قرآن ہی سے حاصل کی جاسکتی ہے احادیث اور دیگر ذرائع کو جو قرآن فہمی کے لئے ضروری ہیں بالکل نظر انداز کردیتے ہیں حالانکہ قرآن کا حقیقی مفہوم اور اس کا اصل مقصد منشاء احادیث نبوی، اقوال صحابہ اور ارشادات علماء حقانیین سے ہی واضح ہوسکتا ہے مگر وہ کرتے یہ ہیں کہ نہ تو ان احادیث کو پیش نظر رکھتے ہیں جس سے کلام اللہ کا مقصد واضح ہوتا ہے اور نہ ان حضرات کے فیوض و اقوال سے استفادہ اور ان کی تقلید کرتے ہیں جو کلام اللہ کے سمجھنے اور اس کے اصل مقصد و منشاء تک پہنچنے میں کامل سمجھے جاتے ہیں مثلا صحابہ کرام تابعین اور دیگر علماء امت۔ لہٰذا یہ بات معلوم ہوجانی چاہئے کہ وہ قرآن سے استدلال کرنے اور بزعم خود قرآن کی رہنمائی کرنے کے باوجود گمراہ نہیں ہیں بلکہ ان کی گمراہی کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ قرآن کی صحیح راہنمائی اختیار نہیں کرتے یا یوں کہئے کہ وہ قرآن کو راہنما اور سرچشمہ ہدایت سمجھ کر نہیں بلکہ اس کو اپنے نظریات و اعتقادات کا تابع بنا کر اختیار کرتے ہیں لہٰذا قرآن کو اختیار کرنے کے باوجود قرآن کی حقیقی منشاء و مقصد اور اس کے اصل مفہوم و معانی تک ان کی رسائی ہی نہیں ہوتی۔ حاصل یہ ہے کہ قرآن کی ہدایت اسی وقت کار آمد ہوتی ہے جب کہ ان ذرائع اور وسائل کو پورے قلبی اعتقاد کے ساتھ اختیار کیا جائے جن پر قرآن فہمی موقوف ہے کہ ان کے بغیر نہ تو قرآن کی حقیقی سمجھ میسر آتی ہے اور نہ قرآن کے اصل مفہوم و منشاء تک رسائی ممکن ہوتی ہے اور وہ احادیث نبوی ہیں اقوال صحابہ ہیں اور ارشادات ائمہ و علماء ہیں اسی لئے حضرت جنید نے کہا ہے کہ جو شخص قرآن یاد نہ کرے اور احادیث نہ سیکھے اور نہ جانے تو اس کی پیروی نہ کی جائے اور جو شخص ہمارے زمرہ اور ہمارے مسلک میں بغیر علم کے داخل ہوا اور اس نے ہمیشہ اپنے جہل پر قناعت کی تو وہ مسخرہ شیطان ہے کیونکہ ہمارا علم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے ساتھ مقید ہے۔ علامہ طیبی نے حدیث کے مذکورہ بالا جملہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ہوس یعنی بدعتی اور گمراہ لوگ اس بات پر قادر نہیں ہوتے کہ وہ قرآن کے اصلی معنی و مفہوم میں تغیر و تبدل کردیں یا اس میں کوئی کجی پیدا کردیں اس صورت میں لا یزیغ الا ہواء میں بہ کا حرف باء تعدیہ کے لئے ہوگا۔ اس کی زبان سے اور زبانیں نہیں ملتیں، کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم باعتبار الفاظ کے بھی فصاحت بلاغت کا وہ نقطہ عروج ہے کہ دنیا کی کوئی بھی بڑی سے بڑی فصیح وبلیغ عبارت قرآن کی آیات کا مقابلہ نہیں کرسکتی یا اس جملہ کی مراد یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت مومنین کی زبانوں پر دشوار و مشکل نہیں ہوتی اگرچہ ان کی زبان عربی نہ بھی ہو کیونکہ قرآن کی تلاوت اور اس کی آیات کی قرأت دلوں پر کیف و انبساط کی وہ فضا طاری کردیتی ہے کہ زبان عربی سے نآشنا ہونے کے باوجود الفاظ قرآنی ادائیگی میں ذرا بھی ثقل محسوس نہیں کرتی۔ آیت (ولقد یسرنا القرآن للذکر)۔ اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا۔ علماء اس سے سیر نہیں ہوتے، کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے علوم و معارف اتنے وسیع اور ہمہ گیر ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا عالم بھی اس کے تمام علوم کا احاطہ نہیں کرسکتا اور نہ اس کے نکات و حقائق کا اس انداز سے ادراک کرسکتا ہے کہ اس کی طلب تحقیق و جستجو کسی مرحلہ پر پہنچ کر رک جائے اور اس کا ادراک سیر ہوجائے جیسا کہ جب کوئی شخص کھانے سے سیر ہوجاتا ہے تو اس کی طلب رک جاتی ہے اور خواہش مزید قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے اس کے برخلاف جب علماء قرآن حقائق و معارف میں سے کسی مفہوم پر مطلع ہوجاتے ہیں تو ان کا اشتیاق اور بڑھ جاتا ہے اور ان کی خواہش تلاش و جستجو اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ حاصل شدہ مفہوم سے بھی زیادہ کوئی بات معلوم ہوجائے اسی طرح اس طلب، خواہش اور تلاش و جستجو کی کوئی حد قانع نہیں ہوتی۔ پرانا نہیں ہوتا، کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو بار بار پڑھنے اور کثرت تلاوت کی وجہ سے قرأت قرآن اور اس میں مذکور احوال و احکام سننے کی لذت اور اس کے کیف میں کوئی کمی نہیں ہوتی بلکہ کوئی شخص جب بھی قرآن پڑھتا ہے یا اس کی قرأت سنتا ہے تو ہر مرتبہ اسے پہلے کے مقابلہ میں زیادہ حلاوت وکیف محسوس ہوتا ہے خواہ اس کے معنی و مفہوم کو سمجھے یا نہ سمجھے۔

2148Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن حافظ وعامل قرآن کے والدین کی تاج پوشی

وعن معاذ الجهني : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ القرآن وعمل بما فيه ألبس والداه تاجا يوم القيامة ضوءه أحسن من ضوء الشمس في بيوت الدنيا لو كانت فيكم فما ظنكم بالذي عمل بهذا ؟ . رواه أحمد وأبو داود

حضرت معاذ جہنی ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قرآن پڑھے اور جو کچھ اس میں مذکور ہے اس پر عمل کرے تو قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی دنیا کے گھروں میں چمکنے والے آفتاب کی روشنی سے اعلیٰ ہوگی اگر بفرض محال تمہارے گھروں میں آفتاب ہو اب تو خود اس شخص کا مرتبہ سمجھ سکتے ہو جس نے قرآن پر عمل کیا۔ (احمد، ابوداؤد ) تشریح من قرأ القرآن کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے خوب اچھی طرح قرآن پڑھا لیکن عطاء طیبی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے قرآن کو یاد کیا۔ گویا ان کے نزدیک یہاں حافظ قرآن مراد ہے۔ لوکانت فیکم (اگر تمہارے گھروں میں آفتاب ہو) کا مطلب یہ ہے کہ اگر بفرض محال آفتاب آسمان کی بلندیوں سے اتر کر تمہارے گھروں میں آجائے تو اس کی روشنی بھی قیامت کے دن پہنائے جانے والے تاج کی روشنی کے سامنے ماند ہوگی۔ یہ گویا آفتاب کی روشنی کو بطور مبالغہ فرمایا گیا ہے کہ اگر آفتاب اپنی موجودہ روشسنی کے ساتھ تمہارے گھروں کے اندر ہو تو ظاہر ہے کہ اس وقت کی روشنی زیادہ معلوم ہوگی یہ نسب موجودہ صورت کی روشنی کے جب کہ آفتاب گھر سے باہر اور بہت زیادہ بلند ہے۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جب قرآن پڑھنے (والے یا حافظ قرآن) اور قرآن پر عمل کرنے والے کے والدین کو عظیم مرتبہ اور نعمت سے نوازا جائے گا تو پھر خود اس شخص کے مرتبہ اور سعادت کا کیا کہنا جس نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا؟

2149Mishkaat-al-Masabih

قرآن کا ایک معجزہ

وعن عقبة بن عامر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لو جعل القرآن في إهاب ثم ألقي في النار ما احترق . رواه الدارمي

حضرت عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر قرآن کو کسی کھال وغیرہ میں رکھ کر اسے بفرض محال آگ میں ڈال دیا جائے تو اس پر آگ اثر انداز نہیں ہوگی۔ (دارمی) تشریح بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ درحقیقت آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں قرآن مجید کا ایک معجزہ تھا کہ اسے اگر کسی کھال وغیرہ میں لپیٹ کر آگ میں ڈالتے تھے تو اس پر آگ اثر انداز نہ ہوتی، یہ ایسا ہے جیسا کہ دوسرے انبیاء کرام کے زمانہ میں ان کے معجزے ہوا کرتے تھے۔ مگر دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ یہاں کھال سے مراد انسان کا قلب اور اس کی کھال و بدن ہے کہ جس شخص کے قلب میں قران کی روشنی فروزاں ہو اور وہ قران پڑھتا اور اس پر عمل کرتا ہو تو وہ دوزخ کی آگ و عذاب سے محفوظ رہے گا۔

2150Mishkaat-al-Masabih

دس عزیزوں کے حق میں حافظ قرآن کی سفارش

وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ القرآن فاستظهره فأحل حلاله وحرم حرامه أدخله الله به الجنة وشفعه في عشرة من أهل بيته كلهم قد وجبت له النار . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث غريب وحفص بن سليمان الراوي ليس هو بالقوي يضعف في الحديث

حضرت علی ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص نے قرآن مجید پڑھا پھر اسے یاد کیا اور اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام جانا تو اللہ تعالیٰ اسے ابتداء ہی میں جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے ان دس عزیزوں کے حق میں اس کی سفارش قبول فرمائے گا جو مستوجب دوزخ (یعنی فاسق اور مستحق عذاب) ہوں گے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے اس کے ایک راوی قوی نہیں ہیں بلکہ روایت حدیث میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔

2151Mishkaat-al-Masabih

سورت فاتحہ لامثال سورت ہے

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لأبي بن كعب : كيف تقرأ في الصلاة ؟ فقرأ أم القرآن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والذي نفسي بيده ما أنزلت في التوراة ولا في الإنجيل ولا في الزبور ولا في الفرقان مثلها وإنها سبع من المثاني والقرآن العظيم الذي أعطيته . رواه الترمذي وروى الدارمي من قوله : ما أنزلت ولم يذكر أبي بن كعب . وقال الترمذي هذا حديث حسن صحيح

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ نماز میں تم کس طرح یعنی کیا پڑھتے ہو؟ انہوں نے سورت فاتحہ پڑھی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس پاک ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ایسی سورت نہ تو توریت انجیل زبور میں اتاری گئی ہے اور نہ ہی قرآن میں نازل کی گئی ہے سورت فاتحہ سبع مثانی ہے (یعنی سات آیتیں ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں) اور یہ قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ ترمذی دارمی نے اس روایت کو ماانزلت سے نقل کیا اور ان کی روایت میں ابی بن کعب ؓ کا ذکر نہیں ہے نیز امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تشریح سبع مثانی اور قرآن عظیم کے بارے میں پہلی فصل کی ایک حدیث کی تشریح میں بھی بتایا جا چکا ہے کہ ان سے سورت فاتحہ مراد ہے اس موقع پر ان الفاظ کی تفصیل کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے۔

2152Mishkaat-al-Masabih

قرآن سیکھنے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کا بیان

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تعلموا القرآن فاقرءوه فإن مثل القرآن لمن تعلم وقام به كمثل جراب محشو مسكا يفوح ريحه كل مكان ومثل من تعلمه فرقد وهو في جوفه كمثل جراب أوكئ على مسك . رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قرآن سیکھو اور پھر اسے پڑھو اور یہ یاد رکھو کہ اس شخص کی مثال جو قرآن سیکھتا ہے پھر اسے ہمیشہ پڑھتا رہتا ہے اس پر عمل کرتا ہے اور اس میں مشغولیت یعنی تلاوت وغیرہ کے شب بیداری کرتا ہے اس تھیلی کی سی ہے جو مشک سے بھری ہو جس کی خوشبو تمام مکان میں پھیلتی ہے اور اس شخص کی مثال جس نے قرآن سیکھا اور سو رہا یعنی وہ قرآن کی تلاوت قرأت شب بیدار سے غافل رہا یا اس پر عمل نہ کیا اس تھیلی کی سی ہے جسے مشک پر باندھ دیا گیا ہو۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) تشریح تعلموا القرآن (قرآن سیکھو) کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پڑھنا سیکھو نہ صرف یہ کہ اس کے الفاظ کی ادائیگی سیکھو بلکہ اس کے مفہوم و معانی اور تفسیر کا علم بھی حاصل کرو۔ حضرت ابومحمد جو نبی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن سیکھنا اور دوسروں کو سکھانا فرض کفایہ ہے نیز مسئلہ یہ ہے کہ نماز میں فرض قرأت کی بقدر سورتوں یا آیتوں کا سیکھنا ہر مسلمان کے لئے فرض عین ہے۔ امام نووی (رح) فرماتے ہیں کہ سورت فاتحۃ (یا بقدر قرأت نماز) سے زیادہ قرآن کی آیتوں یا سورتوں کو یاد کرنے میں مشغول ہونا نفل نماز میں مشغولیت سے افضل ہے کیونکہ وہ فرض کفایہ ہے جو نفل نماز سے زیادہ اہم ہے۔ بعض متاخرین علماء کا فتویٰ یہ ہے کہ حفظ قرآن میں مشغول ہونا ان علوم میں مشغول ہونے سے افضل ہے۔ جو فرض کفایہ ہیں یعنی جن علوم کو حاصل کرنا فرض عین ہے حفظ قرآن میں مشغول ہونا ان کی مشغولیت سے افضل نہیں ہے۔ مشک سے بھری ہوئی تھیلی کی مثال بایں طور دی گئی ہے کہ قرآن سیکھنے اور پڑھنے والے کا سینہ ایک تھیلی کے مانند ہے جس میں قرآن کریم مشک کی مانند ہے لہٰذا جب وہ قرآن پڑھتا ہے تو اس کی برکت اس کے گھر میں پھیلتی اور اس کے سننے والوں کو پہنچتی ہے حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے قرآن سیکھا مگر نہ تو اس نے اسے پڑھا اور نہ اس پر عمل کیا تو قرآن کریم کی برکت نہ اسے پہنچتی ہے نہ دوسروں کو اس لئے وہ مشک کی اس تھیلی کے مانند ہوا کہ جس کا منہ بند کردیا گیا ہو اور جس کی وجہ سے نہ تو مشک کی خوشبو پھیلتی ہے اور نہ اس سے کسی کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔

2153Mishkaat-al-Masabih

آیت الکرسی اور سورت مومن کی ابتدائی آیت کی برکت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ ( حم ) المؤمن إلى ( إليه المصير ) وآية الكرسي حين يصبح حفظ بهما حتى يمسي . ومن قرأ بهما حين يمسي حفظ بهما حتى يصبح . رواه الترمذي والدرامي وقال الترمذي هذا حديث غريب

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت حم سے کہ وہ سورت مومن ہے الیہ المصیر تک اور آیت لکرسی پڑھے تو وہ ان کی برکت شام تک (ظاہری و باطنی آفات و بلاؤں) سے محفوظ رہتا ہے اور جو شخص ان کو شام کے وقت پڑھے تو وہ ان کی برکت سے صبح تک محفوظ رہتا ہے۔ ترمذی، دارمی۔ اور امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح حم سے الیہ المصیر تک سورت مومن کی یہ ابتدائی آیت یوں ہے۔ آیت (حٰم تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ۔ غَافِرِ الذَّنْ بِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ۔ ) 40۔ غافر 1)۔ اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب و دانا اللہ کی طرف سے ہے جو گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا اور سخت عذاب دینے والا ہے اور صاحب کرم ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

2154Mishkaat-al-Masabih

قرآن لوح محفوظ میں کب لکھا گیا؟

وعن النعمان بن بشير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله كتب كتابا قبل أن يخلق السموات والأرض بألفي عام أنزل منه آيتين ختم بهما سورة البقرة ولا تقرآن في دار ثلاث ليال فيقربها الشيطان . رواه الترمذي والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث غريب

حضرت نعمان بن بشیر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دو ہزار برس پہلے کتاب لکھی یعنی لوح محفوظ میں فرشتوں کو لکھنے کا حکم دیا۔ اس کتاب میں سے وہ دونوں آیتیں نازل فرمائیں جن پر سورت بقرہ کا اختتام ہوتا ہے یعنی آمن الرسول سے آخری سورت تک یہ آیتیں جس مکان میں تین رات تک پڑھی جاتی ہیں شیطان اس کے نزدیک بھی نہیں پھٹکتا۔ ترمذی، دارمی، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے۔

2155Mishkaat-al-Masabih

سورت کہف کی ابتدائی تین آیتوں کی برکت

وعن أبي الدرداء قال ك قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ ثلاث آيات من أول الكهف عصم من فتنة الدجال . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح

حضرت ابودرداء ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سورت کہف کی ابتدائی تین آیتیں پڑھے گا وہ دجال کے فتنہ سے بچایا جائے گا۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تشریح پہلی فصل میں ایک حدیث حضرت ابودرداء ؓ ہی سے نمبر ٧ میں گزری ہے جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کرے گا وہ دجال کے فتنہ سے بچایا جائے گا جب کہ یہاں تین آیتوں کو ذکر کیا جا رہا ہے اس حدیث کی تشریح میں اس حدیث کو ذکر کرتے ہوئے ان دونوں حدیثوں میں ایک مطابقت تو اس موقع پر بیان کی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں ایک دوسری وجہ مطابق یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پہلے تو دس آیتوں کو یاد کرنے پر مذکورہ بالا خاصیت و برکت کی بشارت دی گئی ہوگی پھر بعد میں از راہ وسعت فضل تین آیتوں کے پڑھنے ہی پر یہ بشارت عطا فرمائی گئی۔

2156Mishkaat-al-Masabih

قرآن کا دل، سورت یٰسین

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لكل شيء قلبا وقلب القرآن ( يس ) ومن قرأ ( يس ) كتب الله له بقراءتها قراءة القرآن عشر مرات . رواه الترمذي والدارمي وقال الترمذي هذا حديث غريب

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورت یٰسین ہے جو شخص یس پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے پڑھنے کی وجہ سے (اس کے نامہ اعمال میں) دس مرتبہ قرآن پڑھنے کا ثواب لکھتا ہے۔ (ترمذی، دارمی) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح قرآن کا دل سورت یٰس ہے یعنی قرآن کے علوم و معارف کا خلاصہ اور اس کا حاصل سورت یٰس ہے بایں طور کہ اس سورت میں قیامت کے احوال اور قرآن کے مقاصد اعلیٰ مذکور ہیں۔