علم اور اس کی فضیلیت کا بیان
علم کیا ہے؟ یہ وہ عظیم وصف ہے جو انسان کو نہ صرف یہ کہ شرافت و تہذیب کا سرمایہ بخشتا ہے عزّت و عظمت کی دولت سے نوازتا ہے، اخلاق و عادات میں جلا پیدا کرتا ہے اور انسانیت کو انتہائی بلندیوں پر پہنچاتا ہے، بلکہ قلب انسانی کو عرفان الہٰی کی مقدّس روشنی سے منوّر کرتا ہے، ذہن و فکر کو صحیح عقیدے کی معراج بخشتا ہے اور دل و دماغ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت گزاری کی راہ مستقیم پر لگاتا ہے۔ اسلام! جو انسان کے لئے ترقی و عظمت کی راہ میں سب سے عظیم مینارۂ نور ہے، وہ اس عظیم و صف کو انسانی برادری کے لئے ضروری قرار دیتا ہے اور اس کے حصول کو دینی و دنیوی ترقی و کامیابی کا زینہ بناتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اسلام ہر اس علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو اسلامی عقیدہ و عمل سے مزاحم ہوئے بغیر انسانی معراج کا ضامن ہو، اسلام کسی بھی علم کے حصول کو منع نہیں کرتا۔ لیکن ایسے علم سے وہ بیزاری کا اظہار بھی کرتا ہے جو ذہن و فکر کو گمراہی کی طرف موڑ دے یا انسان کو اللہ کے رسول سے نا آشنا رکھ کر دہریت کے راستہ پر لگا دے۔ یہاں ( کتاب العلم) کا عنوان قائم کر کے جس علم کی ضرورت و فضیلت پر مشتمل، احادیث بیان کی جارہی ہیں وہ علم دین ہے جو شریعت کی نظر میں بنیادی اور ضروری حیثیت رکھتا ہے۔ دینی علم دوسرے علوم کے مقابلے میں اسلام کی نظر میں سے سب مقدّم اور ضروری ہے جس کا حاصل کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد منقول ہے۔ الحدیث (طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلَّ مُسْلِمٍ )۔ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ظاہر ہے کہ اسلام جس زندگی کا تقاضا کرتا ہے اور انسان کو عبودیت کی معراج پر دیکھنا چاہتا ہے وہ علم دین ہی پر موقوف ہے علم دین کی بناء پر انسان، انسان بنتا ہے اور بندہ اپنی حقیقت کو پہچان کر ذات حق کا عرفان حاصل کرتا ہے، نیز عقیدہ و عمل کی تمام راہیں اسی سے نکلتی ہیں جس پر چل کر بندہ اپنے پروردگار کا حقیقی اطاعت گزار، رسول کا فرماں بردار اور دین و شریعت کا پابند بنتا ہے۔ (علم دین) جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر مشتمل ہے۔ اس کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ اول (مبادی) یعنی وسائل، دوم (مقاصد) مبادی۔ اس علم کو کہتے ہیں جس کے حصول پر کتاب و سنت کی معرفت موقوف ہے، یعنی جب تک یہ علم حاصل نہ کیا جائے قرآن و حدیث کے علوم و معارف کا عرفان حاصل نہیں ہوسکتا مثلاً لغت، صرف و نحو وغیرہ کے علوم کہ جب تک ان کو حاصل نہ کیا جائے اور ان پر نظر نہ ہو کتاب و سنت کا علم صحیح طور پر نہیں آسکتا اور نہ ان کے حقیقی منشا، و مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مقاصد۔ وہ علم ہے جو عقائد، اعمال اور اخلاق سے متعلق ہے۔ یعنی یہی وہ علم ہے جو مقصود بالذات اور فی نفسہ ضروری ہے اور اسی کو حاصل کر کے دین و شریعت کی پابندی کا سیدھا راستہ سامنے آتا ہے۔ ان سب کو علم معاملات بھی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک علم مکاشفہ بھی ہوتا ہے۔ یہ دراصل وہ نور ہوتا ہے جو علم پر عمل کرنے سے قلب میں پیدا ہوتا ہے جس کی مقدّس روشنی سے ہر چیز کی حقیقت واشگاف ہوجاتی ہے اور حق تعالیٰ کی ذات وصفات اور احوال کی معرفت پیدا ہوتی ہے اس علم مکاشفہ کو علم حقیقت اور علم وراثت میں کہتے ہیں جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ الحدیث (مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ وَرَّثَہُ ا مَالَمْ یُعْلَمْ )۔ جو آدمی علم پر عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس چیز کا علم نصیب کرتا ہے جو نہ جانا جاتا ہے اور نہ پڑھا جاتا ہے۔ بہر حال، علم ظاہر و علم باطن کی جو اقسام مشہور ہیں وہ یہی ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور ان دونوں میں بدن و روح اور پوست و مغز کی نسبت ہے۔ نیز علم کی فضیلت میں جو آیتیں وارد ہیں، یا احادیث منقول ہیں وہ ان تمام اقسام کو مراتب درجات کے تفاوت کے ساتھ شامل ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ اٰےَۃً وَّحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِےْلَ وَ لَا حَرَجَ وَ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْےَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ ۔ (رواہ بخاری)
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میری طرف سے پہنچاؤ اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔ اور بنی اسرائیل سے جو قصے سنو لوگوں کے سامنے بیان کرو یہ گناہ نہیں ہے اور جو آدمی قصدًا میری طرف جھوٹ بات منسوب کرے اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں ڈھونڈ لے۔ (صحیح البخاری)
تشریح
آیت سے مراد وہ احادیث ہے جو بظاہر چھوٹی چھوٹی ہیں لیکن افادیت کے اعتبار سے علوم و معارف کر بحر بیکراں اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہیں جیسے ایک چھوٹی سی حدیث ہے کہ الحدیث (من صمت نجا) یعنی جو خاموش رہا وہ نجات پا گیا۔ یا اسی طرح دوسری مختصر مگر جامع احادیث۔ گویا اس جملہ کا مطلب یہ ہوا کہ اگرچہ تم میری کسی ایسی حدیث کو پاؤ جو بااعتبار جملہ و الفاظ کے بہت چھوٹی اور مختصر ہو مگر اس کو دوسروں تک ضرور پہنچاؤ اور اس کی افادیت سے دوسروں کو روشناس کراؤ۔ علماء لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا اصل مقصد علم کو پھیلانے اور دوسروں کو علم کی روشنی سے منوّر کرنے کی ترغیب دلانا ہے کہ جہاں تک ہو سکے علم کے پھیلانے اور دین کی بات کو پہنچانے میں سعی و کوشش کرنی چاہئے۔ ہوسکتا ہے کہ تم جس کو دوسروں تک پہنچا رہے ہو اگرچہ وہ بہت مختصر ہے مگر کیا تعجب کہ اسی سے اس کی دنیا بھی سنور جائے اور دین بھی بن جائے اور وہ راہ ہدایت کو پالے جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ ایک آدمی کی ہدایت ہوگی اور وہ راہ راست پر لگ جائے گا بلکہ اس کی وجہ سے تمہیں بھی اجر ملے گا اور بیشمار حسنات سے نوازے جاؤ گے۔ حدیث میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ اگر بنی اسرائیل سے کوئی قصہ سنو یا تمہیں ان سے کوئی واقعہ معلوم ہو تو تم اس کو لوگوں سے بیان کرسکتے ہو مگر ان کے احکام وغیرہ کو نقل کرنے کی اجازت نہیں ہے جیسا کہ گذشتہ احادیث میں گزر چکا ہے۔ اس لئے کہ کسی واقعہ یا قصہ کو محض خبر کے طور پر بیان کردینا شرعی امور میں کوئی نقصان پیدا نہیں کرتا مگر ان کے احکام کو نقل کرنا یا ان کی تبلیغ کرنا شریعت محمدی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے کیونکہ جب اس دنیا میں شریعت محمدی کا نفاذ ہوگیا ہے تو اب تمام دوسری شریعتیں منسوخ اور کالعدم قرار دے دی گئی ہیں۔ لہٰذا شریعت محمدی کو چھوڑ کو دوسری شریعت کے احکام و اعمال کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اخر حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی طرف کسی غلط بات کو منسوب کرنے پر نہایت سخت الفاظ میں زجر و توبیح فرمائی گئی ہے۔ چناچہ فرمایا گیا ہے کہ جو آدمی میری طرف کسی غلط بات کا انتساب کرتا ہے اور مجھ پر بہتان باندھتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ جہنم کی آگ میں جلنے کے لئے تیار ہوجائے۔ اس لئے کہ ایسا بدبخت جو دنیا کی سب سے بڑے صادق و مصدوق ہستی پر بہتان باندھتا ہے وہ اسی سزا کا مستحق ہے کہ اسے جہنم کے شعلوں کے حوالے کردیا جائے۔ اس بارے میں جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے علماء متفقہ طور پر یہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کی طرف کسی ایسی بات یا ایسے عمل کی نسبت کرنا جو واقعہ میں آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور ایسا کا ذب انسان اللہ کے سخت عذاب میں گرفتار کیا جائے گا اور بعض علماء مثلاً امام محمد جوینی (رح) نے تو اس جرم کو اتنا قابل نفرت اور سخت خیال کیا ہے کہ وہ ایسے آدمی کے بارے میں کفر کا حکم لگاتے ہیں۔ حدیث من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار یعنی جو آدمی قصدا میری طرف جھوٹ بات کی نسبت کرے اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تلاش کرے۔ کہ بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بڑے پایہ اور اونچے درجہ کی حدیث ہے اور اس کا شمار متواترات میں ہوتا ہے بلکہ دوسری متواتر حدیثیں اس کے مرتبہ کو نہیں پہنچتی ہیں۔ اس لئے کہ اس حدیث کو صحابہ کی ایک بہت بڑی جماعت نقل کرتی ہے چناچہ بعض محدثین نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو باسٹھ صحابہ کر امن رضوان اللہ علیہم اجمعین نے روایت کیا ہے جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍص وَالْمُغِےْرَۃِص بْنِ شُعْبَۃَ قَالَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ حَدَّثَ عَنِّیْ بِحَدِےْثٍ ےَّرٰی اَنَّہُ کَذِبٌ فَھُوَ اَحَدُ الْکَاذِبِےْن ۔ (مسلم)
اور حضرت سمرہ بن جندب ؓ ( اسم گرامی سمرہ ابن جندب اور کنیت ابوسعد ہے ٥٨ ھ، ٥٩ ھ میں ان کا انتقال ہوا ہے۔ (اسد الغابہ) اور مغیرہ بن شعبہ رضی عنہما (اسم گرامی مغیرہ بن شعبہ ہے کنیت ابوعبداللہ اور بعض حضرات کے قول کے مطابق ابوعیسٰی ہے ٥٠ ھ میں انتقال فرمایا۔ (اسد الغابہ) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جو آدمی میری (طرف منسوب کر کے کوئی ایسی) حدیث بیان کرے جس کے بارے میں اس کا خیال ہو کہ وہ جھوٹی ہے تو وہ جھوٹے آدمیوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ کہ اگر کوئی آدمی کسی ایسی حدیث کو لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اس کی اشاعت کرے جو واقعتًہ میری حدیث نہیں ہے اور پھر اس کو یہ معلوم بھی ہو کہ میں جو حدیث بیان کر رہا ہوں وہ حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث نہیں ہے بلکہ وضع کی گئی ہے تو وہ آدمی جس نے یہ جھوٹی حدیث وضع کی ہے اس لئے جھوٹا ہے کہ اس نے ذات رسالت ﷺ کی طرف غلط اور جھوٹ بات کی نسبت کی ہے تو یہ آدمی بھی جو اس حدیث کو بیان کر رہا ہے اس لئے جھوٹا اور کذّاب ہے کہ وہ اشاعت کر کے اور یہ جان کر بھی کہ یہ غلط حدیث ہے دوسروں تک پہنچا کر اس آدمی کی مدد کر رہا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جس طرح جھوٹی حدیث بنانے والا اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوگا اسی طرح اس کو بیان کرنے والے سے بھی آخرت میں مواخذہ کیا جائے گا اور اسے سخت سزادی جائے گی۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ مُّعَاوِیَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْل ُاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ ےُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَےْرًا ےُّفَقِّھْہُ فِی الدِّےْنِ وَاِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَّاللّٰہُ ےُعْطِیْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت معاویہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں (علم کو) تقسیم کرنے والا ہوں عطا کرنے والا تو اللہ ہی ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس حدیث سے علم اور عالم کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے کہ جس آدمی کو خداوند تعالیٰ خیر و بھلائی کے راستہ پر لگانا چاہتا ہے اسے علم کی دولت عنایت فرماتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ وہ کسی آدمی کو دینی امور یعنی احکام شریعت اور راہ طریقت و حقیقت کی سمجھ عنایت فرما دے جو ہدایت و راستی اور خیر و بھلائی کی سب سے بڑی شاہراہ ہے۔ حدیث کے دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ علم کا مبداء حقیقی تو باری تعالیٰ کی ذات ہے میرا کام تو صرف یہ ہے کہ میں دینی مسائل اور شرعی احکام لوگوں تک پہنچا دوں اور حدیث بیان کر دوں۔ اب آگے اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ جسے جتنا چاہے ان پر عمل کرنے کی توفیق اور غور و فکر کی صلاحیت عنایت فرمائے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم النَّاسُ مَعَادِنُ کَمَعَادِنِ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ خِےَارُھُمْ فِی الْجَاھِلِےَّۃِ خِےَارُھُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِھُوْا (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ آدمی کان ہیں جس طرح سونے اور چاندی کی کان ہوتی ہے جو لوگ ایام جاہلیت میں بہتر تھے وہ زمانہ اسلام میں بہتر ہیں اگر وہ سمجھیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
انسان کو معدن یعنی کان سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ تشبیہ نیک اخلاقی و عادات اور صفات و کمالات کی استعداد و صلاحیت کے تفاوت میں دی گئی ہے کہ جس طرح ایک کان میں لعل و یاقوت پیدا ہوتے ہیں تو دوسری کان میں سونا، چاندی اور بعض کان میں چونا، سرمہ، پتھر وغیرہ ہی پیدا ہوتے ہیں اسی طرح انسان کی ذات ہے کہ بعض تو اپنے اخلاق و عادات اور صفات و کمالات کی بنا پر با عظمت اور با شوکت ہوتے ہیں بعض ان سے کچھ کم درجہ کے ہوتے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان صفات میں انتہائی کمتر و بےوقعت ہوتے ہیں۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لانے سے پہلے حالت کفر میں بہترین خصائل و عادات کے مالک تھے مثلاً سخاوت و شجاعت، اخلاق و دیانتداری اور محبت و مروّت کی بہترین صفات سے متصف تھے تو وہ اسلام لانے کے بعد بھی ان صفات کی بناء پر بہترین قرار دئیے گئے ہیں۔ ٹھیک ایسے ہی جیسے کہ سونا اور چاندی جب تک کان میں پڑے رہتے ہیں کہ وہ خاک میں پڑے رہنے کی وجہ سے اپنی اصلی حالت میں نہیں ہوتے جب انہیں کان سے نکال لیا جاتا ہے اور بھٹی میں ڈال کر تیار کیا جاتا ہے تو نہ صرف یہ کہ وہ اپنی اصلی صورت میں آجاتے ہیں بلکہ ان کی آب و تاب میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب تک کوئی آدمی کفر کی ظلمت میں چھپا رہتا ہے تو خواہ وہ کتنا باوقار ہو اور اس کے اندر کتنی ہی سخاوت ہو کتنی ہی شجاعت ہو اسے برتری حاصل نہیں ہوتی، مگر جب کفر کے تمام پردوں کو چاک کر کے ظلم سے باہر نکلتا ہے اور ایمان و اسلام کو قبول کر کے علم دین میں کمال حاصل کرلیتا ہے اور پھر اپنے آپ کو ریاضت و مجاہد اور دینی محنت و مشقت کی بھٹیوں کے حوالہ کردیتا ہے تو اس کے بعد نہ صرف یہ کہ وہ اپنی اصل حالت میں آجاتا ہے بلکہ علم و معرفت کی روشنی سے اس کا قلب و دماغ منوّر ہوجاتا ہے اور وہ عزت کی انتہائی بلندیوں پر جا پہنچتا ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا حَسَدَ اِلَّا فِی اثْنَےْنِ رَجُلٌ اَتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلٰی ھَلَکَتِہٖ فِی الْحَقِّ وَرَجُلٌ اَتَاہُ اللّٰہُ الْحِکْمَۃَ فَھُوَ ےَقْضِیْ بِھَا وَےُعَلِّمُھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ دو آدمیوں کے بارے میں حسد کرنا ٹھیک ہے ایک تو وہ آدمی جسے اللہ نے مال دیا اور پھر اسے راہ حق میں خرچ کرنے کی توفیق عنایت فرمائی۔ دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے علم دیا چناچہ وہ اس علم کے مطابق حکم کرتا اور دوسروں کو سکھاتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
حسد اسے فرماتے ہیں کہ کسی دوسرے کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ آرزو کی جائے کہ یہ نعمت میرے پاس آجائے اور اس کے پاس سے ختم ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بہت بری خصلت اور انتہائی ذلت نفس کی بات ہے۔ اسلام جو اخلاق، پاکیزگی کا سب سے بڑا علمبردار ہے اس غیر اخلاقی اور ذلیل خصلت کو پسند نہیں کرتا اور اس سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ حسد کے مقابلہ میں غبطہ ہے۔ غِبط اسے فرماتے ہیں کہ کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ آرزو کی جائے کہ جیسی نعمت اس کے پاس ہے اللہ اس نعمت سے مجھے بھی سرفراز فرمائے۔ شریعت اس کو جائز قرار دیتی ہے مگر یہ بھی اچھی باتوں مثلاً نیک اخلاق و عادات، بہترین خصائل اور فضل و کمال کے بارے میں جائز ہے چناچہ اس حدیث میں جس حسد کے بارے میں فرمایا گیا ہے وہ غطبہ ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ اِلَّا مِنْ ثَلاَثَۃً اِلاَّمِنْ صَدَقَۃٍ جَارِےَۃٍ اَوْ عِلْمٍ ےُنْتَفَعُ بِہٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ ےَّدْعُوْ لَہُ ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرۃ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کے ثواب کا سلسلہ اس سے منقطع ہوجاتا ہے مگر تین چیزوں کے ثواب کا سلسلہ باقی رہتا ہے۔ (١) صدقہ جاریہ (٢) علم جس سے نفع حاصل کیا جائے (٣) صالح اولاد جو مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ایسے اعمال جن کا تعلق دنیاوی زندگی سے ہوتا ہے ان کے اثرات مرنے کے بعد دنیا ہی میں ختم ہوجاتے ہیں مثلاً نماز، روزہ وغیرہ ایسے اعمال ہیں جو انسان کی زندگی میں ادا ہوتے تھے گو کہ ان کا ثواب بأیں طور باقی رہتا ہے کہ وہ ذخیرہ آخرت ہوجاتے ہیں اور مرنے کے بعد اس پر جزاء ملتی ہے مگر ان کا سلسلہ مرنے کے بعد آئندہ جاری نہیں رہتا۔ کیونکہ زندگی میں جب تک یہ اعمال ہوتے تھے اس کا ثواب ملتا رہتا تھا جب زندگی ختم ہوگئی تو یہ اعمال بھی ختم ہوگئے اور جب یہ اعمال ختم ہوگئے تو اس پر جزاء سزا کا ترتب بھی ختم ہوگیا۔ لیکن کچھ اعمال ایسے بھی ہیں جن کے ثواب کا سلسلہ نہ صرف یہ کہ زندگی میں ملتا ہے بلکہ مرنے کے بعد باقی و جاری رہتا ہے۔ ایسے ہی اعمال کے بارے میں اس حدیث میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ تین اعمال ایسے ہیں کہ زندگی ختم ہوجانے کے بعد بھی ان کے ثواب کا سلسلہ برابر جاری رہتا ہے اور مرنے والا برابر اس سے منتفع ہوتا رہتا ہے۔ پہلی چیز صدقہ جاریہ ہے، یعنی اگر کوئی آدمی اللہ کی راہ میں زمین وقف کر گیا ہے یا کنواں و تالاب بنوا گیا ہے یا ایسے ہی اللہ کی مخلوق کے فائدہ کی خاطر کوئی دوسری چیز اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے تو جب تک یہ چیزیں قائم رہیں گی اور لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اس کو برابر ثواب ملتا رہے گا۔ دوسری چیز علم نافع ہے یعنی کسی ایسے عالم نے وفات پائی جو اپنی زندگی میں لوگوں کو اپنے علم سے فائدہ پہنچاتا رہا اور پھر اپنے علوم و معارف کو کسی کتاب کے ذریعہ محفوظ کر گیا جو ہمیشہ لوگوں کے لئے فائدہ مند اور رشد و ہدایت کا سبب بنی ہے یا کسی ایسے آدمی کو اپنا شاگرد بنا گیا جو اس کے علم کا صحیح وارث ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو زندگی ختم ہونے کے بعد اس کے لئے سرمایہ وسعادت ثابت ہوں گی اور جن کا ثواب اسے وہاں برابر ملتا رہے گا۔ تیسری چیز اولاد صالح ہے ظاہر ہے کہ کسی انسان کے لئے سب سے بڑی سعادت اور وجہ افتخار اس کی اولاد صالح ہی ہوتی ہے اس لئے کہ صالح اولاد نہ صرف یہ کہ ماں باپ کے لئے دنیا میں سکون و راحت کا باعث بنتی ہے بلکہ ان کے مرنے کے بعد ان کے لئے وسیلہ نجات اور ذریعہ فلاح بھی بنتی ہے اور اس طرح سے کہ لائق و نیک لڑکا اپنے والدین کی قبروں پر جاتا ہے وہاں فاتحہ پڑھتا ہے دعائے مغفرت کرتا ہے، قرآن پڑھ کر ان کو بخشتا ہے اور ان کی طرف سے خیرات و صدقات کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سب چیزیں مردہ کے لئے ثواب کا باعث ہیں جن سے وہ اخروی زندگی میں کامیاب ہوتا ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْہ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ نَّفَّسَ عَنْ مُّؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ الدُّنْےَا نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ ےَوْمِ الْقِےٰمَۃِ وَمَنْ ےَّسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ ےَسَّرَ اللّٰہُ عَلَےْہِ فِی الدُّنْےَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْےَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاللّٰہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِےْہِ وَمَنْ سَلَکَ طَرِےْقًا ےَّلْتَمِسُ فِےْہِ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہُ لَہُ بِہٖ طَرِےْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ وَ مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِی بَےْتٍ مِّنْ بُےُوْتِ اللّٰہِ ےَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَےَتَدَارَسُوْنَہُ بَےْنَھُمْ اِلَّا نَزَلَتْ عَلَےْھِمُ السَّکِےْنَۃُ وَغَشِےَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلٰئِکَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ فِےْمَنْ عِنْدَہُ وَمَنْ بَطَّأَ بِہٖ عَمَلُہُ لَمْ ےُسْرِعْ بِہٖ نَسَبُہُ ۔ (مسلم)
اور حضر ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جو آدمی دنیا کی سختیوں میں سے کسی مسلمان کی کوئی سختی اور تنگی دور کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن وہاں کی سختیاں اس سے دور کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندوں کی مدد کرتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی مسلمان کی مدد کرتا رہتا ہے اور جو آدمی علم کی تلاش میں کسی راستہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کے راستہ کو آسان کردیتا ہے اور جب کوئی جماعت اللہ کے گھر (مسجد یا مدرسہ) میں قرآن پڑھتی پڑھاتی ہے تو اس پر (اللہ کی جانب سے) تسکین نازل ہوتی ہے۔ رحمت الٰہی اس کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے اور فرشتے اس کو گھیر لیتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ اس جماعت کا ذکر ان (فرشتوں) میں کرتا ہے جو اس کے پاس رہتے ہیں اور جس نے عمل میں تاخیر کی آخرت میں اس کا نسب کام نہیں آئے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی عظمت و برتری کا پتہ چلتا ہے، اسلام اپنی تعلیمات کے ذریعہ پوری انسانی براداری کے درمیان محبت و مروت، انسانی ہمدردی و رواداری، امدادومعاونت اور حسن سلوک کی اعلیٰ روح پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ انسان اخلاق و محبت کی ایک کڑی میں منسلک ہو کر پورے امن و سکون اور چین و راحت کے ساتھ حقوق عبدیت ادا کرسکیں۔ چنانچہ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم قیامت کے دن کی سختی سے بچنا چاہتے ہو تو تم اپنے بھائی کی خبر گیری کرو جو دنیا کی سختی میں پھنسا ہوا ہے، اگر اس پر کوئی سخت وقت آپڑا ہے تو اس کی مدد کرو۔ اگر وہ زندگی کی کسی الجھن میں پھنسا ہوا ہے تو اسے چھٹکارادلاؤ۔ اگر وہ مصائب و تکلیف میں مبتلا ہے تو ان کو اس سے دور کرو۔ اس لئے کہ حسن سلوک کا یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر تم آخرت کی سختیوں سے نہایت آسانی کے ساتھ گزر جاؤ گے۔ اعلان کیا جا رہا ہے کہ اگر تم دین و دنیا دونوں جگہ کی آسانیاں چاہتے ہو، اگر تم اس کے متمنی ہو کہ دنیا کی کامیابی و کامرانی تمہارے قدم چومے اور آخرت کی فلاح وسعادت تمہارے حصہ میں آئے تو اپنے اس بھائی کی مدد کرو جو تنگدست ہے۔ مفلسی و متلاشی کے جال میں پھنسا ہوا ہے، بےروزگاری و تباہ حالی کی چکی میں پس رہا ہے، مثلاً اگر وہ مقروض ہے اور اللہ نے تمہیں وسعت دی ہے تو اس کا قرض ادا کردو۔ اگر کوئی خود تمہارا مقروض ہے اور تم جانتے ہو کہ وہ قرض ادا کرنے پر قادر نہیں ہے تو تم اس کا قرض معاف کردو، اگر کوئی انتہائی تباہ حال و پریشان ہے تو اس کی مدد کر کے تنگدستی سے اسے چھٹکار دلاؤ۔ اگر کوئی اپنی ناداری و مفلسی کی بناء پر اپنی کسی سخت ضرورت کو پورا نہیں کرسکتا تو تم اس کی اس ضرورت کو پورا کردو اور پھر دیکھو اللہ کی رحمت کسی طرح بڑھ کر تمہیں اپنے دامن میں چھپاتی ہے۔ دنیا کی عزت و عظمت تمہارے قدموں میں کھیلتی نظر آئے گی اور زندگی کی ہر آسانی تمہارے لئے مہیا ہوگی اور نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی اللہ کی رحمت تمہارے ساتھ ہوگی، وہاں کی ہر سختی اور ہر آزمائش میں تمہارا ہی حسن سلوک مددگار و معاون ہوگا اور تم وہاں کے ہر امتحان میں کامیاب رہو گے۔ اسی طرح فرمایا گیا ہے کہ اگر تم دنیا و آخرت میں اپنے عیوب کی پردہ پوشی چاہتے ہو تو تم دنیا میں اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرو۔ یعنی کسی کے عیب کو لوگوں کے سامنے بیان کر کے اسے رسوا اور ذلیل نہ کرو۔ اگر کسی سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہے تو اسے لوگوں کے سامنے ظاہر کر کے اور برسر عام اچھال کے اسے شرمندہ نہ کرو کیونکہ یہ اللہ کا معاملہ ہے وہ اگر چاہے گا تو اسے دنیا ہی میں یا آخرت میں سزا دے دے گا ورنہ اپنی رحمت سے اسے معاف کر دے گا۔ یا پردہ پوشی کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اپنی ناداری و مفلسی کی بنا پر لباس کی نعمت سے محروم ہے اور اتنا تنگدست و غریب ہے کہ اپنے ستر کو بھی نہیں چھپا سکتا تو چاہئے کہ اپنے اس نادار بھائی کی ستر پوشی کرے اس لئے کہ جو اپنے بھائی کی ستر پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا میں اور قیامت میں اس کے عیوب اور گناہوں کی پردہ پوشی فرمائے گا اور آخر میں عمومی طور پر یہ کلیہ بتادیا گیا ہے کہ جب تک کوئی بندہ اپنے کسی بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اور اللہ کی مخلوق کی خبر گیری میں مصروف رہتا ہے تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت رہتی ہے۔ حدیث میں طلب علم اور طالب علم کی فضیلت بھی ظاہر فرمائی جا رہی ہے، چناچہ ارشاد ہے ہو رہا ہے کہ جو آدمی علم دین کے حصول کے لئے اپنے وطن و شہر کو چھوڑ کر عزیز و اقا رب سے جدا ہو کر اور عیش و آرام پر لات مار کر حصول علم کے جذبہ سے باہر نکلتا ہے اور تلاش علم کے لئے راہ مسافرت پر گامزن ہوتا ہے تو رب قدوس اس کی ریاضت و مشقت اور جان کا ہی و پریشانی کی وجہ سے اس پر بہشت کی راہ آسان کردیتا ہے یعنی طالب علم کی کوششوں کے صلہ میں اسے جنت میں داخل کیا جائے گا یا یہ کہ اسے خداوند کیجانب سے اس عظیم سعادت کی توفیق ہوگی کہ اس نے جس علم کی تلاش میں اتنی مصیبتوں اور پریشانیوں کو برادشت کیا اس پر وہ نیک عمل بھی کرے جو جنت میں داخل ہونے کا سبب اور باعث ہے۔ اسی طرح جو لوگ مساجد و مدارس میں حصول علم میں منہمکم ہوتے ہیں اور قرآن کے علوم و معارف سے استفادہ کرنے اور دوسروں کو پڑھانے میں مشغول ہوتے ہیں ان پر اللہ کی جانب سے بےپایاں رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور ان پر اللہ کی جانب سے تسکین کا نزول ہوتا ہے یعنی طلب علم کے سلسلہ میں ان کے اندر خاطر جمعی اور دل بستگی ودیعت فرمائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے قلوب دنیا کے عیش و عشرت، راحت و آرام اور غیر اللہ کے خوف و ڈر سے پاک صاف ہو کر ہر وقت اللہ کی طرف لو لگائے رہتے ہیں اور ان کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل نور الہٰی کی مقدس روشنی سے جگمگا اٹھتے ہیں نیز فرشتے ان کی عزت و توقیر کرتے ہیں اور فرط عقیدت سے ان لوگوں کو گھیرے رہتے ہیں اور پھر رب قدوس اس مقدس جماعت کا تذکرہ جو درس و تدریس میں مشغول ہوتی ہے اپنے ان فرشتوں کے درمیان کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں یہ اس جماعت کی انتہائی عظمت و فضیلت کی دلیل ہے۔ آخر حدیث میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ آخرت کی کامیابی و کامرانی اور فلاح وسعادت کا درا و مدار عمل پر ہے۔ اگر دنیا میں عمل خیر میں کوتاہی نہیں تو آخرت میں عزت و عظمت کا حقدار ہوگا اور دنیا میں کسی نے عمل میں کوتاہی کی اگرچہ وہ دنیا میں کتنا ہی با اقبال و با عظمت کیوں نہ رہا ہو اور کتنا ہی بڑا حسب و نسب والا کیوں نہ ہو آخرت میں اس سے باز پرس ہوگی اور وہاں دنیا کی عالی نسبی اور وجاہیت کچھ کام نہیں دے گی بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست (یعنی اے جامی) جب تم اسیر عشق ہوگئے تو حسب و نسب کے چکر میں نہ پڑو کیونکہ اس راہ میں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
ووَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اَوَّلَ النَّاسِ ےُقْضٰی عَلَےْہِ ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِ رَجُلٌ اُسْتُشْھِدَ فَاُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہ، نِعَمَہ، فَعَرَفَھَا فَقَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِےْھَا قَالَ قَاتَلْتُ فِےْکَ حَتَّی اسْتُشْھِدْتُّ قَالَ کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ قَاتَلْتَ لِاَنْ ےُّقَالَ جَرِیٌّ فَقَدْ قِےْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَہُ وَقَرَءَ الْقُرْآنَ فَاُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَھَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِےْھَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُہُ وَقَرَاْتُ فِےْکَ الْقُرْآنَ قَالَ کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِےُقَالَ اِنَّکَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِیُقَالَ ھُوَ قَارِیٌ فَقَدْ قِےْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ وَّسَّعَ اللّٰہُ عَلَےْہِ وَاَعْطَاہُ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّہٖ فَأُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَھَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِےْھَا قَالَ مَا تَرَکْتُ مِنْ سَبِےْلٍ تُحِبُّ اَنْ ےُّنْفَقَ فِےْھَا اِلَّا اَنْفَقْتُ فِےْھَا لَکَ قَالَ کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ فَعَلْتَ لِےُقَالَ ھُوَ جَوَّادٌ فَقَدْ قِےْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ ثُمَّ اُلْقِیَ فِی النَّارِ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ قیامت کے دن پہلا آدمی جس پر (خلوص نیت کو ترک کردینے کا) حکم لگایا جائے گا وہ ہوگا جسے (دنیا میں) شہید کردیا گیا تھا۔ چناچہ (میدان حشر میں) وہ پیش کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنی (دی ہوئی) نعمتیں یاد دلائے گا جو اسے یاد آجائیں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا کام کیا؟ یعنی اللہ اسے اپنی نعمتیں جتا کر الزاماً فرمائے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے شکرانہ میں کیا اعمال کئے؟ وہ کہے گا میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ شہید کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو جھوٹا ہے کیونکہ تو اس لئے لڑا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے چناچہ تجھے (بہادر کہا گیا) اور تیرا اصل مقصد مخلوق سے حاصل ہوا اب مجھ سے کیا چاہتا ہے، پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل کھینچا جائے، یہاں تک کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا، پھر (دوسرا) وہ آدمی ہوگا جس نے علم حاصل کیا، دوسروں کو تعلیم دی اور قرآن کو پڑھا چناچہ اسے بھی (اللہ کے حضور میں) لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو (اپنی عطا کی ہوئی) نعمتیں یاد دلائے گا جو اسے یاد آجائیں گی پھر اللہ پوچھے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا اعمال کئے؟ وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا اور دوسروں کو سکھایا اور تیرے ہی لئے قرآن پڑھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے تو نے تو علم محض اس لئے حاصل کیا تھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تھا تاکہ تجھے لوگ قاری کہیں، چناچہ تجھے (عالم و قاری) کہا گیا۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر (تیسرا) وہ آدمی ہوگا جس کو اللہ نے (معیشت میں) وسعت دی اور ہر قسم کا مال عطا فرمایا۔ اس کو بھی اللہ کے حضور میں لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کو (اپنی عطا کی ہوئی) نعمتیں یاد دلائے گا جو اسے یاد آجائیں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا اعمال کئے؟ وہ کہے گا میں نے کوئی ایسی راہ نہیں چھوڑی جس میں تو خرچ کرنا پسند کرتا ہو اور تیری خوشنودی کے لئے میں اس میں خرچ نہ کیا ہو، اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے، تو نے خرچ اس لئے کیا تاکہ تجھے (سخی) کہا جائے اور تجھے (سخی) کہا گیا۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اعمال میں نیت کا کیا درجہ ہے؟ اور خلوص کی کتنی ضرورت ہے؟ اس حدیث سے بخوبی واضح ہوتا ہے بندہ کتنا بڑے سے بڑا عمل خیر کرے، بڑی سے بڑی نیکی کر ڈالے لیکن اگر اس کی نیت بخیر نہیں ہے تو اس کا وہ عمل اور نیکی کسی کام نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ کو وہی عمل پسند ہے جس میں محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا کی نیت ہو اور جذبہ اطاعت خلوص سے بھر پور ہو، ورنہ جو بھی عمل بغیر اخلاص اور بغیر نیت خیر کیا جائے گا چاہے وہ کتنا ہی عظیم عمل کیوں نہ ہو بارگاہ الوہیت سے ٹھکرا دیا جائے گا اور اس پر کوئی مفید نتیجہ مرتب نہیں ہوگا بلکہ الٹا اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار کیا جائے گا جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اللّٰہَ لَا ےَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا ےَنْتَزِعُہُ مِنَ الْعِبَادِ وَلٰکِنْ ےَّقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَآءِ حَتّٰی اِذَا لَمْ ےَبْقَ عَالِمًا اتَّخَذَالنَّاسُ رُءُ ْوسًا جُھَّالاً فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَےْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَاَضَلُّوْا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ علم کو (آخری زمانہ میں) اس طرح نہیں اٹھالے گا کہ لوگوں (کے دل و دماغ) سے اسے نکال لے بلکہ علم کو اس طرح اٹھاے گا کہ علماء کو (اس دنیا سے) اٹھالے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ شَقِےْقٍ قَالَ کَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ ص ےُّذَکِّرُ النَّاسَ فِیْ کُلِّ خَمِےْسٍ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ ےَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ ص لَوَدِدْتُّ اَنَّکَ ذَکَّرْتَنَا فِیْ کُلِّ ےَوْمٍ قَالَ اَمَا اِنَّہُ ےَمْنَعُنِیْ مِنْ ذَالِکَ اَنِّیْ اَکْرَہُ اَنْ اُمِلَّکُمْ وَاَنِّیْ اَتَخَوَّلُکُمْ بِالْمَوْعِظَۃِ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَتَخَوَّلُنَا بِھَا مَخَافَۃَ السَّامَۃِ عَلَےْنَا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت شقیق ؓ (شقیق ابن مسلمہ نام اور کنیت ابو وائل ہے۔ آپ تابعی ہیں حجاج کے زمانہ میں وفات ہوئی بعض فرماتے ہیں کہ ٩٩ ھ میں وفات پائی ہے)۔ راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ہر جمعرات کے روز لوگوں کے سامنے وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے (ایک روز) ایک آدمی نے عرض کیا۔ اے ابوعبدالرحمن! میری خواہش ہے کہ آپ ہمارے درمیان روزانہ وعظ و نصیحت کیا کریں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں ایسا اس لئے نہیں کرتا کہ اس سے تم لوگ تنگ ہوجاؤ گے، میں نصیحت کے معاملہ میں تمہاری خبر گیری اس طرح کرتا ہوں جیسا کہ ہماری نصیحت کے معاملہ میں رسول اللہ ﷺ ہماری خبر گیری کیا کرتے تھے اور ہمارے اکتا جانے کا خیال رکھتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس حدیث سے یہ بات واضح ہے کہ وعظ و نصیحت اور تبلیغ کے معاملہ میں اعتدال سے کام لینا چاہئے۔ ہر وقت اور ہر موقعہ پر وعظ و نصیحت نہیں کرنی چاہئے اس لئے کہ اس سے لوگوں کے دل اچاٹ ہوجاتے ہیں اور وہ اکتا جاتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی بات دل جمعی و سکون خاطر سے نہیں سنتے اس لئے ان پر کوئی اچھا اثر بھی مرتب نہیں ہوتا۔ اسی طرح اس معاملہ میں ڈانٹ ڈپٹ، لعنت پھٹکار اور بد مزاجی و بد اخلاقی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے مخاطب کے ذہن پر برا اثر پڑتا ہے جس سے بجائے اس کے کہ وہ اس کا کوئی نیک اثر قبول کرے اور زیادہ منحرف ہوجاتا ہے۔ جو نصیحت اپنے وقت پر اور نہایت اخلاق و متانت اور انتہائی محبت و شفقت سے کی جاتی ہے دراصل وہی مخاطب کے دل پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کا بہترین ثمرہ مرتب ہوتا ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا تَکَلَّمَ بِکَلِمَۃٍ اَعَادَھَا ثَلَاثًا حَتّٰی تُفْھَمَ عَنْہُ وَاِذَا اَتٰی عَلٰی قَوْمٍ سَلَّمَ عَلَےْھِمْ سَلَّمَ عَلَےْھِمْ ثَلٰثًا۔ (صحیح البخاری)
اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی بات کہتے تو اس کو تین مرتبہ فرماتے یہاں تک کہ لوگ اسے اچھی طرح سمجھ لیتے اور جب آپ ﷺ کسی جماعت کے پاس آتے اور سلام کرنے کا ارادہ فرماتے تو تین مرتبہ سلام کرتے۔ (صحیح البخاری)
تشریح
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ﷺ ہر گفتگو کے موقع پر ایسا عمل اختیار فرماتے ہوں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کوئی بہت اہم بات فرماتے ہوں گے یا کسی خاص مسئلہ کی وضاحت مقصود ہوتی ہوگی، یا کوئی دینی حکم بیان کرنا ہوتا ہوگا اور یہ ارادہ ہوتا ہو کہ اس بات کو بطور خاص بیان کرنا ہے یا یہ خیال گزرتا ہو کہ لوگوں نے بات اچھی طرح سنی نہ ہوگی تو آپ ﷺ تین مرتبہ اعادہ فرماتے اور اس بات کو بار بار کہتے تاکہ لوگ خوب سن لیں اور اچھی طرح سمجھ لیں۔ ایسے ہی تین مرتبہ سلام اس طرح کرتے تھے کہ ایک سلام تو آپ ﷺ اس وقت کرتے تھے جب مکان میں اندر جانے کی اجازت طلب فرماتے تھے، دوسرا سلام تحیہ کرتے تھے (یہ سلام ملاقات کے وقت کیا جاتا ہے) اور تیسرا سلام رخصت کے وقت کرتے تھے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدِ الْاَنْصَارِیِّ صقَالَ جَاءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اِنَّہُ اُبْدِعَ بِیْ فَاحْمِلْنِیْ فَقَالَ مَا عِنْدِیْ فَقَالَ رَجُلٌ ےَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنَا اَدُلُّہُ عَلٰی مَنْ ےَّحْمِلُہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ دَلَّ عَلٰی خَےْرٍ فَلَہُ مِثْلُ اَجْرِ فَاعِلِہٖ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابومسعود انصاری) آپ کا اسم گرامی عقبہ عبداللہ ابن عمرہ ہے مگر یہ بھی کنیت ابومسعود انصاری سے مشہور ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰ کے زمانہ خلافت میں انتقال ہوا ہے بعض لوگ فرماتے ہیں کہ ان کی وفات ٤١ ھ یا ٤٢ ھ میں ہوئی۔ ؓ۔ (راوی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور عرض کیا کہ میری سواری چلنے سے عاجز ہوگئی ہے آپ ﷺ مجھے سواری عنایت فرمادیجئے! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے ( کہ تمہیں دے دوں) ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اسے ایسا آدمی بتلاتا ہوں جو اسے سواری دے دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی کسی بھلائی کی طرف راہ نمائی کرے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ اس بھلائی پر عمل کرنے والے کو۔ (صحیح مسلم)
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ جَرِیرٍ قَالَ کُنَّا فِی صَدْرِ النَّھَارِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَجَآءَ ہُ قَوْمٌ عُرَاۃٌ مُّجْتَابِیْ النِّمَارِ اَوِ الْعَبَآءِ مُتَقَلِّدِی السُّےُوْفِ عَآمَّتُھُمْ مِّنْ مُّضَرَ بَلْ کُلُّھُمْ مِّنْ مُّضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلملِمَا رَاٰی بِھِمْ مِّنَ الْفَاقَۃِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَاَمَرَ بِلَالًا فَاَذَّنَ وَاَقَامَ فَصَلّٰی ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ &&ےَا اَےُّھَا النَّاسُ&& اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ اِلٰی اٰخِرِ الْاٰےَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَےْکُمْ رَقِےْبًا&&(النساء : پ٤ ع١٢) وَّالْاٰےَۃَ الَّتِیْ فِی الْحَشْرِ اتَّقُوْا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ&&(الحشر :پ٢٨ ع ٦) تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِّنْ دِےْنَارِہٖ مِنْ دِرْھَمِہٖ مِنْ ثَوْبِہٖ مِنْ صَاعِ بُرِّہٖ مِنْ صَاعٍ تَمْرِہٖ حَتّٰی قَالَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِّنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّۃٍ کَادَتْ کَفُّہُ تَعْجِزُ عَنْھَابَلْ قَدْ عَجَزَتْ ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتّٰی رَأَ ےْتُ کَوْمَےْنِ مِنْ طَعَامٍ وَّثِےَابٍ حَتّٰی رَاَےْتُ وَجْہَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَتَھَلَّلُ کَاَنَّہُ مُذْھَبَۃٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہُ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَےْرِ اَنْ ےُّنْقَصَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیءٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً سَےِّئَۃً کَانَ عَلَےْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَےْرِ اَنْ ےُّنْقَصَ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیئٌ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت جریر ؓ (آپ کا اسم گرامی جریر بن عبداللہ ہے اور کنیت ابوعمرو یا ابوعبداللہ ہے قبیلہ بحیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے صرف چالیس دن قبل اسلام کی نعمت سے مشرف ہوئے تھے اور مقام قرئیسیا میں ٥١ ھ یا ٥٤ ھ میں وفات پائی۔ ؓ راوی ہیں کہ (ایک روز) ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک قوم آپ ﷺ کی خدمت میں آئی جو ننگے بدن تھی اور عبایا کمبل لپیٹے ہوئے تھی اور گلے میں تلواریں لٹکی ہوئی تھیں۔ ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب قبیلہ مضر کے لوگ تھے۔ ان پر فاقہ کا اثر دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا آپ ﷺ ( ان کے لئے کھانے کی تلاش میں) گھر تشریف لے گئے اور (جب گھر میں کچھ نہ ملا) تو واپس تشریف لائے اور حضرت بلال ؓ کو (اذان کہنے کا) حکم دیا، حضرت بلال ؓ نے اذان کہی اور تکبیر پڑھی اور جمعہ کی یا ظہر کی نماز پڑھی گئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور یہ آیت پڑھی آیت (يٰ اَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ) 4۔ النساء 1) ترجمہ! اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان (آدم) سے پیدا کیا ہے۔ پوری آیت تلاوت کی جس کا آخری حصہ یہ ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ تمہارا نگہبان ہے۔ اور پھر یہ آیت آپ ﷺ نے پڑھی جو سورة حشر میں ہے آیت (وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ) 59۔ الحشر 18) ترجمہ! (اے ایمان والو! ) اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر آدمی دیکھ بھال لے کہ کل (قیامت کے واسطے اس نے کیا ذخیرہ بھیجا ہے۔ پھر آپ ﷺ سے فرمایا۔ خیرات کرے آدمی اپنے دینار میں سے اپنے درہم میں سے اپنے کپڑے میں سے اپنے گہیوں کے پیمانے میں سے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ خیرات کرے اگرچہ کھجور کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ راوی فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی دینار یا در ہم سے بھری ہوئی ایک تھیلی لایا جس کے وزن سے اس کا ہاتھ تھکنے کے قریب تھا بلکہ تھک گیا تھا۔ پھر لوگوں نے پے در پے چیزوں کا لانا شروع کردیا یہاں تک کہ میں نے دو تو لے غلّہ اور کپڑے کے (جمع شدہ) دیکھے پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ اقدس (خوشی کی وجہ سے) کندن کی طرح چمک رہا تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اسلام میں کسی نیک طریقہ کو رائج کرے تو اسے اس کا بھی ثواب ملے گا اور اس کا ثواب بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کرے لیکن عمل کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس آدمی نے اسلام میں کسی برے طریقہ کو رائج کیا تو اسے اس کا بھی گناہ ہوگا اور اس آدمی کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کرے گا۔ لیکن عمل کرنے والے کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے جو پہلی آیت تلاوت فرمائی وہ سورة نساء میں ہے، اس آیت میں خیرات کرنے اور قرابت داروں سے حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خیرات کرنے اور آنے والی جماعت کی امداد و اعانت پر ترغیب دلائی۔ شروع حدیث میں راوی کا بیان ہے کہ آنے والی جماعت کمبل یا عبا لپٹے ہوئے تھی۔ راوی کا اشتباہ ہے کہ یا تو حدیث میں لفظ النمار ہے یا العباء ہے۔ بہر حال دونوں کمبل کی قسمیں ہیں اور دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا اِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ اٰدَمَ الْاَوَّلِ کِفْلٌ مِّنْ دَمِھَا لِاَنَّہُ اَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ) صحیح البخاری و صحیح مسلم وسنذ کر حدیث معادیۃ لایزال طائفۃ من امتی فی باب ثواب حذہ الامۃ ان شاء اﷲ تعالی۔
اور حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جو آدمی ظلم کے طریقہ پر قتل کیا جاتا ہے تو اس کے خون کا ایک حصہ آدم کے پہلے بیٹے قابیل پر ہوتا ہے اس لئے کہ وہ پہلا آدمی ہے جس نے قتل کا طریقہ نکالا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) اور معاویہ ؓ کی وہ حدیث جس کی ابتداء یہ ہے لا یزال امتی ہم انشاء اللہ باب ثواب حذہ الامۃ میں بیان کریں گے۔
تشریح
انسانی ظلم و ستم کی تاریخ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے قابیل کی زندگی سے شروع ہوتی ہے جس نے اپنی ایک انتہائی معمولی نفسانی خواہش کی تکمیل کے لئے اپنے حقیقی بھائی ہابیل کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور انسانی تاریخ کا یہ سب سے پہلا خونی واقعہ تھا جس نے ناحق خون بہانے کی بنیاد ڈالی۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ جب کوئی نیک طریقہ رائج کرتا ہے تو اسے اس نیک کام کا ثواب بھی ملتا ہے، اسی طرح برا طریقہ رائج کرنے والے کو خود اس عمل کا اور اس طریقہ پر عمل کرنے والے کا بھی گناہ ملتا ہے۔ اسی لئے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ جب بھی کوئی آدمی ظلم کے طریقہ پر قتل کردیا جاتا ہے تو اس کے خون کا ایک حصہ قابیل پر بھی ہوتا ہے اس لئے کہ ناحق خون بہانے اور ظلم و ستم کے ساتھ قتل کا اول موجد وہی ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنْ کَثِیْرِ بْنِ قَیْسِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ اَبِی الدَّرْدَاءِ فِی مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ یَا اٰبَا الدَّرْدَاءِ اِنِّی جِئْتُکَ مِنْ مَدِیْنَۃِ الرَّسُوْلِ صلی اللہ علیہ وسلم (لِحَدِیْثِ بَلَغَنِیْ اَنَّکَ تُحَدِّثَہ، عَنَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم) مَا جِئْتُ لِحَاجَۃِ قَالَ فَاِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَطْلُبُ فِیْہٖ عِلْمًا سَلَکَ اﷲُ بِہٖ طَرِیْقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّۃِ وَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَتَضَعُ اَجْنِحَتَھَا رِضْیً لِّطَالِبِ الْعِلْمِ وَاِنَّ الْعَالِمِ لِیَسْتَغْفِرْ لَہ، مَنْ فِی السَّمٰوٰاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الْحِیْتَانُ فِی جَوْفِ الْمَآءِ وَاِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ عَلَی سَآئِرِ الْکَوَاکِبِ وَاِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَہُ الْاَنْبِیَاءَ وَاِنَّ الْاَنْبِیَآءَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَارَاوَّلَا دِرْھَمًا وَاِنَّمَا وَرَّثُوْا الْعِلْمَ فَمَنْ اَخَذُہ، اَخَذَ بِحَظِّ وَّافِرِرَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِّیُ وَاَبُوْدَاؤدَ وَابْنُ مَاجَۃَ وَادَّرِامِیُّ وَسَمَّاہُ التِّرْمِذِیُّ قَیْسَ بْنَ کَثِیْرً۔
حضرت کثیر ابن قیس ؓ فرماتے ہیں کہ میں (ایک صحابی) حضرت ابودردا ؓ کے پاس دمشق (شام) کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں سرکار دو عالم ﷺ کے شہر سے آپ کے پاس ایک حدیث کے لئے آیا ہوں جس کے بارے میں مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسے آپ سرکار دو عالم ﷺ سے نقل کرتے ہیں۔ آپ کے پاس میرے آنے کی اس کے علاوہ اور کوئی غرض نہیں ہے ( یہ سن کر) حضرت ابودردا ؓ نے فرمایا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے یہ سنا کہ جو آدمی کسی راستہ کو (خواہ لمبا ہو یا مختصر) علم دین حاصل کرنے کے لئے اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بہشت کے راستہ پر چلاتا ہے اور فرشتے طالب علم کی رضا مندی کے لئے اپنے پروں کو بچھاتے ہیں اور عالم کے لئے ہر وہ چیز جو آسمانوں کے اندر ہے (یعنی فرشتے) اور جو زمین کے اوپر ہے (یعنی جن وانس) اور مچھلیاں جو پانی کے اندر ہیں دعائے مغفرت کرتی ہیں اور عابد پر عالم کو ایسی ہی فضیلت ہے جیسے کہ چودہویں کا چاند تمام ستاروں پر فضیلت رکھتا ہے اور عالم انبیاء (علیہم السلام) کے وارث ہیں۔ انیباء وراثت میں دینار و در ہم نہیں چھوڑ گئے ہیں، ان کا ورثہ علم ہے لہٰذا جس نے علم حاصل کیا اس نے کامل حصہ پایا۔ مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ، درامی اور جامع ترمذی نے راوی کا نام قیس ابن کثیر ؓ ذکر کیا ہے (لیکن صحیح کثیر بن قیس ہی ہے جیسا کہ صاحب مشکوۃ نے نقل کیا ہے۔
تشریح
صحابی ؓ کی خدمت میں آنے والے کی علمی طلب اور حصول دین کے حقیقی جذبہ کا اظہار ہوتا ہے کہ اس نے آتے ہی سب سے پہلے یہی کیا تھا کہ آپ کے پاس آنے سے میری غرض کوئی دینوی منفعت یا محض ملاقات نہیں ہے بلکہ میں تو علم دین کے حصول کا حقیقی اور پر خلوص جذبہ لے کر آیا ہوں اور میری خواہش ہے کہ آپ کی زبان سے سرکار دو عالم ﷺ کی مقدس حدیث سن کر اپنے قلب و دماغ کو علوم نبوی کی ایک روشنی سے منور کروں۔ ہو سکتا ہے کہ طالب مذکور نے جس حدیث کے سننے کی طلب کی تھی وہ حدیث انہوں نے اجمالی طور پر سنی ہو اب ان کی خواہش یہ تھی کہ اس کو تفصیلی طور پر سن لیں یا یہ کہ وہ حدیث انہوں نے تفصیل کے ساتھ ہی (کسی دوسرے سے) سن رکھی ہو مگر اس جذبہ کے ساتھ حضرت ابودرداء ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ حدیث کو بلا واسطہ صحابی سے سنیں۔ ابودرداء ؓ نے سائل کے جواب میں جو حدیث بیان فرمائی ہوسکتا ہے کہ وہ یہی حدیث ہو اور یہی حدیث اس کا مطلوب ہو، لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ یہ حدیث جو یہاں نقل کی گئی ہے وہ طالب کا مطلوب نہ ہو بلکہ چونکہ طالب نہایت مشقّت و پریشانی برداشت کر کے اور دور دراز کا سفر طے کر کے طلب علم اور حصول حدیث کی خاطر آیا تھا۔ اس لئے اس کی سعادت و خوش بختی کے اظہار کے طور پر اس کا ثواب بیان کیا اور اس کی مطلوبہ حدیث انہوں نے بیان کی وہ چونکہ اس باب کے مناسب نہیں تھی اس لئے مصنف کتاب نے اسے یہاں نقل نہیں کیا۔ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جب طالب علم، علم کی خاطر اپنے گھر سے نکلتا ہے اور راہ مسافرت اختیار کرتا ہے تو فرشتے اس کی رضا مندی کے لئے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ اس کی تشریح میں کہا جاتا ہے کہ یا تو واقعی طالب علم کے شرف و عزت کی خاطر فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں یا پھر طالب علم کی عظمت اور اس کی طرف رحمت الٰہی کے نزول کے لئے یہ کنا یہ ہے۔ نیز فرمایا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کی جتنی بھی مخلوق ہے سب کی سب عالم کی مغفرت کے لئے دعا کرتی ہے۔ اس کے بعد پھر صراحت کی گئی کہ پانی کے اندر رہنے والی مچھلیاں بھی اس کے لئے استغفار کرتی ہیں ظاہر ہے کہ زمین کی مخلوق میں مچھلیاں بھی شامل ہیں ان کا بظاہر الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی مگر اس میں نکتہ یہ ہے کہ اس سے دراصل عالم کی انتہائی فضیلت و عظمت کا اظہار مقصود ہے اور اس طرف اشارہ ہے کہ پانی کا برسنا جو رحمت الٰہی کی نشانی اور نعمت الہٰی کی علامت ہے اور دنیا کی اکثر آسانیاں و راحتیں جو اسی سے حاصل ہوتی ہیں اور تمام خیر و بھلائی جو اس کے علاوہ ہیں سب کی سب عالم ہی کی برکت سے ہیں یہاں تک کہ مچھلیوں کا پانی کے اندر زندہ رہنا جو خود قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہے، علماء ہی کی برکت کی بنا پر ہے۔ اس حدیث میں عالم اور عابد کے فرق کو بھی ظاہر کرتے ہوئے عابد پر عالم کو فوقیت اور برتری دی گئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم کا فائدہ متعدی ہے یعنی اس کا فیضان صرف اس کی اپنی ذات تک محدود نہیں ہے اسی لئے عالم اور عابد کو چاند ستاروں سے مشابہت دی گئی ہے کہ جس طرح چودہویں کا چاند جب اپنی پوری تابانی اور جلوہ ریزی کے ساتھ آسمان پر نمودار ہوتا ہے تو دنیا کی تمام مخلوق اس سے مسینر ہوتی ہے اور اس کی روشنی تمام جگہ پہنچتی ہے جس سے دنیا فائدہ اٹھاتی ہے مگر ستارہ خود اپنی جگہ تو روشن ومنور ہوتا ہے مگر اس کا فیضان اتنا عام نہیں ہوتا کہ اس کی روشنی تمام جگہ پھیل سکے اور سب کو فائدہ پہنچا سکے۔ اگر کوئی یہ اشکال کر بیٹھے کہ عالم اور عابد میں کوئی فرق نہیں ہوتا کیونکہ اگر کوئی عالم محض علم پر بھروسہ کر بیٹھے اور علم پر نہ عمل کرے تو ظاہر ہے کہ اس کی کوئی فضیلت نہیں ہے۔ اسی طرح عابد بغیر علم کے عابد نہیں ہوسکتا کیونکہ عبادت کی حقیقی اور اصل روح علم ہی میں پوشیدہ ہے اس لئے عبادت بغیر علم کے صحیح طور پر ادا نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ جو عالم بالکل با عمل ہوگا وہی عابد بھی ہوگا اور جو عابد ہوگا وہی عالم با عمل بھی ہوگا۔ اس لئے دونوں میں فرق کیا ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عالم سے مراد وہ آدمی ہے جو تحصیل علم کے بعد عبادات ضرور یہ مثلاً فرائض واجبات اور سنن و مستحبات پر اکتفا کر کے اپنے اوقات کا بقیہ حصہ درس و تدریس میں مشغول رکھتا ہے یعنی اس کا کام درس و تدریس، دعوت و تبلیغ اور دین کی ترویج و اشاعت ہوتا ہے۔ اور عابد سے مراد وہ آدمی ہے جو تحصیل علم کے بعد اپنی زندگی کا تمام حصہ صرف عبادت ہی عبادت میں صرف کرتا ہے، نہ اسے علم کی اشاعت سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ تعلیم و تعلم اس کا مقصد ہوتا ہے بلکہ وہ ہمہ وقت عبادت ہی میں مشغول رہتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر علم کی اشاعت اور تعلیم و تعلم کی فضیلت کا گہرا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ عمل افادیت کے اعتبار سے سب سے بلند مقام رکھتا ہے اور جو ہر حال میں عبادت پر افضل ہے جیسا کہ اکثر احادیث سے بھی ثابت ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ عالم اور عابد میں اس اعتبار سے فرق ہے اور عابد پر عالم کو فوقیت حاصل ہے۔ شرح السنتہ میں حضرت سفیان ثوری (رح) کا قول منقول ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ میں آج طالب علم سے افضل کوئی دوسری چیز نہیں جانتا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ کیا لوگوں کے خلوص نیت میں فضیلت نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا طلب علم خود نیت کا سبب ہے یعنی نیت اس سے اپنے آپ ہی سنور جاتی ہے۔ چنانچہ بعض علماء کا قول نقل کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کہا ہم نے علم غیر اللہ کے لئے حاصل کیا مگر بعد میں وہ اللہ ہی کے لئے ہوگیا، یعنی ہماری نیت پہلے مخلص اور صاف نہیں تھی مگر جب طلب علم کا حقیقی جذبہ پیدا ہوا اور علم کی روشنی نے قلب کو منور کیا تو نیت مخلص اور صحیح ہوگئی۔ علم کی فضیلت کا اس سے بھی اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں علم کا طلب کرنا نماز نفل سے افضل ہے کیونکہ وہ علم جسے طلب کیا جارہا ہے یا تو وہ فرض عین ہوگا یا فرض ہوگا یا فرض کفایہ ہوگا اور ظاہر ہے یہ دونوں نفل سے بہر حال افضل ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ قَالَ ذُکِرَ لِرَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلَانِ: اَحَدُھُمَا عَابِدٌ وَالْاٰخَرُ عَالِمً فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِی عَلَی اَدْنَا کُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اﷲَ وَمَلَائِکَتَہ، وَاَھْلَ الْسَمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ حَتّٰی الَّنْمَلَۃَ فِی جُحْرِھَا وَحَتّٰی الْحَوْتَ لَیُصَلُّوْنَ عَلَی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَیْرَ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَرَوَاہَ الدَّرِامِیُّ عَنْ مَکْحُوْلِ مُرْسَلًا وَلَمْ یَذْکُرْ رَجُلَانِ وَقَالَ فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِی عَلٰی اَدْنَا کُمْ ثُمَّ تَلَا ھٰذِہٖ الْاٰیَۃَ (اِنَّمَا یَخْشَی اﷲَ مِنْ عِبَادِہٖ الْعُلَمَائُ) وَسَرَدَ الْحَدِیْثَ اِلٰی اٰخِرِہٖ۔ (جامع ترمذی)
اور حضرت ابی امامہ باہلی ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا جس میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم (یعنی آپ سے پوچھا گیا کہ ان دونوں میں افضل کون ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ عالم کو عابد پر ایسی ہی فضیلت ہے جیسی کہ میری فضیلت اس آدمی پر جو تم میں سے ادنیٰ درجہ کا ہو۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور آسمانوں و زمین کی تمام مخلوقات یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں اس آدمی کے لئے دعائے خیر کرتی ہیں جو لوگوں کو بھلائی (یعنی علم دین) سکھاتا ہے جامع ترمذی اور دارمی نے اس روایت کو مکحول سے مرسل طریقہ پر نقل کیا ہے جس میں لفظ رجلان کا ذکر نہیں ہے اور کہا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ عابد پر عالم کو ایسی ہی فضیلت ہے جیسی مجھے تم میں سے ادنیٰ آدمی پر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت ( اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰ ؤُا) 35۔ فاطر 28) ترجمہ اللہ کے بندوں میں علماء ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اور پھر پوری حدیث آخرتک اسی طرح بیان کی ہے۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عالم کو بہت زیادہ عظمت و فضیلت حاصل ہوتی ہے اور اسے عابد پر فوقیت اور برتری حاصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے عابد اور عالم دونوں میں یہ فرق ظاہر کیا ہے کہ جس طرح میں تم میں سے اس آدمی پر فضیلت رکھتا ہوں جو تم میں سے سب سے ادنیٰ درجہ کا ہو اسی طرح ایک عالم بھی عابد پر فضیلت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک ادنیٰ آدمی پر جو فضیلت حاصل ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا اسی طرح اب اس کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ ایک عالم کو عابد پر فضیلت کس مرتبہ اور درجہ کی ہوگی۔ آخر حدیث میں کہا گیا ہے کہ اسی حدیث کو دارمی نے مکحول سے طریق مرسل نقل کیا ہے اور اس میں اس حدیث کے ابتدائی الفاظ رجلان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے یعنی ان کی روایت میں یہ الفاظ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا جس میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم بلکہ ان کی روایت قال رسول اللہ ﷺ سے شروع ہوتی ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ النَّاسَ لَکُمْ تَبَعٌ وَاِنَّ رِجَالًا یَا تُوْ نَکُمْ مِنْ اَقْطَارِ الْاَرْضِ یَتَفَقَّھُوْنَ فِی الدِّیْنِ فَاِذَا اَتَوْ کُمْ فَاسْتَوْ صَوْابِھِمْ خَیْرًا۔ (رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ لوگ تمہارے (یعنی صحابہ کرام کے) تابع ہیں اور بہت سے لوگ علم دین سمجھنے اطراف عالم سے تمہارے پاس آئیں گے۔ لہٰذا جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنا۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس ارشاد کا مقصد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ بتانا ہے کہ میرے بعد چونکہ تمہاری ہی ذات دنیا کے لئے راہ بر و راہنما ہوگی اور تم ہی لوگوں کے پیشوا و امام بنوگے اس لئے تمام دنیا کے لوگ تمہارے پاس علم دین طلب کرنے اور میری احادیث حاصل کرنے آئیں گے۔ لہٰذا تمہیں چاہئے کہ وہ آئیں تو تم ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو، ان کی نگہداشت اور تربیت میں کوتاہی نہ کرو اور ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو، نیز ان کے قلوب کو علم دین کی اس مقدس روشنی سے جس سے تمہارے قلوب براہ راست فیضیاب ہوچکے ہیں منوّر کرو۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلْکَلِمَۃُ الْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْحَکِیْمِ فَحَیْثُ وَجَدَھَا فَھُوَا حَقُّ بِھَا رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ وَاِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْفَضْلِ الرَّاوِی یُضَعَّفَ فَی الْحَدِیْثِ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ (دین میں) فائدہ دینے والی بات دانش مند آدمی کا مطلوب ہے لہٰذا وہ جہاں اسے پائے اس کا مستحق ہے۔ اور جامع ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس حدیث میں ایک راوی ابراہیم ابن فضل ہیں جو کو (روایت حدیث میں) ضعیف خیال کیا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ)
تشریح
یہ حدیث دانشمندی اور صاحب فہم انسان کو یہ احساس و شعور بخش رہی ہے کہ جب کسی سے دین کی کوئی فائدہ مند بات سنی جائے تو عقل کا یہ تقاضہ ہونا چاہئے کہ فوراً اسے قبول کر کے اس پر عمل کیا جائے اس لئے کہ عقل و خرد کا یہی تقاضا انسان کی معراج کا ضامن ہوتا ہے۔ یہ انتہائی بےوقوفی اور کم ظرفی کی بات ہے کہ اگر کوئی مفید اور بہتر بات کسی ایسے آدمی سے سنی جائے جو اپنے سے کمتر و کم رتبہ ہو تو اس کو اس لئے ناقابل اعتناء اور ناقابل عمل قرار دے دیا جائے کہ وہ بڑی بات اور چھوٹا منہ ہے۔ اسی وجہ سے علماء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی آدمی اس بہتر و حق بات کو تو قابل قبول عمل جانے جو حضرت بایزید بسطامی (رح) جیسے صاحب عقل و تقدس ہستی سے منقول ہو۔ مگر جب وہی بات اپنی کسی کنیز اور لونڈی سے سنے تو اسے ناقابل اعتناء سمجھے تو وہ آدمی مغرور و متکبر کہلائے گا۔ مرد باید کہ گیرد اندر گوش گرنوشت ست پند بر دیوار
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقِیْہٌ وَاحِدٌ اَشَدُّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنْ اَلْفِ عَابِدِ۔(راوہ الجامع ترمذی وابن ماجۃ)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ایک فقیہ (یعنی عالم دین) شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہے۔ (جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ)
تشریح
مقابلہ کا یہ مسلم اصول ہے کہ کامیابی اس آدمی کے حصہ میں آتی ہے جو اپنے مد مقابل کے داؤ پیچ سے بخوبی واقف ہو اور اس کا توڑ جانتا ہو۔ چنانچہ ہم خود دیکھتے ہیں کہ مقابلہ کے اکھاڑہ میں وہ آدمی جو اپنے ظاہری قویٰ اور جسم کے اعتبار سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا اپنے اس مقابل کو پچھاڑ دیتا ہے جو جسم و بدن کے اعتبار سے اس سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے کیونکہ وہ جب مقابلہ میں آتا ہے تو اس کا دماغ بنیادی طور پر مقابل کے ہر وار سے بچاؤ کی شکل اور اس کے ہر داؤ کا جواب اپنے خزانہ میں رکھتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کامیابی اسی ہی سے ہوتی ہے۔ دنیا میں باطنی طور پر انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان ہے جو اپنے مکر و فریب کی طاقت سے لوگوں کو گمراہی کی وادی میں پھینکتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ لوگ جو شیطان کے مکر و فریب سے واقف نہیں ہوتے اور اس کی طاقت و قوت کا جواب نہیں رکھتے وہ گمراہ ہوجاتے ہیں مگر ایسے لوگ جو اس کے ہر داؤ کا جواب رکھتے ہیں اور اس کی طاقت و قوت کی شہ رگ پر ان کا ہاتھ ہوتا ہے وہ نہ صرف یہ کہ خود اس کی گمراہی سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی محفوظ رکھتے ہیں اور یہ لوگ وہی عالم ہوتے ہیں جن کے قلب و دماغ نور الہٰی کی مقدس روشنی سے منوّر اور ان کے ذہن و فکر علم و معرفت کی طاقت سے بھر پور ہوتے ہیں۔ اسی لئے اس حدیث میں فرمایا جا رہا ہے کہ شیطان کے مقابلہ میں ایک ہزار عابد جتنی طاقت رکھتے ہیں اتنی طاقت تنہا ایک عالم کے پاس ہوتی ہے کیونکہ جب شیطان لوگوں پر اپنے مکر و فریب کا جال ڈالتا ہے اور انہیں خواہشات نفسانی میں پھنسا کر گمراہی کے راستہ پر لگا دینا چاہتا ہے تو عالم اس کی چال سمجھ لیتا ہے چناچہ وہ لوگوں پر شیطان کی گمراہی کو ظاہر کرتا ہے اور ایسی تدابیر انہیں بتادیتا ہے جن پر عمل کرنے سے وہ شیطان کے ہر حملے سے محفوظ رہتے ہیں۔ برخلاف اس کے وہ عابد جو صرف عبادت ہی عبادت کرنا جانتا ہے اور علم و معرفت سے کوسوں دور ہوتا ہے وہ تو محض اپنی ریاضت و مجاہدہ اور عبادت میں مشغول رہتا ہے اسے یہ خبر بھی نہیں ہونے پاتی کہ شیطان کس چور دروازے سے اس کی عبادت میں خلل ڈال رہا ہے اور اس کی تمام سعی و کوشش کو ملیا میٹ کر رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ظاہری طور پر وہ عبادت میں مشغول رہتا ہے، مگر لا علم ہونے کی وجہ سے وہ شیطان کے مکر و فریب میں پھنسا ہوا ہوتا ہے اس لئے نہ وہ خود شیطان کی گمراہی سے محفوظ رہتا ہے اور نہ وہ دوسروں کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔