قران مجید پڑھنے کى فضیلت کا بیان
قرآن مجید کیا ہے؟ یہ وہ سب سے مقدس اور سب سے عظیم کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کاروان انسانیت کے سب سے آخری اور سب سے عظیم راہنما رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی جو ظلم و جہل کی تاریکیوں میں منارہ نور، کفر و شرک کے تابوت کی آخری کیل اور پوری انسانی برادری کے لئے اللہ کی طرف سے اتارا ہوا سب سے آخری اور سب سے جامع قانون ہے۔ اور جسے حبل متین کہا گیا ہے۔ قرآن مجید کی عظمت و بزرگی اور اس کی فضیلت و رفعت کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ وہ خداوند عالم، مالک ارض و سماء اور خلق لوح و قلم کا کلام ہے تمام عیوب اور تمام نقائس سے بری اور پاک ہے فصاحت و بلاغت کا وہ آخری نقطہ عروج کہ بڑے بڑے عرب فصیح وبلیغ اس کے سامنے طفل مکتب علوم و معارف اور فکر و دانش کا وہ کوہ ہمالہ کہ دنیا کے بڑے بڑے مفکر، فلسفی، دانشور اور ارباب فکر و نظر اس سے سر ٹکرائیں۔ قرآن مجید کی تلاوت اور پڑھنے پڑھانے کا ثواب محتاج بیان نہیں تمام علماء اس پر متفق ہیں کہ کوئی ذکر، تلاوت کلام مجید سے زیادہ ثواب نہیں رکھتا، خصوصا نماز میں اس کی قرأت کا ثواب اور اس کی فضیلت اتنی ہے کہ وہ دائرہ تحریر سے باہر ہے، قرآن کریم کی تلاوت کے وقت اس کے ہر حرف کے عوض دس نیکیاں اور نماز میں اس کی قرأت کے وقت اس کے ہر حرف کے عوض پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ قرآن کا پڑھنا بندہ کو اللہ کا قرب بخشتا ہے، قلب کو عرفان الٰہی اور ذکر اللہ کے نور سے روشن کرتا ہے اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفاعت کرے گا۔ تلاوت قرآن کا مقصد اعلیٰ یہ ہے کہ وہ تفکر اور تذکر یعنی امور دین کو یاد دلانے اور آخرت کی طرف توجہ کا باعث ہو اور کثرت تلاوت کی وجہ سے احکام الٰہی یاد اور مستحضرت ہوں تاکہ احکام الٰہی پر عمل کیا جائے اور عبرت حاصل کی جائے تلاوت کا یہ مقصد نہیں کہ محض آواز و حروف کو آراستہ کیا جائے اور دل غفلت کے اندھیروں میں پڑا رہے چناچہ جو شخص قرآن پڑھے مگر اس پر عمل نہ کرے تو قرآن ایسے شخص کا دشمن ہوتا ہے۔ اس لئے حدیث شریف میں آتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو قرآن تو پڑھتے ہیں اور قرآن ان پر لعنت بھیجتا ہے کیونکہ قرآن صرف پڑھنے کی چیز نہیں ہے بلکہ اس پر عمل کرنا ہے اور جو شخص قرآن پڑھتا تو ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا وہ گویا قرآن کی اہانت کرتا ہے۔ لہٰذا قرآن پڑھنا اور اس پر عمل کرنا اس کے حق میں آخرت کے نقصان و خسران کی دلیل ہوگا۔ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ تفکر و تذکر اور فہم معانی اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب کہ آہستگی، وقار، ترتیل اور حضور دل کے ساتھ قرآن پڑھا جائے اسی لئے قرآن کی تجوید لازم ہے اور قرآن کا کم پڑھنا مشروع ہوا ہے چناچہ فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ قرآن کے حق کی ادائیگی کے لئے یہ کافی ہے کہ چالیس دن میں ایک قرآن ختم کیا جائے بلکہ ایک سال میں قرآن ختم کرنا بھی کافی ہے، نیز عبادت مثلا تراویح وغیرہ میں بھی ایک قرآن کم سے کم سات دن میں ختم کرنا چاہئے اور جس قدر اس سے زیادہ عرصہ میں ختم کرے افضل ہے۔ جو شخص عربی زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے قرآن کے معانی نہ جانتا ہو اس کو بھی چاہئے کہ وہ حضور دل کے ساتھ قرآن کی تلاوت شروع کرے اور اپنے ذہن میں یہ خیال جمائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کے وہ احکام ہیں جو اس نے دنیا پر نازل فرمائے ہیں نیز وہ اس عاجز اور فروتنی کے ساتھ بیٹھ کر تلاوت کرے گا کہ گویا وہ قرآن نہیں پڑھ رہا ہے بلکہ احکم الحاکمین کا کلام براہ راست سن رہا ہے۔
قرآن کریم اللہ رب العزت کا براہ راست کلام اور بارگاہ الوہیت سے اترے ہوئے الفاظ کا مجموعہ ہے اس کلام کی نسبت جس ذات کی طرف ہے وہ حاکموں کا حاکم، بادشاہوں کا بادشاہ اور پوری کائنات کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔ لہٰذا اس کی تلاوت کے وقت وہی آداب ملحوظ ہونے چاہئیں جو کلام اور صاحب کلام کی عطمت شان کے مطابق ہوں اس لئے مناسب ہے کہ اس موقع پر آداب تلاوت کا ذکر وضاحت سے بیان کردیا جائے۔ سب سے پہلے مسواک کے ساتھ وضو کیجئے اس کے بعد کسی اچھی جگہ متواضع اور رو بقبلہ بیٹھے اپنے آپ کو کمتر و ذلیل اور عاجز جان کر اور قلب و دماغ کے حضور کے ساتھ بیٹھئے کہ گویا اللہ رب العزت کے سامنے بیٹھ کر عرض و نیاز اور التجا کر رہے ہیں پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کر تلاوت کیجئے دل میں یہ تصور جمائیے کہ میں اللہ کا کلام بغیر کسی واسطہ کے سن رہا ہوں قرآن کی آیتوں کو آہستہ آہستہ تدبر، تفکر اور ترتیل کے ساتھ پڑھئے۔ جہاں بندوں کے حق میں وعدہ و رحمت کی آیت آئے تو تسبیح کیجئے، جہاد و وعید و عذاب کے متعلق آیت آئے اللہ سے پناہ مانگئے۔ جب اللہ رب العزت کی تنزیہ اور تقدیس پر مشتمل آیت آئے تو تسبیح کیجئے، یعنی جس آیت میں اللہ کی پاکی اور اس کی بڑائی و بزرگی کا بیان ہو اسے پڑھ کر سبحان اللہ کہئے، تلاوت کے درمیان الحاح وزاری اختیار کیجئے اگر رونا نہ آئے تو رونے کی صورت بنا لیجئے۔ حاصل یہ کہ تلاوت قرآن گویا بارگاہ الوہیت میں حاضری کا وقت ہے اس لئے اس موقع پر اللہ رب العزت کی عظمت و رفعت کے احساس سے اپنے اوپر مکمل عاجزی، ذلت اور فروتنی طاری کیجئے، اس بات کی کوشش نہ کیجئے کہ قرآن جلد ختم ہو اور اس کی وجہ سے تیز تیز پڑھنا شروع کردیا جائے کیونکہ غور و فکر کے ساتھ کم پڑھنا آداب تلاوت کا لحاظ کئے بغیر زیادہ پڑھنے سے بہتر ہے۔ پھر یہ کہ زیادہ سے زیادہ پڑھنے سے ختم شماری کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ یہ امر ممنوع ہے لہٰذا آج کل جو یہ رسم چل گئی ہے کہ لوگ پورا قرآن ایک دن میں ختم کرنے یا زیادہ تیز پڑھنے کو فخر یا کمال کی بات سمجھتے ہیں۔ یہ نہایت بری اور غفلت و نادانی کی بات ہے۔ خواجہ پندارد کہ طاعت می کند بے خبر کز معصیت جان می کند بعض بزرگوں سے جو زیادہ سے زیادہ پڑھنا ثابت ہے تو وہ ان کی کرامت ہے اس بارے میں ان کی پیروی نہ کیجئے حاصل یہ کہ تدبر، ذوق، حضور قلب اور آداب تلاوت کی رعایت کے ساتھ جس قدر بھی تلاوت کر پائیں اسی کو غنیمت سمجھئے۔ جس مجلس میں لوگ کسی دوسرے کام میں مشغول ہوں یا شور و غوغا ہو وہاں تلاوت نہ کیجئے ہاں اگر تلاوت ضروری ہی ہو اور کوئی دوسری جگہ میسر نہ ہو تو تلاوت کیجئے مگر آہستہ آواز کے ساتھ، البتہ اگر لوگ تلاوت سننے کے مشتاق ہوں اور خاموش و پر سکون ہوں تو بآواز بلند تلاوت افضل ہوگی کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ تلاوت سننے والا اور تلاوت کرنے والا دونوں اجر وثواب میں یکساں شریک ہیں۔ اسی طرح مصحف (قرآن) میں دیکھ کر پڑھنا بغیر دیکھے پڑھنے سے افضل ہے کیونکہ اس طرح آنکھیں اور دوسرے اعصاب بھی عبادت میں شریک ہوتے ہیں اور حضور قلب بھی زیادہ میسر ہوتا ہے۔ قرآن کریم کو رحل یا کسی دوسری بلند چیز (مثلاً تکیہ) پر رکھئے تاکہ قرآن کی تعظیم و تکریم آشکارا ہو، تلاوت کے دوران دنیوی کلام و گفتگو، کھانے پینے اور دوسرے سب کاموں سے باز رہئے اگر کوئی ضرورت پیش آجائے تو قرآن کو بند کر کے کلام و گفتگو کیجئے اس کے بعد پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کر تلاوت شروع کیجئے، غلط پڑھنے سے احتراز کیجئے۔ ترتیل و تجوید کے ساتھ بےتکلف اور بےساخت پڑھئے۔ غلط طریقہ سے آواز و لہجہ بنانے کی ضرورت نہیں، تلاوت کے وقت کسی کی تعظیم نہ کیجئے۔ ہاں اگر عالم باعمل، استاد یا والدین کے لئے کھڑے ہوجانا اور ان کی تعظیم جائز ہے جب قرآن ختم ہونے کو ہو تو اپنے عزیز و اقا رب اور محبین و متعلقین کو جمع کیجئے ان کی مجلس میں قرآن ختم کیجئے اور ان سب کو دعا میں شامل کیجئے کیونکہ وہ قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے۔ قرآن ختم کرنے کے بعد پھر سورت فاتحہ اور سورت بقرہ مفلحون تک پڑھ کر قرآن بند کیجئے کیونکہ یہ افضل ہے۔ تکیہ لگا کر یا لیٹ کر قرآن پڑھنا اگرچہ جائز ہے لیکن افضل یہی ہے کہ مؤدب بیٹھ کر پڑھا جائے اسی طرح راستہ چلتے قرآن پڑھنا جائز ہے اگر جنگل ہو تو بآواز بلند پڑھا جائے ورنہ بصورت دیگر بآواز آہستہ۔ نجس اور مکروہ جگہوں مثلا حمام اور کمیلے وغیرہ میں قرآن پڑھنا مکروہ ہے۔ قرآن کی تقطیع بہت چھوٹی نہ رکھی جائے اور نہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے متفرق کیا جائے تاکہ اس کے احترام و عظمت میں کچھ کمی واقع نہ ہو ہاں ضرورت کے تحت مثلا بچوں کے پڑھنے کے لئے یا کسی مناسب آسانی و سہولت کے پیش نظر پارہ پارہ یا ہفت سورت وغیرہ کی شکل میں کرنا جائز ہے۔ قرآن کو ایسے لشکر میں لے جانا جہاں امن پر اعتماد نہ ہو مناسب نہیں ہے اسی طرح دارالحرب میں بھی قرآن نہ لے جانا چاہئے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ کافروں کے ہاتھ میں پڑجائے اور وہ اس کی بےحرمتی کریں۔ قرآن کی اتنی آیتوں کا یاد کرنا کہ جن سے نماز ہوجائے ہر مسلمان پر عین فرض ہے اور پورا قرآن شریف یاد کرنا فرض کفایہ ہے کہ اگر ایک شخص حفظ کرے تو سب کے ذمہ سے فرض ساقط ہوجاتا ہے۔ فقہا لکھتے ہیں کہ سورت فاتحہ اور کوئی ایک سورت یاد کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور باقی قرآن کا یاد کرنا اور اس کے احکام کو جاننا اور سیکھنا نفل نماز سے اولیٰ ہے۔ مصحف کی طرف پاؤں پھیلانے مکروہ نہیں بشرطیکہ وہ پاؤں کے برابر نہ ہو، اسی طرح مصحف اگر کھونٹی پر لٹکا ہوا ہو یا طاق میں رکھا ہوا ہو تو ادھر پاؤں پھیلانا مکروہ نہیں ہے۔ سفر میں حفاظ کی خاطر مصحف کو خرجی (بیگ زنبیل اور جھولا) میں رکھ کر اس پر سوار ہونا یا تکیہ کے نیچے رکھ کر سونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، جس مکان میں یا کمرہ میں مصحف رکھا ہو اس میں جماع کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ جب قرآن شروع ہو تو پہلے یہ دعا پڑھئے۔ دعا (اللہم انی اشہد ان ھذا کتابک المنزل من عندک علی رسولک محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وا صحابہ واتباعہ اجمعین وکلامک الناطق علی لسان نبیک جعلتہ ہادیا منک لخلقک وحبلا متصلا فیما بینک وبین عبادک اللہم فاجعل نظری فیہ عبادۃ وقرائتی فکروفکری فیہ اعتبارا انک انت الرؤ ف الرحیم رب اعوذبک من ہمزات الشیاطین واعوذبک رب ان یحضرون)۔ اے اللہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیری یہ کتاب تیری طرف سے تیرے رسول پر اتاری گئی ہے جن کا نام نامی محمد بن عبداللہ ہے رحمت ہو اللہ کی ان پر، ان کی اولاد پر، ان کے اصحاب پر اور ان کے تمام تابعداروں پر اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا کلام ناطق ہے تیرے رسول کی زبان پر، اس کلام کو تو نے اپنی مخلوق کی ہدایت کرنے والا بنایا ہے اور اس کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان واسطہ متصل بنایا ہے۔ لہٰذا اے اللہ! تو میری نظر کو اس میں عبادت گزار میری قرأت کو اس میں بافکر اور میرے بافکر کو اس میں عبرت پذیر بنا، بلاشبیہ تیری ذات بڑی مہربان ہے اور تو بڑا رحم کرنے والا ہے اور اے میرے رب میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ کا طلبگار نہیں کہ میرے پاس شیاطین آئیں۔ اس دعا کے بعدا یت (قل اعوذ برب الناس) پڑھئے اور پھر یہ دعا مانگئے۔ دعا (اللہم بالحق انزلتہ وبالحق نزل اللہم عطم رغبی جہ واجعلہ نورا لیبضری و شفاء لصدری وہ ذھابالھمی وحزنی وبیض بہ وجہی وارزقنی تلاوتہ وفہم معانیہ برحمتک یا ارحم الراحمین)۔ اے اللہ تو نے قرآن کو حق کے ساتھ اتارا اور یہ حق کے ساتھ اترا۔۔ اے اللہ قرآن میں میری رغبت بڑی بنا اور اسے میری آنکھوں کو نور میرے سینے کے لئے شفاء اور میرے فکر و غم کے دور ہونے کا سبب بنا اس کے ذریعہ میرے چہرے کو روشن ومنور فرما اور اپنی رحمت کے صدقہ اے ارحم الراحمین اس کی تلاوت مجھے نصیب کر اور اس کے معنی کی سمجھ عطا فرما ہر روز تلاوت کے بعد ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھئے۔ دعا (اللہم اجعل القرآن لنا فی الدنیا قرینا وفی الآخرۃ شافعا وہ فی القبر مونسا وفی القیامۃ صاحبا وعلی الصراط نورا وفی الجنۃ رفیقا ومن النار سترا)۔ اے اللہ قرآن پاک کو میرے لئے دنیا میں ہم نشین، آخرت میں شافع، قبر میں غم خوار، قیامت میں مونس، پل صراط پر نور، جنت میں رفیق اور آگے سے پردہ دینا۔ پھر آپ نے دینی اور دنیوی مقاصد و عزائم کے لئے جو بھی دعا چاہیں مانگیں انشاء اللہ آپ کی ہر درخواست مجیب الدعوات کی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازری جائے گی۔ ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب قرآن ختم کرتے تو کھڑے ہو کر دعا مانگتے، اسی طرح بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ ہی سے نقل کیا کہ رول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قرآن پڑھے اللہ کی حمد و ثنا کرے محمد پر درود بھیجے اور پھر اپنے رب سے اپنی بخشش چاہے تو بلاشبہ اس نے بہترین طریقے سے خیر و بھلائی کی دعا مانگی۔ بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا کہ آنحضرت ﷺ جب قرآن ختم فرماتے تو کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد و ثنا کرتے چناچہ حمد و ثنا اور دعا کے کلمات یہ ہوتے۔ الحمد للہ رب العالیمن الحمد للہ الذی خلق السماوات والرض وجعل الظلمت والنور ثم الذین کفروا بربہم یعدلون۔ لا الہ الا اللہ وکذب العادلون باللہ وضلوا ضللا بعیدا لا الا اللہ وکذب المشر کون باللہ من العرب والمجوس والیہود النصاریٰ والصابئین ومن دعا للہ ولد وصاحبۃ او ندا او شبہا او مثلا او سمیا او عدلا فانت ربنا اعطم من ان نتخذ فیما خلقت والحمد للہ الذی لم یتخذ صاحبۃ ولا ولدا ولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لو ولی من الذل وکبری تکبیرا اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا وسبھان اللہ بکرۃ واصیلا۔ والحمدللہ الذی انزل علی عبدہ الکتٰب ولم یجعل لہ عوفا قیما لتنذر بہ باسا شدیدا من لدنہ وبشر المومنین الذی یعمولن الصالحات ان لھم اجرا حسان ماکثین فیہ ابدا وینذر الذین قالوا اتخذا للہ ولدا مالھم بہ میں علم ولا لاباہ م کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم ان یقولون الا کذبا۔ الحمد للہ الذی لہ مافی السموات وما فی الارض ولہ الحمد فی الآخرۃ وہو الحکیم الخبیر۔ یعلم مایلج فی الارض وما یخرج من السماء وما یعرج فیہا وہو الرحیم الغفور۔ الحمدللہ فاطر السماوات والارض جاعل الملئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی وثلث ارباع یزید فی الخق مایشاء ان اللہ علی کل چیز قدیر۔ مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک ہا وما یمسک فلا مرسل لہ من بعد وہو العزیز الحکم۔ الحمدللہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی آللہ خیر اما یشرکون۔ بل اللہ خیر وابقی وا حکم واکرم و اعظم ممایشرکون۔ فالحمدللہ بل اکثرھم لایعلمون۔ صدق اللہ وبلغت رسلہ الکرام وانا علی ذالکم من الشاہدین۔ اللہم صل علی جمیع الملائکۃ والمرسلین وارحم عبادک المومنین مب اہل السماوات والارض واختم لنا بخیر وافتح لنا بخیر وبارک لنا فی القرآن العظیم وانفسنا بالآیت والذکر الحکیم ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو رب ہے تمام عالم کا، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے اور اندھیرا اور اجالا بنایا پھر بھی یہ کافر اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر کردیتے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جھوٹے ہیں وہ لوگ جو برابر کردیتے ہیں دوسروں کو اللہ کے ساتھ اور گمراہ ہیں وہ لوگ اور بھٹک گئے ہیں وہ صحیح راستہ سے کامل بھٹک جانا، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جھوٹے ہیں وہ لوگ جو اہل عرب میں سے ہیں اور آتش پرست، یہود و نصاریٰ اور کو کب پرست وہ دوسروں کو اللہ کا شریک مان رہے ہیں جو شخص ثابت کرتا ہے اللہ کے لئے اولاد کو یا بیوی کو یا ہمسر کو یا مشابہ کو یا مثیل کو اس کے ہمنام کو یا اس کی ذات وصفات میں برابر کو، تو وہ کیا کرے کیونکہ وہ بھی جھوٹا ہے اور آپ تو اے ہمارے پروردگار! اس سے برتر و بلند ہیں کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنا شریک و ساجھی بنائیں۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں بنایا اور نہ بنایا اپنے لئے بیوی کو اور نہ بیٹے کو اور نہیں ہے کوئی اس کا ساجھ سلطنت میں اور نہ کوئی اس کا مددگار ہے ذلت کے وقت پر اور اس کی بڑائی بیان کرو بڑا جان کر اللہ سب سے بڑا بہت بڑا اور بےانتہاء، بیشمار تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور تمام چیزیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے بندہ محمد پر کتاب اتاری جس میں کوئی کجی نہیں رکھی، بالکل ٹھیک ٹھیک اتاری تاکہ خوف دلائے ایک سخت آفت کا اللہ کی طرف سے اور خوشخبری دے ایمان لانے والوں کو جو نیکیاں کرتے ہیں اس بات کی کہ ان کے لئے اچھا بدلہ جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے اور ان کو متنبہ کر دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے لئے اولاد بنائی ہے کچھ خبر نہیں ان کو اس بات کی نہ ان کے باپ دادوں کو، کیا بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے، سب کچھ جھوٹ ہے جس کو وہ کہہ رہے ہیں، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس کی مملوک میں وہ تمام چیزیں ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تمام تعریفیں اس کے لئے ہیں عالم آخرت میں اور وہ بڑی حکمت والا اور ہر بات کی خبر رکھنے والا ہے وہ جانتا ہے ان تمام چیزوں کو جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور اس سے باہر نکلتی ہیں اور جو آسمانوں سے اترتی ہیں اور اسمانوں پر چڑھتی ہیں وہ بڑا رحم کرنے والا اور بہت زیادہ مغفرت کرنے والا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو پیدا کرنے والا ہے تمام آسمانوں کو اور زمین کو اور بنانے والا ہے فرشتوں کو اپنا پیغام پہچانے والا جو بازوؤں والے ہیں کسی کے دو بازو ہیں کسی کے تین اور کسی کے چار، اپنی مخلوق میں وہ زیادتی کرتا ہے جتنا چاہتا ہے یقینا اللہ تمام چیزوں پر بڑی قدرت رکھنے والا ہے جو کچھ کھول دے، اللہ تعالیٰ لوگوں پر اپنی رحمت میں سے تو کوئی نہیں اس کو روکنے والا اور جو کچھ کہ روک رکھے تو کوئی نہیں اس کو بھیجنے والا اس کے سوا اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور سلامتی ہو اللہ کی اللہ کے ان بندوں پر جن کو اس نے پسند فرما لیا ہے کیا اللہ سب سے بہتر ہے یا وہ (بت) جن کو وہ (کافر و مشرک) اللہ کا ساجھی ٹھہرا رہے ہیں (یہ بات نہیں ہے) بلکہ اللہ ہی سب سے بہتر اور وہی باقی رہنے والا ہے، وہی مضبوط حکم والا ہے اور وہی عزت والا ہے وہ ان تمام چیزوں سے جن کو یہ کافر شریک ٹھہرا رہے ہیں سب سے عظمت والا ہے، پس تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے، اللہ نے سچ فرمایا ہے اور اس کے کریم رسولوں نے اس کا پیغام (صحیح صحیح) پہنچایا ہے اور میں تمام باتوں پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں، اے اللہ! اپنی رحمت نازل فرما، تمام فرشتوں پر، تمام پیغمبروں پر اور رحم فرما اپنے مومن بندوں پر آسمان کے رہنے والوں اور زمین پر بسنے والوں سے، ہمارا خاتمہ کیجئے خیر کے ساتھ اور کھول دیجئے ہمارے لئے خیر کے دروازہ کو اور برکت دیجئے ہمارے لئے قرآن عظیم کے علوم میں اور نفع دیجئے ہم کو آیات قرآنی سے اور اپنے مستحکم ذکر سے، اے ہمارے رب! ہماری یہ دعا قبول فرما لے یقینا آپ ہماری دعاؤں کو سننے والے اور ہماری باتوں کو جاننے والے ہیں۔
قرآن سیکھنے اور سکھانے والا سب سے بہتر ہے
عن عثمان رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خيركم من تعلم القرآن وعلمه . رواه البخاري
حضرت عثمان ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا۔ (بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن سیکھے جیسا کہ سیکھنے کا حق ہے اور پھر دوسروں کو سکھائے تو وہ سب سے بہتر ہے کیونکہ جس طرح قرآن اور اس کے علوم دنیا کی تمام کتابوں اور علوم سے افضل اور اعلیٰ وارفع ہیں اسی طرح قرآنی علوم کو جاننے والا بھی دنیا کے افراد میں سب سے ممتاز اور کسی بھی علم کے جاننے والے سے افضل اور اعلیٰ ہے۔ سیکھے کا حق، سے مراد یہ ہے کہ قرآنی علوم میں غور و فکر کرے اور اس کے احکام و معنی اور اس کے حقائق و دقائق کو پوری توجہ اور ذہنی و قلبی بیداری کے ساتھ سیکھے۔
وعن عقبة بن عامر قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ونحن في الصفة فقال : أيكم يحب أن يغدو كل يوم إلى بطحان أو إلى العقيق فيأتي منه بناقتين كوماوين في غير إثم ولا قطع رحم فقلنا يا رسول الله نحب ذلك قال : أفلا يغدو أحدكم إلى المسجد فيعلم أو يقرأ آيتين من كتاب الله عز و جل خير له من ناقة أو ناقتين وثلاث خير له من ثلاث وأربع خير له من أربع ومن أعدادهن من الإبل . رواه مسلم
حضرت عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ باہر تشریف لائے۔ تو ہم صفہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ ہر روز بطحان یا عقیق کی طرف جائے اور وہاں سے دو اونٹنیاں بڑے کوہان والی بغیر کسی گناہ کے اور بغیر انقطاع صلہ رحمی کے لائے؟ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم سب پسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر سن لو کہ تم میں سے جو شخص مسجد میں جاتا ہے اور وہاں کتاب اللہ کی دو آیتیں کسی کو سکھاتا ہے یا خود پڑھتا ہے تو وہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے تین آیتیں اس کے لئے تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور چار آیتیں اس کے لئے چار اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔ حاصل یہ کہ آیتوں کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے (یعنی پانچ آیتیں پانچ اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور چھ آیتیں چھ اونٹنیوں سے بہتر ہیں اسی طرح آگے تک قیاس کیا جائے۔ (مسلم)
تشریح
صفہ وہ سایہ دار چبوترہ تھا جو مسجد نبوی کے سامنے بنا ہوا تھا اور وہ مہاجرین صحابہ جن کے نہ گھر بار تھا اور نہ بیوی بچے اور عبادت و زہد کے انتہائی بلند مقام پر تھے وہ اسی چبوترہ پر رہا کرتے اور ہمہ وقت ابرگاہ نبوت سے اکتساب فیض کرتے رہتے تھے گویا وہ اسلام کی سب سے پہلی اق امتی اور تربیتی درگاہ تھی جس کے معلم اول خود سرکار رسالت مآب ﷺ تھے اور طلباء کی جماعت صحابہ ؓ پر مشتمل تھی۔ بطحان مدینہ کے قریب ایک نالہ تھا اسی طرح عقیق بھی ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ کے مضافات میں تقریبا چار میل کے فاصلہ پر ہے ان دونوں جگہوں پر اس زمانہ میں بازار لگا کرتے تھے جس میں اونٹوں کی خریدو فروخت ہوا کرتی تھی اور یہ تو معلوم ہی ہے کہ اہل عرب کے ہاں اونٹ ایک متاع گرانمایہ کے درجہ کی چیز تھی خصوصا بڑے کوہان کے اونٹ کی قدر و قیمت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا چناچہ آنحضرت ﷺ نے بڑے بلیغ اسلوب میں صحابہ سے مذکورہ سوال کر کے اس چیز کی طرف رغبت دلائی جو باقی رہنے والی ہے اور اس چیز سے نفرت دلائی جو دنیاوی اعتبار سے کتنی ہی قدر و قیمت کی کیوں نہ ہو لیکن مآل کار فانی اور ختم ہوجانے والی ہے۔ لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ آپ نے اونٹ کا ذکر ان کو سمجھانے کے لئے صرف بطریق تمثیل فرمایا ورنہ تو دنیا کی تمام چیزیں بھی ایک آیت کے مقابلہ پر کوئی حقیقت اور قدر و قیمت نہیں رکھتیں۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيحب أحدكم إذا رجع إلى أهله أن يجد فيه ثلاث خلفات عظام سمان . قلنا : نعم . قال : فثلاث آيات يقرأ بهن أحدكم في صلاته خير له من ثلاث خلفات عظام سمان . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ جب گھر میں لوٹ جائے تو وہاں تین حاملہ اور فربہ و بڑی اونٹنیاں پائے؟ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنی نماز میں قرآن کی تین آیتیں پڑھتا ہے تو وہ اس کے لئے تین حاملہ اور بڑی موٹی اونٹنیوں سے بہتر ہے۔ (مسلم)
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة والذي يقرأ القرآن ويتتعتع فيه وهو عليه شاق له أجران
حضرت عائشہ ؓ راویہ ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ماہر قرآن ان فرشتوں کے ساتھ ہے جو لکھنے والے اور بزرگ و نیکوکار ہیں اور وہ شخص کہ جو قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور قرآن پڑھنا اس کے لئے مشکل ہوتا ہے تو اس کے لئے دو ثواب ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ماہر قرآن وہ شخص ہے جس کو قرآن خوب یاد ہو، اٹکے بغیر پوری روانی سے پڑھتا ہو اور اس کے لئے قرآن پڑھنا کوئی مشکل اور دشوار امر نہ ہو۔ اسی طرح فرشتوں سے وہ فرشتے مراد ہیں جو لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ کی کتابیں نقل کرتے ہیں یا وہ فرشتے بھی مراد ہوسکتے ہیں جو بندوں کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں۔ اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ ماہر قرآن ان عظیم فرشتوں کے ساتھ ہے بایں طور کہ وہ دنیا میں ان ہی جیسا عمل کرتا ہے اور آخرت میں اسے جو منازل اور درجات عالیہ حاصل ہوں گے ان میں وہ فرشتوں کا رفیق ہوگا۔ جس شخص کو قرآن اچھی طرح یاد نہ ہو اور اٹک اٹک کر پڑھتا ہو تو اسے دو ثواب کی بشارت دی گئی ہے ایک ثواب تو پڑھنے کا اور دوسرا ثواب اس مشقت کا جو اسے قرآن پڑھنے میں ہوتی ہے اس طرح گویا قرآن شریف پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو شخص قرآن اٹک اٹک کر پڑھتا ہے وہ ماہر قرآن سے زیادہ ثواب پاتا ہے! کیونکہ ماہر قرآن کو تو بہت زیادہ ثواب ملتا ہے بایں طور کہ ملائکہ مذکورین کی رفاقت جیسی عظیم سعادت کی بشارت دی گئی ہے بہرحال حاصل یہ کہ افضل تو ماہر قرآن ہے لیکن اٹک اٹک کر پڑھنے والے کے لئے بھی باعتبار مشقت ایک طرح کی فضیلت اور ثواب ثابت ہے۔
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا حسد إلا على اثنين : رجل آتاه الله القرآن فهو يقوم به آناء الليل وآناء النهار ورجل آتاه الله مالا فهو ينفق منه آناء الليل وآناء النهار
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا صرف دو اشخاص کے بارے میں حسد جائز ہے ایک تو وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نعمت عطا فرمائی اور وہ شخص بعض اوقات کے علاوہ دن رات کے اکثر حصہ میں اس قرآن میں مشغول رہتا ہے دوسرا وہ شخص کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ اس کو دن و رات کے اکثر حصہ میں خرچ کرتا ہو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حسد کے معنیٰ ہیں دوسرے سے نعمت کے زوال اور اپنے لئے اس نعمت کے حصول کی تمنا کرنا چناچہ حضرت میرک (رح) فرماتے ہیں کہ حسد کی دو قسمیں ہیں (١) حقیق۔ (٢) مجازی۔ حقیقی کا مطلب تو یہی ہے کہ کسی شخص سے نعمت کے زائل ہوجانے کی خواہش و تمنا کرنا حسد کی یہ قسم احکام قرآنی اور تعلیمات حدیث کے پیش نظر تمام علماء امت کے نزدیک متفقہ طور پر حرام ہے مجازی کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر اپنے لئے اس کے حصول کی خواہش و تمنا کرنا بغیر اس آرزو کے کہ وہ دوسرے شخص سے زائل ہو مجازی حسد کی قسم غبطہ کہلاتی ہے جسے رشک بھی کہا جاتا ہے۔ حسد مجازی یعنی غبطہ (رشک) اگر دنیاوی امور کے سلسلہ میں ہو تو مباح ہے اور اگر دینی امور کے سلسلہ میں ہو تو پھر وہ مستحب ہوگا۔ مثلا کسی شخص کو مسجد بناتا ہوا دیکھ کر یہ آرزوں و خواہش کرے کہ کاش اگر میرے پاس بھی روپیہ ہو تو میں بھی ایسی مسجد بناؤں۔ یہ رشک پسندیدہ ہے اور اس پر ثواب بھی ملتا ہے۔ بہرکیف یہاں حدیث میں حسد سے مراد غبطہ ہے مگر اس حدیث میں غبطہ کی اجازت صرف انہیں دو چیزوں میں منحصر کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوئی نعمت ان دو نعمتوں سے بڑھ کر نہیں ہے کہ جس کے حاصل ہونے کی خواہش کی جائے چناچہ اسی لئے مظہر فرماتے ہیں کہ کسی کے لئے بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر ویسی ہی نعمت حاصل ہوجانے کی آرزو و خواہش کرے۔ ہاں اگر وہ نعمت ایسی ہو کہ قرب الٰہی کا ذریعہ بنتی ہو جیسے تلاوت قرآن، صدقہ و خیرات اور ان کے علاوہ دوسری نیکیاں و بھلائیاں تو ایسی نعمت کے حصول کی خواہش و آرزو پسندیدہ ہوگی۔ قرآن کی نعمت عطا فرمائی، سے مراد یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھنے اور یاد کرنے کی توفیق عطا فرمائی چناچہ اس کو قرآن اس طرح یاد ہو جیسا کہ ہوناچا ہئے اس طرح قرآن میں مشغول رہنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کرتا ہو، اس کے مفہوم و معنی کو یاد کرتا ہو اس کے علم و احکام میں غور و فکر کرتا ہو، یا پھر یہ کہ اس کے امر و نواہی پر عمل کرتا ہو یا اس کو نماز میں پڑھتا ہو۔
قرآن پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے کی مثال
وعن أبي موسى الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل المؤمن الذي يقرأ القرآن كمثل الأترجة ريحها طيب وطعمها طيب ومثل المؤمن الذي لا يقرأ القرآن كمثل التمرة لا ريح لها وطعمها حلوومثل المنافق الذي لا يقرأ القرآن كمثل الحنظلة ليس لها ريح وطعمها مر ومثل المنافق الذي يقرأ القرآن مثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مر . متفق عليه . وفي رواية : المؤمن الذي يقرأ القرآن ويعمل به كالأترجة والمؤمن الذي لا يقرأ القرآن ويعمل به كالتمرة
حضرت ابوموسی ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ مسلمان جو قرآن کریم پڑھتا ہے اس کی مثال سنگترے کی سی ہے کہ اس کی خوشبو بھی بہت لطیف اور اس کا مزہ بھی بہت اچھا اور وہ مسلمان جو قرآن کریم نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے کہ اس میں خوشبو نہیں ہوتی اور اس کا مزہ شیریں ہوتا ہے اور وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن کے پھول کی سی ہے جس میں نہ خوشبو ہے اور اس کا مزہ نہایت نلخ ہے۔ (بخاری ومسلم) ایک دوسری روایت میں یوں ہے کہ وہ مسلمان جو قرآن کریم پڑھتا بھی ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے تو اس کی مثال سنگترے کی سی ہے اور مسلمان جو قرآن پڑھتا تو نہیں مگر اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال کھجور کی سی ہے۔
تشریح
قرآن کریم پڑھنے والا مسلمان سنگترے کی مانند یوں ہوا کہ وہ خوش مزہ اور لطیف تو اس وجہ سے ہے کہ اس میں ایمان کی چاشنی جاگزیں ہوتی ہے اور خوشبو صفت اس لئے ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ لوگ اس کی قرأت و تلاوت سن کر ثواب پاتے ہیں بلکہ اس سے قرآن سیکھتے بھی ہیں۔
قرآن پڑھنے اور نہ پڑھنے والے کے درجہ کی بلندی اور پستی
وعن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين . رواه مسلم
حضرت عمر بن حطاب ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یقیناً اللہ تعالیٰ اس کتاب یعنی کلام اللہ کے ذریعہ کتنے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اس کے ذریعہ کتنے لوگوں کو پست کرتا ہے۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا درجہ بلند کرتا ہے بایں طور کہ دنیا میں تو اسے عزت و وقار کی زندگی عطا فرماتا ہے اور عقبی میں ان لوگوں کے ساتھ رکھتا ہے جن پر اس نے اپنا انعام کیا ہے اس طرح جو شخص نہ قرآن پڑھتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے اس کا درجہ پست کردیتا ہے۔
قرآن سننے کے لئے فرشتوں کا اشتتیاق واژدحام
وعن أبي سعيد الخدري أن أسيد بن حضير قال : بينما هو يقرأ من الليل سورة البقرة وفرسه مربوطة عنده إذ جالت الفرس فسكت فسكتت فقرأ فجالت الفرس فسكت فسكتت الفرس ثم قرأ فجالت الفرس فانصرف وكان ابنه يحيى قريبا منها فأشفق أن تصيبه فلما آخره رفع رأسه إلى السماء فإذا مثل الظلة فيها أمثال المصابيح فلما أصبح حدث النبي صلى الله عليه و سلم فقال : اقرأ يا ابن حضير اقرأ يا ابن حضير . قال فأشفقت يا رسول الله أن تطأ يحيى وكان منها قريبا فرفعت رأسي فانصرفت إليه ورفعت رأسي إلى السماء فإذا مثل الظلة فيها أمثال المصابيح فخرجت حتى لا أراها قال : وتدري ما ذاك ؟ قال لا قال : تلك الملائكة دنت لصوتك ولو قرأت لأصبحت ينظر الناس إليها لا تتوارى منهم . متفق عليه . واللفظ للبخاري وفي مسلم : عرجت في الجو بدل : خرجت على صيغة المتكلم
حضرت ابوسعید خدری ؓ حضرت اسید بن حضیر ؓ کے بارے میں روایت کرتے تھے کہ ایک دن جب کہ وہ (یعنی اسید) رات میں سورت بقرہ پڑھ رہے تھے ان کا گھوڑا جو ان کے قریب ہی بندھا تھا اچانک اچھلنے کودنے لگا چناچہ انہوں نے پڑھنا بند کردیا (تاکہ دیکھیں کیوں اچھل کود رہا ہے) گھوڑنے بھی اچھل کود بند کردی۔ (اسید نے یہ سوچ کر کہ یونہی اچھل کود رہا ہوگا) پھر پڑھنا شروع کردیا گھوڑا بھی پھر اچھلنے کودنے لگا وہ پھر رک گئے تو گھوڑا بھی رک گیا، پھر جب انہوں نے پڑھنا شروع کیا تو گھوڑے نے اچھل کود شروع کی (اب انہیں احساس ہوا کہ گھوڑے کی اچھل کود یوں ہی نہیں ہے بلکہ اس کی خاص وجہ ہے) چناچہ انہوں نے پڑھنا موقوف کردیا (اتفاق سے) ان کا بچہ جس کا نام یحییٰ تھا گھوڑے کے قریب ہی تھا انہیں خوف ہوا کہ کہیں گھوڑا (اس اچھل کود میں) اس بچہ کو کوئی تکلیف نہ پہنچا دے اس لئے وہ اٹھ کر گھوڑے کے پاس گئے تاکہ بچہ کو وہاں سے ہٹا دیں جب انہوں نے بچہ کو وہاں سے ہٹایا اور ان کی نظر آسمان کی طرف اٹھی تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ بادل کی مانند کوئی چیز ہے جس میں چراغ سے جل رہے ہیں۔ جب صبح ہوئی تو اسید نے یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے سامنے بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابن حضیر تم پڑھتے رہتے۔ اسید نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں گھوڑا یحییٰ کو کچل نہ ڈالے کیونکہ یحییٰ گھوڑے کے قریب ہی تھا چناچہ جب میں یحییٰ کی طرف پھرا اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی چیز بادل کی مانند ہے جس میں چراغ سے جل رہے ہیں پھر میں تحقیق حال کے لئے اپنے گھر سے باہر نکلا مگر وہ چراغاں مجھے پھر نظر نہیں آیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جانتے ہو وہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں! فرمایا وہ فرشتے تھے جو تمہاری قرأت کی آواز سننے کے لئے قریب آگئے تھے اگر تم اسی طرح پڑھتے رہتے تو اسی طرح صبح ہوجاتی اور لوگ فرشتوں کو دیکھتے اور وہ فرشتے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوتے۔ اس روایت کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے مگر الفاظ بخاری کے ہیں۔ مسلم کی روایت میں فخرجت کے بجائے عرجت فی الجو (یعنی وہ چیز جو زمین و آسمان کے درمیان ہوا میں چڑھ گئی) کے الفاظ ہیں۔
تشریح
گھوڑے کی اچھل کود کی وجہ یہ تھی کہ جب حضرت اسید قرآن کریم پڑھ رہے تھے تو قرأت سننے کے لئے فرشتے نیچے آئے تھے اور ان کو دیکھ کر گھوڑا بدکتا اور اچھلتا کودتا تھا اسی وجہ سے جب حضرت اسید تلاوت بند کردیتے تھے اور فرشتے اوپر چلے جاتے تھے تو گھوڑا بھی اچھل کود سے رک جاتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی اقرأ یا ابن حضیر (ابن حضیر تم پڑھتے رہتے) میں لفظ اقرأ کے معنی ابن حجر نے یہ لکھے ہیں کہ اس سورت کو ہمیشہ پڑھتے رہو جو ایسی عجیب و غریب حالت کے پیش آنے کا سبب ہے اگر آئندہ بھی کبھی اس سورت کو پڑھنے کے دوران ایسی صورت پیش آئے تو چھوڑنا مت بلکہ پڑھتے رہنا۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ اس لفط کا مقصد زمانہ ماضی میں طلب زیادتی ہے یعنی آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کا مقصد گویا یہ تھا کہ تم نے اس وقت پڑھنا کیوں چھوڑ دیا بلکہ پڑھنے میں اور زیادتی کیوں نہ کی تمہیں چاہئے تھا کہ تم اس صورت میں زیادہ سے زیادہ پڑھتے رہتے! آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے جواب میں حضرت اسید ؓ نے جو کچھ کہا (یعنی یا رسول اللہ میں اس بات سے ڈرا الخ) اس سے بھی یہی مفہوم واضح ہوتا ہے چناچہ یہاں ترجمہ علامہ طیبی کی وضاحت کے تحت ہی کیا گیا ہے۔ بادل کی مانند کوئی چیز ہے، وجہ تشبیہ ہے کہ ملائکہ قرآن سننے کے لئے اتنا اژدحام کرتے ہیں کہ کوئی اگر انہیں دیکھے تو ایسا محسوس ہو کہ پردہ کی مانند کوئی چیز ہے جو دیکھنے والے اور آسمان کے درمیان حائل ہوگئی ہے حضرت اسید ؓ نے اسی چیز کو باد سے تعبیر کیا اور اس میں جو چراغ سے جل رہے تھے وہ دراصل ان فرشتوں کے منہ تھے جو چراغ کی مانند روشن ومنور تھے۔
تلاوت قران، رحمت کے نزول کا باعث
وعن البراء بن عازب قال : كان رجل يقرأ سورة الكهف وإلى جانبه حصان مربوط بشطنين فتغشته سحابة فجعلت تدنو وتدنو وجعل فرسه ينفر فلما أصبح أتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال : تلك السكينة تنزلت بالقرآن
حضرت براء ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ایک شخص سورت کہف پڑھ رہا تھا اس کے قریب ہی اس کا گھوڑا دو رسوں سے بندھا تھا کہ اسے ایک ابر کے ٹکڑے نے ڈھان لیا وہ قریب سے قریب ہونے لگا یہاں تک کہ گھوڑے نے اچھل کود شروع کی جب صبح ہوئی تو وہ شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے پورا ماجرا کہہ سنایا آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ سکینہ تھی جو قرآن پڑھے جانے کی وجہ سے اتری تھی۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
سکینہ کہتے ہیں خاطر جمعی تسکین قلب اور رحمت کو جس کے سبب دل پاکیزہ اور نورانی ہوتا ہے، نفس کی ظلمت ختم ہوجاتی ہے اور حضور ذوق پیدا ہوتا ہے سکینہ اگرچہ غیر مشاہد چیز ہے مگر کبھی کبھی ابر وغیرہ کی صورت میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔
سورت فاتحہ کی اہمیت وفضیلت
وعن أبي سعيد بن المعلى قال : كنت أصلي في المسجد فدعاني النبي صلى الله عليه و سلم فلم أجبه حتى صليت ثم أتيته . فقلت يا رسول الله إني كنت أصلي فقال ألم يقل الله ( استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم ) ثم قال لي : ألا أعلمك أعظم سورة في القرآن قبل أن تخرج من المسجد . فأخذ بيدي فلما أراد أن يخرج قلت له ألم تقل لأعلمنك سورة هي أعظم سورة من القرآن قال : ( الحمد لله رب العالمين ) هي السبع المثاني والقرآن العظيم الذي أوتيته . رواه البخاري
حضرت سعید بن معلی ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے بلایا، اس وقت میں نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر (نماز سے فارغ ہو کر) جب میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ (اس وقت) میں نماز پڑھ رہا تھا (اس لئے میں نے آپ کا جواب نہیں دیا تھا) آپ نے فرمایا کہ (کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ اللہ اور رسول کا جواب دو جب کہ رسول اللہ تمہیں بلائے اور ان کے حکم کی اطاعت کرو؟ پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا قبل اس کے ہم اس مسجد سے نکلیں کیا میں تمہیں قرآن کی ایک بہت بڑی یعنی افضل سورت نہ سکھلاؤں؟ پھر آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور جب ہم مسجد سے نکلنے کو ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ کیا میں تمہیں قرآن کی ایک بہت بڑی سورت نہ سکھلاؤں؟ آپ نے فرمایا وہ سورت الحمد للہ رب العالمین ہے وہ سات آیتیں ہیں جو نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں اور وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا فرمایا گیا ہے۔
تشریح
ارشاد گرامی استجیبوا (جواب دو ) سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو نماز کی حالت میں جواب دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی تھی جیسا کہ نماز میں آپ ﷺ کو خطاب کرنے سے نماز فاسد نہ ہوئی۔ سورت فاتحہ کو ایک بہت بڑی سورت اس لئے فرمایا کہ وہ اللہ رب العزت کے نزدیک بڑی قدر رکھتی ہے اور الفاظ کے اختصار کے باوجود اس کے فوائد و معانی بہت زیادہ ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ سورت فاتحہ کے صرف ایک جزء کے تحت دین و دنیا کے تمام مقاصد آجاتے ہیں بلکہ بعض عارفین نے تو یہ کہا ہے کہ جو کچھ سابق آسمانی کتابوں میں ہے وہ سب قرآن مجید میں ہے اور جو کچھ قرآن مجید میں ہے وہ سب سورت فاتحہ میں ہے اور جو کچھ سورت فاتحہ میں ہے وہ سب بسم اللہ میں ہے۔ وہ سات آیتیں ہیں۔ جن سے دراصل قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے کہ آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ ) 15۔ الحجر 87) یعنی اے محمد! ہم نے آپ کو وہ سات آیتیں عطا کی ہیں جو نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں یا یہ کہ ان سات آیتوں کی ثنا عطا کی گئی ہے ساتھ فصاحت اور اعجاز کے اور ان سات آیتوں سے مراد سورت فاتحہ ہے) اور دیا ہے ہم نے آپ کو قرآن عظیم۔ یہاں قرآن عظیم سے بھی سورت فاتحہ مراد ہے کیونکہ سورت فاتحہ باعتبار معانی و فوائد کے قرآن کا جزو اعظم ہے اس لئے مبالغۃ فرمایا کہ یہ قرآن عظیم ہے۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجعلوا بيوتكم مقابر إن الشيطان ينفر من البيت الذي يقرأ فيه سورة البقرة . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے گھروں کو مقبرے نہ بناؤ (یاد رکھو) شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ (مسلم)
تشریح
مقبرے نہ بناؤ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مقبرے ذکر اللہ عبادت اور تلاوت قرآن سے خالی ہوتے ہیں اس طرح اپنے گھروں کو ان چیزوں سے خالی نہ رکھو کہ ان میں مردوں کی مانند پڑے رہو اور ذکر اللہ وغیرہ نہ کرو بلکہ اپنے گھروں میں نماز بھی پڑھو اور ذکر اللہ میں بھی مشغول رہو اور تلاوت قرآن بھی کرتے رہو، چناچہ آپ ﷺ نے اس چیز کی طرف بھی راہنمائی فرمائی جو ذکر و شغل میں افضل اور گھر و گھر والوں کے لئے بہت فائدہ مند ہے کہ وہ تلاوت قرآن کریم ہے۔ فرمایا شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ پڑھی جاتی ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ تلاوت قرآن کریم خصوصا سورت بقرہ کی تلاوت نہ صرف یہ کہ گھر میں رحمت و برکت کے دروازے کھلنے کا باعث ہے بلکہ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ایسا گھر شیطان کی نحوست اور اس کے مکر و فریب کے سایہ سے محفوظ رہتا ہے ویسے تو عمومی طور پر تلاوت قرآن کریم باعث رحمت و برکت ہے، مگر اس موقع پر سورت بقرہ کو بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا کہ اس سورت میں اللہ رب العزت کے اسماء اور احکام بہت مذکور ہیں۔
قیامت کے دن قرآن کریم کی سفارش
عن أبي أمامة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اقرءوا القرآن فإنه يأتي يوم القيامة شفيعا لأصحابه اقرءوا الزهراوين البقرة وسورة آل عمران فإنهما تأتيان يوم القيامة كأنهما غمامتان أو كأنهما غيايتان أو فرقان من طير صواف تحاجان عن أصحابهما اقرءوا سورة البقرة فإن أخذها بركة وتركها حسرة ولا تستطيعها البطلة . رواه مسلم
حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن کریم پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا اور (خاص طور پر) جگمگاتی ہوئی دو سورتیں کہ وہ سورت بقرہ اور سورت آل عمران ہیں پڑھو کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح ظاہر ہوں گی گویا کہ وہ ابر کی دو ٹکڑیاں ہیں یا دو سایہ کرنے والی چیزیں ہیں یا پرندوں کی صف باندھے ہوئے دو ٹکڑیاں ہیں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف جھگڑیں گے اور سورت بقرہ پڑھو کیونکہ اس کے پڑھنے پر مداومت اس کے مفہوم و معانی میں غور و فکر اور اس کے حکم پر عمل کرنا برکت (نفع عظیم ہے اور اس کو ترک کرنا قیامت کے دن حسرت یعنی ندامت کا باعث ہوگا اور یاد رکھو کہ سورت بقرہ کے طویل ہونے کی وجہ سے اس کے پڑھنے کی طاقت وہی لوگ نہیں رکھتے جو اہل باطل اور کسلمند ہوتے ہیں۔ (مسلم)
تشریح
قرآن کریم پڑھا کرو، کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت اور اس کے مفہوم و معانی میں غور و فکر کرنے کو نعمت اور اپنے حق میں باعث سعادت جانو اور اس کے پڑھنے پر مداومت اختیار کرو۔ سورت بقرہ اور سورت آل عمران کو جگمگاتی ہوئی سورتیں فرمایا گیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ دونوں سورتیں نور و ہدایت اور ثواب کی زیادتی کی وجہ سے روشن ہیں گویا اللہ رب العزت کے نزدیک ان دونوں سورتوں میں اور بقیہ تمام سورتوں میں چاند اور ستاروں کی نسبت ہے کہ یہ سورتیں تو بمنزلہ چاند کے ہیں بنسبت تمام سورتوں کے وہ بمنزلہ تمام ستاروں کے ہیں۔ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے حق میں ان سورتوں کی برکات کو متشکل طور پر ظاہر ہونے کو تین صورتوں میں بیان کیا گیا ہے پہلی صورت تو یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ سورتیں قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے گویا ابر کی دو ٹکڑیاں ہوں گی۔ جو میدان حشر میں کھڑے ہوئے ان پر آفتاب کی تمازت اور گرمی سے بچاؤ کے سایہ کریں گی، دوسری صورت یہ بیان کی گئی ہے کہ یا وہ سایہ کرنے والی دو چیزیں ہوں گی یعنی خواہ وہ ابر کی صورت میں ہوں یا کسی اور شکل میں مفہوم اس کا بھی یہی ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والوں پر سایہ فگن ہوں گے فرق صرف اتنا ہے کہ اس صورت میں ان سایہ دار چیزوں کا دل پہلی صورت کی بہ نسبت کم ہوگا اور وہ اپنے پڑھنے والوں کے سر سے بالکل قریب ہوں گی جیسا کہ امراء و سلاطین کے سروں پر چھتری وغیر کا سایہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح اس صورت میں ان کے سروں پر سایہ بھی ہوگا اور روشنی بھی ہوگی۔ تیسری صورت یہ بتائی گئی ہے کہ یا وہ پرندوں کی صف باندھے ہوئے دو ٹکڑیاں ہوگی جن کا سایہ بھی ہوگا اور جو اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے اس بات کی وکالت و سفارش کریں گی کہ انہیں آخرت کی تمام ابدی سعادتوں سے نوازا جائے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ کان ہما غمامتان او غیایتان او فرقان من مطیر صواف میں حرف او تنویع (اظہار اقسام) کے لئے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تین صورتیں بیک وقت ہوں گی جن کا تعلق اپنے پڑھنے والوں کے حال کی مناسبت سے ہوگا لہٰذا اول یعنی ابر کی صورت کا تعلق اس شخص سے ہوگا جس نے یہ سورتیں پڑھیں مگر ان کے مفہوم و معانی کو نہ سمجھا دوم یعنی سایہ کی چیز کا تعلق اس شخص سے ہوگا جس نے ان سورتوں کو پڑھا بھی اور ان کے معنی بھی سمجھے اور دوسروں کو ان سورتوں کی تعلیم بھی دی۔
قیامت کے دن قرآن کریم کی سفارش
وعن النواس بن سمعان قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : يؤتى بالقرآن يوم القيامة وأهله الذين كانوا يعملون به تقدمه سورة البقرة وآل عمران كأنهما غمامتان أو ظلتان سوداوان بينهما شرق أو كأنهما فرقان من طير صواف تحاجان عن صاحبهما . رواه مسلم
حضرت نو اس بن سمعان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن لایا جائے گا قرآن کو اور ان لوگوں کو جو قرآن پڑھتے تھے اور ان پر عمل کرتے تھے سارے قرآن کے آگے دو سورتیں سورت بقرہ اور سوہ آل عمران ہوں گی، اس طرح گویا کہ وہ ابر کے دو ٹکڑے ہیں یا ابر کے دو سیاہ ٹکڑے ہیں اور ان میں ایک چمک ہے یا گویا دو ٹکڑیاں صف بستہ پرندوں کی ہیں جو پڑھنے والوں کی طرف جھگڑیں گی (یعنی اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کریں گی) (مسلم)
تشریح
یوتی بالقرآن (لایا جائے گا قرآن کو) کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن یا تو قرآن ہی کو صورت و شکل دے کر میدان حشر میں لایا جائے گا یا اس کا ثواب لایا جائے گا۔ کانوا یعملون بہ (اور اس پر عمل کرتے تھے) سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جو شخص قرآن تو پڑھتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا تو وہ اہل قرآن میں سے نہیں ہے اور نہ ہی قرآن کریم ایسے شخص کی شفاعت و سفارش کرے گا بلکہ ایسے شخص کے حق میں قرآن خسران کا باعث ہوگا۔ تقدمہ الخ، کا مطلب یہ ہے کہ سورت بقرہ اور سورت آل عمران کا ثواب سارے قرآن کے ثواب کے آگے ہوگا بعض حضرات فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن میدان حشر میں سارے قرآن کو ظاہر صورت شکل دی جائے گی جسے تمام لوگ دیکھیں گے جیسا کہ میدان میں تولنے کے لئے اور تمام اعمال کو صورت دی جائے گی۔ ظلتان سوداوان (ابر کے دو سیاہ ٹکڑے ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ دل دار اور تہ بتہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹکڑے سیاہ ہوں گے ایسے ابر کا سایہ بہت فرحت بخش اور باعث سکون ہوتا ہے۔ بینہما شرق (اور ان میں ایک چمک ہے) سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اگرچہ ابر کے وہ ٹکڑے بہت زیادہ دلدار ہوں گے مگر اس کے باوجود وہ روشنی سے مانع نہیں ہوں گے اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہاں شرق کے معنی ہیں درز (یعنی دراڑ) جس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں کے درمیان جو ابر کی دو ٹکڑیوں کی صورت میں ہوں گی بسملہ کے ذریعہ فرقہ ہوگا تاکہ دونوں سورتوں میں امتیاز رہے۔
آیت الکرسی سب سے عظیم آیت ہے
وعن أبي بن كعب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا المنذر أتدري أي آية من كتاب الله معك أعظم ؟ . قال : قلت الله ورسوله أعلم قال : يا أبا المنذر أتدري أي آية من كتاب الله معك أعظم ؟ . قال : قلت ( الله لا إله إلا هو الحي القيوم ) قال فضرب في صدري وقال : والله ليهنك العلم أبا المنذر . رواه مسلم
حضرت ابی ابن کعب ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ابوالمنذر (یہ حضرت ابی بن کعب کی کنیت ہے) کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے نزدیک کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی سب سے زیادہ جاننے والے ہیں (کہ وہ کون سی آیت ہے) آنحضرت ﷺ نے پھر پوچھا کہ ابوالمنذر تم جانتے ہو کہ تمہارے نزدیک کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ (اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ اَلْ حَيُّ الْقَيُّوْمُ ) 2۔ البقرۃ 255) (یعنی پوری آیت الکرسی) حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) آنحضرت ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور فرمایا کہ ابوالمنذر اللہ کرے تمہارا علم خوشگوار ہو۔ (مسلم)
تشریح
جب پہلی مرتبہ آپ ﷺ نے سوال کیا تو حضرت ابی بن کعب ؓ نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کردیا پھر جب دوسری مرتبہ آپ نے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا اس بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب ؓ نے پہلی مرتبہ تو از راہ ادب جواب نہیں دیا دوسری مرتبہ جب آپ نے پھر پوچھا تو انہوں نے آپ ﷺ کے سوال کے پیش نظر جواب دیا گویا اس طرح انہوں نے بڑے لطیف انداز میں ادب اور فرمانبرداری دونوں کو جمع کردیا۔ جیسا کہ اہل کمال کا طریقہ ہے مگر بعض حضرات فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ آپ ﷺ نے سوال کیا تو حضرت ابی بن کعب ؓ کو جواب کا علم نہیں تھا مگر دوسری مرتبہ جب آپ ﷺ نے پھر سوال کا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا اس کے سوال کی مدد سے تفویض کی برکت اور حسن ادب کے سبب سوال کا جواب ان پر منکشف کردیا گیا چناچہ انہوں نے جواب دیا۔ ا یت الکرسی کو سب سے عظیم اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ اس میں تو حید، تعظیم الہیٰ، اسماء حسنٰی اور صفات باری تعالیٰ جیسے عظیم و عالی مضامین کا بیان ہے۔
آیۃ الکرسی کو سب سے عظی اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ اس میں تو حید، تعظیم الٰہی، اسماء حسنی اور صفات باری تعالیٰ جیسے عظیم وعالی شان مضامین کا بیان ہے۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : وكلني رسول الله صلى الله عليه و سلم بحفظ زكاة رمضان فأتاني آت فجعل يحثو من الطعام فأخذته وقلت والله لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إني محتاج وعلي عيال ولي حاجة شديدة قال فخليت عنه فأصبحت فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا أبا هريرة ما فعل أسيرك البارحة . قال قلت يا رسول الله شكا حاجة شديدة وعيالا فرحمته فخليت سبيله قال : أما إنه قد كذبك وسيعود . فعرفت أنه سيعود لقول رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه سيعود . فرصدته فجاء يحثو من الطعام فأخذته فقلت : لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال دعني فإني محتاج وعلي عيال لا أعود فرحمته فخليت سبيله فأصبحت فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا هريرة ما فعل أسيرك ؟ قلت يا رسول الله شكا حاجة شديدة وعيالا فرحمته فخليت سبيله قال : أما إنه قد كذبك وسيعود . فرصدته الثالثة فجاء يحثو من الطعام فأخذته فقلت لأرفعنك إلى رسول الله وهذا آخر ثلاث مرات أنك تزعم لا تعود ثم تعود قال دعني أعلمك كلمات ينفعك الله بها قلت ما هو قال إذا أويت إلى فراشك فاقرأ آية الكرسي ( الله لا إله إلا هو الحي القيوم ) حتى تختم الآية فإنك لن يزال عليك من الله حافظ ولا يقربنك شيطان حتى تصبح فخليت سبيله فأصبحت فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما فعل أسيرك ؟ قلت : زعم أنه يعلمني كلمات ينفعني الله بها فخليت سبيلهقال النبي صلى الله عليه و سلم : أما إنه قد صدقك وهو كذوب تعلم من تخاطب منذ ثلاث ليال . يا أبا هريرة قال لا قال : ذاك شيطان . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے رمضان کی زکوٰۃ (یعنی صدقہ عید الفطر) کی نگہبانی اور جمع کرنے پر مجھے مامور فرمایا تاکہ جمع ہونے کے بعد آپ اسے فقراء میں تقسیم فرما دیں چناچہ اس دوران میں ایک شخص میرے پاس آیا اور اپنے ہاتھوں سے اپنے دامن اور اپنے برتن میں غلہ بھرنا شروع کردیا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں تجھے رسول کریم ﷺ کے پاس لے چلوں گا اور تجھے اس غلط حرکت کی سزا دلواؤں گا اس نے کہا کہ میں ایک محتاج ہوں میرے اوپر میرے اہل و عیال کا نفقہ ہے اور میں سخت حاجتمند ہوں یعنی میرے ذمہ قرض وغیرہ بھی ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس کی یہ خستہ حالت سن کر اسے چھوڑ دیا، جب صبح ہوئی تو رسول کریم ﷺ مجھ سے فرمانے لگے کہ ابوہریرہ ؓ تمہارے گزشتہ رات کے قیدی کا کیا ہوا؟ (اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس واقعہ کی خبر دے دی تھی) میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! وہ مجھ سے اپنی سخت حاجت اور عیال داری کا رونا رونے لگا اس لئے مجھے اس پر رحم آیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا خبردار رہنا! اس نے اپنے حالات کے اظہار میں تم سے جھوٹ بولا ہے وہ پھر آئے گا اس لئے آئندہ احتیاط رکھنا میں سمجھ گیا کہ ضرور آئے گا چناچہ میں اس کا منتظر رہا وہ آیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے غلہ بھرنا شروع کردیا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ اب تو میں تجھے رسول کریم ﷺ کے پاس لے جاؤں گا اس نے کہا کہ مجھے چھوڑ دیجئے میں ضرورت مند ہوں میرے اوپر کنبہ کا نفقہ ہے اب آئندہ میں نہیں آؤں گا مجھے اس پر رحم آیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا اور اس مرتبہ میں نے یہ سلوک اس لئے کیا کہ اس نے آئندہ نہ آنے کا وعدہ کیا تھا ورنہ تو اپنی حاجت و ضرورت کے بارے میں اس کا جھوٹ مخبر صادق یعنی آنحضرت ﷺ کی زبانی معلوم ہو ہی چکا تھا۔ جب صبح ہوئی تو رسول کریم ﷺ نے مجھ سے پھر فرمایا کہ ابوہریرہ ؓ تمہارے قیدی کا کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! وہ میرے سامنے اپنی شدید ضرورت و حاجت اور عیالداری کا دکھڑا رونے لگا، اس لئے مجھے اس پر رحم آگیا اور میں نے اس کے اس وعدہ پر کہ آئندہ پھر کبھی نہیں آؤں گا اس کو چھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہوشیار رہنا! اس نے اس مرتبہ بھی جھوٹ بولا ہے کہ میں آئندہ نہیں آؤں گا وہ پھر آئے گا چناچہ میں اس کا منتظر رہا اور وہ پھر آیا جب اس نے غلہ بھرنا شروع کیا تو میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں آج تو تجھے ضرور ہی رسول کریم ﷺ کے پاس لے جاؤں گا یہ آخری تیسرا موقع ہے تو نے تو کہا تھا آئندہ نہیں آؤں گا اسی لئے میں نے تجھے اس مرتبہ چھوڑ دیا تھا مگر تو پھر آگیا۔ اس نے کہا کہ مجھے چھوڑ دو میں تمہیں ایسے کلمات سکھاؤں گا کہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے نفع پہنچائے گا (اور وہ یہ کہ) جب تم (سونے کے لئے) اپنے بستر پر جاؤ تو آیت الکرسی کی آخری آیت (یعنی وہوم العلی العظیم) 2۔ البقرۃ 255) پڑھو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے ساتھ ہمیشہ ایک نگہبان فرشتہ رہا کرے گا اور صبح تک تمہارے پاس کوئی شیطان خواہ وہ انسان میں سے ہو یا جنات میں سے دنیوی تکلیف و اذیت پہنچانے کے لئے نہیں آئے گا، میں نے یہ سن کر اسے اس مرتبہ بھی چھوڑ دیا۔ جب صبح ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے مجھ سے پھر فرمایا کہ تمہارے قیدی کا کیا ہوا، میں نے عرض کیا کہ قیدی نے (جب) مجھ سے یہ کہا کہ وہ مجھے کچھ کلمات سکھائے گا جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے گا (تو میں نے اس مرتبہ بھی اس کو چھوڑ دیا) آپ ﷺ نے فرمایا آگاہ رہو (اگرچہ) اس نے تم سے (ان کلمان کے بارہ میں) سچ کہا ہے (مگر) وہ (دوسری باتوں میں) جھوٹا ہے اور تم جانتے ہو کہ تم ان تین راتوں میں کس سے مخاطب تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا وہ شیطان تھا (جو اس طرح مکر و فریب سے صدقات کے مال میں کمی کرنے آیا تھا)۔ (بخاری)
سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیتوں کی فضیلت
وعن ابن عباس قال : بينما جبريل قاعد عند النبي صلى الله عليه و سلم سمع نقيضا من فوقه فرفع رأسه فقال : هذا باب من السماء فتح اليوم لم يفتح قط إلا اليوم فنزل منه ملك فقال هذا ملك نزل إلى الأرض لم ينزل قط إلا اليوم فسلم وقال أبشر بنورين أوتيتهما لم يؤتهما نبي قبلك فاتحة الكتاب وخواتيم سورة البقرة لن تقرأ بحرف منهما إلا أعطيته . رواه مسلم
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے (یعنی جبرائیل نے) اوپر کی طرف دروازہ کھلنے کی سی آواز سنی چناچہ انہوں نے اپنا سر اوپر اٹھا لیا اور کہا کہ یہ اسمان کا درواز کھولا گیا آج کے علاوہ اور کبھی یہ نہیں کھولا گیا۔ جب ہی اس دروازے سے ایک فرشتہ اترا حضرت جبرائیل نے کہا کہ یہ فرشتہ آج سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا ہے۔ پھر اس فرشتے نے آنحضرت ﷺ کو سلام کیا اور کہا کہ خوشخبری ہو کہ آپ کو وہ دو نور عطا فرمائے گئے ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے اور کسی نبی کو نہیں دئیے گئے اور وہ سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کا آخری حصہ ہیں ان میں سے آپ کی طرف پڑھے گئے ایک ایک حرف کے عوض آپ کو ثواب ملے گا یا آپ کی دعا قبول کی جائے گی۔ (مسلم)
تشریح
فنزل منہ اس دروازہ سے ایک فرشہ اترا۔ یہ راوی کے الفاظ ہیں نہ کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے اس طرح سنا۔ سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کے آخری حصہ کو دو نور سے تعبیر کیا گیا ہے اور ان کو نور کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ سورت اور آیتیں قیامت کے دن روشنی کی شکل میں ہوں گی جو اپنے پڑھنے والوں کے آگے چلیں گی۔ سورت بقرہ کا آخری حصہ سے کہاں سے کہاں تک کی آیتیں مراد ہیں تو اس سلسلہ میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آیت (اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ اَلْ حَيُّ الْقَيُّوْمُ ) 2۔ البقرۃ 284) سے آخر سورت تک۔ سورت بقرہ کا آخری حصہ مراد ہے چناچہ حضرت کعب ؓ سے بھی یہی منقول ہے۔ ایک ایک حرف میں حرف سے مراد کلمہ (آیت یا آیت کا ٹکڑا) ہے۔ سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیتوں میں دو قسم کے کلمات ہیں ایک قسم تو وہ جو دعا پر مشتمل ہیں جیسے آیت (اہدنا الصراط المستقیم) یا غفرانک ربنا اور دوسری قسم وہ ہے جو فقط حمد ثناء پر مشتمل ہے لہٰذا جب وہ کلمہ یعنی آیت یا آیت کا ٹکڑا پڑھا جائے گا جو دعائیہ ہے تو پڑھنے والے کو وہ چیز ضرور عطا کی جائے گی جو اس کلمہ میں مذکور ہے اسی طرح جب وہ کلمہ پڑھا جائے گا جو حمد وثناء پر مشتم ہے تو اس کو وہی ثواب دیا جائے گا جو قرآن کے حرفوں پر ملتا ہے۔
سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیتوں کی فضیلت
وعن أبي مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الآيتان من آخر سورة البقرة من قرأ بهما في ليلة كفتاه
حضرت ابومسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص رات میں سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں یعنی (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّه وَالْمُؤْمِنُوْنَ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰ ى ِكَتِه وَكُتُبِه وَرُسُلِه لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِه وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ ٢٨٥ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِيْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَه عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِه وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْ صُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ٢٨٦) 2۔ البقرۃ 285۔ 286) سے آخر تک پڑھتا ہے تو اس کے لئے وہ کافی ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
کافی ہیں کا مطلب یہ ہے کہ وہ رات میں ان آیتوں کے پڑھنے کی وجہ سے انسان و جنات کے شرارت و ایذاء سے محفوظ رہتا ہے گویا یہ آیتیں اس کے لئے دافع شر و بلا ہوجاتی ہیں یا یہ مطلب ہے کہ یہ دو آیتیں اس کے حق میں قیام لیل و عبادت و ذکر کے لئے شب بیدار کا قائم مقام بن جاتی ہیں۔
سورت کہف کی پہلی دس آیتوں کو یاد کرلینے کا اثر
وعن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حفظ عشر آيات من أول سورة الكهف عصم من فتنة الدجال . رواه مسلم
حضرت ابودرداء ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سورت کہف کی پہلی دو آیتیں یاد کرے تو وہ دجال کے شر سے بچایا جائے گا۔ (مسلم)
تشریح
دجال سے مراد یا تو وہ دجال ہے جو آخری زمانہ میں قیامت کے قریب پیدا ہوگا اور لوگوں کو اپنے مکر و فریب میں پھانسے گا یا پھر ہر وہ جھوٹا اور فریبی مراد ہے جو اپنے جھوٹ و فریب سے لوگوں کو پریشان کرتا ہے۔ ترمذی کی روایت میں جو آگے دوسری فصل میں آئے گی یہ منقول ہے کہ جس شخص نے سورت کہف کی اول تین آیتیں پڑھیں تو وہ فتنہ دجال سے بچایا جائے گا اگر وہ اس سے ملے گا اور جو شخص تین آیتیں پڑھے گا تو وہ دجال کے فتنہ سے بچایا جائے گا اگر وہ اس سے نہیں ملے گا۔ حاصل یہ کہ دجال کا فتنہ اس کی ملاقات کی صورت میں زیادہ سخت ہوگا بہ نسبت اس فتنہ کے جو عدم ملاقات کی صورت میں ہوگا لہٰذا جو شخص دس آیتیں یاد کرے گا تو وہ فنتہ ملاقات سے محفوظ ہوگا جو شخص تین آیتیں پڑھے گا تو وہ اس فتنہ سے محفوظ رہے گا جس میں لوگ دجال سے ملے بغیر گرفتار ہوں گے۔