علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَنَسِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمِ وَمُسْلِمَۃِ وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَیْرِ اَھْلِہٖ کَمُقَلِّدِ الْخَنَازِیْرِ الْجَوْھَرَوَاللُّؤْلُؤْوَالذَّھَبَ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَی الْبَیْھَقِیُّ فِی شُعَبِ الْاِیْمَانِ اِلٰی قَوْلِہٖ مُسْلِمِ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ مَتْنُہ، مَشْھُوْرٌوَاِسْنَادُہ، ضَعِیْفٌ وَقَدْرُوِیَ مِنْ اَوْجُہِ کُلُّھَا ضَعِیْفٌ۔
اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم نے فرمایا۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے اور نااہل کو علم سیکھانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی آدمی سور کے گلے میں جواہرات، موتیوں اور سونے کا ہار ڈال دے۔ (ابن ماجہ) اور بیہقی نے اس روایت کو شعب الایمان میں لفظ مسلم تک نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کا متن مشہور ہے اور اسناد ضعیف ہیں اور یہ حدیث مختلف طریقوں سے بیان کی گی ہے اور وہ سب ضعیف ہیں۔ (ابن ماجہ)
تشریح
اس حدیث سے علم کی اہمیت و عظمت اور اس کی ضرورت واضح ہوتی ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت کے لئے علم کا حاصل کرنا ضروری ہے، اس لئے کہ انسان جس مقصد کے لئے خلیفۃ اللہ بنا کر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے وہ بغیر علم کے پورا نہیں ہوسکتا۔ انسان بغیر علم کے نہ اللہ کی ذات کو پہچانتا ہے اور نہ اسے اپنی حقیقت کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ یہاں علم سے مراد علم دین ہے جس کی ضرورت زندگی کے ہر دور اور ہر شعبہ میں پڑتی ہے، مثلاً جب آدمی مسلمان ہوتا ہے یا احساس و شعور کی منزل کو پہنچتا ہے تو اسے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کرے اور عرفان الہٰی کی مقدس روشنی سے قلب و دماغ کی ہر ظلمت و کجروی کو ختم کرے۔ اسی طرح رسول کی نبوت و رسالت کا جاننا یا ایسی چیزوں کا علم حاصل کرنا جن پر ایمان و اسلام کی بنیاد ہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ پھر جب عملی زندگی سے اسے واسطہ پڑتا ہے تو اسے ضرورت ہوتی ہے کہ اعمال کے احکام کا علم ہو۔ یعنی جب نماز کا وقت آئے گا تو اس پر نماز کے احکام و مسائل سیکھنا واجب ہوگا۔ جب رمضان آئے گا تو روزے کے احکام معلوم کرنا اس کے لئے ضروری ہوگا۔ اگر اللہ نے اسے مالی وسعت دی ہے اور صاحب نصاب ہے تو زکوٰۃ کے مسائل جاننا ضروری ہوگا۔ جب شادی کی تو بیوی کو گھر میں لایا تو حیض و نفاس کے مسائل طلاق وغیرہ اور ایسی چیزیں جن کا تعلق میاں بیوی کی باہمی زندگی اور ان کے تعلقات سے ہے ان کا علم حاصل کرنا واجب ہوگا۔ اسی طرح تجارت و زراعت اور خریدو فروحت کے احکام و مسائل سیکھنا بھی واجب ہوگا گویا زندگی کا کوئی شعبہ ہو خواہ اعتقادات ہوں یا عبادات، معاملات ہوں یا تعلقات، تمام چیزوں کی بصیرت حاصل کرنا اور ان کو جاننا سیکھنا اس پر فرض ہوگا، اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو اس کی وجہ سے وہ ہر جگہ حدود شریعت سے تجاوز کرتا رہے گا اور دینی احکام و مسائل سے ناواقفیت کی بنا پر اس کا ہر فعل و عمل خلاف شریعت ہوگا جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوگا۔ بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں علم سے مراد علم اخلاص اور آفات نفس کی معرفت ہے۔ یعنی ہر مسلمان مرد و عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ نفس کی تمام برائیوں مثلاً حسد، بغض، کینہ اور کدورت کو پہچانیں اور ان چیزوں کا علم حاصل کریں جو اعمال خیر کو فاسد کرتی ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علم کی مقدس روشنی تو انہیں کے نصیب میں ہوتی ہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں اور جن کی صلاحیت طبع کا میلان اس طرف ہوتا ہے نیز جس کی جتنی استعداد و صلاحیت ہوتی ہے اسے علم سے اتنا ہی حصہ ملتا ہے۔ لہٰذا علم سکھانے میں اس بات کا خیال بطور خاص رکھنا چاہئے کہ جس کی جتنی استعداد ہو اور وہ جس معیار کی صلاحیت رکھتا ہو اسی اعتبار سے اسے علم سکھایا جائے۔ یہ نہ ہونا چاہئے کہ کسی آدمی کی استعداد و صلاحیت تو انتہائی کم درجہ کی ہے مگر علم اسے انتہائی اعلیٰ وارفع سکھایا جا رہا ہو اسی طرح ہر علم کے سکھانے کا موقع و محل ہوتا ہے۔ جو علم جس موقع پر ضروری ہو اور جس علم کا جو محل ہو اس کے مطابق سکھایا جائے۔ مثلاً اگر کوئی آدمی عوام اور جہلاء کے سامنے یکبارگی تصوف کے اسرار و معانی اور اس کی باریکیاں بیان کرنے لگے تو انہیں اس سے فائدہ ہونا تو الگ رہا اور زیادہ گمراہ ہوجائیں گے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِی مُنَافِقِ حُسْنُ سَمْتِ وَلَا فِقْہٌ فِی الدِّیْنِ۔ (رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ دو خصلتیں ایسی ہیں جو منافق میں جمع نہیں ہوتیں۔ ایک تو خلق نیک دوسری دینی سمجھ۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں اس بات کی رغبت دلائی جا رہی ہے کہ یہ دو وصف چونکہ ایسے ہیں جو مخلص مومن ہی کا حصہ ہیں اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ دونوں خصلتوں کو اپنے اندر پیدا کرلے یعنی نیک عادتیں، اچھے اخلاق اور بہترین اوصاف کے جوہر اپنے اندر سموئے اور علم حاصل کر کے دینی سمجھ پیدا کرے۔ علامہ تور بشتی (رح) فرماتے ہیں کہ تفقہ فی الدّین یعنی دینی سمجھ کی حقیقت یہ ہے کہ دل میں دین کی معرفت جاگزیں ہو پھر زبان سے اس کا اظہار ہو اور اس کے مطابق عمل کرے جس کے سبب سے خوفِ اللہ اور تقویٰ حاصل ہو۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَنَسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ خَرَجَ فِی طَلَبِ الْعِلْمِ فَھُوَفِی سَبِیْلِ اﷲِ حَتّٰی یَرْجِعَ۔ (رواہ الجامع ترمذی والدارمی)
اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جو آدمی گھر سے علم حاصل کرنے کے لئے نکلا تو وہ جب تک کہ (گھر) واپس نہ آجائے اللہ کی راہ میں ہے۔ (جامع ترمذی، درامی)
تشریح
اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اپنے عزیز و اقا رب کو چھوڑ کر ماں باپ کی محبت و شفقت سے منہ پھیر کر اور اپنے گھر بار کی تمام راحتیں ترک کر کے علم دین حاصل کرنے کے لئے اپنے وطن و شہر سے نکلتا ہے خواہ وہ علم فرض عین ہو یا فرض کفایہ یعنی ضرورت و حاجت سے زیادہ، تو وہ طالب علم مجاہد فی سبیل اللہ کے مرتبہ کا ہوتا ہے جو ثواب اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو ہوتا ہے وہی ثواب اس طالب کو بھی ملتا ہے، اس لئے کہ جس طرح ایک مجاہد سر پر کفن باندھ کر محض اس جذبہ سے میدان جنگ میں پہنچتا ہے کہ وہ اللہ کے دین کو سر بلند کرے اور اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے نام کا بول بالا کرے اسی طرح طالب علم محض اس مقصد کے لئے علم دین حاصل کرنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے تاکہ وہ اپنے نفس کی تمام خواہشات کو ختم کر کے اور کسر نفسی اختیار کر کے علم الہٰی کی مقدس روشنی سے ظلم و جہل کی تمام تاریکیوں کو دور کردے، اللہ کے دین کو تمام عالم میں پھیلائے اور شیطان کے مکر و فریب سے لوگوں کو محفوظ رکھ کر شیطان کو ذلیل و خوار کرے۔ لہٰذا یہ جب تک علم حاصل کر کے اپنے گھر واپس نہیں آجاتا برابر میدان جِہاد کا ثواب حاصل کرتا رہتا ہے۔ پھر اس حدیث میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جب طالب علم حصول علم سے فارغ ہو کر اپنے گھر واپس آجاتا ہے تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ اور درجہ پاتا ہے کیونکہ جب وہ تعلیم کو مکمل کر کے لوٹتا ہے تو دنیا میں علم و معرفت کی روشنی پھیلانے، لوگوں کو تعلیم دینے اور انسانی زندگی کو علم و عمل سے کامل کرنے کے لئے ایک مصلح اور معلم کی حیثیت میں آتا ہے جس کی وجہ سے وہ وارث انبیاء کے معزز و مقدّس لقب سے نوازا جاتا ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ سَخْبَرَۃَ الازْدِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کَانَ کَفَّارَۃً لِّمَا مَضَی رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَالدَّرِامِیُّ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ ضَعِیْفُ الْاِسْنَادِ وَ اَبُوْدَ اؤدَ الرَّاوِیُّ یُضَعَّفُ۔
اور حضرت سنجرہ ازدی ؓ (اسم گرامی سنجرہ ؓ اور کنیت ابوعبداللہ ہے آپ ازدی ہیں بعض اسدی بتاتے ہیں) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جو آدمی علم طلب کرتا ہے تو وہ اس کے گزرے ہوئے (صغیرہ) گناہوں کے لئے کفارہ ہوجاتا ہے۔ اس حدیث کے ایک راوی ابوداؤد (روایت حدیث میں) ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَنْ یَّشْبَعَ الْمُؤْمِنُ مِنْ خَیْرِ یَّسْمَعَہُ حَتّٰی یَکُوْنَ مُنْتَھَاہُ الْجَنَّۃَ۔ (رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ مومن بھلائی (یعنی علم) سے سیر نہیں ہوتا وہ اس کو سنتا (یعنی حاصل کرتا) ہے یہاں تک کہ اس کی انتہا جنت ہوتی ہے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
طلب علم، ایمان کا خاصہ ہے چونکہ ایمان نور ہی نور ہے اس لئے وہ علم کو جو نور الہٰی ہے پوری طرح سے اپنے اندر جذب کرلینا چاہتا ہے۔ اسی لئے فرمایا جا رہا ہے کہ جب انسان کا قلب و دماغ ایمان کی روشنی سے منوّر ہوجاتا ہے تو وہ علم و معرفت کے نور سے انسانی معراج کی انتہائی بلندیوں تک پہنچ جانا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مومن کا پیٹ علم سے کبھی نہیں بھرتا وہ جوں جوں علم کی بلندیوں پر پہنچتا رہتا ہے اس کی خواہش و تمنا یہی رہتی ہے کہ وہ اس منزل کی آخری حدود تک پہنچ جائے اگرچہ علم کا میدان چونکہ اتنا وسیع ہے کہ اگر انسان اپنی بڑی سے بڑی زندگی کے ساتھ بھی ایک لمحہ گزارے بغیر اس میں دوڑتا رہے تو وہ اس کی انتہائی حدود کو نہیں پہنچ سکتا، مگر اس کے باوجود مومن تمام عمر علم کی تلاش میں رہتا ہے اور وہ عمر کے آخری حصے تک علم کے دامن کو چھوڑنا نہیں چاہتا یہاں تک کہ اس کی زندگی اپنے مقررہ وقت پر آکر ختم ہوجاتی ہے اور وہ علم اس صادق طلب اور سچی دھن کے عوض جس میں وہ زندگی بھر مصروف رہا جنت کی ابدی سعادتوں سے نوازا جاتا ہے۔ در حقیقت اس حدیث میں طالب علم اور اہل علم کے لئے بڑی عظیم خوشخبری ہے کہ یہ لوگ اس دنیا سے ایمان کے ساتھ رخصت ہوتے ہیں اور رضائے مولیٰ سے ان کا دامن پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر اہل اللہ اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک حصول علم میں منہمک رہے ہیں باوجودیکہ ان کی علمی فضیلت و عظمت انتہائی درجہ کی ہوتی تھی مگر وہ اس سعادت کے حصول کی خاطر طلب علم میں ہمیشہ مشغول رہتے تھے۔ اس سلسلہ میں اتنی بات بھی ذہن میں رکھ لینی چاہئے کہ علم کا دائرہ بہت وسیع ہے اور یہ اپنے بہت سے گوشوں پر حاوی ہے اس لئے وہ حضرات جو تصنیف و تالیف اور تعلیم و تعلّم میں مشغول رہتے ہیں وہ بھی دراصل طالب علم میں ہی مشغول ہوتے ہیں اس لئے ان کو بھی طلب علم اور تکمیل علم کا ثواب ملتا ہے اور وہ اسی زمرہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمِ عَلِمَہ، ثُمَّ کَتَمَہ، اُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامِ مِّنْ نَّارِ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِیُّ۔ (ورواہ ابن ماجۃ عن انس)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ جس آدمی سے علم کی کوئی ایسی بات پوچھی گئی جو اسے معلوم تھی مگر اس نے چھپایا (یعنی بتایا نہیں) تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ سنن ابوداؤد، جامع ترمذی اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی )
تشریح
اس حدیث میں ایسے عالم کے بارے میں و عید بیان کی جا رہی ہے جو دینی باتیں معلوم ہونے کے باوجود لوگوں کو نہیں بتاتا اور سائل کو جواب نہیں دیتا۔ مگر یہ وعید ایسے علم کے بارے میں ہے جس کی تعلیم ضروری اور واجب ہو۔ مثلاً کوئی آدمی اسلام لانے کا ارادہ کرے اور کسی عالم سے کہے کہ اسلامی تعلیمات سے مجھے آگاہ کرو اور بتاؤ کہ اسلام کیا چیز ہے یا وہ نماز کے وقت عالم سے پوچھتا ہے کہ نماز کے جو احکام و مسائل ہیں ان سے مجھے آگاہ کرو، یا کسی حلال و حرام چیز کا کوئی فتوٰی معلوم کرنا چاہتا ہے تو ان سب چیزوں کا جواب دینا اور جہاں تک اسے معلوم ہوں صحیح صحیح بات بتانا عالم کے لئے ضروری اور واجب ہے۔ البتہ نوافل و مباح چیزوں کے بارے میں یہ حکم نہیں ہوگا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ طَلَبَ الْعِلْمُ لِیُجَارِیَ بِہِ لْعُلَمَآءَ اَوْلِیُمَارِیَ بِہِ السُّفَھَآءَ اَوْیَصْرِفَ بِہٖ وُجُوْہَ النَّاسِ اِلَیْہٖ اَدْخَلَہُ اﷲُ النَّارْرَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔
اور حضرت کعب ابن مالک ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی نے علم کو اس غرض سے حاصل کیا کہ اس کے ذریعے علماء پر فخر کرے، بیوقوفوں سے جھگڑے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کی آگ میں داخل کرے گا۔ جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
علم اپنی لطافت اور نورانیت کے سبب ریاکاری، خودنمائی، غرور وتکبر اور بےجا فخر و مباہات کی غلاظتوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔ جب علم کی اوّلین کرن یہی چاہتی ہے کہ وہ انسان کے دل و دماغ سے ظلم و جہل کی ہر تاریکی کو دور کر دے تو یہ کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے کہ ایک عالم جس کے دماغ میں علم کی مقدّس روشنی بھری ہو، ان غیر اسلامی وغیر اخلاقی چیزوں کا مظاہرہ کرے۔ علم کا تقاضا تو یہ ہے کہ ایک انسان تہذیب و شرافت اور تعلیم و ترقی کی انتہائی بلندیوں پر ہونے کے باوجود بھی سراپا انکسار متواضع بنا رہے، ریاکاری و خودنمائی سے الگ رہے اور اخلاق و احسان کی زندگی اختیار کئے رہے۔ اس لئے فرمایا جارہا ہے کہ اگر کوئی علم محض دینوی منفعت اور ذاتی وجاہت و عزت کی خاطر حاصل کرتا ہے۔ اگر اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ علم حاصل کرنے کے بعد لوگ ہماری طرف متوجہ ہوں، عوام پر اپنی علم دانی کا سکّہ جما کر ان سے مال و دولت حاصل کیا جائے علم کو دنیا کے کاروبار اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے آلہ کار بنایا جائے اور نہ صرف یہ بلکہ علم حاصل کرنے کے بعد وہ علماء حق کے ساتھ غرور وتکبر کا معاملہ کرتا ہے، جاہلوں سے خواہ مخواہ الجھتا رہتا ہے، لوگوں کے سامنے بےجا فخر و مباہات کا مظاہرہ کرتا ہے۔ تو ایسے عالم کو کان کھول کر سن لینا چاہئے کہ چاہے وہ دنیاوی اعتبار سے اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائے اور تقدیر الہٰی اس کی خواہشات اور اغراض کی سیادت و وجاہت بلکہ اس کو اس عدم اخلاص کی سزا بایں طور بھگتنی ہوگی کہ اسے جہنم کے شعلوں کے حوالے کردیا جائے گا۔ ہاں، ایسا آدمی جو پہلے اپنی نیت میں مخلص تھا، اس کے ارادہ میں کسی قسم کو کوئی کھوٹ نہیں تھا اور اس کا مقصد حاصل کرنے سے محض اعلاء کلمۃ اللہ اور رضائے مولیٰ تھا مگر بعد میں بتقضائے فطرت و انسانی جبلت اس کی نیت میں کھوٹ پیدا ہوگیا اور اس میں نمود و نمائش اور ریاکاری کا اثر ہوگیا تو وہ اس حکم میں داخل نہیں ہوگا کیونکہ اس معاملہ میں بہر حال وہ معذور ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یُبْتَغَی بِہٖ وَجْہُ اﷲِ لَا یَتَعَلَّمَہ، اِلَّا لِیُصِیْبَ بِہٖ عَرَضًا مِنَ الدُّنْیَا لَمْ یَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَعْنِی رِیْحَھَا۔(رواہ مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد و ابن ماجۃ)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس نے اس علم کو جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کی جاتی ہے، اس غرض سے سیکھا کہ وہ اس کے ذریعہ دنیا کی متاع حاصل کرے تو قیامت کے دن اسے جنت کی خوشبو بھی میسر نہیں ہوگی۔ (مسند احمد بن حنبل، ابوداؤ، ابن ماجہ)
تشریح
جو کوئی علم دین محض اس لئے حاصل کرے کہ اس کے ذریعہ دنیا کی دولت و عزت سمیٹے اور اسے حصول دنیا کے لئے وسیلہ بنائے تو اس کے لئے یہ وعید بیان فرمائی جارہی ہے۔ ہاں اگر علم دینی نہ ہو دنیاوی ہو تو اس کو اس مقصد کے لئے اسے حصول دنیا کے لئے وسیلہ اور ذریعہ معاش بنا لیا جائے گا حاصل کرنا کوئی برا نہیں ہے لیکن اس میں بھی یہ شرط ہے کہ وہ علم ایسا نہ ہو جس کے حصول کو شریعت درست قرار نہیں دیتی۔ مثلاً علم نجوم وغیرہ یا دوسرے ایسے علوم جو عقیدہ و عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس حدیث میں یہ کہنا کہ ایسا عالم جس کی نیت حصول علم کے سلسلہ میں خالصاً اللہ کی رضا نہ ہو اسے جنت کی خوشبو بھی میسر نہیں آئے گی، یہ کنایہ ہے بہشت میں عدم دخول سے اور مبالغہ ہے محرومی جنت میں اور اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا آدمی مخلص اور مقرب بندوں کے ہمراہ، بغیر عذاب کے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم نَضَّرَ اﷲُ عَبْدًاسَمِعَ مَقَالَتِی فَحَفِظَھَا وَوَعَاھَا وَاَدَّاھَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہِ غَیْرُ فَقِیْہِ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہِ اِلٰی مَنْ ھُوَ اَفْقَہ، مِنْہ،۔ ثَلَاثٌ لَا یَغُلُّ عَلَیْھِنَّ قَلْبُ مُسْلِمِ، اِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلّٰہِ وَالنَّصِیْحَۃُ لِلْمُسْلِمِیْنَ وَلُزُوْمُ جَمَا عَتِھِمْ فَاِنَّ دَعْوَتَھُمْ تُحِیْطُ مِنْ وَّرَائِھِمْ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَالبَیْھَقِیُّ فِی الْمَدْخَلِ وَرَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِیُّ وَاَبُوْدَاؤدَ وَابْنُ مَاجَۃً وَالدَّارِمِیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتِ اِلَّا اَنَّ التِّرْمِذِیَّ وَاٰبَا دَاوُدَ لَمْ یَذْکُرَا ثَلَاثٌ لاَ یَغُلُّ عَلَیْھِنَّ اِلٰی اٰخِرِہٖ۔
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اس بندہ کو تر و تازہ رکھے (یعنی اس کی قدر و منزلت بہت کافی ہو اور اسے دین و دنیا کی خوشی و مسرت کے ساتھ رکھے) جس نے میری کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا اور ہمیشہ یاد رکھا اور اس کو جیسا سنا ہو پہر لوگوں تک پہنچایا۔ کیونکہ بعض حامل فقہ (یعنی علم دین کے حامل) فقیہ (یعنی سمجھ دار) نہیں ہوتے اور بعض حامل فقہ ان لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ (سمجھ دار) ہوتے ہیں۔ اور تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا۔ ایک تو عمل خاص طور پر اللہ کے لئے کرنا، دوسرے مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرنا اور تیسرے مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا۔ اس لئے کہ جماعت کی دعا ان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ (شافعی، بیہقی)
تشریح
مطلب یہ کہ حدیث کو محفوظ اور یاد رکھنے والے بعض تو ایسے ہوتے ہیں جو خود زیادہ سمجھ دار نہیں ہوتے اور بعض سمجھ رکھتے ہیں لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ جس کے سامنے حدیث بیان کرتے ہیں وہ ان سے زیادہ سمجھ رکھتا ہے لہٰذا چاہئے کہ حدیث جس طرح سنی جائے اسی طرح دوسروں تک اسے پہنچایا جائے تاکہ جس کو حدیث پہنچائی جارہی ہے اور جس کے سامنے بیان کی جارہی ہے وہ حدیث کا مطلب بخوبی سمجھ لے۔ اس حدیث سے اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ راویان حدیث کو چاہئے کہ وہ حدیث کو جن الفاظ میں سنیں بعینہ انہیں الفاظ میں نقل کریں۔ یغل اگر یاء کے زبر اور غین کے زیر کے ساتھ ہو تو اس کے معنی حقد یعنی کینہ کے ہوتے ہیں اور اگر یا کے پیش اور غین کے زبر کے ساتھ ہو یا حرفِ یا کے زبر غین کے پیش کے ساتھ ہو تو اس کے معنی خیانت کے ہوجاتے ہیں چناچہ فرمایا جا رہا ہے کہ مومن ان تین چیزوں میں خیانت نہیں کرتا یعنی مومن کے اندر یہ تینوں چیزیں ضرور پائی جاتی ہیں اور جب مومن سے یہ تینوں اعمال صادر ہوتے ہیں تو اس میں کینہ داخل ہوتا کہ وہ ان چیزوں سے منحرف کردے۔ خلوص عمل کا مطلب اور اس کا انتہائی درجہ یہ ہے کہ بندہ جو عمل کرے وہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضاء کے لئے کرے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد کوئی دوسرا نہ ہو، نہ کوئی دنیوی غرض ہو اور نہ کوئی اخروی منفعت صرف رضائے مولا ہی سامنے ہو اور وہی حاصل مقصد پھر اس میں بھی دو درجے ہوجاتے ہیں۔ عام لوگوں کا جو خلوص عمل ہوتا ہے وہ خاص یعنی اہل اللہ کے خلوص عمل سے کمتر درجہ کا ہوتا ہے کیونکہ یہ لوگ اپنی ریاضت و مجاہدہ اور تلعق مع اللہ کی بنا پر خلوص کی انتہائی بلندیوں تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کا طریقہ یہ ہے کہ حتی المقدور اپنے دوسرے بھائیوں کو خیر و بھلائی کی نصیحت کرتا رہے اور انہیں سیدھی راہ پر لگانے کی کوشش کرتا رہے، نیز دنیاوی اعتبار سے ان کی امداد و اعانت کرے اور ان کی ہر مشکل میں خبر گیری رکھے۔ مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنے کے معنی یہ ہیں کہ زندگی کے ہر مرحلہ پر اجتماعیت کے اصول پر کار بند رہے اور اپنے آپ کو کبھی انفرادیت کی راہ پر نہ ڈالے، علماء دین اور علمائے امت کے متفقہ عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ کی موافقت کرتا رہے اور ان کے ساتھ رہے۔ مثلاً نماز جمعہ اور جماعت وغیرہ میں ان لوگوں کے ہمراہ رہ کر اجتماعیت کو فروغ دے تاکہ اسلامی طاقت و قوت میں بھی اضافہ ہو اور رحمت الٰہی کے نزول کا سبب بھی کیونکہ جماعت پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ لفظ من و رائھم مشکوۃ کے بعض نسخوں میں میم کے زیر کے ساتھ ہے اور بعض نسخوں میں زبر کے ساتھ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ شیطان کے مکر و فریب سے بچنے کے لئے جماعت کو مسلمانوں کی دعا گھیرے ہوئے ہے جس کی بنا پر وہ شیطان کی گمراہی سے بچتے ہیں۔ اس میں اس بات پر تنبیہہ مقصود ہے کہ جو کوئی علمائے دین اور صلحائے امت کی جماعت سے اپنے آپ کو الگ کرلیتا ہے اس کو نہ جماعت کی برکت میسر ہوتی ہے اور نہ مسلمانوں کی دعا حاصل ہوتی ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ نَضَّرَ اﷲُ اِمْرَاً سَمِعَ مِنَّا شَیْئًا فَبَلَّغَہ، کَمَا سَمِعَہُ فَرُبَّ مُبَلَّغِ اَوْعٰی لَہُ سَامِعِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَاہُ الدَّرِامِیُّ عَنْ اَبِی الدَّرْدَآئِ۔
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی کو تازہ رکھے (یعنی خوش اور باعزت رکھے) جس نے مجھ سے کوئی بات سنی اور جس طرح سنی تھی اسی طرح اس کو پہنچا دیا چناچہ اکثر وہ لوگ جنہیں پہنچا دیا جاتا ہے سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔ (جامع ترمذی سنن ابن ماجہ) اور دارمی نے اس حدیث کو ابوداؤد سے روایت کیا ہے۔
تشریح
رسول اللہ ﷺ کی مقدس احادیث کو سننا، ان کے احکام پر عمل کرنا اور ان احادیث کو دوسرے لوگوں تک پہنچانا سعادت و برکت اور دین و دنیا میں فلاح و کامیابی کا ذریعہ ہے اس پر پوری امت کا عقیدہ و ایمان ہے کہ احادیث نبوی کی تعلیم و تعلّم دونوں جہان کی خوش نصیبی اور رضائے الہٰی کا سبب ہے لیکن اس کے باوجود علماء لکھتے ہیں کہ اگر حدیث کے حاصل کرنے، اس کے یاد رکھنے اور اس کو دوسروں تک پہنچانے میں اگر بفرض محال کوئی فائدہ نہ ہوتا تو احادیث کی عظمت و رفعت کی بنا پر دین و دنیا دونوں جگہ حصول برکت و رحمت کے لئے رسول اللہ ﷺ کی یہ مقدّس دعا ہی کافی ہوتی۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِتَّقُوا الْحَدِیْثَ عَنِّی اِلَّا مَا عَلِمْتُمْ فَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّا مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ وَّ جَابِرِ وَلَمْ یَذْکُرْ اِتَّقُوْا الْحَدَیْثَ عَنِّی اِلَّا مَاعَلِمْتُمْ۔
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میری جانب سے حدیث بیان کرنے سے بچو مگر! اس حدیث کو بیان کرو جسے تم (سچ) جانو۔ چناچہ جس آدمی نے (جان کر) مجھ پر جھوٹ بولا اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تلاش کرے۔ (جامع ترمذی) اور سنن ابن ماجہ نے اس حدیث کو عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے اور (حدیث کے پہلے جزء) میری جانب سے حدیث بیان کرنے سے بچو جسے تم جانو کا ذکر نہیں کیا ہے۔
تشریح
مقصد یہ ہے کہ حدیث کے بیان کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے اور جس حدیث کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ معلوم نہ ہو کہ واقعی یہ حدیث آپ ﷺ ہی کی ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہئے۔ انہی احادیث کو بیان کرنا چاہئے جن کے بارے میں یقین یا ظن غالب کے ساتھ یہ معلوم ہو کہ وہ آپ ﷺ ہی کی حدیث ہے تاکہ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کی طرف غلط حدیث کی نسبت نہ ہو اور نہ آپ ﷺ کی جانب جھوٹ بات کا انتساب ہو جس پر اللہ کی جانب سے سخت عذاب کی قید ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِی الْقُرْاٰنِ بِرَاِیْہٖ فَلْیَتَبَوَّا مَقْعَدَہ، مِنَ النَّارِ وَ فِی رِوَایَۃِ مَنْ قَالَ فِی الْقُرْاٰنِ بِغَیْرِ عِلْمِ فَلْیَتَبَوَّا مَقْعَدَہ، مِنَ النَّارِ۔ (رواہ الجامع ترمذی )
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی نے قرآن کے اندر اپنی عقل سے کچھ کہا اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں تلاش کرے اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جس آدمی نے بغیر علم کے قرآن میں کچھ کہا اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تلاش کرے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
جس طرح حدیث بیان کرنے میں احتیاط سے کام لینے کی ہدایت کی گئی ہے اسی طرح قرآن کا ترجمہ کرنے اور اس کی تفسیر بیان کرنے کے بارے میں بھی اسی احتیاط سے کام لینے کی ہدایت فرمائی جا رہی ہے کہ آیات کی وہی تفسیر بیان کی جائے جو احادیث سے ثابت اور علماء امت سے منقول ہو اور جس پر نقلاً سند موجود ہو۔ یہ نہ ہونا چاہئے کہ آیتوں کی تفسیر اور ان کے مطالب و مقاصد بیان کرنے میں اپنی عقل اور رائے کو دخل دیا جائے کیونکہ اس طرح قرآن کے معنی و مفہوم میں فرق پیدا ہوجاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ جُنْدُبِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِی الْقُرْاٰنِ بِرَاِیْہٖ فَاَصَابَ فَقَدْ اَخْطَأَ۔(رواہ الجامع ترمذی و ابوداؤد)
اور حضرت جندب ؓ (آپ کا اسم گرامی جندب ابن عبداللہ بجلی علقی ہے حضرت عبداللہ ابن زبیر اور یزید کے حامیوں میں جو جنگ چل رہی تھی اس وقت یہ حیات تھے اس فتنہ کے چار دن بعد آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہا اور وہ حقیقت و واقع کے مطابق بھی ہو تو اس نے تب بھی غلطی کی۔ (جامع ترمذی و سنن ابوداؤد)
تشریح
یعنی کسی آدمی نے قرآن کی کسی آیت کی ایسی تفسیر بیان کی جو نہ تو احادیث سے ثابت تھی اور نہ علمائے امت سے منقول بلکہ محض اپنی عقل و رائے پر بھروسہ کر کے آیت کی تفسیر بیان کردی مگر اتفاق سے اس کی بیان کردہ تفسیر صحیح اور حقیقت و واقعہ کے بالکل مطابق ہوئی کہ اس سے آیت کے معنی و مطالب میں کوئی غلطی نہیں ہوئی تو اس کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ یہ بھی اس نے غلطی کی کیونکہ تفسیر گو صحیح ہوئی مگر چونکہ اس نے قصدًا اپنی عقل اور رائے کو قرآن کی تفسیر میں دخل دیا اور تفسیر کا جو شرعی قاعدہ و طریقہ ہے اس سے انحراف کیا اس لئے وہ بھی خطا کار کے حکم میں شامل کیا جائے گا۔ مجتہد کا معاملہ اس کے برعکس ہے کہ اگر مجتہد اپنے اجتہاد میں غلطی بھی کر جائے تو اس پر نہ صرف یہ کہ کوئی مواخذہ نہیں بلکہ اسے ثواب بھی ملتا ہے۔ تفیسر اسے فرماتے ہیں کہ آیت کے جو معنی و مطالب بیان کئے جائیں اس کے بارے میں یہ یقین ہو کہ آیت کی مراد اور اس کا حقیقی مطلب یہی ہے اور یہ بات سوائے اہل تفسیر کی نقل کے جس کی سند رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ہو درست نہیں ہے یعنی ایسا یقین اور اطمیان اسی تفسیر پر صحیح ہوگا جو اجلہ علماء اور مستند مفسرین سے منقول ہو کیونکہ انہوں نے وہی معنی و مطالب بیان کئے ہیں جو براہ راست سرکار دو عالم ﷺ سے منقول ہیں اور جو واسطہ بالواسطہ ان تک پہنچے ہیں۔ تاویل اسے فرماتے ہیں کہ کسی آیت کے معنی و مطالب بیان کرتے ہوئے بطریق احتمال کے یہ کہا جائے کہ میں جو معنی بیان کر رہا ہوں اور آیت کی جو تفسیر کر رہا ہوں ہوسکتا ہے کہ مراد اصلی یہی ہو۔ یہ چیز درست اور صحیح ہے لیکن یہ بھی جب ہی صحیح ہوگی کہ بیان کردہ تفسیر قواعد عربی اور شرع کے مطابق ہو۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ الْمِرَاءُ فِی الْقُراٰنِ کُفْرٌ۔ (رواہ ابوداؤد مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم نے ارشاد فرمایا۔ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ (مسند احمد بن حنبل و سنن ابوداؤد)
تشریح
ان لوگوں کا دائرہ کفر کے قریب کردیا گیا ہے جو قرآن کے معنی و مطالب اور مقاصد و مراد کے تعیین میں جھگڑتے رہتے ہیں اور جس کی عقل میں جو آتا ہے اس کو حق اور صحیح سمجھتے ہوئے ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نیز ایسے کم فہم لوگوں کو جب ظاہری طور پر قرآن کی آیتوں میں معنی و مقصد کے لحاظ سے فرق نظر آتا ہے تو وہ ان میں سے ایک آیت کو ناقابل اعتناء و ناقابل قبول اور ناقابل استشہاد قرار دے کر دوسری آیت کو راجح قرار دے دیتے ہیں۔ گویا اس طرح وہ قرآن ہی کی ایک آیت سے دوسری آیت کو ساقط کردیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا شرعی نقطۂ نظر سے انتہائی جرم ہے بلکہ ایسی شکل میں جبکہ دو آیتوں میں باہم اختلاف و تضاد نظر آئے تو حتی الامکان دونوں میں تطابق اور توافق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر کسی کے لئے یہ ممکن نہ ہو تو اسے یہ اعتقاد کرلینا چاہئے کہ یہ میری کم علمی اور بد فہمی کی بنا پر ہے اور حقیقی مفہوم و مراد کا علم اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سونپ دے کہ وہی بہتر جاننے والے ہیں۔ مثلاً اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ خیر اور شر سب اللہ ہی کی جانب سے ہے اور وہ اپنے اس عقیدہ کی بنیاد اس آیت پر رکھتے ہیں کہ ارشاد بانی ہے۔ آیت ( قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ) 4۔ النساء 78) یعنی (اے محمد ﷺ فرما دیجئے کہ سب کچھ اللہ ہی کی جانب سے ہے۔ اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ اور ان کی دلیل بالکل صحیح اور صاف واضح ہے۔ لیکن اہل قدر اس کی تردید کرتے ہیں اور اس کے برخلاف اپنا عقیدہ یہ قائم کئے ہوئے ہیں کہ خیر کا خالق اللہ ہے اور شر کا خالق اللہ نہیں ہے اور شر کا خالق خود انسان ہے اور اپنے عقیدہ کی بنیاد اس آیت پر رکھتے ہیں جو بظاہر پہلی آیت کے متضاد ہے یعنی ارشاد ربانی ہے۔ آیت (مَا اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ وَمَا اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ ) 4۔ النساء 79) جو کچھ از قسم نیکی تمہیں پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو کچھ از قسم برائی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے نفس کی جانب سے ہے۔ بہر حال اس قسم کے اختلافات اور آیتوں میں تضاد پیدا کرنا منع ہے بلکہ یہ چاہئے کہ اس قسم کی آیتوں میں ایسی آیت پر عمل کیا جائے جس پر مسلمانوں کا اتفاق و اجماع ہو اور دوسری آیت میں ایسی تاویل کی جائے جو شرع کے مطابق ہو، جیسا کہ انہیں دونوں مذکورہ بالا آیت میں دیکھا جائے کہ پہلی آیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ خیر و شر تمام اللہ ہی کی جانب سے ہے اور ہر چیز تقدیر الہٰی کے مطابق ہی ہوتی ہے اس پر عمل کیا جائے۔ اور دوسری آیت کی یہ تاویل کی جائے کہ دراصل اس آیت کا تعلق ما قبل کی آیت سے ہے کہ اس میں منافقین کی برائی اور ان کا عقیدہ بیان کیا جا رہا ہے کہ ان منافقوں کو کیا ہوا ہے جو کہ اس چیز کو جو صحیح اور واضح ہے نہیں سمجھتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ نیکی و بھلائی تو اللہ کی طرف سے ہے اور برائی خود بندہ کے نفس کی جانب سے ہے۔ گویا اس طرح دونوں آیتوں میں تطبیق ہوجائے گی۔ اس طرح دیگر آیتوں میں بھی مطابقت پیدا کی جائے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ سَمِعَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم قَوْمًا یَتَدَارَؤُوْنَ فِی الْقُرْاٰنِ فَقَالَ اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِھٰذَا۔ ضَرَبُوْا کِتَابَ اﷲِ بَعْضَہُ بِبِعْضِ وَاِنَّمَا نَزَلَ کِتَابُ اﷲِ یُصَدِّقُ بَعْضَہُ بَعْضًا فَلَا تُکَذِّبُوا بَعْضَہ، بِبَعْضِ فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْہُ فَقُوْلُوْا وَمَا جَھِلْتُمْ فَکِلُوْہُ اِلَی عَالِمِہٖ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل و ابن ماجۃ)
حضرت عمرو ابن شعیب ؓ ( عمرو ابن شعیب تابعی ہیں، عمرو بن العاص ؓ کے خاندان سے ہیں)۔ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ایک جماعت کے بارے میں سنا کہ وہ آپس میں قرآن کے بارے میں بحث کر رہے ہیں اور جھگڑ رہے ہیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک تم سے پہلے کے لوگ اسی سبب سے ہلاک ہوئے انہوں نے کتاب اللہ کے بعض حصہ کو بعض پر مارا (یعنی آیات میں تضاد اور اختلاف ثابت کیا کہ فلاں آیت فلاں آیت کے مخالف ہے اور یہ آیت فلاں آیت کے مخالف ہے) اور بیشک کتاب اللہ کا بعض حصہ بعض کی تصدیق کرتا ہے لہٰذا تم قرآن کے بعض حصہ کو بعض سے نہ جھٹلاؤ اور اس کے بارے میں جتنا تم جانتے ہو اس کو بیان کرو اور جو نہیں جانتے ہو اسے جاننے والوں کی طرف سونپ دو۔ (مسند احمد بن حنبل و ابن ماجہ)
تشریح
جیسا کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا ہے کہ جن لوگوں کا علم ناقص ہوتا ہے اور جن کے ایمان و عقیدہ میں کمزوری اور ذہن و فکر میں کمی ہوتی ہے وہ آیات میں باہم اختلاف پیدا کرتے رہتے ہیں اور آیت کے حقیقی مفہوم و مراد سے ہٹ کر ان کے ناقص ذہن و فکر میں جو مفہوم آتا ہے اسے بیان کرتے ہیں اور پھر اسی طرز پر اپنے نظریات و اعتقادات کی بنیاد بھی رکھ دیتے ہیں جس کی مثال ماقبل کی حدیث میں بیان کی جا چکی ہے۔ اس کے بارے میں یہاں بھی فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تمہیں کچھ آیتوں میں اختلاف نظر آئے تو اس میں سے ایک کو دوسرے کے ذریعہ ساقط نہ کرو اور نہ اس کی تکذیب کرو بلکہ جہاں تک تمہارا علم مدد کرسکے ان میں تطبیق پیدا کرو، اگر ایسا نہ کرسکو تو پھر تم بجائے اس کے کہ اس میں اپنی عقل و سمجھ کے تیر چلاؤ اس کے حقیقی معنی و مفہوم کا علم اللہ اور اللہ کے رسول کی جانب سونپ دو، یا پھر ایسے علماء و صلحاء جو علم کے اعتبار سے تم سے اعلیٰ و افضل ہوں اور تم پر فوقیت رکھتے ہیں ان سے رجوع کرو۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعِنْ ابْنِ مَسْعُوْدِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اُنْزِلَ الْقُرْاٰنُ عَلَی سَبْعَۃِ اُحْرُفِ لِکُلِّ اٰیَۃِ مِّنْھَا ظَھْرٌوَّ بَطْنٌ وَلِکُلِّ حَدِ مُطَّلَعٌ۔ (رواہ فی شرح النسۃ)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ قرآن کریم سات طرح پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے ہر آیت ظاہر ہے اور باطن ہے اور ہر حد کے واسطے ایک جگہ خبردار ہونے کی ہے۔ (شرح السنۃ)
تشریح
دنیا کی ہر زبان میں فصاحت و بلاغت اور لب و لہجہ کے اعتبار سے مختلف اسلوب اور مختلف لغات ہوتی ہیں۔ اسی طرح عربی زبان میں بھی سات لغات عرب میں مشہور تھیں، اس کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم سات طرح یعنی سات لغات پر نازل ہوا ہے۔ اس سات لغات کی تفصیل اس طرح ہے۔ لغت قریش، لغت طی، لغت ہوازن، لغت اہل یمن، لغت ثقیف، لغت ہذیل اور لغت بنی تمیم۔ قرآن کریم سب سے پہلے قریش کی لغت کے مطابق نازل ہوا تھا جو سرکار دو عالم ﷺ کی لغت تھی لیکن جب تمام عرب میں اس لغت کے مطابق قرآن کا پڑھنا جانا اس لئے دشوار و مشکل ہوا کہ ہر قبیلہ اور ہر قوم کی اپنی ایک مستقل لغت اور زبان کے لب و لہجہ کا الگ الگ انداز تھا تو سرکا دو عالم ﷺ نے بارگاہ الوہیت میں درخواست پیش کی کہ اس سلسلہ میں وسعت بخشی جائے تو حکم دے دیا گیا کہ ہر آدمی قرآن کو اپنی لغت کے مطابق پڑھ سکتا ہے چناچہ حضرت عثمان غنی کے ؓ کے زمانہ تک اسی طرح چلتا رہا اور لوگ اپنی اپنی لغت کے اعتبار سے قرآن پڑھتے رہے۔ لیکن جب حضرت عثمان غنی ؓ نے کلام اللہ کو جمع کیا اور اس کی کتابت کرا کر اسلامی سلطنت کے ہر ہر خطہ میں اسے بھیجا تو انہوں نے اسی لغت کو مستقل قرار دیا جس پر حضرت زید بن ثابت ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق صدیق ؓ کے حکم اور حضرت عمر فاروق ؓ کے مشورہ سے قرآن کو جمع کیا تھا اور وہ لغت قریش تھی، حضرت عثمان غنی ؓ نے یہ حکم بھی فرمایا کہ تمام لغات منسوخ کردی جائیں صرف اس ایک لغت کو باقی رکھا جائے۔ چناچہ حضرت عثمان غنی ؓ کے حکم کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ قرآن صرف ایک لغت میں جمع ہوگیا جس سے دنیا کے ہر خطہ کے لوگوں کے لئے آسانیاں ہوگئیں بلکہ اس کی وجہ سے ایک بڑے فتنہ کی جڑ بھی ختم کردی گئی اور فتنہ یہ تھا کہ لغات کے اختلافات کی وجہ سے مسلمان آپ میں لڑنے جھگڑنے لگے تھے اور نوبت بأیں جا رسد کہ اگر کوئی آدمی کسی دوسرے کو اپنی لغت کے خلاف قرآن پڑھتا دیکھتا تو یہ سمجھ کر کہ صرف میرے قبیلہ ہی کی لغت صحیح ہے اسے کافر کہہ دیا کرتا تھا، چناچہ لغت قریش کے علاوہ جس پر قرآن نازل ہوا تھا بقیہ تمام لغات ختم کردی گئیں اور اگر کوئی لغت باقی بھی رہی تو وہی رہی جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتفاق رہا اور جو سند متصل اور تواتر کے ساتھ آخر میں قراء سبعہ تک پہچنی اس کے علاوہ لغت میں مکرر یعنی امالہ و ادغام وغیرہ کا اختلاف بھی باقی رہا جو آج تک قراء سبعہ میں موجود ہے۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ قرآن سات طرح پر نازل ہوا ہے تو ساتھ طرح سے مراد وہ سات قرأتیں ہیں جو قراء سبعہ پڑھتے ہیں، پھر علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ اگرچہ قرأتیں ساتھ سے زیادہ ہیں لیکن یہاں سات کی تحدید اس لئے کی گئی ہے کہ اختلاف کی بھی سات ہی قسمیں ہیں جن کی طرف یہ سات قرأتیں راجع ہیں۔ جیسے (١) کلمہ کی ذات میں اختلاف یعنی کلمہ میں کمی و زیادتی ہیں۔ (٢) جمع اور مفرد کا اختلاف (٣) مذکر اور مونث کا اختلاف (٤) صرفی اختلاف یعنی تخفیف و تشدید اور فتح و کسرہ وغیرہ کا اختلاف جیسے مَیَّتٌ اور مِیَتٌ یَقنط اور یقنط (٥) اعراب کا اختلاف (٦) حروف کا اختلاف جیسے لکن الشیطین میں نون کی تشدید اور تخفیف (٧) ادائیگی لغات کا اختلاف جیسے تفخیم اور امالہ وغیرہ حدیث کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ ہر آیت کا ظاہر ہے اور باطن ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آیت کے ایک ظاہر معنی ہیں جو تمام اہل زبان سمجھتے ہیں اور ایک باطنی معنی ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کے وہی بندگانِ خاص سمجھتے ہیں جن کے قلب و دماغ معرفت کی روشنی سے بھرپور ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ ہر حد کے واسطے ایک جگہ خبردار ہونے کی ہے حد کے معنی طرف اور نہایت کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ ہر ایک ظاہر اور باطن کی ایک حد اور نہایت ہے اور حد و نہایت کے لئے ایک مطلع یعنی ایسا مقام ہے جس پر پہنچنے اور اس کے حاصل کرنے کے بعد آدمی اس حد اور نہایت پر مطلع ہوتا ہے۔ چنانچہ ظاہر کا مطلع یعنی وہ مقام جس پر پہنچ کر حد اور نہایت معلوم ہوتی ہے، یہ ہے کہ عربی زبان اور اس کے اصول و قواعد سیکھے جائیں، علم صرف و نحو حاصل کیا جائے کہ قرآن کے ظاہری معنی انہیں سے متعلق ہیں، نیز ہر آیت کا شان نزول اور ناسخ و منسوخ کا علم حاصل کرے، یا اسی طرح وہ دوسری چیزیں ہیں جن پر قرآن کے ظاہری معنی کے سمجھنے کا انحصار ہے۔ باطن کا مطلع یہ ہے کہ ریاضت و مجاہدہ کیا جائے، قرآن کے ظاہری معنی اور ان کے احکام کا اتباع اور ان پر عمل کیا جائے نفس کو تمام برائی اور گناہ و معصیت سے پاک و صاف کیا جائے دل کو عبادت الٰہی اور رضائے الہٰی کے نور سے جلا بخشی جائے وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے حصول کے بعد قرآن کے باطنی علوم اور اس کے اصرار و معارف کا قلب انسان پر انکشاف ہوتا ہے۔ امام محیّ السنۃ نے اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ حدیث کے الفاظ ظہر سے مراد قرآن کے الفاظ ہیں اور باطن سے مراد الفاظ کی تاویل ہے۔ مطلع سے مراد فہم یعنی وہ سمجھ ہے جس کی وجہ سے قرآن کے اندر غور و فکر کرنے والے پر قرآن کے جن علوم و معنی اور تاویل کا انکشاف ہوتا ہے وہ دوسروں پر نہیں ہوتا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اَلْعِلْمُ ثَلَاثَۃٌ اٰیَۃٌ مُحْکَمَۃٌ اَوْسُنَّۃٌ قَائِمَۃٌ اَوْ فَرِیْضَۃٌ عَادِلَۃٌ وَمَا کَانَ سِویَ ذٰلِکَ فَھُوَ فَضْلٌ۔ (رواہ ابوداؤد وابن ماجۃ)
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ علم تین ہیں (١) آیت محکم (یعنی مضبوط)۔ (٢) سنت قائمہ (٣) فریضہ عادلہ۔ اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ زائد ہے۔ (سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ دین کے علم تین ہیں، یا یہ کہ علم دین کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔ آیت محکم وہ آیتیں ہیں جو مضبوط اور غیر منسوخ ہیں، اس سے کتاب اللہ کی طرف اشارہ ہے جو کہ اصل قرآن آیات محکمات ہی ہیں اس لئے یہاں صرف انہیں کو ذکر کیا گیا ہے اور وہ دوسرے علوم جو اس کے لئے وسیلہ ہیں وہ بھی اس کے ساتھ متعلق ہیں۔ سنت قائمہ یعنی وہ حدیث جو متن اور اسناد کی مخالفت کے ساتھ ثابت ہیں۔ فریضۃ عادلہ سے اشارہ ہے قیاس اور اجماع کی طرف جو کتاب و سنت سے مستنبط ہوتا ہے۔ اس کو فریضہ اس لئے کہا گیا ہے قیاس و اجماع پر بھی عمل کرنا اسی طرح واجب ہے جس طرح کتاب اللہ و سنت رسول اللہ ﷺ پر چناچہ عادلہ کے معنی ہی یہ ہیں کہ ایسا فریضہ جو کتاب و سنت کے مثل اور عدیل ہے۔ بہر حال حدیث کی توضیح یہ ہوئی کہ دین کے اصول چار ہیں جس پر دین و شریعت کی پوری بنیاد ہے۔ (١) کتاب یعنی قرآن مجید (٢) سنت یعنی احادیث (٣) اجماع (٤) قیاس اور اس کے علاوہ جو بھی علم ہوگا وہ زائد اور دینی حیثیت سے بےمعنی ہوگا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکِ الْاَ شْجَعِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ لَا یَقُسُّ اِلَّا اَمِیْرٌ اَوْ مَامُوْرٌ اَوْ مُخْتَالٌ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَاہُ الدَّارِمِیُّ عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبِ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ جَدِّہٖ وَفِیْ رِوَایِۃِ اَوْمُرَاءِ بَدَلَ اَوْ مُخْتَالِ۔
اور حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ ( اسم گرامی عوف بن مالک اشجعی ہے کنیت ابوعبدالرحمن ہے۔ بعض حضرات نے ابوحماد اور بعض نے عمرو بھی لکھا ہے۔ دمشق میں ٧٣ ھ میں آپ کی وفات ہوئی ہے۔ (اسد الغابہ) راوی ہیں سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تین آدمی قصہ بیان کریں گے، حاکم یا محکوم یا تکبر کرنے والا۔ اور دارمی نے اس حدیث کو عمرو بن شعیب ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے اور دارمی کی روایت میں لفظ مختال یعنی تکبر کرنے والا کی بجائے اومراء (یا ریاکار) ہے۔
تشریح
قصہ بیان کرنے سے مراد و عظ و نصیحت کرنا اور حکایات وقصص بیان کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وعظ و تقریر عمومًا تین آدمی کرتے ہیں ان میں سے دو حق پر ہیں یعنی حاکم و محکوم۔ ان ہی لوگوں کو وعظ بیان کرنا چاہئے۔ تیسرا آدمی متکبر ہے اس کو وعظ نہیں کہنا چاہئے کیونکہ وہ وعظ کہنے کا اہل نہیں ہے۔ گویا حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ وعظ کہنا اوّل تو امیر یعنی حاکم کا حق ہے کیونکہ وہ رعیت پر سب سے زیادہ مہربان ہوتا ہے۔ اور رعایا کی اصلاح کے امور کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر حاکم خود وعظ نہ کہے تو علماء میں سے جو عالم تقویٰ و تقدس میں سب سے افضل و اعلیٰ ہو اور دنیاوی طمع نہ رکھتا ہو، وہ اسے مقرر کرے گا تاکہ وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتا رہے، لہٰذا مامور سے مراد ایک تو وہ عالم ہوگا جس کو حاکم وقت نے رعایا کی اصلاح کے لئے مقرر کیا ہو یا مامور سے مراد دوسرا وہ آدمی ہے جو منجانب اللہ مخلوق کی ہدایت اور اصلاح کے لئے مامور کیا گیا ہو، جیسے علماء کرام اور اولیاء اللہ عظام جو لوگوں کے سامنے وعظ بیان کیا کرتے ہیں اور اللہ کی مخلوق کی اصلاح و ہدایت میں لگے رہتے ہیں، لہٰذا اس حدیث سے ایسے لوگوں پر زجر و توبیخ مقصود ہے جو طلب جاہ اور دولت کی خاطر وعظ بیان کیا کرتے ہیں حالانکہ نہ وہ علمی حیثیت سے اس عظیم منصب کے اہل ہوتے ہیں اور نہ عملی طور پر وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ لوگوں کی اصلاح کرسکیں۔ وعظ بیان کرنا صرف انہی دو آدمیوں کا حصہ ہے اور یہی اس کے مستحق اور اہل ہیں۔ ان کے علاوہ جو وعظ بیان کرے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ازراہِ فخر وتکبر اور حصول جاہ و منفعت کی خاطر یہ کام کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا باعث ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مَنْ اُفْتِیَ بِغَیْرِ عِلْمِ کَانَ اِثْمُہ، عَلَی مَنْ اَفْتَاہُ وَمَنْ اَشَارَ عَلَی اَخِیْہٖ بِاَمْرِ یَّعْلَمُ اَنَّ الرُّشْدَ فِی غَیْرِ ہٖ فَقَدْ خَانَہ،۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا ہوگا تو اس کا گناہ اس آدمی پر ہوگا جس نے اس کو (غلط) فتویٰ دیا ہے اور جس آدمی نے اپنے بھائی کو کسی ایسے کام کے بارے میں مشورہ دیا جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ اس کی بھلائی اس میں نہیں ہے تو اس نے خیانت کی۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
مثلاً ایک جاہل آدمی کسی عالم کے پاس کوئی مسئلہ پوچھنے آیا عالم نے سائل کو اس کے سوال کا صحیح جواب نہیں دیا بلکہ کم علمی یا کسی دوسری وجہ سے غلظ مسئلہ بتادیا۔ اس جاہل نے یہ جانتے ہوئے کہ یہ مسئلہ غلط ہے۔ اس پر عمل کرلیا تو اس کا گناہ اس جاہل آدمی پر نہیں ہوگا بلکہ اس عالم پر ہوگا جس نے اسے غلط مسئلہ بتا کر غلط عمل کرنے پر مجبور کیا لیکن شرط یہ ہے کہ عالم نے اپنے اجتہاد میں غلطی کی ہو۔ حدیث کے دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی آدمی نے اپنے کسی بھائی کی بد خواہی اس طرح چاہی کہ اسے اس چیز کا مشورہ دیا جس کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ اس کی بھلائی اس میں نہیں ہے بلکہ دوسرے امر میں ہے تو یہ اس کی خیانت ہے وہ اپنے غیر اخلاقی وغیر شرعی عمل کی بنا پر خائن کہلاے گا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم نَھٰی عَنِ الْاُغْلُوْطَاتِ۔ (راوہ ابوداؤد)
اور حضرت امیر معاویہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے مغالطہ دینے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
اس ارشاد کا مقصد اس چیز پر تنبیہ ہے کہ علماء سے ایسے مسائل نہ پوچھے جائیں جو مشکل اور پیچیدہ ہونے کی وجہ سے انہیں مغالطہ میں ڈال دیں یا جن سے سائل کا مقصد ہی علماء کو پریشان کرنا اور ان کو مغالطہ میں ڈالنا ہو اس لئے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے بعض حضرات جن کے قلب و دماغ علماء کی عزت و عظمت سے خالی ہوتے ہیں وہ انہیں آزمائش میں ڈالنے یا لوگوں کے سامنے ان کی ہتک کرانے کے لئے ان کے سامنے ایسے مسائل بنا بنا کر پیش کرتے ہیں جن میں وہ چکرا جاتے ہیں اور مغالطہ میں پڑجاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی نے ابتداء ہی میں ایسا سوال کیا تو یہ حرام ہے کیونکہ اس سے ایک مومن کی ایذاء رسانی اور ذہنی تکلیف کا سامان فراہم ہوتا ہے، نیز یہ فتنہ و فساد اور عداوت و نفرت کا سبب ہے، دوسرے یہ کہ ایسے مواقع پر ازراہِ فخر وتکبر اپنی فضیلت و قابلیت کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تمام چیزیں حرام ہیں۔ لیکن اگر ایسی شکل ہے کہ دوسرے نے اس سے ایسا سوال کیا اور اس نے اس کے جواب میں الزاماً ایسا ہی سوال کیا تو یہ حرام نہیں ہے۔