علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ الْاَ عْمَشِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اٰفَۃُ الْعُلْمِ النِّسْیَانُ وَاِضَاعَتُہ، اَنْ تُحَدِّیْثَ بِہٖ غَیْرَ اَھْلِہٖ رَوَاہُ الدَّارِمِیُّ مُرْسَلًا۔
اور حضرت اعمش ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا علم کی آفت بھولنا ہے اور علم کا ضائع کرنا یہ ہے کہ اس کو نااہل کے سامنے بیان کیا جائے۔ (دارمی نے بطریق ارسال کیا )
تشریح
علم کے حاصل ہونے سے پہلے تو بہت آفات اور مصیبتیں ہوتی ہیں لکل چیز آفۃ والعلم اٰفات یعنی ہر چیز کی ایک ہی آفت ہوتی ہے مگر علم کے لئے بہت سے آفات ہیں لیکن حصول علم کے بعد ایک ہی آفت ہے اور وہ نسیان یعنی بھولنا ہے اور یقینا کسی چیز کا حاصل ہوجانے کے بعد زائل ہوجانا اور ذہن میں آکر پھر محو ہوجانا زبردست روحانی اذیت ہے۔ دراصل اس حدیث سے اس پر تنبیہ مقصدود ہے کہ طالب علم اور اہل علم کو چاہئے کہ وہ ایسی باتوں سے اجتناب کریں جو نسیان کا سبب ہیں یعنی گناہ و معصیت سے بچیں اور ان چیزوں میں دل نہ لگائیں جو ذہن و فکر کو غافل کردیتی ہیں جیسے دنیا کی سحر آفرینیوں اور خواہشات نفسانی میں دلچسپی لینا چناچہ حضرت امام شافعی (رح) نے اسی مضمون کو اس شعر میں ادا کیا ہے شکوت الی وکیع سوء حفظی فاوصانی الی ترک المعاصی ترجمہ میں نے اپنے استاد وکیع سے اپنے حافظہ کی کمزروی کی شکایت کی تو انہوں نے مجھے ترک معصیت کی نصیحت کی۔ فان العلم فضل من الٰہ وفضل اللہ لا یعطی لعاص ترجمہ کیونکہ علم تو اللہ کا ایک فضل ہے اور اللہ کا فضل گناہ گار کے حصہ میں نہیں آتا۔ آخر حدیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ علم کو اس کے نااہل اور ناقدردان کے سامنے پیش کرنا دراصل علم کو ضائع کرنا ہے اور نااہل وہ آدمی ہے جو نہ تو علم کو سمجھتا ہے اور نہ علم کی قدر جانتا ہے لہٰذا جب اس کے سامنے علم پیش کیا جائے گا تو علم ضائع ہوگا۔ اس لئے علم انھی کو سکھانا چاہئے جو اس کے اہل اور قدردان ہوں، یعنی وہ علم سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں اور اس پر عمل کرنے کا جذبہ بھی ان کے اندر موجود ہو۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ سُفْیَانَ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اﷲُ عَنْہ، قَالَ لِکَعْبِ مَنْ اَرْبَابُ الْعِلْمِ؟ قَالَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ بِمَا یَعْلَمُوْنَ قَالَ فَمَا اَخْرَجَ الْعِلْمَ مِنْ قُلُوْبِ الْعُلَمَآءِ قَالَ اَلطَّمْعُ۔ (رواہ الدرامی)
اور حضرت سفیان (رح) راوی ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت کعب ؓ سے فرمایا (تمہارے نزدیک) صاحب علم کون ہے حضرت کعب ؓ نے جواب دیا وہ لوگ جو اپنے علم کے موافق عمل کریں، پھر حضرت عمر فاروق ؓ نے پوچھا کہ کون سی چیز عالموں کے دلوں سے علم کو نکال لیتی ہے؟ حضرت کعب نے ؓ جواب دیا۔ لالچ (دارمی)
تشریح
حضرت عمر فاروق ؓ کے سوال کا مطلب یہ تھا کہ علماء کے دلوں سے نور علم اور علم کی عظمت و برکت کو نکالنے والی کونسی چیز ہے اور وہ کیا چیز ہے جس کی موجودگی علم کے منافی ہے؟ حضرت کعب ؓ نے فرمایا کہ لالچ۔ وہ بری خصلت ہے جو علم کے نور کو عالم کے دل سے ضائع کردیتی ہے۔ کیونکہ جب کسی عالم کے اندر جاہ و جلال کی محبت اور لالچ اور دنیاوی اسباب عیش و عشرت کی طمع پیدا ہوجائے گی تو پھر علم کا نور اور علم کی برکت اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور عالم کے دل و دماغ علم کی حقیقی روشنی سے منوّر نہ رہ سکیں گے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ الْاَحْوَصِ بْنِ حَکِیْمِ عَنْ اَبِیْہٖ قَالَ سَأَلُ رَجُلٌ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الشَّرِّ فَقَالَ لَا تَسْئَلَوْنِی عَنِ الشَّرِّوَسَلُوْنِی عَنِ الْخَیْرَ یَقُوْلُھَا ثَلَاثُا ثُمَّ قَالَ اَلَا اِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِّرَارُ الْعُلَمَآءِ وَاِنَّ خَیْرَ الْخَیْرِ خِیَارُالْعُلَمَآئِ۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت احوض بن حکیم ؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سرکار دو عالم ﷺ سے برائی کے بارے میں سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے برائی کے بارے میں مت پوچھو بلکہ بھلائی کے بارے میں سوال کرو۔ اور ان جملوں کو آپ ﷺ نے تین بار ادا فرمایا۔ خبردار! بد لوگوں میں بد ترین برے عالم ہیں اور بھلے لوگوں میں سب سے بہتر بھلے علماء ہیں۔ (دارمی)
تشریح
صحابی کے سوال کا مقصد یا تو نفسِ برائی کے بارے میں دریافت کرنا تھا جیسا کہ ترجمہ سے معلوم ہوا یا وہ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ بد ترین آدمی کون ہے َ اور جواب کو دیکھتے ہوئے یہی مقصد زیادہ واضح ہے۔ آپ ﷺ نے اس طرح کے سوال سے منع فرمایا اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ چونکہ سرکار دو عالم ﷺ کی ذات اقدس سراپاءِ رحمت اور سراپاءِ خیر ہے اس لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ آپ ﷺ سے محض بدی اور برائی کا سوال کیا جاتا۔ چناچہ آپ ﷺ نے برائی اور بھلائی دونوں کے بارے میں جواب دے کر اسی طرف اشارہ فرمایا۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ علماء کی ذات چونکہ عوام کے اندر ایک معیار اور نمونہ ہوتی ہے اور لوگ ان کے تابع و معتقد ہوتے ہیں لہٰذا عالم کی ہر صفت اس کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات تک بھی پہنچتے ہیں، عالم اگر نیک اخلاق و عادات اور اچھے خصائل کا ہوتا ہے تو اس کے ماننے والے اور اس کی اتباع کرنے والے بھی نیک اخلاق و عادات کے مالک ہوتے ہیں اور خدانخواستہ بد اخلاق، بد کردار ہوجائے تو پھر اس کے جراثیم دوسرے تک پہنچتے ہیں اور اس کے ماننے والے بھی اسی کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ اِنَّ مِنْ اَشَرِالنَّاسِ عِنْدَاﷲِ مَنْزِلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَالِمٌ لَا یَنْتَفِعُ بِعِلْمِہٖ۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت ابودرداء ؓ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک مرتبہ میں سب سے بدتر وہ عالم ہے جس نے اپنے علم سے فائدہ نہ اٹھایا۔ (دارمی)
تشریح
یا تو اس سے مراد وہ عالم ہے جس نے ایسا علم سیکھا جو فائدہ پہنچانے والا نہیں ہے۔ یعنی غیر شرعی علوم اس نے حاصل کئے جو نفع بخش نہیں ہیں یا پھر وہ عالم مراد ہے جس نے علم تو شرعی اور دینی حاصل کیا مگر اس پر عمل نہیں کیا۔ لہٰذا ایسے عالم کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ قیامت کے روز مرتبہ کے اعتبار سے وہ اللہ کے نزدیک سب سے بدتر ہوگا یعنی یہ جاہل سے بھی زیادہ برا ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس پر جو عذاب ہوگا وہ جاہل کے عذاب سے سخت ہوگا، جیسا کہ منقول ہے۔ ویل للجاھل مرۃ و ویل اللعالم سبع مرات۔ یعنی جاہل کے لئے ایک مرتبہ بربادی ہے اور عالم کے لئے سات مرتبہ بربادی ہے، نیز یہ وارد ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ اور سب سے شدید عذاب جس پر ہوگا وہ ایسا عالم ہے کہ جسے اللہ نے علم دیا اور اس نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ زِیَادِ بْنِ حُدَیْرِ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ قَالَ لِیْ عُمَرُ ھَلْ تَعْرِفُ مَا یَھْدِمُ الْاِسْلَامَ قُلْتُ لَا قَالَ یَھْدِمُہ، زَلَّۃُ الْعَالِمِ وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْکِتَابِ وَحُکْمُ الْاَئِمَّۃِ الْمُضَلِّیْنَ۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت زیاد بن حدیر ؓ راوی ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ اسلام کی عمارت کو ڈھانے والی کیا چیز ہے؟ میں نے کہا مجھے نہیں معلوم! حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا۔ عالم کا پھسلنا (یعنی کسی مسئلہ میں عالم کا غلطی کرنا اور اس کا گناہ کرنا، منافق کا کتاب اللہ میں جھگڑنا اور گمراہ سرداروں کا حکم جاری کرنا اسلام (کی عمارت) کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔ (دارمی)
تشریح
اسلام کی عمارت کو ڈھا دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے جو پانچ بنیادی اصول ہیں، یعنی کلمہ، تو حید، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج۔ وہ بیکارِ محض ہو کر رہ جائیں، چناچہ جب عالم اپنے حقیقی فرائض یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ادائیگی کو اپنی خواہشات نفسانی کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے تو ان چیزوں میں سستی اور فساد واقع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح منافق یعنی وہ آدمی جو بظاہر تو اسلام کا دم بھرتا ہے مگر اندرونی طور پر وہ کفر و بدعت کا پوری طرح ہمنوا ہوتا ہے۔ جب قرآن میں جھگڑتا ہے بایں طور پر وہ قرآن کے معنی و مفہوم کی غلط تاویلات کر کے احکام شرعیہ کو رد کرتا ہے تو اس سے ارکان اسلام میں سستی اور دین میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ اسی زمرہ میں وہ روافض اور خوراج نیز دیگر باطل عقائد کے لوگ بھی داخل ہیں جو اپنی خواہشات نفسانی اور ذاتی اغراض کی خاطر غلط سلط تاویلیں کر کے دین و شریعت میں شک و شبہہ کا بیج بوتے ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ الْعِلْمُ عِلْمَانِ فَعِلْمٌ فِی الْقَلْبِ فَذَاکَ الْعِلْمُ النَّافِعُ وَعِلْمٌ عَلَی اللِّسَانِ فَذٰلِکَ حُجَّۃُ اﷲِ عَزَّوَجَلَّ عَلَی ابْنِ اٰدَمَ۔ (رواہ الدرامی)
اور حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ علم کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ علم جو دل کے اندر ہوتا ہے یہ علم تو نفع دیتا ہے اور دوسرا وہ علم ہے جو زبان کے اوپر ہوتا ہے یہ علم آدمی پر اللہ عزوجل کی دلیل و حجت ہے۔ (دارمی)
تشریح
حضرت حسن بصری (رح) نے علم کی جو دو قسمیں کی ہیں ان میں سے پہلے کو علم باطن کہا جاتا ہے اور دوسرے کو علم ظاہر چناچہ جب تک ظاہر کی اصلاح نہیں ہوتی علم باطن سے کچھ میسر نہیں آتا، اسی طرح جب تک باطن کی اصلاح نہیں ہوجاتی علم ظاہر کی تکمیل نہیں ہوتی۔ ابوطالب مکی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں علم اصل اور بنیادی ہیں اور ان دونوں میں اس درجہ کا ارتباط و تعلّق ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتا۔ جس طرح ایمان و اسلام کہ ایک دوسرے کے بغیر صحیح نہیں ہوتے یا جیسے دل و جسم کہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے ٹھیک اسی طرح ان دونوں علوم کا آپس میں ارتباط وتعلق ّہے۔ (ملاقاری) حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) نے لکھا ہے کہ نفع دینے والا علم وہ ہوتا ہے کہ جب اس کی روشنی سے دل منوّر ہوجاتا ہے تو دل کے وہ پردے اٹھ جاتے ہیں جو حقائق اشیاء کی معرفت و فہم کے لئے مانع ہیں۔ علم نافع کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو علم معاملہ جو عمل کا باعث ہوتا ہے اور دوسرا علم مکاشفہ جو عمل کا اثر ہوتا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کے دل میں یہ نورانی علم ڈال دیتا ہے اور حضرت حسن بصری (رح) نے جس علم کو نافع قرار دیا ہے وہ یہی علم ہے اور جو علم زبان کے اوپر ہوتا ہے۔ یہ وہ علم ہے جو نہ تو تاثیر رکھتا ہے اور نہ دل میں نورانیت پیدا کرتا ہے علم چوں بردل زند یاری شود علم چوں برتن زند ماری شود چنانچہ اسی علم کو کہا جا رہا ہے کہ یہ بندوں پر اللہ کی جانب سے حجت اور دلیل ہے کہ اللہ بندوں کو الزام دیتے ہوئے فرمائے گا کہ میں نے تو تمہیں علم دیا تھا تم نے اس پر علم کیوں نہیں کیا؟ اور اسی لئے کہا گیا ہے کہ جاہل کے لئے ایک بار بربادی ہے اور عالم کے لئے سات بار کیونکہ یہ دیدہ و دانستہ گمراہ ہوا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وِعَائَیْنِ فَاَمَّا اَحَدُھُمَا فَبَثَثْتُہ، فِیْکُمْ وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُہ، قُطِعَ ھٰذَا الْبُلْعُوْمُ یَعْنِی مِجْرَی الطَّاعَامِ۔ (رواہ البخاری)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ سے دو باسن (یعنی دو طرح کے علم) یاد رکھے ہیں، ان میں سے ایک کو تمہارے درمیان میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا علم وہ ہے کہ اگر میں اسے بیان کروں تو میرا یہ گلا کاٹ ڈالا جائے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
پہلے علم سے مراد تو علم ظاہر ہے جس کا تعلق احکام و اخلاق وغیرہ سے ہے۔ دوسرے علم کے دو مفہوم لئے جاسکتے ہیں اول تو یہی کہ اس سے مراد وہ علم باطن ہے جس کے اسرار و معانی عوام سے ان کے ناقص فہم کی بنا پر پوشیدہ ہیں اور وہ علم خواص علماء عارفین کے ساتھ محضوص ہے یا دوسرے معنیٰ یہ ہوسکتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے بتایا تھا کہ میرے بعد ایک جماعت کی طرف سے ایک زبردست فتنہ اٹھے گا جس سے بدعات کی بنیاد پڑجائے گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کو اس قوم اور قوم کے افراد کے ناموں کا بھی علم تھا چناچہ ہوسکتا ہے کہ اس سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی مراد یہی علم ہو جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اگر میں اسے لوگوں کے سامنے بیان کر دوں گا تو میری جان کے لالے پڑجائیں گے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍص قَالَ ےَا اَےُّھَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَےْئًا فَلْےَقُلْ بِہٖ وَمَنْ لَّمْ ےَعْلَمْ فَلْےَقُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ فَاِنَّ مِنَ الْعِلْمِ اَنْ تَقُوْلَ لِمَا لَا تَعْلَمُ اَللّٰہُ اَعْلَمُ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی لِنَبِےِّہٖ قُلْ مَا اَسْئَلُکُمْ عَلَےْہِ مِنْ اَجْرٍ وَمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِےْنَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور مروی ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے (لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا) اے لوگو! جو آدمی کسی بات کو جانتا ہو تو چاہئے کہ وہ اسے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو تو چاہئے کہ وہ کہے کہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے اس لئے کہ جس چیز کا اسے علم نہیں ہے، اس کے بارے میں اللہ زیادہ جانتا ہے۔ کہنا بھی علم کی ایک قسم ہے (یعنی معلوم کا غیر معلوم سے تمیز کرنا بھی علم کی ایک قسم ہے) چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے واسطے فرمایا ہے کہ آیت (قُلْ مَا اَسْ َ لُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ ) 38۔ ص 86) ترجمہ یعنی اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کہ میں اس قرآن پر تم سے کوئی بدلہ نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والے لوگوں میں سے نہیں ہو۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اس آیت کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ اللہ نے جو کچھ علم مجھے دیا اور جتنا مجھے سکھا دیا اور پھر اس کو پھیلانے اور لوگوں کو سکھانے کا حکم دیا اسی کو لوگوں تک پہنچاتا اور انہیں سکھاتا ہوں۔ اس کے علاوہ میں کسی دوسری چیز کا دعویٰ اپنی طرف سے نہیں کرتا اور نہ ان چیزوں سے بحث کرتا ہوں جو مشکل اور سخت ہونے کی وجہ سے عوام کے فہم سے بلند وبالا ہیں کیونکہ ایسا کرنا خواہ مخواہ کا تکلف کرنا ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ بْنِ سِےْرِےْنَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ قَالَ اِنَّ ھٰذَا الْعِلْمَ دِےْنٌ فَانْظُرُوْا عَمَّنْ تَاْخُذُوْنَ دِےْنَکُمْ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ یہ علم (یعنی کتاب و سنت کا علم) دین ہے۔ لہٰذا جب تم اس کو حاصل کرو تو یہ دیکھ لو کہ اپنا دین کس سے حاصل کر رہے ہو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس ارشاد سے دراصل اس بات پر تنبیہ مقصود ہے کہ جب علم حاصل کرنے کا ارادہ کرو یا حدیث حاصل کرو تو اس بات کو خوب اچھی طرح جانچ پرکھ لو کہ تم جس سے علم حاصل کرو ہے ہو وہ کس قسم کا آدمی ہے۔ آیا وہ قابل اعتماد ہے یا نہیں؟ جب تمہیں اس عالم یا راوی کے حالات کا پوری طرح علم ہوجائے اور سمجھ لو کہ واقعی وہ دیندار، پرہیزگار اور قوی الحافظہ ہے تو اس سے علم حاصل کرو۔ اس طرح ہر کس و ناکس کو اپنا استاد نہ بناؤ اور ہر آدمی سے حدیث کی روایت نہ کرو خصوصاً اہل بدعت، نفسانی خواہشات کے غلام اور غیر دیندار لوگوں سے اس معاملہ میں اجتناب برتو۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ حُذَےْفَۃَ صقَالَ ےَا مَعْشَرَ الْقُرَّآءِ اسْتَقِےْمُوْا فَقَدْ سَبَقْتُمْ سَبْقًا بَعِےْدًا وَّاِنْ اَخَذْتُمْ ےَمِےْنًا وَّشِمَالًا لَّقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِےْدًا۔ (صحیح البخاری)
اور مروی ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے قاریوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ اے قاریوں کی جماعت سیدھے رہو! اس لئے کہ تم سبقت لے گئے ہو دور کی سبقت اگر تم (سیدھے راستہ سے ہٹ کر) ادھر ادھر ہوگئے تو البتہ بڑی گمراہی میں پڑجاؤ گے۔ ( صحیح البخاری )
تشریح
یہ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے خطاب ہے جو ابتداء ہی میں اسلام کی دولت سے مشرف ہوگئے تھے۔ چونکہ ان لوگوں نے شروع ہی میں کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔ اس لئے یہ اپنے فضل و کمال کی بناء پر ان لوگوں سے سبقت لے گئے ہیں جو بعد میں مسلمان ہوئے ہوں گے اگرچہ ان کے اعمال بھی ان ہی جیسے ہوں گے لیکن بعد کے لوگ پہلے والوں کے مرتبہ و درجہ کو ان کی سبقت اسلام کی بناء پر نہیں پہنچ سکتے۔ بہر حال انہیں مقدّس حضرات کو حضرت حذیفہ ؓ مخاطب فرما رہے ہیں کہ تم لوگ شریعت، طریقت اور حقیقت کی راہ پر مستقیم رہو اس لئے کہ استقامت کرامت سے بہتر ہے۔ استقامت کے معنیٰ یہ ہیں کہ اچھے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہا جائے، نفع دینے والے علم اور صالح پر مداومت اختیار کی جائے، اخلاص خالص رکھے اور اللہ تعالیٰ کے سوا تمام چیزوں سے دھیان ہٹا کر حق تعالیٰ کے ساتھ لو لگائے رہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ تَعَوَّذُوْابِاﷲِ مِنْ جُبِّ الْحُزْنِ قَالُوْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَمَا حُبُّ الْحُزْنِ قَالَ وَادِ فِی جَھَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْہ، جَھَنَّمُ کُلَّ یَوْمِ اَرْبَعَ مِائَۃَ مَرَّۃِ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَمَنْ یَّدْخُلُھَا قَالَ الْقُرَاءُ الْمُرَاءُ وْنَ بِاَعْمَالِھِمْ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَکَذَا بْنُ مَاجَۃَ زَادَفِیْہِ وَاِنَّ مِنْ اَبْغَضِ الْقُرَّآءِ اِلَی اﷲِ تَعَالیٰ اَلَّذِیْنَ یَزُوْرُوْنَ الْاُمَرَآءَ قَالَ الْمُحَارِبِیُّ یَعْنِی الْجَوْرَۃَ۔ (رواہ الجامع ترمذی وابن ماجۃ)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ (صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا۔ تم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو حب الحزن یعنی غم کے کنویں سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! غم کا کنواں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ دوزخ میں ایک نالہ ہے جس سے دوزخ دن میں چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! اس میں کون داخل ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ قرآن پڑھنے والے جو اپنے اعمال کو دکھانے کے لئے کرتے ہیں۔ (جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ) اور سنن ابن ماجہ کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں اللہ کے نزدیک مبغوض ترین وہ قاری ہیں جو سرداروں سے ملاقات کرتے ہیں اس حدیث کے راوی حاربی نے کہا ہے کہ سرداروں سے مراد ظالم سردار ہیں۔ ( جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
جب الحزن دوزخ کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور کنوئیں کے مشابہ ہے یہ اتنی زیادہ ہیبت ناک اور وحشت ناک ہے کہ دوزخی تو الگ رہے خود دوزخ دن میں چار سو مرتبہ اس سے پناہ مانگتی ہے۔ چناچہ فرمایا جا رہا کہ وہ قاری جو اپنا عمل یعنی قرآن پڑھنا محض دکھلا وے و ریاء کے لئے کرتے ہیں اسی وحشت ناک وادی میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ اسی حکم میں ریاکار عالم اور عابد بھی داخل ہیں، کیونکہ علم کی اصل بنیاد تو قرآن ہی ہے اسی طرح عبادت بھی قرآنی احکام ہی کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لئے ایسے عالم اور عابد جو ریاء کار ہیں وہ انہیں قاریوں کے ہمراہ اسی کنواں کا لقمہ بنیں۔ سرداروں سے ملاقات کا مطلب یہ ہے کہ جو قاری سرداروں سے محض حب جاہ و مال اور دنیاوی طمع و لالچ کی خاطر ملتا ہے وہ اللہ کے نزدیک مبغوض ترین ہے۔ ہاں اگر سرداروں سے ملنا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے ہو یا بطریق جبر اور ان کے شرک کے دفعیہ کے لئے ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ نیز یہاں سرداروں سے بھی وہی سردار مراد ہیں جو ظالم اور جابر ہوں، نیک بخت سردار یا عادل امیر و حاکم کا یہ حکم نہیں ہے۔ کیونکہ ایسے امراء و سردار جو اللہ کے نیک بندے ہوں ان سے ملاقات کرنا عبادت میں داخل ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
اور حضرت علی المرتضیٰ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کردیئے جائیں گے۔ (بیہقی)
تشریح
یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کوسوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چناچہ یہاں رسم قرآن سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامرو نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔ مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔ اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ زِیَادِ بْنِ لَبِیْدِ قَالَ ذَکَرً النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم شَیْئًا فَقَالَ ذٰلِکَ عِنْدَ اَوَنِ ذَھَابِ الْعِلْمِ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَکَیْفَ یَذْھَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَنُقْرِئُہُ اَبْنَاءَ نَا وَ یُقْرِئُہُ اَبْنَاءُ نَا اَبْنَاءَ ھُمْ اِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَقَالَ ثَکِلَتْکَ اُمُّکَ زِیَادُ اِنْ کُنْتُ لَاَرَاکَ مِنْ اَفْقَہٖ رَجُلِ بِالْمَدِیْنَۃِ اَوْلَیْسَ ھٰذِہٖ الْیَھُوْدُ وَ النَّصَارَی یَقْرَاُوْنَ التَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ لَا یَعْمَلُوْنَ بِشَئْیِ مِمَّا فِیْھِمَا۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَی التِّرْمِذِیُّ عَنْہُ نَحْوَہُ وَ کَذَا الدَّارِمِیُّ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل، ابن ماجۃ)
اور حضرت زیاد بن لبید ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے کسی چیز (یعنی فتنہ اور ابتلاء) کا ذکر کیا۔ پھر فرمایا یہ اس وقت ہوگا جبکہ علم جاتا رہے گا۔ (یہ سن کر) میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ علم کس طرح جاتا رہے گا؟ حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں گے، ہمارے بچے اپنے بچوں کو پڑھائیں گے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ زیاد! تمہیں تمہاری ماں گم کردے! میں تو تمہیں مدینے کے لوگوں میں بڑا سمجھ دار سمجھتا تھا کیا یہود و نصاری توریت و انجیل کو نہیں پڑھتے ہیں۔ لیکن ان کی کتابوں کے اندر جو کچھ ہے۔ (یعنی احکام) اس میں وہ کسی چیز پر عمل نہیں کرتے (مسند احمد بن حنبل، ابن ماجہ) اور ترمذی (رح) نے ایسی ہی روایت زیاد سے اور اسی طرح دارمی نے ابی امامہ سے نقل کی ہے۔ ( مسند احمد بن حنبل، سنن ابن ماجہ، جامع ترمذی )
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے حضرت زیاد ؓ کو تنبیہ فرمائی کہ تم نے میرے کلام کا منشاء جانے بغیر یہ خیال کرلیا کہ صرف قرآن کا پڑھ لینا اور اس کا علم حاصل کرلینا ہی کافی ہے یعنی جس نے قرآن پڑھ لیا اور اس کا علم حاصل کرلیا گویا اس نے اس پر عمل بھی کرلیا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ محض قرآن کو پڑھ لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اصل چیز تو اس کا اتباع اور اس کے احکام پر عمل کرنا ہے اور یہی چیز اس وقت مقصود ہوگی، چناچہ قرآن کو مسلمان پڑھیں گے اور اس کا علم حاصل کریں گے مگر ان کا عمل قرآن کے مطابق نہیں ہوگا جس طرح کہ یہود و نصاریٰ کہ وہ بھی اپنی کتابوں یعنی تو ریت و انجیل کو پڑھتے ہیں اور اس کا علم بھی حاصل کرتے ہیں لیکن ان کے احکام پر ذرہ برابر بھی عمل نہیں کرتے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودِ قَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم تَعَلَّمُوْا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوْہُ النَّاسَ تَعَّلَمُوْالْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوْھَا النَّاسَ تَعَلَّمُوْا الْقُرْاٰنَ وَعَلِّمُوْہُ النَّاسَ فَاَنِّی امْرُءٌ مَقْبُوْضٌ وَالْعِلْمُ سَیُقْبَضُ وَتَظْھَرُ الْفِتَنُ حَتّٰی یَخْتَلِفَ اِثْنَانِ فِی فَرِیْضَۃِ لَّا یَجِدَانِ اَحَدً یَّفْصِلُ بَیْنَھُمَا۔ (رواہ الدارمی والدار قطنی)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے مجھ سے فرمایا۔ علم کو سیکھو اور سکھلاؤ، علم فرائض (یا فرض احکام) کو سیکھو اور لوگوں کو بھی سکھلاؤ (اسی طرح) قرآن کو سیکھو اور لوگوں کو بھی سکھلاؤ۔ اس لئے کہ بیشک میں ایک آدمی ہوں جو اٹھایا جاؤں گا اور علم بھی اٹھا لیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ دو آدمی ایک فرض چیز میں اختلاف کریں گے اور کسی کو ایسا نہ پائیں گے جو ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرے (یعنی علم کے کم ہوجانے اور فتنوں کے بڑھ جانے) سے یہ حال ہوجائے گا۔ (دارمی، دار قطنی)
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مَثَلُ عِلْمِ لاَّ یُنْتَفَعُ بِہٖ کَمَثَلِ کَنْزِ لاَّ یُنْفَقُ مِنْہُ فِی سَبِیْلِ اﷲِ ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل والدارمی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا جائے (یعنی نہ دوسروں کو پڑھایا جائے اور نہ اس پر عمل کیا جائے، اس خزانہ کی مانند ہے جس میں سے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ نہ کیا جائے۔ (مسند احمد بن حنبل، دارمی)