علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ تَعَلَّمُوْا الْفَرَائِضَ وَالْقُرْاٰنَ وَعَلِّمُوْا النَّاسَ فَاِنِّی مَقْبُوْضٌ۔ (رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تم فرائض (یعنی فرض چیزیں یا علم فرائض) اور قرآن کریم سیکھ لو اور دوسروں کو بھی سکھلاؤ اس لئے کہ میں قبض کیا جاؤں گا (یعنی اس عالم سے اٹھالیا جاؤں گا۔ (جامع ترمذی )
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَشَخَصَ بِبَصَرِہٖ اِلَی السَّمَآءِ ثُمَّ قَالَ ھٰذَا أَوَانٌ یُخْتَلَسُ فِیْہِ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتّٰی لَا یَقْدِرُوْا مِنْہ، عَلَی شَیْئِ۔ (رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت ابودردا ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) ہم سرکار دو عالم ﷺ کے ہمراہ تھے کہ آپ ﷺ نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا۔ یہ وقت ہے کہ علم آدمیوں میں سے جاتا رہے گا، یہاں تک کہ وہ علم کے ذریعہ کسی چیز پر قدرت نہ رکھیں گے۔ ( جامع ترمذی )
تشریح
یہاں علم سے مراد وحی ہے اور اشارہ ہے اپنی وفات کی طرف یعنی آپ ﷺ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی گویا آپ ﷺ وحی کے منتظر تھے۔ چناچہ بارگاہ الوہیت سے وحی نازل ہوئی اور خبر دے دی گئی کہ اب آپ ﷺ کی اجل آگئی ہے اور آپ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہو کر واصل بحق ہونے والے ہیں اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ وقت آگیا ہے کہ اس دنیا سے وحی منقطع ہوجائے گی۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ رِوَایَۃً یُوْشِکُ اَنْ یَّضْرِبَ النَّاسُ اَکْبَادَ الْاِبِلِ یَطْلُبُونَ الْعِلْمَ فَلَا یَجِدُوْنَ اَحَدًا اَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِیْنَۃِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَفِی جَامِعِہٖ قَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ اَنَّہ، مَالِکُ بْنُ اَنَسِ و شْلُہ، عَنْ عَبْدِالرَّزَّاقِ وَقَالَ اِسْحٰقُ ابْنُ مُوْسٰی وَسَمِعْتُ ابْنَ عُیَیْنَۃَ اِنَّہُ قَالَ ھُوَ الْعُمَرِیُّ الزَّاھِدُوَاِسْمُہ، عَبْدِالْعَزِیْزِ ابْنُ عَبْدِاﷲِ۔(رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایۃً منقول ہے کہ وہ زمانہ قریب ہے جبکہ لوگ علم حاصل کرنے کے لئے اونٹوں کے جگر کو پھاڑ ڈالیں گے لیکن مدینہ کے عالم سے زیادہ بڑا عالم کسی کو نہیں پائیں گے۔ (جامع ترمذی) اور جامع ترمذی میں ابن عیینہ سے منقول ہے کہ مدینہ کے وہ عالم مالک ابن انس (رح) ہیں اور عبدالرزاق نے بھی یہی لکھا ہے اور اسحٰق ابن موسیٰ کا بیان ہے کہ میں نے ابن عیینہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ کا وہ عالم عمری زاہد ہے (یعنی وہ حضرت عمر فاروق ؓ کے خاندان سے ہے جن کا نام عبدالعزیز بن عبداللہ ہے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
روایۃً منقول کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے تو یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً ہی روایت کی ہے۔ لیکن حضرت ابوہریرہ ؓ کے شاگرد کو حضرت ابوہریرہ ؓ کے الفاظ چونکہ یاد نہیں رہے اس لئے انہوں نے اس حدیث کو اس طرح نقل کیا۔ اونٹوں کے جگر کو پھاڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگوں کے درمیان علم کا چرچہ پڑھے گا اور حصول علم کا شوق افزوں ہوگا تو لوگ دور دراز کا سفر کریں گے اور علم کی خاطر دنیا بھر کی خاک چھانٹتے پھریں گے، یا یہ کہ درِ علم تک جلد پہنچ جانے کے لئے اونٹوں کو تیزی سے چلائیں گے اور تیزگامی کے ساتھ علم کی منزل مقصود تک پہنچیں گے۔ حدیث کے الفاظ کے مصداق میں کلام ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ مدینہ کے عالم سے زیادہ کوئی بڑا عالم نہیں ملے گا تو مدینہ کے عالم سے کون مراد ہے؟ حضرت سفیان بن عیینہ (رح) جو حضرت امام مالک (رح) کے اصحاب اور حضرت امام شافعی (رح) کے شیوخ میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے مراد حضرت امام مالک (رح) کی ذات محترم ہے۔ اسی طرح حضرت عبدالرزاق (رح) جو حدیث کے جلیل القدر اور مشہور امام ہیں یہی فرماتے ہیں کہ حدیث میں جس عالم مدینہ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد حضرت امام مالک (رح) ہی ہیں۔ لیکن حضرت ابن عیینہ کے ایک شاگرد حضرت اسحٰق بن موسیٰ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عیینہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عالم مدینہ سے مراد حضرت عمری زاہد ہیں۔ جن کا اسم گرامی عبدالعزیز بن عبداللہ ہے۔ چونکہ یہ حضرت عمر فاروق ؓ کی اولاد میں سے ہیں اس لئے عمریٰ کہا جاتا ہے اور زاہد ان کی صفت ہے اس لئے کہ یہ اپنے زمانہ میں مدینہ کے ایک جلیل القدر عالم ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے پائے کے زاہد و متفی آدمی تھے ان کا نسب اس طرح ہے۔ عبدالعزیز بن عبداللہ بن عمرو بن حفص بن عاصم بن عمر فاروق۔ بہر حال امام ترمذی (رح) نے یحییٰ کے واسطہ سے ابن عیینہ (رح) کا جو قول نقل کیا ہے وہ اس قول کے مخالف ہے جو ابن عیینہ سے اسحٰق بن موسیٰ نقل کرتے ہیں اس طرح حضرت ابن عیینہ (رح) کے اقوال میں اختلاف ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں حضرات نے عیینہ سے جو قول نقل کیا ہے، وہ بااعتبار ظن کے ہے یقینی اور حتمی طور پر ان لوگوں نے نقل نہیں کیا ہے۔ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ سرکار دو عالم ﷺ کا یہ ارشاد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین (رح) کے دور کے اعتبار سے ہے کہ ان کے زمانوں میں مدینہ کے عالم سے زیادہ بڑا عالم کسی دوسری جگہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تابعین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے بعد جب علم کی مقدّس روشنی مدینہ سے نکل کر اطراف عالم میں پھیلی تو اس کے نتیجہ میں دیگر ممالک اور دوسرے شہروں میں ایسے ایسے عالم و فاضل پیدا ہوئے جو اپنے علم و فضل اور دینی فہم و فراست کے اعتبار سے مدینہ کے عالموں سے بڑھے ہوئے تھے۔ اس حدیث کے ظاہری معنی جو ارشاد نبوی ﷺ سے زیادہ قریب اور انسب ہیں یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا مقصد اس ارشاد سے اس بات کی خبر دینا ہے کہ آخر زمانہ میں علم اپنی وسعت و فراخی کے باوجود صرف مدینہ منورہ میں منحصر ہوجائے گا جیسا کہ دیگر احادیث سے یہ بات بصراحت معلوم ہوتی ہے۔ وا اللہ اعلم۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْہُ فِیْمَا اَعْلَمُ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّ اﷲَ عَزَّوَ جَلَّ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلَی رَأْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃِ مَنْ یُّجَدِّدُلَھَا دِیْنَھَا۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے مجھے جو کچھ معلوم ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس امت کے نفع کے واسطے ہر سو برس پر ایک آدمی کو بھیجتا ہے جو اس کے دین کو تازہ کرتا ہے۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
اکثر علماء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس حدیث سے یہ مفہوم مراد لیا ہے کہ ہر زمانہ میں امت کے اندر اپنے علم و فضل کے اعتبار سے سب میں ممتاز ایک ایسا آدمی موجود ہوتا ہے جو دین کو نکھارتا اور تجدید کرتا ہے جسے مجدّد کہا جاتا ہے۔ مجدّد اپنے زمانہ میں دین کے اندر ہر پیدا ہونے والی برائی اور خرابی کو دور کرتا ہے۔ بدعت اور رسم و رواج کے جو گہرے پردے دین کی حقیقت پر پڑجاتے ہیں وہ اپنے علم و معرفت کی قوّت سے انہیں چاک کرتا ہے اور امت کے سامنے پورے دین کو نکھار کر اور صاف و ستھرا کر کے اس کی اپنی شکل میں پیش کردیتا ہے۔ چنانچہ بعض حضرات نے تعین بھی کیا ہے کہ فلاں مجدّد پیدا ہوا تھا اور فلاں صدی میں فلاں مجدّد موجود تھا۔ بعض علماء نے حدیث کے معنی کو عمومیت پر محمول کیا ہے، یعنی خواہ دین کی تجدید کرنے والا کوئی ایک آدمی واحد ہو خواہ کوئی جماعت ہو جو دین میں پیدا کی گئی برائیوں اور خرابیوں کو ختم کرے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْعُذْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یَحْمِلُ ھٰذَا الْعِلْمَ مِنْ کُلِّ خَلَفِ عُدُوْلُّہ، یَنْفُوْنَ عَنْہُ تَحْرِیْفَ الْغَالِیْنَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطَلِیْنَ وَ تَأْوِیْلَ الْجَاھِلِیْنَ رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ وَسَنَدْکُرُ حَدِیْثُ جَابِرِ فَاِنَّمَا شِفَاءُ الْعَیِّ السُّؤَالُ فِی بَابِ التَّیَمُّمِ اِنْ شَاءَ اﷲُ تَّعَالیٰ۔ (رواہ)
اور حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن عذری ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ہر آئندہ آنے والی جماعت میں سے اس کے نیک (یعنی ثقہ اور معتمد) لوگ اس علم (کتاب و سنت) کو حاصل کریں گے اور وہی لوگ اس (علم) کے ذریعہ (آیات و احادیث میں) حد سے گزرنے والوں کی تحریف کو باطلوں کی افتراء پردازی کو اور جاہلوں کی تاویلات کو دور کریں گے، (اس حدیث کو بیہقی نے اپنی کتاب مدخل میں حدیث بقیۃ ابن ولید سے نقل کیا ہے اور انہوں نے معان بن مرفاعہ سے اور انہوں نے ابراہیم بن عبدالرحم عذری ؓ سے نقل کیا ہے) اور حضرت جابر ؓ کی روایت (جس کی ابتداء یہ ہے) فانما شفاء العی السوال ہم باب تیمّم میں بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مَنْ جَاءَ ہُ الْمَوْتُ وَھُوَ یَطْلُبُ الْعِلْمَ لِیُحْیَی بِہٖ الْاِسْلَامَ فَبَیْنَہُ وَبِیْنَ النَّبِیِّیْنَ دَرَجَۃٌ وَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ۔ (رواہ الدرامی)
حضرت حسن بصری (رح) سے بطریق مرسل روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی کی موت اس حال میں آئے کہ وہ علم حاصل کر رہا ہو اور (وہ علم) اس غرض سے (حاصل کر رہا ہو) کہ وہ اس کے ذریعہ اسلام کو رائج کرے گا تو جنت میں اس کے اور انبیاء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق ہوگا اور وہ مرتبہ نبوت ہے۔ (درامی)
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْہُ مُرْسَلًا قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ رَجُلَیْنِ کَانَا فِی بَنِیۤ اِسْرَآئِیْلَ اَحَدُھُمَا کَانَ عَالِمًا یُصَلِّی الْمَکْتُوْبَۃَ ثُمَّ یَجْلِسُ فَیُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَیْرَ، وَالْاٰخِرُ یَصُوْمُ النَّھَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ اَیُّھُمَا اَفْضَلُ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ فَضْلُ ھٰذَا الْعَالِمِ الَّذِی یُصَلِّی الْمَکْتُوْبَۃَ ثُمَّ یَجْلِسُ فَیُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَیْرَ عَلَی الْعَابِدِ الَّذِیْ یَصُوْمُ النَّھَارَ وَ یَقُوْمُ اللَّیْلَ کَفَضْلِی عَلَی اَدْنَا کُمْ۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت حسن بصری (رح) ( حضرت حسن بصری (رح) تابعی ہیں آپ کی پیدائش مدینہ میں ہوئی تھی۔ ١١٠ ھ میں آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ سے بطریق مرسل روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ سے بنی اسرائیل کے دو آدمیوں کے بارے میں سوال کیا گیا، ان میں سے ایک تو عالم تھا جو فرض نماز پڑھتا تھا پھر بیٹھ کر لوگوں کو علم سکھاتا تھا۔ اور دوسرا آدمی وہ تھا جو دن کو تو روزے رکھتا تھا اور تمام رات عبادت کیا کرتا تھا (چنانچہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا) کہ ان دونوں میں بہتر کون ہے؟ آنحصرت ﷺ نے فرمایا۔ اس عالم کو جو فرض نماز پڑھتا ہے اور بیٹھ کر لوگوں کو علم سکھلاتا ہے اس عابد پر جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات میں عبادت کرتا ہے ایسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسی کہ مجھے تم میں سے ایک ادنیٰ آدمی پر فضیلت حاصل ہے۔ (درامی)
تشریح
بنی اسرائیل کے مذکورہ دونوں عالم یوں تو اپنے علم و فضل کے اعتبار سے ہم رتبہ تھے مگر فرق یہ تھا کہ ایک عالم نے تو اپنی زندگی کا مقصد صرف عبادت الٰہی بنا لیا تھا چناچہ وہ دن رات ہمہ وقت عبادت میں مصروف رہا کرتا تھا بندگان اللہ کی اصلاح وتعلیم سے اسے غرض نہیں تھی، مگر دوسرا عالم فرض عبادت بھی پوری طرح ادا کرتا تھا اور اپنے اوقات کا بقیہ حصہ لوگوں کی اصلاح وتعلیم میں بھی صرف کیا کرتا تھا۔ لہٰذا دونوں میں افضل اسی آدمی کو قرار دیا گیا ہے جو خود بھی اپنے علم پر عمل کرتا تھا اور دوسروں کو بھی علم سکھلا کر انہیں راہ ہدایت پر لگاتا تھا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ نِعْمَ الرَّجُلُ الْفَقِیْہُ فِی الدِّیْنِ اَنِ احْتِیْجَ اِلَیْہٖ نَفَعَ وَاِنِ اسْتُغْنِیَ عَنْہُ اَغْنَی نَفْسَہ،۔ (رواہ رزین)
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ بہتر آدمی وہ ہے جو دین کی سمجھ رکھتا ہو۔ اگر اس کے پاس کوئی حاجت لائی گئی تو اس نے نفع پہنچایا اور اگر اس سے بےپروائی برتی گئی تو اس نے بھی اپنے نفس کو بےپرواہ رکھا۔ (رزین)
تشریح
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک عالم کی یہ شان ہونی چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو لوگوں کا محتاج کر کے اپنی حیثیت کو کمتر نہ کرے، نیز غلط اغراض و مقاصد کی خاطر عوام کی مصاحبت کی طرف میلان نہ رکھے اور نہ ان سے کسی دنیاوی غرض و منافع کی طمع کرے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اپنے آپ کو عوام سے بالکل بےتعلق کرلیا جائے اور اپنے علم سے اللہ کی مخلوق کو محروم رکھا جائے۔ بلکہ اگر عوام دینی ضروریات کے سلسلے میں صرف اسی کے محتاج ہوں اور اس کے علاوہ کسی دوسرے عالم کے نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی رجوع اس کی طرف ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ لوگوں کے درمیان جائے اور ان کی دینی و اسلامی ضروریات کو پورا کر کے انہیں نفع پہنچائے۔ ہاں اگر عوام خود اس سے لاپرواہی برتیں کہ انہیں اس سے فائدہ اٹھانے کی خواہش ہو اور نہ وہ اس کے محتاج ہوں تو چاہئے کہ وہ بھی ان سے بےپروائی برتے اور ان سے ترک تعلق کر کے اپنے اوقات کو عبادت الٰہی میں مشغول رکھے یا پھر خدمت علم دین کی خاطر دینی کتابوں کے مطالعہ اور تصنیف و تالیف میں منہمک ہو کر اس ذریعہ سے علم کی روشنی پھیلائے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عِکْرِمَۃَرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالیٰ اَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍص قَالَ حَدِّثِ النَّاسَ کُلَّ جُمُعَۃٍ مَّرَّۃً فَاِنْ اَبَےْتَ فَمَرَّتَےْنِ فَاِنْ اَکْثَرْتَ فَثَلٰثَ مَرَّاتٍ وَلَا تُمِلَّ النَّاسَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَلَا اُلْفِےَنَّکَ تَاْتِیْ الْقَوْمَ وَھُمْ فِیْ حَدِےْثٍ مِّنْ حَدِےْثِھِمْ فَتَقُصَّ عَلَےْھِمْ فَتَقْطَعُ عَلَےْھِمْ حَدِےْثَھُمْ فَاتُمِلَّھُمْ وَلٰکِنْ اَنْصِتْ فَاِذَا اَمَرُوْکَ فَحَدِّثْھُمْ وَھُمْ ےَشْتَھُوْنَہُ وَانْظُرِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَآءِ فَاجْتَنِبْہُ فَاِنِّیْ عَھِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَصْحَابَہُ لَا ےَفْعَلُوْنَ ذٰلِکَ۔ (صحیح البخاری)
اور حضرت عکرمہ ؓ سے مروی ہے کہ عبداللہ ابن عباس ؓ نے عکرمہ ؓ سے فرمایا۔ تم ہر جمعہ کو ایک بار لوگوں کے سامنے حدیث بیان کرو۔ اگر اسے قبول نہ کرو ( یعنی ہفتہ میں ایک بار وعظ نصیحت کو کافی نہ جانو تو ہفتہ میں) دو بار اور زیادہ چاہو تو (ہفتہ میں تین بار و عظ و نصیحت کرسکتے ہو) اور تم لوگوں کو اس قرآن سے تنگ نہ کرو ( یعنی ہفتہ میں تین بار سے زیادہ وعظ و نصیحت بیان کر کے لوگوں کو ملول نہ کرو) اور میں تمہیں اس حالت میں نہ پاؤں کہ تم کسی قوم کے پاس جاؤ اور وہ اپنی باتوں میں مشغول ہوں اور تم ان کی باتوں کو منقطع کر کے ان کے سامنے وعظ و نصیحت شروع کردو اور (اس طرح) تم ان کو کبیدہ خاطر کرو۔ ایسے موقع پر تمہیں چاہئے کہ تم خاموش رہو البتہ وہ اگر تم سے وعظ و نصیحت کی فرمائش کریں تو جب تک اس کے خواہش مند ہوں تم ان کے سامنے حدیث بیان کرو اور تم دعا میں مقفیٰ عبارت سے صرف نظر کرو اور اس سے بچو، چناچہ میں نے معلوم کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے اصحاب ایسا نہیں کرتے تھے (یعنی دعا میں مقفیٰ عبارت استعمال نہیں کرتے تھے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
جیسا کہ پچھلے صفات میں گزر چکا ہے اس حدیث میں بھی اس پر زور دیا جا رہا ہے کہ وعظ و نصیحت کے معاملہ میں اعتدال اور موقع و ماحول کی رعایت ضروری ہے اور اثر اندازی کے اعتبار سے دعوت و تبلیغ کا یہ بنیادی پتھر ہے جس پر تبلیغ کی کامیابی کا پورا دار و مدار ہے۔ اس سلسلہ میں خاص طور پر یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر کچھ لوگ کسی بات چیت اور آپس کی گفتگو میں مشغول ہوں تو ایسے موقع پر پہنچ کر وعظ و نصیحت شروع نہیں کر دینی چاہئے، چاہے ان کی بات چیت دنیاوی امور سے متعلق ہو یا دینی باتوں پر مشتمل ہو۔ اگر وہ دین کی بات میں مشغول ہیں تو ظاہر ہے کہ بدرجہ اولیٰ ان کی بات کو منقطع کرنا اور اس میں خلل انداز ہونا خواہ وہ تبلیغ ہی کی خاطر کیوں نہ ہو مناسب نہیں ہوگا۔ اگر بات چیت کا موضوع خالص دنیا بھی ہو تو ایسا کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ جب ایک آدمی اپنی کسی ضروری گفتگو میں مشغول ہو اور وہاں پہنچ کر وعظ و نصیحت شروع کردی جائے تو گفتگو میں خلل پڑنے کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ وہ بتقاضائے بشریت اسے گوارہ نہ کرے اور وہ ایسے موقع پر قرآن و حدیث کی باتیں سننا پسند نہ کرے جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ وہ خواہ مخواہ گناہ میں مبتلا ہوگا بلکہ اس کے قلب پر دین کی عظمت و اہمیت کا نقش بھی قائم نہ ہوگا۔ ہاں اگر مصلحت کا تقاضا ہی یہ ہو کہ انہیں اس گفتگو سے باز رکھا جائے تو پھر ایسا انداز اور طریقہ اختیار کرنا چاہئے جس سے انہیں ناگواری بھی نہ ہو اور وہ اس کلام و گفتگو سے رک بھی جائیں، غرض کہ نظر مصلحت ضرورت وقت پر رکھنی چاہئے۔ ویسے جہان تک عبداللہ ابن عباس ؓ کے قول کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ ان کا عکرمہ ؓ کو حکم دینا اکثر کے اعتبار سے تھا یعنی یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ اکثر و بیشتر لوگ محض دنیاوی باتوں ہی میں مشغول رہا کرتے تھے۔ دعا میں مقفیٰ عبارت کا مطلب یہ ہے کہ دعا تایثر کے اعتبار سے وہی بہتر ہوتی ہے جو بغیر تصنع و بناوٹ کے سیدھی سادھی ہو اور دل کی گہرائیوں سے نکلی ہو۔ اس لئے دعا کی عبارت کو شعر و شاعری کا رنگ دینا، الفاظ میں قافیہ اور تکلف نہیں کرنا چاہئے۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کی ان دعاؤں پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ جو مقفی و مسجع ثابت ہیں اور جن میں قفیہ بندی بھی ہے۔ اس لئے یہ چیزیں تو رسول اللہ ﷺ سے بےتکلف اور از خود صادر ہوتی تھیں ان میں آپ ﷺ کے تکلف اور کوشش کو دخل نہیں ہوتا تھا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
عن واثلہ بن اسقع قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من طلب العلم فادرکہ کان لہ کفلان من الاجر جان لم یدرکہ کان لہ کفل من الاجر
حضرت واثلہ بن اسقع ؓ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ جو آدمی علم کا طالب ہو اور اسے علم حاصل بھی ہوگیا تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا اور اگر اسے علم حاصل نہ ہو تو اس کو ایک حصہ ثواب ملے گا۔ (درامی)
تشریح
دو ثواب اس طرح ملیں گے کہ ایک ثواب تو طلب علم اور اس کی مشقت و محنت کا ہوگا جو اس نے حصول علم کے سلسلے میں اٹھائی ہیں اور دوسرا ثواب علم کے حاصل ہونے کا اور پھر دوسروں کو علم سکھلانے کا ہوگا یا دوسرا ثواب عمل کا ہوگا جو اس نے علم پر کیا ہے۔ ہاں اس آدمی کو جسے اس کی طلب اور کوشش کے باوجود حاصل نہیں ہوا صرف ایک ثواب اس کی محنت و مشقت ہی کا ملے گا۔ بہر حال اتنی بات تو طے ہے کہ بہتر تقدیر طلب علم میں لگے رہنا چاہئے۔ اگر علم حاصل ہوگیا تو نور علیٰ نور کہ اسے دو ثواب ملیں گے اور اگر علم حاصل نہ ہوا تو یہی کیا کم ہے کہ طلب علم میں مرجانا بھی سعادت ہے گرچہ نہ تواں بد دست رہ برون شرط یاری ست در طلب مردن
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِنَّ مِمَّا یَلْحَقُ الْمُؤْمِنُ مِنْ عَمَلِہٖ وَحَسَنَاتِہِ بَعْدَ مَوْتِہٖ عِلْمًا عَلَّمَہ، وَنَشَرَہ، وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَکَہ، اَوْمُصْحَفًا وَرَّثَہ، اَوْ مَسْجِدًا بَنَاہُ اَوْبَیْتًا لِاِ بْنِ السَّبِیْلِ بَنَاہُ اَوْنَھْرًا اَجْرَاہُ اَوْصَدَقَۃً اَخْرَجَھَا مِنْ مَالِہٖ فِیْ صِحَّتِہٖ وَحَیَاتِہٖ تَلْحَقُہُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِہٖ۔ (رواہ ابن ماجۃ والبیہقی فی شعب الایمان)
اور حضرت ابوہریرۃ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ مومن کو اس کے جس عمل یا جن نیکیوں کا مرنے کے بعد ثواب پہنچتا ہے اس میں ایک تو علم ہے جس کو اس نے سیکھا اور رواج دیا تھا، دوسرے نیک اولاد ہے جس کو اپنے بعد چھوڑا۔ تیسرے قرآن ہے جو وارثوں کے لئے چھوڑا ہو۔ چوتھے مسجد ہے جس کو اپنی زندگی میں بنالیا گیا ہو، پانچویں مسافر خانہ ہے جس کو اس نے تعمیر کیا ہو، چھٹے نہر ہے جس کو اس نے جاری کیا ہے اور ساتویں وہ خیرات ہے جس کو اس نے اپنی تندرستی اور زندگی میں اپنے مال سے نکالا ہو، ان تمام چیزوں کا ثواب اس کے مرنے کے بعد اس کو پہنچتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، بیہقی)
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَآئِشَۃَ اَنْھَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِنَّ اﷲَ عَزَّوَجَلَّ اَوْحٰی اِلَیَّ اَنَّہ، مَنْ سَلَکَ مَسْلَکًا فِی طَلَبِ الْعِلْمِ سَھْلَتُ لَہ، طَرِیْقَ الْجَنَّۃِ وَمَنْ سَلَبْتُ کُرِیْمَتَیْہِ اَثَبْتُہُ عَلَیْھِمَا الْجَنَّۃَ وَفَضْلٌ فِی عِلْمِ خَیْرٌ مِنْ فَضْلِ فِی عِبَادَۃِ وَمِلَاکُ الدِّیْنِ الْوَرَعُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی (خفی) بھیجی ہے کہ جو طلب علم کے لئے راستہ اختیار کرے تو میں اس پر جنت کے راستے کو آسان کردوں گا اور جس آدمی کی میں نے دونوں آنکھیں چھین لی ہوں (یعنی کوئی آدمی نابینا ہوگیا ہو) تو اس دنیاوی نعمت سے محرومی اور اس پر صبر و شکر کی بناء پر میں اس کا بدلہ اسے جنت دوں گا اور علم کے اندر زیادتی عبادت میں زیادتی سے بہتر ہے اور دین کی جڑ پرہیز گاری ہے۔ (بیہقی)
تشریح
ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ جو آدمی علم دین کے حصول کے لئے کسی راستہ کو اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی راہ آسان کر دے گا یعنی دنیا میں معرفت و حقیقت کی دولت سے نوازا جائے گا اور عبات الٰہی کی توفیق عنایت فرمائی جائے گی تاکہ وہ اس کے سبب جنت میں داخل ہوسکے، یا اس کے معنی یہ ہیں کہ ایسے آدمی پر آخرت میں جنت کے دروازے کا راستہ اور جنت میں جو محل اہل علم کے لئے مخصوص ہے اس کی راہ آسان کردی جائے گی۔ گو اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں علم کی جو راہ ہے وہی آخرت میں جنت کی بھی راہ ہے اور علم کے دروازوں کے علاوہ جنت کی تمام راہیں بند ہیں یعنی بغیر علم کے جنت میں داخل ہونا مشکل ہے مگر شرط یہی ہے کہ علم خلوص نیت اور للّٰہیت کے جذبہ سے حاصل کیا گیا ہو اور پھر اس عمل کی توفیق بھی ہوتی ہو رونہ علم بغیر خلوص اور بغیر عمل کے کوئی حقیقت نہیں رکھے گا اور اس کا مصداق ہوگا کہ چار پایہ بروکتا بےچند آخر حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ دین کی اصل اور جڑ ورع (یعنی پرہیزگاری) ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حرام، منکرات اور طمع سے بچنا چاہئے تاکہ عبادات میں ریاء اور عدم اخلاص پیدا نہ ہو۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعْۃً مِّنَ اللَّیْلِ خَیْرٌ مِّنْ اِحْیَائِھَا۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ رات میں تھوڑی دیر علم کا درس دنیا کی تمام رات کو زندہ رکھنے سے بہتر ہے۔ (دارمی)
تشریح
یعنی تمام رات نماز پڑھنے اور عبادت الٰہی میں مشغول رہنے سے یہ زیادہ بہتر ہے کہ تھوڑی دیر تک آپس میں تعلیم و تعلّم اور درس و تدریس کا مشغلہ رکھا جائے اسی حکم میں حصول مقصد کے لئے علم کا لکھنا یعنی تصنیف و تالیف اور دینی و علمی کتابوں کا مطالعہ کرنا بھی داخل ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْداﷲِ بْنِ عَمْرِو اَنَّ رَسُْولَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَرَّ بِمَجْلِسَیْنِ فِی مَسْجِدِہٖ فَقَالَ کِلَا ھُمَا عَلَی خَیْرِ وَاَحَدُھُمَا اَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِہٖ اَمَّا ھٰؤُلَآءِ فَیَدْعُوْنَ اﷲَ وَیَرْغَبُوْنَ اِلَیْہٖ فَاِنْ شَآءِ اَعْطَاھُمْ وَاِنْ شَآءَ مَنَعَھُمْ وَاَمَّا ھٰؤُلَآءِ فَیَتَعَلَّمُوْنَ الْفِقْہَ اَوِالْعِلْمَ وَیُعَلِّمُوْنَ الْجَاھِلَ فَھُمْ اَفْضَلُ وَاِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلَّمًا ثُمَّ جَلَسَ فِیْھِمْ۔ (رواہ لدارمی)
اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ کا گزر دو مجلسوں پر ہوا، جو مسجد نبوی میں منعقد تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ دونوں بھلائی پر ہیں لیکن ان میں سے ایک (نیکی میں) دوسرے سے بہتر ہے۔ ایک جماعت عبادت میں مصروف ہے، اللہ سے دعا کر رہی ہے اور اس سے اپنی رغبت کا اظہار کر رہی ہے (یعنی حصول مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف امید ہے اور حصول مقصد خواہش الہٰی پر موقوف ہے) لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں دے اور اگر چاہے نہ دے اور دوسری جماعت فقہ یا علم حاصل کر رہی ہے اور جاہلوں کو علم سکھا رہی ہے، چناچہ یہ لوگ بہتر ہیں اور میں بھی معلّم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پھر رسول اللہ ﷺ خود بھی ان میں بیٹھ گئے۔ (دارمی)
تشریح
ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ مسجد نبوی میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ صحابہ کی دو جماعتیں الگ الگ بیٹھی ہوئی ہیں ایک جماعت تو ذکر و دعا میں مشغول تھی اور دوسری جماعت مذاکرہ علم میں مشغول تھی آپ ﷺ نے ان دونوں میں سے اس جماعت کو بہتر قرار دیا جو مذاکرہ علم میں مشغول تھی اور پھر نہ صرف یہ کہ زبان ہی سے ان کی فضیلت کا اظہار فرمایا بلکہ خود بھی اس جماعت میں بیٹھ کر علماء کی مجلس کو مزید عزّت و شرف کی دولت بخشی۔ علم اور عالموں کی اس سے زیادہ اور کیا فضیلت ہوسکتی ہے کہ سردار انبیاء ﷺ نے عابدوں کی مجلس کو چھوڑ کر عالموں ہی کی ہم نشینی اختیار فرمائی ہے اور اپنے آپ کو ان ہی میں سے شمار کیا گدایان را ازیں معنی خبر نیست کہ سلطان جہاں باما ست امروز
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَآءِ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقِیْلَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَاحَدُّ الْعِلْمِ الَّذِی اِذَا بَلَغُہُ الرَّجُلُ کَانَ فَقِیْھًا فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ حَفِظَ عَلَی اُمَّتِی اَرْبَعَیْنَ حَدِیْثًا فِی اَمْرِ دِیْنَھَا بَعْثَہُ اﷲُ فَقِیْھًا وَکُنْتُ لَہ، یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَافِعًا وَّشَھِیْدًا۔
اور حضرت ابودردا ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ علم کی مقدار کیا ہے کہ جب انسان اتنا علم حاصل کرے تو فقیہہ (عالم) ہوجائے اور آخرت میں اس کا شمار زمرہ علماء میں ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی میری امت کو فائدہ پہنچانے کے لئے امر دین کی چالیس حدیثیں یاد کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت میں فقیہ اٹھائے گا اور قیامت کے دن میں اس کا شفاعت کرنے والا اور (اس کی اطاعت پر) گواہ بنوں گا۔
تشریح
علماء لکھتے ہیں کہ اس سے مراد چالیس حدیثوں کا دوسرے لوگوں تک پہنچاتا ہے اگرچہ وہ یاد نہ ہوں چناچہ اس حدیث کے پیش نظر بہت سے علماء نے چالیس احادیث جمع کر کے لوگوں تک پہنچائی ہیں اور اس طرح وہ قیامت میں رسول اللہ ﷺ کی شفاعت اور گواہی کے امیدوار ہوئے ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ ھَلْ تَدْرُوْنَ مَنْ اَجْوَدُ جُوْدًا قَالُو اﷲُ وَرَسُوْلُہ، اَعْلَمُ قَالَ اﷲُ اَجْوَدُ جُوْدًا ثُمَّ اَنَا اَجْوَدُ بَنِی اٰدَمَ وَاَجْوَدُ ھُمْ مِنْ بَعْدِ رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَہ، یَأْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَمِیْرًا وَّحْدَہ، اَوْقَالَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً۔
اور حضرت انس بن مالک ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ سخاوت کے معاملہ میں سب سے بڑا سخی کون ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا سخاوت کرنے میں اللہ تعالیٰ سب سے بڑا سخی ہے اور بنی آدم میں سے سب بڑا سخی میں ہوں، پھر لوگوں میں میرے بعد سب سے بڑا سخی وہ آدمی ہوگا جس نے علم سیکھا اور اسے پھیلایا۔ وہ آدمی قیامت کے دن ایک امیر یا فرمایا کہ ایک گروہ کی طرح آئے گا۔
تشریح
آخر روایت میں راوی کو شک ہوگیا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے امیر اوحدہ فرمایا یا امۃ واحدۃ فرمایا یعنی ایسا آدمی جس نے علم سیکھا اور اس کو لوگوں کے درمیان پھیلایا تو اس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ آخرت میں ایک امیر کی مانند آئے گا کہ وہ کسی کے تابع نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ تابع اور خدام ہوں گے یا آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ وہ تن تنہا آدمی ایک گروہ جماعت کی مانند ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اللہ کی مخلوق کے درمیان معزز و مکرم ہوگا اور آخرت میں بصد شوکت و حشمت آئے گا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْہُ اَنْ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْھُوْمَانِ لَا یَشْبَعَانِ مَنْھُوْمٌ فِی الْعِلْمِ لَا یَشْبَعُ مِنْہ، وَ مَنْھُوْمٌ فِی الدُّنْیَا لَا یَشْبَعُ مِنْھَا رَوَی الْبَیْھَقِیُّ اَ لْاَحَادِیْثَ الثَّلَاثَۃَ فِی شُعْبِ الْاِیْمَانِ وَقَالَ قَالَ الْاِمَامُ اَحْمَدُ فِی حَدِیْثِ اَبِی الدَّرْدَآءِ ھٰذَا مَتْنٌ مَشْھُوْدٌ فِیْمَا بَیْنَ النَّاسِ وَلَیْسَ لَہ، اِسْنَادٌ صَحِیْحٌ۔
اور حضرت انس بن مالک ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ حرص کرنے والے دو آدمی ہیں جن کا پیٹ نہیں بھرتا۔ ایک علم میں حرص کرنے والا کہ اس کا پیٹ کبھی علم سے نہیں بھرتا اور دوسرا دنیا کی حرص کرنے والا کہ اس کا پیٹ دنیا سے کبھی نہیں بھرتا۔ مذکورہ بالا تینوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہیں۔ حضرت امام مسند احمد بن حنبل (رح) نے سنن ابوداؤد کی حدیث کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس کا متن لوگوں میں مشہور ہے مگر اس کی اسناد صحیح نہیں ہے۔
تشریح
امام نووی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن اس کے طرق متعدد ہیں جن میں بعض کو دوسرے بعض کی بناء پر تقویت ملی ہے لیکن ویسے بھی یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال کے سلسلہ میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَوْنِ قَالَ قَالَ عَبْدُاﷲِ ابْنُ مَسْعُوْدِ مَنْھُو مَانِ لَا یَشْبَعَانِ صَاحِبُ الْعِلْمِ وَ صَاحِبُ الدُّنْیَا وَلَا یَسْتَوِیَانِ اَمَّا صَاحِبُ الْعِلْمِ فَیَزْ دَادُ رِضَیً لِلرَّحْمٰنِ وَاَمَّا صَاحِبُ الدُّنْیَا فَیَتَمَارَی فِی الطُّغْیَانِ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُاﷲِ کَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیُطْغَی اَنْ رَّاَہُ اسْتَغْنٰی قَالَ وَقَالَ الْاٰخِرُاِنَّمَا یَخْشَی اﷲَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمََأُ۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت عون ؓ راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا۔ دو حریص ہیں جن کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا، ایک عالم اور دوسرا دنیا دار لیکن یہ ( درجہ میں) برابر نہیں ہیں کیونکہ عالم تو اللہ کی خوشنودی و رضا مندی کو زیادہ کرتا ہے اور دنیا دار سرکشی میں زیادتی کرتا ہے۔ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے دنیا دار کے حق میں ( دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھی۔ (آیت کا ترجمہ) خبردار! انسان البتہ سرکشی کرتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو (کثرت مال کی بنا پر لوگوں سے) غنی دیکھتا ہے حضرت عون ؓ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے دوسرے یعنی عالم کے حق میں یہ آیت پڑھی۔ (آیت کا ترجمہ) اللہ کے بندوں میں عالم اللہ سے ڈرتے ہیں۔ (درامی)
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِنَّ اُنَاسًا مِنْ اُمَّتِی سَیَتَفَقَّھُوْنَ فِیْ الدِّیْنِ وَیَقْرَ اُوْنَ الْقُرْاٰنَ یَقُوْلُوْنَ نَأْتِی الْاُمَرَاءَ فَنَصِیْبُ مِنْ دُنْیَا ھُمْ وَنَعْتَزِلُھُمْ بِدِیْنِنَا وَلَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ کَمَا لَا یُجْتَنٰی مِنَ لْقَتَادِ اِلَّا الشَّوْکُ کَذٰلِکَ لَا یُجْتَنٰی مِنْ قُرْبِھِمْ اِلَّا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ کَاَنَّہ، یَعْنِی الْخَطَایَا۔ (رواہ ابن ماجۃ)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میری امت میں بہت سے لوگ دین میں سمجھ یعنی دین کا علم حاصل کریں گے اور قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم امراء کے پاس جا کر ان کی دنیا اور (دولت) میں سے اپنا حصّہ حاصل کریں گے اور اپنے دین کو ان سے یکسو رکھیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا (کہ دین و دنیا ایک جگہ جمع ہوجائیں اور امراء کی صحبت میں بجائے فائدہ کے نقصان ہوتا ہے) جیسا کہ جس طرح خاردار درخت سے صرف کانٹا ہی حاصل ہوسکتا ہے اسی طرح امراء کی صحبت سے نہیں حاصل ہوتا مگر! حضرت محمد ابن صباح (رح) فرماتے ہیں کہ گویا رسول اللہ ﷺ کی مراد (لفظ الا کے بعد) خطایا تھی۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے الا کے بعد کسی لفظ کا تکلّم نہیں فرمایا چناچہ حضرت محمد بن صباح (رح) جو ایک جلیل القدر محدّث اور حضرت عبداللہ بن اسماعیل بخاری (رح) و امام مسلم (رح) جیسے ائمہ حدیث کے استاد ہیں۔ اس کی وضاحت فرما رہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مراد الفاظ الا کے بعد خطایا ہے۔ مگر آپ ﷺ نے اسے حذف فرمایا اور اس کا تکلّم نہیں کیا۔ اس طرح حدیث کے آخری الفاظ اب اس طرح ہوجائیں گے لَا یُجْتَنِی من قربھم الا الخطایا یعنی امراء کی صحبت سے حاصل نہیں ہوتا مگر گناہ۔ بہر حال حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس امت میں ایسے بھی عالم پیدا ہوں گے جن کا مقصد حصول علم سے محض یہ ہوگا کہ وہ علم حاصل کر کے اور قرآن پڑھ کر امراء کے پاس جائیں اور ان کے سامنے اپنی بزرگی و فضیلت کا اظہار کر کے ان سے مال و دولت حاصل کریں اور علم کی جو حقیقی منشاء و مدعا ہوگی یعنی اللہ کی مخلوق کی ہدایت اور عوام الناس کی بغیر کسی لالچ اور طمع کے دینی راہبری اس سے انہیں قطعاً کوئی مطلب نہ ہوگا۔ اور جب ان سے کہا جائے گا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ بیک وقت تفقہ فی الدّین اور امراء کی قربت و صحبت جمع ہوجائے؟ تو وہ جواب میں یہ کہیں گے کہ ہم ان سے مال و دولت تو حاصل کریں گے مگر اپنے دین کو ان سے بچائیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے حالانکہ یہ امر محال ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ مَسْعُوْدِقَالَ لَوْ اَنَّ اَھْلَ الْعِلْمِ صَانُوْا الْعِلْمَ وَوَضَعُوْہ، عِنْدَاَھْلِہٖ لَسَادُوْابِہٖ اَھْلَ زَمَانِھِمْ وَلَکِنَّھُمْ بِذَلُوْہ، لِاَ ھْلِ الدُّنْیَا لِیَنَا لُوْابِہٖ مِنْ دُنْیَا ھُمْ فَھَا نُوْا عَلَیْھِمْ سَمِعْتُ نَبِیَّکُمْ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ جَعَلَ الْھُمُوْمَ ھَمًّا وَاحِدًا ھَمَّا اٰخِرَتِہٖ کَفَاہُ اﷲُ ھَمَّ دُنْیَاہُ وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِہٖ الْھُمُوْمُ (فِی) اَحْوَالِ الدُّنْیَا لَمْ یُبَالِ اﷲُ فِی اَیْ اَوْدِیَتِھَا ھَلَکَ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَاہُ الْبَیْھِقِیُّ فِی شُعَبِ الْاِیْمَانِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِہٖ مَنْ جَعَلَ الْھُمُوْمَ اِلٰی اٰخِرِہٖ۔
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر اہل علم (یعنی علماء) علم کی حفاظت کریں اور علم کو اس کے اہل ہی (یعنی قدر دانوں) کے سامنے رکھیں تو وہ بیشک اپنے علم کے سبب دنیا والوں کے سردار بن جائیں لیکن (علماء) نے اگر ایسا نہیں کیا بلکہ انہوں نے علم کو دنیا داروں پر خرچ کیا تاکہ اس کے ذریعہ وہ دنیا (یعنی جاہ و جلال) کو حاصل کریں اور علم کا حقیقی مقصد یعنی دنیا والوں کی ہدایت و نصیحت کو موقوف کردیں تو وہ دنیا والوں کی نظر میں ذلیل ہوئے۔ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی نے اپنے مقاصد میں سے صرف ایک مقصد یعنی آخرت کے مقصد کو اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیاوی مقصد کو پورا کردیتا ہے جس آدمی کے مقاصد پراگندہ ہوں جیسے کہ دنیا کے حالات ہیں تو پھر اللہ کو پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ خواہ کسی جنگل (یعنی دنیا کی کسی حالت) میں ہلاک ہو۔ (ابن ماجہ، بیہقی نے اس حدیث کو شعب الایمان میں عبداللہ ابن عمر ؓ سے قول من جعل الھموم سے آخر تک روایت کیا ہے۔
تشریح
یہ حدیث علماء کو احساس و شعور کی ایک دولت بخش رہی ہے اور علم کے سب سے اعلیٰ و بلند مقام کی نشاندہی کر رہی ہے چناچہ عبداللہ ابن مسعود ؓ کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ علماء اپنا مرتبہ و مقام پہچانیں اور وہ جس عرفانی مقام پر فائز ہیں اس کی اہمیت و نزاکت کا احساس کریں۔ اس لئے کہ علم دین جن بلندو اعلیٰ احساسات کا حامل ہے اسی طرح وہ اپنا ظرف بھی بلندو اعلیٰ چاہتا ہے۔ علم کی شان عظمت ہی یہ ہے کہ وہ قدر دانوں اور باشعور اشخاص کے پاس رہے۔ اگر حصول جاہ و جلال کی خاطر علم کو دنیا دار سرداروں اور ظالموں کی چوکھٹ کا سجدہ ریز بنایا جاتا ہے تو یہ علم کی سب سے بڑی توہین اور عالم کی سب سے بڑی ذلت ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ ایک بات اس سے بڑی فرما رہے ہیں۔ وہ کہتے کہ دنیاوی اعتبار سے سرداری، شوکت و حشمت اور عزت و عظمت کوئی بڑی چیز نہیں ہے بلکہ اصل اور حققیی سرداری و امارت تو وہ ہے جو فضل و کمال اور بزرگی کے اعتبار سے ہو یہی وجہ ہے کہ علماء کی یہ شان نہیں ہوا کرتی کہ وہ بادشاہ و امیر بنیں یا حاکم و سردار ہوں، وہ تو علم و فضل اور بزرگی کی طاقت سے دنیا کے روحانی تاجدار ہوتے ہیں اور لوگوں کے دل و دماغ پر حکمران ہوتے ہیں اور ان کے ماسواء ان کے زیر قدم، زیر قلم اور ان کی عقل و احکام کے تابع دار ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن شاہد ہے آیت ( يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ )۔ (58۔ المجادلۃ 11) یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے ان کے جو ایمان لائے اور جن کو علم دیا گیا درجات بلند کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ بندہ کا احساس اور اس کا شعور اتنا پاکیزہ اور لطیف ہوجانا چاہئے کہ اس کے دل و دماغ کے ایک ایک گوشہ میں صرف ایک ہی مقصد کی روشنی ہو اور وہ مقصد آخرت ہے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی مقصد نہ ہو اور کوئی غرض نہ ہو تو پھر اللہ کی جانب سے اس پر دنیاوی وسعت کے دروازے بھی خود بخود کھول دیئے جاتے ہیں۔ لیکن بندہ کا دل و دماغ اگر اتنا پر اگندہ ہو کہ وہ ہمہ وقت دنیا کی چیزوں میں تو لگا رہے اور دنیا کے تفکرات میں مستغرق رہے تو اللہ کی جانب سے اس کے ساتھ کوئی اچھا معاملہ نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ اللہ اس سے اتنا بےتعلق ہوجاتا ہے کہ اگر وہ بندہ دنیا کی کسی تکلیف اور کسی بھی مصیبت میں ہلاک ہوجائے تو اللہ کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی اور نہ دنیاوی اعتبار سے اور نہ دینی اعتبار سے رحمت الٰہی کی نظر کرم اس کی طرف ہوتی ہے۔ اس طرح وہ دنیا و آخرت دونوں جگہ کے خسران و نقصان میں مبتلا ہوجاتا ہے۔