شکار کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 135 · 92 hadiths · Page 4 of 5

4029Mishkaat-al-Masabih

گوہ کا گوشت کھانا حرام ہے

وعن عبد الرحمن بن شبل : أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن أكل لحم الضب . رواه أبو داود

اور حضرت عبدالرحمن بن شبل ؓ سے ورایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ ( ابوداؤد ) تشریح یہ حدیث گوہ کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؓ کا مسلک ہے۔ اور شاید کہ پہلے گوہ کا کھانا مباح رہا ہو اور پھر بعد میں اس حکم ممانعت کے ذریعہ اس اباحت کو منسوخ قرار دیا گیا ہو۔

4030Mishkaat-al-Masabih

بلی حرام ہے

وعن جابر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن أكل الهرة وأكل ثمنها . رواه أبو داود والترمذي

اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بلی کا گوشت اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد، ترمذی) تشریح بلی کا گوشت کھانا تو بالاتفاق تمام علماء کرام کے نزدیک حرام ہے البتہ بلیک و بیچنا اور اس کی قیمت کو کھانے پینے کی چیزوں میں خرض کرنا حرام نہیں ہے بلکہ مکروہ ہے۔

4031Mishkaat-al-Masabih

گھریلو گدھے، خچر اور درندوں اور ذی مخلب پرندوں کا گوشت حرام ہے

وعنه حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم يعني يوم خيبر الحمر الإنسية ولحوم البغال وكل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے خبیر کے دن گھر میں پلے ہوئے گدھوں، خچر، ہر کچلی والے درندے اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندے کا گوشت حرام قرار دیا تھا امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

4032Mishkaat-al-Masabih

گھوڑے کا گوشت کھانے کی ممانعت

وعن خالد بن الوليد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن أكل لحوم الخيل والبغال والحمير . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت خالد بن ولید ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گھوڑے، خچروں اور گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ ( ابوداؤد، نسائی ) تشریح یہ حدیث کہ جس سے گھوڑے کا گوشت کھانے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے ضعیف ہے اس لئے یہ حضرت جابر ؓ کی اس حدیث کے معارض نہیں ہوسکتی جو پہلے گزر چکی ہے اور جس سے گھوڑے کے گوشت کی اباحت ثابت ہوتی ہے، تاہم گھوڑے کے گوشت کھانے کی یہ ممانعت اکثر علماء کے نزدیک اس حدیث کے ذریعہ منسوخ قرار پائی ہے جو پہلے گزر چکی ہے جیسا کہ حضرت جابر ؓ کی روایت کی تشریح میں یہ مسئلہ پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔

4033Mishkaat-al-Masabih

معاہدے کے مال کا حکم

nوعنه قال : غزوت مع النبي صلى الله عليه و سلم يوم خيبر فأتت اليهود فشكوا أن الناس قد أسرعوا إلى خضائرهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا لا يحل أموال المعاهدين إلا بحقها . رواه أبو داود

اور حضرت خالد بن ولید ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ خیبر کے دن جہاد میں شریک تھا ( ایک موقع پر) یہودی آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور یہ شکایت کی کہ لوگوں نے ان کی کھجوروں کی طرف جلد روی اختیار کی ہے ( یعنی مسلمانوں نے ہمارے کھجور کے درختوں پر سے پھل توڑ لئے ہیں جب کہ ہم معاہد ہیں) چناچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ خبردار! ان لوگوں کا مال حلال نہیں ہے جس سے عہد و پیمان ہوچکا ہے۔ علاوہ اس حق کے جو اس مال سے متعلق۔ ( ابوداؤد ) تشریح معاہد اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس سے عہد و پیمان ہوا ہو، چناچہ اگر وہ معاہد ذمی ہے تو وہ حق جو اس کے مال سے متعلق ہے جزیہ ہے اور اگر وہ معاہد مستامن ہے اور اس کے پاس مال تجارت ہے۔ تو اس کے مال سے جو حق متعلق ہوگا وہ اس پر لاگو ہونے والا عشر ہے۔

4034Mishkaat-al-Masabih

مچھلی، ٹڈی، کلیجی اور تلی حلال ہے

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحلت لنا ميتتان ودمان : الميتتان : الحوت والجراد والدمان : الكبد والطحال . رواه أحمد وابن ماجه والدارقطني

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ہمارے لئے دو بغیر ذبح کے مری ہوئی چیزیں اور دو خون حلال ہیں۔ دو بغیر ذبح کے مری ہوئی چیزیں تو مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہیں ( کہ یہ دونوں اصل میں بستہ خون ہیں نہ کہ گوشت۔ (احمد، ابن ماجہ، دارقطنی )

4035Mishkaat-al-Masabih

جو مچھلی پانی میں مر کر اوپر آ جائے اس کا مسئلہ

وعن أبي الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما ألقاه البحر وجزر عنه الماء فكلوه وما مات فيه وطفا فلا تأكلوه . رواه أبو داود وابن ماجه وقال محيي السنة : الأكثرون على أنه موقوف على جابر

اور حضرت ابوزبیر ؓ عنہ، حضرت جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس ( مچھلی) کو دریا نے کنارے پر پھینک دیا ہو، یا پانی سے اس کا ساتھ چھوٹ گیا ہو ( یعنی دریا کا پانی بالکل خشک ہوگیا ہو یا کسی دوسری طرف چلا گیا ہو) تو اس مچھلی کو کھالو اور جو مچھلی دریا میں مر کر پانی کے اوپر آجائے اس کو مت کھاؤ۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ) اور محی السنۃ نے کہا ہے کہ اکثر ( محدثین) اس بات کے قائل ہیں کہ یہ حدیث حضرت جابر ؓ پر موقوف ہے۔ یعنی ان کے نزدیک یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد نہیں ہے بلکہ حضرت جابر ؓ کا اپنا قول ہے۔ تشریح یہ حدیث حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے اس مسلک کی دلیل ہے کہ طافی مچھلی ( یعنی وہ مچھلی جو پانی میں مر کر اوپر آجائے حرام ہے۔ چناچہ صحابہ کی ایک جماعت سے بھی اسی طرح منقول ہے، لیکن حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کے نزدیک اس مچھلی کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں، کیوں کہ آنحضرت ﷺ مطلق ( بلا قید اور استثناء کے) احل لکم المیتتان ( تمہارے لئے دو بغیر ذبح کے مری ہوئی چیزیں حلال ہیں، فرمایا ہے لہٰذا میتہ بحر یعنی پانی کی مری ہوئی چیز ( مچھلی) مطلق حلال ہوگی ( خواہ وہ پانی سے نکلنے کے بعد مری ہو، یا پانی میں مر کر اوپر آگئی ہو) جب کہ حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ میتہ بحر سے وہ مچھلی مراد ہے جس کو بحر یعنی دریا باہر پھینک دے اور وہ اس کی وجہ سے مرجائے نہ کہ وہ مچھلی مراد ہے جو بغیر کسی آفت کے پانی میں خود مرگئی ہو۔

4036Mishkaat-al-Masabih

ٹڈی کا حکم

وعن سلمان قال : سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن الجراد فقال : أكثر جنود الله لا آكله ولا أحرمه . رواه أبو داود وقال محيي السنة : ضعيف

اور حضرت سلمان ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے ٹڈی کے ( کھانے اور اس کی حقیقت کے) بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ٹڈیاں اللہ تعالیٰ کا ( پرندوں میں) سب سے بڑا لشکر ہیں، نہ تو میں اس کو کھاتا ہوں ( کیونکہ طبعا مجھے کراہت محسوس ہوتی ہے) اور نہ ( دوسروں پر) شرعا اس کو حرام قرار دیتا ہوں ( کیوں کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حلال کیا گیا ہے جیسا کہ پہلے یہ حدیث گزری ہے کہ احلت لنا میتتان ابوداؤد ٠! اور محی السنۃ نے کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ تشریح ٹڈیاں اللہ تعالیٰ کا لشکر اس اعتبار سے ہیں کہ جب کسی گروہ اور کسی قوم پر غضب آتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف ٹڈیوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیجتا ہے تاکہ وہ اس قوم کی کھیتوں اور ان کے درختوں کو کھا جائیں۔ جس سے ان میں قحط پھیل جائے۔ چناچہ پچھلے زمانوں میں ایسا بارہا ہوا ہے کہ جب کسی جگہ کے کھیتوں اور باغات کو غضب الٰہی کی بنا پر تڈیوں نے نست و نابود کردیا اور اس کی وجہ سے وہاں قحط پھیل گیا تو ایک انسان دوسرے انسان کو کھانے لگا اس طرح وہاں کی پوری کی پوری آبادی تباہ و برباد ہوگئی۔ جہاں تک ٹڈی کا مسئلہ ہے تو اس کا کھانا اکثر احادیث کے بموجب حلال ہے، چناچہ چاروں أئمہ کا یہ مسلک ہے کہ ٹڈی کو کھانا حلال ہے، خواہ وہ خود سے مرگئی ہو یا اس کو ذبح کیا گیا ہو، یا شکار کے ذریعہ مری ہو اور شکار بھی خواہ کسی مسلمان نے کیا ہو، یا مجوسی نے اور خواہ اس میں سے کچھ کاٹا جائے یا نہیں۔

4037Mishkaat-al-Masabih

مرغ کو برا کہنے کی ممانعت

وعن زيد بن خالد قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن سب الديك وقال : إنه يؤذن للصلاة . رواه أبو داود

اور حضرت زید بن خالد ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مرغ کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ بلا شبہ وہ ( مرغ) نماز کے لئے آگاہ کرتا ہے۔ ( شرح السنۃ) تشریح نماز سے تہجد کی نماز مراد ہے! حدیث شریف میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ تہجد کی نماز کے لئے اس وقت اٹھتے تھے جب کہ مرغ بانگ دیا کرتا تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ فجر کی نماز مراد ہو، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنی بانگ کے ذریعہ آگاہ کرتا ہے کہ فجر کی نماز کا وقت قریب آگیا ہے اور پھر دوبارہ اس کی بانگ تاکید و تنبیہ کے لئے ہوتی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب حیوان میں بھی پائی جانے والی اچھی خصلتیں اس کو برا کہنے سے روکتی ہیں، تو کسی مؤمن کو برا کہنے والے کا کیا حشر ہوگا؟

4038Mishkaat-al-Masabih

مرغ کو برا کہنے کی ممانعت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسبوا الديك فإنه يوقظ للصلاة . رواه أبو داود

اور حضرت زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مرغ کو برا نہ کہو، کیوں کہ وہ نماز کے لئے جگاتا ہے۔ ( ابوداؤد )

4039Mishkaat-al-Masabih

گھر میں سانپ دکھائی دے تو اس سے کیا کیا جائے

وعن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : قال أبو ليلى : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا ظهرت الحية في المسكن فقولوا لها : إنا نسألك بعهد نوح وبعهد سليمان بن داود أن لا تؤذينا فإن عادت فاقتلوها . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ حضرت ابولیلی نے بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب گھر میں سانپ نکلے تو اس کے سامنے کہا جائے کہ۔ ہم تجھ سے حضرت نوح ( علیہ السلام) کے عہد اور حضرت سلیمان بن داؤد ( علیہما السلام) کے عہد کا واسطہ دے کر یہ چاہتے ہیں کہ تو ہمیں ایذاء نہ پہنچا۔ اگر اس کے بعد وہ پھر نظر آئے تو اس کو مار ڈالو۔ ( ترمذی، ابوداؤد) تشریح حضرت نوح (علیہ السلام) نے سانپ سے عہد اس وقت لیا تھا جب کہ انہوں نے اپنی کشتی میں حیوانات کو داخل کیا تھا۔

4040Mishkaat-al-Masabih

انتقام کے خوف سے سانپ کو نہ مارنے والے کے بارے میں وعید

وعن عكرمة عن ابن عباس قال : لا أعلمه إلا رفع الحديث : أنه كان يأمر بقتل الحيات وقال : من تركهن خشية ثائر فليس منا . رواه في شرح السنة

اور حضرت عکرمہ ؓ عنہ، حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے بطریق مرفوع یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص بدلے ( انتقام) کے خوف سے ان ( سانپوں) کو مارنا چھوڑ دے تو وہ ایک موذی کو نہ مارنے اور قضا و قدر الہٰی پر بھروسہ نہ کرنے کے سبب) ہم میں سے نہیں ہے۔ یعنی ہمارے راستے پر گامزن نہیں ہے۔ ( شرح السنۃ) تشریح بدلے کے خوف کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس ڈر کی وجہ سے سانپ کو نہ مارے کہ کہیں اس کا جوڑا مجھ سے انتقام نہ لے، چنانچھ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے کسی سانپ کو مار ڈالا اور پھر اس کے جوڑے نے آ کر اس شخص کو کاٹ لیا اور بدلہ لیا، مارا جانے والا سانپ اگر نر ہوتا ہے تو اس کی مادہ انتقام لینے آتی ہے اور اگر وہ مادہ تھی تو اس کا نر بدلہ لینے آتا ہے، زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کے ہاں یہ خوف ایک عقیدے کی حد تک تھا وہ کہا کرتے تھے کہ سانپ کو ہرگز نہیں مارنا چاہئے، اگر اس کو مارا جائے گا تو اس کا جوڑا آ کر انتقام لے گا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح کے قول و اعتقاد سے منع فرمایا۔

4041Mishkaat-al-Masabih

انتقام کے خوف سے سانپ کو نہ مارنے والے کے بارے میں وعید

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما سالمناهم منذ حاربناهم ومن ترك شيئا منهم خيفة فليس منا . رواه أبو داود

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب سے ہم نے سانپوں سے لڑائی شروع کی ہے اس وقت سے ہم نے ان سے مصالحت نہیں کی ہے۔ لہٰذا جو شخص ان سانپوں میں سے کسی سانپ کو ( اس) خوف کی وجہ سے (مارنے) باز رہے ( کہ خود وہ سانپ یا اس کا جوڑا نقصان پہنچائے گا اور بدلہ لے گا، تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ( ابوداؤد ) تشریح ایک دوسری روایت میں منذ حار بناہم کے بجائے منذ عا دینا ہم کے الفاظ منقول ہیں۔ یعنی جب سے ہمارے اور سانپوں کے درمیان لڑائی اور دشمنی واقع ہوئی ہے بہر حال مراد یہ ہے کہ انسان اور سانپ کے درمیان دشمنی اور لڑائی ایک طبعی اور جبلی چیز ہے کہ ہر ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتا ہے، اگر انسان سانپ کو دیکھتا ہے تو اس کو ضرور مار ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر سانپ موقع پاتا ہے تو اس کو کاٹے اور ڈسے بغیر نہیں رہتا، بلکہ بعض علماء نے تو یہ کہا ہے کہ اس لڑائی اور دشمنی سے مراد دراصل وہ عداوت ہے جو اولاد آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے بھی پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) اور سانپ کے درمیان قائم ہوئی تھی، جیسا کہ ایک روایت میں بیان کیا جاتا ہے کہ جب ابلیس لعین نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو بہکانے کے لئے جنت میں داخل ہونا چاہا، تو جنت کے داروغہ نے اس کو روک دیا چناچہ یہ سانپ ہی تھا جو ابلیس کا کام آیا اس نے ابلیس کو اپنے منہ کے اندر لے کر جنت میں پہنچا دیا اور پھر ابلیس لعین نے حضرت آدم (علیہ السلام) و حوا کے لئے اپنے مکر و فریب کا جال پھیلا کر ان کو وسوسہ میں ڈال دیا اور ان دونوں نے جنت کے اس درخت سے کھالیا، جس کے پاس جانے سے بھی ان کو منع کردیا تھا اور آخر کار ان دونوں کو جنت سے نکال دیا گیا اور حق تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) و حوا علیھا اور ابلیس و سانپ کو خطاب کر کے فرمایا آیت (اھبطوا بعضکم لبعض عدو )۔ بیان کیا جاتا ہے کہ پہلے سانپ کی شکل و صورت بہت اچھی اور خوشنما تھی مگر اس کے اس سخت جرم کے عذاب میں کہ وہ ابلیس کا آلہ کار بنا اس کی صورت مسخ کردی گئی، لہٰذا سانپ اس کے مستحق ہے کہ اس کے تئیں یہ عداوت و نفرت ہمیشہ باقی رکھی جائے۔ واضح رہے کہ ما سلمانھم منذ حاربنا ہم میں سانپوں کے لئے ذوی العقول کی ضمیر اس لئے استعمال ہوئی ہے کہ ان کی طرف صلح کی نسبت کی گئی ہے جو ذوی العقول کے افعال میں سے ہے۔ جیسے کہ اس آیت کریمہ ( وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ ) 12۔ یوسف 4) میں سورج اور چاند کے لئے ذوی العقول کی ضمیر لائی گئی ہے ورنہ قاعدے کے اعتبار سے ان کے لئے غیر ذوی العقول کی ضمیر استعمال کرتے ہوئے یہ کہنا چاہئے تھا ما سالمنا ہن منذ حاربناہن۔

4042Mishkaat-al-Masabih

انتقام کے خوف سے سانپ کو نہ مارنے والے کے بارے میں وعید

وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقتلوا الحيات كلهن فمن خاف ثأرهن فليس مني . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمام سانپوں کو قتل کردو اگر کوئی شخص ان کے انتقام سے خوف زدہ ہوا تو وہ مجھ سے نہیں ہے۔ ( ابوداؤد، نسائی ) تشریح اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے تو یہ واضح ہوتا ہے ہر قسم کے سانپوں کو مارنا چاہئے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس عمومی حکم سے عوامر یعنی گھروں میں رہنے والے سانپوں کا استثناء کیا جانا چاہئے یا پھر یہ کہا جائے کہ قتل سے مراد یہ ہے کہ أگاہ کرنے کے بعد مارو، جیسا کہ پہلے حضرت ابوسائب کی حدیث میں بیان ہوا ہے۔

4043Mishkaat-al-Masabih

انتقام کے خوف سے سانپ کو نہ مارنے والے کے بارے میں وعید

وعن العباس رضي الله عنه قال : يا رسول الله إنا نريد أن نكنس زمزم وإن فيها من هذه الجنان يعني الحيات الصغار فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتلهن . رواه أبو داود

اور حضرت عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے ( ایک دن) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم زمزم کے کنوئیں کی صفائی کرنا چاہتے ہیں لیکن اس میں سانپ یعنی چھوٹے سانپ ہیں؟ چناچہ رسول کریم ﷺ نے ان سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا۔ ( ابوداؤد) تشریح اس حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہر قسم کے چھوٹے سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا تھا، لیکن آگے جو حدیث آرہی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے ان میں سے ایک قسم کے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس موقع پر چاہ زمزم کو صاف کرنا ان سب سانپوں کو مار ڈالنے کے بغیر ممکن نہیں تھا، جب کہ دوسری صورتوں میں ان میں سے بعض قسم کے سانپوں کا استثناء ممکن ہے۔

4044Mishkaat-al-Masabih

سفید چھوٹے سانپ کو مارنے کی ممانعت

وعن ابن مسعود رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اقتلوا الحيات كلها إلا الجان الأبيض الذي كأنه قضيب فضة . رواه أبو داود

اور حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمام سانپوں کو مارو علاوہ جان یعنی سفید چھوٹے سانپ کے جو چاندی کی چھڑی کی طرح ہوتا ہے۔ ( ابوداؤد) تشریح اس سانپ کو مارنے سے شاید اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ وہ ضرر نہیں پہنچاتا۔

4045Mishkaat-al-Masabih

کھانے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اس کو غوطہ دے کر نکال دو

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا وقع الذباب في إناء أحدكم فامقلوه فإن في أحد جناحيه داء وفي الآخر شفاء فإنه يتقي بجناحه الذي فيه الداء فليغمسه كله . رواه أبو داود

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کسی شخص کے برتن میں ( کہ جس میں کھانے پینے کی کوئی چیز ہو) مکھی گرجائے تو اس کو غوطہ دو کیوں کہ اس کے ایک بازو میں بیماری ہے اور دوسرے بازو میں شفاء اور مکھی ( کسی چیز میں) پہلے اپنے اسی بازو کو ڈالتی ہے جس میں بیماری ہے لہٰذا پوری مکھی کو غوطہ دینا چاہئے ( تاکہ شفا والے بازو سے ان جراثیم کا دفعیہ ہوجائے جو بیمار والے بازو کی وجہ سے کھانے پینے کی چیز میں پہنچ گئے ہیں۔ ( ابوداؤد )

4046Mishkaat-al-Masabih

کھانے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اس کو غوطہ دے کر نکال دو

وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا وقع الذباب في الطعام فامقلوه فإن في أحد جناحيه سما وفي الآخر شفاء وإنه يقدم السم ويؤخر الشفاء . رواه في شرح السنة

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب کھانے میں مکھی گرجائے تو اس کو غوطہ دے لو۔ کیونکہ اس کے ایک بازو میں زہر ہے اور دوسرے بازو میں شفا ہے اور مکھی اپنے زہر والے بازو کو پہلے ڈالتی ہے اور پھر شفا والے بازو کو۔ ( شرح السنۃ )

4047Mishkaat-al-Masabih

وہ چار جانور جن کا مارنا ممنوع ہے

وعن ابن عباس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن قتل أربع من الدواب : النملة والنحلة والهدهد والصرد . رواه أبو داود والدارمي

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( ان) چار جانوروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور کلچڑی۔ ( ابوداؤد، دارمی ) تشریح چیونٹی کو مارنے سے منع کرنے کی مراد یہ ہے کہ اس کو اس وقت تک نہ مارا جائے جب تک کہ وہ نا کاٹے، اگر وہ کاٹے تو پھڑ اس کو مارنا جائز ہوگا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ جس چیونٹی کو مارنے سے منع فرمایا گیا ہے اس سے وہ بڑی چیونٹی مراد ہے جس کے پیر لمبے لمبے ہوتے ہیں اور اس کو مارنا ممنوع اس لئے ہے کہ اس کے کاٹنے سے ضرر نہیں پہنچتا۔ شہد کی مکھی کو مارنا اس لئے ممنوع ہے کہ اس سے انسان کو بہت زیادہ فوائد پہنچتے ہیں بایں طور کہ شہد اور موم اسی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ ہدہد ایک پرندہ ہے جس کو کھٹ بڑھئی کہتے ہیں، صرد بھی ایک پرندہ ہے جو بڑے سر، بڑی چونچ اور بڑے بڑے پر والا ہوتا ہے، وہ آدھا سیاہ ہوتا ہے اور آدھا سفید اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ وہ شکاری پرندہ ہوتا ہے جو چڑیوں کا شکار کرتا ہے، ان دونوں پرندوں کو مارنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ ان کا گوشت کھانا حرام ہے اور جو جانور و پرندہ کھایا نہ جاتا ہو اس کو مارنا ممنوع قرار دیا گیا ہے اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ ہدہد میں بدبو ہوتی ہے اس لئے وہ جلالہ کے حکم میں ہوگا۔ اہل عرب ہدہد اور صرد کے آوازوں کو منحوس اور بدفالی سمجھتے تھے، اس لئے بھی آنحضرت ﷺ نے ان کو مارنے سے منع فرمایا کہ لوگوں کے دلوں سے ان کی نحوست کا اعتماد نکل جائے۔

4048Mishkaat-al-Masabih

حلت وحرمت کے احکام میں خواہش نفس کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہئے

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : كان أهل الجاهلية يأكلون أشياء ويتركون أشياء تقذرا فبعث الله نبيه وأنزل كتابه وأحل حلاله وحرم حرامه فما أحل فهو حلال وما حرم فهو حرام وما سكت عنه فهو عفو وتلا ( قل لا أجد فيما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة أو دما ) رواه أبو داود

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ ( اپنی خواہش نفس کے مطابق) کچھ چیزوں کو کھاتے تھے اور کچھ چیزوں کو جھوڑ دیتے تھے، یعنی جن چیزوں سے ان کو نفرت ہوتی ان کو نہیں کھاتے تھے) چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا اور ( ان نبی ﷺ پر اور ان کے ذریعہ ان کی امت پر) اپنی کتاب نازل کی اور اپنی حلال چیزوں کو حلال قرار دیا اور اپنی حرام چیزوں کو حرام قرار دیا ( یعنی یہ بیان کردیا کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حلال کیا ہے وہی حلال ہے اس کے علاوہ حلال نہیں ہے) اور جس چیز کو حرام کہا ہے وہی حرام ہے اور جس چیز سے سکوت اختیار کیا ( یعنی جس چیز کے بارے میں یہ نہیں بتایا کہ یہ حلال ہے یا حرام) تو وہ چیز معاف ہے ( کہ اس پر مواخذہ نہیں) اور پھر حضرت ابن عباس ؓ نے یہ آیت پڑھی اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کہ جو احکام بذریعہ وحی میرے پاس آتے ہیں ان میں تو میں کوئی حرام غذا پاتا نہیں کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا خون الخ۔۔ ( ابوداؤد) تشریح لفظ حلالہ میں مصدر استعمال کیا گیا ہے جو مفعول کے قائم مقام ہے، معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی بعثت اور اپنی کتاب ہدایت ( قرآن مجید) کے نزول کے ذریعہ اس چیز کو ظاہر واضح کردیا جو حلال کی گئی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے جو آیت تلاوت کی وہ پوری یوں ہے ا یت (قُلْ لَّا اَجِدُ فِيْ مَا اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ يَّطْعَمُه اِلَّا اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّه رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِه )۔ 6۔ الانعام 145) ( اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کہ جو احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ہیں ان میں تو کوئی حرام غذا پاتا نہیں کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے مگر یہ کہ وہ مردار ( مرا ہوا جانور) ہو یا بہتا ہوا خون ہو، یا سور کا گوشت ہو کیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے یا جو جانور شرک کا ذریعہ ہو کہ غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو۔ یہ آیت کریمہ حضرت ابن عباس ؓ نے ان لوگوں کی تردید میں پڑھی جو محض اپنی خواہش نفس کی بنا پر کسی چیز کی حلت و حرمت کے فیصلہ کرتے تھے، کہ جس چیز کی طرف ان کی طبیعت راغب ہوئی اس کو حلال جان کر کھاتے اور جس چیز سے ان کو کراہت و نفرت ہوتی، اس کو حرام سمجھ کر ترک کردیتے، لہٰذا حضرت ابن عباس ؓ نے ان لوگوں پر اس آیت کے ذریعہ گویا یہ واضح کیا کہ حلال وہی چیز ہے، جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (علیہ السلام) نے حلال قرار دیا ہو اور حرام وہی چیز ہے، جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا ہو نہ کہ حلت و حرمت کا تعلق خواہش نفس سے ہے۔ از قسم جانور و گوشت جن چیزوں کے حرام ہونے کا حکم کتاب اللہ میں بیان کیا گیا ہے، وہ بس یہی ہیں جو اس آیت میں ذکر ہوئی ہیں۔ ان کے علاوہ اور دوسری چیزوں کی حرمت سنت نبوی ﷺ سے ثابت ہوئی ہے۔ اور وہ چونکہ زیادہ ہیں اس لئے حضرت ابن عباس ؓ نے ان کے بارے میں منقول احادیث بیان نہیں کیں، محض اس آیت کی تلاوت پر اکتفا کیا۔