شکار کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 135 · 92 hadiths · Page 3 of 5

4009Mishkaat-al-Masabih

گھریلو گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے

وعن أبي ثعلبة قال : حرم رسول الله صلى الله عليه و سلم لحوم الحمر الأهلية

اور حضرت ابوثعلبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے گھریلو گدھوں کا گوشت حرام قرار دیا ہے۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح لیکن جنگلی گدھے کہ جن کو گور خر کہتے ہیں بالاتفاق تمام علماء کے نزدیک حلال ہیں۔

4010Mishkaat-al-Masabih

گھوڑا حلال ہے

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى يوم خيبر عن لحوم الحمر الأهلية وأذن في لحوم الخيل

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے کی ممانعت جاری فرمائی تھی اور گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دی تھی۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح دیگر ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ گھوڑے کا گوشت کھانا مباح ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کا قول یہ ہے کہ گھوڑے کا گوشت کھانا مکروہ ہے، بعضے کہتے ہیں کہ کراہت تحریمی مراد ہے اور بعضے کراہت تنزیہی مراد لیتے ہی لیکن کفایت المنتہی میں منقول ہے کہ بعض علماء نے واضح کیا ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ نے اپنے انتقال سے تین دن پہلے اپنے اس قول سے رجوع کرلیا تھا یعنی دیگر ائمہ کی طرح وہ بھی گھوڑے کے گوشت کی اباحت کے قائل ہوگئے تھے چناچہ حنفی مسلک میں اسی پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح فقہ حنفی کی مشہور اور معتبر کتاب درمختار میں بھی یہ لکھا ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک گھوڑے کا گوشت حلال نہیں ہے جب کہ حضرت امام شافعی اور حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے نزدیک حلال ہے اور بعض علماء نے صراحت کی ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے اپنے انتقال سے تین دن پہلے حرمت کے قول سے رجوع کرلیا تھا چناچہ اسی پر فتوے ہے۔ حضرت مولانا شاہ محمد اسحق محدث دہلوی (رح) بھی اسی روایت کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے کہ حضرت امام اعظم نے اپنے قول سے رجوع کرلیا تھا اور حنفی مسلک میں گھوڑے کا گوشت کھانا حلال ہے۔

4011Mishkaat-al-Masabih

گور خر کا گوشت حلال ہے

وعن أبي قتادة أنه رأى حمارا وحشيا فعقره فقال النبي صلى الله عليه و سلم : هل معكم من لحمه شيء ؟ قال : معنا رجله فأخذها فأكلها

اور حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے گورخر کو دیکھا اور اس کو مار ڈالا ( اور پھر رسول کریم ﷺ سے اس گوشت کھانے کا مسئلہ پوچھا) تو نبی کریم ﷺ نے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ موجود ہے؟ ابوقتادہ نے کہا کہ ہمارے پاس اس کے پائے موجود ہیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے وہ پائے لے لئے اور اس کو کھایا۔ ( بخاری ومسلم )

4012Mishkaat-al-Masabih

خرگوش حلال ہے

وعن أنس قال : أنفجنا أرنبا بمر الظهران فأخذتها فأتيت بها أبا طلحة فذبحها وبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم بوركها وفخذيها فقبله

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) ہم نے مقام مرالظہران میں ( شکار کے لئے) ایک خرگوش کا تعاقب کیا چناچہ میں نے ( دوڑ کر) اس کو پکڑ لیا اور پھر اس کو ابوطلحہ کے پاس لایا۔ ابوطلحہ نے اس کو ذبح کیا اور اس کا ایک سرین اور دونوں رانیں رسول کریم ﷺ کے پاس بھیجیں آنحضرت ﷺ نے اس کو قبول فرما لیا۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خرگوش ایک حلال جانور ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اس کا گوشت قبول فرمایا اگر اس کا گوشت کھانا حلال نہ ہوتا تو آپ ﷺ اس کو قبول نہ فرماتے بلکہ دوسرے کو بھی اس کے کھانے سے منع فرماتے۔ چناچہ کتاب الرحمۃ فی اختلاف الائمۃ میں لکھا ہے کہ بالاتفاق تمام علماء کے نزدیک خرگوش حلال ہے۔

4013Mishkaat-al-Masabih

گوہ کا گوشت کھانے کا مسئلہ

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الضب لست آكله ولا أحرمه

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ گوہ کو نہ میں کھاتا ہوں اور نہ اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔ (بخاری ومسلم ) تشریح گوہ کو گور پھوڑ بھی کہتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ اس کی عمر سات سو سال تک کی ہوتی ہے، اس کی بڑی عجیب خصوصیات بیان کی جاتی ہیں مثلا یہ پانی نہیں پیتی بلکہ ہوا کے سہارے زندہ رہتی ہے، چالیس دن میں ایک قطرہ پیشاب کرتی ہے اور اس کے دانت کبھی نہیں ٹوٹتے۔ بعض علماء لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا گوہ کو نہ کھانا کراہت طبعی کی بناء پر تھا اور اور اس کو حرام قرار نہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک آنحضرت ﷺ کے پاس وحی کے ذریعہ اس کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ آگے وہ حدیث آرہی ہے جو گوہ کی حرمت پر دلالت کرتی ہے چناچہ اسی حدیث کے بموجب حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک گوہ کا کھانا حرام ہے، جب کہ حضرت امام احمد اور حضرت امام شافعی کے نزدیک اس کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ان کی دلیل مذکورہ بالا حدیث ہے۔

4014Mishkaat-al-Masabih

گوہ کا گوشت کھانے کا مسئلہ

وعن ابن عباس : أن خالد بن الوليد أخبره أنه دخل مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على ميمونة وهي خالته وخالة ابن عباس فوجد عندها ضبا محنوذا فقدمت الضب لرسول الله صلى الله عليه و سلم فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم يده عن الضب فقال خالد : أحرام الضب يا رسول الله ؟ قال : لا ولكن لم يكن بأرض قومي فأجدني أعافه قال خالد : فاجتررته فأكلته ورسول الله صلى الله عليه و سلم ينظر إلي

اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن ولید ؓ نے ان سے بیان کیا کہ ( ایک دن) وہ ( خالد) رسول کریم ﷺ کے ہمراہ حضرت میمونہ ؓ کے گھر گئے جو ان ( خالد) کی بھی خالہ تھیں اور حضرت ابن عباس ؓ کی بھی وہاں ان کے پاس انہوں نے ( یعنی آنحضرت ﷺ نے یا حضرت خالد ؓ نے) ایک گوہ بھنی ہوئی رکھی پائی! حضرت میمونہ ؓ نے اس گوہ کو رسول کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا لیکن رسول کریم ﷺ نے اس گوہ کی طرف سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا حضرت خالد ؓ نے ( یہ دیکھا تو) پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا گوہ حرام ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ نہیں بلکہ یہ میری قوم کی زمین ( یعنی حجاز) میں نہیں پائی جاتی اس لئے میں اس سے اپنے اندر کراہت ( یعنی طبعی کراہت) محسوس کرتا ہوں۔ حضرت خالد ؓ کا بیان ہے کہ (یہ سن کر) میں نے اس گوہ کو اپنی طرف کھینچ لیا اور کھانے لگا اور آنحضرت ﷺ میری طرف دیکھتے رہے۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح آگے جو حدیث آئے گی اور جس میں گوہ کو کھانے کی ممانعت منقول ہے، یہ واقعہ اس سے پہلے کا ہے اس اعتبار سے یہ حدیث منسوخ قرار پائے گی۔

4015Mishkaat-al-Masabih

مرغ کا گوشت کھانا حلال ہے

وعن أبي موسى قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يأكل لحم الدجاج

اور حضرت ابوموسی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو مرغ کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ ( بخاری ومسلم )

4016Mishkaat-al-Masabih

ٹڈی کا کھانا جائز ہے

وعن ابن أبي أوفى قال : غزونا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم سبع غزوات كنا نأكل معه الجراد

اور ابن ابی اوفیٰ ؓ کہتے ہیں ہم نے رسول کریم ﷺ کے ہمراہ سات جہاد کئے، ہم ( ان موقعوں پر) آنحضرت ﷺ کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح کنانا کل معہ الجراد میں لفظ معہ ( آنحضرت ﷺ کے ساتھ) نہ تو مسلم کی اصل روایت میں ہے اور نہ ترمذی میں، بلکہ اس حدیث کو جن اور محدثین نے نقل کیا ہے ان میں سے اکثر کی روایت اس لفظ سے خالی ہے، تاہم جن محدثین نے اپنی روایت میں یہ لفظ مزید نقل کیا ہے انہوں نے اس عبارت کے یہ معنی مراد لئے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے ہمراہ رہتے ہوئے ٹڈی کھاتے تھے۔ اور آنحضرت ﷺ ہمیں اس سے منع نہیں فرماتے تھے۔ نہ یہ کہ ہم اور آنحضرت ﷺ ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔ یہ تاویل اگرچہ حدیث میں منقول ہے الفاظ کے ظاہری مفہوم کے خلاف ہے لیکن یہ ضروری اس لئے ہے کہ یہ ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ٹڈی نہیں کھائی ہے۔ بلکہ اس کے بارے میں آپ ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ نہ میں کھاتا ہوں اور نہ حرام قرار دیتا ہوں۔

4017Mishkaat-al-Masabih

دریا کے مرے ہوئے جانور کو کھانے کا واقعہ

وعن جابر قال : غزوت جيش الخبط وأمر علينا أبو عبيدة فجعنا جوعا شديدا فألقى البحر حوتا ميتا لم نر مثله يقال له : العنبر فأكلنا منه نصف شهر فأخذ أبو عبيدة عظما من عظامه فمر الراكب تحته فلما قدمنا ذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : كلوا رزقا أخرجه الله إليكم وأطعمونا إن كان معكم قال : فأرسلنا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم منه فأكله

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ جیش الخبط یعنی پتے جھاڑ کر کھانے والے لشکر کے ساتھ جہاد کے لئے جانے والوں میں میں بھی شریک تھا، حضرت ابوعبیدہ ؓ اس لشکر کے امیر ( سپہ سالار) بنائے گئے تھے چناچہ ( جب) ہم سخت بھوکے ہوئے تو دریا ( سمندر) نے ایک مری ہوئی مچھلی ( اپنے کنارے پر) پھینک دی ہم نے اتنی بڑی مچھلی کبھی نہیں دیکھی تھی اس قسم کی مچھلی کو عنبر کہا جاتا تھا۔ چناچہ ہم نے اس میں سے آدھے مہینے تک ( بڑی فراخی کے ساتھ) کھایا، پھڑ حضرت ابوعبیدہ ؓ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی یعنی اس کی ایک پسلی کھڑی کی تو اس کے نیچے سے ایک اونٹ سوار ( بڑی آسانی کے ساتھ) گزر گیا، اس کے بعد جب ہم ( مدینہ واپس) آئے تو ہم نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اس واقعہ کا ذکر کیا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ جس رزق کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بہم پہنچایا ہے اس کو کھاؤ ( یعنی تم نے یہ اچھا کیا کہ اس مچھلی کو کھایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمہارا رزق بنا کر تمہارے لئے بہم پہنچایا تھا۔ یا یہ کہ اگر اس طرح کا کوئی اور رزق پاؤ تو اس کو کھاؤ) اور اگر اس مچھلی میں کوئی حضہ تمہارے پاس ( باقی رہا) ہو تو ہم کو بھی کھلاؤ ( یہ بات گویا آپ ﷺ نے ان کا دل خوش کرنے کے لئے اور اس مچھلی کے حلال ہونے کے حکم کو مؤ کد کرنے کی غرض سے فرمائی تاکہ ان لوگوں کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ وہ مچھلی اصل میں تو جائز نہیں تھی مگر ہماری اضطراری حالت کے پیش نظر اس کو ہمارے لئے حلال کردیا گیا ہے) حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ چناچہ ہم نے اس مچھلی کا کچھ حصہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا اور آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح خبط اصل میں تو خ اور ب کے زبر کے ساتھ لیکن ب کے جزم کے ساتھ بھی منقول ہے۔ اس کے معنی ہیں درخت کے پتے جو لاٹھی و ڈنڈے سے مار کر گرائے جائیں۔ حدیث میں مذکورہ واقعہ کا تعلق جس اسلامی لشکر سے ہے اس کو اتنی سخت صورت حال سے دوچار ہونا پڑا تھا کہ زاد راہ کے فقدان کی وجہ سے لشکر والوں کو اپنی زندگیاں بچانے کے لئے مجبورا درختوں کے پتے جھاڑ جھاڑ کر کھانے پڑتے تھے یہاں تک کہ اس کی وجہ سے ان کے منہ اور ہونٹ زخمی ہوگئے تھے بلکہ ان کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹوں کے مشابہ ہوگئے تھے۔ اسی بناء پر اس لشکر کا نام جیش الخبط یعنی پتے جھاڑ کر کھانے والا لشکر مشہور ہوگیا۔ یہ واقعہ ٦ ھ میں صلح حدیبیہ سے پہلے کا ہے۔ عنبر ایک خوشبو کا نام ہے جس کے بارے میں قاموس میں لکھا ہے کہ یہ اصل میں ایک سمندری جانور کا فضلہ ہوتا ہے، یا یہ ایک خاص قسم کے چشمے سے برآمد ہوتا ہے جو سمندر کی تہہ میں ہے۔ اور ایک قسم کی بڑی سمندری مچھلی کو بھی عنبر کہتے ہیں جس کی کھال سے ڈھال بنائی جاتی ہے۔ آدھے مہینہ تک۔ بعض روایتوں میں ایک مہینہ تک کے الفاظ ہیں اور بعض روایت میں یہ آیا ہے کہ لشکر والوں نے اس مچھلی میں سے اٹھارہ دن تک کھایا۔ ان تمام روایتوں میں یوں مطابقت پیدا کی جائے کہ اس مچھلی میں سے آدھے مہینہ تک تو پورا لشکر کھاتا رہا اس کے بعد لشکر میں سے کچھ لوگ اٹھارہ دن تک اور کچھ لوگ پورے مہینے تک کھاتے رہے۔

4018Mishkaat-al-Masabih

کھانے پینے کی چیز میں مکھی گر پڑے تو اس کا حکم

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا وقع الذباب في إناء أحدكم فليغمسه كله ثم ليطرحه فإن في أحد جناحيه شفاء وفي الآخر داء . رواه البخاري

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کسی شخص کے برتن میں ( کہ جس میں کھانے پینے کی کوئی چیز ہو) مکھی گرپڑے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس پوری مکھی کو غوطہ دے اور پھر نکال کر پھینک دے کیونکہ اس ( مکھی کے دونوں پروں میں سے ایک پر میں شفا ہے اور دوسرے پر میں بیماری ہے۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح اسی طرح کی ایک حدیث جو حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے منقول ہے دوسری فصل میں بھی نقل ہوگی۔ اس میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مکھی بیماری کے پر کو پہلے ڈالتی ہے لہٰذا پوری مکھی کو غوطہ دے لو تاکہ اس کا دوا والا پر بھی ڈوب جائے اور اس طرح اس کھانے پینے کی چیز سے وہ مضر اثرات زائل ہوجائیں جو بیماری والے پر کے ذریعہ پہنچے ہیں۔

4019Mishkaat-al-Masabih

جس گھی میں چوہا گر جائے اس کا حکم

وعن ميمونة أن فأرة وقعت في سمن فماتت فسئل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ألقوها وما حولها وكلوه . رواه البخاري

اور حضرت میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک چوہا گھی میں گرپڑا اور مرگیا۔ چناچہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا ( اس گھی کا کیا کیا جائے) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس چوہے کو اور اس کے اردگرد کے گھی کو نکال کر پھینک دو اور ( باقی) گھی کو کھاؤ۔ ( بخاری ) تشریح یہ اس گھی کا حکم ہے جو جما ہوا ہو اور جو گھی پگھلا ہوا ہو وہ تو اس صورت میں سارا نجس ہوجاتا ہے اور بالاتفاق تمام علماء کے نزدیک اس کا کھانا جائز نہیں، اس طرح اس گھی کو بیچنا بھی اکثر ائمہ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ البتہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے اس کے بیچنے کو جائز رکھا ہے۔ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ آیا اس گھی سے کوئی اور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ چناچہ بعض حضرات کے نزدیک اس سے کوئی بھی فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، جب کہ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس کو چراغ میں جلانے، کشتیوں پر ملنے یا اس طرح کے کسی اور مصرف میں لا کر اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ یہ قول حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا ہے اور حضرت امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک قول جو زیادہ مشہور ہے، بھی یہی ہے۔ لیکن یہ جواز کراہت کے ساتھ ہے۔ حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد سے دو روایتیں منقول ہیں۔ حضرت امام مالک سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس گھی کو مسجد کے چراغ میں جلانا جائز نہیں ہے۔

4020Mishkaat-al-Masabih

سانپ کو مار ڈالنے کا حکم

وعن ابن عمر أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اقتلوا الحيات واقتلوا ذا الطفيتين والأبتر فإنهما يطمسان البصر ويستسقطان الحبل قال عبد الله : فبينا أنا أطارد حية أقتلها ناداني أبو لبابة : لا تقتلها فقلت : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بقتل الحيات . فقال : إنه نهى بعد ذلك عن ذوات البيوت وهن العوامر

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ( عموماً تمام) سانپوں کو مار ڈالو اور ( خصوصا) اس سانپ کو کہ جس کی پشت پر دو سیاہ دھاریاں ہوں اور اس سانپ کو جس کو بتر کہتے ہیں مار ڈالو کیونکہ یہ دونوں قسم کے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں ( یعنی محض ان کو دیکھنے سے آدمی اندھا ہوجاتا ہے اور اس کا سبب اس زہر کی خاصیت ہے جو ان سانپوں میں ہوتا ہے اسی طرح (یہ ہدونوں سانپ) حمل کو گرا دیتے ہیں ( یعنی اگر حاملہ عورت ان کو دیکھے تو اس زہر کی خاصیت کے سبب سے یا خوف و دہشت کی وجہ سے اس کا حمل گر جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ ( ایک دن) جب کہ میں ایک سانپ پر حملہ کر کے اس کو مار ڈالنے کے درپے تھا کہ ( ایک صحابی) حضرت ابولبابہ انصاری نے مجھ کو آواز دے کر کہا کہ اس کو مت مارو، میں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے تمام سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت ابولبابہ نے کہا کہ لیکن آنحضرت ﷺ نے اس ( عام حکم) کے بعد گھر میں رہنے والے سانپوں کو مار ڈالنے سے منع فرمادیا تھا کیونکہ وہ گھر کو آباد کرنے والے ہیں۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح وہ گھر کو آباد کرنے والے ہیں۔ اصل میں عمر اور عمر کے معنی ہیں آباد کرنا، مدت دراز تک زندہ رہنا، چناچہ ان سانپوں کو عوامر اسی لئے کہا گیا ہے کہ ان کی عمر بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس وجہ سے وہ ہمیشہ گھر میں رہتے ہیں، ہمارے یہاں اس قسم کے سانپ کو بھومیا کہا جاتا ہے۔ اور تورپشتی نے کہا ہے کہ اصل میں عوامر کا اطلاق جنات پر ہوتا ہے، اس اعتبار سے وہ گھر کو آباد کرنے والے ہیں۔ سے مراد یہ ہوگی کہ گھروں میں اکثر وبیشتر جو سانپ نظر آتے ہیں وہ حقیقت میں جنات ہوتے ہیں جو سانپ کی صورت اختیار کئے ہوئے ہیں، لہٰذا گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے میں احتیاط کرنی چاہئے کہ مبادا جس سانپ کو مار ڈلا گیا ہے وہ حقیقت کے اعتبار سے گھر میں رہنے والا جن رہا ہو اور اس کے قتل سے گھر والوں کو کوئی نقصان وضرر پہنچ جائے۔ طبرانی نے ابن عباس ؓ سے بطریق مرفوع یہ روایت نقل کی ہے کہ اقتلو الحیۃ والعقرب وان کنتم فی الصلوۃ۔ سانپ اور بچھو کو مار ڈالو اگر چھ تم نماز کی حالت میں کیوں نہ ہو۔ اسی طرح ابوداؤد و نسائی نے حضرت ابن مسعود ؓ اور طبرانی نے جریر سے اور انہوں نے حضرت عثمان بن ابوالعاص سے بطریق مرفوع یہ روایت نقل کی ہے کہ اقتلو الحیات کلھن فمن خاف ثارھن فلیس منی۔ ہر قسم کے سانپوں کو مار ڈالو، جو شخص ان ( سا نپوں کے بدلے انتقام سے ڈرا اس کی وجہ سے ان کو نہیں مارا) تو وہ مجھ سے نہیں ہے۔ لیکن یہ روایتیں کہ جن سے مطلق سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم ثابت ہوتا ہے، اصل میں یہ گھروں میں رہنے والے سانپوں کے علاوہ دوسرے سانپوں پر محمول ہیں جیسا کہ حضرت ابن عمر کی مذکورہ بالا روایت یا آگے آنے والی دوسری روایتوں سے واضح ہوتا ہے۔

4021Mishkaat-al-Masabih

سانپ کو مار ڈالنے کا حکم

وعن أبي السائب قال : دخلنا على أبي سعيد الخدري فبينما نحن جلوس إذ سمعنا تحت سريره فنظرنا فإذا فيه حية فوثبت لأقتلها وأبو سعيد يصلي فأشار إلي أن أجلس فجلست فلما انصرف أشار إلى بيت في الدار فقال : أترى هذا البيت ؟ فقلت : نعم فقال : كان فيه فتى منا حديث عهد بعرس قال : فخرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الخندق فكان ذلك الفتى يستأذن رسول الله صلى الله عليه و سلم بأنصاف النهار فيرجع إلى أهله فاستأذنه يوما فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : خذ عليك سلاحك فإني أخشى عليك قريظة . فأخذ الرجل سلاحه ثم رجع فإذا امرأته بين البابين قائمة فأهوى إليها بالرمح ليطعنها به وأصابته غيرة فقالت له : اكفف عليك رمحك وادخل البيت حتى تنظر ما الذي أخرجني فدخل فإذا بحية عظيمة منطوية على الفراش فأهوى إليها بالرمح فانتظمها به ثم خرج فركزه في الدار فاضطربت عليه فما يدري أيهما كان أسرع موتا : الحية أم الفتى ؟ قال : فجئنا رسول الله صلى الله عليه و سلم وذكرنا ذلك له وقلنا : ادع الله يحييه لنا فقال : استغفروا لصاحبكم ثم قال : إن لهذه البيوت عوامر فإذا رأيتم منها شيئا فحرجوا عليها ثلاثا فإن ذهب وإلا فاقتلوه فإنه كافر . وقال لهم : اذهبوا فادفنوا صاحبكم وفي رواية قال : إن بالمدينة جنا قد أسلموا فإذا رأيتم منهم شيئا فآذنوه ثلاثة أيام فإن بدا لكم بعد ذلك فاقتلوه فإنما هو شيطان . رواه مسلم

اور حضرت سائب ( جو حضرت ہشام ابن زہرہ کے ازاد کردہ غلام تھے اور تابعی ہیں) کہتے ہیں کہ ( ایک دن) ہم حضرت ابوسعید خدری ؓ کے پاس ان کے گھر گئے، چناچہ جب کہ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے اچانک ہم نے ان ( ابوسعید) کے تخت کے نیچے ایک سرسراہٹ سنی ہم نے دیکھا تو وہاں ایک سانپ تھا، میں اس کو مارنے کے لئے جھپٹا، مگر حضرت ابوسعید ؓ نماز پڑھ چکے تو انہوں نے مکان کے ایک کمرے کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ کیا تم نے اس کمرے کو دیکھا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں! پھر حضرت ابوسعید ؓ نے کہا کہ اس کمرے میں ہمارے خاندان کا ایک نوجوان رہا کرتا تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ حضرت ابوسعید نے کہا کہ ہم سب لوگ ( یعنی وہ نوجوان بھی) رسول کریم ﷺ کے ہمراہ غزوہ خندق میں گئے، ( جس کا محاذ مدینہ کے مضافات میں قائم کیا گیا تھا) ( روزانہ) دوپہر کے وقت رسول کریم ﷺ سے ( گھر جانے کی) اجازت مانگ لیا کرتا تھا ( کیونکہ دلہن کی محبت اس کو اس پر مجبور کرتی تھی) چناچہ ( اجازت ملنے پر) وہ اپنے اہل خانہ کے پاس چلا جاتا ( اور رات گھر میں گزار کر صبح کے وقت پھر مجاہدین میں شامل ہوجاتا) ایک دن حسب معمول، اس نے رسول کریم ﷺ سے اجازت طلب کی تو آنحضرت ﷺ نے ( اس کو اجازت دیتے ہوئے) فرمایا کہ اپنے ہتھیار اپنے ساتھ رکھو، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں بنو قریظہ تم پر حملہ نہ کردیں ( بنو قریظہ مدینہ میں یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جو اس موقع پر قریش مکہ کا حلیف بن کر مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک تھا اس نوجوان نے ہتھیار لے لئے اور ( اپنے گھر کو) روانہ ہوگیا) جب وہ اپنے گھر کے سامنے پہنچا تو) کیا دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی ( گھر کے) دونوں دروازوں ( یعنی اندر اور باہر کے دروازے) کے درمیان کھڑی ہے، نوجوان نے عورت کو مار ڈالنے کے لئے اس کی طرف نیزہ اٹھایا کیونکہ ( یہ دیکھ کر کہ اس کی بیوی باہر کھڑی ہے) اس کو بڑی غیرت آئی لیکن عورت نے ( جبھی) اس سے کہا کہ اپنے نیزے کو اپنے پاس روک لو اور ذرا گھر میں جا کر دیکھو کہ کیا چیز میرے باہر نکلنے کا سبب ہوئی ہے۔ ( یہ سن کر) وہ نوجوان گھر میں داخل ہوا، وہاں یکبارگی اس کی نظر ایک بڑے سانپ پر پڑی جو بستر پر کنڈلی مارے پڑا تھا۔ نوجوان نیزہ لے کر سانپ پر جھپٹا اور اس کو نیزہ میں پرو لیا پھر اندر سے نکل کر باہر آیا اور نیزے کو گھر کے صحن میں گاڑ دیا، سانپ نے تڑپ کر نوجوان پر حملہ کیا، پھر یہ معلوم نہ ہوسکا کہ دونوں میں سے پہلے کون مرا، سانپ یا نوجوان؟ ( یعنی وہ دونوں اس طرح ساتھ مرے کہ یہ بھی پتہ نہ چل سکا کہ پہلے کس کی موت واقع ہوئی )۔ حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ہم رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے سامنے یہ ماجرا بیان کر کے عرض کیا کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ اس نوجوان کو ہمارے لئے زندہ کر دے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اپنے ساتھی اور رفیق کے لئے مغفرت طلب کرو۔ اور پھر فرمایا کہ۔ ( مدینہ کے ان گھروں میں عوامر یعنی جنات رہتے ہیں ( جن میں مؤمن بھی ہیں اور کافر بھی) لہٰذا جب تم ان میں سے کسی کو ( سانپ کی صورت میں) دیکھو تو تین بار یا تین دن اس پر تنگی اختیار کرو پھر اگر وہ چلا جائے تو فبہا ورنہ اس کو مار ڈالو کیونکہ ( اس صورت میں یہی سمجھا جائے گا کہ) وہ ( جنات میں کا) کافر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے انصار سے فرمایا کہ۔ جاؤ اپنے ساتھی کی تکفین و تدفین کرو۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ مدینہ میں ( کچھ) جن ہیں ( اور ان میں وہ بھی ہیں) جو مسلمان ہوگئے ہیں ان میں سے جب تم کسی کو ( سانپ کی صورت میں) دیکھو تو تین دن اس کو خببردار کرو، پھر تین دن کے بعد بھی اگر وہ دکھائی دے تو اس کو مار ڈالو کہ وہ شیطان ہے۔ ( مسلم ) تشریح آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ علماء نے لکھا ہے کہ صحابہ کی یہ روش نہیں تھی کہ وہ اس طرح کی کوئی استدعا آنحضرت ﷺ سے کریں۔ اس موقع پر ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ نوجوان حقیقت میں مرا نہیں ہے بلکہ زہر کے اثر سے بیہوش ہوگیا ہے۔ اس خیال سے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اس دعا کی استدعا کی تھی۔ مغفرت طلب کرو۔ اس ارشاد سے آنحضرت ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اس کو زندہ کرنے کی دعا کی درخواست کیوں کرتے ہو کیونکہ وہ تو اپنی راہ پر چل کر موت کی گود میں پہنچ گیا ہے جس کے حق میں زندگی کی دعا قطعا فائدہ مند نہیں ہے، اب تو اس کے حق میں سب سے مفید چیز یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت اور بخشش کی درخواست کرو۔ اس پر تنگی اختیار کرو یا اس کو خبردار کرو۔ کا مطلب یہ ہے کہ جب سانپ نظر آئے تو اس سے کہو کہ تو تنگی اور گھیرے میں ہے اب نہ نکلنا اگر پھر نکلے گا تو ہم تجھ پر حملہ کریں گے اور تجھ کو مار ڈالیں گے، آگے تو جان۔ ایک روایت میں آنحضرت ﷺ سے یہ منقول ہے کہ سانپ کو دیکھ کر یہ کہا جائے انشدکم بالعہد الذی اخذ علیکم سلیمان بن داؤد علیماالسلام لا تاذونا ولا تظہروا لنا۔ میں تجھ کو اس عہد کی قسم دیتا ہوں جو حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے تجھ سے لیا تھا کہ ہم کو ایذاء نہ دے اور ہمارے سامنے مت آ۔ وہ شیطان ہے۔ یعنی خبردار کردینے کے بعد بھی وہ غائب ہوا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ مسلمان جن نہیں ہے بلکہ یا تو کافر جن ہے یہ حقیقت میں سانپ ہے اور یا ابلیس کی ذریات میں سے ہے اس صورت میں اس کو فورا مار ڈالنا چاہئے۔ اس کو شیطان اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ آگاہی کے بعد بھی نظروں سے غائب نہ ہو کر اس نے اپنے آپ کو سرکش ثابت کیا ہے اور عام بات کہ جو بھی سرکش ہوتا ہے خواہ وہ جنات میں کا ہو یا آدمیوں میں کا اور یا جانوروں میں کا اس کو شیطان کہا جاتا ہے۔

4022Mishkaat-al-Masabih

گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم

وعن أم شريك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بقتل الوزغ وقال : كان ينفخ على إبراهيم

اور حضرت ام شریک ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ (گرگٹ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ پھونکتا تھا۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح آگ پھونکتا تھا یہ گویا گرگٹ کی خباثت کو بیان کیا گیا ہے کہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا تو یہ (گرگٹ) اس آگ کو بھڑکانے کے لئے اس میں پھونک مارتا تھا۔ یوں بھی تجربہ سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ یہ جانور بڑا زہریلا اور موذی ہوتا ہے، اگر کھانے پینے کی چیزوں میں اس کے زہریلے جراثیم پہنچ جائیں تو اس سے لوگوں کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔

4023Mishkaat-al-Masabih

گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم

وعن سعد بن أبي وقاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر بقتل الوزغ وسماه فويسقا . رواه مسلم

اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم دیا اور اس کا نام فویسق رکھا۔ ( مسلم ) تشریح فویسق اصل میں فاسق کی تصغیر ہے جس کے معنی ہیں چھوٹا فاسق۔ گرگٹ کو فویسق یعنی چھوٹا فاسق اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ یہ فواسق خمسہ یعنی ان پانچ بد جانوروں کی قسم سے ہے جن کو ہر حالت میں مار ڈالنے کا حکم ہے خواہ وہ حل میں یعنی حدود حرم سے باہر ہوں یا حرم میں ہوں۔ ویسے لغت میں فسق کے معنی خروج کے ہیں اور شرعی اصطلاح میں فسق سے مراد ہوتا ہے اطاعت حق سے نکل جانا اور صحیح راستہ سے رو گردانی کرنا۔

4024Mishkaat-al-Masabih

گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قتل وزغا في أول ضربة كتبت له مائة حسنة وفي الثانية دون ذلك وفي الثالثة دون ذلك . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص گرگٹ کو ایک ہی وار میں مار ڈالے۔ اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، دوسرے وار میں اس سے کم اور تیسرے وار میں اس سے بھی کم نیکیاں لکھی جائیں گی۔ ( مسلم ) تشریح اس حدیث کے ذریعہ گویا اس بات کی طرف راغب کیا گیا ہے کہ گرگٹ کو جلد سے جلد مار ڈالا جائے۔

4025Mishkaat-al-Masabih

چیونٹی کو مارنے کا مسئلہ

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قرصت نملة نبيا من الأنبياء فأمر بقربة النمل فأحرقت فأوحى الله تعالى إليه : أن قرصتك نملة أحرقت أمة من الأمم تسبح ؟

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ( اللہ کے جو) انبیاء ( پہلے گزر چکے ہیں ان میں سے کسی نبی ( کا واقعہ ہے کہ ایک دن ان کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے چیونٹیوں کے بل کے بارے میں حکم دیا کہ اس کو جلا دیا جائے، چناچہ بل کو جلا دیا گیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ وحی نازل کی کہ تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور تم نے جماعتوں میں سے ایک جماعت کو جلا ڈالا جو تسبیح ( یعنی اللہ کی پاکی بیان کرنے) میں مشغول رہتی تھی۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح چناچہ بل کو جلا دیا گیا کے بارے میں بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی نے اس درخت کو جلانے کا حکم دیا تھا جس میں چیونٹیوں کا بل تھا، چناچہ اس درخت کو جلا ڈالا گیا۔ اس واقعہ کا پس منظر یہ روایت ہے کہ ایک مرتبہ ان نبی ﷺ نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا تھا کہ ( پروردگار! تو کسی آبادی کو اس کے باشندوں کے گناہوں کے سبب عذاب میں مبتلا کرتا ہے اور وہ پوری آبادی تہس نہس ہوجاتی ہے، درآنحالیکہ اس آبادی میں مطیع و فرمانبردار لوگوں کی بھی کچھ تعداد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کرلیا کہ ان کی عبرت کے لئے کوئی مثال پیش ہونی چأہئے۔ چناچہ ان نبی ﷺ پر سخت ترین گرمی مسلط کردی گئی، یہاں تک کہ وہ اس گرمی سے نجات پانے کے لئے ایک سایہ دار درخت کے نیچے چلے گئے، وہاں ان پر نیند کا غلبہ ہوگیا اور وہ سو رہے تھے تو ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ لیا، انہوں نے حکم دیا کہ ساری چیونٹیوں کو جلا دیا جائے، کیونکہ ان کے لئے یہ آسان نہیں تھا کہ وہ اس خاص چیونٹی کو پہچان کر جلواتے جس نے ان کو کاٹا تھا یا یہ کہ ان کے نزدیک ساری چیونٹیاں موذی تھیں اور موذی کی پوری جنس کو مار ڈالنا جائز ہے۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے لکھا ہے کہ قریۃ نمل سے چیونٹیوں کا بل مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی الخ یہ گویا ان نبی پر حق تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ یہ اس بات پر محمول ہے کہ نبی ﷺ کی شریعت میں چیونٹیوں کو مار ڈالنا یا جلا ڈالنا جائز تھا اور عتاب اس سبب سے ہوا کہ انہوں نے ایک چیونٹی سے زیادہ کو جلایا۔ لیکن واضح رہے کہ شریعت محمدی ﷺ میں کسی بھی حیوان و جانور کو جلانا جائز نہیں ہے اگرچہ جوئیں اور کھٹمل وغیرہ ہی کیوں نہ ہوں، نیز موذی جانوروں کے علاوہ دوسرے جانوروں کو مار ڈالنا بھی جائز نہیں ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کسی بھی جاندار کو مار ڈالنے سے منع فرمایا ہے الاّ یہ کہ وہ ایذاء پہنچانے والا ہو۔ مطالب المؤمنین میں محمد بن مسلم سے چیونٹی کا مار ڈالنے کے بارے میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ اگر چیونٹی نے تمہیں ایذاء پہنچائی ہے تو اس کو مار ڈالو اور اگر اس نے کوئی ایذاء نہیں پہنچائی ہے تو مت مارو، چناچہ فقہاء نے کہا ہے کہ ہم اسی قول پر فتویٰ دیتے ہیں۔ اسی طرح چیونٹی کو پانی میں ڈالنا بھی مکروہ ہے۔ نیز کسی ایک چیونٹی کو ( جس نے ایذاء پہنچائی ہو) مار ڈالنے کے لئے ساری چیونٹیوں کے بل کو نہ جلایا جائے اور نہ تباہ کیا جائے۔

4026Mishkaat-al-Masabih

گھی میں چوہے کے گر جانے کا مسئلہ

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا وقعت الفأرة في السمن فإن كان جامدا فألقوها وما حولها وإن كان مائعا فلا تقربوه . رواه أحمد وأبو داود

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر گھی میں چوہا گرجائے ( اور مرجائے) اور وہ گھی جما ہوا ہو تو اس چوہے کو اور اس کے چاروں طرف کے گھی کو نکال کر پھینک دو ( اور باقی گھی کھانے کے مصرف میں لاؤ) اور اگر وہ گھی پتلا یعنی پگھلا ہوا ہو تو پھر اس کے نزدیک ( بھی) مت جاؤ یعنی اس کو مطلقا نہ کھاؤ) احمد اور دارمی نے اس روایت کو ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔

4027Mishkaat-al-Masabih

سرخاب کا گوشت کھانا جائز ہے

وعن سفينة قال : أكلت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم لحم حبارى . رواه أبو داود

اور حضرت سفینہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کے ساتھ حباری کا گوشت کھایا ہے۔ ( ابوداؤد ) تشریح حباری یعنی تعذری وہ جانور ( پرندہ) ہے جس کے بارے میں عربی میں مشہور ہے کہ وہ احمق ترین پرندہ ہوتا ہے اسی وجہ سے کسی شخص کی حماقت ظاہری کرنے کے لئے حباری کی مثال دی جاتی ہے اردو میں حباری سرخاب کو کہتے ہیں۔

4028Mishkaat-al-Masabih

جلالہ کا گوشت کھانے کی ممانعت

وعن ابن عمر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أكل الجلالة وألبانها . رواه الترمذي وفي رواية أبي داود : قال : نهى عن ركوب الجلالة

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں، رسول کریم ﷺ نے جلالہ کا گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے ( ترمذی) اور ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا۔ آنحضرت ﷺ نے جلالہ پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے۔ تشریح جلالہ اس جانور کو کہتے ہیں۔ جس کا گوشت کھانا حلال ہو، لیکن اس کو نجاست، پلیدی کھانے کی عادت ہو، اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ جانور کبھی کبھی نجاست و پلیدی کھاتا ہو تو اس کو جلالہ نہیں کہیں گے اور اس کا گوشت کھانا حرام نہیں ہوگا۔ جیسے مرغی اور اگر وہ جانور ایسا ہو کہ اس کی خوراک ہی عام طور پر نجاست و پلیدی ہو، یہاں تک کہ اس کی وجہ سے اس کے گوشت اور دودھ میں بدبو آنے لگے، تو اس کا گوشت کھانا حلال نہیں ہوگا۔ الاّ یہ کہ اس کو باندھ کر یا بند کر کے رکھا جائے اور اس کو غیر نجس چیزیں کھلائی جائیں تاآنکہ اس کا گوشت اور دودھ ٹھیک ہوجائے تو اس کا گوشت کھانا اور دودھ پینا درست ہوگا۔ یہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام محمد کا قول ہے لیکن حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ اس کے بعد بھی یعنی اس کو بند کر کے رکھنے اور غیر نجس چیزیں کھلانے کے بعد اس کا گوشت مبالغہ کی حد تک دھونا ضروری ہوگا۔ فتاویٰ کبری میں لکھا ہے کہ جب تک مخلات مرغ کو تین روز تک اور جلالہ کو دس روز تک بند کر کے یا باندھ کر نہ رکھا جائے اس وقت تک اس کا گوشت کھانا حلال نہیں ہوگا۔ جلالہ پر سواری کرنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ اس کا پسینہ جو گوشت کے پیدا ہونے کی وجہ سے گندا اور پلید ہوتا ہے، سوار کے جسم کو لگے گا۔